قسط : 2
ملکیت مال ۔۔۔ اور ۔۔۔ قرآن مجید
دلیلِ پرویز: پرویز صاحب نے ملکیتِ اراضی کی نفی کی دلیل " ألأرض لله" سے کشید کی تھی، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا بطلان وہ درج ذیل آیت سے اخذ کرتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾ ...النحل
"اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق، غلاموں کی طرف پھیر دیا کریں تاکہ وہ سب اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان کو انکار ہے۔"
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں میں معیشت اور رزق کا باہمی فرق و تفاضل خود منشائے ایزدی ہے " ﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ...﴿٧١﴾ ...النحل " کے الفاظ اس حقیقت پر دال ہیں۔ خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
"وہ (یعنی اسلام "مؤلف") ایسی اشتراکیت کا حامی نہیں ہو سکتا، جس میں خدا کی ہستی کا انکار ہو اور مساواتِ انسانی کی بنیاد، مساواتِ شکم قرار دی جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت جائز ہے۔" (معارف القرآن، ج1، ص 121)
اب جبکہ رزق میں یہ تفاضل، خود خدائی سکیم کا حصہ ہے، تو اس سے اگلے الفاظ " ﴿... فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ...﴿٧١﴾ ...النحل " سے یہ مفہوم اخذ کرنا کہ:
"جس کے پاس زیادہ رزق ہو، وہ دیگر افراد کو اس طرح دے دے کہ سب میں مساواتِ شکم پیدا ہو جائے۔ ہرگز ہرگز قرآن مفہوم نہیں ہو سکتا، لیکن یہاں پہنچ کر پرویز صاحب، ان الفاظ کا یہ مفہوم پیش کرتے ہیں کہ:
"وہ اپنی فاضلہ کمائی کو ان کے حوالے کر دیں، جو ان کے غلام ہیں، تاکہ سب باہم برابر ہو جائیں۔"
چنانچہ وہ ان الفاظ کے تحت لکھتے ہیں:
"سو یہ لوگ اپنی فاضلہ دولت ان لوگوں کو کیوں نہیں دے دیتے، جو ان کے زیرِ ہدایت کام کرتے ہیں۔" (مفہوم القرآن، ص 608)
پرویز صاحب کے اس تضاد کو ملاحظہ فرمائیے کہ آیت کے اوپر والے حصے میں رزق میں لوگوں کے باہمی فرق و تفاضل کو جائز قرر دیا گیا ہے، مگر بعد والے حصہ میں اس کو ناجائز قرار دے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ " ﴿... فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ...﴿٧١﴾ ...النحل کا قطعا وہ مفہوم نہیں ہے، جو پرویز صاحب نے بیان فرمایا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں آیت کے دونوں حصے باہم متضاد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
آیت (17/16) کا صحیح مفہوم: آیت کا اصل اور صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آیت کے سیاق و سباق پر غور کیجئے۔ اوپر سے پوری تقریر اثبات توحید اور ردِ شرک میں چلی آ رہی ہے۔ اس سے آگے بھی یہی مضمون جاری ہے۔ اس سیاق و سباق میں آخر ایک معاشی ضابطہ بیان کرنے کا کیا موقع ہے؟ یہاں مشرکینِ عرب کو سمجھایا جا رہا ہے کہ خدا نے رزق میں تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے اور تم اپنی اس فضیلت کی بناء پر خود یہ نہیں چاہتے  کہ تمہارے غلام، تمہارے مال و دولت میں یوں حصہ دار بن جائیں کہ وہ اور تم باہم مساوی ہو جاؤ، تو آخر تم خود خدا کے پیدائشی غلام اور بندے ہوتے ہوئے یہ دھاندلی کیوں کرتے ہو کہ خدائی اختیارات اور حقوق ایزدی میں اللہ کے بندوں کو اس کا شریک اور ساجھی قرار دو اور انہیں خدا کا ہم پلہ بنا ڈالو۔ بالکل یہی مضمون سورۃ روم میں بھی مذکور ہے:
﴿ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ... ٢٨﴾...الروم "وہ خود تمہیں تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے، کیا تمہارے ان غلاموں میں  سے، جو تمہارے ملکیت میں ہیں، کچھ غلام ایسے بھی ہیں، جو ہمارے دئیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو۔"
ان الفاظ کا مفہوم پرویز صاحب نے یوں بیان کیا ہے:
"ہم اس کے لئے خود تمہاری اپنی مثال پیش کرتے ہیں۔ تمہارے ہاں وہ غلام بھی ہیں جو تمہارے ماتحت کام کرتے ہیں۔۔۔تمہارے غلام وغیرہ۔۔۔کیا تم ایسا کرتے ہو کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں انہیں اس طرح شریک کر لو کہ وہ او تم ہر طرح سے برابر ہو جاؤ اور پھر تم ان سے اس طرح ڈرنے لگ جاؤ کہ جس طرح تم اپنے برابر کے لوگوں سے ڈرتے ہو (سو جب یہ لوگ، جو تمہارے زیرِ فرمان کام کرتے ہیں، تمہارے جیسے انسان ہونے کے باوجود تمہارے ہمسر نہیں ہو سکتے، تو کائنات کی مخلوق، خواہ وہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو اس خدا کے برابر کس طرح ہو سکتی ہے، جس نے اسے پیدا کیا ہے اور وہ اس کے قوانین کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہے۔" (مفہوم القرآن 936)
سورۃ روم کی اس آیت کا اصل مفہوم یہی ہے (اس مفہوم کے سابق و لاحق میں پرویز صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ چونکہ الفاظِ قرآنی کی حدود سے یکسر خارج ہے اس لئے ناقابلِ اعتناء ہے) اور یہی مفہوم، سورۃ نحل کی اس آیت کا ہے جس کے دوسرے حصے سے، وہ مفہوم کشید کیا جا رہا ہے، جو خود پرویز صاحب ہی کے بیان کردہ پہلے حصہ آیت کے ساتھ متناقض ہے۔
ذاتی ملکیت اورقرآن:
علاوہ ازیں قرآن مجید کی کثیر التعدادآیات "ذاتی ملکیت" پر دال ہیں۔ فی الھال صرف ایک آیت ملاحظہ فرمائیے:
﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّـهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّـهَ مِن فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٣٢﴾ ...النساء
"اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو، جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو۔یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔"
ان الفاظ کا مفہوم، خود پرویز صاحب نے بایں الفاظ پیش کیا ہے:
ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں، اس تصور کا ازالہ بھی ضروری ہے جس کی رو سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ حقوقِ ملکیت صرف مرد کو حاصل ہوتے ہیں۔ عورت کو نہیں ہوتے۔ جیسا کہ پہلے بھی لکھا جا چکا ہے (7/4) عورت اپنے جائیداد و مال کی آپ مالک ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سمجھنا بھی غلط ہے کہ کمائی کرنا صرف مرد کا کام ہے، عورت ایسا نہیں کر سکتی۔ مرد اور عورت دونوں اکتسابِ رزق کر سکتے ہیں، جو کچھ مرد کمائے وہ اس کا حصہ ہے، جو کچھ عورت کمائے وہ اس کا حصہ۔ یہ ٹھیک ہے کہ جہاں تک فطری فرائض کا تعلق ہے بعض باتوں میں مردوں کو برتری حاصل ہے اور بعض میں عورتوں کو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتیں اپنے آپ کو اپاہج بنا کر مردوں کی کمائی کو تکتی رہیں اور خود کچھ نہ کریں۔ انہیں چاہئے کہ خدا سے زیادہ سے زیادہ معاشی اکتساب کی توفیق طلب کرتی رہیں۔ خدا خوب جانتا ہے کہ وہ کیا کچھ کر سکتی ہیں۔" (مفہوم القرآن، ص 187)
ایک دوسرے مقام پر، پرویز صاحب رقم طراز ہیں:
"مردوں اور عورتوں کے جداگانہ حقوقِ ملکیت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ مرنے والے کے ترکہ میں ان سب کا حصہ ہو، صرف مردوں ہی کا نہ ہو۔" (مفہوم القرآن، ص 188)
آیت (32/4) خود پرویز صاحب کے اپنے بیان کردہ مفہوم کی روشنی میں ذاتی ملکیت پر برہانِ قاطع ہے۔ فاضلہ مال و دولت کے جواز پر بھی بہت سی آیات گواہ ہیں۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہنا چاہئے کہ جس طرح " أرضكم" (110/7) " أرضنا" (13/14) " أرضهم" (27/33) وغیرہ کے الفاظ میں زمین کی ذاتی ملکیت کا تصور " ألأرض لله" (128/7) کے الفاظ میں بیان کردہ ملکیتِ ایزدی کے تصور کے منافی نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح " أموالكم" (2/4) " أموالهم" (2/4) اور " أموالنا" (87/11) وغیرہ کے الفاظ میں مضمر، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا نظریہ، " مال لله" (23/24) کے الفاظ میں بیان کردہ ملکیتِ ایزدی کے منافی نہیں ہے، قرآن جگہ جگہ انفاقِ اموال میں بخل اور کنجوسی کی مذمت کرتا ہے اور مختلف اسالیب سے اہل ایمان کو اس قبیح عادت سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔ مثلا:
آیاتِ بخل اور شخصی ملکیت:
﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ... ١٨٠﴾ ... آل عمران "جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بخل سے کام لیتے ہیں۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ بخیلی ان کے لئے اچھی ہے، نہیں یہ ان کے حق میں بہت بری ہے۔ ان کے بخل کا نتیجہ قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔"
﴿الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ... ٣٧﴾ ...النساء
"ایسے لوگ جو بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کی شہ دیتے ہیں۔ اللہ کو پسند نہیں اور اللہ کے عطا کردہ فضل کو چھپاتے ہیں۔"
﴿فَلَمَّا آتَاهُم مِّن فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوا وَّهُم مُّعْرِضُونَ ﴿٧٦﴾ ...التوبة
"پھر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا، تو وہ بخل پر اُتر آئے اور اپنے عہد سے بڑے بے پرواہ ہو کر پھرگئے۔"
﴿هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ ۖ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ ... ٣٨﴾... محمد "تم کو راہِ خدا میں دولت خرچ کرنے کو کہا جاتا ہے، تو تم میں سے کچھ لوگ بخل کرتے ہیں، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔"
﴿الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ﴿٢٤﴾ ... الحديد
"جو لوگ بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔"
﴿وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ﴿١٠﴾ ...اللیل
"اور جس نے بخل کیا اور اپنے خدا سے بے نیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا اس کو ہم سخت راستے کے لئے سہولت دیں گے۔"
یہ سب آیات اہل ایمان کو بخل اور کنجوسی سے اجتناب و احتراز کا حکم دیتی ہے، ان آیات میں وہ آیات بھی ہیں، جو غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ مثلا آیت ( 76/9) جب کہ اسلامی حکومت وجود پذیر ہو چکی تھی۔ اب اگر قرآن بقول پرویز صاحب اہل ایمان کے پاس ان کی ضروریات سے زائد دولت ان کے پاس رہنے ہی نہیں دیتا تو انہیں بخل سے بچنے کی یہ تعلیم کس لئے؟ بخیل تو وہی ہو سکتا ہے، جو زائد ضرورت دولت اپنے پاس رکھے اور پھر راہِ خدا میں خرچ نہ کرے۔ ورنہ اگر کسی کے پاس فاضلہ دولت اگر سرے سے ہے ہی نہیں تو وہ بخل اور کنجوسی کیا کرے گا۔ خود سوچئے کہ اگر اسلامی حکومت بزعمِ پرویز صاحب، زائد از ضرورت دولت لوگوں کے پاس رہنے ہی نہیں دیتی، تو ان کے لئے بخل اور کنجوسی کا کیا امکان باقی رہ جاتا ہے کہ انہیں یہ وعید سنائی جائے کہ اس بخل کا نتیجہ بصورتِ طوق ان کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ الغرض یہ آیاتِ قرآنیہ، ملکیت افراد پر کھلی کھلی دلالت کرتی ہیں۔ (جاری ہے)