مغربی طرز کے حالیہ انتخابات کے ذریعے جو پارٹی مرکزی قیادت پر فائز ہو گئی ہے، اس کے حامیوں کی طرف سے اُسے خوب اُچھالا جا رہا ہے، فلم انڈسٹری کے اداکار، موسیقار، جنہوں نے عرصے سے اس پارٹی کی کامیابی پر باہمی مبارکباد بانٹنے کی منتیں مان رکھی تھیں وہ انہیں پورا کر رہے ہیں،اور اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں، کہ اس قیادت کے زیر سایہ ان کے خلافِ اسلام دھندا نشوونما پائے گا، اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کے سینوں سے نورِ ایمان سلب کرنے کے لیے انہیں مزید موقع مل جائے گا، دوسری طرف غیر مسلم ذرائع ابلاغ رات دن اس قیادت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے پروپگنڈے کے ذریعے ۔۔ ایک ایسے ملک میں جس کی بنیاد، نفاذِ اسلام پر رکھی گئی تھی۔۔۔عورت کی سربراہی کے خلاف اسلامی اصول کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گئے ہیں، ادھر فضا کو اپنے لیے سازگار دیکھ کر قادیانی اژدہے بھی سر اٹھا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے نونہال بڑے خوش ہیں کہ وہ سٹیج پر باجی کی سرِعام نمائش کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں اسلام پسند حضرات اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وطنِ عزیز میں اسلام کے خلاف طے پانے والے فیصلے بیرونی سازشوں سے اس پر مسلط کئے جاتے ہیں اور کفر و الحاد کے سوداگر ممالک کافرانہ افکار سے نام نہاد مسلمانوں کی تربیت کرتے ہیں اور اپنے پالتو افراد کو ایسے شیطانی حربوں سے لیس کرتے ہیں، جنہیں دیکھ کر ابلیس لعین بھی انگشتِ بدنداں رہ جاتا ہے، کمیونسٹوں کے چیلے چانٹے مسلمانوں میں کھپنے کے لیے اور یورپی نظام کے سنگریزوں کو دینِ محمدی میں جذب کرنے کے لیے نت نئے کرتب بدل کر سامنے آتے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہیں، یوں اسلام لوگوں کے ہاں بازیچہ اطفال بنا ہوا ہے، سرکاری سطح پر اسلام سے اس طرح مذاق ہو رہا ہے کہ حلف برداری کی تقریب یا کسی بھی اجلاس میں قرآن کریم کی چند آیات تبرک کے لیے تلاوت کی جاتی ہیں، اور اس سے فورا بعد جو عملی قدم اٹھایا جاتا ہے، وہ سراسر قرآنی تعلیمات اور اسلامی ہدیاات کے خلاف ہوتا ہے، یہاں تک کہ ملکی قانون بھی وہی رکھا جاتا ہے جو اسلام کے منافی اور باہر سے مستعار ہے اور عوامی سطح پر قرآن کریم یوں مظلوم ہے کہ لوگوں نے اُسے مُردوں کے ساتویں اور چالیسویں کے ختم میں پڑھنے کے لیے گھروں میں سجا رکھا ہے، لیکن گھریلو زندگی اور دیگر معاملات اسلامی احکام کے خلاف طے پاتے ہیں، حالانکہ عملی زندگی س قرآنی ہدایات کو خارج کر دینا اسے چھوڑ دینے کے مترادف ہے، اور ایسے لوگوں سے صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اپنی براءت کا اظہار فرما دیں گے:
﴿وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ٣٠﴾ ...الفرقان
"اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) فرمائیں گے، اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔"
بدقسمتی سے ہمارے ملک کو آئے دن ایسے حکمران سے پالا پڑتا ہے جو اسلام کی رٹ لگا کر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے اور اپنے لئے اسلام کا نام استعمال کرنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نعرہ بازی کا نام نہیں، بلکہ انگریز سے ورثے میں طے ہوئے کالے قانون کو دریا برد کر کے اس کی جگہ قرآن مجید کو لانے اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا شارح اور مفسر مان کر ملک کو قرآن و حدیث کے مطابق چلانے کا نام اسلام ہے، ورنہ زبانی کلامی اسلام کی رٹ لگاتے رہنا اور عملی طور پر باہر سے درآمد شدہ دستور کی بالادستی قائم کرنے کی تگ و دو کرنا منافقت ہے اور عورت کی سربراہی اس کے مظاہر میں سے ایک ہے۔ جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اسلام میں عورت کی سربراہی کی ممانعت:
اسلام جہاں حقوقِ نسواں کی پاسبانی کرتا ہے وہاں اس کی عزت و عصمت کی حفاظت کا بھی انتظام کرتا ہے۔ صنفِ نازک کو شمع محفل بنانے کی بائے وہ اُسے گھر کی ملکہ کی حیثیت دیتا ہے اور اس طرح اسلام، عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید بھی نہیں کرتا بلکہ بوقتِ ضرورت اُسے گھر سے باہر اپنی ضروریات کی تکمیل کی اجازت دیتا ہے۔ اگرچہ ایسی صورت میں خالقِ کائنات کی طرف سے اس پر غیر محرم مردوں سے اختلاط نہ رکھنے اور باپردہ ہو کر نکلنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ تاکہ اس کی عصمت و عفت درندہ صفت لوگوں سے محفوظ رہ سکے۔
اسلامی قیادت و حکمرانی کا منصب چونکہ لوگوں پر اپنے دروازے کھلے رکھنے کا متقاضی ہے۔ جس میں ہر شعبے کے افراد سے اختلاط اور میل جول کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے اسلام نے اس قسم کے انتظام و انصرام کا بوھ مرد پر ہی ڈالا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ... ٣٤﴾...النساء
مرد عورتوں کے منتظم ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔
جبکہ گھر کے انتظامی امور کا بوجھ مرد پر ڈالا گیا ہے اور عورت کو گھریلو امور سر انجام دینے کے لیے دفتروں اور بازاروں میں دھکے کھانے اور غیر محرموں کے ساتھ میل جول رکھنے سے محفوظ کر دیا گیا ہے تو پورے ملک کی سربراہی عورت کے سپرد کر کے وزیروں اور مشیروں حتیٰ کہ عوام الناس سے اس کی نمائش کروانے کی اجازت اسلام کیسے دے سکتا ہے؟
قرآن کریم نے تو امہات المومنین سے کوئی سوال کرتے وقت یہ پابندی عائد کر دی ہے کہؒ
﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ... ٥٣﴾...الأحزاب
"تمہیں جب ان سے مال و متاع کے متعلق سوال کرنا ہو تو پردے کے پیچھے سے سوال کرو۔ یہی چیز تمہارے اور ان کے دلوں کی طہارت و صفائی کا باعث ہے۔"
قرآں کریم میں عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور جاہلوں کی طرح زیب و زینت لگا کر پھرنے سے روکا گیا ہے:
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ... ٣٣﴾...الأحزاب
"اور اپنے گھروں میں ٹک کے رہو اور سابقہ جاہلیت کے سے انداز اختیار نہ کرو۔"
ان آیات میں امہات المومنین جیسی پاکیزہ ہستیوں کو پردہ کرنے اور اپنے گھروں میں ٹک کر ہنے کا حکم دے کر عام مسلمان عورتوں کو ان شرعی قوانین کا پابند بنانا مقصود ہے۔ متدین خواتین بہرحال ایسی قرآنی پابندیوں کو بخوشی قبول کرتی ہیں، کیونکہ انہی سے ان کے دنیا و آخرت کے مفادات وابستہ ہیں اور سٹیج پر سرِعام نمائش کرا کر دنیاوی شہرت کا حصول مسلمان عورتوں کی فطرت کے خلاف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِن قرآنی آیات کی تفسیر و تشریح کرتے ہوئے بہت سی ہدایات ارشاد فرمائیں، جن کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں۔ موضوع کی مناسبت سے صرف ایک فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر دینا کافی ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع ملی کہ ایران کے بادشاہ کی موت کے بعد لوگوں نے اس کی بیٹی کو سربراہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لن يفلح  قوم  ولوا أمرهم إمرأة"(صحيح بخارى .كتاب الفتن)
یعنی وہ قوم ہرگز فلاح و نجات نہیں پائے گی جس نے عورت کو اپنا سربراہ بنایا۔
اس حدیث کا مقصد عورت کی اہلیت کی نفی کرنا نہیں، بلکہ اس کے لیے دائرہ کار کا تعین کرنا مقصود ہے، اگرچہ عورت شرعی حدود کی پابندی کر کے خواتین کی تنظیموں میں کام کر سکتی ہے۔ لیکن پوری قوم کا اُسے سربراہ بنا دینا فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت ہے۔
معصیتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چور دروازہ:
بعض مغرب زدہ حضرات، رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات سے جان چھڑانے کے لیے احادیثِ نبویہ کو تاریخی واقعات پر پیش کرتے ہیں، اور اگر انہیں تاریخ سے چند ایسی مثالیں دستیاب ہو جائیں جو حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف رونما ہوئی ہوں، تو وہ انہیں حدیث کے ناقابلِ عمل ہونے کی دلیل بنا کر پیش کر دیتے ہیں، ان حضرات میں سے جامعہ پنجاب میں شعبہ تاریخ کے ایک پروفیسر صاحب ہیں۔ جو اسلامی نظریاتی کونسل کے ہوتے ہوئے کسی فردِ واحد کے فتویٰ دینے کے خلاف ہیں لیکن خود ہی انہوں نے اپنے ایک مضمون میں عورت کی سربراہی کے جواز کا فتویٰ دیتے ہوئے چند حکمران خواتین کے تاریخی واقعات پیش کر کے عورت کی حکمرانی کی ممانعت میں صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے، غضب خدا کا کہ استاذِ تاریخ نے فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناقابلِ عمل ثابت کرنے کے لیے غیر مسلم عورتوں کے واقعات درج کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، اور ان کی مدح و ثناء میں کئی صفحات سیاہ کر ڈالے۔ ان کی فہرست تو طویل ہے لیکن ہم ان میں سے صرف ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفاء کریں گے۔
وہ لکھتے ہیں:
"تاریخ شاہد ہے کہ آنجہانی اندراگاندھی کے زمانے میں بھارت ایٹمی طاقت بنا، اور مسز اندراگاندھی غیرجانبدار ممالک کی تنظیم کی سربراہ بنی، اس کی سیاسی چالوں نے پاکستان کے سیاست دانوں کو مات دے کر پاکستان کو دولخت کر دیا، بھارتی حکومت نے اُسے بھارت کے سب سے بڑے سول اعزاز "بھارت رتنا" سے نوازا، کیا اب بھی کسی کو اعتراض ہے کہ عورت کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی" (ہفت روزہ ندا، 13 دسمبر سئہ 88ء)
ہمیں تعجب اس بات پر ہی نہیں کہ پروفیسر صاحب نے پاکستان کو دولخت کرانے پر اندراگاندھی کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں بلکہ اس پر بھی کہ وہ اپنے آپ کو سُنی مسلمان باور کرانے کے باوجود، فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مشکوک اور ناقابلِ عمل بنانے کے لئے اس کے خلاف ان غیر مسلموں کے واقعات پیش کر رہے ہیں، جن کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلامی احکامات کی دھجیاں بکھیری جائیں، اور ایک ایک کر کے امورِ اسلام کو پامال کیا جائے۔
ایسے دانشور حضرات کو نجانے اس قسم کے طرزِ استدلال میں کیا وزن معلوم ہوتا ہے، حالانکہ یہ طریقہ واردات غیر مسلموں کے لئے تاریخی واقعات کے خلاف قرآنی آیات کو ناقابلِ عمل قرار دینے کا دروازہ کھول دیتا ہے، مثال کے طور پر قرآنِ کریم نے واشگاف الفاظ میں سودی لین دین کو حرام کہا ہے، اب اگر کوئی سر پھرا سود کو اس لیے حلال قرار دینے لگے کہ اس سے متعدد لوگوں کے دنیاوی مفادات وابستہ ہیں، اور وہ اس کی ممانعت کو زمانہ نزولِ قرآن سے خاص کر دے اور استاذِ تاریخ کی طرح غیر مسلم اقوام یا نام نہاد مسلمانوں کے چند ایسے واقعات کو اکٹھا کر دے جن سے یہ ثابت ہوتا  ہو کہ کئی افراد کو سودی کاروبار سے فائدہ پہنچا ہے اور اس کے بغیر مالی معاملات ٹھپ ہو سکتے ہیں، تو اس طرح کے طرزِ استدلال سے آج کے دور میں اس حرام کو حلال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سود کی ممانعت پر مشتمل آیات کے قاعدہ کلیہ ہونے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر موصوف کو چاہئے کہ وہ سنی مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلامی احکام کو تاریخی واقعات کے پیچھے نہ چلائیں، بلکہ قرآن و حدیث کی اصل بنا کر ان کے خلاف رونما ہونے والے واقعات کو غلط قرار دینے کی جراءت کریں، کیونکہ اسلام کی سرزمین میں گھوڑے کو ٹانگے کے پیچھے جوت کر سفر نہیں کیا جا سکتا۔
دیوانے کی جڑ:
تاریخ کے مذکورہ پروفیسر "صحیح بخاری" کی حدیث کو صحیح مانتے ہیں۔ لیکن اسے موجودہ دور میں ناقابل عمل قرار دیتے ہیں، لیکن ایک اور پروفیسر، بخاری کی اس حدیث کو صحیح ہی نہیں مانتے جو عورت کی سربراہی کی ممانعت کے بارہ میں ہے، بلکہ اُسے ضعف اور اس کے راویوں کو غیر ثقہ بتاتے ہیں۔ آپ ہی بتائیں کہ عوام ان دانشوروں میں سے کس کی عقل و فراست پر اعتماد کریں؟
افسوس کی بات ہے کہ جب سے بعض نام نہاد مسلمانوں نے اپنی باگ دوڑ فرنگیوں کے ہاتھوں میں تھما دی ہے، احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قسم کے احمقانہ اعتراضات شروع ہو گئے ہیں اور خیرخواہی کی آڑ میں تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسخ کرنے کے لیے محاذ قائم کر لیا گیا ہے اور جو حدیث بھی عقل پرستوں کی دانش کے خلاف ہوتی ہے اُسے ضعیف اور موضوع کہہ دیا جاتا ہے۔ دراصل اس طریقِ کار سے یہ حضرات مخالفینِ اسلام کے لئے قرآنی آیات پر اعتراضات کرنے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ لہذا اس فتنے کے سدِباب کے لیے ضروری ہے کہ احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اچھالے جانے والے کیچڑ کو صاف کیا جائے جیسا کہ مسلمانوں کے اسلاف قرآن و حدیث کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی مدلل طور پر تردید کرتے رہے ہیں۔
عورت کی سربراہی کی قباحت و ممانعت کے بارہ میں صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث کے تینوں راویوں کو بھی ان کے ہم عصر علماء کرام نے ثقہ اور قابلِ اعتبار قرار دیا ہے اور کسی پر ایسا الزام نہیں ہے جو ان سے اخذِ حدیث میں مخل ہو، چنانچہ اس حدیث کے پہلے راوی عثمان بن ہیثم ہیں، تقریب التہذیب میں ہے کہ یہ ثقہ راوی ہیں (دیکھئے ج2 ص 15) اور دوسرے راوی عوف بن ابی جمیلہ ہیں، جنہیں امام احمد، ابن معین اور نسائی نے ثقہ اور قابلِ اعتبار کہا ہے (تقریب التہذیب ج2 ص 89، تہذیب التہذیب 8/ 167) تیسرے راوی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو کہ ثقہ، اور فاضل آدمی تھے۔ (تقریب التہذیب ج1 ص 165) اور اسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرنے والے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہیں جو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اہل اسلام کے ہاں صحابہ کرام کا عادل اور ثقہ ہونا ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ حدیث صرف اسی ایک طریقے سے ہی مروی نہیں بلکہ نسائی، ترمذی اور مسندِ احمد میں مختلف اسانید اور متعدد رواۃ سے بھی منقول ہے۔
اور اس حدیث کا مفہوم بھی، عورت کے ستر و حجاب کے بارہ میں قرآنی ہدایات کے مطابق ہے۔
لہذا اس حدیث کے متن کی صحت اور اس کے رواۃ کی ثقاہت معلوم ہونے کے بعد ہمیں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسی احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضعیف اور ناقابلِ اعتبار کہہ دینے والے حضرات ہی اسلامی دنیا میں غیر ثقہ اور ساقط الاعتبار ہیں۔ جنہوں نے اپنی نکیل فرنگیوں کے ہاتھ میں دے کر اپنی خودی کا جنازہ نکال دیا ہے۔
گمراہی کے بیوپاری:
تاریخ اسلام کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بدعت اور گمراہی و ضلالت کے دلدادہ افراد کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنی شیطانی خواہشات کی تکمیل کے لیے قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات سے بے نیاز ہو کر، ایسی نصوص و آیات کا سہارا لینے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جن کا ان کے موقف سے کوی تعلق نہ ہو۔ عوام الناس چونکہ براہِ راست قرآن و حدیث کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ بآسانی ان کے مکروفریب کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جب کہ عورت کی سربراہی قرآنی ہدایات کے منافی ہے، بلکہ قرآن کریم میں مردوں کے ناظم الامور ہونے کی صراحت موجود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی سربراہی کو فلاح و خیر سے عادی قرار دیا ہے، ان اسلامی تعلیمات کے خلاف اُس غیر متعلقہ آیت کے پیش کرنے کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ جسے طلوع اسلام نے نئی آنے والی گورنمنت کی رضا جوئی کی خاطر نقل کیا ہے۔ چنانچہ پیپلز پارٹی کی قائد عورت کی حکومت کو سہارا دینے کے لیے ان حضرات نے جو قرآنی آیت پیش کی ہے، وہ یہ ہے:
﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّـهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٧١﴾...التوبة
اس آیتِ کریمہ کو اپنے موقف کا پابند بناتے ہوئے "طلوعِ اسلام" کے اداریہ نویس لکھتے ہیں:
"قرآن نے تو عورت پر کوئی قدغن نہیں لگائی، قرآن کریم جہاں اسلامی مملکت کے فرائض کی انجام دہی مردوں کی ذمہ داری بتاتا ہے۔ اسی آیت میں اس نے عورتوں کو بھی اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے برابر کا ذمہ دار ٹھہرایاا ہے۔" (طلوعِ اسلام، دسمبر 1988ء)
فرقہ طلوعِ اسلام کے سرپرستون کا منصوبہ دراصل یہ ہے کہ کسی بھی دعویٰ کے ساتھ کوئی نہ کوئی قرآنی آیت درج کر دینا کافی ہے، خواہ اس کا موقف کے اثبات سے کوئی تعلق نہ ہو، تاکہ آیت کریمہ کو دیکھ کر عوام الناس سمجھیں کہ قرآنی نظام نافذ ہو رہا ہے۔ مرد و زن کے اختلاط جیسے قبیح فعل کی اباحت اور عورت کے لئے دفاعی سیکرٹریوں (کے غیر محرم مردوں) کی صدارت کرنے کی اجازت کا فتویٰ فرقہ طلوعِ اسلام کے مذہبی پیشوا ہی دے سکتے ہیں اور صحافیوں اور اخبار نویسوں میں گُھل مِل جانے والی عورت پر قرآنی آیات چپکانا انہی کا کام ہے۔ مگر قرآنی کریم ایسے منکرات سے بری الذمہ ہے۔
مذکورہ قرآنی آیت میں مومن مرد و زن کا مشن یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتے ہیں، اور عورت کی سربراہی اللہ تعالیٰ اور رسول کریم کی ہدایات کے خلاف باغیانہ جسارت ہے۔ اس لیے ان کا جواز قرآن کریم سے کشید کرنا قرآن سے اپنی بات جبرا منوانے کے مترادف ہے۔ اگر اس آیت کریمہ کا وہی مفہوم ہوتا جو "طلوعِ اسلام" والوں نے اس سے اخذ کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عورت کی حکمرانی کے جواز کے لیے نازل کیا گیا ہوتا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی  پوری زندگی میں اس پر عمل کرتے ہوئے مردوں کی بجائے کسی عورت کو دوسرے علاقے کا سربراہ یا وزیر و مشیر بنا کر بھیجتے ، حالانکہ آپ ﷺ نے ایسا کبھی نہیں کیا ، اس لیے کہ مذکورہ آیت کے نزول کا مقصد عورت کی حکمرانی کا جواز نہیں ہے ، اور نہ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو سر انجام دینے کے لیے یہ  ضروری ہے کہ پہلے کرسی اقتدار حاصل کی جائے اور اگر یہ ضروری ہے تو فرقہ ’’طلوع اسلام ‘‘ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے ماہوار رسالے وغیرہ کی اشاعت روک دے اور کرسی اقتدار کے حصول تک اس کا نام معطل رکھے ۔
اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ یہ آیت سربراہی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اتاری گئی ہے ۔ تب بھی مردوں کے ہوتے ہوئے اس آیت سے عورتوں کی حکومت کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں مسلمان مردوں کو مومن عورتوں سے پہلے ذکر کیا گیا  ہے ، اور ان کے فرائض کو ذکر کرتے  وقت بھی مذکر کے الفاظ ہی لائے گئے ہیں ، لہذا مردوں کے ہوتے ہوئے ، عورت کو سٹیج پر لانا   اس آیت کے سیاق کے ہی خلاف ہے ۔ اور یہ تب ممکن ہے جب کہ اس ہورت کی پارٹی میں شامل مرد حضرات اپنے بے ضمیر اور نا اہل ہونے کا اعتراف کر لیں۔
مقام غور ہے کہ پرویز صاحب  ساری عمر جمہوریت کی مخالفت کرتے رہے ہیں ، جس پر ان کا لٹریچر شاہد ہے جیسا کہ وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں :
’’ ان نظاموں میں آخری نظام جمہوریت ہے ، لیکن یہ نظام بھی بُری طرح نا کام ثابت ہو رہا ہے ، اس لیے کہ اوّل تو اس سے ملک کے اندر مختلف پارٹیوں میں باہمی کشمکش رہتے ہے اور دوسرے مختلف ملکوں اور فوموں میں نفرت اور رقابت کے جذبات دنیا کو جہنم بنائے رکھتے ہیں ۔‘‘(سلیم کے نام:3/312)
لیکن ایسی حمہوریت مے سخت برسر اقتدار آنے والی عورت کو پرویز صاحب کے مقلدین اب قرآنی آیات پڑھ کر دم کر رہے ہیں ،حالانکہ قرآن کریم ایسے منکرات کو سہارا دینے کے لیے انہیں اتارا گیا بلکہ ان غلاظتوں کو اتار پھینکنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
اس فرقہ کے اس طرزِ عمل سے انداوہ لگایا  جا سکتا ہے کہ قرآنی آیات کو وقت  اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق بدلنے کے دعوے سے ان کا اصل مقصد کیا ہے۔
عورت نے حصول ِ اقتدار کی خواہش کیوں کی؟
اس ملک میں سرکاری طور پر اسلام آئے تو عوام کو معلوم ہو کہ اقتدار کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کی مالا ہے ۔ کافران نظام ِ حکومت کے رسیا  لوگوں کو حب اثتدار مل جاتا ہے تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے ، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں ، جلوس نکالے جاتے ہیں ، اور اپنے مخالفوں پر پھبتیاں کَسی جاتی ہیں ، انہیں ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہوتا، حالی خولی نعروں  سے کام چلایا جاتا ہے ، اور آج کی سیاست تو جھوٹ بولنے کا نام ہے ، جو بھی جھوٹ بولنے میں مہارت تامہ رکھتا ہے ۔ اس کے برعکی ہمارے پیارے قائد حضرت محمد ﷺ امارت و وزارت کی حرص و لالچ سے روکتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
" عن أبى هريرة  عن النبي صلى الله عليه وسلم إنكم سترضون على الإمارة ندامة يوم القيامة فنعم المرضعة  و بئست الفاطمة"(صحيح البخارى  مع فتح البارى.13/125)
ابو ہریرہ ﷜ رسول ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ  نے فرمایا  تم لوگ عنقریب  حکومت اور سربراہی کی حرص کرنے لگ  جاؤ گے ، جو کہ قیامت کے روز شرمندگی اور ندامت کا باعث بن جائے گی ۔ (حکومت کی مثال ماں جیسی ہے ) جو دودھ پلائے تو اچھی ہے ، لیکن دودھ چھڑا لے تو بُری لگتی ہے۔
نیز ارشاد ِ رسالت مآب ہے :
" قال من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح  بغير سكين "
یعنی "جو شخص لوگوں پر قاضی بنا دیا گیا گویا وہ الٹی چھری سے ذبھ کر دیا گیا۔"
رسول معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین پر لوگوں کو اگر یقین حاصل ہو جائے اور وہ انہیں صدقِ دل سے تسلیم کر لیں، تو بہت سی ان خرابیوں سے نجات مل جائے جو الیکشن کے موقع پر دیکھنے میں آتی ہیں اور امیداواروں کی کثرت سے بھی چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ خصوصا مستورات اور خواتین۔۔جنہیں اسلام نے اس ذبح خانہ سے دور ہی رکھا ہے۔ عوامی سٹیجوں کی زینت بننے اور شمع محفل قرار پانے سے محفوظ ہو جائیں۔ اس دور میں چونکہ حق و صداقت کے پیمانے ہی بدل دئیے گئے ہیں، اس لیے حکومت اور سربراہی کو بھی فخر و مباہات کی چیز سمجھا جاتا ہے اور عورت بھی اس نام نہاد فخریہ کارنامے کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہو گئی ہے، اگر اس منصب کو ذمہ داریوں کا طوق سمجھا جائے اور قیامت کے دن اللہ رب العزت کی عدالت میں جوابدہی کا احساس دامن گیر ہو تو، اس مقام اور عہدے سے دور رہنے میں ہی عافیت ہے۔
نابالغ سیاستدان:
مرکز میں برسرِ اقتدار پارٹی کی نکیل اگر عورت کی بجائے ان میں سے کسی آدمی کے ہاتھ میں بھی تھما دی جائے تب بھی اُن سے کسی خیر کی اُمید نہیں ہے، یہ حضرات انتقامی فیصلے تو کر سکتے ہیں، لیکن کسی تعمیری کام کی ان سے تقع نہیں کی جا سکتی، پنجاب کی حکومت کو ناکام بنانے کے لیے سیاسی قیدیوں کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد کو رہا کر دینا کہاں کی سیاست دانی ہے؟ سنگین قسم کے جرائم میں ملوث لوگوں کی سزاؤں کو منسوخ کر دینا کسی طرح بھی مستحسن اقدام نہیں ہے۔ بلکہ ایسا اعلان اعلیٰ عدالتوں کی توہین کے ساتھ مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ غور کیجئے اگر ہر آنے والی نئی حکومت مجرموں کو معافی دینے کی رسم پوری کرنے لگ جائے، تو لوٹ کھسوٹ، قتل و گارت اور اغواء جیسے جرائم کے ارتکاب پر جس قدر لوگوں کو جراءت پیدا ہو گی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، ایسے بے سمجھی کے اقدامات سے معاشرے میں امن و امان کی فضا سازگار ہونے کی بجائے عوام میں خوف و ہراس پھیلے گا،  نیز بدمانی اور انارکی کو ہی فروغ ملے گا، قیدیوں کی عام معافی کے بعد چوری، ڈکیتی، قتل و اغواء کی خبریں اس کی منہ بولتی دلیل ہیں، جو آئے دن روزناموں میں چھپتی رہتی ہیں، اگر زمام اقتدار پختہ ذہن اور تجربہ کار لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی تو ماضی کی بجائے مستقبل کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا، مگر افسوس کہ اقتدار ایسے لوگوں کو سونپا گیا، جن کی جڑیں ایک آدھ صوبہ کے علاوہ عوام میں نہیں ہیں۔لہذا ایسے لوگوں کو اہل وطن کی خوش حالی اور ان کے امن و امان سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بے راہ روی اور بدامنی زور پکڑ رہی ہے اور اہل اقتدار کو جب ان کے عیوب و نقائص کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو بجائے کوئی عملی قدم اٹھانے کے ان کی طرف سے ایک لچھے دار بیان اخباروں میں داغ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اس طرح لوگوں سے اپنی خیرخواہی کا اظہار کر کے آئندہ انتخابات میں انہیں اپنی کامیابی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اور ایسی پارٹی سے اپنی ذمہ داریوں کے احساس کی اُمید کی ہی نہیں جا سکتی، جس کی وزیراعظم نے پہلے دن ہی اپنی سیاسی ناپختگی اور غیر ذمہ داری کا ثبوت فراہم کر دیا تھا، جیسا کہ یکم دسمبر کے روزنامہ جنگ نے لکھا کہ: پیپلز پارٹی کی وزیراعظم حلف کے موقع پر ایوان میں بیٹھی اخبار پڑھتی رہی۔ حالانکہ ایوان میں بیٹھ کر اخبارات کا مطالعہ کرتے رہنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
ہر شخص کی زندگی میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں، جن میں اس کی ذہنی سطح کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس کے مستقبل کے بارہ میں کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے اور حال ہی میں پیپلز پارٹی کے اربابِ اقتدار کی طرف سے ٹی-وی پر میوزک 89ء جیسا فحش پروگرام نشر کرنے سے لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ اقتدار حاصل کرنے سے ان لوگوں کا اصل مقصد تعمیر ملت نہیں، بلکہ اپنی ذاتی بدمستیوں کو تسکین دینا ہے اور چونکہ دین اسلام سے برگزشتہ لوگ ہمیشہ پیپلز پارٹی کے ووٹر ہوتے ہین، اس لیے اس پارٹی کی طرف سے نوجوانوں کے ذہنوں کو اسلامی تعلیمات سے متنفر کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے اور رقص و موسیقی کی مخلوط محفلین منعقد کر کے لوگوں کے اخلاق کا بگاڑا جا رہا ہے۔ اس طرح یہ پارٹی آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مفلوج الذہن لوگوں کی کھیپ تیار کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی یا اس کی قائد کے متعلق ہمارے کلمہ حق کو مخالفت برائے مخالفت کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس پارٹی سے وابستہ افراد کا اس کی قیادت کے خلاف تبصرہ گھر کے گواہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ گجرات سے قومی اسمبلی کے رکن جناب ممتاز صاحب اس پارٹی کے ہاتھوں اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہوئے لکھتے ہیں۔
"موجودہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی زیادہ تعداد ناتجربہ کار اور ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو حقیقت میں اس کے اہل نہیں تھے۔ چند ارکان ایوان کے طریقہ کار کو سمجھتے ہیں اور انہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔"
ممتاز صاحب نے اپنے اس بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ
"مصلوب بھٹو سے لے کر آج تک اس پارٹی میں معقول، تجربہ کار ، صابر، شاکر اور محبِ وطن افراد کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔" (نوائے وقت، 28 دسمبر سئہ 88ء)
اس کے بعد اگرچہ کچھ لے دے کر کے اس بیان کی تردید چھپوانے کی کوشش بھی مکی گئی، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ بیان واقعی حقائق کا مظہر ہے اور اگر اس پارٹی کی قائد کو کچھ عرصہ مزید برسرِ اقتدار رکھا گیا تو ان شاءاللہ بہت سی ان احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت لوگوں پر واضح ہو جائے گی۔ جو آج کل منکرینِ حدیث کے انکار کانشانہ بنی ہوئی ہیں۔
اسلام پسند حضرات سے التماس:
اخبارات و مجلات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض حضرات موجودہ قیادت سے ملک میں اسلام نظام کے نفاذ کی امید لگائے بیٹھے ہیں اور وہ ا سسے شعائرِ اسلام کے احترام اور ان کی تنفیذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان حضرات کا یہ جذبہ قابل قدر ہے۔ لیکن یہ مطالبہ ایسی قیادت سے کرنا جو اسلام کی ابجد سے بھی ناواقف ہے، ہرگز مفید نہیں۔ کیونکہ اسے لندن یا پیرس سے دین اسلام سے آراستہ کر کے نہیں بھیجا گیا، بلکہ ایسے افکار سے لیس کیا گیا ہے، جو حقیقی اسلام کی روح کے منافی ہیں۔ اور جو عورت قرآنی تعلیمات اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے بغاوت کر کے ایوانِ قتدار تک پہنچی ہو اس سے نفاذِ اسلام کا مطالبہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کنوئیں میں مری ہوئی چوہیا کو نکالے بغیر اس کی صفائی کے لئے ڈول سے پانی نکالنا شروع کر دیا جائے، ظاہر ہے کہ اس طرح نہ کنواں پاک ہو گا اور نہ ہی نظیف پانی سے استفادہ کیا جا سکے گا۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے بنیادی اصلاحات اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے مشترکہ جدوجہد کی جائے، تو وہ دن دور نہیں جب اس ملک سے کالا قانون مٹ جائے گا اور اس کی جگہ قانونِ اسلام اور نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور دورہ ہو گا۔ (ان شاءاللہ تعالیٰ)