افق علم  کا اک اور ستارا ٹوٹا          وہ کہ روشن  رہا عرفان کے ایوانوں میں
میں سمجھتا ہوں کہ وہ طائر نغمہ پردازجا کے شامل ہوا طوبیٰ کے ثنا خوانوں میں
مرد خوش فکر وخوش اخلاق وہ عبدالرحمان پاک دل پاک زباں پاک نظر کیلانی
اخ واب اس کے سبھی  متقی ونیک نہاد رحمت حق سے ہیں احفاد ہمہ حقانی
وہ شہید رہ عرفان ومعارف،جس کا اوڑھنا اور بچھونا رہا قرطاس وقلم
جس کی راتوں پہ رہی نور فگن وحی وکتاب جس کی صبحوں  پہ  گری رحمت حق کی شبنم
خازن دولت دیں،کنز معارف کا امیں اس کے مخزن سے جو نکلا زر وگوہر نکلا
تربیت گاہ سے اس کی ملا فیضان جسے علم وعرفاں ک سمندر کا شناور نکلا
اہل باطل سے رہا معرکہ خیز اس کا قلم سر میدان دغا صورت شمشیر رہا
بزم احباب میں تھا باد صبا کا سرگم رزم میں اسپ نبوت کا عناں گیر رہا
اس کی رفتار وروش مروا کراما کا سبق اس کی گفتار وادا حسن مروت کی دلیل
اس کے افکار وعقائد میں سلف کی تنویر اس کے اذکار ووظائف ہمہ تذکار جمیل
دیں کے اس مخلص دبے لوث مبلغ کے لئے بارگاہ صمدی  میں ہو دعا میری قبول
اس کو فردود میں حاصل ہوں مقامات بلند اس کی تربیت پہ رہے رحمت باری کانزول