خوش بخت نہیں کوئی مسلماں سے زیادہ
میں روؤں نہ کس طرح ہر انساں سے زیادہ
ہیں کس کی خطائیں میرے عصیاں سے زیادہ
تو کون و بیاباں میں جسے ڈھونڈ رہا ہے
نزدیک ہے وہ تیری رگِ جاں سے زیادہ
ہیں سیدِ کونین بھی انسان ہی لیکن
اشرف ہیں معزز ہیں ہر انساں سے زیادہ
سیرت میں تھے ممتاز ہر اک سے میرے آقا
صورت میں حسیں ماہِ درخشاں سے زیادہ
خوش بخت ہے وہ دعوی ایماں میں ہے صادق
ہیں جس کو عزیز آپ دل و جاں سے زیادہ
دنیا کا ہر اک غم غمِ جاناں پہ تصدق
غم کوئی نہیں ہے غمِ جاناں سے زیادہ
مسجد میں ٹھہرنے کو سمجھتا ہے منافق
اک قیدِ گراں گوشہ زنداں سے زیادہ
مومن کے یہ ایماں کی علامت ہے کہ اس کو
مسجد میں سکوں ملتا ہے بستاں سے زیادہ
قدموں میں تری ماں کے ہیں جنت کی بہاریں
لائق نہیں خدمت میں کوئی ماں سے زیادہ
اتنا تو بتا مجھ کو تو مومن ہے تو پھر کیوں
افسانے پڑھا کرتا ہے، قرآں سے زیادہ
ہو مال کہ اولاد، تجارت کہ حکومت
قیمت میں نہیں کوئی بھی ایمان سے زیادہ
یہ ہاتھ اٹھے بہرِ دعا جب بھی الہیٰ
بخشا مجھے تو نے میرے ارماں سے زیادہ
اک حکم کے انکار پہ لعنت ہوئی وارد
عابد نہ تھا، ورنہ کوئی شیطان سے زیادہْ
پابندی اسلام ہے ہر غم سے رہائی
خوش بخت نہیں کوئی مسلماں سے زیادہ
رہ سکتا ہے تو کتنے ہی امراض سے محفوظ
لازم تجھے پرہیز ہے، درماں سے زیادہ
ناصح نے کچھ اس طرح کہا نوکِ زباں سے
مجھ کو وہ چبھا خارِ مغیلاں سے زیادہ
مومن کے لیے موت ہے اک تحفہ خوشتر
راحت کدہ ہے قبر گلستاں سے زیادہ
اللہ کے احکام کی تعمیل ہے ممکن
انسان مکلف نہیں، امکاں سے زیادہ
کیوں غیروں کے قانون کی تعمیل کریں ہم
کیا قول میں فیصل ہے وہ قرآن سے زیادہ
اٹھ جائے اگر پردہ احوال پسِ مرگ
رونق ہو بیاباں میں گلستاں سے زیادہ
ٹپکے جو گناہوں پہ ترے اشکِ ندامت
قیمت میں ہیں وہ لعلِ بدخشاں سے زیادہ
عاجز نہیں اس گلشنِ عالم کی حقیقت
انساں کے لیے خوابِ پریشاں سے زیادہ