Pages from www.KitaboSunnat.com---Mohaddis 343-Jan-2011

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

قرآن وسنت، اجماع اور ائمہ امت کے اقوال کی روشنی میں
حمد وثنا کے بعد! رسو ل اکرم ﷺ کے اکرام واحترام، تعظیم وتوقیر کے حوالے سے اُمت مسلمہ کی جو ذمہ داری ہے،قرآنِ مجید میں اس کوواضح طور پر بیان کردیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اُمت کو کس طرح ان فرائض کو ادا کرنا چاہئے ۔ رسو ل اکرم ﷺ کے اکرام واحترام اور آپﷺ کی تعظیم وتوقیر کے حوالے سے ہر مسلمان کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنادینی فرض ہے ۔
قرآنِ مجید میں آپﷺ کےمقام ومرتبہ اورحق کو بالکل واضح طور پر بیان فرمادیا گیا ہے۔ بالخصوص سورۃ الاحزاب ، سورۃ الحجرات ،سورۃ النور اور سورۃ التوبہ کے مطالعے سے واضح ہوجاتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی توقیر اور آپ کے ادب واحترام اور تعظیم کے کیا تقاضے ہیں؟اور مسلمانوں سے اس سلسلے میں کیا مطلوب ہے؟
رسولِ اکرمﷺ کی اہانت، تحقیر، سب یا شتم کا مرتکب شخص اگر اسلام کا دعویدار ہے تو اس کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے ۔رسول اکرم ﷺ کا اَدب نہ کرنا، آپ سے بغض رکھنا ایمان کے منافی ہے ۔ اہلِ علم نے آپﷺ سے اور آپ کے دین سے بغض کو اعتقادی نفاق میں شمار کیا ہے۔ اور اگر مسلمان سے توہین رسالت ، سب وشتم کا فعل صادر ہوتو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ صرف ارتداد ہی نہیں بلکہ اس کا یہ عمل زندقہ اور الحاد کے زمرے میں آتاہے ۔ چنانچہ ایسا شخص مرتد، ملحد اور زندیق ہوگا اور اس کی جو سزا قرآن وسنت اور سیرت خلفا ے راشدین اور فقہاومجتہدین اور علماےحدیث کے اتفاق سے سامنے آتی ہے،وہ یہ ہے کہ ایسا شخص واجب القتل ہے ۔ اور اس کے لئے کسی معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ الموسوعة الفقہیة الکویتیة میں ہے کہ
«إذا سبّ مسلم النبيﷺ فإنه يكون مرتدًا بلاخلاف»1
''اگر مسلمان نبی ﷺ کو گالی دے گا تو وہ شخص بلا اختلاف مرتد ہوجائے گا۔ ''
آپ ﷺ پرسب وشتم کے معاملے میں اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ پر طعن وتشنیع کرنا، آپ کی تنقیص اور توہین کرنا ،آپ کی ذاتِ گرامی کے لئے یا آپ کے نسب شریف کے لئے ،آپ ﷺ کے دین وشرع کے لئے یا آپ ﷺ کی صفات اور عادات وخصائل کے لئے کوئی اس طرح کے الفاظ ادا کرتا ہے تو یہ کام ارتداد اور کفر کا مظہر ہیں اور ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے ۔ جب وہ مرتد ہوجاتاہے تو اللہ ربّ العزت نے اس کے لئے جو سزا متعین فرمائی ہے وہ یہ ہےکہ ایسے شخص کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ اللہ رب العزت اس جہاں کے فرمانروا ہیں اور محمد ﷺ اللہ کے فرستادہ ، سفیر اور اللہ کے دین کے پہنچانے والے ہیں ، اللہ ربّ العزت نے ان کے لئے خودیہ مرتبہ مقرر فرمایا ہے کہ ان کا احترام کیا جائے ، ان کی تکریم کی جائے اور ان کی تعظیم وتوقیر کی جائے ۔
مسلم شاتم رسول کے ارتداد ، کفر اور قتل پر قرآنی دلائل
1. سورہ توبہ میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے
﴿وَمِنهُمُ الَّذينَ يُؤذونَ النَّبِىَّ وَيَقولونَ هُوَ أُذُنٌ قُل أُذُنُ خَيرٍ‌ لَكُم يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤمِنُ لِلمُؤمِنينَ وَرَ‌حمَةٌ لِلَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَالَّذينَ يُؤذونَ رَ‌سولَ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ ٦١ ﴾.... سورة التوبة
''اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر ﷺ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لئے اور اللہ کی اور مؤمنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے۔ اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں اُن کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ اللہ کےرسول ﷺکو رنج پہنچاتے ہیں اُن کے لئے عذابِ الیم (تیار)ہے۔''
اس آیت میں صراحت سے تذکرہ ہے کہ آپ ﷺ کو اَذیت پہنچانا ، تکلیف دینا بڑا جرم ہے ۔ اور جو اس کا ارتکاب کرتے ہیں:﴿وَالَّذينَ يُؤذونَ رَ‌سولَ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ ٦١ ﴾....سورة التوبة
''اور جو لوگ رسول اللہ ﷺکو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذابِ الیم ہے۔''
پھر اسی سیاق میں یہ بات ذکر فرمائی کہ ایسا کرنا اللہ اور رسول کی مخالفت ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے ۔
﴿أَلَم يَعلَموا أَنَّهُ مَن يُحادِدِ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ فَأَنَّ لَهُ نارَ‌ جَهَنَّمَ خـٰلِدًا فيها ذ‌ٰلِكَ الخِزىُ العَظيمُ ٦٣ ﴾.... سورة التوبة
''کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا؟ یہ بڑی رسوائی ہے ۔''
محادہ، مخالفہ،مشاقہ اختلاف کسی کے بالکل برعکس ہوجانے کو کہا جاتاہے کہ وہ اختلاف کرنے والا ایک جانب ہے اور جس ے اختلاف کر رہا ہے وہ دوسری جانب ہے ۔اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی سزا یہ ہے ﴿أَلَم يَعلَموا أَنَّهُ مَن يُحادِدِ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ فَأَنَّ لَهُ نارَ‌ جَهَنَّمَ خـٰلِدًا فيها ذ‌ٰلِكَ الخِزىُ العَظيمُ ٦٣﴾.... سورة التوبة, یہاں ایذا کے بعد 'محادہ' کا ذکر ہوا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی ایذا رسانی ہی رسول اکرم ﷺ کا محادہ ہے ۔
2. سورہ مجادلہ میں اللہ ربّ العزت نے فرمایا:
﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ‌ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخو‌ٰنَهُم أَو عَشيرَ‌تَهُم.... ٢٢ ﴾.... سورة المجادلة
''جو لوگ اللہ پر اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہیں۔''
جب اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محادّہ کرنے والے کے ساتھ کوئی اہل ایمان محبت نہیں کرسکتاہے او راس آدمی سے محبت کرنے والا مؤمن نہیں ہوسکتا تو وہ شخص کہاں مؤمن ہوسکتا ہے جو خود محادہ کا ارتکاب کرے۔ اس لئے اس آیت سےایسے شخص کے ایمان کی قطعاً نفی ہوجاتی ہے ۔
3. دوسرے مقام پر فرمایا
﴿إِنَّ الَّذينَ يُحادّونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ كُبِتوا كَما كُبِتَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَقَد أَنزَلنا ءايـٰتٍ بَيِّنـٰتٍ وَلِلكـٰفِر‌ينَ عَذابٌ مُهينٌ ٥ ﴾.... سورة المجادلة
''جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کر دی ہیں اور جو نہیں مانتے، ان کو ذلت کا عذاب ہوگا ۔''
کبت کا لفظ ہلاکت،تذلیل اور نابود کرنےکے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ ایسی وعید اہل ایمان کے لئے نہیں بلکہ صرف کفار کے لئے ہوتی ہے۔
4. سورہ توبہ میں ہے:
﴿يَحذَرُ‌ المُنـٰفِقونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيهِم سورَ‌ةٌ تُنَبِّئُهُم بِما فى قُلوبِهِم قُلِ استَهزِءوا إِنَّ اللَّهَ مُخرِ‌جٌ ما تَحذَر‌ونَ ٦٤ وَلَئِن سَأَلتَهُم لَيَقولُنَّ إِنَّما كُنّا نَخوضُ وَنَلعَبُ قُل أَبِاللَّهِ وَءايـٰتِهِ وَرَ‌سولِهِ كُنتُم تَستَهزِءونَ ٦٥ ﴾.... سورة التوبة
''منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر ﷺ) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کردے۔ کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو،اللہ اس کو ضرور ظاہر کردے گا ۔اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺسے ہنسی کرتے تھے؟ ‏''
پھر فرمایا:
''بہانے نہ بناؤ،ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے ،کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔ ‏''(التوبہ :۶۶)
استہزا جس کے بارے میں بعض اوقات یہ عذر پیش کیا جاسکتا ہے کہ یہ غیر سنجیدہ عمل تھا ،اس کے پیچھے مقصد اور ارادہ نہیں تھا۔ ایسے ہی زبان پر یہ بات آگئی ، اس میں قصد اور ارادہ شامل نہیں تھا ۔ لیکن اس کو بھی اللہ ربّ العزت نے کفر سے تعبیر فرمایا ہے : ﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ﴾ تو اگر غیر ارادی طور پر اور غیر سنجیدگی کے ساتھ یہ عمل کیا جائے تو پھر بھی یہ کفر ہے ۔ سب و شتم کرنے والا تو عمدا ًاور ارادۃ ًاس کا ارتکاب کرتاہے ، اس لئے اس کے کفر اور نفاق میں کوئی شک نہیں ہوسکتاہے ۔
5۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے مزید اس کی وضاحت فرمائی ہے:
﴿إِنَّ الَّذينَ يُؤذونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَ‌ةِ وَأَعَدَّ لَهُم عَذابًا مُهينًا ٥٧ ﴾...الاحزاب" اور﴿مَلعونينَ أَينَما ثُقِفوا أُخِذوا وَقُتِّلوا تَقتيلًا ٦١﴾.... سورة الاحزاب
''اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں، ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ''
جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں، یہ لعنت کے مستحق ہیں اور عذاب ِمہین
ان کے لئے تیار کیا گیاہے ۔ دنیا اور آخرت کی لعنت اور عذاب ِمہین کا ان کے لئے تیار ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ ایسا شخص صاحب ِایمان نہیں ہوسکتا،۔
اگلی آیت میں اس لعنت کا اس طرح ذکر فرمایا کہ مَّلْعُوْنِيْنَ١ۛۚ یہ لعنت زدہ ہیں جہاں کہیں پائے جائیں اَيْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا اُنہیں پکڑ لیا جائے اور بری طرح سے قتل کردیا جائے ۔
مسلم شاتم رسول کے ارتداد ، کفر اور قتل پر سنت ِرسول ﷺ سے دلائل
سنت ِرسول میں بھی ہمیں یہی بات ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تضحیک اور آپ پر شتم کرنے والا شخص مرتد ہے اور اس کو قتل کردینا چاہئے ۔
1. سنن ابوداؤد اور نسائی میں ہے کہ ''ایک نابینا صحابی نے اپنی اُمّ ولد لونڈی کو نبی ﷺکو گالیاں دینے کی وجہ سے قتل کر دیا۔ آپ ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا:''اس کا خون رائیگاں ہے ۔''2
یہ حدیث دلیل ہے کہ اہانت رسول ﷺ کرنے والے شخص کا خون بہا یا جائے اور اس کے لئے کوئی احترام اور تحفظ نہیں ہے ۔
2. حضرت ابوبرزہ کا بیان ہے کہ
''میں حضرت ابوبکرصدیق کے پاس تھا۔ آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ بھی جواباً بدکلامی کرنے لگا۔ میں نے عرض کیا: اے رسول اللہ ﷺکے خلیفہ! مجھے اجازت دیں، میں اِس کی گردن اُڑا دوں۔ میرے ان الفاظ کو سن کر حضرت ابوبکر صدیق کا سارا غصہ ختم ہو گیا۔ آپ وہاں سے کھڑے ہوئے اور گھر چلے گئے۔ گھر جا کر مجھے بلوایا اور فرمانے لگے: ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے کیا کہا تھا۔ میں نے کہا: کہا تھا کہ آپ مجھے اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اُڑا دوں۔ حضرت ابوبکر صدیق فرمانے لگے۔ اگر میں تم کو حکم دے دیتاتو تم یہ کام کرتے؟ میں نے عرض کیا: اگر آپ حکم فرماتے تو میں ضرور اس کی گردن اڑا دیتا۔ آپ نے فرمایا:
نہیں! اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ کسی کے لئے نہیں کہ اس سے بدکلامی کرنے والے کی گردن اُڑا دی جائے۔3 (یعنی رسول اللہ ﷺکی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے والے کی ہی گردن اُڑائی جائے گی )
علامہ خطابی نابینا صحابی والی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ
«فیه بیان أن سابّ النبی ﷺ مھدر الدم وذلك ان السب منها لرسول اللہ ﷺ ارتداد عن الدین ولا أعلم أحد من المسلمین اختلفوا في وجوب قتله»4
''اس حدیث میں یہ وضاحت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والے کا خون رائیگاں ہے۔ کیونکہ اس لونڈی کا نبی کو گالی دینا دین سے ارتدا د تھا ،اور میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں سے کسی ایک نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا ۔''
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس مسئلہ میں سیر حاصل بحث کی ہے ۔ اور مسئلہ مذکورہ میں متعدد روایات نقل کی ہیں ، تفصیل کےلئے مذکورکتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔
غیرمسلم شاتم رسول کے نقض عہد اور قتل پر قرآنِ کریم سے دلائل
اگر کوئی ایسا شخص جو غیر مسلم مگر اسلامی مملکت کا شہری ہے، اسے ذمی اور معاہد کہا جاتاہے ۔ ایسا شخص بھی اگر آپ ﷺ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے اور آپ ﷺ پر سب وشتم کرتاہے تو اس سے اس کا عہد ختم ہوجاتاہے اور وہ بھی قتل کی سزا کا مستحق ٹھہرے گا ۔ قرآن مجید میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ سورۃالتوبہ میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
﴿كَيفَ يَكونُ لِلمُشرِ‌كينَ عَهدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَ‌سولِهِ إِلَّا الَّذينَ عـٰهَدتُم عِندَ المَسجِدِ الحَر‌امِ فَمَا استَقـٰموا لَكُم فَاستَقيموا لَهُم إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ ٧ ﴾ ....سورة التوبة
''بھلا مشرکوں کے لئے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) اللہ اور اس کے رسول ﷺکے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے؟ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد ِمحترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے، اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بے شک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔''
اس آیت میں یہ کہا گیا کہ اگر اس عہد کے تقاضے پورے کریں فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ تو تم بھی اس عہد کی پاسداری کرو ۔ اور ان کو تحفظ دو اور اگر ایسا نہ کریں :
﴿وَإِن نَكَثوا أَيمـٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقـٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ‌ إِنَّهُم لا أَيمـٰنَ لَهُم لَعَلَّهُم يَنتَهونَ ١٢ ﴾.... سورة التوبة
''اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ (یہ بے ایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔''
یعنی عہد توڑ دیں تو پھر ان سے قتال کرنا تمہارا فرض ہے، اس میں پس وپیش سے کام نہیں لینا چاہئے ۔ پھر مؤمنین کی غیرتِ ایمانی کو جھنجوڑتے ہوئے کہا :
﴿أَلا تُقـٰتِلونَ قَومًا نَكَثوا أَيمـٰنَهُم وَهَمّوا بِإِخر‌اجِ الرَّ‌سولِ وَهُم بَدَءوكُم أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ أَتَخشَونَهُم فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ١٣ ﴾.... سورة التوبة
''بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو (جنہوں نے اپنی) قسموں کو توڑ ڈالا اور اللہ کے پیغمبر ﷺکو جلا وطن کرنے کا عزمِ مصمم کرلیا اور اُنہوں نے تم سے (عہد شکنی کی)ابتدا کی؟ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو؟حالانکہ ڈرنے کے لائق اللہ ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔''
یعنی کیا ان لوگوں کے خلاف اقدام کرنے میں تم پس وپیش کرو گے ، کیوں آگے نہیں بڑھتے :
﴿قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُر‌كُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ‌ قَومٍ مُؤمِنينَ ١٤ وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم .... ١٥ ﴾.... سورة التوبة
''اُن سے خوب لڑو۔ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مؤمن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔''
اللہ تعالیٰ اس بات کا حکم دے رہے ہیں کہ ان سے قتال کیا جائے۔''اللہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے اِنہیں عذاب دے گا ۔'' اِنہیں رسوا کرکے ذلیل کرکے اللہ عزوجل مسلمانوں کے سینے ٹھنڈے کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مدد فرمانا چاہتے ہیں ۔ اس لئے اگر کوئی معاہد غیر مسلم ہو، مسلمان حکومت کا شہری تو اس کا بھی یہ تحفظ ختم ہوجاتاہے اور وہ اس بات کا حق دار اور سزاوار ہوتاہے کہ اس کو قتل کردیا جائے ۔
احادیث رسول سے ذمی اور معاہد شاتم رسول کے قتل اور نقض عہد کے دلائل
1. پہلی دلیل : کعب بن اشرف یہودی معاہد تھا اور مدینہ کی ریاست کا شہری تھا،لیکن جب اس نے رسول اکرم ﷺ کی توہین میں زبان کھولی آپ کی ہجو کا ارتکاب کیامسلمانوں کو تکلیف دی تو رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ «من لکعب بن الأشرف فإنه قد آذی اللہ ورسوله» کون ہے جو اس کا کام تمام کرے گا یہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتاہے۔ پھر محمد بن مسلمہ اس مہم کے لئے آگے بڑھے ۔ چند صحابہ نے ان کا ساتھ دیا اور اُنہوں نے جاکر کعب بن اشرف کوکیفر کردار تک پہنچایا۔5
2. دوسری دلیل : ابورافع سلام بن ابی الحقیق بھی یہودی تھا، اس کا کام رسول اکرم ﷺ کو اذیت پہنچانا اور آپ ﷺ سے متعلق بد گمانی پھیلانا تھا ۔ آپ ﷺ نے اس کے خلاف بھی مہم بھیجی اور عبد اللہ بن عتیق کو ذمہ دار ی سونپی اوراُ نہوں نے جاکر اس کا کام تمام کردیا ۔6
قرآن وسنت کے دلائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ شانِ رسالت میں گستاخی کے مرتکب شخص، چاہے وہ مسلم ہو یا کافر کا زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ۔
اِجماع امت اور اقوال اہل علم سے ثبوت
امام ابو یوسف ؒ نے کتاب الخراج میں یہ بات نقل فرمائی ہے کہ :« وأیما مسلم سبّ رسول اللہ ﷺ أو کذبه أو عابه أو تنقصه فقد کفر باللہ وبانت منه امرأته فان تاب وإلا قتل وکذلك المرأة ...»
'' جس مسلمان نے بھی رسول اللہ ﷺ کو گالی دی ، آپ کی تکذیب یا توہین کی تو وہ کافر ہوگیا ، اس کی عورت اس سے جدا ہوجائے گی ، اگرتوبہ کرتا ہے ۔ورنہ قتل کردیا جائے گا اسی طرح (گستاخ )عورت بھی (یہی سزا پائے گی)۔ ''
مطرف نے مالکؒ سے نقل کیا ہے کہ
«''من سبّ النبی ﷺ من المسلمین قُتل ولم یستتب''»
'' مسلمانوں میں سے جس نے بھی محمد ﷺ کو گالی دی قتل کردیا جائے گا اور توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ ''
امام اسحق بن راہویہ فرماتے ہیں :
«'' أجمع المسلمون علی أن من سبّ اللہ أو سبّ رسوله ﷺ أو دفع شیئا مما أنزل اللہ عزوجل أو قتل نبیا من أنبیاء اللہ عزوجل أنه کافر بذلك وإن کان مقرًّا ما أنزل اللہ''»
''مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ کو گالی دی یا رسول اللہ کو گالی دی یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی شے کو رد کیا ، یا انبیاء اللہ میں سے کسی نبی کو قتل کیا، وہ کافر ہے اگرچہ اللہ کی نازل کردہ چیزوں پر ایمان ہی کیوں نہ رکھتا ہو ۔ ''7
علما نے اس مسئلے میں اجماع نقل کیاہے جس طرح کہ اجماع ابن المنذر میں ہے:
«'أجمع عوام أھل العلم علی أن حدّ من سبّ النبي ﷺ القتل'»
''اہل علم کا اجماع ہے کہ جو آدمی نبی ﷺ کو گالی دیتاہے ، اس کی حد قتل کرنا ہے ۔''
رہی بات کہ جوشخص ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ، اس پر ہم تسلط اور نفوذ نہیں رکھتے وہ ایسے فعل کا ارتکاب کرے تو اس صورتِ حال میں اس کا معاملہ اللہ کے سپر د کر دینا چاہئے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :﴿إِنّا كَفَينـٰكَ المُستَهزِءينَ ٩٥ ﴾ ...سورة الحجر
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جس جس نے بھی آپ ﷺ کا استہزا کیا اورتمسخر اُڑایا اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک ایک کو کیفر کردار تک پہنچا یا ۔
ابوجہل کو بدر میں، اور ابو لہب کو نمونہ عبرت بنادیا گیا،عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ، اَسود بن عبد یغوث، اَسود بن عبد المطلب یہ تمام نام اس انجام کا مظہر ہیں جو اللہ رب العزت ایسے لوگوں کا فرمایا کرتے ہیں ۔ مگر جو لوگ ہمارے دائرہ عمل اور اختیار کے اندر ہیں، وہاں ہمیں اس فرض کا احساس کرنا چاہئے ۔ اور اس حق کو ادا کرنا چاہئے جو اللہ نے ہمارے ذمہ لگایا ہے کہ :﴿لِتُؤمِنوا بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ وَتُعَزِّر‌وهُ وَتُوَقِّر‌وهُ....٩ ﴾ ....سورة الفتح

حوالہ جات

1. الموسوعة الفقهية الكويتية ‌۲۴/۱۳۶

2. سنن ابوداود:4361،سنن نسائی:4070

3. سنن ابوداود:4363

4. معالم السنن: ۳/ ۲۹۶

5. صحیح بخاری: 2510

6. صحیح بخاری:4039

7. الصارم المسلول ص ۳۲