ہندوستان و پاکستان سے تشریف لانے والے اکثر حجاج و زائرین اور مملکت سعودیہ میں مقیم برصغیر سے متعلق تارکین وطن کی اکثریت کو عموما یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جو شخص مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس (40) نمازیں کسی بھی نماز کو قضا ہوئے بغیر (مسلسل) باجماعت پڑھ لے تو اس کے لیے جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حج اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی رہنمائی کرنے والی بعض اردو کتابوں میں بھی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں مسلسل پڑھنے کا ذکر بتاکیدِ شدید ملتا ہے۔ لہذا ہر مرد و زن حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا ہے یہ تینوں بیش قیمت پروانے اس کو بہرصورت حاصل ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے مدینۃ منورۃ کے بیشتر زائرین وہاں ایک ہفتہ قیام کا التزام کرتے ہیں تاکہ مسجد نبوی میں چالیس (40) نمازیں باجماعت ادا کرنے کی شرط پوری کر کے اس پروانہ نجات کو حاصل کر سکیں۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے ان کی کوئی نماز چھوٹ جاتی ہے تو مزید ایک ہفتہ اس کی تکمیل کے لیے وہاں قیام کیا جاتا ہے۔
مسجدِ نبوی کی زیارت اور وہاں نماز پڑھنا بلاشبہ انتہائی افضل اور خوش نصیبی کی بات ہے بلکہ بیشتر صحیح احادیث میں تو مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک نماز پڑھنا مسجدِ حرام اور مسجدِ اقصیٰ کے علاوہ دنیا کی باقی تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں پڑھنے سے افضل بتایا گیا[1] ہے۔ لیکن کسی ایک صحیح حدیث میں بھی محض وہاں مسلسل چالیس (40) نمازیں باجماعت پڑھنے پر جہنم، نفاق اور عذاب سے براءۃ کا مستحق ہو جانا ضروری نہیں ہے۔ نیز اس کو صحیح تسلیم کر لینے سے ایک طرف تو صوفیاء کے مزعومہ عدد چالیس (40) میں پوشیدہ خصوصیت یعنی چلہ کشی کی تائید ہوتی ہے، دوسری طرف مسجد الحرام کی فضیلت کا استخفاف اور جنت کا حصول انتہائی سہل نظر آتا ہے چنانچہ زائرین مدینہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی غلط تصور کی اصلاح کے پیشِ نظر زیرنظر مضمون مرتب کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلہ میں ایک روایت جو کتبِ احادیث میں ملتی ہے، حسب ذیل ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ، وَنَجَاةً مِنَ الْعَذَابِ وبرئ النفاق»
"حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری مسجد میں چالیس (40) نمازیں (اس طرح) پڑھیں کہ اس کی کوئی نماز قضا نہ ہوئی تو اس کے لئے جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے۔"
اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے اپنی "مسند"[2] میں اور امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "معجم الاوسط"[3] میں بطریق عبدالرحمن بن ابی الرجال عن نبیط بن عمرو عن انس بن مالک سے مرفوعا روایت کیا ہے۔ اس روایت کے متعلق علامہ حافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی (م سئہ 807ھ) فرماتے ہیں: "اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے "اوسط" میں روایت کیا ہے اور اس کے رجال ثقات[4] ہیں۔" اور علامہ منذری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے، اس کے رواۃ "صحیح" کے رواۃ ہیں، طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کو "اوسط" میں روایت کیا ہے۔"[5] مسجد حرام کے مدرس شیخ ابوعبدالکریم و ابوعبدالرحمن محمد سلطان المعصومی الخجندی المی نے بھی اس حدیث کو اپنے کتابچہ "مشاہدات المعصومیۃ عند قبر البریۃ فی مدینۃ الطیبۃ[6]" میں نقل کر کے اس کی توقیر کی ہے۔ اسی طرح شیخ سید سابق نے بھی "فقہ السنۃ" میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: "اس کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے بسندِ صحیح روایت کیا ہے۔"
لیکن حق یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث کے تمام رجال نہ "ثقات" اور صحیح کے رواۃ میں سے" ہیں (جیسا کہ علامہ ہیثمی اور علامہ منذری وغیرہ نے لکھا ہے) اور نہ ہی یہ حدیث بسندِ صحیح مروی ہے۔" (جیسا کہ سید سابق وغیرہ نے تحریر کیا ہے)۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی "نبیط بن عمرو" ہے۔ جس کا ذکر ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے توثیق المجہولین کے قاعدہ کے مطابق "ثقات" میں ضرور کیا ہے مگر ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق محدثین اور علمائے جرح والتعدیل کے نزدیک معتبر نہیں ہوا کرتی کیونکہ آں رحمۃ اللہ علیہ توثیق المجہولین کے معاملہ میں انتہائی متساہل واقع ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کا مخصوص اور ذاتی نظریہ عام علمائے جرح والتعدیل اور محدثین سے قطعی ہٹ کر یہ تھا کہ جب تک کسی راوی پر کوئی جرح ثابت نہ ہو وہ مقامِ عدل پر قائم ہے۔ اسی لئے ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "الثقات" میں ایسے رجال کثیر تعداد میں مل جائیں گے جو عندالمحدثین قطعی مجہول الحال ہیں، حتی کہ خود ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ بھی اُن کے احوال سے واقف نہیں ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی جرح منقول نہ ہونے کے سبب آں رحمہ اللہ نے ان کی توثیق فرمائی ہے۔[7]
علامہ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق کے معیار پر بحث کرتے ہوئے شیخ زاہد کوثری الحنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "حاکم رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا تصحیح میں تساہل مشہور ہے۔"[8]
ایک اور مقام پر علامہ کوثری مرحوم فرماتے ہیں:
"ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے ثقات میں ذکر کیا ہے لیکن ان کا ثقات میں کسی کو ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر اُس راوی کو ثقات میں ذکر کر دیتے ہیں جس پر کسی جرح کی اطلاع نہ ہو۔ اس طرح وہ اس راوی کو حدِ جہالت سے خارج کر دیتے ہیں۔ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کے اِس شذوذ کی لسان المیزان میں تردید فرمائی ہے۔"[9]
شیخ ابولبابہ حسین فرماتے ہیں:
نقاد ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی ثقات کا مرتبہ اس لیے گراتے ہیں کہ انہوں نے بہت کثرت کے ساتھ اس میں ایسے مجہولین کا ذکر کیا ہے جن کے احوال کا خود انہیں بھی علم نہیں ہے۔[10]
علامہ محمد بن جعفر الکتانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ان کی اپنی کتاب "الثقات" میں کسی شخص کا مجرد ذکر کر کے اس کی توثیق کرنا توثیق کے ادنیٰ درجات میں سے ہے۔ کیونکہ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ وہ جس کے لیے کسی جرح سے واقف نہ ہوں وہ شخص ان کے نزدیک عدل کے مقام پر ہے تاوقتیکہ اس کی ضد ان پر واضح نہ ہو جائے۔"[11]
اور شیخ محمد ناصر الدین البانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ توثیق کے معاملہ میں بہت متساہل ہیں۔ پس انہوں نے کثیر تعداد میں مجہولین کی توثیق کی ہے جس کی صراحت خود انہوں نے ان الفاظ میں کی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ شخص کون ہے؟ یا اس شخص کا باپ کون ہے؟ یہی بات علامہ ابن عبدالہادی رحمۃ اللہ علیہ نے "الصارم المنکی" میں بھی نقل کی ہے۔ پس تعارض کے وقت ان کا قول کوئی وزن نہیں رکھتا۔"[12]
خلاصہ کلام یہ کہ علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ ابن عبدالہادی رحمۃ اللہ علیہ، محمد بن جعفر الکتانی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ زاہد الکوثری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ ابولبابہ حسین اور علامہ محمد ناصر الدین البانی وغیرہ کا ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق کے متعلق مذہب یہ ہے کہ وہ اس معاملہ میں بہت متساہل تھے۔ لہذا ان کی توثیق پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں مولانا ابوالحسنات عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب "الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل" میں بہت سارے محدثین کے اقوال جمع کئے ہیں، نیز "رد علی التعقیب الحثیث[13]" اور "سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی[14]" وغیرہ کی طرف مراجعت بھی مفید ہو گی۔
پس ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کے راوی نبیط بن عمرو کو اپنی کتاب "الثقات" میں ذکر کرنا نبیط کے "ثقہ" ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ جب کہ وہ عندالمحدثین "مجہول عین" نہیں تو کم از کم "مجہول الحال" ضرور ہے پھر زیر مطالعہ حدیث کے علاوہ نبیط کسی اور روایت کے لئے قطعی معروف نہیں ہے۔ جہاں تک علامہ منذری رحمۃ اللہ علیہ کا اسے "صحیح کے رواۃ میں سے بیان کرنے کا تعلق ہے تو وہ محض ان کی غلط فہمی اور واہمہ ہے کیونکہ نبیط بن عمرو سے صرف شیخین ہی نہیں بلکہ اصحابِ صحاح ستہ میں سے کسی نے بھی کوئی حدیث روایت نہیں کی ہے، یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ کسی محدث کا کسی حدیث کے متعلق " رجاله الصحيح" یا " رجاله ثقات" یا اسی طرح کی کوئی اور بات لکھنا اس حدیث کے "صحیح الاسناد" ہونے کی دلیل نہیں بن جاتا، جیسا کہ عام طور پر لوگ سمجھ بیٹھے ہیں۔ بلکہ اس قول کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ "اس کے رجال" صحیح کے رجال ہیں۔ "یا اس کے رجال ثقہ ہیں۔" جو حدیث کی شروطِ صحت میں سے پہلی شرط ہے۔اس قول کے باوجود حدیث کی اسناد کی سلامتی اور دوسری علل قادحہ مثلا انقطاع وغیرہ کا لحاظ اور ان کی تحقیق کی ضرورت پھر بھی باقی رہتی ہے۔ ہمارے اس دعویٰ کی دلیل علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک حدیث کے متعلق یہ قول ہے:
"(کسی حدیث کے) رجال ثقات ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ حدیث صحیح بھی ہو کیونکہ (اس حدیث میں) اعمش مدلس ہے اور اپنے سماع کا ذکر نہیں کرتا۔"[15] لیکن یہاں زیرِ مطالعہ حدیث کا معاملہ تو بالکل ہی مختلف نوعیت کا ہے۔ کیونکہ اس کی سند میں ایک مجہول الحال راوی موجود ہے۔ جسے علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے ثقات میں شمار کر کے غلطی کی ہے۔ پھر علامہ منذری رحمۃ اللہ علیہ اسی مجہول الحال راوی کو صحیح کے رواۃ میں شمار کر کے اُن سے بڑی خطاء کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پس اس روایت کی اسناد کی سلامتی و صحت کی دوسری تمام شروط پوری ہونا تو درکنار اس کے رواۃ کی ثقاہت جو کسی روایت کے صحیح الاسناد ہونے کی شرطِ اول ہے وہ بھی پوری نہیں ہوتی۔
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد خود طبرانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر کرتے ہیں:
لم يرده عن أنس إلا نبیط تفرد به عبد الرحمن[16]
محدثِ عصر علامہ ناصر الدین البانی حفظہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی کتاب "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ"[17] میں بیان کرنے کے بعد ضعیف قرار دیا ہے۔ ایک اور مقام پر اسی حدیث کے متعلق آں موصوف فرماتے ہیں:
"یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ منکر ہے کیونکہ اس روایت کے الفاظ دوسرے طرق سے وارد ہونے والی ایک دوسری روایت (جس کا ذکر ان شاءاللہ تعالیٰ آگے آئے گا) کے الفاظ کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس حدیث کی سند میں جہالت بھی موجود ہے۔"[18]
علامہ موصوف نے اپنی کتاب "مناسک الحج والعمرۃ" میں زائرینِ مدینہ منورۃ کا ان مقصد کے حصول کے لئے مدینۃ المنورۃ میں ایک ہفتہ قیام کا التزام کرنا "مدینۃ منورۃ کی زیارت کی بدعات"[19] میں سے قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
"اس سلسلے میں جو حدیث وارد ہے وہ ضعیف ہے کہ جس سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے ضعف کی علت میں نے "سلسلۃ الضعیفۃ حدیث 364" میں واضح کی ہے۔ پس اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ اس پر عمل کا تعلق تشریع سے ہے۔ الخ"
اوپر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے دوسرے طریق سے وارد ہونے والی جس دوسری حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے: وہ نماز کی تکبیر اولیٰ کی فضیلت کے باب میں اس طرح مروی ہے:
«مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ، وَنَجَاةً مِنَ الْعَذَابِ وبرئ النفاق» [20]
جو شخص خالصا اللہ کے لیے چالیس (40) دن باجماعت تکبیر تحریمہ کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کے لیے دو براءت (نجات) لکھ دی جاتی ہیں۔ پہلی جہنم سے براءت دوسری نفاق سے براءت۔"
اس حدیث کی تخریج امام ترمذی نے بطریقِ عقبۃ بن مکرم و نصر بن علی قالا سلم بن قتیبہ عن طمعۃ بن عمرو عن حبیب بن ابی ثابت عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم" کی ہے۔ یہ حدیث کئی اور طرق سے بھی وارد ہے جس کا ذکر ان شاءاللہ آگے آئے گا۔ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے اس طریق میں ایک راوی حبیب بن ابی ثابت ہیں جو ثقہ تابعی اور فقیہ جلیل ہونے کے ساتھ بقولِ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کثیر الارسال اور تدلیس کرنے والے ہیں۔ علامہ ناصر الدین الالبانی نے بھی ابن ابی ثابت کو "مدلس" قرار دیا ہے۔ علامہ ذہبی فرماتے ہیں: "ابن عون رحمۃ اللہ علیہ نے ان پر کلام کیا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ اور محدثین کی ایک جماعت نے ان کی توثیق کی ہے۔ صحاح کے تمام افراد نے بلاتردد ان کے ساتھ احتجاج کیا ہے۔" ابن ابی ثابت کے تفصیلی ترجمہ کے لئے معرفۃ الثقات للعجلی رحمۃ اللہ علیہ، تقریب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تہذیب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تعریف اہل التقدیس لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، طبقات الحفاظ للسیوطی رحمۃ اللہ علیہ، سیر اعلام النبلاء المذہبی رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، مجمع الزوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغلول، الاسامی والکنیٰ لاحمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔[21]
"جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی اس حدیث کے متعلق علامہ ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ واثرھا السئی فی الاُمۃ" میں فرماتے ہیں:
"اس حدیث (مسجدِ نبوی میں چالیس (40) نمازیں پڑھنے والی روایت) کو جو چیز مزید ضعف پہنچاتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور حدیث دو (2) مرفوع طریق سے وارد ہوئی ہے۔ جس کا ایک طریق دوسرے طریق کو تقویت پہنچاتا ہے۔ پھر تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت والی مندرجہ بالا حدیث نقل کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں: اس حدیث (کے پہلے طریق) کی تخریج امام ترمذی (ج1 ص7 طبع احمد شاکر) نے کی ہے اور اس کے لیے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث شاہد ہے۔ (اس حدیث کے دوسرے مرفوع طریق کی) تخریج ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ (ج نمبر 1 ص 266) نے بسند ضعیف و منقطع فرمائی ہے اور یہ لفظ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ (کی مسجدِ نبوی میں چالیس (40) نمازوں والی حدیث کے الفاظ) سے قطعی مختلف ہیں۔
یہ حدیث (امام احمد کی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس (40) نمازوں والی حدیث سے) قوی تر ہے جو اُس کے ضعف کو مزید مؤکد کرتی ہے۔"[22]
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی تخریج کردہ حضرت انس کی تکبیر اولیٰ والی مذکورہ بالا حدیث کو علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے اپنی صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ میں "حسن" قرار [23]دیا ہے اور "سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ وشئی من فقہھا و فوائدھا" میں وارد کر کے اس کے تین طرق پر بالتفصیل بحث فرمائی ہے اور اختتامِ بحث پر لکھتے ہیں: "فی الجملہ ان طرق میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو علت سے بالکل خالی ہو مگر ان تمام کا مجموعہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اس کی کوئی اصل ضرور ہے۔ الخ"[24]
چونکہ تکبیر اولیٰ کی فضیلت میں وارد اس حدیث میں بھی "جہنم و نفاق سے نجات" اور صوفیاء کے مخصوص فضیلت والے عدد چالیس (40) کا ذکر مشترک ہے لہذا مولانا محمد زکریا صاحب مرحوم (سابق شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور، یورپی) اپنی مشہور تصنیف "تبلیغی نصاب" میں جامع ترمذی کی مذکورہ بالا حدیث نقل کرنے کے بعد اس سے "چلہ کشی" کے اثبات کے لیے دلیل فراہم کرنے کا فائدہ کس چابکدستی کے ساتھ اخذ کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
"ف: یعنی جو اس طرح چالیس (40) دن اخلاص سے نماز پڑھے کہ شروع سے امام کے ساتھ شریک ہو اور نماز شروع کرنے کی تکبیر جب امام کہے تو اسی  وقت یہ بھی نماز میں شریک ہو جائے تو وہ شخص نہ جہنم میں داخل ہو گا نہ منافقوں میں داخل ہو گا۔ منافق وہ لوگ کہلاتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کریں لیکن دل میں کفر رکھتے ہوں اور چالیس (40) دن کی خصوصیت بظاہر اس وجہ سے ہے کہ حالات کے تغیر میں چالیس (40) دن کو خاص دخل ہے۔ چنانچہ آدمی کی پیدائش کی ترتیب جس حدیث میں آئی ہے اس میں بھی چالیس (40) چالیس دن تک نطفہ رہنا پھر گوشت کا ٹکڑا چالیس (40) دن تک، اسی طرح چالیس (40) چالیس (40) دن میں اس کا تغیر ذکر فرمایا ہے۔ اسی وجہ سے صوفیاء کے یہاں چلہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی برسوں بھی تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہوتی۔[25]
مناسب بلکہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت میں وارد اس حدیث پر بھی کچھ تفصیل سے روشنی ڈالی جائے۔ اس حدیث کے متعلق امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث حضرت انس سے موقوفا مروی ہے اور میں نہیں جانتا کہ کس نے اس کو مرفوعا روایت کیا ہو بجز مندرجہ بالا روایت کے جسے سلم بن قتیبہ نے طمعہ بن عمرو سے روایت کیا ہے۔ اور جو روایت حبیب بن ابی حبیب البجلی عن انس بن مالک سے مروی ہے اور اسی طرح جسے ہناد نے وکیع عن خالد بن طھمان عن حبیب بن ابی حبیب البجلی عن انس روایت کیا ہے وہ مرفوعا مروی نہیں ہے اس حدیث کو اسمعیل بن عیاش بن عمارۃ بن غزیہ عن انس بن مالک عن عمر بن الخطاب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بھی روایت کیا ہے، لیکن یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ہے کیونکہ عمارہ بن غزیہ نے حضرت انس بن مالک کا زمانہ نہیں پایا ہے۔"[26]
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی اس حدیث کو امام ابن الجوزی نے اپنی کتاب "العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیۃ" میں وارد کر کے اس کے مرتبہ کو گرایا ہے۔ مگر اس پر خود کچھ کلام نہ کر کے صرف امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا مذکورہ بالا کلام نقل فرمایا ہے۔[27]
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم والی مرفوع حدیث جس کو علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ"[28] میں اور مولانا محمد زکریا صاحب مرحوم نے فضائل نماز باب دوم (تبلیغی نصاب[29]) میں جامع ترمذی کی روایت کے لیے شاہد بیان کیا ہے اس
 کی تخریج ابن ماجہ نے اپنی سنن[30] میں کی ہے۔
اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:
«مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، لَا تَفُوتُهُ الرَّكْعَةُ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عِتْقًا مِنَ النَّارِ»
سنن ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس روایت کے متعلق امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا قول اوپر نقل کیا جا چکا ہے کہ "یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ہے کیونکہ عمارہ بن غزیہ نے حضرت انس بن مالک کا زمانہ نہیں پایا ہے۔"[31] لیکن حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں ایک اور علت اسمعیل بن عیاش کا عمارہ بن غزیہ سے روایت کرنا بھی ہے۔ اسماعیل بن عیاش وہ راوی ہے جس کے متعلق علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اپنے شہر والوں سے روایت کرنے والوں میں صدوق لیکن اُن کے علاوہ دوسروں سے روایت کرنے میں مخلط ہے۔"
"اس کی توثیق میں محدثین کا اختلاف ہے۔ اس کی وہ حدیث جسے وہ شامیوں سے روایت کرے اکثر کے نزدیک مقبول ہوتی ہے۔ ابن معین رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ثقات میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ تدلیس کرتا ہے۔"
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " ضعیف ہے۔"
علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ابوحاتم فرماتے ہیں کہ اس میں لچک ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر شامیوں سے روایت کرے تو صحیح ہے اور اگر ان کے علاوہ کسی اور سے روایت کرے تو محلِ نظر ہے۔ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اپنی احادیث میں بہت غلطیاں کرتا ہے۔ چنانچہ حدِ احتجاج سے خارج ہے۔ ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن معین رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اسمعیل بن عیاش ثقہ ہے۔ ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اس کے ساتھ حجت نہیں ہے۔ فسوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ایک قوم نے اسمعیل پر کلام کیا ہے، وہ ثقہ اور عادل ہے اکثر جن لوگوں نے اس پر کلام کیا ہے ان کا قول ہے کہ حجاز کے ثقات سے غرائب بیان کرتا ہے۔ عباس رحمۃ اللہ علیہ یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ثقہ ہے۔ ابن ابی خثیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے ابن معین رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بتایا ہے کہ اہل شام کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ دحیم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ وہ شامیین میں غایت درجہ ہے لیکن مدینین میں خلط کا شکار ہے۔"
عقیلی فرماتے ہیں:
"اگر غیر اہل شام سے روایت کرتا ہے تو اس میں اضطراب اور خطاء کا شکار ہوتا ہے۔"[32]
اسمعیل بن عیاش کے تفصیلی ترجمہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں " الضعفاء والمتروكون"
چونکہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ والی اس حدیث کو اسمعیل بن عیاش نے ایک غیر شامی راوی (عمارہ بن غزیہ جو "مدنی" ہیں) سے روایت کیا ہے لہذا اس کی یہ روایت غیر محفوظ اور قطعی ناقابلِ احتجاج ہے، چنانچہ اس سے شیخ ناصر الدین الالبانی یا مولانا محمد زکریا مرحوم کا شہادت لانا ایک بڑی خطاء ہے۔
امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی "التلخیص الحبیر" میں تکبیر اولیٰ کی فضیلت میں امام ترمذی ر رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے آنے والی حضرت انس بن مالک کی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اس پر اور اس باب میں وارد دوسری روایات پر بحث کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:
"امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حضرت انس کی حدیث سے روایت کیا ہے اور اس کی تضعیف کی ہے۔ اسے بزار رحمۃ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا، اور اس سے استغفار کیا ہے۔ یہ حدیث عن انس عن عمر بھی مروی ہے جسے ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے بھی ابن ماجہ کی روایت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہی حدیث سنن سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ میں بھی ابن عمر سے مروی ہے۔ لیکن یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ اس کا مدار اسمعیل بن عیاش پر ہے جو غیر شامیین سے روایت کرنے میں ضعیف ہے اور اس کی یہ روایت ایک مدنی شخص سے ہے۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب  میں جو کچھ اختلاف ہے اس کا مفصل تذکرہ العلل میں کیا ہے اور اس کی تضعیف فرمائی ہے۔"[33]
تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت میں وارد روایت کا ایک اور موقوف طریق جس کی طرف امام ترمذی ط نے اوپر اشارہ فرمایا ہے اس طرح ہے:
" عن خالد بن طهان عن حبيب بن ابى حبيب عن انس بن مالك[34]
اس طریق کی تخریج اسلم الواسطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں دو طرح فرمائی ہے:
عن ابى العلاء الخفاف عن حبيب بن ابى حبيب عن انس بن مالك  اور 2 عن مؤمل بن اسماعيل عن خالد عن ابى عميرة عن انس ابن مالك"[35]
ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے ہر دو طرق میں ایک راوی "خالد" ہے جس کا مکمل نام "خالد ابن طھمان ابوالعلاء الخفانی السلولی الکوفی" ہے۔ اس راوی کے متعلق یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ "ضعیف" ہے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں کہ "اس کی توثیق کی گئی ہے لیکن ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ وہ اپنی وفات سے دس (10) سال قبل اختلاط کا شکار ہو گیا تھا لیکن اس سے پہلے ثقہ تھا۔" امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "صدوق تھا، اس پر تشیع کا الزام ہے، پھر وہ اختلاط کرتا تھا۔" علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ بعض نے کہا کہ خطاء اور وہم کرتا تھا۔" علامہ ناصر الدین الالبانی فرماتے ہیں کہ "صدوق تھا مگر اختلاط کرتا تھا۔" ابن طھمان کے تفصیلی ترجمہ کے لیے الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال فی نقد الرجال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، تقریب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، مجمع الزوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغلول، اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔[36]
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور اسلم واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے طریق میں ایک اور راوی حبیب بن ابی حبیب ابوعمرو البجلی نزیل الکوفہ ہے، جسے علامہ ابن حجر عسقلانی "مقبول" بتاتے ہیں۔[37] علامہ عبدالرحمن مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد ناصر الدین الالبانی بیان کرتے ہیں کہ "ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا تذکرہ اپنی کتاب "الثقات" میں کیا ہے۔[38]
اسلم واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے آخر الذکر طریق میں خالد بن طھمان کے علاوہ ایک دوسرا راوی "ابوعمیرہ" ہے جس کے متعلق علامہ ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ "ابوعمیرہ ثقہ ہے اور وہ انس بن مالک کا فرزند ہے۔ [39]لیکن یہاں علامہ البانی کو وہم ہوا ہے کیونکہ یہ ابوعمیرہ دراصل "حبیب الاسکاف کوفی" ہے جو حضرت انس سے روایت کرتا ہے۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اپنی کتاب "الضعفاء والمتروکون" میں وارد کیا ہے۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس کے متعلق فرماتے ہیں:
"اس سے عن انس احادیث مروی ہیں، دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ متروک ہے۔"
ابوعمیرہ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے " الضعفاء والمتروكون للدار قطنى الجرح والتعديل لابن ابى حاتم  الكامل فى الضعفاء لابن عدى ميزان الاعتدال  للذهبى لسان الميزان لابن حجر عسقلانى اور محموع الضعفاء والمتروكين للسيروان وغیرہ" کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔[40]
حبیب الاسکاف ابوعمیرہ الکوفی کے اس طریق کی طرف علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے:
"اور جہاں تک حبیب الاسکاف کا تعلق ہے تو اس کا طریق دوسرا ہے۔جسے ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "العلل" میں بکر بن احمد بن مھمی الواسطی عن یعقوب بن تحیہ عن زید بن ہارون عن حمید عن انس کی مرفوع حدیث کی صورت میں وارد کیا ہے۔ (اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں) " من صلى أربعين بوما فى جماعة  صلوة الفجر وصلوة العشاء كتب له برآءة من النار  و برآءۃ من النفاق" پھر (امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ بکر اور یعقوب مجہول ہیں۔"[41]
علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کو یہاں وہم ہوا ہے کیوں کہ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ مذکورہ بالا حدیث کی پوری سند "حبیب الاسکاف" نامی راوی سے خالی ہے۔ علامہ موصوف نے امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کی جس کتاب "العلل" کا ذکر فرمایا ہے تو اس سے مراد ان کی کتاب "العلل المتناہیہ فی الاحادیث الواہیۃ" ہے۔ جس میں امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کا پورا طریقِ اسناد یوں بیان کیا ہے:
"أن أبو منصور القزار قال أبو بكر أحمد بن على قال أبو العلاء الواسطى قال نا بكر  بن أحمد قال حدثنا  أبو يوسف يعقوب بن تحية فال حدثنا يزيد هارون قال أخبرنا حميد عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ....الخ [42]
اس پوری سند میں "حبیب الاسکاف" نامی راوی کا کہیں وجود نہیں ہے اس سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کرنے کے بعد امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ علماء نہیں جانتے کہ بکر بن احمد عن یعقوب بن تحیہ کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت کیا ہو اور یہ دونوں مجہول الحال راوی ہیں۔"[43]
"بکر بن احمد الواسطی" کے متعلق علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس کو ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے مجہول بتایا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ مجہول نہیں ہے۔" علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول میں بکر بن احمد کی جس جہالت سے انکار کا ذکر ہے بظاہر اس سے مراد اس راوی کی جہالت عین ہے کیونکہ اس سے ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ ابوالعلاء رحمۃ اللہ علیہ اور احمد بن عباس رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا سماع ہے۔ لیکن جہاں تک مذکورہ راوی کی جہالتِ حال کا تعلق ہے وہ تو بدستور قائم ہے۔
اس روایت کے دوسرے راوی "یعقوب بن اسحاق بن تحیۃ الواسطی"[44] کے متعلق علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ثقہ نہیں ہے۔ اس پر (وضع احادیث کا) اتہام ہے۔"[45]
تکبیر اولیٰ کی فضیلت میں وارد شدہ حدیث کا ایک اور مرفوع طریق بھی ہے جس سے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ واقف نہ تھے۔ اس طریق کی تخریج بھی اسلم الواسطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں اس طرح فرمائی ہے:
" ثنا أحمد بن إسماعيل قال ثنا إسماعيل بن مرذوق قال ثنا منصور بن مهاجر أبو الحسن ثنا لأبو حمزة الواسطى عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ...الخ[46]
اس طریق کو بیان کرنے کے بعد شیخ اسلم الواسطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "کہ اس میں ابا حمزہ الواسطی کا نام جبیر بن میمون ہے۔"[47] لیکن علامہ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ "مجھے رواہ میں ایسا کوئی شخص نہیں ملا جس کا نام جبیر بن میمون ہو بلکہ ظاہری طور پر ابا حمزۃ "عمران بن ابی عطاء القصاب" ہے جس کے متعلق دولابی اپنی کتاب "الکنیٰ"[48] میں فرماتے ہیں: واسطی سے شعبہ اور ہیثم نے روایت کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ مسلم کے رجال میں سے ہے جو اپنے والد ، ابن عباس اور انس سے روایت کرتا ہے۔ اس کی توثیق کی گئی ہے۔ بعض نے اس کی تضعیف بھی کی ہے پس اگر اس میں متابعت پائی جاتی ہو تو وہ حسن الحدیث ہے۔"[49]
اگر ابا حمزہ الواسطی کو علامہ ناصر الدین الالبانی کے کہنے کے مطابق "جبیر بن میمون" کے بجائے "عمران بن ابی عطاء القصاب" تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس کی شخصیت عندالمحدثین مختلف فیہ ہی ہے۔ چنانچہ امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ذکر اپنی "الضعفاء الکبیر" میں کیا ہے۔ آں رحمہ اللہ فرماتے ہیں "اس کی حدیث میں متابعت نہیں ہوتی۔" علامہ ذہبی فرماتے ہیں: "اس کی توثیق کی گئی ہے۔ ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ لین الحدیث ہے ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ اور نسائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قول نہیں ہے، ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ وہ ضعیف ہے، ابن ابی خثیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے یحییٰ سے نقل کیا ہے کہ ثقہ ہے۔" عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ "وہ صالح الحدیث ہے۔" ڈاکٹر عبدالعطی امین قلعجی فرماتے ہیں کہ "صدوق ہے لیکن اس میں وہم پایا جاتا ہے۔ ابن معین رحمۃ اللہ علیہ، ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ اور ابن نمیر رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ ثقہ ہے۔" عمران بن ابی عطاء کے تفصیلی ترجمہ کے لیے الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، تاریخ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، الثقات لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ، تہذیب التہذیب لابن حجر اور میزان الاعتدال للذہبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کی طرف رجوع فرمائیں۔[50]
واسطی رحمۃ اللہ علیہ کے اس مرفوع طریق میں ایک دوسرا راوی "منصور بن مہاجر ابوالحسن الواسطی" ہے۔ جس کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "مستور" یعنی مجہول الحال ہے۔ ابن طاہر رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ منصور غیر معروف ہے۔" علامہ ناصر الدین الالبانی فرماتے ہیں کہ منصور بن مہاجر سے ثقات کی ایک جماعت مثلا یعقوب بن سیبہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے روایت کی ہے لیکن اس کی ثقاہت کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔" مزید تفصیل کے لیے تقریب التہذیب لابن حجر، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔[51]
اس طریق کا ایک تیسرا راوی "اسماعیل بن مرزوق المرادی الکعبی المصری" ہے جس کے متعلق علامہ ناصر الدین الالبانی فرماتے ہیں کہ "اس کا ذکر ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ثقات میں کیا ہے لیکن طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر کلام کیا ہے۔ (اور اس طریق کے چوتھے راوی) احمد بن اسماعیل کے متعلق قطعی طور پر کچھ معلوم نہ ہو سکا کیونکہ تاریخ بغداد میں رواۃ کی ایک جماعت کا نام احمد بن اسمعیل[52] ہے۔
پس معلوم ہوا کہ اسلم واسطی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ مرفوع طریق بھی علت سے خالی نہیں ہے۔
تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت کے باب میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں اُن پر محدث شہیر عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ نے تحفۃ الاخوذی فی شرح الترمذی" میں سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔ فجزاہ اللہ، علامہ موصوف فرماتے ہیں:
"رافعی رحمۃ اللہ علیہ نے امام کے ساتھ تکبیرِ تحریمہ کے ادراک کے سلسلہ میں اسی طرح ایک خبر وارد کی ہے جس کے متعلق امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اُسے طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے (معجم) الکبیر میں اور عقیلی رحمۃ اللہ علیہ نے الضعفاء (الکبیر) میں اور حاکم ابواحمد نے (کتاب) الکنیٰ میں ابی کاہل کی حدیث سے بلفظ منصف روایت کیا ہے اور اس کے الفاظ میں " يدرك التكبيرة الأولى " کا اضافہ کیا ہے۔ عقیلی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد مجہول ہیں، ابواحمد الحاکم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اس کی اسناد قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ عقیلی نے الضعفاء (الکبیر) میں اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: " لكل شىء صفوة و صفوة الصلوةالتكبيرة الأولى -"[53] اسے بزار رحمۃ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے، اس میں حسن بن السکن[54] کے علاوہ کوئی مجروح راوی نہیں ہے۔ لیکن بزار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فلاس رحمۃ اللہ علیہ اس سے راضی نہ تھے۔ ابونعیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حلیۃ (الاولیاء) میں عبداللہ بن اوفیٰ کی حدیث سے اس کے مثل بیان کیا ہے۔ لیکن اس میں حسن بن عمارہ[55] ہے جو ضعیف ہے۔ ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اپنی مصنف میں ابی الدرداء کی مرفوع حدیث سے اس طرح روایت کیا ہے: " لكل شىء ألف  وإن الصلوة التكبيرة الأولى فحافظوا عليها" اس کی اسناد میں مجہول رواۃ ہیں تکبیرِ اولیٰ کی فضیلت کے بارے میں سلف سے کثیر تعداد میں آثار منقول ہیں۔ طبرانی میں طئی کے ایک شخص نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے لیے (گھر سے) نکلے تو تیزروی کے ساتھ چلنے لگے۔ لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں جبکہ آپ خود ایسا کرنے سے منع فرماتے ہیں تو انہوں نے فرمایا: " إنما أردت حد الصلوة التكبيرة الأولى الخ" جیسا کہ تلخیص وغیرہ میں مذکور ہے۔"[56]
علامہ شمس الدین ابی الخیر محمد بن عبدالرحمن السخاوی رحمۃ اللہ علیہ (م سئہ 902ھ) نے "مقاصد الحسنہ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتہرہ علی الالسنۃ" میں علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی الجراحی (م سئہ 1162ھ) نے " كشف الخفاء ومزيل الالباس عما اشتهر من الاحاديث على السنة الناس" میں اور علامہ ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ" میں حدیث: "جس نے چالیس صبح اللہ تعالیٰ کے لیے خلوص اختیار کیا تو اس کے دل سے (اس کی زبان پر) حکمت کے چشمے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔"[57] کے ضمن میں علامہ قضاعی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق نقل کیا ہے کہ آں رحمہ اللہ نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا: "اس سے مراد عشاء و فجر میں باجماعت حاضر ہونا ہے کیونکہ جو ان میں چالیس دن حاضر ہو کر تکبیرِ اولیٰ کو پالے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ دو چیزوں سے براءت لکھ دیتا ہے۔ اول جہنم سے براءت ، دوم نفاق سے براءت، [58]علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ اسماعیل عجلونی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس کو ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب "الثواب" میں حضرت انس سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: " من أدرك التكبيرة الأولى مه الإمام  أربعين صباحا كتب الله له برآتين  برآءة من النار وبرآءة من النفاق" [59]لیکن ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا حدیث بھی علت سے خالی نہیں ہے۔
مختصرا یہ کہ تکبیرِ اولیٰ کے ادراک کی فضیلت اپنی جگہ مسلم اور بلاشبہ بہت کچھ ہے۔ چنانچہ اس باب میں سلف و صالحین سے کثیر تعداد میں آثار بھی منقول ہیں لیکن محض چالیس دن تکبیرِ اولیٰ کی حفاظت کرنے والے کے لیے جہنم و نفاق سے براءت کا لکھ دیا جانا انتہائی مشتبہ اور مشکوک امر ہے۔ اس ضمن میں وارد جملہ روایات کے ضعف سے قطع نظر اس امر کو جو چیز مشتبہ اور مشکوک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلسل چالیس دن تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ دنیا کی کسی عام مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کا اجر بھی وہی کیوں کر ممکن ہے جو مسند احمد رحمۃ اللہ علیہ اور طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری حدیث میں صرف مسجد نبوی میں مسلسل چالیس نمازیں پڑھنے کا بیان کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
خلاصہ کلام: یہ کہ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلسل یا غیر مسلسل چالیس نمازیں پڑھنے کا ثواب مسجد حرام اور مسجدِ اقصیٰ کے علاوہ دنیا کی باقی تمام مساجد میں چالیس ہزار نمازیں پڑھنے سے افضل تو ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہاں مسلسل چالیس نمازیں پڑھنے سے جہنم و عذاب و نفاق سے براءت لکھ دی جائے گی تو یہ بڑی خطا ہے کیونکہ اس سلسلہ میں جو حدیث وارد ہوئی ہے وہ قطعا ناقابل احتجاج ہے، نیز سلف صالحین سے ایسا کرنا کسی طور پر ثابت نہیں ہے۔ لہذا صرف اس مقصد کے حصول کے لیے زائرین مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں ایک ہفتہ قیام کا اہتمام کرنا صریح بدعت ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت نہ لکھی جائے تو بھی کم از کم وہاں پڑھی گئی ہر نماز کے بدل ایک ہزار گنا سے بڑھ کر اجر تو ضرور ہی ملے گا تو ہمارا سوال یہ ہے کہ پھر صرف چالیس نمازوں کی قید اور انہیں مسلسل ہی اداکرنے کی شرط آخر کس لیے ہے؟ کیا از خود دین کے معمالات میں کوئی نئی شرط لگانا یا کسی مخصوص تعداد کا تعین کر کے اس کی پابندی کرنا بدعت کے دائرہ میں نہیں آتا؟ نیز آخر کس نے ہمیں یہ اختیار دیا ہے کہ ازخود معاملات شریعت میں نت نئی شرائط کو قائم کر لیں؟ جہاں تک وہاں پڑھی گئی نمازوں پر ایک ہزار گنا سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی رغبت کا سوال ہے تو یہ نہایت مستحسن بات ہے، لہذا اللہ تبارک و تعالیٰ جسے وہاں کی زیارت کی توفیق بخشے وہ اپنی سہولت کے مطابق زیادہ سے زیادہ اپنی نمازیں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد حرام میں ہی پڑھنے کی کوشش کرے تاکہ حرمین شریفین کے اضافی فضائل سے بہرہ ور ہو سکے، سہولت کے مطابق اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو اپنے بندوں کے لیے آسانی کرنا منظور ہے، دشواری نہیں، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے۔
﴿يُرِيدُ اللَّـهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ... ١٨٥﴾ ...البقرة
پس کسی مخصوص تعداد یا تسلسل کا التزام کرنا قطعا غیر درست ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

[1] صحیح بخاری مع فتح الباری ج3 ص 63، 68، صحیح مسلم، کتاب الحج، حدیث نمبر 505-510، جامع ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج نمبر 1 ص 269-270، سنن نسائی مع تعلیقات سلفیہ ج نمبر 1 ص 80-81، سنن ابن ماجہ، کتاب الاقامۃ باب 192، سنن دارمی کتاب الصلوٰۃ باب 131، مؤطا امام مالک کتاب النھی عن استقبال القبلۃ حدیث نمبر9، مسند احمد ج1 ص 184، ج نمبر 2، ص 16، 29، 53، 68، 101، 155، 239، 251، 252، 277، 278، 386، 397، 466، 468، 473، 485، 499، 528، ج3، ص 77،78، 155، ج4 ص 5-80، ج نمبر 6 ص 333، 334، مسند الطیالسی حدیث نمبر 950، 1367، 1826 وکذا فی مجمع الزوائد و منبع الفوائد للہیثمی ج4 ص 4-8 و سبل السلام فی شرح بلوغ المران من جمع ادلۃ الاحکام للشیخ محمد بن اسماعیل الکحلانی (م 1182ھ) ج نمبر 1 (جزء 2) ص 217 وغیرہ۔
[2] مسند احمد ج نمبر 3 ص155
[3] معجم الاوسط للطبرانی ج نمبر 1، ص 125
[4] مجمع الزوائد للہیثمی ص 8 طبع دارالکتاب العربی بیروت 1982
[5] الترغیب والترھیب للمنذری ج2 ص 136
[6] مشاھدات المعصومیۃ للمعصومی الخجندی ص 20 طبع رئاسۃ ادارات البحوث العلمیۃ والافتاء والدعوۃ والارشاد بالریاض
[7] فقہ السنۃ للسید سابق ج4 ص 112 طبع مصر
[8] مقالات الکوثری ص 185
[9] ایضا، ص 309
[10] الجرح والتعدیل لابن لبابۃ حسین ص 168 طبع داراللواء بالریاض
[11] الرسالۃ المستطرفہ للکتانی ص 110 طبع مکتبۃ عرفہ بدمشق سئہ 1232ھ
[12] سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1، ص 32،33
[13]
[14] رد علی التعقیب الحثیث، ص 18-21
[15] التلخیص الحبیر لابن حجر ص 239 وکذا فی سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج1 ص 165 و ج نمبر 2 ص 534 وغیرہ
[16] معجم الاوسط للطبرانی ج1 ص 125
[17] سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1، ص 366 طبع المکتب الاسلامی بدمشق سئہ 1398ھ
[18] سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ البانی ج4 ص 631
[19] مناسک الحج والعمرۃ فی الکتاب والسنۃ و آثار السلف و سردما الحق الناس بھا من البدع للالبانی ص 63 طبع جمیعۃ احیاء التراث الاسلامی کویت سئہ 1403ھ
[20] جامع الترمذی مع تحفۃ الاخوذی ج1 ص 201
[21] معرفۃ الثقات للعجلی ج1 ص 281- 282، تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 148، تہذیب التہذیب لابن جر ج2 ص 178-179، تعریف اہل التقدیس لابن حجر ص 84 طبقات الحفاظ للسیوطی ص 44، سیر اعلام النبلاء للذھبی ج5 ص 289، میزان الاعتدال للذھبی ج1 ص 451، الاسامی والکنیٰ لاحمد بن حنبل ص 70، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج1 ص 263-264، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج3 ص 269، مجمع الزوائد للہیثمی ج9 ص 323، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج3 ص 267، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج2 ص 93،94،119، ج3 ص 226، 317، 336، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج2 ص 416۔
[22] سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 366
[23] صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ للالبانی ج2 ص 1089
[24] سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج4 ص 630-631
[25] تبلیغی نصاب (فضائل نماز باب دوم، مصنفہ مولانا محمد زکریا ص 388 طبع مکتبہ امدادیہ ملتان
[26] جامع ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج1 ص 201
[27] العلل المتناہیۃ فی الاحادیث الواھیۃ لابن الجوزی ج1 ص 435-436
[28] سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 366
[29] تبلیغی نصاب (فضائل نماز) للزکریا ص 388
[30] سنن ابن ماجہ ص 58
[31] جامع ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج1، ص 201 للنسائی، مجموع الضعفاء والمتروکین للسیروان، تغلیق التعلیق لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تقریب التہذیب لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تعریف اہل التقدیس لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ، تاریخ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، الضعفاء الکبیر للعقیلی رحمۃ اللہ علیہ، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم، الکامل فی الضعفاء لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، میزان الاعتدال للذھبی رحمۃ اللہ علیہ، معرفۃ الرواۃ للذھبی رحمۃ اللہ علیہ، کاشف للذھبی رحمۃ اللہ علیہ، سؤالات ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ لعلی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہ، تذھیب الکمال فی اسماء الرجال للخزرجی، تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر رحمۃ اللہ علیہ، تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ، مجمع الزوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، فہارس مجمع الزوائد للزغلول، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعہ للالبانی اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی وغیرہ۔
[32] مجموع الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 51، الضعفاء والمتروکون للنسائی ترجمہ ص 34، تغلیق التعلیق لابن حجر ج 1 ص 266- 270، تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 73، تعریف اہل التقدیس لابن حجر ص 82، تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص 36، تاریخ الکبیر للبخاری ج1 ص 369، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج1 ص 88-90، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج2 ص 191، کامل فی الضعفاء لابن عدی ج1 ص 288، میزان الاعتدال للذھبی ج1 ص 240، معرفۃ الرواۃ للذھبی ص 70، کاشف للذھبی ج1 ص 127، سؤالات ابن ابی شیبۃ لعلی بن مدینی ص 161، تذھیب الکمال فی اسماء الرجال للخزرجی ج1 ص 92، تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر ج3 ص 42، تحفۃ الاخوذی للمبارکفوری ج1 ص 123، مجمع الزوائد للہیثمی ج1 ص 16، 122، ج3 ص 25، 60، ج4 ص 38، ج6 ص 281، ج9 ص 285 فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج3 ص 250-251، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعہ للالبانی ج1 ص 28،440،485 ج2 ص 87، 102، 131، 172، 261، ج3 ص 237، 303، 309، 477، 528، 553، 645، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج1 ص 50، 180،284، 372، 394، 731، ج2 ص 181، 536،  660، 699،ج4، 723، 380، 467، 516،565۔
[33] التلخیص الحبیر لابن حجر ص 121، وکذا فی تحفۃ الاخوذی للمبارکفوری ج1 ص 201-202
[34] جامع ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج1 ص 201-202
[35] تاریخ الواسط ص 40
[36] الضعفاء الکبیر للعقیلی ج2 ص 11، میزان الاعتدال للذھبی ج1 ص 632، تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 214، مجمع الزوائد للہیثمی ج5 ص 196، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج3 ص 283، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج4 ص 630
[37] تقریب التہذیب لابن حجر ج1 ص 148
[38] تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج1 ص 201، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج4 ص 630۔
[39] سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج4 ص 630
[40] الضعفاء والمتروکون الدارقطنی ترجمہ ص 172، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج1 ص 798، الکامل فی الضعفاء لابن عدی، میزان الاعتدال للذھبی، ج1 ص 456،مجموع الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 300
[41] تحفۃ الاخوذی للمبارکفوری ج1، ص 201-202
[42] العلل المتناھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ لابن الجوزی ج1 ص 434۔ 435
[43] ایضا
[44] میزان الاعتدال للذھبی ج1 ص 342
[45] میزان الاعتدال للذھبی ج4 ص 448 و تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی ج نمبر 1 ص 129
[46] تاریخ واسط ص 36
[47] ایضا
[48] الکنیٰ للدولابی ج1 ص 156
[49] سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج4 ص 629
[50] الضعفاء الکبیر للعقیلی ج3 ص 299، تاریخ یحییٰ بن معین ج2 ص 438، ثقات لابن حبان ج5، ص 218، تہذیب التہذیب لابن حجر ج 8 ص 135، میزان الاعتدال للذھبی ج3 ص 239
[51] تقریب التہذیب لابن حجر ج2 ص 277، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج2 ص 59۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج4 ص 629
[52] سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ للالبانی ج4 ص 230
[53] علامہ مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ نے اوپر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس مرفوع حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے اسے امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ نے الضعفاء الکبیر (ج1 ص 244) میں اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے میزان الاعتدال فی نقد الرجال (ج1 ص 493) میں حسن بن السکن کے ترجمہ میں اس طرح بیان کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبدالله  الحضرمى قال حدثنا سويد بن سعيد قال حدثنا الحسن بن السكن عن الأعمش عن أبى ظبيان عن أبى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لكل شىء صفوة وصفوة الصلوة التكبير  التكبية الأولى "اسے بزار نے روایت کیا ہے ، اس میں حسن بن السکن کے علاوہ کوئی مجروح راوی نہیں ہے ۔ لیکن بزار فرماتے ہیں کہ فلاس اس سے راضی نہ تھے ۔الو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں عبد اللہ بن اوفی کی حدیثسے اس کی مثل بیان کیا ہے ۔ لیکن اس میں حسن بن عمارہ ہے جو ضعیف ہے ۔ابن ابی شیبہ نے اس کو
[54] حسن با السکن کے متعلق علامہ ذہبی فرماتے ہیں : اما احمد نے اس کی تصنیف کی ہے ۔ (میزان الاعتدال للذہبی ج1 ص493 ) اور عقیلی فرماتے ہیں : وہ اعمش سے روایت کؤتا ہے ، اس کی کوئی مطابعت نہیں کرتا اور وہ اس کے بغیر معرف نہیں ہے عبد اللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد سے روایت کرتے  ہیں کہ حسن بن السکن جو اعمش سے روایت کؤتا ہے (الضعفاء الکبیر للعقیلی جلد1،صفحہ نمبر 244)
[55] علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے "حلیۃ الاولیاء" لابی نعیم رحمۃ اللہ علیہ میں وارد عبداللہ بن اوفی کی حدیث کے ایک ضعیف راوی "حسن بن عمارہ" کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہ وہ راوی ہے جسے امام نسائی نے "متروک الحدیث" بتایا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔ امام احمد کا قول ہے کہ میں نے اس کی ستر حدیثیں دیکھی ہیں۔ لیکن ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔" علامہ عجلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: " اس کو ضعیف گردانا اور اس سے روایت کرنا ترک کیا گیا۔" علامہ ابن عراق الکنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابن مدینی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ وہ حدیث وضع کرتا تھا۔"حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اسے "متروک" بتاای ہے۔ علامہ ابن حبان البُستی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ حسن بن عمارہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے حسن بن عمارہ ثقات کے ساتھ تدلیس کرتا ہے۔" امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بیان کیا کہ وہ حسن بن عمارہ کی تکذیب کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اسے متروک کہا ہے۔ ابن معین ط کہتے تھے کہ اس کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی۔ ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اس سے احتجاج نہیں کرتے تھے۔ جوزجانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ساقط کیا ہے۔ ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ، مسلم رحمۃ اللہ علیہ، دارقطنی اور ایک جماعت نے اسے متروک قرار دیا ہے۔ علامہ ہیثمی نے بھی تقریبا یہی اقوال نقل کئے ہیں۔ حسن بن عمارہ کے تفصیلی ترجمہ کے لیے الضعفاء والمتروکون للدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ ص 186، الضعفاء والمرتوکون للنسائی ترجمہ ص 149، الضعفاء الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ ص 66، التاریخ الکبیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 303، التاریخ الصغیر للبخاری رحمۃ اللہ علیہ ج2 ص 117، المعرفۃ والتاریخ للبسوی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 34، العلل لابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 337، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج1 ص 237- 241، الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ، ج1 ص 27، کتاب المجروحین لابن حبان رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 169، تہذیب التہذیب لابن ھجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ج2 ص 306، تعریف اہل التقدیس لابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ص 140۔ تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 299، تاریخ بغداد للخطیب بغدادی ج7،ص 345، الطبقات الکبریٰ ج1 ص256، مجموع الضعفاء والمتروکین للسیروان ص 85، 302، 422، تحفۃ الاخوذی للمبارکفوری رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 177، کشف ص 139، تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی ج1 ص 50، مجمع الزوائد و منبع الفوائد للہیثمی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 423- 464، ج3 ص 201- 202، ج1 ص 254، فہارس مجمع الزوائد للزغلول ج3 ص 279، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 423، 464، ج2 ص 20، ج3 ص 662 اور سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی ج2 ص 501، 660 وغیرہ کی طرف مراجعت فرمائیں۔
[56] تحفۃ الاحوذی للمبارکفوری ج1 ص 201-202
[57] المقاصد الحسنۃمسند شھاب للقضاعی رحمۃ اللہ علیہ ج1 ص 30، مقاصد الحسنۃ للسخاوی رحمۃ اللہ علیہ ص 395- 396، کشف الخفاء للعجلونی ج2 ص 292-293، موضوعات لابن الجوزی ج3 ص 144-145، اللآلی المصنوعۃ للسیوطی ھ2 ص 327-329، تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ لابن عراق الکنانی ج2، ص 305، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 56 وغیرہ (صوفیاء کی "چلہ کشی" کی تائید میں وارد ہونے والی یہ حدیث موضوع نہیں تو کم از کم انتہائی ضعیف اور قطعا ناقابل احتجاج ضروری ہے۔ تفصیل کے لیے راقم کے مستقل مضمون بعنوان "چلہ کشی" کی طرف رجوع فرمائیں۔ یہ مضمون عنقریب "محدث" میں شائع ہو گا۔ ان شاءاللہ
[58] المقاصد الحسنۃ للسخاوی ص 395- 396، کشف الخفاء للعجلونی ج2 ص 292-293، سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی ج1 ص 56
[59] مقاصد الحسنۃ للسخاوی ص 395- 396، کشف الخفاء للعجلونی ج2 ص 292-293