انبیاء علیہم السلام کی شہادت یا دشمن کے ہاتھوں قتل کے بارے میں علماء میں دو مختلف آراء مشہور ہیں:
1۔ دشمن کے ہاتھوں رسول کا قتل ناممکن ہے۔
2۔ دشمن کے ہاتھوں نبی یا رسول کا قتل ممکن ہے۔
جیسا کہ متعدد قرآنی آیات سے ظاہر ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ ہذا کچھ وضاحت ک متقاضی ہے۔
اولا لفظ قتل کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:
قتل کے حقیقی معنی ہیں (موت فطری کے علاوہ کسی اور طریقے سے) روح کو جسم سے جدا کر دینا خواہ ذبح کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اب تفصیل اس اجمال کی ہوں کہ رُسُلُ اللہ دو طبقوں میں منقسم ہے۔
ایک وہ جن کو دشمنوں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسرے وہ جو محج مبلغ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کے مامور نہ تھے۔
جہاں تک پہلے گروہ کا تعلق ہے ان کا قتل ممکن نہیں کیونکہ قرآن مجید میں ان کے لئے غلبہ ثابت کیا گیا ہے۔ جو مغلوب کی ضد ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۚ إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٢١﴾...المجادلة
"اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے۔"
اس سے پہلی آیت میں ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ أُولَـٰئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ ﴿٢٠﴾ ...المجادلة
"جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔"
اور مذکورہ جملے کے بعدہے۔
﴿إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ ...الحج
"بےشک اللہ زور آور (اور) زبردست ہے۔"
قرآن مجید میں اکثر و بیشتر غلبے کا اطلاق مسلح غلبہ پر ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا ... ٦٥﴾ ... الأنفال
 "اگر تم میں بیس (20) آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے اور دو سو (200)  کافروں پر غالب رہیں گے اور اگر سو (100) (ایسے) ہوں گے تو ہزار (1000) پر غالب رہیں گے۔"
نیز فرمایا:
﴿فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللّہ... ٦٦﴾... الأنفال
"پس اگر تم سے ایک سو (100) ثابت قدم رہنے والے ہوں گے۔ تو دو سو (200) پر غالب رہیں گے اور اگر ایک ہزار (1000) ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار (2000) پر غالب رہیں گے۔"
سورۃ الروم کے آغاز میں ہے:
﴿الم ﴿١﴾ غُلِبَتِ الرُّومُ ﴿٢﴾ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ﴿٣﴾ فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلّہ... ٤﴾...الروم
 "الم (اہل) روم مغلوب ہو گئے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے۔ چند ہی سال میں۔"
اور سورۃ البقرہ میں ہے:
﴿كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّہ... ٢٤٩﴾ ...البقرة
"وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے۔"
ان کے علاوہ بھی بے شمار آیات ہیں جو اسی مفہوم پر دال ہیں کہ غلبہ سے مراد مسلح غلبہ ہے جو کفار کے ساتھ جنگ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بھی صراحت فرمائی ہے۔ کہ مقتول کو غالب نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ مغلوب ہے۔ ارشاد ہے:
﴿وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ ... ٧٤﴾...النساء
 "اور جو شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر شہید ہو جائے یا غلبہ پائے۔"
ان آیات سے معلوم ہوا کہ نبی مامور بالجہاد پر قتل کا فعل واقع نہیں ہوتا کیونکہ اللہ عزوجل نے ازل میں یہ فیصلہ لکھ چھوڑا ہے۔ کہ نبی مقاتل غالب رہے گا اور اس کے وعدے میں تغیر تبدل پیدا نہیں ہو سکتا۔ ارشاد ہے:
﴿وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللہ... ٣٤﴾... الأنعام
 "اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔"
مزید آنکہ محققین اہل علم نے اِس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ غلبۃ الانبیاء کی دو قسمیں ہیں۔
دلائل و براہین کے ذریعہ غالب آنا، یہ تمام نبیوں کے لئے بلاتردد ثابت شدہ امر ہے۔
البتہ مسلح جدوجہد سے غلبہ حاصل کرنا، یہ صرف اِن پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے جو مامور بالقتال تھے۔
اللہ تعالیٰ نے منصور سے مکمل طور پر نفی کی ہے۔ کہ وہ مغلوب ہو۔ فرمایا:
﴿إِن يَنصُرْكُمُ اللَّـهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ... ١٦٠﴾...آل عمران
 "اگر اللہ تمہارا مددگار ہے، تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔"
مفسرِ مقاتل سے منقول ہے کہ آیت ﴿ كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ ... ٢١﴾... المجادلة " کا شانِ نزول یہ ہے کہ بعض لوگوں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے اصحاب یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ روم اور فارس پر ایسے ہی غالب آ جائیں گے جس طرح کہ وہ عرب پر غلبہ حاصل کر چکے ہیں حالانکہ روم اور فارس عددی اور مسلح قوت کے اعتبار سے بے حد طاقتور ہیں۔ ان پر غالب نہیں آ سکتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا غلبہ سے مراد تلوار اور ہتھیار کے ذریعے غلبہ ہے۔ کیونکہ صورتِ سبب کا اخراج ناممکن ہے۔ بلکہ اس کا لحاظ رکھنا ضروری امر ہے۔ اس مسلک کے برعکس امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ زیر آیت ﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا ... ٥١﴾...غافر" فرماتے ہیں۔ رسول مامور بالجہاد کے قتل سے کوئی شئے مانع نہیں۔ اِس وقت اللہ کی طرف سے منصوص امداد کو دو امروں میں سے ایک امر پر محمول کیا جائے گا۔
1۔ کہ اللہ رسول کی وفات کے بعد اس کی امداد کرے وہ اس طرح کہ دشمن کو اس کی وفات کے بعد رسول کے قاتلین پر مسلط کر دے جو ان سے انتقال لے۔ جیسے حضرت یحییٰ، زکریا، یسعیا کے قاتلین پر بخت نصر کو مسلط کر دیا گیا تھا۔
2۔ آیت ﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا ... ٥١﴾...غافر " میں لفظ رُسُل کو خصوص پر محمول کیا جائے کہ اس سے مراد اکیلے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ہمارے شیخ علامہ محمد الامین الشنقیطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر اضواء البیان میں اس کا یوں تعاقب کیا ہے۔
1۔ یہ کتاب اللہ کے ظاہر متبادر الی الذھن کو بلا دلیل کتاب و سنت اجماعِ اُمت ترک کرنا ہے۔ اندریں حالات یہ حکم لگانا کہ مقتول منصور ہے۔ اس میں سخت بُعد اور عربی زبان میں غیر معروف ہے۔ قرآن کو بلا دلیل اس پر محمول کرنا ظاہر غلطی ہے، اِسی طرح لفظ رُسُل کو بھی صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر محمول کرنا اِس میں بھی سخت قلق ہے۔
جہاں تک تعلق ہے ان آیات کا جن میں نبیوں سے عمومی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے تو وہ بلا نزاع برحق ہیں۔
2۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مطلق امداد پر اکتفاء نہیں کیا جس کا مفہوم لغت میں مظلوم کی فریاد رسی کرنا ہے۔ بلکہ صراحت کی ہے کہ رسولوں کی امداد کے ذریعہ غلبہ کی امداد ہے۔ چنانچہ فرمایا: كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ...﴿٢١﴾... المجادلة
یہ بھی یار رہے  غلبہ جو اللہ نے قضاء و قدر میں رسولوں کے لئے لکھ چھوڑا ہے وہ مطلق امداد سے اخص ہے۔ کیونکہ یہ خاص قسم کی امداد کا نام ہے۔ لغت میں غلبہ بمعنی قبہر ہے اور نصر بمعنی مظلوم کی اعانت کرنا لہذا اعم کا بیان اخص کے ساتھ ضروری ہے۔ اس توضیح سے امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کے مذکور مسلک کی کمزوری بھی ظاہر ہو گئی۔ " فتأمل" نیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں۔ کبھی کوئی نبی قتل نہیں ہوا ماسوائے اس کے جس کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا۔ ہر وہ نبی جس کو جنگ کا حکم ہوا ہے اس کی امداد ہوئی۔ (تفسیر القرطبی، ص 368، ج1)
لہذا قرآن مجید میں منصوص قتل انبیاء محمول ہے۔ ان نبیوں پر جنہیں لڑائی کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ ان کی اکثریت انبیاء بنی اسرائیل سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ تفاسیر میں بطور امثلہ مصرع ہے۔ قرآن کریم نے بھی مسئلہ ہذا کو یہودیوں کے مظالم و جرائم کا سلسلہ کلام میں بیان کیا ہے۔ بنا بریں ﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ﴾" میں بلاوجہ ارادہ مقدر ماننا غیر معقول ہے۔ جبکہ مقصود یہاں یہود کے افعالِ شنیعہ کی فہرست پیش کرنا ہے ظاہر ہے کہ محض ارادہ قابلِ مؤاخذہ یا قابلِ مذمت شئی نہیں۔ جب تک عملی شکل میں ظہور نہ ہو۔ اس لئے جن لوگوں نے بلاوجہ آیت ہذا میں ارادہ مقدر مان کر مطلقا قتل انبیاء کے انکار کی سعی کی ہے وہ ناقابلِ تسلیم اور غیر درست نظریہ ہے۔
پھر لفظ " بغير حق" قید میں بھی عدم تقدیر کا ایماء موجود ہے۔ فافہم
امام قرطبی نے یہ بھی سوال اُٹھایا ہے کہ اِس کا کیا جواز ہے کہ کفار کو کُھلا چھوڑ دیا۔ وہ انبیاء کو قتل کرتے پھریں؟ اس کا جواب انہوں نے یوں دیا ہے کہ مقصود اس سے انبیاء علیہم السلام کی کرامت اور درجات میں، رفعت و بلندی اور زیادتی ہے۔ بندہ مومن کی مانند جو فی سبیل اللہ شہادت کے مقام پر فائز ہوتا ہے یہ کوئی رسوائی کی بات نہیں۔ آخر میں یہ بھی یاد رہے کہ مذکور بحث کا تعلق صرف واقعاتی صورتوں سے ہے نہ کہ امکانی سے۔
اللہ تعالیٰ جملہ اہل اسلام کو حق کی پیروی کی توفیق بخشے۔ (آمین)
عبد رسول اور نبی ملک میں فرق کی وضاحت
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف
" الفرقان بين أولياء الرحمن و أولياءالشيطين" میں طبقات انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں ایک اہم فرق کی وضاحت کی ہے۔ جو لائقِ مطالعہ اور علم میں اضافے کا موجب اور یاد رکھنے کے قابل ہے۔ فرماتے ہیں جس طرح اولیاء کرام میں دو طبقے ہیں، سابقین مقربین اور اصحاب یمین متقدین۔
اسی کی نظیر انبیاء علیہم السلام عبد رسول اور نبی ملک کی تقسیم ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سرور کونین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے درمیان اختیار عطاء فرمایا تھا۔ خواہ عبد رسول بنیں، خواہ نبی ملک، آپ نے عبد رسول بننا پسند فرمایا۔ پس نبی ملک تو جیسے داؤد علیہ السلام اور ان کے امثال ہیں۔ اللہ عزوجل حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ﴿٣٥﴾ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ ﴿٣٦﴾ وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ﴿٣٧﴾ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ﴿٣٨﴾ هَـٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿٣٩﴾ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ﴿٤٠﴾ ... ص
"حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی۔ اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو، بے شک تو بڑا عطاء فرمانے والا ہے۔ پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیر فرمان کر دیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی۔ اور دیووں کو بھی (ان کے زیر فرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے۔ اور اوروں کو بھی، جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ (ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے۔"
پس نبی ملک پر جو کچھ فرض کیا گیا وہ اس کو انجام دیتا ہے اور جس کو اللہ نے اس پر حرام کر دیا اسے ترک کر دیتا ہے۔ ولایت اور اموال میں جس طرح پسند کرتا اور مناسب سمجھتا ہے تصرف کرتا ہے اس کے بغیر کہ اس پر کوئی گناہ ہو لیکن "عبدہ رسول" اپنے رب کی مرضی کے بغیر کسی کو نہیں دیتا اور یہ نہیں کرتا کہجسے چاہے عطا کر دے، اور جسے چاہے محروم رکھے۔ بلکہ جس کو عطا کرنے کا حکم پروردگار دے اسے عطا کرتا اور جس کی تولیت کا امر کرے اسے والی بناتا ہے۔ پس اس کے سارے کے سارے کام اللہ کی عبادات ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
" إنى والله  لا أعكى أحد ا و لا أمنع أحد إنما أنا قاسم أضع حيث أمرت"
"میں اللہ کی قسم نہ کسی کو عطا کرتا ہوں اور نہ کسی سے روکتا ہوں۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں جہاں مجھے حکم دیا گیا، رکھ دیتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اموال شرعیہ کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے۔"
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ... ١﴾...الأنفال
 یعنی "کہہ دو مال غنیمت اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے۔"
نیز فرمایا:
﴿مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلّه... ٧﴾...الحشر
 یعنی "جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے۔ وہ اللہ اور رسول کے لئے ہے۔"
اور اسی طرح فرمایا:
﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ ... ٤١﴾... الأنفال
 "اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ۔ اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔"
اور اسی لئے اقوال علماء میں سے ظاہر تر یہی قول ہے کہ یہ اموال اولی الامر کے اجتہاد کے مطابق وہاں خرچ کئے جائیں۔ جہاں اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو۔
چنانچہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر سلف کا یہی مذہب ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی مشہور ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے تین حصے کر دئیے جائیں۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اسی کے قائل ہیں۔ مقصود یہاں یہ ہے کہ "عبدہ رسول" نبی ملک سے افضل ہے۔ چنانچہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد المصطفیٰ علیہم السلام افضل ہیں۔ حضرت یوسف، حضرت داؤد، حضرت سلیمان علیہم السلام سے کہ مقربین، سابقین، ابرار، اصحاب الیمین سے افضل ہیں۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ اولیاء اللہ میں سب سے افضل مُرسلین ہیں اور مُرسلین میں سب سے افضل اُولوالعزم ہیں حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اُولوالعزم میں سب سے افضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین امام المتقین سید ولد آدم اور امام الانبیاء ہیں۔
تمام انبیاءِ کرام پر علی الاطلاق آپ کی فضیلت کے سلسلہ میں کُتب احادیث مثلا مشکوٰۃ المصابیح، سنن الدارمی، دلائل النبوۃ، بیہقی، دلائل النبوۃ اصفہانی اور انحصائص الکبری ، سیوطی وغیرہ میں وارد احادیث موجود ہیں۔ إن شئت البسط فراجعها