ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
10اکتوبر1998ءکو قومی اسمبلی نے آئین میں 15ویں ترمیم کا بل،دو تہائی اکثریت سے منظور کر دیا ہے۔یہ وہی شریعت بل ہے جو28اگست کو اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا اور جس پر اب تک بحث ونظر اور نقد واعتراض کا سلسلہ جاری ہے۔اس بل میں آئین کی239ویں شق میں ترمیم کرنا بھی شامل تھا،جس پر سب سے زیادہ یہ اعتراض کیا جا رہا تھا کہ اس سے سینٹ کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔حکومت نے اس بل سے اس ترمیم کو حذف کردیا ہے۔اس اعتبار سے سیاسی جماعتوں کا جو سب سے بڑا اعتراض تھا،اسے ختم کردیا گیا ہے،حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہےکہ اس نے اپنی بات پر اصرار نہیں کیا،حالانکہ وہ اپنے اس موقف پر بہت زور دے رہی تھی،لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے موقف سے ہٹ کر معترضین کا ایک بڑا اعتراض دور کردیا ہے۔
لیکن دینی واسلامی جماعتوں کی طرف سے ایک بات یہ کہی جا رہی تھی کہ اس بل میں ایسے الفاظ کا اضافہ ضرور کیا جائے،جس سے قرآن وسنت کی بالادستی یقینی ہو جائے اور ہمارے آئین کا وہ تضاد دور ہو جائے،جو اسلامی نظام کے نفاذ سے بچنے کے لیے عمداًاس میں رکھا گیا ہے تاکہ حکمران آئین کی بعض خوش نماشقوں سے عوام کو بھی بہلاتے رہیں اور دوسری شقوں کی رو سے وہ نفاذ اسلام کے لیے عملی اقدامات سے پہلو تہی بھی کرتے رہیں۔ہمیں شدید خطرہ ہےکہ جب تک آئین کے اس تضاد کو دور نہیں کیا جائے گا،موجودہ شریعت بل کے پاس کر لینے سے بھی کچھ نہیں ہوگااور حکومت بدستور نفاذ شریعت سے گریزاں رہے گی،
  • نومبر
1998
غازی عزیر
قرآن کی روشنی میں باعتبارِ مضمون،احادیث کی قسمیں
امام شافعی نے احادیث وسنن کی باعتبار مضمون قرآن صرف تین قسمیں بیان کی ہیں:
1۔"وہ جو بعینہ قرآن کریم میں مذکور ہیں
2۔وہ جو قرآن کے مجمل احکام کی تشریح کرتی ہیں
3۔وہ جن کا ذکر بظاہر قرآن میں نہ تفصیلا موجود ہے اور نہ اجمالا"(38)
آخر الذکر اس تیسری قسم کے متعلق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے علماءکرام کے چار اقوال نقل کیے ہیں  کا تذکرہ ان شاءاللہ آگے ہوگا۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سنے کی تین قسمیں ہی بیان کی ہیں،جو حسب ذیل ہیں:
"1۔وہ سنتِ متواترہ جو ظاہر قرآن کے خلاف نہ ہو بلکہ اس کی مفسر ہو مثلا نمازوں کی تعداد،یا زکوٰۃ کا نصاب یا حج کے ارکان وغیرہ۔اس طرح کے دوسرے احکام سنت ہی سے معلوم ہو سکتے ہیں اور علماءِ اسلام کا ان کے بارے میں اجماع ہے،یہ قرآن کا تتمہ اور تکملہ ہیں۔پس جو ان کی حجیت کا انکار کرتا ہے،وہ علم دین کا انکار کرتا ہے،رکن اسلام کو منہدم کرتا ہے اور اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکتا ہے۔
2۔ایسی سنت متواترہ جو قرآن کی تفسیر نہیں کرتی،نہ ظاہر قرآن کے خلاف ہو،لیکن ایسے حکم کو بتاتی ہے جو قرآن میں صراحتَہ مذکور نہیں ہے،جیسے زانی کے لیے(جبکہ شادی شدہ ہو)سنگسار کی سزا یا نصابِ سرقہ کی تعیین۔تمام سلف امت اس قسم کی سنت پر بھی عمل ضروری سمجتے ہیں،سوائے خوارج کے
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
اہل علم وفکر اور ارباب دانش وتاریخ کے اجتماع میں یہ بات محتاج وضاحت نہیں کہ پاکستان کے قیام میں دیگر عوامل واسباب کیساتھ سب سے بڑاعامل اورعظیم سبب دوقومی نظریہ تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر ہند میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلم۔ان دونوں کی تہذیب وثقافت،انکی تاریخ اور تمدن اور انکا مذہب ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ہندوستان سے انگریزی استعمار کے جانے کے بعد یہاں جو حکومت قائم ہوگی،اس میں مسلمانوں کو نمازیں،پڑھنے،روزےرکھنے اور دیگر عبادات کی ادائیگی کی تو یقیناً اجازت ہوگی۔لیکن مسلمانوں کا جو نظریہ زندگی ہے،جو زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے،اس میں امور سیاست وجہاں بانی ہے،اقتصادومعیشت ہے،تہذیب وثقافت ہے،اخلاق وتجارت ہے،بین الاقوامی قواعد وضوابط ہیں،صلح وجنگ کے معیار اور پیمانے ہیں،حرب وضرب کے اصول ہیں۔غرض زندگی کے ہر معاملے میں اسلام اپنے مخصوص عقائد ونظریات کی روشنی میں انکی صورت گری کرتا اور مخصوص ہدایات دیتا ہے۔مسلمان ہندوستان کی قومی حکومت میں اپنے اس نظریہ حیات کو بروئے کار نہیں لاسکیں گے،وہ سیاست وجہاں بانی کے اصولوں کو اپناسکیں گے نہ اقتصاد ومعیشت کے ضابطوں کو۔وہ اپنی تہذیب وثقافت کو نافذ کر سکیں گے نہ اپنی تجارت اور کاروبار کے اصولوں کو۔وہ بین الاقوامی ضوابط میں اپنی اسلامی روح کی کارفرمائی دیکھ سکیں گے نہ داخلی معاملات میں اسکی کوئی جھلک انکو نظر آئے گی۔نتیجتاً ان کا مذہب اور انکا دین چند رسوم وعبادات تک محدود ہو کر رہ جائے گا،جب کہ اللہ نے اس دین اسلام کو پوری انسانیت کی ہدایت ورہنمائی کیلئے نازل کیا ہے بلکہ اسکی نجات اور ابدی سعادت کو صرف اور صرف اسی کیساتھ وابستہ کردیا ہے﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ ۗ ... ١٩﴾...آل عمران (1)"دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔"
﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٨٥﴾... آل عمران (2)"جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتاہے وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا،اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔"
  • نومبر
1998
عبداللہ صالح
ماہنامہ'اشراق'جاوید احمد گامدی کی زیر نگرانی،اور معز امجد کی ادارات میں شائع ہونے والا مجلّہ ہے جو فکر فراہیؔ اور اصلاحی کے علمبردار وامین ہونے کا دعویدار ہے۔مذکورہ مجلّہ کی اشاعت بابت ماہ ستمبر1998ءمیں محترم طالب محسن نے کیا﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ... ١﴾...العلق پہلی وحی الہٰی ہے؟(نقد ونظر)"کے عنوان سے چار صفحات کا مضمون سپردِ قرطاس کیا ہے۔اگرچہ مذکورہ مضمون کا محرک اور پس منظر علی گڑھ(انڈیا)سے شائع ہونے والے سہ ماہی جریدے،تحقیقاتِ اسلامی،میں جناب سید جلال الدین عمری کے مضمون"مکی دور میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوتی حکمت عملی"کی پہلی قسط کو قرار دیا گیا ہے تاہم فاضل مضمون نگار نے جہاں مضمون کی اہمیت وافادیت کو تسلیم کیا،وہاں انہوں نے سید جلال الدین عمری کے اس نقطہ نطر سے واضھ اختلاف کیا ہے جس مین انہوں نے﴿ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ... ١﴾...العلق کو پہلی وحی قرار دیا ہے۔چنانچہ مضمون نگار رقم طراز ہیں:
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
تا8اکتوبر1998ءہوٹل ہالیڈے اِن اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس،بنام۔امام ابو حنیفہ احوال وآثار اور خدمات۔۔۔۔منعقد ہوئی۔جس میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے اہل علم وفکر بھی شریک ہوئے۔ہندوستان سے بھی4افرادپرمشتمل اہل علم کا ایک وفد کانفرنس میں شرکت کے لئے آیا،جس میں مولاناسلمان الحسنی الندوی تھے جو ندوۃالعلماءلکھنؤمیں استاذ،انجمن شباب المسلمین لکھنؤکے روح رواں اور مولانا ابو الحسن علی ندوی کے نواسے ہیں۔عالم عرب سے آنے والے مندوبین میں ڈاکٹر وہبہ الزحیلی(شام)تھے،جو عالم اسلام کی بڑی سربرآوردہ شخصیت،نہایت فاضل بزرگ اور متعدد علمی کتابوں کے مصنف ہیں،جن میں الفقہ الاسلامی وادلتہ اور التفسیر الوجیز جیسی فاضلانہ کتابیں شامل ہیں۔اسی طرح اور بھی مختلف ملکوں اور علاقوں کے اہل علم وفکرتشریف لائے۔
کانفرنس کی تین زبانیں تھیں۔(اردو،عربی اور انگریزی)ان تین زبانوں میں سے کسی بھی زبان میں تقریر یا مقالہ پیش کیا جاسکتا تھا،تینوں زبانوں میں بیک وقت ترجمے کی سہولت موجود تھی۔یعنی عربی تقریر یا مقالے کا اردو اور انگریزی ترجمہ اور اسی طرح انگریزی تقریر کا اردو،عربی اور اردو تقریر کا عربی اور انگریزی میں ترجمے کا انتظام تھا۔اس طرح کسی بھی زبان میں تقریر ہوتی،تمام شرکاءاس سے مستفید ہوسکتے تھے۔یوں نمائندگی اور وسیع انتظامات کے اعتبار سے بلاشبہ یہ ایک بین الاقوامی کانفرنس تھی۔