ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نومبر 1988ء کے عام ملکی انتخابات کے نتیجہ میں قوم کے منتخب نئے ممبروں کو ملکی قیادت سونپ دی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ مکمل طور پر نئی حکومت کی مدح و ستائش میں مصروفِ عمل ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اہل وطن نے نئی قیادت کے انتخاب میں انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے ملک میں عظیم انقلاب آ جائے گا، ملک سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی قیادت و سیادت ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس منصب پر براجمانی ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر عہدہ برآ ہونا ضروری ہے نیز ملکی حالات کو کنٹرول کرنا، عوام کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت بھی انہی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ ان سب سے بڑھ کر کلمہ گو مسلمان حاکم پر دستورِ خداوندی کا نافذ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ اس سے عہدہ بر آ نہ ہونے کی صورت میں حاکم " ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾ ... المائدة  " کا مصداق ہوتا ہے۔
  • جنوری
1989
غازی عزیر
ہندوستان و پاکستان سے تشریف لانے والے اکثر حجاج و زائرین اور مملکت سعودیہ میں مقیم برصغیر سے متعلق تارکین وطن کی اکثریت کو عموما یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جو شخص مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس (40) نمازیں کسی بھی نماز کو قضا ہوئے بغیر (مسلسل) باجماعت پڑھ لے تو اس کے لیے جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حج اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی رہنمائی کرنے والی بعض اردو کتابوں میں بھی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں مسلسل پڑھنے کا ذکر بتاکیدِ شدید ملتا ہے۔ لہذا ہر مرد و زن حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا ہے یہ تینوں بیش قیمت پروانے اس کو بہرصورت حاصل ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے مدینۃ منورۃ کے بیشتر زائرین وہاں ایک ہفتہ قیام کا التزام کرتے ہیں تاکہ مسجد نبوی میں چالیس (40) نمازیں باجماعت ادا کرنے کی شرط پوری کر کے اس پروانہ نجات کو حاصل کر سکیں۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے ان کی کوئی نماز چھوٹ جاتی ہے تو مزید ایک ہفتہ اس کی تکمیل کے لیے وہاں قیام کیا جاتا ہے۔
  • جنوری
1989
عبدالرحمن عاجز
خوش بخت نہیں کوئی مسلماں سے زیادہ
میں روؤں نہ کس طرح ہر انساں سے زیادہ
ہیں کس کی خطائیں میرے عصیاں سے زیادہ
تو کون و بیاباں میں جسے ڈھونڈ رہا ہے
نزدیک ہے وہ تیری رگِ جاں سے زیادہ
ہیں سیدِ کونین بھی انسان ہی لیکن
اشرف ہیں معزز ہیں ہر انساں سے زیادہ
سیرت میں تھے ممتاز ہر اک سے میرے آقا
صورت میں حسیں ماہِ درخشاں سے زیادہ
  • جنوری
1989
امام ابن قدامہ مقدسی
اہل تصوف کے نزدیک غناء (قوالی) رقص، تواجد، دف بجانا، مزامیر سننا، ذکر و تحلیل کے نام پر اصوات منکرہ بلند کرنا اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ یہ تمام اشیاء قربِ الہیٰ کی انواع سے ہیں، بہت عام ہے۔ ان تمام امور کے متعلق شیخ الاسلام امام المجتہد علامہ موفق الدین ابی محمد عبداللہ ابن احمد بن محمد المقدسی الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیه (م سئہ 620ھ) المعروف بابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک دقیع فتویٰ مختصر کتابچہ کی شکل میں استاذ زھیر الشاویش حفظہ اللہ (صاحب المکتب الاسلامی بدمشق) کی کوشش سے سئہ 1984ء میں بار سوم طبع ہوا تھا۔ اگرچہ اس سے قبل ان امور سے متعلق ہمارے بیشتر اکابرین اور علمائے حق زور قلم صرف کر چکے ہیں، بالخصوص امام حافظ جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمن ابن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیه  نے (م سئہ 597ھ) "تلبیس ابلیس" اور "ذم الھویٰ" میں، امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے "فتاویٰ" میں امام ابن القیم الجوزیہ رحمۃ اللہ علیہ نے "اغاثۃ اللہفان فی مکاید الشیطان" میں امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "کف الرعاع" میں اور ابن ابی الدنیا رحمۃ اللہ علیہ  نے "ذم الملاھی" وغیرہ میں ان امور پر اس قدر سیر حاصل بحث و جرح کی ہے کہ مزید کچھ لکھنے کی حاجت باقی نظر نہیں آتی۔ فجزاھم اللہ۔ مگر چونکہ راقم اسلاف و اکابرینِ ملت کی دینی خدمات اور ان کے آثارِ مبارکہ سے عام مسلمانوں کو متعارف کرانا اپنے لیے باعثِ سعادت تصور کرتا ہے، لہذا ذیل میں علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ ، کہ جن کی شخصیت علم دین سے واقفیت رکھنے والے کسی شخص کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے، کے اس اہم فتویٰ کو اردو قالب میں ڈھال کر مختصر تخریج و تحقیق کے ساتھ استفادہ عام کی خاطر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔مترجم
  • جنوری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 2
ملکیت مال ۔۔۔ اور ۔۔۔ قرآن مجید
دلیلِ پرویز: پرویز صاحب نے ملکیتِ اراضی کی نفی کی دلیل " ألأرض لله" سے کشید کی تھی، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا بطلان وہ درج ذیل آیت سے اخذ کرتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾ ...النحل
"اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق، غلاموں کی طرف پھیر دیا کریں تاکہ وہ سب اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان کو انکار ہے۔"
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں میں معیشت اور رزق کا باہمی فرق و تفاضل خود منشائے ایزدی ہے " ﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ...﴿٧١﴾ ...النحل " کے الفاظ اس حقیقت پر دال ہیں۔ خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
"وہ (یعنی اسلام "مؤلف") ایسی اشتراکیت کا حامی نہیں ہو سکتا، جس میں خدا کی ہستی کا انکار ہو اور مساواتِ انسانی کی بنیاد، مساواتِ شکم قرار دی جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت جائز ہے۔" (معارف القرآن، ج1، ص 121)
  • جنوری
1989
حافظ ثناء اللہ مدنی
انبیاء علیہم السلام کی شہادت یا دشمن کے ہاتھوں قتل کے بارے میں علماء میں دو مختلف آراء مشہور ہیں:
1۔ دشمن کے ہاتھوں رسول کا قتل ناممکن ہے۔
2۔ دشمن کے ہاتھوں نبی یا رسول کا قتل ممکن ہے۔
جیسا کہ متعدد قرآنی آیات سے ظاہر ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ مسئلہ ہذا کچھ وضاحت ک متقاضی ہے۔
اولا لفظ قتل کی تعریف ملاحظہ فرمائیں:
قتل کے حقیقی معنی ہیں (موت فطری کے علاوہ کسی اور طریقے سے) روح کو جسم سے جدا کر دینا خواہ ذبح کی صورت میں ہو یا کسی اور طریقے سے۔
اب تفصیل اس اجمال کی ہوں کہ رُسُلُ اللہ دو طبقوں میں منقسم ہے۔
ایک وہ جن کو دشمنوں کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسرے وہ جو محج مبلغ تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لڑائی کے مامور نہ تھے۔
  • جنوری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نام کتاب: سادات بنی رقیہ رضی اللہ عنہا
مصنف: حکیم فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
قیمت: اکیس (21) روپے
ناشر: حکیم فیض عالم صدیقی، محلہ مستریاں، جہلم
محترم مولانا حکیم فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ مرحوم جماعت کے ایک معروف اہل قلم گزرے ہیں، ان کا خیال تھا کہ تاریخِ اسلام میں درج بہت سے واقعات شیعہ ذہن کی اختراع ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ مرحوم کا شیعیت اور تاریک کے موضوعات پر مطالعہ پر بڑا گہرا، وسیع اور ناقدانہ تھا۔ شیعہ کی مکالفت میں اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ اہل سنت اور اہل حدیث ہونے کے باوجود صحیح بخاری تک کی بعض احادیث کی صحت کا انکار کرتے تھے۔ ان کی زبان  و قلم میں تندی و ترشی بہت تھی۔ ان میں حد درجہ خود اعتمادی تھی۔ یہاں تک کہ بزرگ علمائے اہل حدیث کی تحقیقات کو بھی اپنی تحقیق کے مقابلہ میں کچھ اہمیت نہ دیتے تھے۔