"سیلاب آ رہا ہے، اپنے سرمایہ کی حفاظت کرو۔"
جلیل نے نذیر کی معرفت راشد کو یہ پیغام بھیجا اور نذیر کو اپنے اس پیغام کا منشاد مراد بتا دیا کہ "سیلاب" سے اس کی کیا مراد ہے؟ بداخلاقیوں اور برائیوں کی کثرت پر متنبہ کرنا مقصود ہے یا پانی والے سیلاب کی خبر دینا مدِنظر ہے۔ اس طرح "سرمایہ" اور اس کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ سیرت و کردار کی خوبیاں اور حسنِ اخلاق مراد ہے یا روپیہ اور خانگی سازو سامان مراد ہے؟ راشد تک یہ پیغام پہنچتا ہے، اس کا مفاد و مدعا جلیل ہی بتا سکتا ہے، مگر بعض اسباب ایسے ہیں کہ جلیل راشد کو براہِ راست اپنے پیغام کا مفہوم و مراد نہیں بتا سکتا۔ لہذا اب اس کی واحد شکل یہ ہے کہ نذیر بتائے کہ جلیل کی اس سے کیا مراد ہے؟ اور نذیر ہی کو اس کا حق بھی پہنچتا ہے۔
اب فرض کیجئے کہ نذیر یہ کہتا ہے کہ اس پیغام کا مفہوم و مدعا یہ ہے کہ دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی کا ریلا تیزی سے بڑھتا آ رہا ہے اس لئے راشد کو چاہئے کہ وہ اپنے مال و اسباب کی حفاظت کا سامان کرے، ورنہ ساری چیزیں پانی کے سیلِ رواں میں بہہ جائیں گی۔
لیکن سلیم کہتا ہے کہ نہیں، بلکہ سیلاب سے بداخلاقیوں اور برائیوں کا سیلاب مراد ہے اور جلیل کا اپنے اس پیغام سے مدعا یہ ہے کہ راشد اپنی سیرت و کردار اور اپنے محاسنِ اخلاق کی حفاظت کرے۔ کھلی ہوئی بات یہ ہے کہ چونکہ جلیل نے اپن اپنے اس پیغام کا مدعا نذیر کو بتا دیا ہے اور اس کا امکان نہیں کہ جلیل سے براہ راست دریافت کیا جائے۔ اس لئے نذیر کا بیان کردہ مفہوم و مدعا ہی جلیل کا منشا و مراد تسلیم کیا جائے اور سلیم کا اس کے علی الرغم اس پیغام کا یہ مطلب بیان کرنا غلط اور ناقابلِ قبول ہو گا۔
اسی مثال پر قرآنی آیات کو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اللہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانوں کو اپنا پیغام (قرآن) بھیجا۔ ہر شخص کو (اللہ کی طرف سے براہِ راست اس کے کلام کا منشا و مراد کا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام ہدایت کے مفہوم و مراد اور مدعا کا علم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر اس کا ذمہ دار قرار دیا کہ وہ دیگر بندگانِ خدا کو خدا کے کلام کا منشاء و مراد بتائیں اور عمل کر کے دکھائیں اور خدا کے اسی منشاء و مراد کے مطابق لوگوں کا تزکیہ کریں۔
﴿وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ... ٧٩﴾...الأنبياء
"اور ان میں سے ہر نبی کو ہم نے حکم اور علم عطا کیا۔"
چنانچہ اسی حکم (قوتِ فیصلہ، قوتِ امتیاز حق و باطل) اور علم کے عطاء کئے جانے کی بناء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری بتائی جا رہی ہے کہ:
﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ ... ٤٤﴾...النحل
"(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے، تاکہ لوگوں کے سامنے آپ اس چیز کی وضاحت کریں، جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔"
﴿إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ الله... ١٠٥﴾...النساء
"(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ پر حق کے ساتھ قرآن نازل کیا ہے، تاکہ لوگوں کے درمیان آپ اس طرح فیصلے کریں جس طرح اللہ آپ کو دکھائے۔"
﴿...يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ﴿١٥١﴾...البقرة
"(یہ رسول) تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، اور تمہارا تزکیہ کرتے ہیں اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان باتوں کی تعلیم دیتے ہیں جنہیں تم پہلے نہیں جانتے تھے۔"
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ساری ذمہ داریوں کو باحسنِ وجوہ انجام دیا، لہذا کھلی ہوئی بات ہے کہ قرآنی آیات کا وہی مفہوم و مراد منشائے خداوندی کہلانے کا مستحق ہو گا، جس کی قولی و عملی تشریح و توضیح رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے آگاہ کریں کہ منشائے خداوندی یہ ہے اور یہ نہیں اور رسول کی قولی و عملی تشریح و تبیین کے علاوہ کسی دوسرے مفہوم و مطلب کو الہیٰ منشاء و مراد کہنا ایک غلط ادعاء ہو گا اور نادانی کی بات ہو گی۔
لیکن منکرینِ حدیث کے پیشِ نظر چونکہ اپنے باطل نظریات اور لادینی رجحانات و خیالات کو فروغ دینا ہے اس لئے انہوں نے اپنے حصولِ مقصد کی خاطر سب سے پہلے یہ کیا کہ حدیث و سنت کے حجت و سند ہونے کا انکار کر دیا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کے لے ضروری ٹھہرتا ہے کہ وہ قرآنی آیات کا وہی مفہوم و مراد تسلیم کریں، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قولا و عملا بیان فرمایا ہے اور جس کے اختیار کرنے میں لغت و استعمال بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے اور یہ حضرات ایسا کر نہیں سکتے کیونکہ اس طرح وہ اپنے مقاصد و عزائم کو بروئے کار نہیں لا سکتے۔ لہذا درمیان سے حدیث و سنت کے سند ہونے کا قضیہ ہی کو ہٹا دیا گیا۔۔۔اس کے بعد ان حضرات کے سامنے میدان کھلا ہوا تھا۔ دنیا کی تمام زبانوں کی طرح عربی زبان کے الفاظ اور جملوں کے بھی متعدد مفہوم و معانی ہوتے ہیں۔ لغت میں ایک لفظ کے ایک سے زائد معانی بھی ہوتے ہیں۔ کبھی مجاز اور استعمارات و کنایات سے بھی کام لیا جاتا ہے اور رسول ہی کو یہ حق پہنچتا تھا کہ وہ قرآنی الفاظ کے کسی ایک مفہوم و مراد سے متعلق اس کی تصریح فرمائیں کہ یہ ہے کلام اللہ کا مفہوم، یہ ہے خدائی منشا اور یہ نہیں ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے استعارۃ و کنایۃ فرمائی ہے اور مدعا یہ ہے اور یہ نہیں۔ یہ بات مجازا کہی گئی ہے، حقیقتا نہیں۔
لیکن حدیث و سنت کے سند ہونے سے انکار کر دینے کے بعد آزادی تھی کہ جو دل چاہے، قرآنی آیات کا مفہوم و مدعا بنا کر پیش کر دیا جائے، چنانچہ یہ منکرین حدیث کبھی تو ایسا کرتے ہیں کہ رسول کی قولی و عملی تشریحات قرآنیہ کے علی الرغم قرآنی آیات کا ایک مفہوم بیان کرتے ہیں اور ازروئے لغت لفظ کا وہ معنی اگرچہ نا درست نہیں ہوتا اور چونکہ حدیث و سنت کے سند ہونے کا سوال ہی درمیان سے اٹھا دیا گیا ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ لغت دیکھ لو کہ اس لفظ کا یہ معنی آتا ہے۔ ٹھیک ہے لغت میں یہ معنی بھی آتا ہے مگر کیا لغت میں اس لفظ کا وہ معنی بھی موجود نہیں، جو رسول کے بیان کردہ مفہوم و مدعا میں موجود ہے؟ اگر ہے اور یقینا ہے تو پھر جبکہ لگت و استعمال کی تائید بھی ہو رہی ہے اور رسول کی تشریح و توضیح بھی ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ منشائے خداوندی سے آگاہ کریں، تو پھر ہر دیانت دار صاحب عقل اور ہر مسلمان کا کیا یہ فیصلہ نہ ہو گا کہ الہیٰ منشا و مراد وہی ہے جس کی رسول نے قولا و عملا تشریح و توضیح فرمائی ہے؟
نیز کبھی ایسا کیا جاتا ہے کہ الفاظ کے وضعی معانی، جو لغت و استعمال کی رو سے ہوتے ہیں، وہ ان حضرات کے مطمح نظر کے خلاف جاتے ہیں اس لئے مجاز اوراستعارات کو آیات کا مفہوم و مدعا قرار دیا جاتا ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ مجاز اور استعارہ و کنایہ وہیں ہوتا ہے۔ جہاں حقیقت کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس قرینہ موجود ہو، لیکن کسی ایسے قرینہ کا دُور دُور بھی پتہ نہیں ہوتا، اس کے باوجود اپنی مقصد براری کے لئے مجاز اور استعارہ کی زبان میں شاعری کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ "منشاءِ خداوندی" ہے۔ گویا اللہ نے براہِ راست ان حضرات کو اپنا منشا و مراد بتا دیا ہے اور جس ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے منشاء و مراد کا علم دے کر اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا کہ وہ بندگانِ خدا کو خدا کے منشا و مراد سے آگاہ فرمائیں۔ وہ سب نعوذباللہ محض ایک فراڈ تھا۔
قرآن کے ساتھ منکرینِ حدیث کے مذکورہ دونوں طرح کا معاملہ کرنے کی بے شمار مثالیں ان حضرات کے لٹریچر میں موجود ہے۔ انسان کے خلیفہ فی الارض ہونے، آخرت، جنت، جہنم، ملائکہ اور اقامتِ صلوٰۃ وغیرہ کے متعلق قرآنی آیات کے جو معانی و مطالب یہ حضرات تشریحاتِ رسول کے علی الرغم "منشائے خداوندی" کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ ہر شخص، ان حضرات کی تحریروں میں پڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اس سے بھی بڑھ کر ان آیات کے ساتھ ان حضرات کا طرزِ عمل شرمناک ہے، جن آیات کے مفہوم و مطالب کے صحیح اور حق ہونے کی پشت پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تشریحات اور لغت و استعمال کی تائید کے ساتھ امت مسلمہ کا بلا انقطاع تعامل کی قوت بھی موجود ہے۔ مثلا درود، قربانی، اور اعتکاف وغیرہ، گویا ان امور سے متعلق آیاتِ قرآنیہ کا مفہوم و مدعا اللہ تعالیٰ نے رسول کو بتایا ہی نہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا اور کیا وہ سب "منشائے خداوندی" کے خلاف تھا اور پونے چودہ سو برس سے امتِ مسلمہ جھک مار رہی ہے، جو مسلسل اور یہ متواتر سارے "غیر قرآنی" اور "منشائے خداوندی" کے خلاف اعمال کرتی آ رہی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ قرآن میں معنوی تحریفات پوری بے باکی کے ساتھ کی جا رہی ہیں اور آیاتِ قرآنیہ کے ایسے ایسے ترجمے اور مطالب بیان کئے جا رہے ہین کہ قرآن کے الفاظ جن کے متحمل ہی نہیں۔ آیات کے الفاظ کیا ہیں، مگر ترجمہ دیکھئے تو اس کا کوئی تعلق ان الفاظ کے ساتھ آپ کو نظر نہ آئے گا۔ اپنی خواہش و پسند کو زبردستی آیات کے ترجمہ میں ٹھونسا جاتا ہے۔ قرآن کی ترجمانی نہیں ہوتی بلکہ قرآن کو سکھایا جاتا ہے کہ اسے یہ کہنا چاہئے۔ قرآنی آیات کو دیکھئے اور ان حضرات کا بیان کردہ ترجمہ و تشریح دیکھئے، تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مترجم اور مفسر صاحب اردو میں خود ایک قرآن تصنیف فرما رہے ہیں اور عربی قرآن کی آیات کو صرف دھوکا دینے کے لئے نقل کر دیتے ہیں تاکہ ناواقف لوگ یہ سمجھیں کہ عربی قرآن میں شاید یہی کچھ کہا گیا ہو گا۔ چنانچہ اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
سورہ مومن کے چھٹے رکوع کی پہلی آیت ہے:
﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ ﴿٥١﴾...غافر
اس آیت کا ترجمہ اور اس کا مفہوم مسلمانوں کے مسلم الثبوت علماء نے جو کیا ہے پہلے وہ سامنے  رکھئے:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس کا ترجمہ فرماتے ہیں کہ:
"ہر آئینہ ما نصرت وہیم پیغمبرانِ خویش راد آناں را کہ ایمان آوردند در زندگی دنیا و نیز روزے کے قائم شوند گواہان"
شاہ رفیع الدین رحمۃ اللہ علیہ اس کا ترجمہ یہ فرماتے ہیں کہ:
"تحقیق ہم البتہ مدد دیتے ہیں پیغمبروں ، اپنوں کو اور ان لوگوں کو کہ ایمان لائے، بیچ زندگانی دنیا کے اور اس دن کہ کھڑے ہوں گے گواہی دینے والے۔"
شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ یہ ترجمہ فرماتے ہیں کہ:
"ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کے جینے اور جب کھڑے ہوں گے گواہ۔"
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ یہ ترجمہ فرماتے ہیں کہ:
"ہم نے اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (یعنی فرشتے جو کہ اعمال نامے لکھتے ہیں) کھڑے ہوں گے۔"
شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ یہ ترجمہ فرماتے ہیں:
"ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیا کی زندگانی میں اور جب کھڑے ہوں گے گواہ۔" (میدان حشر میں)
اب آپ طلوعِ اسلام کے روحِ روان مسٹر پرویز کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں، جو وہ اس آیت کا کرتے ہیں:
"ہم ان لوگوں کی کھیتیوں کو۔۔۔جو مستقبل کی خوشحالی پر۔۔۔ایمان رکھتے ہیں۔ ان کے حال کی زندگی میں بھی سیراب کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی جب نتائج خود کھڑے ہو کر پکار اٹھیں گے۔" (اسبابِ زوال امت صفحہ 49)
ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ معنوی تحریف اگر اسے نہیں کہتے، تو پھر آخر تحریفِ معنوی کا مصداق دنیا میں کیا ہو سکتا ہے؟ ۔۔۔ خدا کی پناہ ایسی جسارت سے۔
قرآنی معارف کا ایک نمونہ

"ملا کی قرآن فہمی" کا استہزاء کرنے والے صاحبان معارفِ قرآنیہ کی بے شمار "تادر" قرآن فہمیوں میں سے بطورِ نمونہ کے ایک یہ قرآنی دانی اور قرآنی بصیرت ملاحظہ ہو کہ "اطاعتِ والدین" کے عنوان سے کسی مستفر کے جواب مین ارشاد ہوتا ہے کہ:
"قرآن پاک میں ماں باپ کی اطاعت کا حکم کہیں نہیں آیا ہے۔" (طلوعِ اسلام ، فروری 53ء، ص 61)
حالانکہ قرآن میں ایک موقع پر والدین کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
﴿وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ... ١٥﴾...لقمان
"اگر والدین اس کے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں، تو ان کی اطاعت نہ کرنا۔"
ہر شخص اس آیت اور اس کے سیاق و سباق کا مفاد و مدعا سمجھ سکتا ہے کہ والدین کی اطاعت ضروری ہے، الا یہ کہ وہ کسی ایسے کام کا حکم دیں جس کا ارتکاب معصیت ہو تو پھر ایسی شکل میں ان کی اطاعت روا نہیں۔
ایسی واضح اور صریح آیت کی موجودگی کے باوجود پوری ڈھٹائی سے یہ کیوں کہا گیا کہ:
"قرآن میں ماں باپ کی اطاعت کا حکم کہیں نہیں آیا ہے۔"
یہ درحقیقت زمین ہموار کی جا رہی ہے اس اشتراکی معاشرہ کے لئے جس کی تخم ریزی "نظام ربوبیت" کی دعوت و تلقین کے پردے میں ہو رہی ہے۔
چنانچہ واقف کار حضرات جانتے ہیں کہ اشتراکیت کو تحولِ معاشرہ کے باب میں لڑکوں سے کیا کیا کام لینا پرتا ہے۔ جیسا کہ کارلو سائیگو (Carlo Suigo) سرزمینِ چین میں استراکی تہذیب کی آبیاری اور اشتراکیت کی کاشتکاری سے متعلق اپنے چشم دید حالات پر مشتمل اپنی ڈائری میں لکھتا ہے کہ:
"یہ سمجھنے کے لئے کہ کمیونسٹوں نے ان لڑکوں کے ذریعے کتنے جرائم کروائے ہیں اور اس معاملہ میں انہیں کتنی کامیابی ہوئی ہے، یہ ضروری ہے کہ چینیوں کی روایات اور مسلک کا جائزہ لیا جائے۔ بڑوں کا ادب چینی تہذیب کا نسب سے بڑا خاصہ ہے۔۔لیکن کمیونزم کے راج میں یہ بات بالکل ختم ہو گئی، اب بچے ظالم اور ان کے بڑے مظلوم بن گئے ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اب بچوں کی ہر بات تسلیم کریں ۔۔۔ بالآخر لڑکوں کی تنظیم بھی معرجِ وجود میں آ گئی اور انہیں یہ بتایا گیا کہ دیکھو ہمارے دشمن ہنوز باقی ہیں، پھر کمیونسٹوں نے دشمنوں کی باقاعدہ نشاندہی کر دی۔ (1) وہ والدین جو بچوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔ 02) وہ بڑے جو بچوں کو نگاۃِ حقارت سے دیکھتے ہیں۔ (3) اور وہ سب جو بچوں کی ترقی ناپسند کرتے اور ان کی راہ روکتے ہیں۔ کمیونسٹ در حقیقت والدین کا ہاتھ بچوں کی تربیت سے بالکل نکال دینا چاہتے تھے، کیونکہ تربیت کا معاملہ کمیونسٹ حکومت کی اجارہ داری ہے۔۔ جب کبھی کسی لڑکے نے کوئی تجویز پیش کی تو دوسروں کی تجویز پر اسے ترجیح دی گئی، خواہ وہ کتنے ہی جرائم پر کیوں نہ منتج ہو، یہ پہلا امتیازی سلوک یا پہلا ہتھیار تھا، جو لڑکوں کو دیا گیا تھا، اور جو لڑکے اس ہتھیار کو زیادہ جراءت کے ساتھ استعمال کرتے تھے، انہی کو اسوہ حسنہ کے طور پر پیش کیا جاتا۔۔۔ کمیونسٹوں نے لڑکوں کے ہاتھ میں دوسرا ہتھیار دے دیا، جو شخص بغیر پرمٹ کے سفر کر رہا ہو، جو لڑکوں کی تعظیم نہ کرے گا یا انہیں تنگ کرے گا یا ان کے سوالات کے جواب نہ دے گا یا انہیں دھمکانے کی کوشش کرے گا، ایسا شخص عدالت خاص میں پیش کیا جائے گا، جس کے جج تمام تر لڑکے ہی ہوں گے۔ اب خود ہی اندازہ کر لیجئے کہ گرفتار کرنے والا جب جج بھی ہو تو ملزم کا کیا حشر ہو گا۔" (ماؤزے تنگ کے دیس میں، باب 4)
چنانچہ مصنف نے چند ایسے واقعات لکھے ہیں کہ کس طرح لڑکے اپنے بڑے بوڑھوں کی خاطر تواضع طمانچوں اور گھونسوں سے کیا کرتے۔ اور کس طرح والدین کی سرِ بازار توہین ہونے لگی اور کیسے کیسے جرائم ایسے سعادت مند فرزندوں سے کروا کر اشتراکیت نے اپنے معاشرے کو استوار کیا ہے۔
یہ ہے وہ داعیہ اور مصلحت اندیشی اور دور بینی جس کی بناء پر ابھی سے کانگی کش مکش کے جراثیم کی نشوونما کی جا رہی ہے اور بڑوں کے خلاف جذبہ بغاوت کی پرورش کے لئے انجکشن دیا جا رہا ہے۔