اشک خون روتا ہے دل ہے آنکھ سے سیل رواں      موجزن ہے دل میں غم کا بحربیکراں
کا تب قرآن بھی تھے اور دین کے عالم نامور    چودھویں کے چاند جیسی کتب تیری راہ پر
پرخلوص بے تعلق بے ریا و بے غرض تیری حیا ت    پا کباز و پاک طینت اور پابند صلوٰت
پاک فطرتپاک دامن نیک سیرت نیک خو  زند گی ایک سعی پہیم ایک مسلسل آرزو
خوش مزاج و خوش فعال وکوش نہاد و خوش نصیب   نیک بخت و نیک نام و نیک خو جان حبیب
گفتگوتھی دل پذیر اور دل نشین تحریر تھی   تھی شگفتہ بات بھی اور دلربا تقریر بھی
جسم اتنا ناتواں اوزعلم اتنا ذی وقار    آپ کی ہستی تھی گو یا ہو گلستا ن میں بہار
علم دین نے تجھ کو بخشی اس قدر تاب و تواں    اک پر کاہ بن گیا تیرے کوہ گراں
زندگا نی وقف تھی تیری عبادت کے لیے   دین بر حق کی اشاعت اور اقامت کے لیے
زند گی تیری مثا ل شمع افروزاں رہی   اہل ایمان کے لیے اک درس ہمت بن گئی
تیری شمع نور سے روش ہو ئے لا کھوں چرا غ   اہل محفل کے لیے لبریز تھا تیرا دماغ
رہنے سہنے کھا نے پینے کا ترا سادہ شعار   تھا تیرے کردار کی عظمت کا اک آئینہ دار
تیرے نصب العین نے بخشا تجھے عزم عمل    تیرے ذوق و شوق سے ہیں صاحب صحت حجل
کیا مبا رک رات تھی اور کیا مبارک وقت تھا   جب ملا ء اعلیٰ سے تیرا بلا وا آگیا
باوضواور با جمارت عین سجدے میں چلے    قابل صد رشک تھے لمحا ت آخر آچکے
ہوں میسر تجھ کو جنت میں مقا ما ت بلند   ہم نشینی کو تیری ہوں خوریا ن ارجمند
تو نے جو شمع جلا ئی تھی وہ نور افشا ں رہے
تجھ پہ فر دوس بریں میں رحمت یزداں رہے