اہل علم وفکر اور ارباب دانش وتاریخ کے اجتماع میں یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ پاکستان کے قیام میں دیگر عوامل واسباب کیساتھ سب سے بڑاعامل اورعظیم سبب دوقومی نظریہ تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر ہند میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلم۔ان دونوں کی تہذیب وثقافت،انکی تاریخ اور تمدن اور انکا مذہب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ہندوستان سے انگریزی استعمار کے جانے کے بعد یہاں جو حکومت قائم ہوگی،اس میں مسلمانوں کو نمازیں،پڑھنے،روزےرکھنے اور دیگر عبادات کی ادائیگی کی تو یقیناً اجازت ہوگی۔لیکن مسلمانوں کا جو نظریہ زندگی ہے،جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے،اس میں امور سیاست وجہاں بانی ہے،اقتصادومعیشت ہے،تہذیب وثقافت ہے،اخلاق وتجارت ہے،بین الاقوامی قواعد وضوابط ہیں،صلح وجنگ کے معیار اور پیمانے ہیں،حرب وضرب کے اصول ہیں۔غرض زندگی کے ہر معاملے میں اسلام اپنے مخصوص عقائد ونظریات کی روشنی میں انکی صورت گری کرتا اور مخصوص ہدایات دیتا ہے۔مسلمان ہندوستان کی قومی حکومت میں اپنے اس نظریہ حیات کو بروئے کار نہیں لاسکیں گے،وہ سیاست وجہاں بانی کے اصولوں کو اپناسکیں گے نہ اقتصاد ومعیشت کے ضابطوں کو۔وہ اپنی تہذیب وثقافت کو نافذ کر سکیں گے نہ اپنی تجارت اور کاروبار کے اصولوں کو۔وہ بین الاقوامی ضوابط میں اپنی اسلامی روح کی کارفرمائی دیکھ سکیں گے نہ داخلی معاملات میں اسکی کوئی جھلک انکو نظر آئے گی۔نتیجتاً ان کا مذہب اور انکا دین چند رسوم وعبادات تک محدود ہو کر رہ جائے گا،جب کہ اللہ نے اس دین اسلام کو پوری انسانیت کی ہدایت ورہنمائی کیلئے نازل کیا ہے بلکہ اسکی نجات اور ابدی سعادت کو صرف اور صرف اسی کیساتھ وابستہ کردیا ہے﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ ... ١٩﴾...آل عمران (1)"دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔"
﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٨٥﴾... آل عمران (2)"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتاہے وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔"
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی فرمان گرامی ہے:
(«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ»)(3)
"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے،وہ یہودی ہویاعیسائی،پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔"
اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہےکہ وہ اسلام کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت کو امن وسکون اور نجات سے ہمکنارکریں،جیسے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم وستم کا خاتمہ کرکے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا،کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکو توحید وسنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کو سیرت وکردار کی بلندیوں سے آشنا کیا۔آج انسانیت پھر ظلم وستم کا شکار ہے،وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی بلکہ دھنسی ہوئی ہے۔
پاکستان کے قیام کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک طرف ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اور ایک اللہ کی پرستش کریں گے،وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کرکے اور ہر شعبہ زندگی میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کرکے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اور اس کے حسن وجمال کی جلوہ گاہ بنائیں گے،تاکہ دنیا کے سامنے صحیح فکروعمل اور امن وسکون سے آشنا زندگی کا ایک بہترین نمونہ سامنے آسکے،جسےدنیائے انسانیت اپنانے اور اختیار کرنے کے لئے لپکے اور اس کی طرف پلٹے۔
تحریک پاکستان کے دنوں میں اس تحریک کے لیڈروں نے بھی قوم سے یہی وعدہ کیا تھا اور بار بار اسی کا اعادہ کیا تھا،بانی پاکستان نے بھی یہی کہا تھا،جسے وہ قیام کے بعد بھی دہراتے رہے۔اللہ اور اس کی مخلوق سے کئے ہوئے اس عہد کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں اسلام کی علم برداری قائم ہو اور اسلامی شریعت کا سکہ یہاں چلے۔جس طرھ پاکستان کا قیام اس وعدے کا مرہون منت ہے،اس کا استحکام وبقاءبھی اس عہد کی تکمیل اور اس وعدے کے ایفاءمیں مضمرہے۔
نصف صدی ہم نے اس وعدے سے انحراف کرتے ہوئے گزاردی۔ہم نے دیکھ لیا کہ اس نقض عہد سے ہمیں نہ صرف یہ کہ کچھ حاصل نہیں ہوا،بلکہ اسلام کی جو کچھ قدریں ہمارے پاس تھیں،وہ بھی ہم گنوا بیٹھے ہیں،آج ہمارے ملک میں بدامنی،قتل وغارت گری عام ہے،لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے،دہشت گردی اور کرپشن کا راج ہے،مصیبتوں کا طوفان اور مفادات کا جھکڑ ہے،الحاد وبےدینی کی آندھی ہے اور بے حیائی کا سیلاب ہے جو ہمارے ڈرائنگ روموں اور خواب گاہوں تک کو اپنی لپیٹ میں لےچکا ہے۔ہم اپنی بہترین باحیا تہذیب سے بیزار اور غیروں کی حیاباختہ تہذیب کے والہ وشیدا ہیں۔اقتصاد ومعیشت کے میدان میں بھی ہم غیروں کے دست نگر،محتاج بلکہ درویوزہ گر ہیں اور کشکول گدائی لئے دربدرپھررہے اور ہانک پکار کر رہے ہیں۔
مغرب کے بازی گروں نے ہمارے سیاست بازوں کے ذہنوں میں ایسا افسوں پھونکا ہے کہ انہیں وہی مغربی جمہوریت اچھی لگتی ہے جس نے ہمارے ملک کو دو نیم کیا،جو فساد کی جڑ ہے،جس میں بندوں کو گنا جاتا ہے،تولا نہیں جاتا اور جس کی قبا میں دیو استبداد پائے کوب ہیں۔اس گننے والے نظام میں پچاس سال سے وہی خاندان بطور حکمران مسلط چلے آرہے ہیں جن کے پاس سوچنے والا دماغ نہیں،عوام کی مشکلات پر تڑپنے والا دل نہیں،عوام کے دکھ درد دیکھنے والی آنکھیں نہیں اور ان کی آہ وبکا اور فریادین سننے والے کان نہیں۔قرآن کی زبان میں کہا جاسکتا ہے۔
﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَـٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ ... ١٧٩﴾... الأعراف (4)
یہ کالانعام خاندان صرف ایک خوبی سے بہرہ ورہیں کہ جاگیروں کی صورت میں یاصنعتوں کی صورت میں وسائل فراواں کے مالک ہیں،جس کے بل بوتے پر وہ اپوزیشن کے حامل ہیں کہ گنے جانے والے سروں کو زیادہ سے زیادہ بہم پہنچایا ان پر شب کون مار کر اپنے طرف داروں میں شمار کروا لیں۔چنانچہ پاکستانی عوام کی تقدیر انہی چند خاندانوں کے ہاتھ میں یرغمال بنی ہوئی ہے،ان کے درباریوں اور نورتنوں میں بھی انہی خاندانوں کے یااسی قبیل کے لوگ ہوتے ہیں،یہ سب اس گندے نظام کے محافظ ہیں جس نے ان کے تسلط اور غلبے کو برقرار رکھا ہوا ہے،یہ اس انتخابی نظام میں ایسی کوئی تبدیلی لانے نہیں دیتے جس سے اقتدار کے زرنگار ایوانوں میں ایسے لوگ پہنچ سکیں جو عقل ودانش سے اور دل دردمند سے بہرہ ورہیں اور عوام کے مسائل ومصائب سے باخبر اور انہیں حل کرنے کا شعور وادراک رکھتے ہیں۔
اور ستم ظریفی کی انتہاہےکہ مغربی استعمار کی لعنت اس جمہوریت کی زلف گرہ گیر کے اسیر مذکورہ اہل اغراض ومفادات ہی نہیں،اصحاب جبہ ودستار اور وارچان منبر ومحراب بھی اس کی عشوہ طرازیوں سے مسحور ہیں۔گویا  ؎
ہم   ہوئے،   تم   ہوئے   کہ   میر   ہوئے
اس   کی   زلف   کے   سب   اسیر   ہوئے
اور یوں کیا اہل سیاست اور کیا اہل مذہب،سب کوچہ اقتدار تک رسائی کے لئے اس کو سب سے آسان راستہ سمجھتے اور لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کے لئے اسی راستے کو اختیار کرتے ہیں۔لیکن سب منہ کی کھاتے ہین اور اقتدار کی دیوی صرف انہی پر مہربان ہوتی ہے جو اس کی چرنوں میں دولت کا ڈھیر لگاتے اور اخلاقی اصولوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں اور یہ وہی مذکورہ خاندان ہیں جو قارون کے خزانوں کے وارث بھی ہیں اور ہر قسم کے اصولوں اور ضابطوں سے بے نیازبھی۔
اور احادیث سے معلوم ہوتا ہےکہ حکمران،عوام کے اعمال کا مظہر ہوتے ہیں۔(كما تكونون  كذلك يؤمر عليكم)(5)"تم جیسے ہوگے،ویسے ہی تم پر حکمران بنائے جائیں گے۔"یعنی تم جیسے عمل کرو گے،ویسے ہی تمہیں حکمراں نصیب ہوں گے۔عوام صحیح ہوں گے توحکمران بھی صحیح اور عوام غلط ہوں گے تو حکمران بھی غلط۔جیسے اردو زبان میں کہا جاتا ہے:جیسی روح،ویسے فرشتے۔بنابریں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہ حیثیت مجموعی پوری قوم نے اسلام سے انحراف کی جو راہ اپنا رکھی اور اپنی سیاسی،اقتصادی،تجارتی اور معاشرتی زندگی حتی کہ اخلاقی معاملات میں بھی اسے تقریبا خارج کررکھا ہے،اسی کی سزا اللہ تعالیٰ ظالم اور بےدردحکمرانوں کی صورت میں ہمیں دے رہا ہے۔گویا ع شامت اعمال ماصورت نادر گرفت کی صورت سے ہم دو چارہیں۔اعاذنااللہ منه
اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم جن گھمبیر مسائل میں گھرے ہوئے ہیں،ان سے ہمیں نجات ملے،ہماری مشکلات ختم ہوں اور اللہ تعالیی ہم سے راضی ہو جائے اور عہد شکنی اور اسلام سے انحراف کی سزا سے ہم بچ جائیں تو اس کا صرف ایک راستہ ہے،اور وہ ہے اسلام کے نفاذ کا،اس کو اپنانے کا اور اپنی زندگیوں کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کا۔محض چند عبادات کو رسوم وعادات کے طور پر اداکرلینا،اسلام نہیں ہے۔زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی ہدایات وتعلیمات اور اس کے اصول وضوابط کواختیار کرنا اسلام ہے،جیسے قرآن نے اہل ایمان سے خطاب کر کے کہا ہے ﴿ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً ... ٢٠٨﴾...البقرۃ (6)"اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔"
اسلام کے معنی ہی سرفگندگی اور خود سپردگی کے ہیں،اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دینا اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردینا اسلام ہے۔اس میں من مانی کاروائیوں کی اجازت نہیں ہے،اس لئے کہ اللہ نے ایسے لوگوں کے لئے اپنے پیغمبر سے خطاب کر کے بڑی سخت وعید بیان فرمائی ہے ﴿أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا ﴿٤٣﴾...الفرقان (7)"بھلا جس شخص نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنالیا،کیا(اے پیغمبر!)تو اس کا وکیل ہے؟"یعنی کیا تو اسے اللہ کی گرفت سے چھڑا سکتا ہے؟اسی طرح اسلام میں غیروں کی نقالی بھی نہیں ہے،اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے،(من تشبه بقوم فهو منه)(8)"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی،تو وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔"
شریعت کے نفاذ کا طریقہ:
اب تک جو گفتگو ہوئی،اس کا تعلق عنوان مقالہ کے پہلے جزء۔"پاکستان میں شریعت کا نفاذ کیوں ضروری ہے؟"سے ہے،اب کچھ گزارشات اس کے دوسرے جزء۔۔شریعت کا نفاذ کیسے ہو۔۔؟کے سلسلے میں۔۔
ہمارا حکمران طبقہ شروع سے ہی،جیسا کہ بیان ہوا،اسلام کے معاملے میں مخلص نہیں رہا ہے اور اب بھی نہیں ہے۔اس لئے لیت ولعل اور ٹال مٹول اس کا شیوہ رہا ہے اور ہے۔اس تاخیری حربے کے لیے وہ مختلف بہانے اور عذر پیش کرتا ہے،میں یہاں آج کی صحبت میں کانفرنس کے موضوع کی روشنی میں اس کی طرف سے پیش کئے جانے والے ایک بہانے اور ایک عذر پر گفتگو کروں گا اور اس کے لئے ایک حل پیش کروں گا،جس سے دوسرے سوال کا جواب مل جائے گا کہ شریعت کا نفاذ کیسے عمل میں آسکتا ہے؟
پاکستان میں جب بھی نفاذ اسلام کے مطالبے میں شدت آتی ہے تو حکمران طبقہ یہ عذر یا بہانہ پیش کرکے جان چھڑا لیتا ہے کہ ہم کون سا اسلام نافذ کریں؟اس لئے علماء کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ فقہ حنفی نافذ کرو۔اس طبقے میں پھر دو مکتب فکر ہیں جن کے عقائد واعمال ایک دوسرے سے مختلف ہیں،اس لئے یقیناً فقہ حنفی کی تعبیر میں بھی،اگر اس کی واقعی کبھی ضرورت پیش آئی،دو نقطہ نظر یادو مسلک سامنے آئیں گے۔فقہ حنفی کے نفاذ کے مطالبے کے جواب میں ایک اور مذہبی طبقہ فقہ جعفریہ کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔متجد دین کا طبقہ ماڈرن اسلام کا نفاذ چاہتا ہے جس میں مگربی تہذیب کی حیا باختگی کا بھی مکمل جواز ہو اور اس کے ظالمانہ سودی اور سیاسی نطام کا تحفظ بھی اور ان سب کے مقابلے میں ایک اور مذہبی طبقہ ہے جو صرف قرآن وحدیث کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔یوں اسلام کے نفاذ کاحسین خواب ع  شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیربا۔۔۔کا مصداق بن کر رہ گیا ہے،اپنے اپنے اسلام کی ان تعبیرات اور صداؤں نے حکمرانوں کو حصار عافیت مہیا کردیا ہے اور وہ اسلام کے نفاذ سے بے پروا ہوکر یہاں مغربیت کو پورے زورشور اور نہایت شدومد سے مسلط کررہے ہیں جس سے قوم بڑی تیزی سے اسلام سے بیگانہ تر اور اسلام کے نفاذ کی منزل سے دور سے دور تر ہوتی جارہی ہے۔
بنابریں اس کی شدید ضرورت ہے کہ علمائے اسلام،چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو،فقہی جمود اور حزبی تعصب سے بالاتر ہو کر اپنے اندر فقہی توسع پیدا کریں اور نصوص شریعت کو سب سے زیادہ اہمیت دیں اور اس میں بھی اس تعبیر کو اپنانے پر عملی آمادگی کا اظہار کریں جو سلف سے منقول ہو۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ مذہبی طبقے کا فقہی جمود اور حزبی تعصب بھی اس ملک میں بہرحال اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے یا رکاوٹ باور کرانے میں حکمران طبقہ کامیاب ہے اور اس تاثر یا رکاوٹ کو اس وقت تک دور نہیں کیا جاسکتا جب تک علماء۔۔۔صرف زبانی طور پر نہیں۔۔۔بلکہ دل کی گہرائیوں سے عملی طور پر﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ .... ٥٩﴾...النساء (9)کے تقاضوں کو بروئے کار لاکر اپنے فقہی اختلافات کے خاتمے کے لئے قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کو فیصل حرف آخر تسلیم کریں اور سکی ایک فقہ کے نفاذ کے مطالبے کی بجائے اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کریں اور اسی کو اسلام سمجھیں اور قراردیں جس کی تائید قرآن کریم یااحادیث صحیحہ سے ہو۔چاہے اس کا تعلق کسی بھی فقہ سے ہو یا کسی بھی فقہ سے نہ ہو۔فقہائے کرام کی فقہی کاوشیں ہمارا بیش قیمت علمی سرمایہ ہیں،ان سے استفادہ ضرور کیا جائے اور بلاامتیاز تمام فقہی سرمائے کو کھنگالا اور چھانا جائے اور اس میں سے جو بات(اوفق بالكتاب والسنة اور إرفق بالناس ہو)،اسے اختیار کر لیا جائے اور اس معاملے میں کسی بھی فقہ سے امتیازی سلوک کیا جائے نہ ترجیحی،بلکہ ترجیح صرف اور صرف نصوص شریعت اور عوام کی سہولت دی جائے۔یہی اسلام کا ہم سے مطالبہ بھی ہے اور وقت کا تقاضا بھی۔امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت وفقاہت مسلم ہے،اس میں دورائیں نہیں۔لیکن ذرا ان کا طرز عمل دیکھئے۔امام صاحب سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کی کوئی ایسی بات ہو جو کتاب اللہ کے مخالف ہو،تو کیا کیا جائے؟آپ نے فرمایا:کتاب اللہ کے مقابلے میں میری بات چھوڑ دو۔ان سے کہا گیا،جب آپ کی بات حدیث رسول کے خلاف ہو،تو؟آپ نے فرمایا،حدیث رسول کے مقابلے میں میری بات ترک کردو۔پھر آپ سے کہا گیا،اگر آپ کی بات قول صحابی کے خلاف ہو،تو؟آپ نے فرمایا،اس کے مقابلے میں بھی میری رائے کو نظرانداز کردو۔امام صاحب کا یہ قول امام شوکانی نے(عربی)میں نقل کیا ہے،ان کی اصل عبارت درج ذیل ہے:
(قَالَ صَاحب الْهِدَايَة فِي رَوْضَة الْعلمَاء أَنه قيل لأبي حنيفَة إِذا قلت قولا وَكتاب الله يُخَالِفهُ قَالَ اتْرُكُوا قولي بِخَبَر رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقيل لَهُ إِذا كَانَ قَول الصَّحَابِيّ يُخَالِفهُ فَقَالَ اتْرُكُوا قولي بقول الصَّحَابِيّ)(10)
حضرت الامام نے اپنے شاگرد رشید امام ابو یوسف سے کہا("ويحك يا يعقوب لا تكتب عني كل ما أقول، فإننا بشر نقول القول اليوم، ونرجع عنه غدا، ونقول القول غدا ونرجع عنه بعد غد".)(11)"اے یعقوب!میری زبان سے نکلی ہوئی ہر بات مت لکھا کرو،اس لئے کہ ہم بھی ایک انسان ہیں،آج ہم ایک بات کہتے ہیں اور کل اس سے رجوع کرلیتے ہیں،کل کی کہی ہوئی بات سے پرسوں رجوع کرلیتے ہیں۔"
آپ نے اہل علم وفتویٰ کو تاکید فرمائی:( حرام على من لم يعرف دليلي أن يفتي بكلامي)(12)"جس شخص کو میری کہی بات کی دلیل کا علم نہیں،اس پر حرام ہے کہ وہ میرے قول پر فتویٰ جاری کرے۔"
اور آپ نے اپنا مذہب ان الفاظ میں بیان فرمایا(إذا صح الحديث فهو مذهبى)(13)"جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے،تو وہی میرا مذہب ہے۔"یعنی صحیح حدیث کے مقابلے میں کسی کی رائے کو اہمیت حاصل نہیں،میری رائے بھی حدیث کے خلاف ہو،تو وہ قابل التفات نہیں،بلکہ ترک کے لائق ہے اور حدیث صحیح ہی اصل چیز ہے اور یہی میرا مذہب ہے۔
آپ حدیث کو کتنی اہمیت دیتے تھے،اس کا اندازہ امام ابو یوسف کے اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ بیان کیا گیا ہے کہ وقف کا فروخت کرنا جائز ہے،حالانکہ حدیث میں واضح طور پر موجود ہےکہ(لاَ يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلاَ يُورَثُ وَلاَ يُوهَبُ)یعنی"وقف نہ فروخت کیا جائے،نہ ورثے میں تقسیم کیا جائے اور نہ ہبہ"(متفق علیہ بحوالہ بلوغ المرام،باب الوقف)امام ابو یوسف فرماتے ہیں(ولو بلغ هذا الحديث لقال به ورجع عن بيع الوقف)(14)"اگر امام ابو حنیفہ کو یہ حدیث مل جاتی تو اس کے مطابق ہی موقف اختیار کرتے اور اپنے بیع وقف کے مسلک سے رجوع کرلیتے۔"
قاضی صدرالدین ابن ابی العزحنفی لکھتے ہیں:
(وقد قال  أبو يوسف لما رجع عن قوله فى مقدار الصاع وعن صدقة الخضروات وغيرها لو راى صاحبى ما رأيت لرجع كما رجعت)(15)
"جب امام ابو یوسف نے صاع کی مقدار اور سبزیوں میں زکوٰۃ وغیرہ مسائل میں رجوع کرلیاتو فرمایا،اگر میرے استاذ کے علم میں بھی وہ چیز آجاتی جو میرے علم میں آئی تو وہ بھی اسی طرح رجوع کر لیتے جیسے میں نے رجوع کرلیا۔"
گویا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تلامذہ کی تربیت ایسے انداز میں فرمائی کہ قرآن وحدیث کے نصوص کا احترام اور ان کا تسلیم کرنا ضروری ہے اور یوں فقہی جمود سے بچنے کا ان کو درس دیا۔یہی وجہ ہے کہ امام صاحب کے تلامذہ خصوصی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے اپنے استاذ سے بےشمار مسائل میں اختلاف کیا،یہاں تک کہ ان کی تعداد دوتہائی بیان کی گئی ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں(إستنكف أبو يوسف و محمد من من إتباعه فى ثلثى مذهبه)(16)"ان دونوں شاگردوں نے اپنے امام کے مذہب کے دوتہائی مسائل کا انکار کیا ہے۔"
اور یہ اختلاف فروعی مسائل تک محدود نہیں،بلکہ یہ اختلاف مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول اصول میں بھی کچھ کم نہیں چنانچہ وہ مقدمہ عمدۃ الرعایۃ میں تحریر فرماتے ہیں:
(فعن مخالفتهمالأبى حنيفة قى الأصول غير قليلة حتى  قال الإمام الغزالي أنهما خالفا أبا حنيفة فى ثلثى مذهبه )(17)
"دونوں شاگردوں کی اپنے استاذ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اصول میں مخالفت بھی کچھ کم نہیں۔حتی کہ امام غزالی نے کہا کہ انہوں نے اپنے استاذ کے مذہب سے دو تہائی مسائل میں اختلاف کیا۔"
کانفرنس کا موضوع چونکہ"امام ابو حنیفہ اور ان کی شخصیت"ہے،اس لئے صرف امام صاحب اور ان کے ارشد تلامذہ کے اقوال ہی ذکر کئے جارہے ہیں،ورنہ واقعہ یہ ہےکہ فقہی جمود سے ہر امام نے ہی روکا ہے اور سب نے ہی اجتہاد اور فقہی توسع کی تلقین کی ہے۔رحمۃ اللہ علیہم
مذکورہ تفصیل سے واضح ہےکہ امام ابو حنیفہ اور ان کے تلامذہ خاص،ہرگز اس فقہی جمود کے قائل نہیں ہیں جو ان کے بعد ان کے بعض اتباع میں پیدا ہوا،اس لئے اس بات کی ضرورت ہےکہ امام صاحب اور ان کے رفقائے گرامی قدر کے فقہی توسع کو ہی اختیار کیا جائے جو وقت کی ضرورت بھی ہے۔
شاہ ولی اللہ کا موقف اور نقطہ نظر:
خوش قسمتی سے برصغیر پاک وہند میں بارہویں صدی ہجری میں ایک اور جامع الصفات شخصیت پیدا ہوئی،جسے اہل سنت کے تمام حلقوں میں احترام وقبولیت کا مقام حاصل ہے،میری مراد اس سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ(المتوفی1176ھ)ہیں۔شاہ صاحب کے دور میں بھی فقہی جمود عام تھا،شاہ صاحب نے اپنی مخلصانہ مساعی سے اسے نہ صرف کم کیا،بلکہ اس کے لئے ایسے فکری ونظریاتی خطوط کی بھی نشاندہی فرمائی جنہیں اختیار کرکے فقہی اختلافات کی شدت ووسعت کو اور حزبی تعصب کو کم کیا جاسکتا ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اس موقع پر اس کی بھی ضروری تفصیل پیش کردی جائے۔کیونکہ ایک تو ان کی شخصی عظمت واحترام پر سب کا اتفاق ہر۔دوسرے،ایسے خطوط اور طریق کار کی اس وقت شدید ضرورت ہے جو امت کے اندر زیادہ سے زیادہ فقہی وحدت،نظریاتی قربت اور مسلکی ہم آہنگی پیدا کرسکے اور شاہ صاحب کے پیش کردہ حل اور فکر کو اگر اختیار کر لیا جائے تو یقیناً نفاذ اسلام کی مبینہ رکاوٹ دور ہوسکتی ہے جس کا غلط یاصحیح طور پر سہارا لیا جاتاہے۔
شاہ ولی اللہ نے فقہی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ایک تو یہ تجویز پیش کی ہےکہ فقہی اختلافات بالخصوص حنفی شافعی اختلافات قرآن وحدیث کے ظواہر پر پیش کئے جائیں،جو ان کے مطابق ہوں یا ان کے اقرب ہوں،انہیں تسلیم کیا جائے اور جو مسائل فقہی قرآن وحدیث کے خلاف ہوں،انہیں ترک کردیا جائے۔
اس کے لئے ایک دوسری تجویز انہوں نے یہ پیش کی ہےکہ فقہائے اہل حدیث اور فقہائے اہل الرائے دونوں اعتدال کا راستہ اختیار کریں۔اول الذکر گروہ قرآن وحدیث کے ظواہر کو تقدس کا اتنا درجہ نہ دے کہ تفقہ بالکل نظرانداز ہوجائے،جیسے اہل ظاہر(امام ابن حزم وغیرہ)نے کیا اور ثانی الذکر گروہ اقوال ائمہ کو اتنی اہمیت نہ دے کہ قرآن وحدیث کے نصوص سے بھی وہ فائق تر ہوجائیں،بلکہ اس کے بین بین راستہ اختیار کیا جائے،فقہائے کرام کی فقہی کاوشوں سے بھی پورا استفادہ کیا جائے لیکن نصوص صریحہ کا بھی پورا احترام وتقدس ملحوظ خاطر رہے۔اسے وہ محققین فقہائے اہل حدیث کا طریقہ بتلاتے ہیں اور اسی کی تلقین نے بہ شدومداور بہ تکرارواصرار کی ہے۔اس سلسلے کی چند عبارتیں پیش خدمت ہیں۔
اپنی مشہور تالیف(التفهيمات الإلهية)میں عقائد کے بارے میں کتاب وسنت،قدمائے اہل سنت اور سلف کے منہاج کی پابندی کی وصیت کرتے ہوئے فروعات میں لکھتے ہیں:
"ودر فروع پیروی علمائے محدثین کبارکہ جامع باشند میان فقہ وحدیث کردن و دائما تفریعات فقھیہ رابر کتاب وسنت عرض نمودن آنچہ موافق باشد درحیز قبول آوردن واِلّا کالائے بدبریش خاوند دادن۔امت راہیچ وقت از عرض مجتہدات بر کتاب وسنت استغناءحاصل نیست وسخن متقشفہ فقہاءکہ تقلید عامٰے رادست آویز ساختہ تتبع سنت راترک کردہ اندنشنیدن وبدایشاں التفات نہ کردن وقربت خدا جستن بدوری ایناں۔"(18)
"فروع میں علمائے محدثین کی پیروی کرنا جو حدیث وفقہ کے جامع ہیں۔مسائل فقھیہ کو کتاب وسنت پر پیش کرنا،جو ان کے موافق ہوں انہیں قبول کرنا اور مخالف کو پھینک دینا۔امت کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ہر وقت اجتہادی مسائل کو کتاب وسنت پر پیش کرتی رہے اور وہ خشک فقہاءنے تقلید کو ضروری قرار دے رکھا ہے اور سنت کی تلاش وجستجو کو ترک کیا وہا ہے۔ان کی باتیں نہ سننا،نہ ان کی طرف نظر التفات کرنا۔ان کے بغیر ہی حق تعالیٰ کے قرب کی جستجو کرنا۔"
(التفهيمات الإلهية)جلد اول میں فرماتے ہیں:
(إنى أقول لهولاء المسلمین أنفسهم بالفقهاء الجامدين على التقليديبلغهم الحديث من أحاديث النبى صلى الله عليه وسلم بإسناد صحيح وقد ذهب اليه جمع عظيم من الفقها ء المتقدمين ولا يمنعهم إلا التقليد لمن لم يذهب اليه ولهولاء الظاهرية المنكرين للفقهاء الذين هم طراز حملة العلم وائمة أهل الدين أنهم جميعا على سفاهة وسخافة راى وضلالة وأن الحق أمر بين بين )
"مین ان سے کہتا ہوں جو خود کو فقہاءسمجھتے اور ان میں انتہائی تقلیدی جمود آچکا ہے،کہ جب ان کو امت میں معمول بہا صحیح حدیث پہنچتی ہے تو اس پر عمل سے انہیں صرف تقلید جامد روک دیتی ہے اور بالکل ظاہر پرست حضرات سے بھی کہتا ہوں جو ایسے فقہاءکا انکار کرتے ہیں جو حاملین علم اور ائمہ دین ہیں کہ یہ دونوں فریق غلط راہ پر جارہے ہیں۔یہ کم فہمی کی راہ ہے اور معاملہ(حق)ان دونوں کے بین بین ہے۔"
کچھ آگے چل کر فرماتے ہیں:
"میں اللہ کے لئے اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ امت میں سے کسی آدمی کے متعلق،جس سے خطا وصواب دونوں باتوں کا احتمال ہو،یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ نے اس کی اطاعت مجھ پر فرض کردی ہے اور میرے لئے صرف وہی چیز واجب ہے جسے وہ واجب قرار دے،کفر ہے۔کیونکہ شریعت اس شخص سے مدتوں پہلے موجود ہے۔لوگوں نے علماء کی تقلید پر صرف اس لئے اتفاق کیا کہ وہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شریعت کے راوی ہیں انہیں جو علم تھا ہمیں نہیں اور علم ان کا مشغلہ تھا جب کہ ہمارا ویسا مشغلہ نہیں۔لیکن اگر حدیث ہو،محدثین نے اس کی صحت کی گواہی دی ہو،لوگوں نے اس پر عمل کیا ہو اور معاملہ واضح ہوچکا ہو،پھر ا س حدیث پر اس لئے عمل نہ کیا جائے کہ اس کے امام یا متبوع نے اس کے مطابق فتویٰ نہیں دیا تو یہ بہت بڑی گمراہی ہے۔"
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہےکہ
"ملا اعلیٰ کی طرف سے میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہو ا کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم کے مذاہب کو،جو امت میں مشہور ہیں،ان دونوں کو یکجا کردیاجائے(جس کا طریقہ یہ ہےکہ)دونوں مذاہب کے فقہاءوعلماءکی مرتبہ کتابوں کو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جائے،جو مسائل حدیث کے موافق ہوں،قبول کرلئے جائیں اور جن کی اصل حدیث میں نہ ہو،انہیں ساقط کردیاجائے۔اس طرح نقدونظر(جانچ پڑتال)کے بعد جن مسائل مین اتفاق ہوجائے۔ان پر مضبوطی سے عمل کیا جائے۔اگر اختلاف ہو تو وہاں دو رائیں تصور کر لی جائیں اور دونوں پر عمل صحیح سمجھا جائے"
التفہیمات جلد دوم میں اس کی بایں طور پر وضاحت فرماتے ہیں:
(ونخن نأخذ من القروع ما  إتفق عليه العلماء لا سيما  هاتان  الفرقتان العظيمتان الحنفية  والشافعية وخصوصا فى الطهارة والصلوةفإن لم يتبسر الإتفاق,واختلفوا فنأخذ بما يشهد له ظاهر الحديث  و معروفه  ونحنز...ولا أقول الصوفية(20)
اس کا خلاصہ یہ ہےکہ"فروعات مین وہ چیزیں لے لی جائیں جن پر علماءمتفق ہوجائیں۔بالخصوص حنفی،شافعی فقہ سے نماز اور طہارت کے متفقہ مسائل لے لئے جائیں اور اگر اتفاق نہ ہوسکے تو پھر ظاہر حدیث اور معروف حدیث کے مطابق عمل کیا جائے۔ہم کسی صاحب علم کی تحقیر نہیں کرتے،سب طالب حق تھے تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ ہم کسی اور کی عصمت کا اعتقاد نہیں رکھتے اور خیر وشر کی معرفت کے لئے میزان ہمارے نزدیک اللہ کی کتاب اور معروف سنت ہی ہے نہ کہ علماءکے اجتہاد اور صوفیہ کے اقوال۔"
"الانصاف"اور"عقد الجید"میں بھی شاہ صاحب نے اس موضوع پر بڑی عمدہ اور مفید بحثیں کی ہیں بلکہ یہ دونوں کتابیں خاص اسی موضوع پر ہیں اور فقہی اختلاف کا ایک معتدل حل پیش کرتی ہیں۔ان اقتباسات سے دو باتیں بہرحال واضح ہیں۔
1۔ان کے نزدیک نصوص قرآن وحدیث دیگر تمام اجتہادات واقوال ائمہ سے زیادہ اہم ہیں۔
2۔فقہی اختلافات اور تقلیدی جمود پر مطمئن نہیں بلکہ وہ اس کو ختم کرنے کی شدید آرزو اور خواہش رکھتے ہیں اور ان دونوں باتوں سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ تقلیدی اور فقہی جمود کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔
3۔شاہ ولی اللہ ان خود ساختہ فقہی اصولوں کے بھی خلاف ہیں جن کی بنا پر غالی مقلدین نے بہت سی احادیث صحیحہ مستردکردی ہیں۔چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں:
ہر حامل مذہبی برائے مذہب خود اصول درست کرد وحنفیاں برائے احکام مذہب خود اصلے چند تراشیدہ اندمثل الخاص مبین فلا یلحقہ البیان،العام قطعی کالخاص،المفہوم المکالف غیر معتبر،الترجیح بکثرۃالراوۃغیر معتبر،الزیادۃعلی الکتاب نسخ،الیٰ غیر ذلک(21)
"ہر مذہب والے نے اپنے مذہب کے(اثبات کے)لئے اصول بنالئے،احناف نے اپنے مذہب کی پختگی کے لئے کچھ اصول تراش لئے ہیں(جن کی روشنی میں وہ ہر چیز کو دیکھتے ہیں)مثلاً خاص مبین ہے اسے بیان کی ضرورت نہیں۔عام بھی خاص کی طرح قطعی الدلالت ہے۔مفہوم مخالف معتبر نہیں۔کثرت رواۃکی وجہ سے ترجیح غیر معتبر ہے۔کتاب اللہ پر زیادتی،کتاب کا نسخ ہے وغیرہ وغیرہ۔"
ان خود ساختہ اصولوں کی بنیاد پر بہت سے لوگوں نے کتنی ہی احادیث صحیحہ وقویہ کو ردکردیا ہے،جس کی تفصیل بڑی لمبی اور دل خراش ہے،شاہ صاحب نے"حجۃاللہ البالغۃ"(ج:1،ص:160میں)اور"الانصاف"میں بھی ان وضع کردہ اصولوں اور ان کی بنا پر احادیث کو رد کرنے کا ذکر کیا ہے۔
ہم نے یہاں شاہ صاحب کا یہ اقتباس صرف اس پہلو کی وضاحت کے لئے پیش کیا ہےکہ وہ ایسے تقلیدی جمود کے سخت خلاف ہیں جس کی دعوت مقلدین دیتے ہیں۔
4۔شاہ صاحب کی فقہی وسعت ان کے اُس طرز عمل سے بھی واضح ہوتی ہے جو انہوں نے"اجتہاد"کے سلسلے میں اختیار فرمایا ہے۔شاہ صاحب نے مختلف مقامات پر اجتہاد واستنباط مسائل کے دو طریقے بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں:
باید دانست کہ سلف استنباط مسائل وفتاوی بردو بودند یکے آنکہ قرآن وحدیث و آثار صحابہ رضی اللہ عنہم جمع می کردند وازاں جا استنباط می نمودند ایں اصل محدثین است ودیگر آنکہ قواعد کلیہ کہ جمع از ائمہ تنقیح وتہذیب آں کردہ اند یادگیر ند بے ملاحظہ ماخذ آنہا پس ہر مسئلہ کہ واردی شد جواب آں از ہماں قواعد طلب می کردند ایں طریقہ اصل راہ فقہاءاست وغالب بربعض سلف طریقہ اولیٰ بودو بربعض آخر طریقہ ثانیہ"
"سلف میں استنباط مسائل(اجتہاد)کے دو طریق تھے۔پہلا یہ کہ قرآن و حدیث اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم جمع کئے گئے اور ان کی روشنی میں آمدہ مسائل پر غور کیا گیا،یہ محدثین(اھل الحدیث)کا طریقہ تھا۔دوسرا طریقہ یہ کہ(قرآن وحدیث اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کی بجائے)ائمہ کے منقح اور مہذب کردہ قواعد کلیہ کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کیا گیا اور اصل مآخذ(قرآن وحدیث)کی طرف توجہ کی ضرورت ہی نہ سمجھی گئی،یہ فقہاءکا طریقہ ہے۔سلف میں سے ایک گروہ پہلے طریق کا پابند ہے اور ایک گروہ دوسرے طریق کا۔"
اور"عقد المجید"میں شاہ صاحب نے اہل حدیث(محدثین)کے بھی گروہوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ایک محققین فقہائے اہل حدیث اور دوسرے ظاہری اہل حدیث اور اہل ظواہر کو محققین اہل حدیث سے الگ قرار دیا گیا ہے اور ظاہریوں کی علامت یہ بتلائی ہے کہ وہ قیاس و اجماع کے قائل نہیں۔چنانچہ شاہ صاحب محققین فقہائے اہل حدیث کے طرز اجتہاد واستنباط مسائل کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں:
(فهذا الطريقة المحققين من فقهاء المحدثين وقليل ما هم وهم  غير الظاهرية من أهل الحديث الذين لا يقولون بالقياس والإجماع )(23)
"محققین فقہائے اہل حدیث محدثین کا یہ طریقہ تھا اور ایسے لوگ کم ہیں اور یہ لوگ علیحدہ ہیں ظاہری اہل حدیث سے جو نہ قیاس کے قائل ہیں نہ اجماع کے۔"
اور حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ صاحب نے انہیں محققین فقہائے اہل حدیث کے ان قواعد کا تذکرہ فرمایا جو ان کے نزدیک تطبیق بین النصوص،استنباط مسائل،اجتہاد ورائے کے لئے معیار اور بنیادی اصول ہیں۔جن کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے:
"جب قرآن مجید میں کوئی حکم صراحتاً موجود ہو تو اہل حدیث کے نزدیک کسی دوسری چیز کی طرف توجہ کی ضرورت نہیں۔"
اگر قرآن مجید میں تاویل کی گنجائش ہو اور مختلف مطالب کا احتمال ہو تو حدیث کا فیصلہ ناطق ہوگا۔قرآن کا وہی مفہوم درست ہوگا جس کی تائید سنت سے ہوتی ہو۔اگر قرآن مجیدکسی حکم کے متعلق خاموش ہو تو عمل حدیث پر ہوگا۔وہ حدیث چاہے فقہاءکے درمیان مشہور ومعروف ہو یا کسی شہر کے ساتھ مخصوص ہویاکسی خاندان یاکسی خاص طریقے سے مروی ہو اور چاہے اس کسی نے عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔وہ حدیث(بشرط صحت)قابل استناد ہوگی۔
جب کسی مسئلے میں حدیث مل جائے تو کسی امام اور مجتہد کی پروا نہ کی جائے گی نہ کوئی اثر قابل قبول ہوگا۔
جب پوری کوشش کے باوجود کسی مسئلے میں حدیث نہ ملے تو صحابہ وتابعین کے فتوؤں پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی قوم اور شہر کی قید یا تخصیص نہیں ہوگی۔اگر خلفاءاورجمہور فقہاءمتفق ہو جائیں تو اسے کافی سمجھا جائے گا۔
اگر فقہاءمیں اختلاف ہوتو زیادہ متقی وعالم اور زیادہ حفظ وضبط رکھنے والے شخص کی حدیث قبول کی جائے گی یا پھر جو روایت زیادہ مشہور ہوگی اسے لیا جائے گا۔اگر علم وفضل،ورع وتقویٰ اور حفظ وضبط میں سب برابر ہوں تو اس مسئلے میں متعدد اقوال متصور ہوں گے جن میں سے ہر ایک پر عمل جائز ہوگا۔
اگر اس میں بھی اطمینان بخش کامیابی نہ ہو تو قرآن وسنت کے عمومات،اقتضاءاورایماءات(اشارات)پر غور کیا جائے گا۔اصول فقہ کے مروجہ قواعد پر اعتماد نہیں کیا جائے گا بلکہ طمانیت قلب اور ضمیر کے سکون پر اعتماد کیا جائے گا جس طرح متواتر روایات میں اصل چیز راویوں کی کثرت اور ان کی حالت نہیں بلکہ اصل شے دل کا اطمینان اور سکون ہے۔یہ اصول پہلے بزرگوں(صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین)کے طریق کار اور ان کی تصریحات سے ماخوذ ہیں۔"
اس کے بعد شاہ صاحب علیہ الرحمہ نے اُن آثار کا ذکر کیا ہے جن میں ان اصولوں کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جن میں اولیت قرآن،حدیث اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کو دی گئی ہے۔(24)
ہمارے خیال میں اجتہاد کا یہ طریقہ جسے شاہ صاحب نے تفیہمات میں بین بین اور عقد المجید میں محققین فقہائےاہل حدیث کا طرز بتایا ہے جس میں ظاہریوں کی طرح قیاس صحیح اور باقاعدہ اجتہاد کا انکار ہے نہ اہل علم فقہاءکی صحیح فکری کاوشوں سے اعراض اور نہ جامد مقلدین کی طرح نصوص قرآن وحدیث سے بے اعتنائی اور ان میں توجیہات بعیدہ اور تاویلات رکیک کی ترغیب ہیں۔یہی طریقہ اجتہاد صحیح ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ شاہ صاحب نے اپنی وصیت میں انہی فقہائے محدثین کی پیروی کی تاکید کی ہے جو محدث وفقہ کےجامع ہوں اور ہمیشہ فقہی تخریبات کو کتاب وسنت پر پیش کرنے کو ضروری سمجھتے ہوں۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے معتدل مسلک اور فقہی وسعت ظرفی کی تفصیل پیش کرنے کا اصل مقصد یہ ہےکہ پاکستان میں بھی اس وقت اسی فقہی وسعت کی ضرورت ہے،اس کے بغیر یہاں نفاذاسلام کی منزل قریب نہیں آسکتی۔
بعض لوگ شاید اس نقطہ نظر کو تلفیق قرار دے کر اسے مسترد کردیں۔لیکن یہ رویہ صحیح نہیں۔تلفیق کا مطلب ہےکہ ایک مذہب کا حامل شخص دوسرے مذاہب کی باتیں اختیار کرلے۔یہ تلفیق مطلقاً مذموم نہیں۔صرف اس وقت مذموم ہے جب مقصد صرف سہولتوں کی تلاش ہو۔ہر مذہب سے اپنی خواہش نفس کے مطابق چیزیں لے لینا،یہ یقیناًقابل مذمت ہے۔لیکن اگر مقصد یہ ہو کہ اس طرح نصوص شریعت کی بالادستی قائم ہو اور عوام کو زیادہ آسانی فراہم کی جائے،تو یہ عین مطلوب ہے،اسے کوئی بھی وہ تلفیق قرار نہ دے گا جو مذموم ہے۔خود امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی اس کے جواز کے قائل ہیں۔چنانچہ ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں:
(و حكى الحناطىوغيره عن أبى اسحاق فيما اذا إختارمن كل مذهب ما هو اهون عليه أنه يفسق به ؟ وعن أبى حنيفة أنه لا يفسق به )(25)
"حناطی وغیرہ نے ابو اسحاق کا یہ قول نقل کیاہےکہ جو شخص ہر مذہب سے آسانیاں اور رخصتیں ہی پسند کرے گا،تو اس طرح وہ فاسق ہو اجئے گا اور امام ابو حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس سے وہ فاسق نہیں ہوگا۔"
صرف رخصتیں تلاش کرنا بھی امام صاحب کے نزدیک فسق نہیں،تو نصوص شریعت کی بالادستی اور عوام کی سہولتوں کے نقطہ نظر سے مختلف مذاہب کی باتیں اختیار کرنا کیسے غلط ہوگا۔چنانچہ ہر دور میں علماءنے ایسا کیا ہے،خود پاک وہند کے حنفی علماءنے زوجہ مفقود الکبر کے بارے میں فقہ حنفی کی بجائے مالکی فقہ کا مسلک اپنا کر اسے چار سال کے انتظار کے بعد چار مہینے دس دن کی عدت گزار کر نکاح کرنے کی اجازت دی ہے۔(26)
اور فقہا نے صراحت کی ہےکہ اس طرح کرنے سے کوئی شخص تقلید امام کے دائرے سے نہیں نکلتا۔جیسا کہ پاک وہند کے احناف،مالکی مسلک کے اپنانے کی وجہ سے حنفیت سے خارج نہیں ہوئے۔
اس تفصیل سے مقصود صرف یہ ہےکہ عصر حاضر میں فقہی جمود کی نہیں بلکہ فقہی توسع کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں فقہاءکی فقہی کاوشوں کی حیثیت فتووں کی ہے جو تغیر حالات کے ساتھ بدلتے رہے ہیں اور بدل سکتے ہیں،ان کی حیثیت ناقابل تغیر نصوص کی نہیں ہے۔یہ حیثیت صرف اور صرف قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کو حاصل ہے،کیونکہ اسلام اللہ کا نازل کردہ دین ہے جس کو مستقبل کے بھی تمام حالات کا علم ہے،اس نے جب اسلام کو قیامت تک کے لئے واحد دین اور نجات وسعادت کا باعث قرار دیا ہے،تو یقیناً اس میں بغیر کسی تبدیلی کے ہر دور کے حالات وضروریات کے تقاضوں کی تکمیل کا سامان موجود ہے۔صرف اس کے انطباق کے لئے اجتہاد اور اخلاص کی ضرورت ہے۔جب بھی اورجہاں بھی۔یہ دونوں چیزیں مہیں ہوجائیں گی،نفاذ اسلام کا مسئلہ نہایت آسانی سے حل ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔
(وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ﴿٦٩﴾...العنکبوت)(27)
"وہ لوگ جو ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں،ہم ان کے لئے اپنے راستے کھول دیتے ہیں اور یقیناً اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔"
حوالہ جات
(1)القرآن الحکیم،آل عمران۔19
(2)القرآن الحکیم،آل عمران۔85
(3)صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب وجوب الایمان برسالۃنبینا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(4)القرآن الحکیم،الاعراف۔179
(5)شعب الایمان،للبیھقی،بحوالۃمشکوۃ،کتاب الامارۃوالقضاء،الفصل الثالث۔
(6)القرآن الحکیم،البقرۃ:208
(7)القرآن الحکیم،الفرقان۔43
(8)احمد،ابوداود،بحوالہ مشکٰوۃ،کتاب اللباس،الفصل الثانی
(9)القرآن الحکیم،النساء:59
(10)القول المفید فی امر الاجتہاد والتقلید،ص:23
(11)ابن عبد البر،الانتقاءفی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقہاء،ص:145
(12)عبدالوھاب شعرانی،المیزان الکبریٰ،ص:38
(13)محمد امین الشھیر بابن عابدین ردالمختار۔1/68،دارالفکر،1966ء
(14)محمد بن اسماعیل الصنعانی،سبل السلام شرح بلوغ المرام،3/86،طبع مصر
(15)صدر الدین علی بن علی بن محمد ابن ابی العزالحنفی،الاتباع،ص28،المکتبۃ السلفیۃ۔لاہور
(16)امام غزالی،المنخول من تعلیقات الاصول،دار الفکر،بہ بتحقیق محمد حسن ھیتو۔
(17)مقدمۃعمدۃ الرعایۃ فی حہل شرح الوقایۃ،ص:8،مطبع مجتبائی دھلی۔
(18)التفہیمات الالھیۃ،2/288،شاہ ولی اللہ اکادمی،حیدر آباد سندھ۔1967ء
(19)التفہیمات الالھیۃ،1/279۔280،حیدرآباد سندھ۔1967ء
(20)التفہیمات الالٰھیۃ،2/242۔243
(21)قرۃالعینین فی تفصیل الشیخین،ص186،المکتبۃالسلفیۃ،لاہور
(22)مصفیٰ،شرح موطا،1/4
(23)عقد الجید،مع ترجمۃ مسلک مروارید،ص:44،طبع مجتبائی،دھلی۔
(24)حجۃ اللہ البالغۃ ج:1،ص:149۔
(25)علی بن سلطان محمد القادری،مرقاۃالمفاتیح،7/33،مکتبۃ امدادیۃ
(26)تفصیل کیلئے دیکھئے،الحیلۃ الناجزہ،مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
(27)القران الحکیم،العنکبوت آخری آیت۔