حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کدمتِ حدیث تاریخِ اسلام کا ایک دخشندہ باب ہے۔ آپ نے جس دور میں جنم لیا، اس وقت برصغیر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ تاہم آپ کی سعی و کوشش سے برصغیر میں روشنی کے آثار پیدا ہوئے۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1373ھ) لکھتے ہیں:
"ہندوستان کی یہ کیفیت تھی، جب اسلام کا وہ دختر تاباں نمودار ہوا جس کو دنیا شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا۔ مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا۔ جھوٹے فقراء اور مشاءخ جا بجا اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے۔ مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق و حکمت کے ہنگاموں سے پُر شور تھا۔ فقہ و فتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیش نظر تھی۔ مسائل فقہ میں تحقیق و تدقیق سب سے بڑا جرم تھا۔ عوام تو عوام، خواص تک قرآن پاک کے معانی و مطالب اور احادیث کے احکام و ارشادات اور فقہ کے اسرار و مصالح سے بے خبر تھے۔ شاہ صاحب کا وجود اس عہد میں اہل ہند کے لئے موہبت عظمیٰ اور عطیہ کبریٰ تھا۔"[1]
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی (م 113ھ) کے فرزند تھے۔ 4 شوال سئہ 1114ھ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ 5 سال کی عمر میں آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپ کے اساتذہ میں آپ کے والدِ محترم حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی (م 1131ھ) مولانا شیخ محمد افضل سیالکوٹی (م 1141ھ) اور شیخ ابوطاہر کروی (م 1145ھ) جیسے فاضل اساتذہ کے نام ملتے ہیں۔[2]
تکمیل تعلیم کے بعد حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تجدیدِ دین اور اصلاح امت کی طرف توجہ کی اور اس سلسلہ میں آپ نے جو کارہائے نمایاں سر انجام دئیے اس کو احاطہ تحریر میں لانے کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔
دامانِ نگہ تنگ و گل ھسن تو بسیار
گلچین بہار توز دامان نگہ دارد
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی حدیث کی تشریح و تفہیم، تدریس و تعلیم، اشاعت و تقسیم میں صرف ہوئی۔ بقولِ شاعر
جو تجھ بِن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
تو اس عہد کو ہم وفا کر چلے
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی خدمتِ حدیث:
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے خدمت حدیث میں ایک طرف حدیث کی مسند بچھائی اور بہت سے حضرات آپ سے مستفیض ہوئے۔ دوسری طرف آپ نے حدیث  کی کتابوں کی شرحیں لکھیں۔ مولانا عبدالحی الحسنی (م 1341ھ) لکھتے ہیں:
"جب شاہ صاحب حرمین شریفین سے واپس ہندوستان آئے اور اپنی ساری کوشش اس علم (حدیث) کی نشر و اشاعت میں صرف فرمائی۔ آپ نے درسِ حدیث کی سند بچھائی اور آپ کے درس سے بہت فائدہ پہنچا اور بہت سے لوگ فنِ حدیث میں کامل ہو کر نکلے۔ اس فن میں آپ نے کتابیں بھی تصنیف کیں۔آپ کے علم سے بے شمار لوگوں کو فائدہ پہنچا۔ اور آپ کی کامیاب کوششوں سے بدعات کا خاتمہ ہوا۔ مسائل فقہیہ کی صحت کا فیصلہ کتاب و سنت کی روشنی میں فرماتے تھے اور صرف انہی اقوال کو قبول فرماتے تھے جن کو کتاب و سنت کے موافق پاتے تھے اور جن مسائل فقہیہ کو کتاب و سنت کے موافق نہیں پاتے تھے، ان کو رد فرماتے تھے، خواہ وہ کسی امام کا قول ہو۔"[3]
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریری خدمات:
حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کی جو تحریری خدمات سر انجام دی ہیں اس کی مختصرا تفصیل اس طرح ہے:
مؤطا امام مالک حدیث کی مشہور کتاب ہے اور اس کو اول الکتب بعد کتاب اللہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ نے اس کی دو شرحیں "المصفیٰ" (فارسی) اور "المسویٰ" (عربی) لکھیں۔ حضرت شاہ صاحب درسِ حدیث کا جو طریقہ رائج کرنا چاہتے تھے یہ دونوں کتابیں اس کا نمونہ ہیں۔ ان سے شاہ صاحب کے علومِ حدیث اور فقہ حدیث میں محققانہ اور مجتہدانہ شان کا اظہار ہوتا ہے وہ مؤطا امام مالک کو صحاح ستہ میں سب سے پہلے رکھتے تھے اور اس کو سنن ابن ماجہ کی جگہ شمار کرتے تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہ مؤطا امام مالک کے بے حد قائل اور اس کے ساتھ اعتناء کرنے اور اس کو درسِ حدیث میں اولیت دینے کے پُر جوش داعی اور مبلغ ہیں۔ شاہ صاحب اپنے وصیت نامہ میں فرماتے ہیں:
"جوں قدرت بزبان عربی یافت مؤطا بروایت یحییٰ بن یحییٰ معموری بخوانانند و ہرگز آں را معطل نگذارند کہ اصل علمِ حدیث ہست خواندن آں فیضہا وارد وما را سمع جمیع آں مسلسل است۔"[4]
"جب عربی پر قدرت حاصل ہو جائے۔ مؤطا کے اس نسخہ کو، جو یحییٰ بن یحییٰ معموری کی روایت سے پڑھائیں۔ ہرگز اس سے پہلوتہی نہ کریں کہ وہ علمِ حدیث کی اصل ہے اور اس کا پڑھنا بڑے فیض کا حامل ہے۔ ہم کو مکمل مؤطا کی سماعت مسلسل طریقہ سے حاصل ہے۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1373ھ) لکھتے ہیں:
المصفیٰ: فارسی میں مؤطا کی مجتہدانہ شرح ہے۔
المسویٰ: تعلیق بر مؤطا عربی زبان میں ہے۔ اختلاف فقہاء کی تفصیل ہے۔[5] مولوی ابو یحییٰ امام خان نوشیروی (م 1386ھ) لکھتے ہیں:
"حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی یہ دونوں شرحیں المسویٰ (عربی) اور المصفیٰ (فارسی) بطریق اجتہاد لکھی گئیں"[6]
المسویٰ اور المصفیٰ کے علاوہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح تراجم ابواب بخاری (عربی) علم اسناد حدیث میں مسلسلات (عربی) اور اربعین حدیث ہیں۔
الفضل المبین فی المسلسل من احادیث النبی الامین (عربی) بھی لکھیں۔[7]
مولوی ابو یحییٰ امام خان نوشیروی (م 1386ھ) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمتِ حدیث کے بارہ میں لکھتے ہیں:
"حجۃ اللہ، شاہ ولی اللہ نے حدیث کی اول الکتب مؤطا امام مالک کی دو شرحیں عربی و فارسی میں المسویٰ اور المصفیٰ لکھیں۔ ان تقلیدی بندھنوں سے بالکل بے نیاز رہ کر اس مجتہدانہ شان کے ساتھ کہ 12 ویں صدی ہجری کے مجدد کا فرض تھا۔ ان دونوں کا گویا ضمیمہ " ألإنصاف فى بيان سبب الإختلاف" (عربی) کے نام سے لکھا۔ " تكملة عقد الجيد فى الأحكام الإجتهاد والتقليد" (عربی) سے کیا اور تتمۃ حجۃ اللہ البالغہ جیسی غیر مسبق کتاب سے کیا۔[8] جس کے بارے میں محی السنۃ امیر الملک والاجاہ حضرت مولانا سید نواب صدیق حسن خان قنوجی رئیس بھوپال (م 1307ھ) فرماتے ہیں:
" درفن خود غیر مسبق الیہ واقع شدہ و مثل آں دریں 12 صد سال ہجرت از ہیچ یکے علمائے عرب و عجم تصنیفے بوجوہ دنیا مد وہن جو تصانیف مونقش مرضی بودہ است و فی الواقع بیش ازاں است کہ وصفش تواں نوشت۔"[9]
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے 62 سال کی عمر مین 3 محرم الحرام 1176ھ کو دہلی میں انتقال کیا۔[10]

[1] مقالاتِ سلیمان ج2، ص 42
[2] اصولِ فقہ اور شاہ ولی اللہ، ص61
[3] الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند، ص 199
[4] وصیت نامہ ص11، تاریخ دعوت و عزیمت ج5، ص 192
[5] حیات امام مالک ص 101
[6] تراجم علمائے حدیث ہند، ج1، ص 43
[7] تاریخ دعوت و عزیمت، ج5، ص 193،194
[8] ہندوستان میں اہل حدیث کی علمی خدمات ص 14
[9] اتحاف النبلاء ص 71
[10] تاریخ دعوت و عزیمت ج5، ص 118