قرآن کریم نے جگہ جگہ لوگوں کو انفاقِ اموال کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم ذاتی ملکیتِ مال کو متضمن ہے۔ پرویز صاحب نے اس لفظ سے اس لزوم اور تضمن کو خارج کرنے کے لیے اس کے مفہوم کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے چنانچہ ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة " کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ:
"ان الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔۔ "جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔" یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مال و دولت کو کرچ کرتا ہی ہے۔ لہذا اس میں متعین کی کیا خصوصیت ہے جو ان کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ متقی وہ ہیں جو اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ اپنے روپے پیسے کو احتیاط سے خرچ کرتے ہیں اور فضول خرچی (اسراف و تبذیر) سے بچتے ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 205)
پرویز صاحب کا ان الفاظ کے ترجمہ پر یہ اعتراض کرنا کہ جب آدمی اپنی دولت کو خرچ کرتا ہی ہے تو اسے متقین کی صفات میں کیوں شامل کیا گیا ہے، خود ان کی کم نظری پر دلیل ہے۔ اگر وہ عام ترجمہ پر ہی غور فرماتے تو انہیں یہ محسوس ہوتا کہ نجیل اور کنجوس لوگوں کے مقابلے میں واقعی یہ ان اہل تقویٰ اصحاب کی خوبی ہے کہ وہ اپنی دولت پر سانپ بن کر نہیں بیٹھ جاتے بلکہ اسے کرچ کرتے ہیں علاوہ ازیں ان الفاظ میں دو (2) اور مفہوم بھی پائے جاتے ہیں۔
1۔۔۔یہ لوگ "ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے" خرچ کرتے ہیں " مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ " پر زور ہے) اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے یہ لوگ ناجائز ذرائع آمدنی اختیار نہیں کرتے، بلکہ ہمارے عطا کردہ رزقِ حلال پر قناعت کرتے ہیں اور اسی روزی میں گزارہ کرتے ہیں جو انہیں حلال ذرائع سے بہم پہنچتی ہے۔ اپنے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے حرام مال پر ہاتھ مارنا، ان کا شیوا نہیں ہے۔
2۔ یہ متقی لوگ ہیں، ان کے اموال کے مصرف فسق و فجور کی راہیں نہیں ہیں بلکہ بر و تقویٰ کی راہیں ہیں۔ یہ لوگ بخل سے دامن کش رہتے ہوئے، بھلائی کے کاموں میں اپنے مال صرف کرتے ہیں۔
یہی وی تین حقائق ہیں جن کی بنا پر ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة کو صفات متقین میں شامل کیا گیا ہے۔ پرویز صاحب کا اس پر اعتراج نہایت سطحی اعتراض ہے۔
انفاق کی لغوی تحقیق
پرویز صاحب نے "انفاق" میں "کرچ کرنے" کے مفہوم کو خارج کر کے اس میں خود ساختہ معنیٰ داخل کرنے کے لئے درج ذیل لغوی تحقیق پیش کی ہے۔
"اب لفظ"   يُنفِقُونَ " کی طرف آئیے جس کا مادہ (ن۔ف۔ق) ہے۔ نفق اس سرنگ کو کہتے ہیں جس کے داخل ہونے اور نکلنے کے دونوں راستے کھلے ہوں۔ جنگلی چوہا اپنے رہنے کے لئے جو بل بناتا ہے اس میں داخل ہونے کے علاوہ اگلی طرف باہر نکالنے کے لئے متعدد راستے بنا چھوڑتا ہے اور انہیں باریک مٹی سے ڈھانپ دیتا ہے کہ جب کوئی اُسے پکڑنے کی کوشش کرے تو وہ ان راستوں سے نکل جائے۔ اس قسم کی سرنگ کو نفق کہتے ہیں۔ بنا بریں منافق اس شخص کو کہتے ہین جو کسی نطام میں داخل ہونے سے پہلے دل میں یہ سوچ لے کہ مجھے اس سے باہر نکلنا پڑا تو اس کے لیے کون کون سے راستے اختیار کرنے ہوں گے، بہرحال، اس مادہ کے بنیادی معنی خرچ کرنا نہیں بلکہ کھلا رکھنا ہیں۔ (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 105)
پرویز صاحب بزعمِ خویش، عمر بھر قرآنی تحقیق میں مصروف و مشغول رہے ہیں، لیکن قرآنی الفاظ کی لغوی تحقیق میں، تغافلِ جاہلانہ کی بنا پر یا تجاہل عارفانہ کے باعث، وہ ایسی روش اختیار کرتے رہے ہیں کہ علمِ اشتقاق کا متبدی طالب علم بھی بےساختہ پکار اُٹھتا ہے کہ
تا مرد سخن نگفتہ باشد
عیب و ہنرش نہفتہ باشد
اگر پرویز صاحب کے دل و دماغ پر "انفاق" کی بے لاگ لغوی تحقیق کا فکر ہی غالب ہوتا اور ان پر اپنے مخصوص نقطہ نظر کی جا و بے جا حمایت کی دُھن سوار نہ ہوتی، تو ان ہی کتبِ لغات سے جو بقول ان کے ان کی اپنی لغات القرآن کی ترتیب و تدوین میں اساس کا کام دیتی رہی ہیں، ان پر یہ واضح ہوتا کہ (ن۔ف۔ق) کا مادہ دو جداگانہ الفاظ کی اصل فراہم کرتا ہے۔ ان میں سے ایک، کسی چیز سے کت کر جدا ہو جانے اور چلے جانے پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا کسی شئے کے اخفاء و اغماض پر، جیسا کہ ابن فارس کا بیان ہے:
(نفق) النون والفاء والقاف أصلان صحيحان يدل أحد هما على انقطاع  شىء و ذهابه والأحر على إخفاء شىء و إغماضه"
 (نفق)۔۔"ن،ف،ق" کی دو صحیح اصل ہیں ایک کسی چیز کے منقطع ہونے اور چلے جانے پر دلالت کرتا ہے جبکہ دوسرا اخفاء اور اغماض پر۔" (معجم مقاییس الغۃ ج5، ص 454)
پھر اصل اول میں فعل ( قلیل و کم ہونے، ختم اور فناء ہو جانے اور مر جانے) کا مفہوم پایا جاتا ہے۔  اور اصل دوم میں اسم (سرنگ یا جنگلی جانور کے بل وغیرہ) کا مفہوم پایا جاتا ہے، جس میں داخل ہو کر چھپ جانے میں اخفاء و اغماض کا معنی داخل ہے۔
کمی و قلت، فناء و نفاد کا مفہوم
درج ذیل صورتوں میں پایا جاتا ہے:
(الف   ٭ نفق ما له و درهمه و طعامه نفقا  و نفاتا _ و نفق كلاهما نقص و قل وقيل فنى و ذهب)
مال درہم یا طعام میں "نفق" یا "نفوق" ہوا یعنی "ان میں کمی یا قلت ہو گئی" اور یہ بھی کہا گیا کہ "یہ چیزیں فنا ہوئیں اور (ہاتھ سے) چلی گئیں۔ (لسان العرب لابن منظور)
٭ " نفق الشىء: مضى  ونفد" چیز چلی گئی اور ختم ہو گئی۔ (مفرداتِ امام راغب)
٭ " مفق الشىء : فنى" چیز "نفوق" کا شکار ہوئی یعنی فنا ہوئی۔ (معجم مقاییس اللغة، ابن فارس)
اسی نفق (بمعنی قلیل و کم ہونا، فناء و ختم ہونا اور لقمہ موت بن جانا) سے بابِ افعال کا مصدرِ انفاق آتا ہے۔ انفاق کا استعمال بطورِ فعل لازم کے بھی ہوتا ہے اور فعل متعدی کے طور پر بھی جب یہ فعل لازم کے طور پر آتا ہے تو اس کے معنیٰ ۔۔۔ "مال کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد فقیر و محتاج ہو جانے" کے ہیں اور جب فعل متعدی کے طور پر استعمال ہوتو اس کا معنیٰ "صرف و بذل" کے ذریعہ کسی چیز میں کمی یا خاتمہ کر دینے کے ہیں۔
" أنفق الرجل  : إفتقر أى ذهب ما عنده" آدمی نے انفاق کیا یعنی حاجت مند اور فقیر ہوا جو کچھ اس کے پاس تھا وہ (ہاتھ سے نکل کر) چلا گیا۔ (معجم مقاییس اللغة۔ ابن فارس) (لسان العرب، علامه ابن منظور)
" أنفق فلان : إذا لأمسكتم " فلاں صاحبِ انفاق ہوا یعنی اس کا مال قلیل و کم ہوا (یا ختم ہوا) اور وہ فقیر اور حاجت مند ہو گیا۔ (مفردات القرآن، امام راغب)
قرآن پاک کی آیت﴿ِ إذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ ...﴿١٠٠﴾... الإسراء
میں یہ لفظ بطورِ فعل لازم کے ہی استعمال ہوا ہے۔ فعل متعدی کے طور پر قرآن پاک میں انفاق کا لفظ جہاں بھی استعمال ہوا ہے۔ وہاں اکثر و بیشتر مقامات پر اس کا مفعول مال و دولت واقع ہوا ہے۔ جس سے صرف و بذل کے ذریعہ مال میں کمی و قلت یا فناء و نفاد کا مفہوم پیدا ہوا ہے۔ چناچنہ دنیا و جہان کی کوئی بھی ڈکشنری اٹھا کر دیکھ لیجئے، " أنفق المال" کا معنیٰ آپ کو یہی ملے گا کہ "اس نے مال کرچ کیا۔" اس خرچ میں کمی و نفاد کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
" أنفق المال أى بذل المال و صرفه" اس نے مال خرچ یا صرف کیا ہے۔ (معجم مقاییس اللغة، لسان العرب، المعجم الوسیط، مصباح اللغات اور المنجد وغیرہ)
مرگ و موت کا مفہوم
ان الفاظ میں پایا جاتا ہے۔
" نفقت الدابة نفوقا : ما تت :" جانور نے "نفوق" کیا یعنی وہ مر گیا۔ (معجم مقاییس اللغة، ابن فارس، مفردات امام راغب، لسان العرب علامه ابن منظور)
اصلِ ثانی
اصلِ ثانی کے اعتبار سے نفق میں دوسرا مفہوم سرنگ کا پایا جاتا ہے۔ جس میں چھپ جانے سے اخفاء و اغماض کا معنی متحقق ہوتا ہے۔
(والأصل الآخر النفق : سرب فى الأرض النافذ)
دوسری اصل نفق ہے جو زمین میں ایسی سرنگ ہے جس میں سے کہیں نکلنے کا راستہ ہوتا ہے۔( معجم مقاییس اللغة، وابن فارس)
(والنفق الطريق النافذ والسرب فى الأرض النافذ)
اور نفق آر پار ہونے والا راستہ ہے نیز زمین میں آر پار ہونے والی سرنگ کو بھی نفق کہتے ہیں (مفردات از امام راغب)
(والنفق : سرب فى الأرض مشتق إلى موضع آخر)
اور نفق، زمین میں واقع ایسی سرنگ ہے جسے دوسری جگہ تک شق کیا گیا ہو۔ (لسان العرب، ابن منظور)
اى نفق (بمعنی سرنگ سے) " نافقاء" کا لفظ آتا ہے جس سے مراد جنگلی جانوروں کے بِل یا سوراخ ہیں چنانچہ علمائے لغت یہ بیان کرتے ہیں کہ:
(والنافقاء : موضع يرققه اليربوع من جحره فإذا أتى من قبل القاصعاء ضرب النافقاء برأسه فانتفق أى خرج)
اور نافقاء جنگلی چوہے کے بل کا وہ مقام (سرا) ہے جسے اس نے مٹی کی پتلی سی تہہ سے ڈھانپ رکھا ہو کہ جب کوئی بل میں اس پر حملہ آور ہو تو وہ سر کی ٹھوکر سے توڑ کر اسے تور کر باہر نکل جائے۔ (معجم مقاییس اللغة، ابن فارس)
(ومنه نافقاء اليربوع وقد نافق اليربوع ونفق )
اور اس سے جنگلی چوہے کا بل "نافقاء" برآمد ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ۔۔"چوہا بل میں داخل ہوا اور نکل گیا۔" (مفرداتِ امام راغب)
(النافقاء جحر الضب واليربوع وقيل النفقة والنافقاء موضع يرققه اليربوع من حجره فإذا أتى من قبل القاسعاء ضرب النافقاء برأسه فخرج)
نافقاء، گواہ اور جنگلی چوہے کے بِل کو کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ " النفقة" اور " نافقاء" بِل کا وہ مقام ہے جسے چوہے نے مٹی کی باریک تہہ سے ڈھانپ رکھا ہو۔ تاکہ اگر اس پر بل میں حملہ ہو تو وہ اپنے سر کی ٹھوکر سے اُسے توڑ کر باہر نکل جائے۔ (لسان العرب، ابن منظور)؎
چنانچہ اسی نفق (بمعنی سرنگ) سے مندرجہ ذیل افعال آتے ہیں:
٭نفق اليربوع ونفق  و أنتفق ونفق : خرج منه
جنگلی چوہے نے " نفوق" اور " نفاق" إنتفاق اور "تنفيق" کی یعنی وہ بِل سے خارج ہوا۔ (لسان العرب، ابن منظور)
٭نفق اليربوع ونفق:
جنگلی چوہا (ایک طرف سے) بل میں داخل ہوا اور دوسری طرف سے نکل گیا۔ (مفرداتِ امام راغب)
٭ إنتفق اليربوع:
جنگلی چوہا بِل میں سے نکل گیا (معجم مقاییس اللغة۔ ابن فارس)
اور اسی " نفق" (بمعنی سرنگ یا بِل میں سے وہ نِفَاق ہے، جسے منافقین کا طرزِ عمل کہا جاتا ہے۔
(و منه اشتقاق فى النفاق لأن صاحبه يكتم خلاف ما يظهر فكأن الإيمان يخرج هو من الإيمان فى خفاء)
اور اسی (نفق بمعنی سرنگ) سے نفاق مشتق ہوا ہے۔ کیونکہ صاحبِ نفاق اپنے دل میں اس چیز کے خلاف چھپائے رکھتا ہے جسے وہ ظاہر کرتا ہے، گویا کہ ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ یا وہ منافق خود، ایمان میں سے چھپ چھپا کر نکل جاتا ہے۔ (معجم مقاییس اللغة، ابن فارس)
منافق کے نفاق میں اور جنگلی چوہے کے نافقاء میں جو معنوی تقارب پایا جاتا ہے اُسے لسان العرب میں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
(سمى المنافق منافقا للنفق وهو السرب فى الأرض وقيل إما سمى منافقا لأنه نافق  كاليربوع وهو دخوله نافقاءه.....وله حجر  آخر يقال له القاصعاء فإذا طلب قصع فخرج من القاصعاء غوه يدخل فى الفاضقاء  ويخرج من القاصعاء أو يدخل فى القاصعاء ويخرج من النافقاء فيقال هكذا  يفعل المنافق – يدخل  فى الإسلام ثم يخرج منه من  غير الوجه الذي دخل فيه-)
منافق کو منافق کا نام، اِس نفق کے باعث دیا گیا ہے جو بصورتِ سرنگ زمین میں واقع ہوتی ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ اُسے اس وجہ سے یہ نام دیا گیا کہ اس کا دین میں داخل ہونا (اور نکلنا) جنگلی چوہے کے اپنے بِل  میں داخل ہونے (اور نکلنے) کے مماثل ہے۔۔جنگلی چوہے کا ایک دوسرا بِل بھی ہوتا ہے جسے قَاصَعَاء کہا جاتا ہے۔ جب یہ کسی (دشمن) جانور کو مطلوب ہوتا ہے تو وہ (جنگلی چوہا) اسی قَاصَعَاء میں سے باہر نکل جاتا ہے، اسی طرح وہ نَافِقَاء میں داخل ہوتا ہے اور قَاصَعَاء میں سے نکل جاتا ہے یا قَاصَعَاء میں داخل ہوتا ہے اور نَافِقَاء میں سے نکل جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منافق کا فعل بھی ایسا ہی ہے وہ اسلام میں ایک رخ سے داخل ہوتا ہے اور دوسرے رخ سے نکل جاتا ہے۔ (لسان العرب، ابن منظور)
خلاصہ بحث
ہماری اس لغوی بحث سے یہ واضح ہے کہ:
(1)۔۔۔ نفق کے مادہ سے دو الفاظ بطور اصل برآمد ہوتے ہیں۔
ا۔ نفق بمعنی نقصان و قلت، فناء و نفاد اور مرگ و موت
ب۔ نفق بمعنی سرنگ
(2)۔۔انفاق (جو نفق سے باب افعال کا مصدر ہے) کا تعلق اصلِ اول سے ہے جبکہ منافق کے نفاق کا تعلق اصلِ ثانی سے ہے۔
پوری تحقیق میں پرویز صاحب کی اصل لغزش:
یہ ہے کہ وہ انفاق کی لغوی بحث کی ابتداء نفق یعنی شرنگ سے کرتے ہیں۔ حالانکہ اس مادہ (ن،ف،ق) سے دو اصل برآمد ہوتی ہیں۔ نفق بمعنی (1) قلیل و کم ہونا اور فناء و نفاد کا شکار ہونا۔ اور (2) نفق بمعنی سرنگ۔ پرویز صاحب اپنی جہالت سے یا شرارت سے اصلِ اول کو مکمل طور پر نظرانداز کرتے ہیں اور پھر نفق بمعنی سرنگ کو لے کر، تمام علماء لغت کے خلاف، لفظ "انفاق" میں "کھلا رکھنے" کا مفہوم داخل کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لفظ نفق بمعنی سرنگ سے ماخوذ ہونے کی بجائے، نفق بمعنی نقصان و نفاد سے ماخوذ ہے خواہ یہ قلت و کمی اور فناء و نفاد، بذل و صرف کے ذریعہ ہو یا خرید و فروخت کے عمل سے ہو یا موت و ہلاکت کے باعث ہو۔ چنانچہ اسی نفق (بمعنی نقصان و نفاد) سے باب افعال کا مصدر انفاق لایا گیا ہے۔ جس کا مفعول اگر مال و دولت ہو تو دنیا جہان کی ہر لغت میں، اس کا معنیٰ "بذل و صرف" ہی دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس معنی میں نقصان و نفاد کے دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔ کسی لغت میں انفق المال کا معنیٰ "مال کو کُھلا رکھنا" موجود نہیں ہے۔ پرویز صاحب اپنی انتہائی کوشش کے باوجود کسی گِری پڑی کتابِ لغت سے بھی یہ معنی بیان نہیں کر پائے۔ انہوں نے یہ معنیٰ لفظی شعبدہ بازی اور صرفی جمناسٹک کے نتیجہ میں خود پیدا کئے ہیں۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ ۔۔۔انفاق کے معنی "خرچ کرنے" کے علاوہ "کھلا رکھنے" کے بھی ہیں بلکہ بڑے دھڑلے سے "بذل و صرف" کے معانی کی نفی کرتے ہیں اور یہ اصرار کرتے چلے گئے ہیں کہ:
"اس مادہ کے بنیادی معنی "خرچ کرنا" نہیں بلکہ "کُھلا رکھنا" ہیں ۔۔۔واضح رہے کہ انفاق کے معنی "خرچ کرنے" کے نہیں۔" (تفسیر  مطالب الفرقان ج1، ص 106)
لیکن یہ لکھنے کے باوجود کہ انفاق کے معنیٰ "خرچ کرنا" نہیں ہیں خود پرویز صاب ان معانی کو بعض مقامات پر اختیار کرنے پر بُری طرح مجبور ہوئے ہیں۔ یہاں ا س کی چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
انفاق بمعنی بذل و صرف، اقتباسات، پرویز:
﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُهُ ...﴿٢٧٠﴾... البقرة
٭ "جو کچھ تم خرچ کرنے کی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہو (یا جو کچھ تم مالی امداد کے علاوہ دیگر امور میں) اپنے اُوپر واجب قرار دے لیتے ہو تو ان میں سے ہر بات، خدا کے قانونِ مکافات کی نگاہوں میں ہوتی ہے۔"
﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً ... ٢٧٤﴾...البقرة
٭ "وہ لوگ، جو اپنا مال دن رات کھلے بندوں اور خاموشی سے اس مقصد کے لیے خرچ کرتے ہیں۔۔۔" (274/2)
﴿وَالَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ ... ٣٨﴾...النساء
٭"بعض ایسے بھی ہیں جو اسے خرچ تو کرتے ہین ۔۔۔ مگر محض لوگوں میں اپنی نمود و نمائش کے لئے۔"
وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللہ...﴿٣٩﴾...النساء
٭ "اگر یہ لوگ خدا کی متعین کردہ مستقل اقدار کی صداقت اور قانونِ مکافات عمل پر یقین رکھتے اور دولت کو انہی مقاصد کے لیے صرف کرتے ۔۔"
﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللہ... ٣٦﴾...الأنفال
٭ یہ لوگ جو نظامِ خداوندی سے اس طرح انکار کرتے اور سرکشی برتتے ہیں اور اپنا مال اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو خدا کی طرف آنے سے روکیں، سو انہیں اپنی دولت خرچ کرنے دو۔
﴿لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ... ٦٣﴾...النساء
٭ تمہاری جماعت کے افراد کے دلوں میں باہمی محبت ڈال دی۔ یہ وہ گراں مایہ متاع ہے جو دنیا بھر کی دولت خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔
﴿لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَىٰ وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ ... ٩١﴾...التوبة
٭ البتہ جو لوگ کمزور یا بیمار ہیں یا جن کے پاس (سامانِ جنگ کے لیے) خرچ کرنے کو کچھ نہیں ان کے لئے پیچھے رہ جانے میں کوئی حرج نہیں
﴿وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً ... ١٢١﴾...التوبة
٭ یہ لوگ اس مقصد کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں خواہ تھوڑا ہی ہو یا بہت۔
﴿وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿٩٨﴾ وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللہ... ٩٩﴾...التوبة
٭ ان (بدوؤں) میں ایسے لوگ بھی ہیں جو کچھ وہ نظامِ خداوندی کے لیے خرچ کرتے ہیں اسے (جہالت کی بناء پر) اپنے اوپر جرمانہ سمجھتے ہیں۔۔انہی میں ایسے لوگ بھی ہیں جو سچے دل سے اللہ اور آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اُسے خدا کے ہاں بلند درجات اور رسول کی طرف سے تحسین و آفرین کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
﴿وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً ... ٢٢﴾...الرعد
٭ اسے نوعِ انسانی کے لیے حسبِ ضرورت خفیہ یا علانیہ صرف کرتے ہیں۔
﴿وَيُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً ... ٣١﴾...ابراهيم
٭ حسبِ موقعہ و ضرورت، علانیہ اور پوشیدہ، اس بلند مقصد کے لئے خرچ کئے چلے جائیں۔
﴿فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ... ٧٥﴾...النحل
٭ اور وہ اسے اپنے اختیار و ارادہ سے، ظاہر اور پوشیدہ، ربوبیتِ عامہ کے لیے صرف کرتا ہے۔
﴿قُل لَّوْ أَنتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَّأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنفَاقِ ...﴿١٠٠﴾...الإسراء
٭ اگر تمہارے پاس خدا کی نعمتوں کے لامحدود خزانے بھی ہوتے تو تم انہیں باندھ باندھ کر رکھتے کہ کہیں خرچ نہ ہو جائیں۔
﴿وَآتُوهُم مَّا أَنفَقُوا ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۚ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنفَقْتُمْ ... ١٠﴾...الممتحنة
٭ ان لوگوں نے جو کچھ ان عورتوں کے ساتھ شادی کرنے کے سلسلہ میں کرچ کیا ہو وہ انہیں لوٹا دیا جائے۔۔۔جو کچھ تم نے ان عورتوں کے ساتھ شادی کرنے کے سلسلہ میں خرچ کیا تھا اس کا مطالبہ کفار سے کر لو۔
﴿وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ... ٦﴾...الطلاق
٭ اگر وہ حمل سے ہوں تو وضع حمل تک تمہیں ان کا خرچ بہرحال برداشت کرنا ہے۔
انفاق بمعنی "خرچ کرنا" یا "صرف کرنا" کی یہ تمام مثالیں، پرویز صاحب کی "مفہوم القرآن" سے ماخوذ ہیں۔ ہر آیت کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ ہر شخص خود ملاحظہ کر سکتا ہے، ان امثلہ کو دیکھئے اور ساتھ ہی پرویز صاحب کا یہ بلند بانگ دعویٰ بھی  دیکھئے کہ:
"انفاق کے بنیادی معنیٰ "خرچ کرنا" نہیں بلکہ "کھلا رکھنا" ہیں۔۔۔ واضح رہے کہ انفاق کے معنی "خرچ کرنے" کے نہیں ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان، ج1، ص 106)
لغوی تحقیق میں پرویز صاحب قرآنی الفاظ کے اصل مفہوم سے کس طرح پیچھا چھڑایا کرتے تھے، کسی حد تک یہ سب کچھ انفاق کی اسی لغوی تحقیق کی بحث سے واضح ہے، پوری لغات القرآن، ان کی ذہنی چابکدستی اور ہاتھ کی صفائی کا ایسا کرشمہ ہے جس میں انہوں نے قرآنی الفاظ کے معانی و مفاہیم میں کھنچ تان، کتربیونت اور مسخ و تحریف کے خوب کام لیا ہے۔ ہر وہ صاحبِ علم، جس کی نظر اگر جملہ لغات عربیہ پر نہیں، تو کم از کم ان کتبِ لگات پر ضرور وسیع ہے، جن کو سامنے رکھ کر پرویز صاحب نے اپنی لغات القرآن کو مرتب و مدون کرنے کا دعویٰ کیا ہے، یہ جانتا ہے کہ موصوف نے اصل معانی و مفاہیم سے کہاں، کس طرح اور کن "ذہنی تحفظات" کے تحت انحراف کیا ہے۔ قرآں کریم کے عربی الفاظ میں تہذیبِ فرنگ کے مفہوم کو بالعموم اور اشتراکیت کے نظام کو بالخصوص داخل کرتے ہوئے نئی نرائی لغت مرتب کرنا ایک ایسی بدترین عجمی سازش ہے جس کے سامنے وہ دسائس کسی شمار و قطار میں ہی نہیں جنہیں پرویز صاحب عجمی سازشوں کا نام دے کر زندگی بھر اسلاف کو بُرا بھلا کہتے رہے ہیں۔
(وما علینا  إلا البلاغ المبین)