موت اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آئینی جابطہ ہے جس سے کسی ذی روح کو فرار میسر نہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے مکتلف ادوار بچپن، جوانی یا بڑھاپا۔ کسی حصہ میں بھی کسی وقت بھی اچانک اس آئین کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس آئین کے تفصیلی پہلوؤں میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جاندار پر بلا تخصص و استثناء ہوتا ہے۔ چاہے وہ خود صاحبِ آئین اللہ جل شانہ، کا برگزیدہ رسول یا نبی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ... الزمر
"آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔"
ایک جگہ یوں وضاحت فرمائی:
﴿وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ﴿٨﴾...الأنبياء
"اور ہم نے ان رسولوں کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے، جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہیں تھے۔"
اسی کی تائید میں ایک اور ارشاد:
﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ﴿٣٤﴾... الأنبياء
"اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا۔ پھر اگر آپ کا انتقال ہو جائے، تو کیا یہ لوگ اس دنیا میں ہمیشہ رہیں گے؟
اس کے ساتھ ہی حتمی فیصلہ بھی سنا دیا۔
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ... ١٨٥﴾...آل عمران
"ہر جاندار موت کا مزہ چکھے گا۔"
﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ﴿٣٥﴾... الأنبياء
"اور ہم تم کو بُری بھلی حالتوں سے اچھی طرح آزماتے ہیں اور پھر (اس زندگی کے خاتمہ پر) تم سب ہمارے پاس ہی لوٹنے والے ہو۔"
الغرض! اللہ جل شانہ، کے اس آئین کے اٹل ہونے کی تصدیق تو ہر ذی ہوش کرنے پر مجبور ہے۔ خوشی یا ناخوشی اسے تسلیم کرتا ہے، لیکن اختلاف تو اس آئین کے اطلاق یعنی موت کے بعد کے حقائق سے متعلق شروع ہوتا ہے اور یہ اختلاب بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا پرانا اللہ جل شانہ کے خالق و مالک ہونے کا عقیدہ نسل جن و انس میں موجود ہے۔ چنانچہ قرآن مجید نے انسانوں کی ایک ایسی ہی جماعت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
﴿وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ ﴿٢٤﴾...الجاثية
"اور کہا انہوں نے دنیا کی ہی زندگی، زندگی ہے۔ مرتے ہیں اور جیتے ہیں ہم اور نہین ہلاک کرتا ہم کو مگر زمانہ۔ (اللہ جل شانہ ان کے اس گمان کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں) ان کے پاس اس (موت کے بعد کی زندگی) کے بارے میں کوئی علم نہیں، مگر صرف گمان کے اندھیرے۔
اس گمان زدہ خاندان کے لوگ آج بھی ہمیں ملتے ہیں جن میں اپنے بھی ہیں اور بیگانے بھی۔ اپنے اس لحاظ سے کہ ان کے نام اسلامی ہیں۔ بیگانے وہ جو دورِ حاضر کے روشن خیال، جدید انکشافات اور ایجادات سے تعلق رکھنے والے سائنس دان، اور فلسفی۔ جن کا کہنا یہ ہے کہ زندگی مادہ کے کیمیاوی عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ کائنات شکست و ریخت ہیست و نیست کا پرانا کھیل آپ ہی آپ شروع ہوتا اور ختم ہوتا ہے۔
زندگی کیا ہے اربعہ عناصر کی ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
موت کیا ہے ایک لفظ بے معنی
جسے مارا حیات نے مارا
فارسی کا ایک مصرع بھی آپ کئی بات اسی مفہوم پر مبنی سن چکے ہوں گے۔
بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
یوں تو گمانوں کا شکار اور بھی بہت سے انسانوں کے گروہ ہیں۔ لیکن ان سے قطع نظر ہم اپنے تفکر و تدبر میں انہیں شامل ہونے کی دعوت دیں گے، جو زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہمارا خالق و مالک اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ہمیں زندگی دینے والا وہی، ہمیں موت دینے والا وہی۔ مزید برآں وہ بڑے شدومد کے ساتھ اس بات کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ ہم نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی مداح و مطیع ہیں۔ انہوں نے ہمیں زندگی کے مقصد سے مکمل آگاہی عطا کی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے آئین و ضوابط کا مجموعہ قرآن حکیم اور اپنا اسوہ حسنہ ہماری راہنمائی کے لئے وراثت میں بخشتا ہے، تو آئیے ہم پہلے تو زندگی کے مفہوم اور مقصد اپنے دو لازوال سرچشمہ علم و حکمت رشد و ہدایت کے معلموں سے پوچھیں۔
ارشاد ہے:
﴿وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ﴿٣٦﴾...البقرة
"اور تمہیں زمین میں ٹھہرنا اور (وہاں موجود اشیاء سے) معینہ مدت تک استفادہ کرنا ہے۔"
تو سب سے پہلی بات تو صاف اور واضح طے شدہ ہے کہ ہمارا اس زمین پر قیام و طعام کی ایک مقررہ مدت ہے۔ دوسری ہدایت یہ ہے:
﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿٣٨﴾... البقرة
کہ "جب بھی ہماری طرف سے (زندگی کے اعمال سے متعلق) کوئی ہدایت وصول ہو تو اس ہدایت کی جس نے تعمیل کی، اسے نہ کوئی فکر ہو گی اور نہ ہی غم اسے چھوئے گا۔"
اسی ہدایت کی ایک اور وضاحت یوں فرمائی:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ... ٢﴾...الملك
"جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے، تم میں سے کوئی شخص اچھے اعمال کا مظاہرہ کرتا ہے۔"
ایک اور وضاحت پہ غور فرمائیں:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾...الذاريات
"اور میں نے جنوں اور انسانون کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں۔"
ان ارشادات کا مفہوم صاف طور پر ہمیں یہ ذہن نشین کراتا ہے کہ زندگی کا معینہ مدت تک کا سفر اس امتحان کے کمرہ کی مانند ہے۔ جہاں ہم نصابی کتب کی روشنی میں اپنی کارگردگی کو کاغذوں پر منتقل کرتے ہیں۔ امتحان کا وقت معین ہوتا ہے۔ جوابات لکھنے یا اپنی محنت کے اظہار میں آپ کو مکمل اختیار دے دیا جاتا ہے، لیکن جونہی وقت ختم ہوتا ہے، تو کاغذ قلم کے علاوہ آپ کے حواس خمسہ ظاہری اور باطنی سب کے اختیار و تصرف سے آپ کو بے دخل کر کے امتحان کے کمرہ سے بال نکال دیا جاتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے کہ اس کمرہ کے دروازہ سے باہر چلے جانے کا نام "موت" ہے۔ اور وہ لمحہ جب آپ سے عملی اختیارات ایک ایک کر کے فرشتہ وصول کر رہا ہوتا ہے، وہ وقت "موت" آئین کے اطلاق میں کوئی توہین آمیز پہلو نہیں، جسے ہم کسی شخصیت سے وابستہ کر کے اس کی شان میں گستاخی کر رہے ہوں۔
اور پھر یہ اس ذاتِ برتر کا آئین ہے جس کو ہم زندگی اور موت کا خالق و مالک تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے ہر حکم کی تعمیل اپنے ایمان و یقین کی روح تسلیم کرتے ہیں۔ اب آئیے اس آئین کے معلم ثانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا موت اور زندگی کے بارے میں پیش کیا ہوا تقابلی جائزہ دیکھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(يحب الإنسان الحيوة والموت  خير لنفسه)(بیہقی)
"انسان زندگی کو محبوب رکھتا ہے، حالانکہ موت اس کے لئے بہتر ہے۔" (بشرطیکہ مومن ہو اور اس کا عمل صالح ہو)
بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو مومن کا تحفہ بتایا ہے۔ (مشکوٰۃ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی احادیث میں ملتا ہے کہ:
"حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انسان کے دنیا سے انتقال کرنے کی مثال ایسی ہے جیسے بچہ ماں کے پیٹ (کی تنگی و تاریکی) سے نکل کر دنیا کے آرام و راحت میں آ جاتا ہے۔" (حکیم ترمذی)
الحاصل! مومن کے لئے موت بڑی اچھی چیز ہے۔
صالح زندگی بسر کرنے والے ہمیشہ موت کو اس زندگی پر ترجیح دیتے ہیں اور اس جہانِ فانی کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے نکل کر جلد سے جلد امن و امان اور راحت و چین والی ہمیشہ کی زندگی میں جانا چاہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے کہ:
"انسان موت کو مکروہ جانتا ہے، حالانکہ موت فتنوں سے بہتر ہے۔"
کہ جتنی جلدی موت آ جائے گی، اتنی ہی جلدی دنیا کے فتنوں سے محفوظ ہو جائے گا۔
اور مسند احمد میں ہے کہ:
(يكره الموت  والموت خير للمؤمن من الفتن)
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو جب امیرِ خراسان کے ساتھ جھگڑا پیش آیا، تو یہ دعا کی:
(أللهم توفنى إليك)
حدیث میں ہے کہ خروجِ دجال کے وقت ایک شخص کسی قبر پر سے گزرے گا اور فتن و زوال کو دیکھ کر کہے گا کہ:
(ياليتنى مكانك)
"کاش! کہ میں تیری جگہ ہوتا۔"
بخاری و مسلم میں آیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہائی رات کے وقت آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دس (10) آیات پڑھ رہے تھے، جن میں یہ الفاظ بھی آئے:
﴿وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ﴿١٩٣﴾...آل عمران
یعنی "ہم کو نیک بخت لوگوں کے ساتھ فوت کیجیئو۔" (یعنی اے اللہ! ہمارا خاتمہ بالایمان ہو)۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ موت سے نہ گریز ہے نہ کراہت۔ اگر کوئی تمنا ہے، تو وہ یہ کہ ابرار کی معیت۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ فی الحقیقت موت اس زندگی کا انجام نہیں ہے، بلکہ موت کے بعد بھی زندگی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ وہ زندگی اس زندگی کا نتیجہ ہو گی، جس طرح کوئی شخص کہے کہ امتحان (دنیاوی) میں پاس ہونے کا کیا فائدہ؟ خطاء ظاہر ہے کہ فائدہ تو پاس ہونے کا ضرور ہو گا کہ آدمی میٹرک یا ایف اے، بی اے وغیرہ کرے گا اور ترقی کی منازل کے قوی امکان ہوں گے اور سکون کی زندگی بسر کرنا اس سارے عمل کا نتیجہ ہو گی۔ اس طرح اس زندگی کا نتیجہ اگر اچھا ہو گا، یعنی اس زندگی میں اعمالِ صالحہ ہوں گے، تو اخروی زندگی میں بلند درجات حاصل ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے:
(ألدنيا مزرعة الأخرة)
"دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔"
یہاں دنیا سے مراد موت سے پہلے کی زندگی ہے، لیکن اگر سرے سے موت کو ہتک اور گستاخی سمجھ کر اس کا انکار کر دیا جائے، تو ہم نہ تو اس زندگی میں اعمالِ صالح کریں گے اور نہ ہی اخروی زندگی کا کوئی سامان کریں گے۔
ذوق نے انسان کی اس بے بسی کو کچھ یوں ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
موت نے کر دیا مجبور وگرنہ انسان
ہے وہ خودبیں کہ خدا کا بھی نہ قائل ہوتا
موت پر ایمان لانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آدمی یہ سمجھ لے کہ موت نہیں آنی اور اس امتحان کا وقت ختم نہیں ہونا، تو اس زندگی میں کچھ احسن اعمال کر لینا کوئی بھی ضروری نہیں سمجھے گا۔ اگر موت کا خیال رکھا جائے گا، تو تب ہی کچھ ابدی زندگی کا ساماں ہو سکے گا۔
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ:
"اے طالب روزی بنیش کہ بے خودی وائے مطلوب اجل مرو کہ جال نہ بُری۔"
"اے روزی کے طالب بیٹھ جا کہ تو روزی کھائے گا اور اے موت کے مطلوب نہ بھاگ کہ تو جان نہ بچا سکے گا۔"
احسان دانش مرحوم موت کو حقیقت جانتے ہوئے یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ:
دانش میں خوفِ مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
موت اس لحاظ سے بھی نعمت ہے کہ اگر موت نہ ہوتی، تو آج اس دنیا میں چلنا پھرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جاتا۔ موت اخروی زندگی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لہذا ماننا پڑے گا کہ موت نعمتِ خداوندی ہے اور موت کی نعمت سے کسی کو راہِ فرار نہیں چاہے وہ صالح ہو یا غیر صالح۔ عالم ہو یا جاہل، متقی ہو یا گناہگار، چھوٹا ہو یا بڑا انبیاء ہوں یا اولیاء، صحابی ہوں یا تابعی، موت بہرحال مقدر بن کر رہتی ہے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے:
کلیہ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موت
دشت دور میں، شہر میں گلشن میں ویرانے میں موت
موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موت کی آغوش میں
نے مجالِ شکوہ ہے نے طاقتِ گفتار ہے
زندگی کیا ہے، اک طوقِ گلوافشار ہے
انسان کی عظمت و رفعت کا اندازہ کرنے کا ایک طریقہ آغا شورش کاشمیری مرحوم اکثر یہ بتایا کرتے تھے کہ:
"کسی کی عظمت کا صحیح اندازہ کرنا ہو تو اس کی موت کا انتظار کرو۔"