ماہنامہ'اشراق'جاوید احمد گامدی کی زیر نگرانی،اور معز امجد کی ادارات میں شائع ہونے والا مجلّہ ہے جو فکر فراہیؔ اور اصلاحی کے علمبردار وامین ہونے کا دعویدار ہے۔مذکورہ مجلّہ کی اشاعت بابت ماہ ستمبر1998ءمیں محترم طالب محسن نے کیا﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ... ١﴾...العلق پہلی وحی الہٰی ہے؟(نقد ونظر)"کے عنوان سے چار صفحات کا مضمون سپردِ قرطاس کیا ہے۔اگرچہ مذکورہ مضمون کا محرک اور پس منظر علی گڑھ(انڈیا)سے شائع ہونے والے سہ ماہی جریدے،تحقیقاتِ اسلامی،میں جناب سید جلال الدین عمری کے مضمون"مکی دور میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوتی حکمت عملی"کی پہلی قسط کو قرار دیا گیا ہے تاہم فاضل مضمون نگار نے جہاں مضمون کی اہمیت وافادیت کو تسلیم کیا،وہاں انہوں نے سید جلال الدین عمری کے اس نقطہ نطر سے واضھ اختلاف کیا ہے جس مین انہوں نے﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ... ١﴾...العلق کو پہلی وحی قرار دیا ہے۔چنانچہ مضمون نگار رقم طراز ہیں:
"ان سطور مین ہمارے پیش نظر اسی مضمون کی پہلی وحی سے متعلق بھث ہے عام نقطہ نظر یہ ہےکہ پہلی وحی میں سورہ علق کی یہ پانچ آیات نازل ہوئی تھیں:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾...العلق (1)
"پڑھو(اےنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا۔جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔پڑھو،اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔"
سید جلال الدین عمری صاحب اس موضوع پر لکھتے ہوئے یہی روایتی نقطہ نظر اختیار کیا ہے(2)۔جناب طالب محسن نے مذکورہ بالا نقطہ نظر کے برعکس کچھ سوالات اٹھائے ہیں،اگرچہ اس میں ان کا اشارہ سید جلال الدین عمری کی طرف ہے،لکھتے ہیں:
"یہ بات درست ہے کہ تمام علماءاسی نقطہ نظر کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ نقطہ نظر متد اول روایات پر مبنی ہے لیکن اسے پڑھتے ہوئے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ عمری صاحب اپنے مضمون پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہ سوالات پیش نظر رکھیں اور اگر ان کو حل کردیں تو ان کی یہ سعی بہت سے لوگون کا ذہنی خلجان دور کرنے کا باعث ہوگی"۔(3)
آئندہ سطور میں پہلے مضمون نگار کے"سوالات"کومن وعن نقل کیا جاتا ہے بعد ازاں کتب تفاسیر وکتب احادیث کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیا جائے گا مزید براں فکر فراہیؔ واصلاحیؔ کے تناظر میں بھی ان سوالات پر بحث کی جائے گی۔راقم کی اس کاوش کو کسی طرح بھی سید جلال الدین عمری کی ترجمانی یا نظر ثانی پر محمول نہ کیا جائے بلکہ ایک علمی وتحقیقی بحث اور مسلمہ نقطہ نظر کی توضیح سمجھا جائے۔
پہلی وحی پر مضمون نگار کے اٹھائے گئے سوالات
پہلا سوال یہ ہےکہ آغازِ وحی والی روایت میں جن آیات کو پہلی وحی قرار دیا گیا ہے،ان کو ان کے مفہوم کے لحاظ سے پہلی وحی قراردینا کسی بھی طرح موزوں نہیں لگتا۔پھر یہ کہ یہ آیات،پوری سورۃکے ساتھ مل کر،ایک خاص معنی کی حامل ہیں،اگر انہیں الگ رکھ کر پڑھا جائے تو ان میں نبی کے لئے کیا پیگام ہے،اسے متعین کرنا کم وبیش ناممکن ہے۔
دوسرے یہ کہ خود ان آیات میں ہی وہ قرینہ موجود ہے جس سے یہ متعین ہو جاتا ہے کہ یہ پہلی وحی نہیں ہے ہمارا اشارہ پانچویں آیت کی طرف ہے اس آیت میں﴿ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾ (4)کے الفاظ سے یہ حقیقت پوری طور پر واضح ہے کہ قرآن مجید کی دعوت لوگوں تک پہنچ چکی ہے اور انہیں قرآن مجید کا نئی تعلیمات پر مبنی حصہ سنایا جاچکاہے۔
تیسرے یہ کہ خود سورۃمیں اس بات کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہےجس میں سے یہ معلوم ہوکہ اس کا ایک حصہ کسی اور موقع پر اور دوسرا کسی دوسرے موقعہ پر نازل ہوا۔مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے:
"میرے نزدیک یہ پوری سورۃپوری طرح ہم آہنگ وہم رنگ ہے۔اس کی ابتدائی پانچ آیتوں کا مزاج بھی بعد کی آیتون سے کچھ مختلف نہیں ہے۔سورۃکاانداز خطاب اتنا تند وتیز ہےکہ پہلی ہی سورۃمیں یہ انداز سمجھ میں نہیں آتا کہ کیوں اختیار فرمایا گیا۔علاوہ ازیں سورۃکے الفاط مین کوئی قرینہ یا اشارہ ایسا موجود نہیں ہے جس مین سے اس کا دو الگ الگ قسطوں میں نازل ہونا معلوم ہوتا ہو۔(5)
چوتھے یہ کہ جیسا مولانا اصلاحی نے لکھا ہےکہ سورہ علق اپنے اسلوب کی تندوتیزی کے اعتبار سے کسی طرح بھی پہلی وحی نہیں ہوسکتی۔اسی طرح انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پہلی پانچ آیتوں اور باقی سورۃکےمزاج میں کوئی فرق نہیں۔
پانچویں یہ کہ خود روایت میں بھی ایک خلا موجود ہے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے رد عمل اور بطور خاص ورقہ بن نوفل کے جواب سے واضح ہےکہ اس پہلی ملاقات میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا کا پیغمبر ہونے کی خبر دی تھی لیکن ان آیات میں اس تقرر کا تو کوئی ذکر نہیں،البتہ خدا کا کلام پڑھ کر سنانے کا حکم ضرور دیا جا رہا ہے۔جو ظاہر ہے اسی وقت دیا جاسکتا ہے جب تقرر بھی ہوچکا ہو اور دعوت کے لئے ضروری کلام بھی نازل ہوچکا ہو۔(6)
یہ سوالات اگر درست ہیں تو یہی بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ پہلی ملاقات کے حوالے سے اس روایت میں دی گئی معلومات محل نظر ہیں،مضمون کے آخر میں مزید لکھتے ہیں:
"لہٰذا یہ امکان پیدا ہوجاتا ہےکہ روایت میں جن آیات کو پہلی وحی قرار دیا گیا ہے وہ پہلی وحی نہ ہوں۔روایت اور آیات میں'اقرا'کے لفظی اشتراک سے کسی راوی نے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ یہ آیات پہلی وحی ہیں اور پھر یہ آیات روایات کا حصہ بن گئی ہوں"(7)
مذکورہ بالا سوالات کی ترتیب کے برعکس ہم اپنے استدلال کو مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت بیان کریں گے۔امید ہےکہ محولہ بالا سوالات کا تجزیہ واستدلال واضح طور پر سامنے آجائے گا۔
1۔پہلی وحی کی تحقیق(کتب تفاسیر وکتب احادیث کی روشنی میں)
2۔مذکورہ احادیث کا مقام ومرتبہ
3۔سورۃکے مفاہیم ومطالب کا تجزیہ
4۔آیات(العلق1۔5)میں نبوت ورسالت کے لئے پیغام
5﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾کی توضیح
6۔مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا امین احسن اصلاحی کے'اصول تفسیر'پر ایک نظر
(1)۔پہلی وحی کی تحقیق(کتبِ تفاسیر واحادیث کی روشنی میں)
اس امر میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہےکہ قرآن حکیم کی تفسیر وتشریح کا بنیادی ماخذ خودقرآن حکیم ہے(عربی)بعد ازاں اس کی تشریح وتوضیح کا اختیار خود شارح کو حاصل ہے لہذا یہ مسلمہ امر ہےکہ جہاں قرآن حکیم کسی تشریح وتوضیح کے بارے میں ساکت ہے وہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صریح قول یا عمل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔(8)
زیر نظر موضوع کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ احادیث صحیحہ اس کو کس طرح واضح کررہی ہیں اور اس امر میں کسی دوسری رائے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔
مولانا مودودی اپنی تفسیر مین رقم طراز ہیں:
"محدثین نے آغاز وحی کا قصہ اپنی اپنی سندوں کے ساتھ امام زھری سے اور انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے،وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی ابتداءسچے اور(بعض روایات میں ہے)اچھے خوابوں کی شکل میں ہوئی آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتاکہ جیسے آپ دن کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے اور کئی کئی شب وروز غار حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے'تحنّث'کا لفط استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زہری نے'تعبد'سے کی ہے یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایا گیا تھا۔آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لئے سامان آپ کے لئے مہیا کردیتی تھیں۔ایک روز جبکہ آپ غارِ حرا میں تھے یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپ سے کہا"پڑھو"اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا"میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں"۔اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو میں نے کہامیں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں،اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوت برداشت جواب دینے لگی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو،میں نے پھر کہا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں،اس نے تیسری مرتبہ مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١یہاں تک کہ﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾تک پہنچ گیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانپتے لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچ کر کہا:مجھے اڑھاؤ،مجھے اڑھاؤ،چنانچہ آپ کو اڑھادیا گیا جب آپ پر سے خوف زدگی کی کیفیت دور ہوگئی تو آپ نے فرمایا،اے خدیجہ یہ مجھے کیا ہو گیا ہے پھر سارا قصہ آپ نے ان کو سنایا اور کہا مجھے اپنی جان کا ڈر ہے،انہوں نے کہا:ہر گز نہیں آپ خوش ہو جائیے،خدا کی قسم،آپ کو خدا کبھی رسوا نہیں کرے گا،آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں،سچ بولتے ہیں(ایک روایت میں اضافہ ہے کہ)امانتیں ادا کرتے ہیں،بے سہارا لوگوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں،نادار لوگوں کو کما کردیتے ہیں،مہمان نوازی کرتے ہیں اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں۔پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو ان کے چچازاد بھائی تھے۔زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہوگئے تھے،عربی اور عبرانی میں انجیل لکھتے تھے،بہت بوڑھے اور نابینا ہوگئے تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:بھائی جان!ذرا اپنے بھتیجے کا قصہ سنئے۔ورقہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا:بھتیجے!تم کو کیا نظر آیا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا،بیان کیا۔ورقہ نے کہا،یہ وہی ناموس(وحی لانے والا فرشتہ)ہے جو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا،کاش میں آپ کے زمانہ نبوت میں قوی جوان ہوتا،کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا"کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ورقہ نے کہا"ہاں!کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کرآیا ہو جو آپ لائے ہیں اور اس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔اگر میں نے آپ یکا وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی پرزور تائید کروں گا،مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا"۔(9)
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں مسند احمد،صحیح بخاری،صحیح مسلم کے حوالہ سے بہ روایتِ زھری مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا ہے(10)مولانا تقی عثمانی بھی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔"صحیح قول یہ ہےکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں اتریں وہ سورۃعلق کی ابتدائی آیات ہیں"(11)پھر صحیح بخاری کے حوالے سے یہ واقعہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں"یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ تقریبا تمام کتب حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے"(12)
سید امیر علی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:"یہ سورۃبلاخلاف مکیہ ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہی سورۃ اولاً نازل ہوئی اور اسی پر شیخ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے جزم کی اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی مثل ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بیان کیا اور اسی کے مانند حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے(13)قاضی ثناءاللہ پانی پتی اپنی تفسیر میں اسی نقطہ نظر کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں"بفوی نے اپنی سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل کیا ہےکہ سب سے پہلی سورۃ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ... ١﴾نازل ہوئی تھی،یہ کل آیات کا پانچواں حصہ ہے"(14)
مولانا محمد عبدالحق حقانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:"یہ سورۃبھی بلاخلاف مکہ میں نازل ہوئی ہے اور قرآن میں جو سب سے پہلے سورۃنازل ہوئی یہی ہے۔اور یہی جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کا قول ہے اور صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیر کتب حدیث کی روایات صحیحہ اسی بات کو ثابت کررہی ہیں"۔(15)
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب(عربی)جو علوم القرآن پر جامع کتاب ہے میں ان تمام اقوال کو جمع کردیا ہے۔ہم ان کے اقوال کا خلاصہ نقل کرتے ہیں:
"قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصہ کے بارہ میں کئی مختلف قول آئے ہیں قول اول جو صحیح بھی ہے،یہ ہےکہ سب سے اولا﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ کا نزول ہوا۔شیخین اور دیگر محدثین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں روایت کی ہے۔حاکم مستدرک میں بیہقی نے الدلائل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح بتایا ہے"کہ قرآن کی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورۃ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ہے اور طبرانی نے اپنی کتاب الکبیر میں ابو رجاءالعطاردی سے ایسی سند کے ساتھ جس مین صحیح ہونے کی شرطیں پائی جاتی ہیں،روایت کی ہےکہ عطاردی نے کہا"ابو موسیٰ ہمیں قرآءتِ قرآن سکھانے کے وقت حلقہ باندھ کر بٹھاتے تھے اور خود سفید صاف کپڑے پہن کر وسط میں بیٹھتے اور جس وقت وہ اس سورۃ(عربی)کو پڑھتے تو کہا کرتے تھے،یہ پہلی سورۃہے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی۔ابن اشتر نے کتاب المصاحف میں عبید بن عمر سے روایت کی ہےکہ اس نے کہا"جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نوشتہ لائے اور کہنے لگے:پڑھئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا:میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔پھر جبریل نے کہا﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّك﴾لوگ روایت کرتے ہیں کہ یہ پہلی سورۃ ہے جو آسمان سے نازل کی گئی،اور زہروی سے مروی ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں تھے کہ ناگہاں ایک فرشتہ آپ کے پاس کوئی نوشتہ لے کر آیا جو دیبا(ریشمی کپڑے)کے ٹکڑے پر لکھا تھا اور اس میں تحریر تھااقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ....مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾ (16)
سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
"اس سورۃ(العلق)کی ابتدائی آیات بالاتفاق قرآن مجید کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیات ہیں جن روایات میں کچھ دوسری سورتوں اور آیتوں کے پہلے نازل ہونے کا ذکر ہے،وہ قابل اعتماد نہیں ہیں"۔(17)
اب ہم کُتب حدیث کی سب سے جامع اور مستند ترین کتاب،صحیح بخاری کی پہلی وحی سے متعلق حدیث کا متن یہاں نقل کرتے ہیں حدیث کے جامع خلاصہ پیچھے گزرجانے کے بعد اس کے ترجمہ کی چنداں ضرورت نہیں۔(18)
(حدثنا يحي بن  بكير قال حدثنا الليث عن عقيل عن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة ام المؤمنين إتها قالت )(19)(أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحى الرؤيا الصالحة )(20)(فى النوم فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح ثم حبب إليه الخلاء وكان  يخلو بغار حراء فيتحنث فيه (وهو التعبد) ألليايى ذوات العدد قبل أن ينزع إلى أهله ويتزود لذلك ثم يرجع إلى خديجة فيتزود لمثلها حتى جاء الحق )(21)(وهو فى غار حراء فجاء ه الملك فقال إقرأ قال ما أنا بقارئ قال فأخذنى فغطنى حتى بلغ منى الجهد ثم أرسلنى فقال إقرأ قلت ما أنا بقارئ فأخذنى فغطنى الثالثة  ثم أرسلنى فقال اول ما نزل من القران خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ )(22)(فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم  يرجف فؤاده فدخل على خديجة بنت خويلد رضى الله عنها فقال زملونى  زملونى حتى ذهب عنه الروع فقال لخديجة و أخبرها الخبر لقد خشيت على  نفسى فقالت خديجة كلا والله ما يخزيك الله  أبدا إنك لتصل الرحم وتحمل الكل وتكسب المعد وم  وتقرى الضيف وتعين على نوائب الحق فانطلقت به خديجة حتى أتت به ورقة بن نوفل بن أسد بن عبد العزى ابن عم خديجة  وكان امرأ تنصر فى الجاهلية وكان يكتب الكتاب العبرانى فيكتب من الإنجيل  بالعبرانية  ما شاء الله أن يكتب وكان شيخا كبيرا قد عمى  فقالت له خديجة  يا ابن عم إسمع من إبن أخيك فقال له ورقة يا ابن أخى ماذا ترى فأخبره رسول الله صبے اللہ علیه وسلم خبر ما رأى فقال له ورفة هذا الناموس )(23)(الذى نزل الله  على موسى )(24)(یاليتنى فيها جذعا ايانى أكون حيا  إذ يخرجك  قومك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أو مخرجى هم قال نعم لم يأت رجل قط بمثل ما  جئت به إلا عودى وأن يدركنى يومك أنصرك نصر امؤذر ثم لم ينشب ورقة أن توفى  )(25)
مذکورہ بالا حدیثِ صحیح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس امر میں یہ نقطہ نظر مسلمہ اوریہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ حدیث میں کسی بھی درجہ میں کوئی خلا موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی راوی کے'اقرا'کے لفظی اشتراک کا نتیجہ ہے،نیز قرآن حکیم کی تفسیر وتشریح میں حدیث مذکورہ سے اعتناءامرلابدی ہے۔
سورۃ'المدثر'اور'الفاتحہ'کی روایات پر ایک نظر
ضمنی طور پر سورۃالمدثر اور سورۃالفاتحہ کے اول نزول کا بھی جائزہ لے لیا جائے تو مناسب ہوگا۔مولانا تقی عثمانی اپنی کتاب علوم القرآن میں لکھتے ہیں:
"سب سے پہلی آیات جو نازل ہوئیں،سورۃ علق کی ابتدائی آیات ہیں،ان کے بعد سورۃمدثر کی آیتیں نازل ہوئیں لیکن اس سلسلے میں بعض تین اقوال اور بھی ہیں جن پر سرسری نظر ڈال لینا مناسب ہوگا:
1۔صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے ظاہری الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر سب سے پہلے سورۃ مدثر کی ابتائی آیات نال ہوئیں۔اس بنا پر بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ نزول کے اعتبار سے سورۃمدثر،سورۃعلق سے مقدم ہے۔
2۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل النبوۃمیں حضرت عمرو بن حبیل رضی اللہ عنہ سے ایک مرسل روایت ذکر کی ہے کہ آنحضرت نزول وحی سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی میں خلوت میں جاتا ہوں تو کوئی مجھے یامحمد،یامحمد کہہ کر پکارتا ہے یہاں تک کہ ایک دن جب میں خلوت میں پہنچا تو اس کہا:یامحمد﴿بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾...الخ یہاں تک کہ پوری سورۃ فاتحہ پڑھ دی۔(26)
اس روایت کی بنا پر علامہ زنحشری نے لکھا ہےکہ سب سے پہلی نازل ہونے والی سورت سورہ فاتحہ ہے بلکہ اسی کو انہوں نے اکثر مفسرین کا قول قرار دیا ہے۔(27)
اختصاراً ان نقطہ ہائے نظر کا بھی کتب تفاسیر واحادیث کی روشنی میں جائزہ پیش کیا جاتا ہے:
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اول الذکر کے متعدد جوابات دئیے ہیں۔لکھتے ہیں:
"اول سائل کا سوال کامل سورۃ کے نازل ہونے کی نسبت سے تھا۔اس لئے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے پہل جو سورۃ مکمل نازل ہوئی،وہ سورۃالمدثر تھی اور اس وقت سورۃ اقرا پوری نہیں اتری تھی۔اس قول کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیحین میں بواسطہ ابی سلمہ رضی اللہ عنہ،جابر سے مروی ہے،دوسرا جواب یہ ہے کہ اس مقام پر جابر کی مراد اولیت سے عام اولیت نہیں بلکہ وہ مخصوص اولیت مراد ہے جو فترۃالوحی کے بعد واقع ہوئی۔(28)
مولانا تقی عثمانی نے اس کی صراحت احادیث سے یوں کی ہے،لکھتے ہیں:
"حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس مغالطہ کی حقیقت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ درحقیقت بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب التفسیر میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت مختصر ہے اور اس میں دو جملے نقل نہیں کئے گئے۔یہی روایت امام زہری کی سند سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہی نے بدءالوحی میں ذکر کی ہے۔اس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے سورۃ مدثر کے نزول کا واقعہ بتاتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ الفاظ صراحتا نقل فرمائے ہیں:
(فإذا الملك الذى جاءنى  بحراء   جالس على كرسي)(29)
"پس اچانک(میں نے دیکھا کہ)کہ جو فرشتہ میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا وہ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے"۔۔۔۔
اس سے صاف واضح ہے کہ غار حراءمیں سورۃ اقرا کی آیتیں پہلے نازل ہوچکی تھیں،سورہ مدثر بعد میں نازل ہوئی(30)۔یہاں ہم صحیح بخاری کی حدیث کا مکمل متن نقل کرتے ہیں:
(عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الوَحْيُ فَتْرَةً، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي، سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا المَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ، قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ، حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا المُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ} [المدثر: 2] إِلَى قَوْلِهِ {وَالرُّجْزَ} [المدثر: 5] فَاهْجُرْ " (31)
مذکورہ حدیث میں(عربی)کےالفاظ اس امر کی صراحت کررہے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فترۃوحی کے بعد کی وحی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔
جہاں تک دوسرے قول(الفاتحہ کا اول نزول)کا تعلق ہے تو علامہ جلال الدین سیوطی اس بارے میں لکھتے ہیں:
"صاحبِ کشاف نے جس امر کی نسبت اکثر لوگوں کی طرف کی ہے وہ بہت ہی تھوڑی تعداد کو لوگوں کا قول ہے۔جن کو پہلی بات کہنے والوں کے مقابل عشر عشیر بھی نہیں پایا جاسکتا"(32)
مولانا عبدالحق حقانی اپنی تفسیر میں رقمطرازہیں
"حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ سے منقول ہےکہ سب سے اول سورۃفاتحہ نازل ہوئی اور جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ سب سے اول سورۃمدثر نازل ہوئی۔سو یہ روایت اس قول کے مخالف نہیں کہ سب سے اول سورہ اقرا کی پانچ آیات اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ....مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾نازل ہوئیں۔
اس لئے کہ اولا یہی مذکورہ آیات نازل ہوئیں پھر تعلیم،سوال اور نماز کے لئے سورۃ فاتحہ نازل ہوئی اور پھر چھ مہینے تک وحی بند ہوگئی پھر سب سے پہلے اول سورۃمدثر نازل ہوئی اور لگاتار قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا(33)آخر میں ہم تینوں مذکورہ بالا نقطہ ہائے نظر پر امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے'قولِ فیصل'کے طور پر تحریر کرتے ہیں:
(" زعم جماعة ان أول ما نزل من القرآن ياأيها المدثر وقيل بقاتحة الكتاب والصواب الذى عليه الجمهور ان الاول هو ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ والقولان الا ولان باطلان بطلانا ظاهرا  ولا يتغير بجلاله من نقلا عنه فإن المخالفين له هم الجماهير ثم ليس ابطالنا تقليدا للجماهير بل تمسكا بالدلائل  الظاهرة ومن أصرحها حديث عائشة : (أول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحى الرؤيا الصالحة الى قوله  ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾...الخ والله اعلم)(34)
(2)وحی اوّل سے متعلق مذکورہ احادیث وروایات کا مقام ومرتبہ
مضمون نگار جناب طالب محسن لکھتے ہیں:
"پانچویں یہ کہ خود روایت میں بھی ایک خلا موجود ہے،لہذا یہ امکان پیدا ہوجاتا ہےکہ روایت مین جن آیات کو پہلی وحی قرار دیا گیا ہے وہ پہلی وحی نہ ہوں۔روایت اور آیات میں'اقرا'کے لفظی اشتراک سے کسی راوی نے یہ نتیجہ نکالا ہوکہ یہ آیات پہلی وحی ہیں اور پھر یہ آیات روایت کا حصہ بن گئی ہوں"۔(35)
یہاں'اشراق'کے مضمون نگار نے احادیث وروایات کی صحت میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کی استنادی حیثیت کو محل نظر بتایا ہے مزید براں بین السطور راوی کی غلط فہمی ایک اصطلاح کا صحیح محل ہونے کی بجائے'غلط العام'ہونے کا تاثر دیا ہے۔یہاں ہم یہ واضح کریں گے کہ پہلی وحی سے متعلق جملہ راوی ثقہ اور مستند،صحت کی شرائط پر پورا اترنے والے ہیں۔مزید برآں حدیث کی استنادی حیثیت کے علاوہ روایت وروایت میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں ہے اور یہ کہ امت مسلمہ میں یہ حدیث امر مسلمہ کے طور پر رائج ہے۔
خود مولانا امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں:
"جہاں تک صحیح احادیث کا تعلق ہے اس کی نوبت بہت کم آئی ہےکہ ان کی موافقت قرآن سے ہو ہی نہ سکے"(36)
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منصب اور سنت متواترہ کے بارے میں مزید لکھتے ہیں:
"آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے،اسی طرح اس کے معلم اور مبین بھی تھے اور یہ تعلیم وتبیین آپ کے فریضہ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی۔اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ یہ بات قطعیت کے ساتھ معلوم ہو کہ فلاں اصطلاح کا یہ مطلب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ہے"(37)
پہلی وحی سے متعلق حدیث پوری طرح واضح ہے اور حدیث کی موافقت قرآن حکیم سے بھی پوری طرح ہے نیز قطعیت وصراحت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ظاہر ہے پھر اس امر کو محل نزاع کیوں بنایا جاتا ہے۔اس حدیث کی سند کے متعلق حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"یہ روایات اسنادِ حسن پر مبنی ہیں اور ان احادیث وروایات کے شواہد دوسری صحیح روایات میں بھی ملتے ہیں"(38)
مولانا تقی عثمانی'علوم القرآن'میں لکھتے ہیں۔
"یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ تقریبا تمام کتب حدیث میں صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے۔اس لئے جمہور علماءکے نزدیک صحیح یہی ہےکہ قرآن کریم کی سب سے پہلی آیات جو آپ پر نازل ہوئیں،سورۃعلق کی ابتدائی آیات،ان کے بعد سورۃمدثر کی آیتیں نازل ہوئیں"(39)
مولانا مودودی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں
"پہلے حصے کے متعلق علمائے امت کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہےکہ یہ سب سے پہلی وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔اس معاملہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث جسے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ،بخاری رحمۃ اللہ علیہ،مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے صحیح ترین احادیث میں شمار ہوتی ہے اور اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر آغازِوحی کا پورا قصہ بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ ابن عباس رضی اللہ عنہ،ابو موسیٰ اشعری اور صحابہ کی ایک جماعت سے بھی یہی بات منقول ہےکہ قرآن کی سب سے پہلی آیات جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئیں،وہ یہی تھیں"(40)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ حدیث کی صراحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
(هذا حديث من مراسيل الصحابة فإن عائشة لم تدرك زمان وقوع هذه القصة ومرسل الصحابى حجة عند جميع العلماء)(41)
"یہ حدیث صحابہ کی مراسیل روایات سے ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس قصہ کے وقوع کا وقت نہیں پایا۔۔۔۔جب کہ صحابی کی مرسل روایات تمام علماءکے نزدیک حجت ہیں"
(3)سورۃکےمفاہیم ومطالب کاتجزیہ
مضمون نگار نے ابتدا میں دو سوالات اٹھائے تھے،ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
"تیسرے یہ کہ خود سورۃمیں اس بات کے لئے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس کا ایک حصہ کسی اور موقع پر اور دوسرا کسی دوسرے موقع پر نازل ہوا ہے مولانا امین احسن اصلاحی کا بھی یہی موقف ہے:"میرے نزدیک یہ پوری سورۃپوری طرح ہم آہنگ وہم رنگ ہے اس کی ابتدائی پانچ آیتوں کا مزاج بھی بعد کی آیتوں سے کچھ مختلف نہیں۔۔۔۔علاوہ ازیں سورت کے الفاظ میں کوئی قرینہ یا اشارہ ایسا موجود نہیں جس سے اس کا دو حصوں میں نازل ہونا معلوم ہوتا ہو(42)
مولانا امین احسن اصلاحی کا یہ فرمانا کہ سورۃپوری طرح ہم آہنگ وہم رنگ ہے،قرآن کریم کے اعجاز کی طرف اشارہ ہے۔لیکن یہ فرمانا کہ سورۃکے الفاظ میں کوئی قرینہ یااشارہ ایسا موجود نہیں ہے جس سے اس کا دو حصوں میں نازل ہونا معلوم ہو،مناسب نہیں ہے اس لئے ضروری نہیں کہ الفاظ ہی سے معانی ومطالب کی سمجھ آجائے اور نظم قرآن ہی منشائے ربانی کو متعین کردے بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ خود الفاظ اپنے مفہوم کو واضح نہ کرپارہے ہوں تو شارحِ قرآن،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال وارشادات کی طرف رجوع کیا جائے جس سے ایک طرف منشائے ربانی کو سمجھنے میں مدد ملے گی تو دوسری طرف اختلاف ختم ہوگا۔چنانچہ ہم سورۃکے مفاہیم ومطالب کا جائزہ،کتب تفسیر کی روشنی میں کرتے ہیں۔
مولانا مودودی فرماتے ہیں:
"اس سورۃکے دو حصہ ہیں پہلا حصہ اقرا سے شروع ہوکر پانچویں آیت کے الفاظ(﴿ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥ پر ختم ہوجاتاہے اور دوسرا حصہ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ ﴿٦سے شروع ہوکر آخر سورۃتک چلتا ہے پہلے حصے کے متعلق علمائے امت کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ یہ سب سے پہلی وحی ہے(اس امر کی وضاحت ہم مضمون کے اول حصے میں تفصیل سے کرچکے ہیں)دوسرا حصہ بعد میں اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم میں نماز پڑھنی شروع کی اور ابوجہل نے آپ کو دھمکیاں دے کر اس سے روکنے کی کوشش کی"(43)
دوسرے حصے کی مزید صراحت مولانا مودودی یوں کرتے ہیں:
"اس سورۃکا دوسرا حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کردی اور ابوجہل نے ڈرادھمکا کر اس سے روکنا چاہا۔معلوم ایسا ہوتا ہےکہ نبی ہونے کے بعد قبل اس کے کہ حضور اسلام کی اعلانیہ تبلیغ کا آغاز کرتے،آپ نے حرم میں اس طریقہ پر نماز ادا کرنی شروع کی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھی اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کسی نئے دین کے پیروکار ہیں،دوسرے لوگ تو اسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے مگر ابوجہل کی رگ جاہلیت اس پر پھڑک اٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کردیاکہ اس طریقے پر حرم میں عبادت نہ کریں۔چنانچہ اس سلسلےمیں کئی احادیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں جن میں ابوجہل کی ان بیہودگیوں کا ذکر کیا گیا ہے"(44)
انہی واقعات پراس سورۃکا دوسرا حصہ نازل ہوا جو﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ ﴿٦سے شروع ہوتا ہے قدرتی طور پر اس حصے کا وہی وہی مقام ہونا چاہیے تھا جو قرآن کی اس سورۃمیں رکھا گیا ہے(45)
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی تفسیر میں دوسرے حصے کے متعلق اسی بات کو دہرایا ہے،لکھتے ہیں:
"اس کے بعد کی آیتیں ابو جہل ملعون کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتا تھا"(46)
مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"﴿قْرَأْ ... مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥تک سورہ کی پانچ آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں۔اس کے بعد کی آیتیں کافی عرصہ کے بعد نازل ہوئیں کیونکہ باقی آیتیں(آخر تک)ابوجہل کے ایک واقعہ کے متعلق ہیں اور ابتداءِ وحی نبوت میں تو مکہ میں کوئی بھی آپ کا مخالف نہ تھا،سب آپ کو امین کے لقب سے یاد کرتے تھے اور محبت وتعظیم کرتے۔ابوجہل کی مخالفت اور دشمنی خصوصا نماز پڑھنے سے روکنے کا واقعہ جو آگے آرہا ہے آنے والی آیت میں مذکور ہے۔ظاہر ہےکہ یہ اسی وقت کا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت ورسالت کا اعلان فرمایا"(47)
البتہ سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ نے آیت﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ ﴿٩میں الذی سے مراد کسی ایک شخص کو متعین نہیں کیا بلکہ فرماتے ہیں کہ اس طرح کی بے ہودہ حرکت کرنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے،اس رائے کو مولانا اصلاحی نے بھی اختیار فرمایا ہے۔مزید برآں سید قطب نے احایدث کا مفہوم ہی لیا ہے۔(48)
(4)وحی اول میں نبوت ورسالت کے لئے پیغام
اب مضمون نگار کے اس عقلی سوال کا جائزہ لیتے ہیں جس کے بارے میں وہ رقم طراز ہیں:
"پہلا سوال یہ ہےکہ آغاز وحی سے متعلق روایت میں جن آیات کو پہلی وحی قرار دیا گیا ہے ان کو ان کے مفہوم کے لحاظ سے پہلی وحی قرار دینا کسی طرح بھی موزوں نہیں لگتا پھر یہ کہ یہ آیات پوری سورہ کے ساتھ مل کر ایک خاص معنی کی حامل ہیں اگر انہیں الگ رکھ کر پرھا جائے تو ان میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کیا پیغام ہے اسے متعین کرنا کم وبیش ناممکن ہے۔(49)
آئندہ سطور میں ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ مذکورہ پانچ آیات مین حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کوئی پیغام ہے یانہیں اگر ہے تو وہ کیا ہے۔
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
"یہی پہلی نعمت ہے جو خدائے تعالیٰ نے اپنے بندوں پر انعام کی اور یہی وہ پہلی رحمت ہے جو اس ارحم الرحمین نے اپنے رحم وکرم سے ہمیں دی۔اس میں تنبیہ ہے انسان کی اول پیدائش پرکہ وہ ایک جمے ہوئے خون کی شکل میں تھا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ احسان کیا کہ اسے اچھی صورت میں پیدا کیا پھر علم جیسی اپنی خاص نعمت اسے مرحمت فرمائی اور وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔علم ہی کی برکت تھی کہ کل انسانوں کےباپ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں میں بھی ممتازنطر آئے۔(50)
آیات کی تفسیر میں واضح طور پر ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی نعمت اور پہلی رحمت کا ذکر کیا ہے،جو نبوت ورسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے اور قرآن حکیم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے یہ دعا سکھادی گئی ہے﴿رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴿١١٤﴾...طه(51)'اے میرے رب!میرے علم میں اضافہ فرما۔'
مولانا مودودی اپنی تفسیر میں ابتدائی پانچ آیات کی مختصر تفسیر کے بعد لکھتے ہیں:
"یہاں تک وہ آیات ہیں جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئیں جیساکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے یہ پہلا تجربہ اتنا سخت تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے زیادہ کے متحمل ہی نہیں ہوسکتے تھے اس لئے اس وقت صرف یہ باتنے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ رب جس کو آپ پہلے سے جانتے اور مانتے ہیں آپ سے براہِ راست مخاطب ہے اس کی طرف سے آپ پر وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،اور آپ کو اس نے اپنا نبی بنالیا ہے اس کے ایک مدت بعد سورۃمدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں آپ کو بتایا گیاکہ نبوت پر مامور ہونے کے بعد آپ کو کیا کام کرنا ہے(52)
ڈاکٹر حمید اللہ فرماتے ہیں:
"نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پہلا جو خدائی حکم ملتا ہے وہ یہ کہ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ... مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔پہلے جملے میں اللہ کی طرف سے ایک حکم آتا ہے اور پھر پڑھنے کی اہمیت بھی اس وحی میں بیان کردی جاتی ہے،یعنی یہ کہ قلم ہی وہ واسطہ ہے جو انسانی تہذیب وتمدن کا ضامن ومحافظ ہے اسی ذریعہ سے انسان وہ چیزیں سیکھتا ہے جو اسے معلوم نہیں ہوتیں۔۔۔۔پہلی وحی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھنے کے بارے میں حکم دینا ایسی بات ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہےکہ نبی امی کو کیوں پہلی وحی میں اس کی طرف متوجہ کیا گیا۔(53)
سید قطب شہید نے اپنی تفسیر میں وحی اول کے واقعہ پر اس طرح اظہار خیال کیا ہے:
"اس واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ۔۔۔۔جو عظیم،جبار،قہار،متکبر اور پوری کائنات کا مالک الملک ہے!اپنی بلندیوں سے اس مخلوق کی طرف،جسے انسان کہا جاتا ہے اور جو کائنات کے ایک حقیر سے گوشے میں،جسے زمین میں کہا جاتا ہے پڑی ہوئی تھی،اپنے فضل وکرم سے ملتفت ہوا،اس نے مخلوق مین سے ایک ہستی کو چنا کہ وہ خدائی نور کو اخذ کرسکے،خدائی حکمت کی امین بن سکے،خدائی کلمات کا اس پر نزول ہو اور وہ خدا کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے جو وہ اس مخلوق سے چاہتا ہے۔
انسان کے سلسلے میں اس واقعے کی دلالت یہ ہےکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس کو ایک ایسا اعزاز بخشا ہے جس کا وہ صحیح طور سے تصور کرسکتا ہے اور نہ پوری طرح شکر ادا کرسکتا ہے اگر انسان خدا کے حضور عمر بھر رکوع وسجود میں گزار دے تب بھی وہ خدا کے اس عظیم احسان کا شکر ادا نہیں کرسکتا کہ اللہ نے اسے یادکیا وہ اس کی طرف ملتفت ہوا!اپنے سے اس کا ربط وتعلق قائم کیا اس کی جنس سے ایک رسول کا انتخاب کیا جس پر وہ اپنا کلام نازل فرماتا ہے اوریہ زمین،جو انسان کا مسکن ہے خدائی کلمات کا۔جن سے کائنات کے اطراف وجوانب خشوع وابتہال کے ساتھ گونج رہے ہیں مہبط(کس قدر عظیم ہے یہ احسان)(54)
مفسرین کی مذکورہ بالا تصریحات سے واضح ہوتا ہےکہ ابتدائی پانچ آیات اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے جامع نوعیت کی حامل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منصب نبوت ورسالت کا مقام ومرتبہ متعین کرتی ہیں۔
علم الانسان مالم یعلم کی توضیح
محترم مضمون نگار نے ایک سوال یہ بھی اٹھایا ہےکہ مذکورہ آیت سے کسی طور بھی پہلی وحی کا اشارہ نہیں ملتا،رقمطرازہیں۔
"دوسرے یہ کہ خود ان آیات میں ہی وہ قرینہ موجود ہے جس سی یہ متعین ہوجاتا ہےکہ یہ پہلی وحی نہیں ہے ہمارا اشارہ پانچویں آیت کی طرف ہے اس آیت میں(عربی)کے الفاظ سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہےکہ قرآن مجید کی دعوت لوگوں تک پہنچ چکی ہے اور انہیں قرآن مجید کا نئی تعلیمات پر مبنی حصہ سنایا جاچکا ہے"(55)
فاضل مضمون نگار کے اس مفروضے کے برعکس مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کو مطلق رکھا ہے ذیل میں ہم چند مفسرین کے اقتباسات درج کرتے ہیں۔
"مولانا امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں۔
"﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥ یہ اسی انعام واحسان کا ایک پہلو ہےکہ صرف تعلیم بالقلم ہی کا احسان امتیوں پر نہیں کیا بلکہ مزید احسان یہ بھی کیا ہےکہ ان کو وہ باتیں بتائیں اور سکھائیں جو وہ نہیں جانتے تھے لفظ انسان اگرچہ عام ہے لیکن قرآن کے پہلے مخاطب چونکہ امی عرب ہی تھے اس وجہ سے یہاں اصلا وہی مراد ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے ان کو جاہلیت کی تاریکی سے نکالنے کے لئے ان پر اپنی یہ کامل ہدایت نازل فرمائی ہے ان پر حق ہے کہ وہ اس کی قدر کریں۔سورہ جمعہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے۔
﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢﴾...الجمعة (56)
وہی ہے جس نے اٹھایا امیوں میں سے ایک رسول انہی میں سے وہ ان کو سناتا ہے اس کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا اور ان کو سکھاتا ہے کتاب اور حکمت دراں حالانکہ وہ اس سے پہلے نہایت کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
یہی مضمون،الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ،البقرہ،151،98اور آل عمران164میں بھی آیا ہے۔(57)
یہاں پر مولانا امین احسن اصلاحی نے واضح طور پر پیغمبر کےمنصب اور ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔مولانا مودودی فرماتے ہیں:
"یعنی انسان اصل میں بالکل بے علم تھا اسے جو کچھ بھی علم حاصل ہوااللہ کے دینے سے حاصل ہوااللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اس پر کھلتے چلے گئے یہی بات ہے جو آیۃالکرسی میں اس طرح فرمائی گئی ہے﴿وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ ... ٢٥٥﴾...البقرۃ  اور وہ لوگ اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتے سوائے اس کے جو وہ خود چاہے،(58)جن جن چیزوں کو بھی انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے،درحقیقت وہ پہلے اس کے علم میں نہ تھیں اللہ تعالیٰ ہی نے جب چاہا ان کا علم اسے دیا بغیر اس کے کہ انسان محسوس کرتاکہ یہ علم اللہ اسے دے رہا ہے۔(59)
قاضی محمد ثناءاللہ پانی پتی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾)اللہ نے عقل اور عمل کی قوتیں پیدا کیں اندرونی اور بیرونی دلائل قائم کیے،انبیاکے پاس وحی بھیجی،عوام وخواص کے ذہنوں میں بدیہی علوم پیدا کئے آسمانی کتابیں نازل کیں پیغمبروں کو بھیجا اخبار متواترہ کے ذریعے سے اطلاعات بہم پہنچائیں اور ان تمام ذرائع سے انسان کو وہ علوم سکھائے جس سے وہ ناواقف تھا۔(60)
رہی یہ بات کہ مذکورہ آیت سے یہ لازم آتا ہے کہ ماضی کے اس صیغہ سے یہ ظاہر ہو رہا ہےکہ لوگوں تک قرآن مجید کی دعوت پہنچ چکی ہے۔تو یہ ضروری نہیں کہ جہاں بھی ماضی کا صیغہ اس سے وہی مفہوم مرادلیا جائے بعض اوقات قرآن حکیم میں ماضی کے صیغے میں مستقبل مراد لیا جاتا ہے،مثال کے طور پر ملاحظہ ہو حضرت عیسی علیہ السلام کا وہ کلام جو انہوں نے گہوارے میں کیا:
﴿قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا ﴿٣٠﴾...مریم(61)
کہا میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے کتاب دی گئی اور مجھے نبی بنایا گیا۔
کیا مذکورہ آیت سے یہ لازم آتا ہےکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو قبل ازیں مبعوث کیا جا چکا تھا اور ان پر کتاب نازل کی جاچکی تھی۔حقیقتاً یہ امر اس کی طرف اشارہ ہےکہ وہ اس منصب کے حامل ہوں گے،نیز مفسرین کی تصریحات آیت کے تعین کے لیے کافی ہیں جو ہم سطور بالا میں پیش کرچکے ہیں۔
رہااس امر کا جائزہ کہ'خود روایت میں ایک خلا موجود ہے حضرت خدیجہ کے ردعمل اور بطور خاص ورقہ بن نوفل کے جواب سے واضح ہےکہ اس پہلی ملاقات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا کا پیغمبر ہونے کی خبر دی تھی لیکن ان آیات میں اس کے تقرر کا تو کوئی ذکر نہیں،البتہ خدا کا کلام پڑھ کر سنانے کا حکم ضرور دیا جا رہا،جو ظاہر ہے اسی وقت دیا جا سکتا ہے جب تقرر بھی ہوچکا ہو اور دعوت کے لیے ضروری کلام بھی نازل ہوچکا ہو'(62)
جہاں تک روایت میں خلا کا تعلق ہے تو ہم اس امر کی تفصیلی صراحت مقالہ کے ابتدائی حصہ میں کرچکے ہیں اور ورقہ بن نوفل کا جواب بھی تحریر کرچکے ہیں۔البتہ ہم پیغمبر کی بعثت سے متعلق یہاں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی ایسا منصب نہیں کہ جس لئے باقاعدہ کوئی تقرر نامہ،جاری ہو بلکہ حضرت جبرئیل کا وحی لے کرآنا ہی منصبِ نبوت اور وح الہٰی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ارشاد الہٰی ہے:
﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ ... ٥١﴾...الشورى)(63)
اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہےکہ اللہ تعالیٰ اس کے روبرو بات کرے اس کی بات یا تو وحی(الہام)کےطریقے پر ہوتی ہےیا پردے کےپیچھے سے یا پھر پیغامبر(فرشتہ)بھیجتا ہے اور اس کے حکم سے وہ جو چاہتا ہے،وحی کرتا ہے۔
چنانچہ ورقہ بن نوفل کا آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وحی کی کیفیات کا سننا اور کتب سابقہ کی روشنی میں مشاہدہ کرنا اور اس کی بنیاد پر یہ کہنا کہ یہی وہ رازداں فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی خدا تعالیٰ کا پیغام لایا تھا۔بعثت نبوی کی طرف صریح اشارہ ہے۔جہاں تک اس واقعہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وحی اور بعثت کے مماثل قرار دینا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ہر پیغمبر پر اللہ تعالیٰ نے وحی،پیغام رسالت اور دعوت کے لئے یکساں طریقے اختیار نہیں فرمائے۔واللہ اعلم بالصواب۔
مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کے تفسیری منہج پر ایک نظر
فاضل مضمون نگار نے اپنے مضمون میں تدبر قرآن سے بھی استدلال کیا ہے۔مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تفسیر تدبر وتفکر اور نظم القرآن کے حوالے سے منفرد اہمیت کی حامل ہے نیز تدبر قرآن کا محرک مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کا علمی فیضان ہے لہذا ہم ضمنی طور پر ہر دو کے تفسیری مناہج پر بھی مختصر گفتگو کرتے ہیں۔
مولانا امین احسن اصلاحی،تفسیر کا مقصد اور فہم القرآن کے وسائل،کے تحت لکھتے ہیں:
"اس کتاب کے لکھنے سے میرے پیش نظر قرآن حکیم کی ایک ایسی تفسیر لکھنا ہے جس میں میری دلی آرزو اور پوری کوشش اس امر کے لئے ہے کہ میں ہر قسم کے بیرونی لوث اور لگاؤ اور ہر قسم کے تعصب و تَحزُب سے آزاد اور پاک ہو ہر آیت کا وہ مطلب سمجھوں جو فی الواقع اور فی الحقیقت اس آیت سے نکلتا ہے اس مقصد کے تقاضے سے قدرتی طور پر میں نے اس فہم قرآن کے ان وسائل وذرائع کو اصل اہمیت دی ہے جو خود قرآن کے اندر موجود ہیں۔مثلا قرآن کی زبان،قرآن کا نظم اور قرآن کے نظائر وشواہد،دوسرے وسائل جو قرآن کے باہر ہیں مثلا حدیث،تاریخ،کتبِ سابق صحیفے اور تفسیر کی کتابیں۔اگرچہ اپنے امکان کے حد تک میں نے ان سے بھی فائدہ اٹھایا ہے لیکن ان کو داخلی وسائل کے تابع رکھ کر ان سے استفادہ کیا ہے۔جو بات قرآن کے الفاظ،قرآن کے نظم اور خود قرآن کی خود اپنی شہادتوں اور نظائر سے واضح ہو گئی ہے وہ میں نے لے لی ہے اگر کوئی چیز اس کے خلاف میرے سامنے آئی ہے تو میں نے اس کی قدر وقیمت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کو جانچا ہے"(64)
مولانا اصلاحی کے اس اقتباس سے اس امر کی صراحت ہورہی ہےکہ انہوں نے قرآن حکیم کی زبان ونظم اور نظائر وشواہد کو تفسیر میں ہر حوالے سے ترجیح دی ہے اور انہوں نے تفسیر قرآن کے اساسی مآخذ کی حیثیت سے لیا ہے جبکہ حدیث مبارکہ کو نہ صرف خارجی وسائل میں شمار کیا ہے بلکہ ان کو داخل وسائل کے تابع رکھ کر ہی اس سے استفادہ کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف زیر نظر مضمون میں ایک الگ اور منفرد نقطہ نظر سامنے آیا ہے بلکہ تدبر قرآن کے حوالے سے تفردات،کا ایک نیا باب کھل گیا ہے جو محلِ نظر ہے۔نطم قرآن حکیم کو تفسیر قرآن کی بنیاد قرار دینا اگرچہ اعجازی پہلو سے مستحسن ہے اور ہر مفسر کے لیے لازم ہے کہ اس سے اعتناءکرے مگر کلیتاً تفسیر قرآن کی عمارت اسی پر استوار کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔جہاں تک احادیث صحیحہ کا تعلق ہے تو اس سے بے اعتنائی اختیار کرنا اور عملا اس کو نظر انداز کرنا امت مسلمہ میں اختلاف وانتشار کو فروغ دینا ہے جس کی ایک ادنیٰ سی مثال زیرِ نظر مضمون ہے جس میں فاضل مضمون نگار نے ایک مسلمہ اور متفقہ نقطہ نظر کو محل نظر بنایا ہے۔اور پہلی وحی پر احادیث صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے مسلمہ نقطہ نظر کو متنازع بنا کر اسے فکری انتشار اور ذہنی خلجان کا سبب قرارد یا ہے۔اس باب میں مولانا حمید الدین فراہی کی رائے یہ ہے:
"پس جب ایسے اصطلاحی الفاظ کا معاملہ پیش آئے جن کی حدوتصویر قرآن حکیم میں نہ بیان ہوئی تو صحیح راہ یہ ہےکہ جتنے حصے پر تمام امت کا اتفاق ہے اتنے پر قناعت کرو،(65)
مزید لکھتے ہیں:
"تمام دینی اصطلاحات کے بارے میں اسی مسلک کو صحیح سمجھتا ہوں اور اسی کو میں نے اختیار کیا ہے البتہ ان کے اسرارومصالح میں نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور اس باب میں رہنمائی قرآن اور صحیح احادیث سے حاصل کی ہے،(66)
حدیث وسنت متواتر کو مختلف قرار دینا بھی ایک نئی اختراع ہے اس بارے میں وہی نقطہ نظر اختیار کیا جائے جو امت مسلمہ کاآگاز سے رہا ہے،اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حیثیت باقاعدہ تسلیم کی جائے"آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے،اسی طرح اس کے معلم اور مبین بھی تھے اور یہ تعلیم وتبیین آپ کے فریضہ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی"(67)                              'واللہ اعلم بالصواب'
محدث
فراہی یا اصلاحی وغامدی گروپ نے تفسیر قرآن میں"حدیث وسنت"کو خارجی مسائل میں شمار کر کے احادیث سے جو بےاعتنائی برتی،بلکہ اس کے اعراض وانکار کا راستہ اختیار کیاہے،اس نے اس گروہ کو عملا اعتزالی زیغ وضلال میں مبتلا کردیا ہے۔چنانچہ اب اس گروہ کے لیے کسی بھی صحیح حدیث یااسلامی مسلمات کا انکار مشکل نہیں۔یہی وجہ ہےکہ اس گروہ نے رجم کی احادیث کا انکار کیا۔معراج کے جسمانی ہونے کا انکار کیا،عقیدہ نزول مسیح علیہ السلام،ظہور مہدی اور خروج دجال جیسے مسلمات اسلامیہ کا انکار کیا۔اس لیے ان کے زیر بحث موقف ہی میں فکر ونظر کی کجی نہیں پائی جاتی ہے(جیسا کہ فاضل مضمون نگار نے لکھا ہے)بلکہ یہ گروہ اپنی کج فکری اور استخفاف حدیث میں بہت آگے جاچکا ہے،اور سرسید وپرویز کا جانشین بن گیا ہے۔      ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا۔                                                  (ادارہ)
حوالہ جات وحواشی
1۔العلق،(1۔5)
2۔جاوید احمد غامدی،ماہنامہ'اشراق'ستمبر98،دانش سرا،123بی ماڈل ٹاؤن لاہور مضمون'طالب محسن'پہلی وحی؟'42
3۔ایضا،حوالہ مذکور،43
4۔العلق،5
5۔امین احسن اصلاحی،تدبر قرآن،فاران فاؤنڈیشن لاہور پاکستان،1985،9/460
6۔فاضل مضمون نگار نے اپنے اس موقف کی تائید کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے پہلی گفتگو کا حوالہ دیا ہے ملاحظہ ہو سورۃطہٰ(11۔16)طہٰ،24،طہٰ،42۔44۔تفصیل کے لئے دیکھئے'اشراق'حوالہ مذکور،44۔45
7۔اشراق،حوالہ مذکور،43۔45
8۔حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مندرجہ ذیل آیات میں شارح،اور مفسر قرار دیا گیا ہے۔
(ا)(عربی)(النمل44)
اور ہم نے آپ پر'الذکر'(قرآن)نازل کیا تاکہ جو تعلیم لوگوں کی طرف بھیجی گئی ہے وہ ان پر واضح کردیں اور تاکہ وہ لوگ غور فکر کریں۔
(ب)(عربی)(النساء،107)
اے پیغمبر ہم نے آپ پر الکتاب،سچائی کیساتھ نازل کردی ہے تاکہ جو کچھ اللہ نے بتلادیا ہے آپ اس کے مطابق فیصلہ کریں۔
(ج)(عربی)(المائدہ،67)
اے رسول جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے،آپ اس کی تبلیغ کیجئے،
9۔سید ابو اعلیٰ مودودی،تفہیم القران،ادارہ ترجمان القران لاہور1973،6/392،393یامذکورہ حدیث کا متن ملاحظہ ہو حوالہ نمبر19،
10۔حافظ ابن کثیر،تفسیر قرآن العظیم،(اردو ترجمہ)نور محمد کارخانہ کتب آرام باغ کراچی،5/87،89
11۔مولانا تقی عثمانی،علوم القران،مکتبہ دارالعلوم کراچی14،56
12۔ایضا،حوالہ مذکور،57
13۔سید امیر علی،تفسیر مواہب الرحمٰن المعروف بہ جامع البیان،قرآن کمپنی لمیٹڈ لاہور،(س ن)10/835
14۔قاضی ثناءاللہ پانی پتی،تفسیر مظہری،مترجم،سید عبد الدائم جلالی،ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی1987،12/466
15۔محمد عبد الحق حقانی،تفسیر فتح المنان المشہور بہ تفسیر حقانی،مکتبہ الحسن لاہور(س ن)،8/190
16۔علامہ جلال الدین سیوطی،الاتقان فی علوم القرآن،مترجم(محمد حلیم انصاری)ادارہ اسلامیات،لاہور1982ء،1/56
17۔سید قطب شہید،تفسیر فی ظلال القرآن،مترجم سید حامد علی،البدر پبلی کیشنز لاہور،(تیسواں پارہ)314
18۔متن حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 9،سید ابو الاعلیٰ مودودی،حوالہ مذکور،6/392،393
19۔مذکورہ حدیث ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر بیان فرمائی ہے ملاحظہ ہو حوالہ:صحیح البخاری،بشرح الکرمانی،التقریب للنووی رحمۃ اللہ علیہ،دار احیاءالتراث العربی بیروت لبنان1981ء،باب کیف کان بدءالوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،انھا سمعت من النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،1،3/31
20۔الصالحۃ،امام بخاری نے کتاب التفسیر میں الصادقۃکا لفظ بھی استعمال کیا ہے'وھما ھہنا بمعنی الصالحۃ ایضا        ،حوالہ مذکورہ،201،31
21۔جاءالحق ای الوحی الکریم،یعنی اس سے مراد وحی الہٰی ہے،      2/
22۔مذکورہ حدیث میں آیات اقراءسےالاکرم،تک ہیں مگر بالاتفاق اس سے مراد اقراءسے مالم یعلم تک ہے جیسا کہ شرح کرمانی میں صراحت ہے،ایضا،1،2/35
23۔الناموس سے مراد حضرت جبرئیل علیہ السلام مراد ہیں،ایضا،1،2/38
24۔ورقہ بن نوفل نے نصرانی ہونے کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بجائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیوں کیا ہے۔اس بارے میں شرح بخاری میں ہےکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہود ونصاریٰ دونوں بالاتفاق مانتے ہیں اور تورات پر ایمان بھی رکھتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نہیں مانتے اور ان کی تکفیر کرتے ہیں اسی وجہ سے روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے۔ایضا،1،2/39
25۔محمد بن اسماعیل بخاری،الصحیح للبخاری،بشرح الکرمانی،داراحیاء التراث العربی بیروت لبنان،1981ءباب کیف کان بدءالوحی الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،1،2/28۔39
26۔مولانا تقی عثمانی،علوم القرآن حوالہ مذکور،58نیزدیکھئے الاتقان،1/25
27۔زنحشریمالکشاف عن حقائق غواحض التنزیل،مطبعہ الاستقامۃ،قاہرہ1365،4/775
28۔علامہ جلال الدین سیوطی،الاتقان،حوالہ مذکور1/58
29۔ابن حجر عسقلانی،فتح الباتی،1/23مزید تحقیق کے لئے دیکھئے فیض الباری1/25،الاتقان1/25
30۔تقی عثمانی،علوم القرآن،حوالہ مذکور،58
31۔محمد بن اسماعیل البخاری،جامع الصحیح،حوالہ مذکور1،2/41،42
32۔جلال الدین سیوطی،الاتقان،حوالہ مذکور،1/58
33۔محمد عبدالحق حقانی،تفسیر حقانی،حوالہ مذکور،8/90
34۔محمد بن اسماعیل بخاری،صحیح البخاری،بشرح الکرمانی،التقریب للنووی رحمۃ اللہ علیہ،1،2/42،43
35۔اشراق،حوالہ مذکور،45
36۔مولانا امین احسن اصلاحی،تدبر قرآن حوالہ مذکور،مقدمہ،1/30
37۔ایضا،1/29
38۔ابن کثیر،البدایہ والنہایہ،تاریخ ابن کثیر،نفیس اکیڈمی کراچی،3،4/39
39۔مولانا تقی عثمانی،علوم القرآن،حوالہ مذکور،56
40۔مولانامودوی،تفہیم القرآن،حوالہ مذکور،6/392
41۔صحیح البخاری،للتقریب للنووی،201/31
42۔اشراق،حوالہ مذکور،43،محمد امین احسن اصلاحی،تدبر قرآن،حوالہ مذکور،9/460
43۔مودودی،تفہیم القرآن،حوالہ مذکور،6/392
44۔ایضا،6/396
45۔ایجا،6/396(اس واقعہ کے بارے میں ابوجہل سےمتعلق روایت بخاری،ترمذی،نسائی،ابن جریر،عبدالرزاق،وغیرہ میں منقول ہیں)
46۔ابن کثیر،تفسیر قرآن العظیم،حوالہ مذکور،ف5/80
47۔مفتی محمد شفیع،معارف القرآن،ادارہ المعارف کراچی،1985ء،
48۔سید قطب شہید،تفسیر دی ظلال القرآن،حوالہ مذکور،316
49۔اشراق،حوالہ مذکور،43
50۔ابن کثیر،حوالہ مذکور،5/79
51۔طہٰ،14
52۔مولانامودودی،تفہیم القرآن،حوالہ مذکور،6/396
53۔ڈاکٹر حمید اللہ،خطبات بہاولپور،ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد،1990ءعہد نبوی میں نظام تعلیم،94،95
54۔سید قطب شہید،حوالہ مذکور،316
55۔اشراق،حوالہ مذکور،43
56۔الجمعہ،2
57۔امین احسن اصلاحی،حوالہ مذکور،9/255،256
58۔البقرہ،255
59۔مولانامودودی،تفہیم القرآن،حوالہ مذکور،6/296
60۔قاضی ثناءاللہ پانی پتی،تفسیر مظہری،حوالہ مذکور،12/466،467
61۔مریم،30،31
62۔اشراق،44
63۔الشوریٰ،51
64۔مولانا امین احسن اصلاحی،تدبر قرآن،حوالہ مذکور،مقدمہ،1/13،14
65۔ایضا،1/30
66۔ایضا،1/30
67۔ایضا،1/29