ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جولائی
1996
ظفر علی راجا
گزشتہ دنوں "اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے ایک اجلاس میں پچاس سے زائد علماء ووکلاء اور اہل دانش حضرات نے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی مسلمان عورت کسی اقراری اور مصدقہ قادیانی کی قانونی بیوی نہیں بن سکتی اور اگر کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی کے ساتھ اسلامی نکاح پر اصرار کرتی ہے تو ایسے نکاح کی کوئی مذہبی یا قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ایسا عمل نہ صرف یہ کہ حدود آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے بلکہ"امتناع قادیانیت آرڈیننس" کے تحت بھی جرم  تصور ہوگا۔
"اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے اس فتویٰ کا  روئے سخن در اصل عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ کی جانب تھا،عاصمہ جہانگیر صاحبہ بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ایک تنظیم"ہیومن رائٹس کمیشن"کی چئیر پرسن ہیں اور ایک عرصہ سے  بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے متاثرہ شہریوں کو قانونی تحفظ مہیا  کرنے کے چمپئن کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔اس لحاظ سے ان کی جدوجہد عمومی طور پر متنازعہ نہیں رہی۔ان کی ذات اور جدوجہد کے خلاف شدید رد عمل اس وقت شروع ہوا جب پاکستان میں "قانون توہین ر سالت" کانفاذ کیا گیا اور بعد ازاں اسلامی حلقوں کی طویل قانون جنگ کے بعد توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی۔عاصمہ جہانگیر ان لوگوں میں شامل تھیں۔جنہوں نے بنیادی انسانی حقوق کےحوالے سے اس قانون کی مخالفت کی۔اس دوران میں جن لوگوں کے خلاف"قانون توہین رسالت" کے تحت مقدمات دائر ہوئے۔
  • جولائی
1996
عبدالحمید خاں عباسی
اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہو نے کی حیثیت سے تفہیم وا دراک اور اسے اعتقاد وعملاً اپنا نے کے لیے قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف رجوع کرنا نہا یت ضروری ہے کیونکہ ان دو نوں سے اعتقادی اور عملی مسائل و احکا م کے چشمے پھوٹتے  ہیں اسی وجہ سے دو نو ں کے احکا م کو اسلا می شریعت کا بنیا دی مصدر و منبع ہو نے کی حیثیت حاصل ہے قرآن مجید ان احکا م کا اجما ل اور احا دیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تفصیل و تو ضیح اورشارح و ترجمان ہیں یعنی دونوں ایک دوسرے کے لیے لا زم و ملزوم ہیں ۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں ۔
1۔"علم القرآن اگر اسلامی علوم میں دل کی حیثیت رکھتا ہے تو حدیث شہ رگ کی ۔ یہ شہ رگ اسلامی علوم کے تمام اعضاء وجو ارح تک خون پہنچا کر ہر آن ان کے لیے تا زہ زندگی کا سامان پہنچاتا رہتا ہے آیت کا شان نزول اور ان کی تفسیر احکا م القرآن کی تشریح و تعین اجمال کی تفصیل عموم کی تخصیص مبہم کی تعیین سب علم حدیث کے ذرریعہ معلوم ہو تی  ہے"(1)
2۔"اسی طرح حامل قرآن محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت حیا ت طیبہ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اخلا ق و عادات مبا رکہ اقوال و اعمال سنن و مستحبات اور احکا م واشادات اسی علم حدیث کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں "(2)
3۔اسی طرح خود اسلام کی تا ریخ صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین کے احوال اور ان کے اعمال و اقوال اور اجتہادات وااستنباطات کا خزانہ بھی اسی (علم حدیث ) کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے "(3)
4۔علامہ رحمۃ اللہ علیہ   آخر میں فر ما تے ہیں :"اس بنا پر اگر یہ کہا جا ئے تو صحیح ہے کہ اسلام کے عملی پیکر کا صحیح مرقع اسی علم کی بدولت مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے قائم ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت رہے گا ۔
لیکچر اراداراہ علوم اسلا میہ یو نیو رسٹی آف آزادجموں و کشمیر میر پو ر کیمپس آزاد کشمیر علامہ جعفر الکتانی رحمۃ اللہ علیہ   فر ما تے ہیں :
"یقیناً وہ علم جو ہر ارادہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے اور ہر عالم و عابد کو اس کی ضرورت پڑتی ہے وہ یہی علم حدیث و سنت ہے یعنی جو بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی امت کے لیے مشروع ومسنون قرار دیا "(15)
اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ   نے عربی اشعار نقل کئے ہیں جن کا ترجمہ ہے ۔
  • جولائی
1996
عبدالرحمن کیلانی
حصہ اول:۔اس حصے میں ایسے عقائد ونظریات کا ذکر ہے جن میں کم از کم نا کی حد تک مسلمانوں اور اسماعیلیوں میں اشتراکیت موجود ہے۔
الف:ارکان اسلام۔۔۔۔۔۔۔1۔کلمہ ء شہادت
اسلام میں داخل ہونے کے لئے کلمہ شہادت کازبان سے اقرار کرنا ضروری ہے ۔اس کلمہ ک دو اجزاء ہیں۔یعنی اشهد ان لا اله الا الله اوراشهد ان محمد رسول الله اور اگر کوئی مسلمان بھی ان دونوں اجزاء یا دونوں میں سے کسی کا زبانی یا معنوی طور پر انکار کردے،یا اس سے ایسے اعمال سرزد ہوں جن سے اس کلمہ کے کسی جزو کی تردید ہوتی ہو تووہ شخص دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔قادیانیوں نے اس کلمہ کے دوسرے جزو کا معنوی طور پر انکار کیا۔یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رسالت کو تا قیامت واجب الاتباع تسلیم کرتے ہوئے ایک اور"نبی کی نبوت" کو تسلیم کرلیا تو پاکستان کی عدالت عالیہ نے اس فرقہ کو1975ء میں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔
تمام اہل سنت کے برعکس اسماعیلیہ فرقہ کے کلمہ شہادت کے اجزا دو نہیں بلکہ تین ہیں:
اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمد رسول الله واشهدان امير المومنين علي الله(1)
علاوہ ازیں ان کے ہاں  پہلے دو اجزاء (جو سب مسلمانوں میں مشترک ہیں) کا بھی وہ مفہوم نہیں۔جو دوسرے مسلمانوں کے ہاں پایا جاتاہے۔کلمہ کے پہلے جزء لا اله الا الله کا  عام مفہوم یہ ہے کے اللہ کے سوا کوئی معبود یا عبادت کے لائق نہیں۔اگرچہ بعض مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات الوہیت یعنی مشکل کشائی اور حاجت روائی وغیرہ میں اپنے زندہ یا فوت شدہ بزرگوں اور پیروں کو بھی شامل کرلیا تاہم غیر اللہ کو سجدہ کرنا ایسا عمل ہے جسے مسلمانوں کے تمام فرقے حرام سمجھتے ہیں مگر اسماعیلی اپنے حاضر امام کو سجدہکرتے اور اس کام کو کارثواب اور اصل عبادت سمجھتے ہیں۔درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
1۔اس دنیا میں جو مومن پہلے تھے اور جو مومن  اس وقت ہیں اور جو آئندہ ہوں گے سب مومن "شاہ پیر"(2) کی عبادت کرتے تھے،کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
2۔"پیر شاہ ہمارے گناہ بخش دیتے ہیں۔۔۔امام حاضر کو ہم "پیر شاہ" کہتے ہیں(3)
  • جولائی
1996
عبدالرشید عراقی
انگریزی اقتدار کی آخری نصف صدی برصغیر کی مذہبی دنیا بہت ہنگامہ خیز گزری ہے۔اس دور میں برصغیر میں مناظروں کا بہت زور تھا۔علمائے اہل حدیث نے سینکڑوں تقریری اور تحریری مناظرے کئے،علمائے اہل حدیث میں مولانا ابو الوفاثناءاللہ امرتسری،مولانا ابوالقاسم بنارسی،مولانا محمد ابراہیم میری سیالکوٹی،مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی،مولانا محمد بشیر سہسوانی اور مولانا محمد جونا گڑھی نے بے شمار تقریری تحریری مناظرے قادیانیوں،آریوں،مقلدین احناف،منکرین حدیث،عیسائیوں اور شیعوں سے کئے۔ذیل میں چند مشہور تحریری مناظروں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:
مولانا عبدالحئی بڈہانوی:۔
مولانا شاہ عبدالئی بڈہانوی مولانا شاہد عبدالقادر دہلوی اور مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی کے شاگرد تھے اور مولانا شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی کے ہم درس تھے۔مولانا عبدالئی علوم اسلامیہ کے متبحر عالم تھے۔علامہ محسن بن یحییٰ بہاری فرماتے ہیں۔مولانا شاہ عبدالحئی حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی کے خلفاء   میں سے تھے،جملہ علوم الاسلامیہ بالخصوص فقہ میں ان کو کمال حاصل تھا۔8شعبان 1243ھ علاقہ سوات  بنیر  میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔
مناظرہ:۔
یہ رسالہ اس مناظرہ کی رواداد ہے۔جو مولانا عبدالحئی بڈہانوی اورمولانا رشید الدین کشمیری کے  مابین"شرک وبدعت" کے موضوع پر ہوا تھا۔
مولانا سید عبدالجبار سہسوانی:۔
مولانا سید عبدالباری 1226ھ میں پیدا ہوئے،مولانا سید امیرحسن سہسوانی سے جملہ  علوم اسلامیہ کی تعلیم حاصل کی اور حدیث کی سند شیخ الکل مولانا سید محمد نزیر حسین  دہلوی سے حاصل کی۔فن مناظرہ میں ان کو ید طولیٰ حاصل تھا۔عیسائیوں اور آریوں سے آپ کے بہت مناظرے ہوئے۔ادیان باطلہ میں انہیں کمال حاصل تھا۔سرسید احمد خاں اور مولانا سید نواب صدیق حسن خاں آپ کے علم وفضل کے معترف تھے۔9ذی الحجہ 1303ھ،8 ستمبر 1886ء کو آپ نے انتقال کیا۔
فتح المبین علی اعداء الدین:۔
یہ کتاب اس مناظرہ کی روداد ہ جو مولانا سید عبدالباری سہسوانی اور ایک  عیسائی پادری کے مابین ہواتھا۔عنوان مناظرہ مسئلہ توحید وتثلیث تھا۔
  • جولائی
1996
جان پلِگر
حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لانا ایمانیات میں شامل ہے۔
عذاب القبر کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے اور باطل فرقوں کے علاوہ کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔اور جن فرقوں نے اس عقیدہ کا اظہار کیا۔انہیں اس مقصد کے لئے حدیث کا بھی انکار کرناپڑا۔حالانکہ احادیث صحیحہ کا انکار قرآن ہی کا انکار ہے۔قرآن وحدیث دونوں ہی ہیں۔اور ان میں سے کسی ایک انکار وحی کا انکار ہے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
﴿اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٣﴾...الاعراف
"جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کرو۔اور اس کے علاوہ دوسرے اولیاء کی اتباع نہ کرو۔مگرتم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔"(الاعراف:3)
معلوم ہو اکہ اتباع صرف اسی کی ہے۔جو رب کی طرف سے نازل کیاگیا۔اس کے سوا کسی اور کی اتباع ممنوع ہے۔مگر اس نصیحت کو کم ہی لوگ مانتے ہیں۔کیونکہ کوئی اپنے بڑوں کی اتباع وپیروی کرتاہے۔کوئی اپنے اماموں اور علماء کی اتباع کرتاہے اور کوئی اپنے نفس کی اتباع کرتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿٣٣﴾...محمد
"اے ایمان والو!  اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی۔اور ان کی اطاعت سے منہ موڑ کر اپنے اعمال ضائع نہ کرو"
اللہ تعالیٰ یا رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  میں سے کسی ایک کی اطاعت سے انکار،اعمال کو ضائع(برباد) کرنے کے مترادف ہے۔اوراطاعت کے لحاظ سے دونوں اطاعتوں میں کوئی فرق نہیں  کیونکہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے:
  • جولائی
1996
عبدالرحمن کیلانی
افق علم  کا اک اور ستارا ٹوٹا          وہ کہ روشن  رہا عرفان کے ایوانوں میں
میں سمجھتا ہوں کہ وہ طائر نغمہ پردازجا کے شامل ہوا طوبیٰ کے ثنا خوانوں میں
مرد خوش فکر وخوش اخلاق وہ عبدالرحمان پاک دل پاک زباں پاک نظر کیلانی
اخ واب اس کے سبھی  متقی ونیک نہاد رحمت حق سے ہیں احفاد ہمہ حقانی
وہ شہید رہ عرفان ومعارف،جس کا اوڑھنا اور بچھونا رہا قرطاس وقلم
جس کی راتوں پہ رہی نور فگن وحی وکتاب جس کی صبحوں  پہ  گری رحمت حق کی شبنم
خازن دولت دیں،کنز معارف کا امیں اس کے مخزن سے جو نکلا زر وگوہر نکلا
تربیت گاہ سے اس کی ملا فیضان جسے علم وعرفاں ک سمندر کا شناور نکلا
  • جولائی
1996
صلاح الدین یوسف
مو لا نا عبد الرحمٰن کیلا نی رحمہ اللہ تعا لیٰ (وسن پورہ لا ہو ر ۔۔۔جن کا انتقال 18دسمبر 1995ء مطا بق 25رجب 1416ھ کو ہوا ۔۔۔۔جما عت اہلحدیث کے ان علماء میں سے ایک ممتاز عالم اور صاحب قلم بزرگ تھے جنہوں نے نام و نمود کی خواہش کے بغیر نہا یت خا مو شی سے ٹھوس دینی اور علمی خدمات سر انجا م دیں ۔ مو لا نا مر حوم کا تعلق اس کیلا نی خا ندان سے ہے جو ہمیشہ کتا بت میں معروف ہو نے کے علاوہ دینی و علمی روایات کا بھی حا مل چلا آرہا ہے زیر نظر تحریر میں اختصار کے ساتھ انہی دو مو ضو عات پر روشنی ڈا لی گئی ہے پہلے حصہ میں تو کیلا نی خا ندان کا تعارف پس منظر اور ان کی دینی خدما ت کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصہ میں مو لا نا عبد الرحمٰن کیلا نی کی بیش قیمت تصانیف پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔
خاندانی تعارف و پس منظر :۔
ان کے بزرگوں میں حا جی محمد عارف سب سے پہلے کیلیانوالہ میں آکر مقیم ہو ئے ان کے بیٹوں میں امام الدین اور محمد الدین تھے جن سے ان کا سلسلہ نسب پھیلا ایک اور بیٹے سلطا ن احمد بھی تھے مو لا نا عبد الرحٰمن  کیلا نی رحمۃ اللہ علیہ   کے جدا امجد امام الدین تھے جو مدرسہ غزنویہ امرتسر کے فیض یا فتہ تھے ۔ ان کے آگے تین بیٹے تھے ۔نور الٰہی،عبد الحی اور عبد الواحد ،مو لا نا امام الدین کے بڑے بیٹے نو رالٰہی  اور ان کی اولا د مولوی نور الٰہی صاحب سے جو بہت عمدہ کا تب تھے اور خوش نویسی ہی ان کا ذریعہ معاش تھا چار بیٹے ہوئے ۔محمد سلیمان محمد ادریس ،عبد الرحمٰن اور عبد الغفور اور یہ چاروں بھا ئی ماشاء اللہ اپنے آبائی پیشے کتابت کے علاوہ علم و فضل میں بھی ممتاز رہے ۔یہ سب کیلیانوالہ کی نسبت سے جوان کے آباؤ واجداد کا کئی پشتوں سے مسکن تھا کیلا نی کہلاتے ہیں ۔
  • جولائی
1996
ڈاکٹر حبیب الرحمن کیلانی
اشک خون روتا ہے دل ہے آنکھ سے سیل رواں      موجزن ہے دل میں غم کا بحربیکراں 
کا تب قرآن بھی تھے اور دین کے عالم نامور    چودھویں کے چاند جیسی کتب تیری راہ پر
پرخلوص بے تعلق بے ریا و بے غرض تیری حیا ت    پا کباز و پاک طینت اور پابند صلوٰت
پاک فطرتپاک دامن نیک سیرت نیک خو  زند گی ایک سعی پہیم ایک مسلسل آرزو
خوش مزاج و خوش فعال وکوش نہاد و خوش نصیب   نیک بخت و نیک نام و نیک خو جان حبیب 
گفتگوتھی دل پذیر اور دل نشین تحریر تھی   تھی شگفتہ بات بھی اور دلربا تقریر بھی 
جسم اتنا ناتواں اوزعلم اتنا ذی وقار    آپ کی ہستی تھی گو یا ہو گلستا ن میں بہار
علم دین نے تجھ کو بخشی اس قدر تاب و تواں    اک پر کاہ بن گیا تیرے کوہ گراں
  • جولائی
1996
رمضان سلفی
مولانا عبد الرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ایسی شخصیا ت میں سے تھے جن کا وجود امت مسلمہ کے لیے خیرو برکت کا با عث ہو تا ہے کیونکہ اسلام کی با لا دستی ان کی زند گی کا مشن تھا جبکہ مو لا نا مو صوف ہمیشہ نمود و نما ئش سے با لا تر ہو کر خدمت دین متین میں مصروف رہنے والے اور حصول شہرت کی خا ر داروادیوں سے دا من بچا کر مسلمانوں کی بہتری کے لیے کو شاں رہنے والے تھے اس مملکت خداداد میں جب بھی کو ئی مسئلہ اٹھتا تو اسلام کا یہ گم نام سپا ہی کا غز اور قلم سنبھا لتا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں درپیش مسئلے کا حل پیش کر کے امت کی را ہنما ئی کا فریضہ سر انجا م دیتا وہ اخلا ق حسنہ کے زیور سے آراستہ تھے اور ہر بڑے یا چھوٹے کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے وہ خواتین کی اسلامی تعلیم و تربیت پر خصوصی تو جہ دیا کرتے تھے اسی غرض سے انھوں نے ایک مدرسۃ البنا ت کا اجر ابی کر رکھا تھا جس  کی سر پرستی وہ خود فر ما یا کرتے تھے راقم کو کچھ عرصہ محترم حا فظ عبد الرحمٰن مدنی صاحب کی را ہنما ئی میں ان کے مدرسہ میں تدریس کا موقع میسر آیا جب بھی وہاں مو لانا مرحوم سے ملا قات ہوتی تو اخلا ق سے پیش آتے اور اپنے حلقہ یاراں میں جلوہ افروز احباب سے مجھ نا چیز کا تعارف کرانے میں کو ئی خفت محسوس نہ کرتے جب وہ عنان قلم تھا مے ہو ئے تحقیق کے میدان میں اترتے تو علمی سفر کا حق ادا کردیتے تھے اور الجھے ہو ئے مسئلہ کا ایسا آسان اور مدلل حل پیش کرتے کہ علم دوست احباب محظوظ ہو ئے بغیر نہ رہ سکتے  ،ہمہ وقت وہ اپنی تصنیف و تا لیف کی سر گرمیوں میں مگن رہتے اور اس کا م کی انجا م وہی میں کو ئی دقیقہ فروگذاشت نہیں جا نے دیتے  تھے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے دنیا سے رحلت فر ما جانے کے باوجود ان کا علمی سر ما یہ تالیفا ت کی شکل میں موجود ہے جو ہمہ تر جدید مسائل و نظریا ت پر مشتمل ہے اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہے ۔
  • جولائی
1996
عبدالوکیل علوی
قحط الرجا ل کے اس دور میں کسی صاحب علم و فضل کا اٹھ جا نا "موت العا لم مو ت العالم" کا مصداق ہے ۔علم دین شریعت کا فقدان اصحا ب علم دین کے اٹھ جا نے سے ہی ہو تا ہے 1995ء میں بہت سے اصحا ب علم و فضل داربقا کی جا نب رخت سفر باندھ گئے ان کے اٹھ جا نے سے خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا بڑا دشوار اور مشکل ہے آنے والا جا نے ہی کے لیے آتا ہے ان آکر جا نے والوں میں بہت سے اوصاف و ممیزات کی مالک ایک شخصیت مولانا عبد الرحمٰن کیلا نی رحمۃ اللہ علیہ  کی ہے مو صوف 18دسمبر 1995ءسوموار کے روز اپنے ہاتھوں سے تعمیر کردہ مسجد میں نماز عشا ء ادا کرتے ہو ئے پہلی صف میں دائیں جا نب حالت سجدہ میں دا عی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔
انا الله وانا اليه راجعون 
ایسی قابل رشک موت خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہو تی ہے باوضو  فرض نماز باجماعت پہلی صف میں دا ئیں جا نب حا لت سجدہ میں زبا ن سے رب کا ئنا ت کی روح و ثنا کے ترا نے اجتما عیت میں شریک ہر ایک کے احسان سے سبکدوش رب اکبر کی کبرا یا ئی کا ورد کرتے ہو ئے وہ گئے!!!
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ،•، سُبْحَانَ اللَّه الْعَظِيم
  • جولائی
1996
زاہد الراشدی
عربی کے کسی رسالے میں ایک کہاوت پڑھی تھی  کہ ایک مصور دیوار پر نقش ونگار بنا رہا تھا اور تصویر میں ایک انسان اور ایک شیر کو اس کیفیت میں دکھا رہا تھا کہ انسان شیر کاگلا گھونٹ رہا ہے۔اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے تصویر کو  ایک نظر دیکھا۔مصور نے تصویر میں شیر کی دلچسپی دیکھ کر اس سے پوچھا سناؤ میاں!  تصویر اچھی لگی؟شیر نے جواب دیا کہ میاں!اصل بات یہ ہے کہ قلم تمھارے ہاتھ میں ہے۔ جیسے چاہے منظر کشی کرو،ہاں اگر قلم میرے ہاتھ میں ہوتا تو یقیناً تصویر کا منظر اس سے مختلف ہوتا۔
کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا عالم اسلام کو آج مغربی میڈیا کے ہاتھوں کرنا پڑ رہا  ہے ۔ابلاغ کے تمام تر ذرائع پرمغرب کا کنٹرول ہے۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹڈ میڈیا دونوں کے سرچشمے اس کی تحویل میں ہیں۔متعصب یہودی کا دماغ اورسیکولر عیسائی دنیا کے وسائل اکھٹے ہوچکے ہیں۔
سیکولر لابیاں انسانی معاشرے میں مذہب کی دوبارہ اثراندازی سے خائف ہوکر مذہب کا ر استہ روکنے کے لئے سیاست،معیشت،میڈیا لابنگ اورتحریف وتحریص کےتمام ذرائع استعمال کررہی ہیں اور مسیحی دنیا کا مذہبی عنصر بھی مرعوبیت کے عالم میں بالادست سیکولر عیسائی قوت کا آلہ کار بنے رہنے میں عافیت محسوس کررہا ہے۔
مغرب کی سیکولر لابیوں کے اعصاب پر یہ خوف سوار ہے کہ انسانی معاشرہ دو  صدیوں میں مذہب سے بغاوت کےتلخ نتائج بھگت کر اب مذہب کی طرف واپسی کے لئے ٹرن لے رہا ہے اور دنیا میں مسلمانوں کے سواکسی اور قوم کے پاس مذہب کی بنیادی تعلیمات(آسمانی وحی اور پیغمبر کی تعلیمات وسیرت) اصلی حالت یں موجود ومحفوظ نہیں ہیں۔اس لئےاسلام منطقی طور پر ا ن کی معاشرہ کے مستقبل کی واحد امید بنتا جارہاہے۔چنانچہ یہودی دماغ اور سیکولر قوتوں کی  صلاحیتیں اور وسائل اب صرف اس مقصد کے لئے صرف ہورہے ہیں کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کے علمبردار مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے زور سے نفرت کی ایسی فضا قائم کردی جائے جو اسلام کی طرف انسانی معاشرہ کے متوقع رجوع میں رکاوٹ بن سکے۔
  • جولائی
1996
عطاء اللہ صدیقی
مغرب کے فکری دستر خوان کے خوشہ چین عجب تضادات کا شکار ہیں:
سواد اعظم کے دباؤ کے زیراثران میں اتنی اخلاقی جرات تو نہیں کہ وہ کھلم کھلا اسلام کے کامل دین ہونے کے خلاف کچھ کہہ سکیں۔لیکن ان کی فکر کے تمام دھارے اسلام کی مخالفت سمت میں بہہ رہے ہیں تاہم انہیں اصرار ہے کہ انہیں بہرحال مسلمان سمجھا جائے۔
2۔ان کو تاہ فکرفرنگ زدہ دانشوروں سے اگر دریافت کیا جائے کہ آخر مغرب کے پیش کردہ بلند بانگ انسانی حقوق کی طولانی فہرست کا وہ کونسا گوشہ ہے جو اسلام کے عالمگیر معاشرے کی تشکیل کے وسیع دائرے میں شامل نہیں ہے تو وہ کسی ایک بھی نکتے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔
3۔اگرچہ وہ مسلمان کہلانے پر مصر ہیں۔لیکن اسلام کے نام پر شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک میں شرکت کا داغ اپنے اوپر لینے کو تیار نہیں۔اسلام میں انسانی حقوق کاجو وسیع نظام موجود ہے۔مغرب کے انسانی حقوق کاخاکہ اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔لیکن"کل"کوچھوڑکر"جزو" کو محض زعم باطل میں مبتلا ہوکر اختیار کیے ہوئے ہیں کہ  ترقی پسندی اورروشن خیالی کے حصول کا ان کے نزدیک واحد راستہ یہی ہے۔
4۔درحقیقت وہ فکری اعتبار سے نہ تو وہ صحیح معنوں میں ترقی پسند ہیں اور نہ روشن خیال،ان کے فکر کی ہر تان وعظمت آدم اور شرف انسانیت کے تصورسے متصادم ہے ان کی سرگرمیوں کا سار محور عظمت  انسانی سے زیادہ مغربی آقاؤں کے سامنے اپنے آپ کو ترقی پسند کے روپ میں پیش کرنا ہے۔
5۔ان کے ذہن مغربی ژولیدگی سے مزین ہیں۔اور ان کی زبانوں کو مغرب کے زہریلے پروپیگنڈے کی چاٹ لگی ہوئی ہے۔ان کے ذہن ہر اس ہتک آمیز فلسفے ،اصطلاح اور لفظ کی جگالی کرتے رہتے ہیں جو انہیں مغرب کے ذرائع ابلاغ سے ملتاہے۔اسلام پسندوں کی تضحیک وتوہین میں وہ اپنے مغربی آقاؤں سے بھی دو چار ہاتھ آگے ہیں۔
  • جولائی
1996
غزل کاشمیری
غیر مسلم اقوام میں انسانی حقوق کی مختصر تاریخ:۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ سب سے پہلے بایل کے بادشاہ حمورابی 2130ھ تا2088ق م) کے کوڈ آف لاء میں ملتا ہے۔یہ صرف دعویٰ ہے کہ کیونکہ جس قانون کی زبان صفحہ ہستی سے نابود ہوچکی ہو۔اور جس کے خالق کے حالات زندگی کا کچھ پتہ نہ ہو اس کے بارے میں یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ حقوق انسانی کا پہلا علمبردار تھا۔خود اس کوڈ آف لاء کے بعض حصے اتنے ظالمانہ اور وحشیانہ ہیں کہ ان سے بنیادی حقوق کے تصور کو شدید دھچکا لگتا ہے۔
اس طرح رومی سلطنت کے کچھ قوانین ملتے ہیں۔جس کی رو سے ان حقوق سے صرف  رومی شہری ہی مستفید ہوسکتے تھے،غیر رومی بہر اندوز نہیں ہوسکتے تھے بعد میں انہی رومی قوانین کو یورپی اقوام نے اپنایا۔(1) چنانچہ اٹھارویں صدی کے آخر عشروں  میں انہیں فرانس میں"Droito Del Homme " کے نام سے مدون کیا گیا۔اسی صدی میں برطانیہ میں چند مبہم اور غیر واضح قوانین کا نشان ملتا ہے۔انیسویں صدی میں امریکہ نےانہی قوانین کو اپنے دستور میں شامل کیا :بیسوی صدی کو انہی قوانین کو افریقہ اور ایشیا کے ممالک نے اختیار کیا،وہ بھی صدیوں کی انسانی جدوجہد اور کئی خونی انقلابات کے بعد۔ان قوانین میں زیادہ  تر شادی،خاندان،عدل ،تکریم انسانیت اور کچھ سیاسی وشخصی قوانین شامل تھے۔1917ء میں روسی دستور میں انسانی حقوق کو شامل کیا گیا مگر وہ زیادہ تر مزدورطبقہ کے معاشی وسیاسی حقوق کی یکطرفہ آواز تھی۔