نومبر 1988ء کے عام ملکی انتخابات کے نتیجہ میں قوم کے منتخب نئے ممبروں کو ملکی قیادت سونپ دی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ مکمل طور پر نئی حکومت کی مدح و ستائش میں مصروفِ عمل ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اہل وطن نے نئی قیادت کے انتخاب میں انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے ملک میں عظیم انقلاب آ جائے گا، ملک سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی قیادت و سیادت ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس منصب پر براجمانی ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر عہدہ برآ ہونا ضروری ہے نیز ملکی حالات کو کنٹرول کرنا، عوام کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت بھی انہی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ ان سب سے بڑھ کر کلمہ گو مسلمان حاکم پر دستورِ خداوندی کا نافذ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ اس سے عہدہ بر آ نہ ہونے کی صورت میں حاکم " ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾ ... المائدة  " کا مصداق ہوتا ہے۔
چونکہ ہمارے ملک کی بنیاد بھی نفاذِ اسلام کے وعدہ پر رکھی گئی تھی اور اہل وطن بھی ماشاءاللہ مسلمان ہیں اس لئے برسرِ اقتدار آنے والے حضرات عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کی خاطر اسلام کا نام تو خوب استعمال کرتے ہیں مگر عملا اپنی من مانی کرتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ملک کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ اس پر شاہد عدل ہے۔
سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ وزیراعظم نے بھی اپنی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے اپنا منصب سنبھالنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ "اذان ہوتے ہی کاروباری مراکز بند ہو جایا کریں گے۔" بظاہر یہ اعلان ان کی اسلام دوستی کی دلیل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جذباتی قسم کے لوگ اس اعلان کے ہوتے ہی ازحد خوش ہوئے اور مبارکبادیں دی گئیں، معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ اعلان محض وقتی تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ تاحال ان کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔
محض اعلانات کی بجائے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جس سے ملک اور معاشرہ کامیابی اور ترقی کی راہ پا سکے۔ "اقامت صلوٰۃ" مسلمان حاکم کی اولین ذمہ داری ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
﴿الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ﴿٤١﴾...الحج
کہ "ہم جن لوگوں کو زمین میں غلبہ اور حکومت عطا کرتے ہیں، وہ اقامتِ صلوٰۃ ، اداءِ زکوٰۃ،امربالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے بنیادی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔" اور جملہ امور کا انجام اللہ کے سپرد ہے۔"
اس لئے ہم موجودہ حکومت کے ذمہ داران سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ قرآنی آیت کے بموجب مندرجہ بالا اُمور کی تنفیذ میں وہ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کی کوشش کریں گے۔   والله تعالى هو  ولى التوفیق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم نے منصبِ وزارت پر فائز ہونے کے بعد اپنی پہلی نشری تقریر میں بعض بڑی خوش کن باتیں ارشاد فرمائیں کہ "اب کوئی غریبوں کا استحصال نہیں کرے گا، کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ہر ایک سے انصاف ہو گا، وغیرہ وغیرہ۔" اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک سے سزائے موت کی "معطلی اور قاتلوں کو معافی" دینے کا اعلان بھی کیا۔
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کیا قاتل کو معافی دینا مقتول اور مقتول کے ورثاء کے ساتھ زیادتی نہیں؟ قاتلوں کو معافی کے اعلان سے مجرم اور ان سے متعلقین نہ صرف خوش ہوئے ہوں گے بلکہ ان کی ہمدردیاں اور حمایت بھی حکومت کو حاصل ہو گی مگر یہ فیصلہ کرتے وقت یہ بھی غور کر لینا چاہئے تھا کہ ان کے قتل سے، جو بے قصور عورتیں بیوہ ہوئیں اور معصوم بچے یتیم اور  بے آسراء ہوئے اور جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔۔۔ان کا کیا قصور تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا قاتل کو اس لئے آزاد اور معاف کر دیا گیا تاکہ وہ مزید جراءت و دلیری سے اس قسم کی کاروائیاں کرے؟
قاتل کو قصاصا قتل کیا جانا ایک "شرعی" حکم ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ... ١٧٩﴾...البقرة
 "عقلمند لوگو! تمہارے لئے قصاص میں ہی زندگی ہے۔"
قاتل کو معافی دینے کا حق مقتول کے ورثاء کے سوا اور کسی کو نہیں۔ حاکمِ وقت صرف سفارش کر سکتا ہے، معاف نہیں کر سکتا۔ یہ فیصلہ کرتے وقت مزید تحقیق کی ہدایت ہونی چاہئے تھی کہ جو لوگ بے قصور گرفتار ہیں انہیں معاف کر دیا جائے اور جو لوگ واقعی مجرم ہوں اور ان پر جُرم ثابت ہو، انہیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ اس سے دوسروں کو عبرت ہو اور کوئی شخص کسی بے گناہ کو قتل کرنے کی جسارت نہ کر سکے۔
اس فیصلہ پر ایک دوسرے پہلو سے بھی غور کیا جانا چاہئے کہ وہ عدالتیں اور جج موجود ہیں، جنہوں نے ان سزاؤں کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اعلان سے ججوں اور عدالتوں کی اپنی شخصیات اور حیثیت بھی متاثر ہوتی ہے، جبکہ یہ ادارے مکمل طور پر آزاد اور بااختیار ہونے چاہئیں، تاکہ مقدمہ کی نوعیت کے مطابق اس کا مناسب حل کر سکیں۔ اگر اس طرح ان کے کئے گئے فیصلوں کو حکمران کالعدم قرار دیتے رہے، تو پھر عدالت اور جج کوئی بھی فیصلہ کرنے سے ہچکچائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گورنرِ بلوچستان نے کسی معقول وجہ کے بغیر اچانک صوبائی اسمبلی کو برطرف کر دیا ہے۔ جس سے ملک بھر کے عوام و خواص میں شدید بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پنجاب اسمبلی کو توڑنے کے لئے تجرباتی کوشش تھی کہ ملک میں اس پر کیا ردِ عمل ہوتا ہے؟
اپوزیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ سب کچھ مرکز کی ہدایت و اطلاع سے عمل میں آیا ہے۔ وزیراعظم نے اس سلسلہ میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ اپوزیشن راہنماؤں نے وزیراعظم کے بیان کو خلافِ حقیقت قرار دیتے ہوئے موجودہ صدی کا عظیم جھوٹ بھی کہا ہے۔
حقیقت کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ بہرحال ظاہر ہے کہ اس واقعہ کے دو پہلو ہیں کہ وزیراعظم کو یا تو اس واقعہ کی پیشگی اطلاع ہو گی یا پھر نہ ہو گی؟
اگر انہیں پہلے سے اس کی اطلاع نہ تھی، تو یہ اَمر کس قدر افسوس ناک ہے کہ ملک کے ایک صوبے کی منتخب اسمبلی کو برطرف کیا جائے اور انہیں اس کی خبر تک نہ ہو، یہ ان کی غیرذمہ داری کا ثبوت بنتا ہے۔
اور اگر انہیں اس کی اطلاع تھی، تو اپنی لاعلمی کا اظہار واقعتا ایک برا جھوٹ ہے، جو کسی بھی طور ملک کے سربراہ کو زیب نہیں دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وطنِ عزیز کو اس وقت عجیب صورتحال کا سامنا ہے۔ مرکز میں ایک پارٹی کی حکومت ہے، تو پنجاب میں ان کے مخالف گروپ کی حکومت ہے۔
دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری کرتے رہتے ہیں جو مستحسن نہیں۔ چاہئے تھا کہ مرکز پنجاب کی حکومت کو کھلے دل سے تسلیم کرتا۔ مرکز اور صوبہ کے اعلیٰ ذمہ داران کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کوئی اچھی چیز نہیں۔ انہیں ملکی اور قومی مفاد اور وقار پیش نظر رکھنا چاہئے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک و قوم کے نمائندگان اور ذمہ داران کو اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ جس مقصد کے پیشِ نظر یہ خطہ حاصل کیا گیا تھا وہ مقصد حاصل ہو سکے اور اہل وطن کو امن اور خوشحالی نصیب ہو۔ آمین