نعرہ بازی کی سیاست یا علمی تحقیق اور تبلیغ و جہاد؟
حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی مدظلہ العالی پاکستان کی معروف علمی شخصیات میں سے ہیں۔ آپ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں، مدرسہ رحمانیہ، کلیۃ الشریعۃ اور وکلاء و جج حضرات کی شرعی تربیت گاہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹیڈیز جیسی درسگاہوں کے علاوہ، مجلس تحقیق اسلامی اور "ماہنامہ محدث" لاہور کے مدیر اعلیٰ ہیں۔
موصوف جنوری کے مہینے میں سعودی عرب تشریف لائے۔ اس دوران میں، جہاں وہ مکۃ المکرمہ، ریاض اور قصیم گئے۔ وہاں مدینۃ المنورہ میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانیوں کے علاوہ ہندی، بلتستانی اور کشمیری طلبہ بھی۔۔۔۔ باوجودیکہ سب کے سب ششماہی امتحان کی تیاری میں مصروف تھے کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اس انتہائی پُروقار تقریب میں انہوں نے طلبہ سے ایک تاریخی خطاب فرمایا: جس کے چند اہم نکات پیش خدمت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ لوگ کہتے ہیں کہ اہل حدیث مِٹ رہے ہیں، لیکن عزیز و اقارب اور وطن کو چھوڑنے والے آپ جیسے طالب علم اگر موجود ہیں تو اہل حدیث مٹ نہیں سکتے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ
نہیں ہے ناُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بھی ذرخیز ہے ساقی
٭ آپ مستقبل قریب میں جس عملی میدان میں اُترنے کی تیاری کر رہے ہیں اس کے لیے آپ کے سامنے مقاصد متعین اور واضح ہونے چاہئیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ روشن مستقبل کے لیے میں ہی آپ کو روشنی دکھا سکتا ہوں، بلکہ آپ کو دیگر اکابر سے جو گاہے بگاہے یہاں تشریف لاتے ہیں اُن سے بھرپور راہنمائی لینی چاہئے۔ تاکہ اپنے تیس سالہ تجربہ کی روشنی میں، میں آپ سے چند گزارشات کرنا چاہتا ہوں:
میرے عزیز نوجوانو!
دنیا کے اندر مخالفت کسی کو مٹایا نہیں کرتی بلکہ اُسے اُونچا بھی کرتی ہے
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اڑانے کے لئے
مخالفت ہمیشہ ان لوگوں کو نقصان دیتی ہے جو اس کے سامنے سپر انداز ہو جاتے ہیں، اپنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور اس کی تیزی کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس کے ساتھ رختِ سفر باندھ لیتے ہیں۔
٭ اس وقت کشمیری اور ہندی مسلمان اقلیت کا سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دین، جان و مال اور عزت کا تحفظ کس طرح کریں؟ کشمیری اور ہندی مسلمان یہ قطعا نہیں سوچ سکتا کہ وہ ہندوستان یا کشمیر میں حکومت کرے۔
اس لیے میں اس کے بارہ میں گفتگو نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس وقت کی میری گفتگو کے بلاواسطہ مخاطب وہ ہیں جو آزادی کی ایک گرانقدر نعمت سے سرشار ہیں۔
٭ اس وقت پاکستان کی آزادی کو جو چیلنج درپیش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان چونکہ ایک اسلامی خطہ ہے تو کیا پاکستانی مسلمان یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ آج بھی اسلام وہی دنیاوی کامیابی، انسانوں کی فلاح، امن و سلامتی اور زندگی اندر عروج دے سکتا ہے۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک یادگار جانثاری کے بعد پوری دنیا کو دیا تھا؟
٭ کیا وہی عروج آج بھی مل سکتا ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم نے قیصر و کسریٰ کے ایوانوں کو متزلزل کر کے حاصل کیا تھا؟
اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چھوٹی سی جماعت اتنی جلدی دو سُپر طاقتوں کو زیر کر لے گی، جس طرح کہ آج کا مسلمان بھی شیطان کے دھوکے میں ہے کہ روس اور امریکہ جیسی طاقتوں کو فتح کرنا ناممکن ہے۔
٭ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مندوب ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ جب رستمِ ایران کے قصر میں پہنچے تو اس نے ربیع بن عامر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم تو قبائلی خانہ بدوش ہو، تمہارے ہاں تو تصور تک نہ تھا کہ تم کسی علاقے کو فتح  یا زیرنگیں کرو گے، آخر کیا وجہ ہے کہ تم پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہو؟ تو ربعی نے بڑا عمدہ جواب دیا اور کہا:
"ہم دنیا کو فتح کرنے کی غرض سے نہیں نکلے، کیونکہ جو لوگ اس غرض سے نکلتے ہیں ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو اپنا غلام بنائیں، جبکہ ہم تو اس لیے نکلے ہیں کہ انسان جو انسانوں کے غلام بن چکے ہیں، انہیں انسانوں کی بندگی سے نکال کر رب العالمین کی بندگی میں لائیں، ہم اگر کسی جگہ سختی کرتے ہیں تو اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ دنیا کے اندر جو دنگہ فساد پھیل چکا ہے اُسے امن و سلامتی میں تبدیل کر دیں۔" ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلہ... ٣٩﴾...الأنفال
عزیز نوجوانو! ہم اگر پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے پہلے نصف حصے میں اپنے وجود کو متعارف کروانے کی جدوجہد میں لگا ہوا تھا، اس مرحلہ میں کسی بھی شخصیت کا کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہ تھی، میرے خیال میں پاکستان کے تعارف کا سب سے بڑا ذریعہ 1965ء کی جنگ ہے، جس میں پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت سے ٹکر لے کر یہ بتا دیا کہ ایمان اگر موجود ہو تو مسلمان ہی ہمیشہ غالب آیا کرتے ہیں۔﴿ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٣٩﴾...آل عمران
٭ اس جنگ کے عبرت ناک نتائج نے پوری دنیا کو چونکا دیا اور دنیا نے تسلیم کیا کہ یہاں کوئی ایسا پاکستان بھی موجود ہے جو پورے ہندوستان پر غالب آیا ہے۔
٭ جونہی پاکستانی مسلمانوں کا جذبہ ایمان اُجاگر ہوا، غیر مسلم ممالک کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں یہ مشن پھیلتا چلا نہ جائے، لہذا انہوں نے اُسے مٹانے کے لئے مسلمانوں میں ایک "فکری انتشار" پیدا کر دیا تاکہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں اور ان کا اثر دوسرے ممالک میں نہ پھیلے۔
٭ دوسری طرف حکمرانوں نے بھی اسی فکری انقلاب کے تحت اسلام کو ایک سیاسی مسئلہ بنا دیا اور اسی طرح عوامِ پاکستان دو گروہ میں بٹ گئے: مؤیدینِ اسلام اور مخالفینِ اسلام۔
پہلے گروہ نے یہ سوچا کہ پاکستان کی بقا اور اس کا استحکام اسلام میں ہی ہے جبکہ دوسرے طبقے نے پاکستان میں غیر اسلامی فکر پھیلانے کی کوشش کی۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ تھا کہ پاکستان تیسری دنیا کے ممالک کو نمایاں کرنے کے لیے ہی بنا ہے، اس سلسلے میں مسٹر بھٹو اُبھر کر سامنے آئے۔
٭ یہ وہ سنگین مرحلہ تھا جس میں ایک تحریک نے جانی و مالی قربانیاں دے کر مسلمانوں میں وہ جذبہ پھر سے اجاگر کیا کہ پاکستان میں صرف اسلام ہی نافذ ہو گا، لیکن یہ مرحلہ دینی جماعتوں کے لیے یقینی طور پر امتحان تھا۔ اس لیے کہ وہ اس سے پہلے چند محدود مسائل میں گھری ہوئی تھیں، قلعہ بند تھیں لیکن اب انہیں قلعہ بند ہونے کی بجائے میدان میں نکل کر اسلام کو مکمل طور پر نافذ کرنا تھا،اور ان جماعتوں میں الجھاؤ یہ تھا کہ ہم عقائد، عبادات اور انسان کے پرسنل مسائل میں کس چیز کو اپنائیں اور کس چیز کو چھوڑیں۔
٭ اس وقت ایک طبقے نے یہ چاہا کہ ہندوستان میں اسلام کی جو بھی بگڑی ہوئی صورت ہے (یعنی: اکبر کا دینِ الہیٰ) اسے نافذ کریں اور اُسے ہی تحفظ مہیا کریں۔
دوسرے ایک طبقے ۔۔۔ جو ایک مخصوص علاقے کی طرف منسوب ہے۔ میں اصلاحی پہلو تو موجود تھا اور انہیں یہ فکر بھی تھی کہ اکبر کے دینِ الہیٰ کے بگاڑ کو مٹانا چاہئے لیکن انہیں اِس بگاڑ کا علاج قرآن و سنت کی آزاد روشنی کی بجائے ایک مخصوص شخصیت کی مخصوص تعبیر میں نظر آیا۔
ہھر ان لوگوں نے اگرچہ اس مخصوص تعبیر کو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کیا۔ لیکن درحقیقت یہ تعبیر امام صاحب کی تعبیر نہ تھی بلکہ ایک علاقے کے چند علماء نے ہی عقائد اور عملی مسائل میں اسلام کی ایک مخصوص تعبیر ہی کو دنیا بھر میں اسلام کی ترقی و بقا کے لیے ضمانت کے طور پر پیش کیا۔
حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ جس طرح مسائل آتے ہیں اور مٹ جاتے ہیں، اسی طرح  ان سے متعلقہ آراء و فتاویٰ کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہتی ہے۔
٭ ہماری فقہ کا سب سے  بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں جمود ہے، کیونکہ اس کا تعلق براہِ راست پیش آمدہ مسائل سے ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ مسائل تو ختم ہو گئے لیکن ان آراء کو باقی رکھا گیا۔ اور انہیں دائمی حیثیت دینے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ کتاب و سنت ہی ایک ایسی روشنی ہے جس کا تعلق قیامت تک کے آنے والے پورے جن و انس سے ہے نہ کہ کسی مخصوص علاقے یا زمانہ سے۔
٭ یہی وجہ ہے کہ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے "اعلام الموقعین" اور اپنی دیگر کتب میں یہ بحث کی ہے کہ دنیا کے اندر پیش آمدہ مسائل کے وقت صادر ہونے والے فتاویٰ ۔۔۔ جنہیں بعد میں فقہ کی شکل دے دی جاتی ہے۔ کبھی بھی دنیا میں دائمی حیثیت نہیں رکھتے ہیں بلکہ حالات کی تبدیلی سے وہ مخصوص فتاویٰ بھی بدلتے رہتے ہیں۔
٭ پھر یہ بات بدیہی طور پر واضح ہے کہ کوئی بھی درسگاہ یا کوئی بھی فرد یا مجتمع پوری دنیا کو اپنی آراء کا پابند نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہزاروں شخصیات اور ہزاروں درسگاہیں معرض وجود میں آئیں مگر کوئی بھی اپنے آپ کو فرد واحد ثابت نہ کر سکا، بلکہ ان کی حیثیت ان پھولوں کی ہے جن کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے، لہذا آپ کبھی بھی ایک پھول پر اکتفاء کر کے یہ خواہش نہیں کر سکتے کہ آپ کو اسی سے ہی پوری دنیا کی راحتیں حاصل ہو جائیں گی۔
٭ اسی طرح ہر شخصیت کے اپنے اپنے رنگ ہوتے ہیں، موسیٰ علیہ السلام سے جب کسی نے نے پوچھا کہ آپ سے بڑا کوئی عالم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! تم غلطی پر ہو، خضر علیہ السلام کے پاس جاؤ جس کے پاس وہ علم ہے جو تمہارے پاس نہیں۔﴿ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ﴿٧٦﴾...یوسف
٭ شیخ ابن باز حفظہ اللہ سے کسی نے کہا کہ کیا ہم کتاب و سنت کی کسی تعبیر کو بطور دستور نافذ کر سکتے ہیں؟ تو انہوں نے یہ آیت پڑھی  ﴿و َمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾... المائدة
لہذا کوئی بھی فقہ " ما أنزل الله" نہیں ہو سکتی، خواہ وہ کتنی ہی عمدہ کیوں نہ ہو۔
٭ حاصلِ کلام یہ ہے کہ اس مرحلہ پر دینی جماعتوں نے جب اسلام نافذ کرنے کا سوچا تو ان میں سے بعض جماعتیں ایسی تھیں جن کے پاس جدید مسائل مثلا اقتصادیات، عمرانیات، اور سیاسیات پر پہلے سے "ہوم ورک" موجود تھا اور ان کے پاس ایسی کتب موجود تھیں جن سے مذکورہ شعبوں کے متعلق اسلام کی رہنمائی کو اُجاگر کیا گیا تھا اور یہی جماعتیں یقینی طور پر سیاست میں نمایاں ہوئین، اس کے برعکس جماعت اہل حدیث کے پاس عقائد و عبادات کے متعلق کام تو تھا لیکن ان جدید مسائل کے متعلق کچھ نہ تھا، لہذا جماعت اہل حدیث سیاسی سطح پر نمایاں نہ ہو سکی، کیونکہ وہ وقت معاشرے کی تعمیر کا تھا نہ کہ عبادات کے مسائل کو حل کرنے کا۔
٭ یہ تو ٹھیک ہے کہ اہل حدیث نے عقائد کی اصلاح کی، معاشرے کو شرک و بدعت سے پاک کرنے  کی کوشش کی، اور فقہ کے تقلیدی بندھن توڑے، لیکن وہ اس میں اتنے زیادہ مصروف ہوئے کہ انہیں اجتماعیات اور معاشیات میں کام کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
٭ اسی طرح ایک وقت ایک اور طبقہ بھی تھا، جس کا عام فرد موت و پیدائش کے وقت کی خصوصی رسومات اور اپنی سوادِ اعظمیت میں بھی سرگرداں رہا، اگرچہ کچھ عرصۃ بعد چند لوگوں نے ہر نکلتے سورج کی پوجا کر کے صاحب اقتدار سے کروڑوں روپے بٹورے اور حکمرانوں کے ہر کام کو اسلام ہی ثابت کیا۔ اس سلسلے میں مشہور کتاب "بلا سود بنکاری" ایک واضح دلیل ہے۔
٭ عزیز بیٹو! اِس پُرفتن دور میں جہاں آپ کو ان شر انگیز فرق کا مقابلہ کرنا ہے، وہاں دنیا کے سامنے آپ کو اپنا مثبت کام بھی پیش کرنا ہے، دوسروں کا رد کرنا تو آسان ہوتا ہے لیکن رد کے ساتھ باطل کے بالمقابل حق کو پیش کرنا مشکل ہوتا ہے۔
لمحہ فکریہ ہے کہ ہم نے جدید موضوعات مثلا اقتصادیات، عمرانیات معاشیات اور سیاسیات میں کیا عملی کام پیش کیا ہے؟ ہماری ان موضوعات پر کون سی مؤلفات ہیں جنہیں بطورِ دلیل پیش کر سکیں؟ نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ نے جو کام کیا تھا اُسے ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
عزیز نوجوانو! ہماری ایک مشکل تو یہ تھی کہ ہمارے پاس ان موضوعات پر "ہوم ورک" نہ تھا جس کی بناء پر ہم سیاسی سطح پر اپنی حیثیت نہ منوا سکے، پھت مصیبت بر مصیبت یہ بنی کہ بجائے اس کے کہ ہم تند ہواؤں کے بالمقابل عقاب کی حیثیت اختیار کرتے، ہم نے ان ہواؤں سے مفاہمت اختیار کر لی، اور ہم نے یہ سمجھا کہ ہماری کامیابی صرف اور صرف مشارکتِ اقتدار کی جنگ میں ہی ہے۔
٭ ہم نے لوگوں کے اقتدار کے لئے اور انہی کی سیاست کے لیے اپنا مشن بھلا دیا، ہم داعی جماعت تھے لیکن چند مخصوص شخصیات کے خوشہ چین بن گئے۔
میرے عزیزو! داعی کے قدموں تلے پھول نہیں کانٹے بچھائے جاتے ہیں۔ اُس پر تو انبیاء علیہم السلام کی سنت کے مطابق گوبر و گندگی پھینکی جاتی ہے۔ لہذا اہل حدیث کو کبھی بھی لوگوں سے پھول ملنے کی امید نہیں کرنی چاہئے، اسے تو لوگوں کے تیروں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔
٭ اہل حدیث کو فرقوں میں بٹنے کی کیا ضرورت؟ وہ تو حق پرست ہیں، انہیں اقتدار کی مخالفت یا موافقت سے کیا واسطہ؟ ایک داعی کو شخصیت پرستی کی وجہ سے ہی یہ نقصان ہوا کہ اب اس کی نہ تو موافقت کی کوئی حیثیت اور نہ ہی مخالفت میں کوئی زور و طاقت ہے۔
٭ دینی جماعتوں، خصوصا جماعت اہل حدیث کے لئے انتہائی سبق آموز بات یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ایک عالم دین باوجودیکہ اُسے قابلِ ذکر سیٹیں ملیں بلکہ سرحد و بلوچستان میں اُسے اکثریت حاصل ہوئی، کا کیا حشر ہوا؟ کتنی ذلتِ و رسوائی کا سامنا ہوا۔
٭ لہذا ہمارا جو اہم کام ہے وہ شخصی یا جماعتی نعرے بلند کر کے سیاست میں شریک ہونا نہیں بلکہ ہمارا مشن دعوت و تبلیغ ہے، آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی قوم میں جذبہ ایمان کو اُجاگر کر کے اُسے اپنے مقصدِ حیات سے روشناس کرائیں اور جدید موضوعات پر کتب تالیف کر کے تعلیم یافتہ لوگوں کو دینِ اسلام کی صحیح راہنمائی مہیا کریں۔
٭ عزیز نوجوانو! یہ بات یاد رکھیں کہ حق پرست کبھی بھی عددی اکثریت کی بنیادی پر غلبہ حاصل نہ کر سکے، داعی ہمیشہ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔﴿ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ﴿١٣﴾...سبا
 ہمارے غلبے کا دارومدار علمی کاموں پر ہے، لہذا ہمیں اس امر کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہئے۔
٭ پھر ایک اور توجہ طلب بات یہ ہے کہ ہم اگر قرآن اور سنت کی صحیح تعلیمات کی روشنی میں خود ایک عملی نمونہ پیش کریں گے تو لوگ بھی ہماری دعوت و تبلیغ سے متاثر ہوں گے ورنہ نفرتوں کے سیلاب چاروں جانب سے اُمڈ آئیں گے۔
پھر "اخلاق" ایک بہت بڑا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے ہم کئی دلوں کو موم کرنے کے اہل بن سکتے ہیں، لہذا آئیے، آج سے عہد کریں کہ ہم " خالصة لوجه الله" علمی کاموں کے لیے معقول پروگرام مرتب کر کے اُسے عملی جامہ پہنائیں گے اور شخصی یا جماعتی نعروں میں آ کر سیاست سے دور، بہت ہی دور رہیں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
٭ بعض لوگ 73ء کے آئین کی بحالی، یا مخصوص فقہ کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ہم صرف اور صرف قرآن و سنت کو ہی بطور دستور پیش کریں گے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین نے بھی قرآن اور سنت کو ہی بطور دستور سامنے رکھا تھا۔
(والله ولى التوفيق  وما علينا إلا البلاغ والسلام عليكم ورحمة الله)