نام و نسب:
آپ کا نام مسلم اور باپ کا نام حجاج ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری النیشا بوری۔ آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے۔
ولادت:
ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سئہ 206ھ بتلایا ہے (تہذیب الاسماء) لیکن ابن حجر وغیرہ نے سئہ 204ھ بتلایا ہے۔ لیکن ان کی صحیح تاریخ پیدائش سئہ 206ھ ہے، کیونکہ متاخرین میں سے ابن اثیر اور مولانا عبدالرحمن مبارک پوری کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
اساتذہ:
آپ نے بچپن سے علم حدیث کی سماعت شروع کی۔ 14 برس کی عمر میں ابتدائے سماع کی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں " أول سماعة ثمانة عشرة ومأتين " انہوں نے حدیث کی پہلی سماعت سئہ 218ھ میں کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعت کے علاوہ دیگر علمی مراکز کو بھی اپنے شرفِ ورود سے نوازا۔ ان کے اساتذہ میں ابوغسان بھی ہیں۔ عراق میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ، حجاز میں سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، قتیبہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اصحاب الحدیث سے استفادہ کیا۔
تلامذہ:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں امام عیسیٰ ترمذی (279ھ) امام ابن خزیمہ (411ھ) اور امام ابوحاتم رازی، موسیٰ بن ہارون، یحییٰ بن صامد وغیرہ جیسے اکابر محدثین شامل ہیں۔
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا علمی ذوق:
امام مسلم کی "صحیح مسلم" ہی کے آپ کے علمی اور فنی کمالات کے لیے ایک دلیل ہے۔ مؤرخین نے آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ سے ایک مجلس مذاکرہ میں حدیث دریافت کی گئی آپ اس وقت نہ پہچان سکے، گھر تشریف لے گئے۔ اپنی کتابوں میں تلاش شروع کر دی۔ کھجور کا ایک ٹوکرہ آپ کے پاس پڑا تھا۔ آپ ساتھ ساتھ کھجوریں کھاتے گئے۔ انہماک کا یہ عالم تھا کہ تمام کھجوریں تناول فرما گئے۔ آخر یہی کھجوریں آپ کی جاں لیوا ثابت ہوئیں۔
وفات:
آپ جو علم و عمل کے پیکر تھے۔ 25 رجب 261ھ کو نیشاپور میں بوقتِ شام 55 برس کی عمر میں فوت ہوئے۔
امام مسلم معاصرین کی نظر میں:
آپ کے اساتذہ اسحٰق بن راہویہ فرماتے ہیں: " أىّ رجل يكون هذا" (ترجمہ: یہ کس بلا کا ذہین انسان ہے) حافظ ابو قریش فرماتے ہیں "   حافظ الدنيا أربعة فذكر منهم مسلما " یعنی دنیا میں چار حافظ ہیں ان میں ایک امام مسلم ہیں باقی تین ابوزرعہ، محمد بن اسماعیل اور الدارمی ہیں۔
تصانیف:
علمی یادگار مندرجہ ذیل کتب ہیں صحیح مسلم، المسند الکبیر، کتاب الاسماء والکنی۔ کتاب العلل، کتاب اوہام المحدثین، کتاب الطبقات، الجامع الکبیر، کتاب المخضرین، مشائخ مالک، الغرض ان کی مجموعی تالیفات چوبیس (24) کے لگ بھگ ہیں۔
اخلاق و عادات:
امام صاحب نہایت پاکیزہ خواص اور انصاف پسند تھے۔ اس زمانے میں اگرچہ عام طور پر مسلمانوں کی اخلاقی حالت نہایت مہذب اور شائستہ تھی تاہم جس طرح اس زمانے کے اہل کمال میں باہم ان بن رہتی ہے۔ اسی طرح اُس زمانے کے مقدس اصحاب بھی اس سے خالی نہ تھے۔ اس بناء پر رجال کی کتابوں میں یہ تصریح کر دی گئی ہے کہ باہم معاصرین کی جرح و قدح قابلِ قبول نہیں کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کی نسبت رشک و حسد سے بہت کچھ بپرا بھلا کہہ دیا کرتے تھے۔ یہ محج معمولی لوگوں کا شیوہ نہ تھا بلکہ یحییٰ بن معین جیسے مقدس اصحاب بھی اس زمرے میں شامل ہیں، مگر امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا دامن ہمیشہ اس قسم کے دھبوں سے پاک رہا۔ انہوں نے نہایت فیاضی سے اس کا عملی ثبوت دیا۔ نیشاپور کے سفر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں ضرور آتے تھے اور اُن سے استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ ان ہی کے تبحرِ علمی سے متاثر ہو کر پکار اُٹھے " دعنى أقبل رجليك يا أمير المؤمنين  فى الحديث" یعنی اے ملکِ حدیث کے بادشاہ! مجھے قدم بوسی کی اجازت دیجئے۔ امام مسلم اس قدر حق پرست تھے کہ اس کے مقابلے میں اپنے اساتذہ کا بھی خیال نہیں کرتے تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذھلی کے درمیان اختلاف کی وجہ سے امام مسلم نے ذھلی کو چھوڑ دیا اور اُن کے تمام نوشتے اونٹوں پر لدوا کر واپس بھجوا دئیے۔ الغرض ان کی حق پسند روش ان کو تعصب، بے جا طرف داری کا مطلق خوگر نہیں ہونے دیتی تھی۔ اسی لیے وہ اسی شاہراہ پر چلتے تھے جس کی طرف ان کا حق پرست دل راہنمائی کرتا تھا۔
صحیح مسلم کا سبب تالیف
امام مسلم فرماتے ہیں میرے بعض شاگردوں نے مجھے متعدد روایات کو بلا تکرار جمع کرنے کو کہا۔ چنانچہ میں نے یہ مجموعہ تیار کیا، جسے میں نے تین لاکھ مسموع روایات سے منتخب کیا۔
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے تفصیلی حالات معلوم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ ضروری ہے۔
کتاب کا نام

مؤلف کا نام اور سن وفات

کل صفحات

اجزاء

تاریخ

اور مقام اشاعت

تاریخِ بغداد

خطیب بغدادی 463ھ

4

13/ ص 100

1349ھ

مصر

طبقاتِ حنابلہ

قاضی محمد بن ابی یعلی 526ھ

2

1/337

1349ھ

مصر

تہذیب الاسماء واللغات

امام نووی 676ھ

2

2/89

1349ھ

مصر

وفیات الاعیان

ابن خلکان 681ھ

2

4/280

1367ھ

مصر

تذکرۃ الحفاظ

حافظ ذھبی 748ھ

2

2/165

1367ھ

حیدرآباد-ہند

البدایۃ والنہایۃ

ابن کثیر 774ھ

2

11/33

1367ھ

مصر

تہذیب التہذیب

ابن حجر عسقلانی 852ھ

2

10/126

1367ھ

حیدرآباد-ہند

التاج المکلل

صدیق حسن خان 1307ھ

2

ص 130

1382ھ

حیدرآباد-ہند


صحیح مسلم اور اس کی مقبولیت:
صحیح مسلم کو جس محنتِ شاقہ کے بعد امام رحمۃ اللہ علیہ نے مرتب کیا تھا اس کا صحیح اندازہ تو صحیح مسلم کے مطالعہ سے ہو جاتا ہے۔ بلکہ خود امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے مجموعے پر بجا طور پر ناز تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں " ولو أهل الحديث يكتبون مائة سنة الحديث فمداوهم على هذهالمسند" (صحیح مسلم مراد ہے) ترجمہ: اہل حدیث دو سو سال تک حدیث لکھتے رہیں تو وہ بھی اس مسند کے محتاج ہوں گے۔
حافظ ابن مندہ  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " سمعت أبا على النيشابورى يقول ما رأيت تحت أديم السمآء أصبح من كتاب مسلم" ترجمہ: میں نے ابوعلی نیشاپوری کی زبانی سنا وہ کہتے تھے کہ روئے زمین پر مسلم سے بڑھ کر کوئی کتاب زیادہ صحیح نہیں۔
اسلام میں اس کے مثل کوئی دوسری کتاب نہیں (مقدمہ شرح مسلم) امام مسلم کی تعریف اور ان کی کتاب صحیح کی شان اتنی عظیم ہے جس کا مکمل تذکرہ کرنا ناممکن ہے۔
صحیح مسلم اور اس کی خصوصیات:
صحیح مسلم کو جو خصوصیات دیگر کتب حدیث سے ممتاز کرتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1۔حسنِ ترتیب: ایک باب کی احادیث کو ایک جگہ جمع کیا ہے۔
2۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے " حدثنا .أخبرنا. حدثنى . و أخبرنى" کے فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔
3۔ ایک ہی مفہوم کی حدیث اگر دو مختلف راویوں سے باختلاف الفاظ ذکر کرتے ہیں تو صرف ایک مسند پر اکتفاء کرتے ہیں اور " أللفظ لفلان" کے الفاظ سے اشارہ کرتے ہیں۔
4۔ اور جب کبھی کسی نام یا کنیت کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی توضیح کبھی " هو فلان " یا " فلانا" سے کرتے ہیں مثلا " حدثنا علد الله بن مسلم . حدثنا سليمان ابن بلال عن يحيى وهو  ابن سعيد " جس سے امام صاحب کی حسنِ صداقت کے ساتھ، حسنِ ذوق اور معرفت نامہ کا ثبوت ملتا ہے۔
5۔ امام مسلم نے مقدمہ میں خود روایت کو تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے۔ 1۔ وہ حدیثیں جو بالکل صحیح ہیں اور ان کی روایت کو عموما متقن، حافظ، ضابط، اور ثقہ تسلیم کیا گیا ہے۔ 2۔ وہ حدیثیں جن کی روایت باعتبار ثقاہت اور حفظ اتقان کے پہلے درجے کی نسبت کم ہے۔ 3۔ وہ حدیثیں جن کی روایت کو عموما یا اکثر محدثین نے مردود قرار دیا ہے اور " متهم بالکذب" وہ ان طبقات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ میں پہلی قسم کی حدیثوں کے بعد دوسری قسم کی احادیث درج کروں گا۔ لیکن مجھے تیسری قسم کی حدیث سے کوئی سروکار نہیں۔
6۔ امام مسلم نے مختلف طرق اور تحویلِ اسانید کو ایجاز کے ساتھ نہایت عمدہ عبارت میں پیش فرمایا ہے۔ جبکہ صحیح بخاری میں تحویلات کم ہیں۔
7۔ الجامع الصحیح لامام مسلم میں تعلیقات کی تعداد صرف چودہ (14) ہے جبکہ صحیح بخاری میں بہت زیادہ تعلیقات ہیں۔
8۔ امام مسلم نے اپنی کتاب کو اپنے شہر میں نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ تصنیف کیا۔ اور اس وقت آپ کے بہت سے مشائخ زندہ تھے۔ اس لئے الفاظ کے سیاق و سباق میں نہایت غوروفکر سے کام لیا۔
9۔ امام مسلم نے صرف احادیثِ مرفوعہ پر اکتفاء کیا اور ان کی جامع میں موقوفات شاذو نادر ہیں جو ضمنا پائی جاتی ہیں۔
10۔ حدیث کے پورے متن کو ایک ہی جگہ بیان کرتے ہیں اور اس کے پورے الفاظ کو نقل کرتے ہیں اور روایت بالمعنی کے بجائے روایت باللفظ کرتے ہیں اور یہ اُن کی غایت احتیاط کی دلیل ہے اور اس کو صحابہ کرام یا بعد کے لوگوں کے اقوال کے ساتھ ضم نہیں کرتے۔
کیا صحیح مسلم جامع ہے؟
فنِ حدیث میں جامع اس کو کہتے ہیں جس میں عقائد، احکام، آداب، تفسیر، تاریخ، فتن اور مناقب کے متعلق احادیث ہوں۔ صحیح مسلم کا تذکرہ کرنے والوں نے اس کو جامع کہا ہے۔ شیخ مجددالدین فیروز آبادی نے اس کو جامع کہا ہے اسی طرح حاجی خلیفہ نے "کشف" میں اور ملا علی قاری نے مرقات میں، نواب صدیق حسن خاں نے "اتحاف النبلاء" میں صحیح مسلم کو جامع کے لفظ سے ذکر کیا ہے۔
عددِ مرویات:
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق تقریبا چار (4000) ہزار مکررات کے ساتھ ہیں۔ محمد فواد عبدالباقی (وفات 1388ھ) کے مطابق مکررات کو چھوڑ کرمجموعی احادیث (3333) ہیں جو صحیح ہیں۔
صحیح مسلم کی شروح:
صحیح مسلم کی شہرت و قبولیت کا اندازہ اس امر سے بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی بکثرت شروح لکھی گئی ہیں۔ بلکہ بعض نے صرف مقدمہ مسلم کی بھی شرح لکھی ہے: شروح کی فہرست درج ذیل ہے:
1۔ " المهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج": امام محی الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ یہ مفصل اور مفید شرح ہے۔
2۔ " كمال المعلم فى شرح مسلم": قاضی عیاض مالکی کی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی شرح کا دراصل ماخذ یہی ہے۔
3۔ " المفهم لما اشكل من تلخيص كتاب مسلم": ابوالعباس احمد بن عمرو القرطبی کی شرح ہے۔ اس میں صحیح مسلم کی تلخیص اور ابواب کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
4۔ شرح مسلم: عماد الدین عبدال،رحمن بن عبدالعلیٰ کی شرح ہے۔
5۔ شرح مسلم: شمس الدین ابولمظفر یوسف ابن مراد  علی سبط ابن الجوزی کی شرح ہے۔
6۔ " الديباج على صحيح مسلم بن الحجاج": علامہ جلال الدین سیوطی کی نہایت عمدہ شرح ہے۔
7۔ شرح مسلم: فارسی میں شیخ عبدالحق کے فرزند نے شرح لکھی۔
8۔ فتح الملھم: مولانا شبیر احمد عثمانی کی ہے۔
9۔ اردو ترجمہ: صحیح مسلم مع نووی رحمۃ اللہ علیہ: علامہ وحید الزمان خان۔
الغرض چالیس (40) کے لگ بھگ مسلم کے شروح یا اس کے متعلق کتابیں موجود ہیں۔
مقدمہ صحیح مسلم:
صحیح مسلم کا سب سے زیادہ قابلِ قدر اس کا مقدمہ ہے اس میں وجہ تالیف کے علاوہ فنِ روایت کے بہت سے اصول اور فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ تفسیر، فقہ، اصولِ فقہ، ادب، نحو، یہ سب مسلمانوں کے مذہبی علوم ہیں۔ اس لیے مسلمانوں نے ان سب میں کمال پیدا کیا۔ تاہم علمِ حدیث چونکہ مذہب کا سب سے زیادہ ضروری عنصر تھا۔ اس لیے یہ مقدس فن ایک مدت تک مسلمانوں کے دل و دماغ کی جولانگاہ بنا  رہا۔ مگر نااہل اور خود غرض لوگوں کی ایک جماعت نے اس فن کا نام و نمود کا ذریعہ قرار دے کر موضوع اور غیر معتبرروایات کا ایک طومار کھڑا کر دیا۔ چنانچہ محدثینِ کرام (جن میں سر فہرست امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں) نے اس سلسلہ میں کافی محنت کی اور غیر معتبر روایات اور موضوع احادیث کو الگ کر دیا۔
حوالہ جات
1۔ ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ (مطبعۃ السعادۃ، مصر، مکتبۃ المعارف، بیروت 1977ء)
الذہبی: تذکرۃ الحفاظ 11/33 (حیدرآباد، دکن، ہند 1333ھ)، 2/150
2۔ نووی: مقدمہ شرح نووی (دارالفکر، بیروت) مقدمہ ج۔
3۔ تذکرۃ الحفاظ۔ 2/150
4۔ تذکرۃ الحفاظ۔ 2/150-151
خطیب بغدادی: تاریخ بغداد (دارالکتاب العربی، بیروت) 13/104
5۔ خطیب بغدادی: تاریخ بغداد، 13/103
6۔ تذکرۃ الحفاظ، 2/151
7۔ شبیر احمد عثمانی: مقدمہ فتح الملہم، شرح صحیح مسلم۔ اور الزرکلی ؒ الاعلام (مصر-1347ھ) 3/ 1036-1037
8۔ البدایۃ والنہایۃ، 11/ 33-43، تاریخ بغدادم 13/102
9۔ تاریخِ بغداد، 13/102-103
10۔ تذکرۃ الحفاظ، 2/151
11۔ نووی: مقدمہ شرح مسلم
12۔ تاریخ بغداد، 13/ 101، تذکرۃ الحفاظ، 2/151
نووی: تہذیب الاسماء (مطبعہ منیریۃ، مصر) 2/ 89-90
13۔ مقدمہ صحیح مسلم
14۔ نموزج من الاعمال الخیریہ، مطبعہ منیریۃ، مصر و مقدمہ تحفۃ الاحوذی۔