جو شخص اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ "شہید" کہلاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مرتبہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تمنا فرمائی اور مختلف فرامین میں اس کی فضیلت و اہمیت سے امت کو آگاہ کیا۔
"قتل فی سبیل اللہ" کے علاوہ بھی چند صورتیں ایسی ہیں کہ اگر مومن کو اس میں سے کسی بھی صورت میں موت آ جائے تو وہ اللہ کے ہاں "مرتبہ شہادت" سے نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ "صحیح مسلم" باب بیان الشہداء میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، قَالَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ»، قَالُوا: فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم شہید کسے سمجھتے ہو؟" صحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ! جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے ہوں گے۔" صحابہ بولے: "یا رسول اللہ! پھر وہ کون لوگ ہیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والا شہید ہے۔ طاعوت کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید ہے۔ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے۔"
صحیح مسلم کی دوسری روایت میں "ڈوب" کر مرنے والا کو بھی شہید کہا گیا ہے:
أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ، أَوْ قُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ، أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهُ، أَوْ بَعِيرُهُ أَوْ لَدَغَتْهُ هَامَّةٌ، أَوْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ، أَوْ بِأَيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللَّهُ، فَإِنَّهُ شَهِيدٌ، وَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ»(ابوداؤد)
"حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "جو شخص اللہ کی راہ میں نکلے اور فطری موت مر جائے یا قتل ہو جائے یا گھوڑا یا اونٹ اسے گرا دے یا کوئی زہریلی چیز کاٹ کھائے یا جیسے اللہ کو منظور ہو بستر پر ہی موت آ جائے، تو وہ شہید ہے اور اس کے لئے جنت ہے۔"
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ، أَوْ دُونَ دَمِهِ، أَوْ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»(ابو داؤد،نسائی،ترمذی)
"حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو شخص دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے، جو شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ مال کی حفاظت کرتے ہوئے جو شخص مارا جائے، وہ شہید ہے جو شخص اپنے اہل و عیال کی حفاطٹ کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے۔"
(صحح  الدار قطنى من حديث   ابن عمر موت الغریب  شہادۃ )(فتح الباری:6/43)
"امام دارقطنی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے بیان کیا ہے کہ مسافر کی موت شہادت ہے۔"
(ولا بن حبان من حديث  أبى هريرة  من مات مرابطا  مات شهيد)(فتح الباری:6/43)
"امام ابن حبان، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔"
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے دیگر روایات کے حوالہ سے درج ذیل اشخاص کی شہادت کا بھی ذکر کیا ہے:
آگ میں جل جانے والا۔نمونیہ کی بیماری میں مرنے والا۔ نفاس کی حالت میں فوت ہونے والی عورت۔ بلندی سے گر جانے والا اور جس پر کوئی عمارت وغیرہ آ پڑے اور جسے درندے پھاڑ کھائیں۔ یہ بھی حکما شہید ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ:
٭ جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے۔
اس کے علاوہ:
٭ اللہ کی راہ میں فطری موت مر جانے والا۔
٭ طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنے والا۔
٭ پیٹ کی بیماری سے مرنے والا۔
٭ پانی میں ڈوب کر مر جانے والا۔
٭ سواری سے گِر کر جس کی موت واقع ہو۔
٭ کسی زہریلی چیز کے کاٹنے سے مرنے والا۔
٭ دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جانے والا۔
٭ اپنا دفاع کرتے ہوئے مر جانے والا۔
٭ اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے موت کا نشانہ بننے والا۔
٭ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا۔
٭ مسافری کی حالت میں جسے موت آ گئی ہو۔
٭ اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے فوت ہونے والا۔
٭ آگ میں جل کر مر جانے والا۔
٭ نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنے والا۔
٭ بحالتِ نفاس مرنے والی عورت۔
٭ بلندی سے گِر کر یا جس پر کوئی عمارت گِر پڑی اور اس کی موت واقع ہوئی۔
٭ جسے درندے پھاڑ کھائیں۔
یہ سب لوگ شہید کے حکم میں ہیں اور ان کے لئے جنت ہے مگر یاد رہے کہ یہ عظیم مرتبہ، سعادت اور فضیلت صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے جبکہ مرنے والا صحیح معنوں میں مسلمان اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔
مگر نام نہاد معاشرہ میں لفظ "شہید" کو اس قدر بے جا اور غلط استعمال کیا جا رہا ہے کہ ہر ایرے غیرے مر جانے والے کو "شہید" جیسے عظیم لقب سے ملقب کر دیا جاتا ہے۔
٭ خواہ وہ خاندانی دشمنی میں مارا جائے۔
٭ خواہ حکومت کے خلاف بغاوت کرتا مارا جائے۔
٭ خواہ کسی ادارہ کے خلاف احتجاجی جلوس میں گولی کا نشانہ بن جائے۔
٭ خواہ سیاسی پارٹیوں اور جماعتوں کے اختلاف کا نشانہ بنا جائے۔
٭ خواہ اسے قتل وغیرہ کے گھناؤنے اور بھیانک جرائم کی پاداش میں پھانسی پر چڑھایا گیا ہو۔
٭ اور خواہ مرنے والا بے نماز، مشرک، شرابی اور دین سے لاتعلقی کی زندگی گزارنے والا ہو۔
ہمارے معاشرہ میں آج کے نام نہاد مسلمان ایسے مجرموں کو بڑی فراخدلی کے ساتھ "تمغہ شہادت" سے نواز دیتے ہیں۔ اس سے لفظ "شہید" کی عظمت اوروقار اس قدر مجروح ہوا ہے کہ سنجیدہ طبقے "شہادت" کے مستحق افراد کو بھی شہید کہنے اور لکھنے سے گریز کرنے لگے ہیں۔
﴿فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا ﴿٧٨﴾...النساء