ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • فروری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
جو شخص اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ "شہید" کہلاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مرتبہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تمنا فرمائی اور مختلف فرامین میں اس کی فضیلت و اہمیت سے امت کو آگاہ کیا۔
"قتل فی سبیل اللہ" کے علاوہ بھی چند صورتیں ایسی ہیں کہ اگر مومن کو اس میں سے کسی بھی صورت میں موت آ جائے تو وہ اللہ کے ہاں "مرتبہ شہادت" سے نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ "صحیح مسلم" باب بیان الشہداء میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، قَالَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ»، قَالُوا: فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم شہید کسے سمجھتے ہو؟" صحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ! جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے ہوں گے۔" صحابہ بولے: "یا رسول اللہ! پھر وہ کون لوگ ہیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والا شہید ہے۔ طاعوت کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید ہے۔ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے۔"
  • فروری
1989
غازی عزیر
اپنے مسلم معاشرہ میں یہ بات عام طور پر کہی اور سنی جاتی ہے کہ:
"جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔"
بعض علماء واعظین اور خطباء بھی "(ألجنة تحت أقدام الأمهات)" (جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے) کا تذکرہ اپنی تصانیف اور پُر نصائح وعظ و تقاریر میں بلاتکلف کرتے نظر آتے ہیں گویا یہ اَمرِ ثابت ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ مرذج و مشہور الفاظ کسی جید اور قابلِ اعتماد اسناد کے ساتھ مرفوعا ثابت ہی نہیں ہیں۔ اس موضوع کی جتنی روایات ذخیرہ احادیث میں موجود ہیں۔ شارحینِ حدیث نے ان کا کیا معنی و مطلب متعین کیا ہے اور ان روایات کا محدثین کے نزدیک کیا مقام و مرتبہ ہے۔ یہ واضح کرنے کے لئے یہ مختصر مضمون ہدیہ ناظرین ہے۔
  • فروری
1989
علیم الدین شمسی
"سیلاب آ رہا ہے، اپنے سرمایہ کی حفاظت کرو۔"
جلیل نے نذیر کی معرفت راشد کو یہ پیغام بھیجا اور نذیر کو اپنے اس پیغام کا منشاد مراد بتا دیا کہ "سیلاب" سے اس کی کیا مراد ہے؟ بداخلاقیوں اور برائیوں کی کثرت پر متنبہ کرنا مقصود ہے یا پانی والے سیلاب کی خبر دینا مدِنظر ہے۔ اس طرح "سرمایہ" اور اس کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ سیرت و کردار کی خوبیاں اور حسنِ اخلاق مراد ہے یا روپیہ اور خانگی سازو سامان مراد ہے؟ راشد تک یہ پیغام پہنچتا ہے، اس کا مفاد و مدعا جلیل ہی بتا سکتا ہے، مگر بعض اسباب ایسے ہیں کہ جلیل راشد کو براہِ راست اپنے پیغام کا مفہوم و مراد نہیں بتا سکتا۔ لہذا اب اس کی واحد شکل یہ ہے کہ نذیر بتائے کہ جلیل کی اس سے کیا مراد ہے؟ اور نذیر ہی کو اس کا حق بھی پہنچتا ہے۔
اب فرض کیجئے کہ نذیر یہ کہتا ہے کہ اس پیغام کا مفہوم و مدعا یہ ہے کہ دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی کا ریلا تیزی سے بڑھتا آ رہا ہے اس لئے راشد کو چاہئے کہ وہ اپنے مال و اسباب کی حفاظت کا سامان کرے، ورنہ ساری چیزیں پانی کے سیلِ رواں میں بہہ جائیں گی۔
  • فروری
1989
عبدالسلام کیلانی
سوال: کیا فرماتی ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور محدثین کرام و فقہاء اور صلحائے امت کی آراء اس مسئلہ میں کہ: "آیا غیر مسلم اور غیر اہل کتاب (مثلا ہندو، سکھ، جین، بدھ وغیرہ) کے ساتھ کھانا کھانا یا غیر اہل کتاب باورچی کے ہاتھ کا تیار شدہ کھانا کھانا مسلمانوں کے لئے شریعتِ مطہرہ میں ممنوع اور حرام ہے۔ اگرچہ مذکورہ غیر اہل کتاب شخص کھانا کھاتے یا پکاتے وقت ہاتھ منہ دھونے اور نجاست سے دور رہنے کا اہتمام کرتا ہو،  محض اس لئے کہ وہ غیر مسلم یا غیر اہل کتاب ہے؟ نیز کیا تمام بنی آدم کا لعاب دہن پاک ہے یا صرف مسلم کا لعاب دہن؟
یہ مسئلہ یہاں رفقاء کے درمیان نزاع کی صورت اختیار کر گیا ہے، لہذا التماس ہے کہ جلد بالتفصیل بقید سند و حوالہ جات مسئولہ اُمور کے جوابات براہِ راست یا "محدث" میں شائع فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ (فضل الرحمن محبوب شریف)
  • فروری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 3
ملکیتِ مال ۔۔۔ اور ۔۔۔قرآن مجید
قل العفو (29/2) پر بحث:
قرآن کریم میں اس بات کی کیا دلیل ہے کہ افراد اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اس قدر کے ہی حق دار ہیں، جو فرد کا سب کی محنت کے بقدر ہو اور اس سے زائد کمائی کے وہ مالک نہیں ہو سکتے؟ اس کے جواب میں سورۃ البقرۃ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ... ٢١٩﴾... البقرة 
"وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ کہو جو بہترین چیز ہو۔"
پرویز صاحب کا استدلال یہ ہے کہ یہاں عفو کے انفاق کا حکم ہے لغتِ عرب میں چونکہ عفو المال کے معنی زائد از ضرورت ، مال کے بھی ہیں۔ اس لئے یہاں تمام زائد از ضرورت مال کے، انفاق کا حکم دیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ فاضلہ دولت کے مالک نہیں ہو سکتے ہیں۔
  • فروری
1989
عبدالغفور عاجز
موت اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ آئینی جابطہ ہے جس سے کسی ذی روح کو فرار میسر نہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے مکتلف ادوار بچپن، جوانی یا بڑھاپا۔ کسی حصہ میں بھی کسی وقت بھی اچانک اس آئین کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اس آئین کے تفصیلی پہلوؤں میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس کا اطلاق ہر جاندار پر بلا تخصص و استثناء ہوتا ہے۔ چاہے وہ خود صاحبِ آئین اللہ جل شانہ، کا برگزیدہ رسول یا نبی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ارشاد ہوتا ہے:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ... الزمر 
"آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے۔"
  • فروری
1989
عبدالرشید عراقی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کدمتِ حدیث تاریخِ اسلام کا ایک دخشندہ باب ہے۔ آپ نے جس دور میں جنم لیا، اس وقت برصغیر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ تاہم آپ کی سعی و کوشش سے برصغیر میں روشنی کے آثار پیدا ہوئے۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ (م 1373ھ) لکھتے ہیں:
"ہندوستان کی یہ کیفیت تھی، جب اسلام کا وہ دختر تاباں نمودار ہوا جس کو دنیا شاہ ولی اللہ دہلوی کے نام سے جانتی ہے۔ مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا۔ مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا۔ جھوٹے فقراء اور مشاءخ جا بجا اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے۔ مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق و حکمت کے ہنگاموں سے پُر شور تھا۔ فقہ و فتاویٰ کی لفظی پرستش ہر مفتی کے پیش نظر تھی۔ مسائل فقہ میں تحقیق و تدقیق سب سے بڑا جرم تھا۔ عوام تو عوام، خواص تک قرآن پاک کے معانی و مطالب اور احادیث کے احکام و ارشادات اور فقہ کے اسرار و مصالح سے بے خبر تھے۔ شاہ صاحب کا وجود اس عہد میں اہل ہند کے لئے موہبت عظمیٰ اور عطیہ کبریٰ تھا۔
  • فروری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نام کتاب۔۔۔مقامِ صحابہ رضی اللہ عنہم (شیعہ مذہب کی کُتب کی روشنی میں)
مؤلف۔۔۔ مولانا حکیم فیض عالم صدیقی مرحوم
صفحات۔۔۔ 126
قیمت۔۔۔ 18 روپے
ناشر۔۔۔ مکتبہ فیض القرآن، محلہ مستریاں، جہلم
مرحوم حکیم مولانا فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ہماری جماعت کے صاحب علم و قلم بزرگ گزرے ہیں۔ انہوں نے شیعہ مذہب کی جملہ کتب کو کنگھالا ہوا تھا اور شیعہ مذہب پر علمی و تحقیقی انداز میں سخت تنقید کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بلند مرتبہ ہونا صرف اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ شیعہ اکابر کے ہاں بھی مسلم ہے اور ان کی کتب اس پر شاہد ہیں۔