دل و نظر کو عطا کیفِ سرمدی کر دے
شعورِ زیست کو آگاہِ بندگی کر دے
دلوں میں عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی کر دے
کشاکشِ و تگ و دو کی فراہمی کر دے
بساطِ زیست میں پیدا ہما ہمی کر دے
نگاہِ لطف و کرم میں کشادگی کر دے
یہ کشتِ آرزو میری ہری بھری کر دے
اور اس میں رُشد و ہدایت کی روشنی کر دے
بنے ہیں تختہ مشقِ ستم مسلماں کیوں؟
الہیٰ ختم یہ دورِ ستم گری کر دے
فلاح و فوز مسلماں کا مقدر کر
عنایت اس کو زمانے کی سروری کر دے
حصولِ منزلِ مقصود کی ہو دل میں تڑپ
وفورِ لطف و کرم فیض گستری کر دے
ترے ہی ذکر سے ملتی ہے راحت قلبی
الہیٰ دور میرے دل کی تشنگی کر دے
نواز فضلِ حزیں کو تو اپنی رحمت سے
عطا اسے بھی کمالِ سخنوری کر دے