ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اپریل
1989
رمضان سلفی
مغربی طرز کے حالیہ انتخابات کے ذریعے جو پارٹی مرکزی قیادت پر فائز ہو گئی ہے، اس کے حامیوں کی طرف سے اُسے خوب اُچھالا جا رہا ہے، فلم انڈسٹری کے اداکار، موسیقار، جنہوں نے عرصے سے اس پارٹی کی کامیابی پر باہمی مبارکباد بانٹنے کی منتیں مان رکھی تھیں وہ انہیں پورا کر رہے ہیں،اور اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں، کہ اس قیادت کے زیر سایہ ان کے خلافِ اسلام دھندا نشوونما پائے گا، اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کے سینوں سے نورِ ایمان سلب کرنے کے لیے انہیں مزید موقع مل جائے گا، دوسری طرف غیر مسلم ذرائع ابلاغ رات دن اس قیادت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے پروپگنڈے کے ذریعے ۔۔ ایک ایسے ملک میں جس کی بنیاد، نفاذِ اسلام پر رکھی گئی تھی۔۔۔عورت کی سربراہی کے خلاف اسلامی اصول کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گئے ہیں، ادھر فضا کو اپنے لیے سازگار دیکھ کر قادیانی اژدہے بھی سر اٹھا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے نونہال بڑے خوش ہیں کہ وہ سٹیج پر باجی کی سرِعام نمائش کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
  • اپریل
1989
محمد اسحاق بھٹی
نعرہ بازی کی سیاست یا علمی تحقیق اور تبلیغ و جہاد؟
حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی مدظلہ العالی پاکستان کی معروف علمی شخصیات میں سے ہیں۔ آپ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں، مدرسہ رحمانیہ، کلیۃ الشریعۃ اور وکلاء و جج حضرات کی شرعی تربیت گاہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹیڈیز جیسی درسگاہوں کے علاوہ، مجلس تحقیق اسلامی اور "ماہنامہ محدث" لاہور کے مدیر اعلیٰ ہیں۔
موصوف جنوری کے مہینے میں سعودی عرب تشریف لائے۔ اس دوران میں، جہاں وہ مکۃ المکرمہ، ریاض اور قصیم گئے۔ وہاں مدینۃ المنورہ میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانیوں کے علاوہ ہندی، بلتستانی اور کشمیری طلبہ بھی۔۔۔۔ باوجودیکہ سب کے سب ششماہی امتحان کی تیاری میں مصروف تھے کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اس انتہائی پُروقار تقریب میں انہوں نے طلبہ سے ایک تاریخی خطاب فرمایا: جس کے چند اہم نکات پیش خدمت ہیں۔
  • اپریل
1989
غازی عزیر
اس کے آگے محترم ڈاکٹر صاحب نے نفسِ مضمون سے ہٹ کر، کذب کی اقسام، کذب بصورتِ اکراہ، توریہ، قانونی مشیر، طبیب اور زہر و تریاق کی غیر متعلق [1]بحثوں کو چھیڑ کر خلطِ مبحث کرنا چاہا ہے، ہم غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے اس حصہ پر کلام کرنے سے قصدا گریز کرتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
"زیرِ بحث، حدیث کے مطعون راوی عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی نسلوں بلکہ کئی صدیوں بعد کے لوگ ہیں، اگر آئندہ خوش قسمتی سے اُن سے پہلے کے راویوں (صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہم، تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ) کی کتابیں دستیاب ہو جائیں (اور الحمدللہ ہو رہی ہیں) اور ان میں یہ حدیث بھی مل جائے تو ظاہر ہے کہ متاخر زمانے کے کسی ضعیف یا جھوٹے راوی نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہو تو اس سے اصل حدیث کی صحت متاثر نہ ہو سکے گی۔"
  • اپریل
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قرآن کریم نے جگہ جگہ لوگوں کو انفاقِ اموال کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم ذاتی ملکیتِ مال کو متضمن ہے۔ پرویز صاحب نے اس لفظ سے اس لزوم اور تضمن کو خارج کرنے کے لیے اس کے مفہوم کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے چنانچہ ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة " کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ:
"ان الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔۔ "جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔" یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مال و دولت کو کرچ کرتا ہی ہے۔ لہذا اس میں متعین کی کیا خصوصیت ہے جو ان کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ متقی وہ ہیں جو اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ اپنے روپے پیسے کو احتیاط سے خرچ کرتے ہیں اور فضول خرچی (اسراف و تبذیر) سے بچتے ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 205)
  • اپریل
1989
عبدالرحمن کیلانی
چند ہی ماہ قبل میرے حقیقی بڑے بھائی محمد سلیمان کیلانی مورخہ 2 نومبر 1988ء کو ہمیں داغِ مفارقت دے گئے، یہ صدمہ ابھی بھولا بھی نہ تھا کہ مورخہ 17 فروری سئہ 1989ء بمطابق 10 رجب المرجب سئہ 1409ھ میں میرے حقیقی چچا جناب حافظ عبدالحئی صاحب ولد مولوی امام الدین صاحب کیلانی بھی بعمر 96 سال قمری بمقام کوٹ چاندی عالم جاودانی کو سدھار گئے ﴿إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾...البقرة" اللہ تعالیٰ آپ کی خطاؤں سے در گزر فرمائے، اعمالِ صالحہ کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند درجات پر فائز فرمائے آمین۔
ابتدائی تعلیم
آپ 13 رجب المرجب 1313ھ بمطابق یکم نومبر سئہ 1895ء کو بمقام حضرت کیلیانوالہ (ضلع گوجرانوالہ) پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار مولوی امام الدین صاحب سے حاصل کی، مولوی امام الدین صاحب (یعنی میرے دادا مرحوم) ایک جید اور معروف عالمِ دین تھے۔ جنہوں نے مدرسہ غزنویہ امرتسر سے اکتسابِ علم کیا تھا۔ علم النحو اور عربی زبان میں آپ کی مہارت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے بخاری شریف پر اعراب آپ ہی نے لگائے تھے۔ عالم دین ہونے کے علاوہ آپ اعلیٰ درجہ کے خوشنویس بھی تھے۔ تیسیر الباری (شرح صحیح بخاری) جو علمائے غزنویہ کے زیر اہتمام تحت السطور ترجمہ اور حواشی کے ساتھ تیس پاروں کی شکل میں شائع ہوئی۔ اس کا متن آپ نے، اور ترجمہ اور حاشیہ آپ کے بھائی محمد الدین نے کتابت کیا تھا۔ اگرچہ آپ اردو عربی ہر دو رسم الخط کے ماہر تھے تاہم زیادہ تر شغف عربی کی کتابت سے ہی تھا