سوال: کیا فرماتی ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور محدثین کرام و فقہاء اور صلحائے امت کی آراء اس مسئلہ میں کہ: "آیا غیر مسلم اور غیر اہل کتاب (مثلا ہندو، سکھ، جین، بدھ وغیرہ) کے ساتھ کھانا کھانا یا غیر اہل کتاب باورچی کے ہاتھ کا تیار شدہ کھانا کھانا مسلمانوں کے لئے شریعتِ مطہرہ میں ممنوع اور حرام ہے۔ اگرچہ مذکورہ غیر اہل کتاب شخص کھانا کھاتے یا پکاتے وقت ہاتھ منہ دھونے اور نجاست سے دور رہنے کا اہتمام کرتا ہو،  محض اس لئے کہ وہ غیر مسلم یا غیر اہل کتاب ہے؟ نیز کیا تمام بنی آدم کا لعاب دہن پاک ہے یا صرف مسلم کا لعاب دہن؟
یہ مسئلہ یہاں رفقاء کے درمیان نزاع کی صورت اختیار کر گیا ہے، لہذا التماس ہے کہ جلد بالتفصیل بقید سند و حوالہ جات مسئولہ اُمور کے جوابات براہِ راست یا "محدث" میں شائع فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ (فضل الرحمن محبوب شریف)
ألجواب  بعون الوهاب و منه الصواب و إلبه المآب , أما بعد:
اگرچہ غیر مسلم مشرک نجس ہیں، لیکن ان کی نجاست حکمی ہے اگر وہ عینی نجاست سے پرہیز کرنے والے ہوں۔ نظافت کے پابند ہوں بالخصوص جب اسلامی اُصولِ نطافت سے باخبر ہوں، تو ضرورت کے وقت اور بوقتِ مجبوری ان کا پکا ہوا کھانا حلال ہے۔ گوشت کے سلسلے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ حلال جانور ہو اور اس کو کسی مسلمان نے ہی ذبح کیا ہو، ایسا گوشت اور اس کے علاوہ جو پکائے، تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ (ادلہ کتاب و سنت)
قرآن مجید میں ہے:
﴿فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَـٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا ﴿١٩﴾ إِنَّهُمْ إِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَن تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا ﴿٢٠﴾...الكهف
"تم اپنے میں سے ایک آدمی یہ پیسے دے کر شہر میں بھیجو (جانے والا) تلاش کرے کہ شہر میں سب سے زیادہ ستھرا کھانا پکانے والا کون ہے، تو وہاں سے رزق لے آئے اور نرم خوئی اختیار کرے اور تمہارا کسی کو پتہ بھی چلنے نہ دے، کیونکہ اگر انہیں تمہاری اطلاع ہو گئی، تو وہ تم پر سنگباری کریں گے یا تمہیں اپنے مذھب کی طرف لوٹا دیں گے، تو پھر کبھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔"
شہر والوں کا مذھب، جو ان کے ذہن میں تھا، وہ اسی سورت کے ابتداء میں مذکور ہے:
﴿ہـٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً ... ١٥﴾...الكهف
"یہ ہماری قوم ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور خدا بنا لئے۔"
خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش مکہ میں رہے۔ ان کے ہاں کھاتے پیتے تھے۔ البتہ اتنی احتیاط وہ قبل از نبوت بھی کرتے تھے کہ بتوں کے نام پر جو جانور ذبح ہوتا تھا اس کا گوشت نہیں کھتے تھے۔ (الوفاء باحوال المصطفیٰ ج1، ص 139)
یہی حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رہا کہ مدتِ رضاعت کے بعد بھی محلاتِ فرعونی میں رہے اور قرآن مجید یا احادیث میں کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ وہ ان کے کھانے پینے سے احتراز کرتے تھے۔
حضرت یوسف علیہ السلام تو بعد از نبوت یا علم بھی ملک مصر میں مشرکوں کے علاقے میں رہے اور کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ وہ اپنا کھانا خود پکاتے اور اُن کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ حتیٰ کہ زندان خانہ میں کھانا بھی ان کے اختیار میں نہیں تھا کہ کون پکائے کب پکے۔ اور کون لائے جس کا تھوڑا سا اشارہ قرآن مجید میں یوں دیا ہے:
﴿لَا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلَّا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَن يَأْتِيَكُمَا ... ٣٧﴾...يوسف
کہ "تمہارے پاس کھانا نہیں آئے گا، جو تمہیں دیا جائے، مگر میں تمہیں اس کے آنے سے پہلے تمہاری خواب کی تعبیر بتا دوں گا۔"
بعد از نبوت جو لوگ مسلمان ہوتے رہے ان میں ایسے بھی تھے جو کہ بیرونِ مکہ مکرمہ رہائش پذیر تھے جن میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور طفیل بن عمر دوسی رضی اللہ عنہ زیادہ مشہور ہیں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اپنے وطن واپس بھیج دیا کہ اپنی قوم میں جا کر رہو جب سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں، تو ہجرت کر لینا۔ رسلوہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجتے وقت ایسی تلقین نہیں فرمائی کہ تم اپنا کھانا پینا، برتن علیحدہ کر لو اور "(خير البيان عن وقت الحاجة لا يجوز)" ضرورت کے وقت بیان اور تفصیل کی تاخیر جائز نہیں ہے۔ لہذا صرف قرآن مجید کی تصریح کو ہی سامنے رکھا جائے گا۔
﴿وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّـهِ ... ١٧٣﴾...البقرة
کہ "جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کے نام پر ذبح کیا جائے وہ بھی حرام ہے۔" (سورہ بقرہ: 173)
اور یہی مضمون سورۃ مائدہ آیت نمبر 3، سورۃ الانعام آیت نمبر 140 اور سورہ نحل آیت نمبر 115 میں وارد ہے۔ صرف الفاظ میں تقدم تاخیر ہے " أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّـهِ " معنی ایک ہی ہے۔ اسی وجہ سے غیر کتابی مشرکوں کے ذبیحے سے ہی روکا جائے گا۔ باقی حلال اشیاء کے کھانے پینے سے روکا نہیں جا سکتا اور غیر کتابی کی شرط کی وجہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 5 ہے جس کے مطابق ہمارے لئے ان کے تمام حلال کھانے اور ان کے لئے ہمارے تمام حلال، کھانے حلال ہیں، خواہ ہم میں سے کوئی ذبح کرے یا ان میں سے کوئی ذبح کرے۔ بشرطیکہ ذبح کرتے وقت وہ غیراللہ کا نام نہ پکارے۔ باقی ماندہ طعام میں کتابی و غیر کتابی کی کوئی شرط و احتیاط لازم نہیں۔
چنانچہ بخاری شریف کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ سمیت ایک مشرک عورت کے مشکیزے سے وضو کرنا [1]اور بعض کا غسل کرنا اور بخاری شریف میں تعلیقا اور بیہقی ج1 ص 32 میں سندا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک نصرانی عورت کے گھڑے سے وضو کرنا مذکور ہے۔ مؤخر الذکر کتاب میں اسی جگہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
کہ "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتے تو ہم مشرکوں کے برتنوں اور مشکیزوں سے پانی لے لیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کوئی عیب نہ لگاتے۔"
ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے:
(كان يرحصون لهم فى الطعام و العلف ما لم يعقدوا به مالا)(مصنف عبد الرزاق،ج5،ص179)
یعنی "مالِ غنیمت میں جو کھانا اور چارہ ملتا اگر وہ اسے باقاعدہ مال نہ بنا لیتے تو اس کی تقسیم نہ ہوتی۔ (بلکہ جو چاہتا ضرورت کے مطابق اس سے لے لیتاَ)"
حضرت سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ کے متعلق ذکر ہے:
کہ "ان کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا،جس میں دوسرے مال کے علاوہ روٹی اور پنیر بھی تھے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے "فرفع المال و أكل  الخبز  والجبن  " مال اٹھا دیا، روٹی اور پنیر کھا لئے۔"
یہی بات حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی بھی معلوم ہوتی ہے:
کہ "کھانے پینے کی چیز دشمن کی زمین میں ہی کھانے لیتے۔ ہاں اگر ارضِ اسلام میں لے آتے، تو خلیفہ کو دے دیتے، دشمن کی زمین میں اسے نہ بیچتے۔ اگر وہ سونا چاندی کے عوض بیچتے، تو معاوضہ باقاعدہ تقسیم ہوتا۔"
سلیمان بن ہوئے رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:
"دشمن کی زمین میں کھانے پینے کی چیز نہ چھوڑی جائے اور نہ ہی سپہ سالار سے اجازت، جو پہلے پہنچ جائے، وہ لے لے، الا یہ کہ سپہ سالار روک دے تو ممانعت کی وجہ سے رک جائے۔ اگر طعام کا کچھ حصہ سونے اور چاندی کے عوض میں بیچے، تو حلال نہیں، کیونکہ اب وہ مالِ غنیمت شمار ہو گا۔ یہی سنت ہے اور ہمارے ہاں یہی حق ہے۔" (مصنف عبدالرزاق، ج5، ص 180-181)
حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا:
کہ "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے کھانے کے متعلق کیا کیا، کیا اسے مالِ غنیمت میں رکھا گیا (کہ باقاعدہ تقسیم ہوا) تو جوابا ارشاد ہوا کہ "نہیں"
(كان أقل  من ذلك  وكان أحدنا  إذا  أواد منه شيئا  اخذ منه حاجته)(سنن کبری بیھقی،ج9،ص 60۔61)
کہ "وہ اس قدر تھا ہی نہیں بلکہ ہم میں سے اگر کوئی بھی چاہتا، تو اپنی حاجت کے مطابق اس سے لے لیتا۔"
اسی طعامِ خیبر میں روٹی بھی تھی، جو بیہقی ہی کی روایت کے مطابق ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے کھائی۔[2]
ان واقعات میں بھی کہیں یہ ذکر نہیں ملتا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا انہوں نے اپنے تابعین کو دشمن کی زمین سے غیر مسلموں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھانے سے منع کیا ہو، بلکہ خود بھی کھایا اور فتویٰ بھی دیا کہ کھانا جائز ہے اور یہ بھی فرق نہیں کیا کہ ایسا کھانا کتابی کی زمین سے جائز ہو اور غیر کتابی مشرک کی زمین سے ناجائز ہو۔[3]
جواب، سوال نمبر 2
بنی آدم کے لعاب کا مسئلہ کہ آیا صرف مسلمان کا لعاب پاک ہے یا کہ ہر بنی آدم کا؟[4]
فأقول و بالله التوفيق:
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ اور احمد شاکر رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق تو اہل اسلام کی اکثریت اور اس کی طہارت کے قائل ہیں، یعنی وہ یہ فرق نہیں رکھتے کہ لعاب مسلمان کا ہے یا کہ کافر و مشرک کا، لیکن تعجب ہے کہ انہوں نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔
جب کہ بعض اہل ظاہر رحمۃ اللہ علیہ، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور ان سے ماقبل حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب قول یہی ہے کہ:
"مشرک چونکہ نجس ہیں، اس لئے ان کا لعاب بھی نجس ہے۔"
لیکن اگر ہم اس شاذ قول کو چھوڑ دیں تو بھی مکروہ تو ہو گا ہی۔ کیونکہ بنی آدم کے جسم میں جراثیم کا سلسلہ تو قائم ہی ہے، بالخصوص لعابِ دہن میں۔ صرف مسلمان کا لعاب پاک بھی ہے   اور شفاء بھی  بالخصوص جب اس کے ساتھ قرآنی آیات  مل جائیں ۔اس طرح وہ پیغام وہ پیغامِ الفت بھی ہے اور اس کی ادلہ الگ سے قائم ہیں، لیکن چونکہ یہ سوال کا حصہ نہیں۔ اس لئے ان کے ذکر کی ضرورت نہیں۔
ہاں میرے خیال میں، قول جمہور کی تائید میں مسند احمد ج3، ص 82 اور مسند احمد ج1، ص 413 میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث پیش کی جا سکتی ہے جس کا مفہوم ہے کہ شیطان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں خلل واقع کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اچھی طرح گلہ گھونٹا جس کی وجہ سے اس کا لعاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں آ گیا اور شیطان چونکہ راس المشرکین ہے۔ اس کے باوجود کہ آپ نے نماز نہ چھوڑی اور نہ ہی ہاتھ دھویا تو معلوم ہوا کہ مشرک کا لعاب بھی پاک ہے۔ البتہ کراہت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔
علاوہ ازیں لعاب دہن کی ایک ایسی خصوصیت بھی ہے، جو کہ باقی جسم کو حاصل نہیں کہ جیسے انسان کھٹی چیز کھانے لگے، تو لعاب میں کٹھاس آ جائے گی۔ میٹھی چیز کھانے لگے تو مٹھاس کا اثر ہو گا۔ کڑوی چیز کھانے سے پہلے کڑواہٹ پہلے ہی معلوم ہونے لگتی ہے۔ علی ہذا القیاس، دماغ میں نفرت ہو تو لعاب دہن میں بھی اس کی خصوصیت اور اگر محبت ہو تو اس میں اس کی ملاوٹ ہو گی۔ اس لئے اگر دونوں کے لعاب کو پاک بھی کہا جائے تو بھی مشرک کا لعاب مومن کے لعاب کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی دونوں کی ایک حیثیت ہو گی۔ہو سکتا ہے ایک شفا ہو اور دوسرا بیوی۔ سورہ المومن شفاء کا مفہوم مخالف بھی یہی ہے کہ سؤر الکافر مرض۔

[1] مثار الیہ حدیث سے مستخرج مسائل کی نشاندی کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں "(عربی)" یعنی حدیث ھذا سے استدلال کیا گیا ہے کہ مشرکوں کے برتوں میں جب تک نجاست کا یقین نہ ہو انہیں استعمال میں لانا جائز نہیں۔(فتح الباری، ج1، ص 453)
[2] علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "(ولم ينقل توقى  رطوبات الكفار عن السلف الصالح ولو توقوها لشاع قال ابن عبد السلام ليس من التقشف   أن يقول  إشترى من سمن المسلم لا من سمن الكافر )" یعنی سلف صالحین سے نقل نہیں ہو سکا کہ وہ کافروں کی مرطوب اشیاء سے بچتے ہوں۔ اگر انہوں نے احتراز کیا ہوتا تو معاملہ مشہور و معروف ہوتا۔ ابن عبدالسلام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی زہد کی علامت نہیں کہ آدمی کہے میں نے صرف مسلمان ہی سے گھی خریدنا ہے کافر سے نہیں۔ اس لئےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کی طرف توجہ نہیں دی (نیل الاوطار، ج1 ص 32)
[3] مفسر قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
(ولا بأس بأكل طعام من لا كتاب له كالمشركين  و عبدة  الأوثان  ما لم يكن من ذبائحهم  )
یعنی مشرکین اور بت پرستوں کا کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ ان کا ذبیحہ نہ ہو۔ (تفسیر قرطبی، ج3، ص 2075)
[4] صحیح بخاری کا ایک ترجمۃ الباب یوں ہے: "(عربی)" یعنی عام اور غلیظ تھوک کپڑے وغیرہ میں تھوکنے کا بیان۔
امام صاحب نے تبویب ھذا ابواب طہارت کے ضمن میں ذکر کی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، مصنف کا اس سے مقصود یہ ہے کہ اس کے پانی میں پڑ جانے سے پانی خراب نہیں ہو گا۔
پھر چند سطور کے بعد رقم طراز ہیں:
"اس سے مصنف کا مقصود دہن کی طہارت پر استدلال کرنا ہے اور بعض اہل علم نے لعابِ دہن کی طہارت پر اجماع بھی نقل کیا ہے، لیکن ابن ابی شیبہ نے بسند صحیح ابراہیم نخعی سے نقل کیا ہے کہ لعاب غیر طاہر ہے اور ابن حزام نے کہا ہے کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہم اور ابراہیم سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ لعاب جب "فم" سے علیحدہ ہو تو وہ ناپاک ہے۔" (فتح الباری، ج1، ص 353)
بظاہر مسئلہ ہذا میں "واللہ اعلم" مسلم، غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں دونوں کا لعاب یکساں ہے، نیز اس لئے بھی کہ کتابیہ بیوی کا صرف پسینہ لگنے سے بالاتفاق غسلِ جنابت واجب نہیں، جبکہ لعاب اور پسینہ دونوں  گوشت سے متولد ہیں۔ لہذا دونوں کا حکم ایک ہے۔ انسانی گوشت صرف کراہت کی بناء پر حرام ہے۔