Pages from Muhaddas-210-July-1996

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گزشتہ دنوں "اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے ایک اجلاس میں پچاس سے زائد علماء ووکلاء اور اہل دانش حضرات نے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی مسلمان عورت کسی اقراری اور مصدقہ قادیانی کی قانونی بیوی نہیں بن سکتی اور اگر کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی کے ساتھ اسلامی نکاح پر اصرار کرتی ہے تو ایسے نکاح کی کوئی مذہبی یا قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ایسا عمل نہ صرف یہ کہ حدود آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے بلکہ"امتناع قادیانیت آرڈیننس" کے تحت بھی جرم  تصور ہوگا۔
"اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے اس فتویٰ کا  روئے سخن در اصل عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ کی جانب تھا،عاصمہ جہانگیر صاحبہ بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ایک تنظیم"ہیومن رائٹس کمیشن"کی چئیر پرسن ہیں اور ایک عرصہ سے  بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے متاثرہ شہریوں کو قانونی تحفظ مہیا  کرنے کے چمپئن کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔اس لحاظ سے ان کی جدوجہد عمومی طور پر متنازعہ نہیں رہی۔ان کی ذات اور جدوجہد کے خلاف شدید رد عمل اس وقت شروع ہوا جب پاکستان میں "قانون توہین ر سالت" کانفاذ کیا گیا اور بعد ازاں اسلامی حلقوں کی طویل قانون جنگ کے بعد توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی۔عاصمہ جہانگیر ان لوگوں میں شامل تھیں۔جنہوں نے بنیادی انسانی حقوق کےحوالے سے اس قانون کی مخالفت کی۔اس دوران میں جن لوگوں کے خلاف"قانون توہین رسالت" کے تحت مقدمات دائر ہوئے۔عاصمہ جہانگیر نے بیشتر ملزموں کے لئے اپنی قانونی خدمات پیش کیں اور  ان کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے اعلیٰ عدالتوں تک پورے شدومد کے ساتھ پیروی کی۔اس طرح وہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی نظر میں آگئیں اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والی خواتین کی عالمی فہرست میں ان کا نام ایک ممتاز مقام پر در ج کرلیاگیا۔عاصمہ جہانگیر کی اس کاوش نے جہاں انھیں بین الاقوامی شہرت اوراعزازات سے نوازا وہاں اندرون ملک اسلامی حلقوں میں وہ ناپسندیدہ تین شخصیت کے طور پر ابھرتی چلی گئیں۔ان کے ناقدین نے ان کی جدوجہد کے پس پردہ محرکات کا کھوج لگانا شروع کیا اور دعویٰ کیا کہ مسلمان ہونے کے باوجود انہوں نے ایک قادیانی سے شادی کررکھی ہے۔اس لیے وہ قادیانی عقائد کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں اور چونکہ توہین رسالت کا قانون در اصل قادیانی عقائد کی قانونی روک تھام کے لئے بنایا گیا تھا،اس لئے وہ اس قانون کو انسانی حقوق سے متصادم خیال کرتی ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ قانون نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بغیر کسی دوسرے شخص کو کسی بھی حیثیت میں نبی تسلیم کرنے والوں کے خلاف حرکت میں آسکتاہے۔قادیانیوں کے نزدیک یہ قانون ان کے مذہبی عقائد کو مجروح کرتا  ہے لہذا ان کے بنیادی حقوق(جن میں مذہبی آزادی بھی شامل ہے) کو ناقابل تلافی زک  پہنچاتا ہے ۔اسلامی حلقوں کے مطابق عاصمہ جہانگیر قادیانی کی بیوی ہونے کے ناطے قادیانی مقاصد کے لئے کام کررہی ہیں۔اور اسلامی قوانین کو عالمی سطح پر ظالمانہ اور فرسودہ قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
"اسلامک ہیومن  رائٹس  فورم" کا فتویٰ آتے ہی  بہت سے حلقوں میں اس فتویٰ پر علمی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔فتویٰ کے دوسرے ہی روز اس کے حق اور مخالفت میں بہت سی شخصیات کی آراء اخبارات کی زینت بنیں۔عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بیگم نیلم کو ثر شاہ۔سابق رکن قومی اسمبلی،محترمہ ریحانہ علیم مشہدی،پیپلز پارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی صدر بیگم حسنین،مسلم لیگ(ن) کی محترمہ صبا صادق اور مرکزی نائب صدر میاں خورشید محمود قصوری وغیرہ نے شادی کو ایک خاتون کا ذاتی معاملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مولویوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ شادی کو ایشو بنا کر کسی کی ذاتی زندگی کو خراب کریں۔دوسری طرف جامعہ اشرفیہ کے مہتمم علامہ عبدالرحمان اشرفی نے کہا ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔جن سے کسی مسلمان عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا۔جماعت اسلامی کے نائب امیر چوہدری محمد اسلم سلیمی ایڈوکیٹ کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ان کا خاوند قادیانی ہے جبکہ میں لبرل مسلمان ہوں حالانکہ قادیانی سے مسلمان عورت کا نکاح جائز نہیں۔
اسلامک ہیومن  رائٹس فورم کے فتویٰ اور اس پررد عمل کاتجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ فتویٰ کے حمایتی ایک مسلمان عورت کے ایک قادیانی کی بیوی کے طور پر زندگی بسر کرنے کو جرم خیال کرتے ہیں اور موقف اختیار کرتے ہیں کہ اسلامی قوانین کے تحت کسی قادیانی کی کسی مسلمان عورت کے ساتھ شادی سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتی اوراگر ایسی شادی پہلے سے موجود تھی بھی  تو قادیانیوں کے آئینی طور پر مسلم قرار پاتے ہی یہ شادی منسوخ ہوجاتی ہے۔لہذا قادیانی کی منکوحہ مسلم خاتون پر  فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ قادیانی شوہر کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دے اوراگر وہ یہ دعوت قبول نہ کرے تو اس سے قطع تعلق کرلے نہ کہ اس کی بیوی بنے رہنے پر اصرار کرے اور اس رشتے کو سرعام باعث فخر قرار دیتی پھرے۔
اس کے برعکس فتویٰ کے مخالف اس طرز عمل کو ایک خاتون کا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں اور اس معاملے کو اجتماعی مسئلہ بنانے والوں کے رویے کو نہ صرف افسوس ناک قرار دیتے ہیں بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ مذکورہ فتویٰ جاری کرنے والے ایسی اہلیت اور اتھارٹی سے محروم ہیں۔
فتویٰ کے مخالفین کے بیانات کو بغور دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان حضرات نے قادیانی کی مسلمان عورت سے شادی کو قانونی یا غیر قانونی قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے اس مسئلے کو ایک خاتون کا ذاتی معاملہ کہہ کر معاشرتی طور پر اس سے صرف نظر کرنے کا موقف اختیار کیاگیاہے۔
یہاں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ آخر ذاتی معاملہ ہوتا کیا ہے۔ذاتی معاملے کی تعریف کیا ہے۔مختلف معاشرے کن معاملوں کو ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔اور ایک ذاتی معاملہ ایک معاشرتی معاملے میں کب تبدیل ہوجاتا ہے۔ان سوالات کی طویل بحث اورقانونی توضیحات میں جائے بغیر مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک مسلمان عورت کا ایک قادیانی کی بیوی بن کر رہنا مغربی معاشرے میں تو یقیناً ایک ذاتی معاملہ متصور ہوگا لیکن ایک اسلامی معاشرہ اس فعل کو محض دو افراد کا ذاتی معاملہ قرار دے کر  اسے نظر انداز نہیں کرسکتا ۔کسی بھی اسلامی ملک یا معاشرے کے پاس ایسا کرنے کی ٹھوس سماجی اور قانونی وجوہات موجود ہوتی ہیں۔معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھاجائے تو کسی شخص کا سڑک پر بیٹھے شراب نوشی کرنا کسی کنواری لڑکی کا کسی غیر مر د کے ساتھ بطور بیوی رہائش رکھنا بغیر کسی نکاح کے بچے  پیدا کرتے چلے جانا۔باہمی رضامندی سے شادی شدہ عورتوں اور مزدوروں کا اپنے زوجین کے علاوہ دوسرے لوگوں سے تعلقات رکھنا۔عورتوں کا تقریباً برہنہ رہنا۔ہم جنس پرستی کا پرچارک ہونا۔وغیرہ وغیرہ کو مغربی معاشرے میں عام طور پر افراد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جاتا ہے۔جبکہ ایک اسلامی معاشرہ ان افعال کو نہ  صرف یہ کہ جرم تصور کرتا ہے بلکہ ان کے ارتکاب پر باقاعدہ سزائیں تجویز کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اے کے گوپالن بنام مدارس سرکار(اے آئی آر 1950ء صفحہ 27) نامی مقدمے میں ذاتی معاملہ میں آزادی کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے قرار  دیا تھا کہ"جس حد کے بعد کسی فعل کو کسی قانونی اختیار کے تحت قابل  سزا،قابل گرفتاری یا قابل پابندی قرار دیا گیا ہو،اس حد سے تجاوز پر وہ فعل ذاتی آزادی کی ذیل سے باہر نکل جاتا ہے۔"یعنی قانون کے مطابق قابل مواخذہ ٹھہرتا ہے۔اسی طرح سینے پر کلمہ طیبہ کابیج لگانا ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔لیکن یہ ذاتی معاملہ جب آبادی کی اکثریت سے دھوکہ دہی کا باعث بننے لگے یا اکثریت کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے لگے تو قابل مواخذہ بن جاتا ہے۔چند سال قبل کچھ قادیانیوں کو ماتحت عدالت نے اس جرم پر سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف یہ کہ اپیل مسترد ہوئی بلکہ ہائی کورٹ(این ایل آر1990ء یو سی صفحہ 66) میں داخل کی جانے والی نگرانی کو بھی خارج کردیا گیا تھا۔ان مثالوں سے قطع نظریہ بھی ایک طے شدہ قانونی اصول ہے۔کہ جب کوئی ذاتی معاملہ یا فعل مجرمانہ حدود میں داخل ہوجائے تو وہ محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ معاشرتی معاملہ بن جاتا ہے۔اور ایسے جرم کو روکنے کےلئے احتسابی عمل کا آغاز  قرین انصاف  خیال کیا جاتا ہے۔
اسلامی معاشرہ میں قرآنی احکامات کو حتمی قانون کا درجہ حاصل ہوتا ہے اسلامی  جمہوریہ پاکستان کے آئین میں قرآن وحدیث کو قانون کاسرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔اور عوام سے نہ صرف اسلامی قوانین کے نفاذ کا وعدہ کیا گیا ہے بلکہ ضمانت دی گئی ہے کہ ایسا کوئی قانون برقرار نہیں رکھا جائے گا جو اسلامی قوانین سے متصادم ہو۔قرآن حکیم میں:۔
﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ... ٢٢١﴾...البقرۃ
میں واضح طور پر ارشاد ہوا ہے کہ کوئی مسلم عورت کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی۔اس قرآنی حکم کی روشنی میں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بہت سے فیصلے صادر کیے ہیں۔اختصار کے پیش نظر یہاں صرف  ایک مثال پیش خدمت ہے:پرویز بنام سرکار(این ایل آر1993ء ایس ڈی 770) میں عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی۔اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں اور قرآن فرقان کے واضح احکامات کی حکم عدولی کو محض ایک شخص کا ذاتی معاملہ کہہ کر آسانی سے ٹالا نہیں جاسکتا۔یہ رویہ اسلامی معاشرہ کے تشخص کو بگاڑنے اور اس کی بنیادوں کو اکھاڑنے کے مترادف ہوگا۔