ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، مِزْمَارًا قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:282] فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ  ما صنعت فال نافع وكنت إذ ذاك صغيرا»(احمد . أبوداؤد)
"حضرت نافع کا بیان ہے کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ راستہ میں تھا کہ بانسری کی آواز سنائی دی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور راستے سے دوسری جانب ہو لئے۔ دُور جانے کے بعد مجھ سے فرمایا: نافع کیا آواز آ رہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں یا حضرت، تو آپ نے کانوں سے انگلیاں نکال لیں اور فرمایا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہے کی بانسری کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا نافع فرماتے ہیں: "اس وقت میں چھوٹا سا تھا۔"
  • مارچ
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
استاد محترم! جناب مولانا سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب حفظہ اللہ! السلام علیکم
ماہنامہ "محدث" کی جلد 17 شمارہ 8 میں آپ کا ایک مضمون بعنوان "مسنون نمازِ جنازہ" شائع ہوا۔
اس میں آپ نے نمازِ جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے ثبوت میں صحیح بخاری کے حوالہ سے یہ روایت لکھی ہے:
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ قَالَ: «لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ»
مگر اس روایت سے آپ کا استدلال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ احمد یار گجراتی نے اپنی تصنیف "جاء الحق' کی دوسری جلد کے صفحہ 242 پر یہی روایت ذکر کر کے مندرجہ ذیل اعتراضات کئے ہیں:
1۔ اس روایت میں یہ نہیں آیا کہ جناب ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ کے اندر سورہ فاتحہ پڑھی۔
بلکہ ظاہر یہ ہے کہ نماز کے بعد میت کو ایصالِ ثواب کے لئے پڑھی ہو۔ جیسا کہ " فَقَرَأَ " کی "ف" سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ "ف" تعقیب کی ہے۔
  • مارچ
1989
غازی عزیر
(ماہنامہ محدث کے دو (2) قریب شماروں[1] میں راقم الحروف کا ایک مضمون زیرعنوان "حدیث، " أطلبوا العلم ولو بالصین" بالاقساط شائع ہوا تھا۔ مضمون ہذا پر عصرِ حاضر کے ایک فاضل محقق محترم جناب ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب (پیرس) حفظہ اللہ نے حدیث، " أطلبوا العلم ولو بالصین" (کے اسانید) کی تحقیق" کے عنوان کے تحت تعاقب فرمایا ہے جو ماہنامہ "محدث" لاہور کے تازہ شمارہ [2]میں شائع ہوا ہے۔ ذیل میں آں محترم کے اس تعاقب کے بعض پہلو کو، جو قابل جواب یا وضاحت طلب محسوس ہوئے ہیں انہیں ترتیب دے کر پیش کر رہا ہوں)
اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فاضل تعاقب نگار محترمی ڈاکٹر صاحب نے تعاقب کا عنوان اس طرح مقرر فرمایا ہے: "حدیث " أطلبوا العلم ولو بالصین"  (کے اسانید) کی تحقیق" مگر پورے تعاقب کو پڑھ کر راقم کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ پورے تعاقب میں حدیث مذکورہ کی اسانید کی تحقیق تو کجا سرے سے کہیں ان کا تذکرہ تک موجود نہیں ہے اور نہ ہی آں محترم نے راقم الحروف کے سابقہ مضمون کی کسی عبارت یا روایت پر کوئی نقد و جرح یا بحث کی ہے۔ البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آں محترم نے اپنے تعاقب کی پوری عمارت چند شبہات احتمالات اور مفروضوں کی بنیاد پر کھڑی کی ہے اور انہیں اسانید کی تحقیق سے ممنون کیا ہے۔ اس کی وضاحت ان شاءاللہ آگے پیش کی جائے گی۔ کاش محترم ڈاکٹر صاحب زیر مطالعہ حدیث پر کوئی ٹھوس علمی بحث پیش فرماتے یا ان نقائص کی نشاندہی فرماتے۔ جو آں محترم نے راقم الحروف کے سابقہ مضمون میں محسوس فرمائیں۔
  • مارچ
1989
عبد الرحمن مدنی
قارئین کرام!
ماہنامہ "محدث" کے گزشتہ تین شماروں میں جناب پروفیسر محمد دین قاسمی کا مضمون بعنوان "اشتراکیت کی درآمد قرآن کے جعلی پرمٹ پر" شائع کیا گیا۔ جس کے ردِعمل میں ناظم ادارہ "طلوعِ اسلام" لاہور کی طرف سے مدیرِ اعلیٰ "محدث" کو خط موصول ہوا جس میں جناب قاسمی صاحب کے مضمون کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس پر ادارہ نے یہ خط براہِ راست صاحب مضمون کو ارسال کر دیا، جس کے جواب میں جناب موصوف نے ایک مفصل خط بنام ادارہ طلوعِ اسلام لکھا اور اس کی ایک نقل ہمیں بھی ارسال فرمائی۔
ہم اپنی سابقہ منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بڑی فراخدلی کے ساتھ ادارہ "طلوعِ اسلام" کا خط ان کی خواہش کے مطابق اور جناب قاسمی صاحب کا جواب شائع کر رہے ہیں اور اپنے معاصر "طلوعِ اسلام" سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ہماری طرح وہ بھی ان دونوں خطوط کو شائع کرے گا کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔۔۔۔ادارہ
  • مارچ
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
زکوٰہ سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مخصوص مقدارِ مال ہے جو اسلامی مملکت، مسلم اغنیاء سے وصول کرتی ہے اور اُسے امتِ مسلمہ کے اہلِ حاجت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تاکہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہوں اور وہ بھی معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی ادب، زکوٰۃ کا یہی مفہوم تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا یہ مفہوم بجائے خود فاضلہ دولت کی شخصی ملکیت کا ثبوت ہے۔ اس لیے بانی طلوعِ اسلام کو اصطلاحِ زکوٰۃ سے یہ مفہوم خارج کرنے کے لیے اور اس کی جگہ نیا مفہوم داخل کرنے کے لیے خاصی کوہ کنی کرنی پڑی ہے۔ نئے دور میں "زکوٰۃ" کا ماڈرن مفہوم اب کمیونزم اور مارکس ازم سے ہم آہنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ پرویز رقم طراز ہیں:
"قرآن کریم کے پیش کردہ[1] معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی "زکوٰۃ" ہے کیونکہ اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہوتا ہے) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 68)
  • مارچ
1989
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب:
آپ کا نام مسلم اور باپ کا نام حجاج ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری النیشا بوری۔ آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے۔
ولادت:
ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سئہ 206ھ بتلایا ہے (تہذیب الاسماء) لیکن ابن حجر وغیرہ نے سئہ 204ھ بتلایا ہے۔ لیکن ان کی صحیح تاریخ پیدائش سئہ 206ھ ہے، کیونکہ متاخرین میں سے ابن اثیر اور مولانا عبدالرحمن مبارک پوری کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
اساتذہ:
آپ نے بچپن سے علم حدیث کی سماعت شروع کی۔ 14 برس کی عمر میں ابتدائے سماع کی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں " أول سماعة ثمانة عشرة ومأتين " انہوں نے حدیث کی پہلی سماعت سئہ 218ھ میں کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعت کے علاوہ دیگر علمی مراکز کو بھی اپنے شرفِ ورود سے نوازا۔ ان کے اساتذہ میں ابوغسان بھی ہیں۔ عراق میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ، حجاز میں سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، قتیبہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اصحاب الحدیث سے استفادہ کیا۔
  • مارچ
1989
فضل الرحمن فضل
دل و نظر کو عطا کیفِ سرمدی کر دے
شعورِ زیست کو آگاہِ بندگی کر دے
دلوں میں عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی کر دے
کشاکشِ و تگ و دو کی فراہمی کر دے
بساطِ زیست میں پیدا ہما ہمی کر دے
نگاہِ لطف و کرم میں کشادگی کر دے
یہ کشتِ آرزو میری ہری بھری کر دے