زکوٰہ سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مخصوص مقدارِ مال ہے جو اسلامی مملکت، مسلم اغنیاء سے وصول کرتی ہے اور اُسے امتِ مسلمہ کے اہلِ حاجت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تاکہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہوں اور وہ بھی معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی ادب، زکوٰۃ کا یہی مفہوم تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا یہ مفہوم بجائے خود فاضلہ دولت کی شخصی ملکیت کا ثبوت ہے۔ اس لیے بانی طلوعِ اسلام کو اصطلاحِ زکوٰۃ سے یہ مفہوم خارج کرنے کے لیے اور اس کی جگہ نیا مفہوم داخل کرنے کے لیے خاصی کوہ کنی کرنی پڑی ہے۔ نئے دور میں "زکوٰۃ" کا ماڈرن مفہوم اب کمیونزم اور مارکس ازم سے ہم آہنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ پرویز رقم طراز ہیں:
"قرآن کریم کے پیش کردہ[1] معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی "زکوٰۃ" ہے کیونکہ اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہوتا ہے) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 68)
"مملکت میں تمام کا سب افراد، ان کاموں کو جو ان کے سپرد کیے جائین گے اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق پوری تندہی سے انجام دیں گے اس کے ماحصل میں سے بقدر اپنی ضروریات کے لے کر فاضلہ اس نظام کی سنٹرل اتھارٹی (مرکزِ ملت) کی تحویل میں دے دیں گے تاکہ وہ اس سے ان لوگوں کی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کا انتظام بھی کرے جو اپنی ضروریات خود پوری کرنے کے قابل نہ ہوں اس کے علاوہ، وہ مملکت، افرادِ معاشرہ کی مناسب تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کرے جس سے وہ اس قابل ہو جائیں کہ اپنی ذات کی نشوونما کر سکیں، اس اعتبار سے آپ آج کی اصطلاح میں کہہ سکتے ہیں کہ زکوٰۃ اسلامی مملکت کی جملہ آمدنی (Revenue) کو کہا جائے گا اوراسے اس لیے زکوٰۃ کہا جائے گا کہ اس آمدنی کا مقصد، افراد معاشرہ کی نشوونما ہو گا۔" (تفسیر مطالبِ الفرقاج ج2 ص 207)
اس ماڈرن مفہوم کی رو سے اب "زکوٰۃ" وہ مخصوص مقدار مال نہ رہی جو فرمان ایزدی کے مطابق صاحبِ مال، اللہ تعالیٰ کے حق کے طور پر اپنے عفو المال میں سے نکال کر نظمِ اجتماعی کے حوالے کرتا ہے بلکہ اب وہ سارے کا سارا عفو المال "زکوٰۃ" قرار پا گیا۔ جو افراد کی شخصی ملکیت میں رہنے کی بجائے، مملکت کی تحویل میں رہے گا۔ قرآنی "زکوٰۃ" میں یہ مفہوم گھسیڑنے کے لیے عربی لغات کو کھنگالا گیا اور بہت سے صغروں کُبروں کو ملا کر زکوٰۃ کا یہ مفہوم ایجاد کر ڈالا گیا۔
" زکا المال و الزرع یذکرا و أزكى" جانوروں کا اور کھیتی کا پھلنا پُھولنا، بڑھنا، نشوونما پانا۔ " ازكى الله المال و زكاه" خدا نے مال کو نشوونما دی اور بڑھایا۔" زكاء الرجل يزكوا" آدمی آسودہ اور خوشحال ہو گیا۔ اس کی صلاحتیوں میں نموونما آ گئی۔ اس کی زندگی سر سبز و شاداب ہو گئی۔"
لہذا زکوٰۃ کے بنیادی معنی نشوونما پانا، بڑھنا، پھلنا، پھولنا ہیں، راغب نے یہ معنی [2]لکھ کر اس کی مثال میں قرآن مجید کی یہ آیت درج کی ہے:
﴿ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا ... ١٩﴾...الكهف" دیکھو کہ کون سا کھانا حلال اور خوش انجام ہے۔" یعنی جس میں نشوونما دینے کی صلاحیت ہے جو زیادہ (Nutritious) ہے۔" (لغات القرآن ص 808)
لفظ "زکوٰۃ" کے بنیادی معنوں میں جس طرح "افزائش و نشوونما" کا مفہوم پایا جاتا ہے بالکل اسی طرح "طہارت و صلاح" کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے، لیکن چونکہ بانی طلوعِ اسلام کو دوسرا مفہوم قابلِ قبول نہیں تھا۔ اس لیے انہوں نے اُسے پائی ثقاہت سے گرا دینے کے لیے اس مفہوم کی ایسی کمزور بلکہ لا یعنی (اور شاید من گھڑت) توجیہ پیش کی ہے کہ ایک اوسط درجے کا قاری بھی اسے تسلیم نہ کر پائے اور یہی ان کا مطمح نظر تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
"زکوٰۃ کے معنی ہیں نشوونما پانا، بڑھنا، پھلنا پھولنا، بالیدگی۔ اس کے معنیٰ پاکیزگی کے بھی آتے ہیں غالبا اس لیے کہ درختوں کی نشوونما کے لیے ان کی شاخ تراشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ اس کے بنیادی معنی نہیں ہیں۔" (لغات القرآن ص 808)
پرویز صاحب کو نہ معلوم کس طرح کلیجہ تھام کر یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ "زکوٰۃ" کے معنیٰ پاکیزگی کے بھی آتے ہیں۔" لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بے بنیاد دعویٰ بھی کر ڈالا کہ ۔۔ "یہ اُس کے بنیادی معنیٰ نہیں ہیں۔" اور پھر اس کی توجیہ میں ایسی بے کار سخن سازی کی ہے کہ "درختوں کی نشوونما" کے پیش نظر ان کی "شاخ تراشی" کے عمل میں اور "پاکیزگی" میں کوئی معنوی ربط سرے سے پایا ہی نہیں جاتا ہے۔
علاوہ ازیں "زکوٰۃ" کے مفہوم کے تعین میں ایک اور چیز کو بھی بانی طلوعِ اسلام نے یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور وہ یہ کہ مال کھیتی وغیرہ (جن کی مثالیں دے کر انہوں نے "زکوٰۃ" بمعنی "بالیدگی و نشوونما" کو اجاگر کیا ہے) بے جان اشیاء ہیں، کجا یہ کہ وہ یکے از جاندار مخلوق ہونے کے باعث اپا اخلاقی و اعتقادی وجود رکھتی ہوں۔ جب کہ انسان اول و آخر ایک اخلاقی و اعتقادی تشخص کا حامل ہے۔ اس لیے جب زکوٰۃ کے مادہ سے کوئی مشتقہ فعل، مال یا کھیتی کے لیے آئے تو وہاں اس کے معنی یقینا، نشوونما، بالیدگی اور "پھلنا پھولنا" ہی ہوں گے کیونکہ ان چیزوں میں اخلاقی طور پر "خیر و صلاح" اور اعتقادی لحاظ سے "طہارت و پاکیزگی" کا مفہوم ہو ہی نہیں سکتا لیکن جب انسان کے متعلق کہا جائے کہ " زكا الرجل" تو اس کا معنی "صلاح و طہارت" ہی کی نسبت سے کیا جائے گا نہ کہ طبعی نشوونما اور "جسمانی بالیدگی" کی نسبت سے۔ کیونکہ ایک اخلاقی و اعتقادی وجود میں جو "افزائش اور بالیدگی و مو" پایا جائے گا اس کا تعلق بھی اس کی "طہارت و پاکیزگی" اور "صلاح و خیر" ہی سے ہو گا نہ کہ "طبعی افزائش" اور "جسمانی بالیدگی" جو صرف غیراخلاقی اور غیر اعتقادی وجود ہی میں متحقق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتب لغت میں بے جان اشیاء یا غیر انسانی مخلوق کے لئے " زكا يزكوا" کے فعل میں غالب مفہوم افزائش و نمو کا ہوتا ہے نہ کہ طہارت و صلاح کا، جبکہ انسان کے لیے استعمال ہونے کی صورت میں اس فعل کے مفہوم میں طہارت و صلاح کا مفہوم ہی غالب ہو گا نہ کہ "طبعی افزائش" یا جسمانی بالیدگی کا مفہوم۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے پرویز صاحب نے یکسر نظرانداز کر دیا ہے۔
پرویز صاحب کا ایک بے بنیاد دعویٰ
رہا ان کا یہ فرمان کہ ۔۔ "طہارت و پاکیزگی کا معنی زکوٰہ کے بنیادی مفہوم میں شامل نہیں ہے۔" ۔۔ تو یہ ایک قطعی غلط بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "نشوونما اور بالیدگی" اور "صلاح و طہارت" دونوں ہی اس لفظ کے بنیادی مفہوم میں شامل ہیں۔ دیگر لغات کو تو چھوڑئیے جن کتبِ لغات کی مدد سے پرویز صاحب نے لغات القرآن کو مرتب کیا ہے ان میں معجم مقاییس الغۃ بھی شامل ہے۔ اس میں یہ عبارت موجود ہے۔
(زَكَى) الزَّاءُ وَالْكَافُ وَالْحَرْفُ الْمُعْتَلُّ أَصْلٌ يَدُلُّ عَلَى نَمَاءٍ وَزِيَادَةٍ. وَيُقَالُ الطَّهَارَةُ زَكَاةُ الْمَالِ. قَالَ بَعْضُهُمْ: سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِأَنَّهَا مِمَّا يُرْجَى بِهِ زَكَاءُ الْمَالِ، وَهُوَ زِيَادَتُهُ وَنَمَاؤُهُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سُمِّيَتْ زَكَاةً لِأَنَّهَا طَهَارَةٌ. قَالُوا: وَحُجَّةُ ذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا} [التوبة: 103] . وَالْأَصْلُ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ رَاجِعٌ إِلَى هَذَيْنِ الْمَعْنَيَيْنِ، وَهُمَا النَّمَاءُوَالطَّهَارَةُ ۔(معجم مقاييس اللغة لابن فارس ج ص17)
زکوٰۃ۔ زاء، کاف اور حرفِ علت اس کا اصل مادہ ہے جو نماء اور افزائش پر دلالت کرتا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ طہارت بھی زکاۃِ مال ہے، بعض علماء لغت کے نزدیک زکوٰۃ کو زکوٰۃ کا نام اس لیے دیا گیا کہ اس فعل سے "افزائش مال اور نماء زر" کی امید کی جاتی ہے۔ جبکہ دیگر علماء کے نزدیک طہارت و پاکیزگی کے پیشِ نظر اسے زکاۃ کا نام دیا گیا ہے ان کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے کہ﴿ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ... ١٠٣﴾ ... التوبة کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کر دیں اور نیکی کی راہ میں ان کی  نشوونما کرتے رہیں" ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مادے میں "بالیدگی و افزائش" اور "طہارت و صلاح" کے دونوں ہی مفہوم پائے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ابنِ منظور کی لسان العرب کی یہ عبارت بھی ملاحظہ فرمائیے۔ یاد رہے کہ پرویز صاحب نے لغات القرآن کی تدوین و ترتیب میں لسان العرب سے بھی استفادہ کیا ہے۔ علامہ ابن منظور بھی زکوٰۃ کے معانی میں "نشوونما" کے علاوہ "طہارت و صلاح" کا معنی بیان کرتے ہیں۔
الزکاة: الإصلاح ....زكاه  الله وزكا نفسه تزكية: مدح....وزكى الرجل نفسه إضا وصفها و |أثنى عليها"
الزكاة صلاح ہے۔۔۔اور " زكاه  الله وزكا نفسه تزكية " کا معنی ہے کہ اللہ نے اس کی اصلاح کی اور اس نے اپنے نفس کو سنوارا یا اس کی تعریف کی ۔۔۔ " وزكى الرجل نفسه" کا معنی ہے کہ ۔۔ "آدمی نے اپنے آپ کی تعریف کی یا اپنی اصلاح کی۔ (لسان العرب ج14 ص 358)
(وقال تعالٰى: ﴿ خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا ﴿٨١﴾... الكهف أى خيرا منه عملا صالحا وقال الفراء زكوة صلاحا وكذلك قوله عزوجل: ﴿وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَاة... ١٣﴾...مریم قال صلاحا . قال أبو زيد النحوى فى قوله عزوجل: ﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا... ٢١﴾...النور   وقرئ ما زكى منكم . فمن قرأ ما زكا فمعناه ما صلح منكم ومن قرأ ما زكى فمعناه ما أصلح و﴿َلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ﴾ أى يصلح.)
ارشاد خداوندی " خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً "کا معنی ہے کہ "عملِ صالح کے اعتبار سے بہتر" اور فراء نے کہا ہے "زکوٰۃ، صلاح ہے" اسی طرح فرمانِ ایزدی ہے " وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَاة " یعنی "ہماری طرف سے نرم دل اور صاحبِ صلاح۔" ابوزید نحوی نے اس فرمان باری تعالیٰ کے متعلق کہا ہے کہ: " وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ " میں بعض لوگوں نے " ما زكى منكم " پڑھا ہے اور بعض نے " ما زكا منكم" پڑھا ہے، پھر جس نے " ما زکا" پڑھا تو معنی یہ ہوا کہ ۔۔"تم میں سے وہ صاحبِ صلاح نہ ہوا۔ اور جس نے " ما زكى" تو معنی یہ ہوا کہ ۔۔"اس نے اصلاح نہ کی" بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے اس کا تزکیہ کرتا ہے، یعنی اصلاح کرتا ہے۔ (لسان العرب جلد 14 ص 358)
چونکہ عام لوگوں کو الفاظ کی لغوی تحقیق سے کوئی دلچسپی نہیں اس لیے ہم انہی دو کتب کے حوالوں پر اکتفاء کرتے ہیں ورنہ کوئی کتابِ لغت ایسی نہیں ہے جس میں "زکوٰۃ" کے مفہوم میں "نشوونما" کے علاوہ "طہارت و صلاح" کے معنی کو بنیادی معانی میں شامل نہ کیا گیا ہو۔
لفظِ زکوٰۃ اور جدید و قدیم مفاہیم پرویز:

اس کے بعد اب یہ ملاحظہ فرمائیے کہ پرویز صاحب پر جوں جوں اشتراکیت کا رنگ گہرا ہوتا چلا گیا، وہ الفاظ کے قالب میں سے کسی طرح سابقہ مفہوم کو خارج کر کے ان میں نئے خود ساختہ معانی داخل کرتے چلے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، اسی لفظ زکوٰہ اور اس کے قرآنی مشقات کے سابقہ اور جدید مفاہیم پر ایک نظر ڈال لیجئے سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

نمبر شمار

قرآنی الفاظ و آیات

سابق مفہوم مع حوالہ کتاب و سال اشاعتِ کتاب

جدید مفہوم مع حوالہ کتاب و سال اشاعتِ کتاب

1

وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ﴿٤﴾... المؤمنون

"جو زکوٰہ ادا کرنے میں سرگرم ہیں" معارف قرآن جلد 4 ص 455 ، 2 نومبر 1949ء 12 محرم 1369ھ

"وہ اس پروگرام پر عمل پیرا ہو گئے جس میں تمام نوعِ انسانی کو نشوونما کا سامان بہم پہنچتا ہے،" مفہوم القرآن ص 773

2

أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ ...﴿٧٤﴾... الكهف

"آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی، حالانکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی" معارف جلد 3 ص 381 سال: جولائی سئہ 1935ء

"آپ نے کیا کیا ایک پلے پلوسے لڑکے کو یونہی قتل کر دیا۔" مفہوم القرآن جلد دوم ص 675 (سال اشاعتِ درج نہیں جبکہ جلد اول کا سال 1961ء ہے)

3

فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا ...﴿١٩﴾... الكهف

"جا کر دیکھیے کس کے ہاں اچھا کھانا ملتا ہے۔" معارفِ قرآن ج3 ص 591 سال: جولائی سئہ 1935ء

"ایسا کھانا، جو زیادہ (Nutritious) ہے۔۔" لغات القرآن ص 808 سال: اکتوبر سئہ 1960ء

4

لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا ﴿١٩﴾...مریم

کہ "تجھے ایک پاک فرزند دے دوں۔" معارف قرآن جلد 3 ص 491 سال: جولائی سئہ 1935ء

"وہ تجھے عمدہ نشوونما یافتہ بچہ عطا کرے گا۔" مفہوم القرآن جلد دوم ص 689 سال اشاعت درج نہیں۔ جلد اول کا سالِ اشاعت 1961 ہے)

ان مثالوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لفظ زکوٰۃ سے چہارت و پاکیزگی، صلاح و خیر اور توصیف نفسی و ثناء کے ان مفاہیم سے اپنے جدید مفہوم کی خاطر کس طرح گریز کیا گیا ہے جو سابقہ مفاہیم میں مسلم چلے آ رہے تھے۔ نیز یہ بھی کہ ماڈرن مفاہیم میں تجدد پسندی کی اس روش کے باعث کس قدر تکلف کیا گیا ہے اور جو معانی برآمد کئے گئے وہ اپنی اصل سے کس قدر بُعد رکھتے ہیں۔
زکوٰۃ کا اصطلاحی و لغوی مفہوم
علاوہ ازیں، یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ "زکوٰۃ" یا "الزکوٰۃ" قرآن پاک کی ایک مخصوص اصطلاح ہے اس کا یکے از اصطلاحاتِ قرآن ہونا، خود پرویز صاحب کو بھی مسلم تھا۔ انہوں نے ایک مقام پر یہ لکھا کہ:
"قرآن کریم نے ۔۔۔الزکوٰۃ کی جامع اصطلاح استعمال کی ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان جلد 2، ص 202)
اب یہ بات اہل علم تو درکنار معمولی سمجھ بوجھ والا آدمی بھی جانتا ہے کہ الفاظ کے اصطلاحی اور لغوی مفہوم میں بڑا فرق و تفاوت ہوا کرتا ہے۔ جب کوئی لفظ ایک مخصوص اصطلاح کے طور پر مستعمل ہوتا ہے تو اس میں، لغوی مفہوم سے انتہائی بُعد بلکہ مغائرت تک پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بناء پر اس اصطلاح کا مفہوم لغت کی بنیاد پر متعین کرنا قطعی غلط ہے۔ کسی اصطلاح کا مفہوم، اس نظام، نظرئیے، فن یا شخصیت کے حوالے سے متعین کیا جائے گا۔ جس کے ہاتھوں وہ اصطلاح اختیار کی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا خود پرویز صاحب کو بھی اقرار و اعتراف تھا۔ چنانچہ انہوں نے خود ایک مقام پر یہ لکھا کہ:
"جب کوئی لفظ اصطلاح کی شکل میں مستعمل ہونے لگ جائے تو وہ اپنا لغوی مفہوم کھو دیتا ہے، اس کے بعد آپ جب بھی اس لفظ کا استعمال کریں گے وہ اپنے ان تمام مضمرات و لزومات کو اپنے ساتھ لائے گا جن سے وہ نظریہ یا نظام عبارت ہے۔ جس کے لیے وہ اصطلاح وضع کی گئی ہے۔" (طلوعِ اسلام ستمبر سئہ 1973ء ص 44)
اب اس کے بعد بانی طلوعِ اسلام کا طرزِ عمل ملاحظہ فرمائیے کہ وہ "الزکوٰۃ" کو قرآنی اصطلاح بھی مانتے تھے پھر یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ ۔۔۔" جب کوئی لفظ اصطلاح کی شکل میں مستعمل ہونے لگ جائے تو وہ اپنا لغوی مفہوم کھو دیتا ہے۔" پھر وہ اس قرآنی اصطلاح ۔۔زکوٰۃ۔۔ کے مفہوم کے تعین کے لیے کتبِ لغت کھول کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اس ورق گردانی کے نتیجے میں، کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا لے کر وہ نئے معانی کا کنبہ جوڑتے رہتے تھے۔ ہمارے نزدیک یہ ساری کاروائی جس میں قرآنی اصطلاحات کا مفہوم، ازروئے کتبِ لغات متعین کرنے کی کوشش، پرویز صاحب عمر بھر کرتے رہے ہیں، یہ سب کچھ اگر فریب دہی نہیں تو فریب خوردگی ضرور ہے۔
بہرحال، زکوٰہ ایک قرآنی اصطلاح ہے۔ شارع نے نظامِ اسلام سے اُسے وابستہ کرتے ہوئے جو معنی و مفہوم اس میں ودیعت کیا ہے اور معاشیات اسلام سے وابستگی کی بناء پر جو لزومات و مضمرات اس میں سما دئیے ہیں۔ ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کتبِ لگات کی بنیاد پر کھینچ تان کر کے، مارکسزم کی فکری و ذہنی غلامی کے زیراثر، نئے معانی داخل کرنا سخت بے جا حرکت ہے۔  پرویز صاحب کی عمر بھر کی قرآنی کدمت کا ماحصل یہ ہے کہ انہوں نے قرآں کی ایک ایک اصطلاح کو لے کر اشتراکی تہذیب کی فکری اسیری میں مبتلا ہو کر کتبِ لغات کے نام پر، ان میں نئے معانی داخل کئے ہیں۔
زکوٰۃ، لغوی و اصطلاحی مفہوم کا مجمع البحرین:
اگرچہ زکوٰۃ کے لغوی مفہوم میں "بالیدگی نشوونما" اور "طہارت و صلاح" دونوں داخل ہیں، لیکن اصطلاحی طور پر خود شارع نے زکوٰۃ کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ یہ مال و دولت میں سے وہ مخصوص مقدار ہے جو ملتِ اسلامیہ کے صاحبِ ثروت افراد سے وصول کر کے، امت کے مفلس اور ھاجت مند افراد کو لوٹائی جاتی ہے۔ شارع نے مختلف النوع اموال کے لئے جداگانہ نصاب مقرر فرمائے ہیں۔ زکوٰۃ کے عملی پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے خود افراد امت کے ہاں اس کا لغوی مفہوم بھی نظر انداز نہیں ہوتا ہے۔ وہ زکوٰہ اس لیے دیتے ہیں کہ ان کے مال میں بالیدگی و نشوونما اور اُن کے نفوس میں طہارت و صلاح پیدا ہو، ان کے قلب و ذہن، بخل زر پرستی، اور حبِ دنیا جیسی صفاتِ رذیلہ سے پاکیزگی و طہارت پا لیں اور ایثار و قربانی، ہمدردی و غمگساری، فیاضی و سخاوت، رحمدلی اور انسان پرروی کی صفاتِ حسنہ کی ان میں افزائش و نشوونما ہو۔ دوسری طرف، نظامِ زکوٰۃ کی بنیاد پر اہل حاجت اور نادار طبقوں کو جو امداد بصورت مال یا بصورتِ جنس (Help in Cash or Kind) اہل ثروت کی طرف سے ملتی ہے اسے پا کر ان افراد کے قلوب و نفوس مالدار طبقے کے خلاف حسن، کڑھن، جلن اور احساس کمتری جیسی صفاتِ رذیلہ سے پاک ہو جاتے ہیں اور ان کے قلوب و اذہان میں بھی اہل ثروت کے ساتھ خیرخواہی، خیرسگالی اور باہمی احترام و اکرام کے جذبات کو افزائش اور بالیدگی میسر آتی ہے اس طرح مجموعی طور پر پورے معاشرے میں مالی اعتبار سے قوی اور کمزور طبقوں میں باہمی تعاون و اشتراکِ عمل کی فضا پھیلتی پھولتی اور افزائش پذیر ہوتی ہے۔ اس طرح معاشرہ طبقاتی کشمکش کے مفسدات سے دن بدن، نظامِ زکوٰۃ کی بدولت پاک ہوتا رہتا ہے۔ پس جب یہاں حال یہ ہے کہ زکوٰۃ کے اصطلاحی مفہوم پر عمل پیرا ہونے میں لغوی مفہوم بھی اس سے منفک نہیں ہوتا تو آخر اس بات کی کیا ضرورت پڑی ہے کہ زکوٰہ کے لفظ سے اس اصطلاحی مفہوم کو نکال باہر کیا جائے، جو شارع نے خود اس میں داخل کیا ہے اور اشتراکیت کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوتے ہوئے، حکومت کی جملہ آمدنی (Revenue) کا مفہوم خواہ مخواہ اس میں گھسیڑا جائے لیکن ہمارے ہاں کے غلام فطرت مفکرِ قرآن صاحب کی "قرآنی فکر" کی معراج ہی یہ ہے کہ وہ قرآنی اصطلاحات کو اصل معانی سے (جو شارع نے انہیں دے رکھی ہیں) مجرد کر کے، لغت کی کتب کی بنیاد پر مختلف صُغرے اور کُبرے ملا کر ان میں نئے خود ساختہ معانی داخل کئے جائیں۔ پرویز صاحب نے زکوٰۃ کی قرآنی اصطلاح کے ساتھ یہی سلوک کیا اور شارع کے مقرر کردہ مفہوم کو "مروجہ مفہوم" کہتے ہوئے مذاق اُڑاتے رہے۔
زکوٰۃ کا مفہومِ اصلی اور پرویز صاحب:
حالانکہ کل تک وہ خود اسی شرعی اور مصطلحہ مفہوم کو مانتے رہے ہیں۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں خلفائے راشدین نے) جن یہود و نصاریٰ وغیرہ سے صلح کی تو ان کے معاہدات میں جزیہ کے مقاصد کی بھی تصریح فرما دی۔ ان معاہدات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زر جزیہ کے معاوضہ میں ان لوگوں کو یہ حقوق حاصل تھے۔
(1)کوئی شخص ان پر حملہ آور ہو گا تو ان کی مدافعت کی جائے گی اس میں ان کی جان و مال، کاروان تجارت اور دیگر مملوکہ اشیاء سب شامل ہیں۔
(2)ان کو ان کے مذہب سے برگشتہ نہیں کیا جائے گا، ان کے معاہد کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
(3) جو حقوق انہیں اس سے پہلے حاصل تھے وہ زائل نہیں کئے جائیں گے۔
(4) ان سے عشر وصول نہیں کیا جائے گا۔
اب دیکھئے، اس ٹیکس کی مقدار کیا تھی؟ اس کی عام شرح تین 03) روپے اور چھ (6) روپے سالانہ تھی اور زیادہ سے زیادہ بیس (20) روپے اور پھر اُس سے بیس (20) برس سے کم اور پچاس (50) برس سے زیادہ عمر والے مرد، نیز تمام عورتیں، مفلوج، معطل العضو، نابینا، مفلس اور تمام لوگ جو فوجی خدمت از خود قبول کر لیں، مستثنیٰ تھے۔ اس کے برعک اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھئے کہ مسلمانوں کو جبری فوجی ملازمت کے علاوہ، زکوٰہ بھی دینی پڑتی تھی۔ یعنی اگر کسی مسلمان کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہو تو اپسے 0اس وقت کی شرھ کے مطابق) کم از کم اڑھائی ہزار روپیہ زکوٰۃ کا دینا پڑا۔ ساتھ ہی فوجی ملازمت بھی اگر وہ غیر مسلم ہے تو اُسے صرف بیس (20) روپے ادا کرنے پڑے اور اس کی حفاطت کی تمام تر ذمہ داری دوسروں کے سر ہو گئی۔"( معارف القرآن ج4 ص 568)
مصارفِ زکوٰۃ:
کل تک پرویز صاحب زکوٰہ کے اسی مصطلحہ مفہوم کو مانتے رہے ہیں جو چودہ (14) صدیوں میں ملتِ اسلامیہ میں ایک متفق علیہ مفہوم کی حیثیت سے مسلم چلا آ رہا ہے۔ مگر آج اشتراکیت کا اسیر زلف ہونے کی بناء پر انہوں نے اس مفہوم کی مخالفت کی، چنانچہ زکوٰۃ کے مصارف پر مشتمل آیات کے متعلق لکھا کہ:
"آج کل ہمارے ہاں ان مدات کو "زکوٰۃ" کی مدات سمجھا جاتا ہے جو صحیح نہیں، قرآن کریم کے پیش کردہ [3]معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی زکوٰۃ ہے، اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہیں) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے قرآن کریم میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 208)
ایک اور مقام پر اسی آیت کے متعلق لکھتے ہیں:
"یہ صدقات کے مصارف ہیں جنہیں ہمارے ہاں غلطی سے زکوٰۃ کے مصارف سمجھ لیا گیا ہے۔" (نظامِ ربوبیت ص 284)
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم میں صدقات کا لفظ، دو معانی میں استعمال ہوا ہے۔ اولا عام خیرات کے لیے اور ثانیا زکوٰۃ کے لیے۔ لیکن جناب پرویز صاحب نے آج لفظ "صدقات" کے مفہوم کو بھی بالکل بدل کر رکھ دیا ہے ہے۔
آیت نمبر 60/9 اور پرویز:
آج "صدقات" سے کیا مراد ہے؟ پرویز صاحب سے ملاحظہ فرمائیے:
"بعض اوقات، ہنگامی حالات ایسے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جن کے لیے بجٹ میں گنجائش نہیں ہوتی، مثلا سیلاب، زلزلہ، جنگ وغیرہ اُن کے لیے ملت سے خاص عطیات کی اپیل کرنی پڑتی ہے۔ انہیں قرآن کریم نے صدقات سے تعبیر کیا ہے۔ سورہ توبہ کی آیت (60) میں جن مصارف کا ذکر ہے وہ صدقات کے مصارف ہیں، زکوٰۃ کے نہیں۔" (نظامِ ربوبیت ص 418)
"ہنگامی حالات کے لئے عطیات کو صدقات کہا جاتا ہے۔" (نظامِ ربوبیت ص 418)
صدقات سے مراد "ہنگامی حالات کے عطیات" ہیں یا زکوٰۃ؟ نیز سورۃ توبہ کی آیت (60) میں جو فہرست مذکور ہے وہ مستحقین زکوٰہ کی فہرست ہے یا ہنگامی عطیات کے حقداروں کی؟ اس کے حتمی فیصلہ کے لئے ہم بوجوہ تاریخِ الاُمت کا اقتباس پیش کر رہے ہیں۔
آیت 60/9 اور اسلم جیراج پوری
اولا، اس لیے کہ اس کتاب کے مصنف "اسلم جیراجپوری" کو بانی طلوعِ اسلام نے جا بجا اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔
ثانیا: اس لیے کہ اس کتاب کو ادارہ طلوعِ اسلام نے شائع کیا ہے۔
ثالثا: اس لیے کہ اس کتاب کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصنف نے کتاب میں ۔۔۔" جو تحقیقی بات تھی، وہی ثبت کر دی۔۔۔" ص 12 :، لہذا اس کتاب کا اقتباس وابستگانِ طلوعِ اسلام کے لیے اتمامِ حجت کا درجہ رکھتا ہے۔ اب اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔ اسلم جیراجپوری صاحب آیت (60/9) کے متعلق لکھتے ہیں:
"زکوٰۃ کے آٹھ مصارف میں سے ایک مصرف خاص اس کے لیے مقرر فرمایا یعنی زکوٰۃ کی آمدنی میں سے مال کا ایک حصہ اس غرض کے لیے مخصوص کرایا جائے کہ اس سے غلام آزاد کرائے جائیں۔" (ص 205)
زکوۃ مدینہ میں فرض ہوئی اس کے مصارف سورہ توبہ میں بیان کر دئیے گئے۔ (ص 206)
اب یہ ظاہر ہے کہ سورہ توبہ کی جس آیت (60) میں مصارفِ زکوٰۃ کا حوالہ اسلم جیراجپوری نے دیا ہے وہ وہی آیت ہے جس کے متعلق پرویز صاحب نے کطھ مدت پیش از مرگ یہ واویلا مچانا شروع کر دیا تھا کہ ۔۔ "یہ صدقات کے مصارف ہیں جنہیں ہمارے ہاں غلطی سے زکوٰۃ کے مصارف سمجھ لیا گیا ہے" ۔۔(نظامِ ربوبیت ص 286) حالانکہ اس واویلا سے قبل، وہ ایک مدت تک، آیت (60) میں مذکور مصارف کو زکوٰۃ ہی کے مصارف قرار دیتے رہے ہیں۔ "صدقات" کا لفظ زکوٰۃ کے معنوں میں آیت (58/9) میں آیا ہے۔ پرویز صاحب نے اس کا ترجمہ بایں الفاظ پیش کیا ہے۔۔ وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ ...﴿٥٨﴾... التوبة  اور ان میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ مالِ زکوٰۃ بانٹنے میں تجھ پر عیب لگاتے ہیں۔" (معارف القرآن ج4 ص 585)
اب آئیے آیت (60/9) کی طرف جس کے متعلق پرویز صاحب یہ کہتے ہیں کہ ان میں مذکور مصارف صدقات کے مصارف ہیں نہ کہ زکوٰۃ کے۔
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٦٠﴾ ...التوبة
  یہ اموالِ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو زکوٰۃ کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو، نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرضداروں کی مدد کرنے میں اور راہِ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال ہونے کی خاطر ہیں۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ صاحبِ علم و حکمت ہے۔
یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اگر اس آیت میں صدقات سے مراد، ہگامی حالت کے عطیات ہوتے تو ہنگامی حالات کے باعث افرادِ معاشرہ کا فقر و مسکنت میں مبتلا ہو جانا تو سمجھ میں آجاتا ہے مگر لوگوں کی گردنوں کا غلامی میں پھنس جانا اور ان پر حالتِ سفر کا طاری ہو جانا (جس میں یہ عطیات انہیں دئیے جائیں گے) بالکل ناقابلِ فہم ہے۔ کیا لوگ عہدِ نبوی میں ہنگامی حالات ہی میں غلامی کا وجود تھا؟ عام حالات میں غلامی رواج پذیر نہ تھی؟ کہ ان کی گردنوں کو بندِ غلامی سے چھڑانے کے لیے ہنگامی چندون کی ضرورت ہوتی؟ حقیقت یہ ہے کہ صدقات کا یہ مفہوم (کہ وہ ہنگامی چندوں اور عطیات کا نام ہے۔ قطعی خود ساختہ مفہوم ہے جسے طلوعِ اسلام کی لغت ساز ٹکسال میں ڈھالا گیا ہے۔ آیت (60/9) میں "صدقات" کا لفظ مال زکوٰۃ ہی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انہی صدقات کو اسی آیت میں "  فَرِيضَةً مِّنَ اللہ" کہا گیا ہے اور یہ خدائی فریضہ بہرحال زکوٰۃ ہی ہے۔ زکوٰۃ سے مراد "ضرورت سے زائد" پوری دولتِ مکسوبہ نہیں ہے جو بقول پرویز صاحب، ریاست کی تحویل میں چلی جاتی ہے بلکہ یہ وہ مال کی مقدار ہے جس کی ادائیگی کے بعد بھی فردِ کاسِب کے پاس مال و دولت بچ رہتی ہے۔ جس میں سے وہ (زکوٰۃ کے علاوہ بھی) فراخدلی سے خرچ کرتا رہتا ہے۔ درج ذیل آیات اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں۔
زکوٰہ کے بعد بھی حکمِ انفاق:
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ... ٢٠﴾... المزمل
نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن بھی پیش کرتے رہو۔
اس آیت سے دو باتیں بالکل واضح ہیں:
اولا یہ کہ زکوٰۃ سے مراد پوری دولت نہیں ہے جو بقول پرویز صاحب کاسِب افراد کے ہاتھوں سے نکل کر مملکت کی تحویل میں چلی جاتی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو انسان کے پاس رے سے کوئی فاضل مال باقی ہی نہ بچتا، کجا یہ کہ وہ قرضِ حسن بھی پیش کر ڈالتا۔ زکوٰۃ کے علاوہ یہاں قرضِ حسن کا مطالبہ اس امر کو مستلزم ہے کہ قرآن کے نزدیک فردِ کاسِب اپنے اموالِ مکسوبہ میں سے صرف اتنے ہی کا حقدار نہیں ہے جو اس کی ضروریات کی کفایت کر سکے بلکہ وہ اپنے پورے ماحصل کا مالک ہے اور مالک ہی کی حیثیت سے پھر وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتا ہے۔
ثانیا: یہ کہ زکوٰۃ ایک ایسی مخصوص مقدارِ مال کا نام ہے جو عفوالمال میں سے نکالی جاتی ہے۔ اور اس مقدار کے نکل جانے کے بعد بھی اس کی ملکیت میں اس قدر عفوالمال بچ رہتا ہے کہ قرآن کریم اس میں سے اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسن پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے ترجمے میں، اس حقیقت کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ واضح کر دیا ہے:
"اور نماز کے نظام کو قائم رکھو، زکوٰۃ دو، نیز (زکوٰۃ کے علاوہ بھی) اللہ (کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے اگر ضرورت پڑے تو مرکز) کو قرضِ حسنہ بھی دیا کرو۔" (معارف القرآن ج4 ص 333)
زکوٰۃ کے علاوہ بھی قرآنی حِکم انفاق:
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیات بھی اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔
﴿لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ ... ١٧٧﴾...البقرة
نیکی یہ نہیں کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی یہ ہے آدمی اللہ کو، یوم آخر اور ملائکہ کو، اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال، رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں اور مسافروں پر سوال کرنے والوں اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے۔۔۔
سورہ مائدہ میں یہ الفاظ بھی اسی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں:
لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ...﴿١٢﴾...المائدة
اگر تم نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
ان آیات میں زکوٰہ کے علاوہ بھی اہلِ حاجت پر مال خرچ کرنے یا اللہ تعالیٰ کو قرضِ حسنہ دینے کا ذکر ہے۔ اگر فی الواقعہ زکوٰۃ سے مراد، وہ سارے کا سارا عفو المال ہوتا جو افراد کی ذاتی ملکیت سے نکل کر ریاست کی تحویل میں چلا جاتا تو اس کے بعد اہل حاجت پر صرف کرنے یا اللہ کو قرضِ حسن دینے کا حکم عبث قرار پاتا۔ حکمِ زکوٰہ کے بعد بھی انفاق کے یہ مطالبے اس امر کو شک و شبہ سے بالاتر کر دیتے ہیں کہ زکوٰۃ کا وہ مفہوم قطعی غلط ہے جو پرویز صاحب نے بیان کیا ہے۔
الغرض، آیت (60/9) میں صدقات سے مراد "زکوٰۃ" ہی ہے جس کا ذکر (58/9) میں بھی کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پرویز صاحب کے حوالے (معارف القرآن ج4 ص 585) سے گزر چکا ہے۔
مصطلحہ زکوٰۃ پر پرویزی اعتراضات کا جائزہ:
مناسب معلوم ہوتا ہے "مفکرِ قرآن' صاحب نے زکوٰۃ کے اس مصطلھہ مفہوم پر (جو دورِ نزولِ قرآن سے لے کر آج تک متفق علیہ اور مجمع علیہ مفہوم کے طور پر متواتر اور معروف رہا ہے) جو اعتراضات کئے ہیں، ان کا بھی جائزہ لے لیا جائے، ان اعتراضات کا خلاصہ (جن کی تفصیل تفسیر مطالب الفرقان جلد 2 ص 208 پر دی گئی ہے)
حسب ذیل ہے:
1۔ قرآن جمع مال ہی کے خلاف ہے کجا یہ کہ اس پر ایک سال گزر جائے اور پھر اس پر مصطلحہ زکوٰۃ واجب ہو۔
2۔ قرآن میں وصولی و جمع زکوٰۃ کا سرے سے کوئی حکم ہی نہیں ہے، اس میں صرف اِیتاءِ زکوٰۃ کا حکم ہے۔ لہذا یہ مروجہ وصولی و جمع کے خلاف ہے۔
3۔ " قُلِ الْعَفْوَ" انتہائی مرحلہ ہے جس پر پہنچ کر جمعِ مال اور پھر اس پر "زکوٰۃ" ممکن ہی نہیں ہے۔
اب ہم ان اعتراضات کا قرآن کریم کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں:
جائزہ اعتراض اول:
ہاں! یہ درست ہے کہ قرآن، جمع مال کے خلاف ہے۔ جبکہ مال و دولت میں سے شرعی حقوق و واجبات ادا نہ کئے جاتے ہوں۔ اگر شرعی حقوق کی ادائیگی جاری رہے اور مال و دولت بھی شریعت کی حدود میں رہ کر کمایا جائے اور اُسے نیکی کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے بخل سے کام بھی نہ لیا جائے تو اس کے باوجود جو مال، اس کے پاس جمع ہو گا وہ اکتناز زر کی وعید میں نہیں آتا۔ اِکتنازِ زر کی وعید صرف اس صورت میں ہے جبکہ جمع مال کے ساتھ " لا ينفقونها فى سبيل الله" کا طرزِ عمل بھی موجود ہو۔ پرویز صاحب نے مطلق جمع مال کو اس وعید کا مصداق قرار دے کر جمع مال کی مذمت کی ہے۔ حالانکہ یہ بات ہی سرے سے غلط ہے، جمع مال کی مذمت میں پرویز صاحب نے الفاظ قرآنی ۔۔۔ " وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ" (18/70) اور "  الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ ﴿٢﴾" (2/104) سے بھی استدلال کیا ہے۔ حالانکہ یہ آیات ان لوگوں کی مذمت میں ہیں جو کافر ہیں اور سرے سے اپنے اموال میں خدا کے کسی حق کو مانتے ہی نہیں ہیں کجا یہ کہ وہ عملا اس کا حق ادا کریں۔ لہذا یہ منکرینِ خدا و آخرت مال کی محبت میں ایسے مبتلا ہیں کہ انہیں اپنے رزق میں رازق کے حقوق کی مطلق پرواہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ واقعی مذمت کے مستحق ہیں خواہ وہ کھلے کافر ہوں یا منافق یا نام نہاد مسلمان ہوں۔ ایک سچے اور کھرے مسلمان کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ اپنی مکسوبہ دولت میں سے خدا کے راستے میں دل کھول کر خرچ کرے، فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے بعد بھی، اگر کچھ رقم اس کے پاس جمع رہ جائے تو اسلام اس دولت کو اللہ کا فضل قرار دیتا ہے۔ قرآن مطلق جمع مال کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ وہ صرف اس صورت میں اس کے خلاف ہے جبکہ خدا اور آخرت کے تقاضوں سے گریز کرتے ہوئے مال جمع کیا جائے ایک مقام پر اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ:
﴿قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ﴿٥٨﴾...یونس
اے نبی! یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہئے یہ ان سب سے بہتر ہے جو لوگ جمع کر رہے ہیں۔
یہاں نہ تو " ما يَجْمَعُونَ " کو بُرا بھلا کہا گیا ہے اور نہ ہی جمع کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے بلکہ نعمتِ قرآن پر انہیں خوشی منانے کی دعوت دی گئی ہے اس  ہدایت کے ساتھ  کہ قرآنی تعلیمات کے مقابلے میں اپنے دنیاوی مال کو بہتر نہ جانا چائے کہ حقیر دولت کی خاطر کتاب اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا جائے، لیکن اگر کوئی شخص کتاب اللہ پر عمل پیرا رہتے ہوئے، مال و دولت کو حاصل کرتا ہے تو یہ کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں ہے جس کے پاس بھی نہ پھٹکا جائے بلکہ یہ ﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ... ٥٤﴾... المائدة  کی رو سے فضلِ ربانی ہے اور یہ شجرِ ممنوعہ ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ:
1۔ قرآن پاک، اپنی ضروریات پوری کر لینے کے بعد بچ جانے والے مال میں سے ادائے زکوٰۃ اور قرضِ حسنہ کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے جو اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ لوگوں کے پاس عفو المال موجود ہو۔
2، قرآن مجید، مال و دولت کو بھی خیر کے نام سے موسوم کرتا ہےمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ ...﴿٢٧٣﴾...البقرة   ﴿وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ﴿٨﴾... العاديات ان تعلیمات کو وہ بھی خیر ہی کہتا ہے جو منزل من اللہ ہوں۔ ﴿وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا خَيْرًا ...﴿٣٠﴾...النحل  جب قرآن کریم دونوں کو (مال و دولت کو بھی اور وحی کی تعلیمات کو بھی) خیر ہی کہتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے حصول کو مذموم و ممنوع قرار دے، البتہ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ دنیوی خیر کو دینی خیر کے تابع رکھ کر حاصل کیا جائے اور جب ایسا کیا جائے تو جو خیر بھی ازقبیلِ دنیا حاصل ہو گی وہ نہ تو عنداللہ معیوب و مبغوض ہو گی اور نہ ہی اس کے حاصل کرنے والوں کو ان وعیدوں کا مستحق گردانا جائے گا جن کو پرویز صاحب، عمر بھر، جا و بے جا، بے سوچے سمجھے چسپاں کر دینے کے عادی رہے ہیں۔
جائزہ اعتراضِ ثانی:
پرویز صاحب کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ قرآن میں جمعِ زکوٰہ کا سرے سے کوئی حکم ہی نہیں ہے۔ لہذا جس زکوٰہ کے جمع اور وصول کرنے پر زورو دیا جاتا ہے وہ قرآن سے ثابت نہیں ہے۔
پرویز صاحب اشتراکیت پر ایمان لا کر، اُسے مشرف بالاسلام کرنے کے لیے قرآن کریم کے ایک ایک لفظ سے اور ایک ایک اصطلاح سے زور آزمائی کیا کرتے تھے اور زندگی بھر ان قرآنی مصطلحات کے ظروف میں نئے معانی و مفاہیم کی شراب بھرا کرتے تھے، پھر ان خود ساختہ مفاہیم و مطالب کو معیار اور سند قرار دے کر وہ ہر اس چیز کے انکار پر تل جایا کرتے تھے جو اُن کے تصورات کے خلاف ہوں۔ قرآنی اصطلاح زکوٰۃ اور صدقات کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کھیل کھیلا اور ان کے اصل معروف و متداول معانی سے انکار کر کے انہیں اپنی طرف سے نئے معانی دئیے اور پھر دھڑلے سے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ:
"ہمارے ہاں مصدقات کے انہی مصارف کو زکوٰۃ کے مصارف کہا جاتا ہے اور کوئی نہیں پوچھتا کہ قرآن نے یہ مصارف، صدقات کے بتائے ہیں، انہیں زکوٰہ کے مصارف کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 29)
حالانکہ انہی صدقات کا ذکر سورہ توبہ کی آیت (58) میں بھی ہے۔ جس کا ترجمہ خود پرویز صاحب نے یہ کیا ہے:
﴿وَمِنْهُم مَّن يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ ... ٥٨﴾ ... التوبة  ان میں سے کچھ ایسے ہیں کہ مالِ زکوٰۃ بانٹنے میں تجھ پر عیب لگاتے ہیں (کہ تو لوگوں کی رعایت کرتا ہے) پھر حالت ان کی یہ ہے کہ اگر انہیں ان میں سے دیا جائے تو خوش ہو جائیں، نہ دیا جائے تو بس اچانک بگڑ بیٹھیں۔" (معارف القرآن ج4 ص 585)
اس آیت میں پرویز صاحب نے "صدقات" سے مراد "مالِ زکوٰۃ" لیا ہے، اور انہی صدقات کی تقسیم کا ذکر آیت (60/9) میں ہے خود پرویز صاحب رقم طراز ہیں کہ سابقہ آیات میں منافقین نے انہی صدقات کی تقسیم کے سلسلہ میں حضور کے خلاف الزام تراشی کی تھی، زیرِ نظر آیات میں انہی صدقات کے مصارف کا ذکر ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6، ص 209)
یہی وہ "صدقات" (اموالِ زکوٰۃ) ہیں جن کی وصولی و جمع کا حکم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دیا گیا ہے۔
﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ... ١٠٣﴾...التوبة
 لوگوں کے مالوں میں سے (اے نبی) تم صدقات (اموالِ زکوٰۃ) وصول کیا کرو
اس وصولی و جمع کے بعد ہی وہ مرحلہ آتا ہے جس میں اسلامی حکومت کا فریضہ "ایتاء زکوٰۃ" (41/22) بتایا گیا ہے نادار لوگوں کو زکوٰہ دینے سے قبل، بہرحال خوشحال اور صاحبِ ثروت افراد سے اس کی وصولی و جمع کا مرحلہ مقدم اور ناگزیر ہے، جب زکوٰہ جمع ہو جاتی ہے تو پھر بیت المال سے مستحقین کو عطا کی جاتی ہے، اس پر یہ کہنا کہ قرآن مین سرے سے وصولی و جمعِ زکوٰۃ کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں پایا جاتا ہے، ایک بے جا بات ہے۔ اپنے ہی خیالات میں مگن رہنے والوں کو کوئی چیز بھی اپنے مطلب کے خلاف قرآن میں نہیں ملا کرتی۔
اس آیت (103/9) کے تحت پرویز صاحب فرماتے ہیں کہ:
"یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب ہنوز قرآنی نظام اپنی مکمل شکل میں قائم نہیں ہوا تھا، اس نظام میں ہر شکص اپنی آمدنی میں سے، اپنی ضروریات کے بقدر لے کر باقی سب مملکت کی خدمت میں پیش کر دیتا ہے کہ وہ اس سے حاجت مندوں کی جروریات پوری کرے" (219/2) (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 234)
جائزہ اعتراض ثالث:
پرویز صاحب کا یہ جملہ، بڑے تکرار کے ساتھ، اکثر و بیشتر مقامات پر آپ کو ملے گا۔۔۔" یہ اس زمانے کا ذکر ہے۔ جبکہ قرآنی نظام، ابھی نافذ نہیں ہوا تھا"۔۔لیکن کسی مقام پر انہوں نے بھولے سے بھی یہ نہیں بتایا کہ "قرآنی نظام" کا مکمل نفاذ کس سال میں ہوا تھا کیونکہ وہ جس سال کو بھی "قرآنی نظام" کے مکمل نفاذ کا سال قرار دیں گے اس کے بعد تک بلکہ خلافت راشدہ تک کے دور میں ذاتی ملکیت کا اصول برقرار رہا ہے کہیں بھی وہ دور نہیں آیا جس میں زائد از ضرورت مال، لوگوں نے ریاست کے حوالے کر دیا ہو اور ریاست نے اُسے اپنی تحویل میں لے لیا ہو۔ اب یہاں دیکھئے کہ ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً ... ١٠٣﴾...التوبةکا حکم، غزوہ تبوک (رجب سئہ 9ھ، مطابق نومبر سئہ 635ء معارف القرآن ج4 ص 580 اور معراج انسانیت ص؟) کے بعد نازل ہوا اور پرویز صاحب آخر عمر تک یہی رٹ لگاتے رہے کہ ۔۔"ہنوز قرآنی نظام، اپنی مکمل شکل میں قائم نہیں ہوا تھا"۔۔ حالانکہ بقول پرویز صاحب "قرآنی نظام" کے تحت، ہر شخص اپنی آمدنی میں سے بقدر ضرورت لے کر باقی سب کچھ جس حکم کے تحت، مملکت کی تحویل میں دینے پر مامور تھا وہ سورہ بقرہ (219/2) میں موجود ہے اور سئہ 2ھ میں نازل ہوا تھا۔ اب جب کہ 2 ہجری میں نازل ہونے والے حکم کے بعد بھی سئہ 9ھ تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا تو نہ معلوم پھر وہ "قرآنی نظام" نافذ کب ہوا تھا جس کا یہ لوگ ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔ جب خلفاء راشدین تک کے دور میں مال و دولت اور زمین کی شخصی ملکیت کا وجود ثابت و برقرار رہا ہے، (جیسا کہ اس سے قبل پرویز صاحب کی کتب کے حوالوں سے گزر چکا ہے) تو پھر نہ معلوم وہ انتہائی مرحلہ کس سن و سال میں آیا ہے جب لوگوں کے پاس زائد از ضرورت کوئی مال و دولت نہیں رہی؟ کاش پرویز صاحب یہ وضاحت بھی کر ڈالتے کہ ان کے "قرآنی نظام" کے نفاذ کے تین مراحل، کن سن و سال میں طے پائے تھے تاکہ ہم خود بھی قرآن کی روشنی میں ان کا جائزہ لے سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ " قُلِ الْعَفْوَ" کا وہ انتہائی مرحلہ (جسے مارکسزم سے ماخوذ نام نہاد نظامِ ربوبیت کی آخری منزل کے طور پر پرویز صاحب نے پیش کیا تھا) عہدِ نبوی یا خلافتِ راشدہ میں آیا ہی نہیں، یہ صرف "مفکرِ قرآن" کی اپنی فکری اُپج ہے جو اُن کے اپنے ذہن کے سوا عالمِ واقعہ میں کہیں اپنا وجود نہیں رکھتی۔

[1] یہ قرآن پاک کا پیش کردہ معاشی نظام نہیں بلکہ قرآن کی طرف منسوب کردہ ان کا اپنا طبع زاد نظام ہے جو کمیونزم اور مارکسزم میں سے ماخوذ ہے۔
[2] اس کے ساتھ متصل راغب نے یہ بھی لکھا ہے " ومنه الزكوة لما يخرج الإنسان من حق الله تعالى إلى الفقراء و تسمية بذلك لما يكون فيها من رجآء البركة وتزكيه النفس " اوراسی سے زکوٰۃ ہے جو انسان اپنے مال سے بطورِ حق اللہ نکالتا ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس سے یا تو مال میں برکت ہوتی ہے یا نفسِ انسانی میں طہارت پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔" یہ عبارت چونکہ پرویز صاحب کے لیے مفید مطلب نہ تھی اس لیے اسے نظرانداز کر دیا کیونکہ انہیں زندگی بھر مفید مطلب (نہ کہ مفید حق و صدق) اشیاء ہی کی تلاش و جستجو رہی، جہاں انہیں رائی کے برابر بھی ایسی کوئی چیز مل گئی اسے پہاڑ بنا کر پیش کر دیا۔ تاہم جہاں انہیں ایسی کوئی چیز نہ ملتی تھی تو وہ گھبرایا نہیں کرتے تھے بلکہ رائی کے بغیر ہی پہاڑ بنا ڈالا کرتے تھے لیکن جہاں کوئی چیز پہاڑ کے برابر خلافِ مطلب نظر آئی وہاں "حیاء" سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ یہ تھا پرویز صاحب کا "قرآنی تحقیق" کا انداز، جس پر وہ عمر بھر قائم رہے۔
[3] یہ بات پھر ذہن نشین کر لیجئے کہ جسے پرویز صاحب "قرآن کا پیش کردہ معاشی نظام" کہتے ہیں وہ فی الواقعہ قرآن کی طرف منسوب کردہ ان کا اپنا معاشی نظام ہے جسے انہوں نے مارکسزم کے طابق النعل بالنعل تقلید سے اخذ کیا ہے۔