میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔
Powered By JFBConnect

ابتدائیہ
متن کی روح کے مطابق ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا مشکل کام ہے اور اگر متن کسی قانون دستاویز کا ہو تو کام مشکل تر ہو جاتا ہے۔ صائمہ کیس میں دئیے گئے مسٹر جسٹس احسان الحق چوہدری کے عربی اور انگریزی زبان میں لکھے گئے بہتر (72) صفحات پر مشتمل فیصلے کو اردو کے قالب میں ڈھالتے ہوئے راقم الحروف نے جہاں  یہ کوشش کی ہے کہ ترجمہ جہاں تک ممکن ہو سکے، آسان الفاظوں میں کیا جائے۔ رواں دواں ہو ۔۔۔ اور با محاورہ ہو، وہاں یہ کوشش بھی شامل ترجمہ رہی ہے کہ یہ ترجمہ فیصلے کی لفظ بہ لفظ معنوی عکاسی کر سکے۔ یہاں یہ گزارش ضروری معلوم دیتی ہے کہ ہر زبان کی ایک اپنی تہذیب، ایک اپنا محاوراتی رچاؤ اور تمثیلاتی سبھاؤ ہوتا ہے۔ لفظ بہ لفظ ترجمے کا نشتر اصل متن میں رچے بسے ہوئے قدرتی لطف زبان کو مجروح کر دیتا ہے۔ ترجمے کے ان مراحل میں راقم الحروف کی کوشش یہ رہی ہے کہ لفظ بہ لفظ ترجمے کے بجائے عبارت کے بین السطور جو ذہانت و علت، جو دلائل و براہین کارفرما ہیں، ان کا مفہوم قاری تک پہنچا دیا جائے اور راقم کے خیال میں یہی اس ترجمے کا مقصد بھی ہے۔ اگر یہ کوشش صاحبان نقطہ و نظر کے نزدیک احسن ٹھہرے تو اسے اللہ تبارک و تعالیٰ کا کرم جانئے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو راقم الحروف اپنے عجز و بیان کا پیشگی اعتراف کرتا ہے۔        ظفر علی راجا (ایڈووکیٹ)
فیصلہ ۔۔۔ احسان الحق چوہدری، جج
اس حکم سے حافظ عبدالوحید کی دائر کردہ فوجداری متفرق درخواست نمبر 425 ڈبلیو 96 متدائرہ مورخہ 18 اپریل 1996ء و فوجداری متفرق درخواست نمبری 435 ایچ-96 بصیغہ حبس بے جا اور رٹ درخواست نمبر 6484/1996ء کا فیصلہ کرنا مقصود ہے جو صائمہ وحید نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973ء کے آرٹیکل 9-10-11 اور 15 کے تحت دائر کی ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کچھ اور ایسی ہی درخواستیں جن میں مماثل قانونی نکات اٹھائے گئے، چیف جسٹس صاحب کی طرف سے بھجوائی گئی ہیں۔ ان درخواستوں کے نمبر بالترتیب رٹ درخواست نمبری 96/2620 رٹ درخواست نمبری 96/7514، رٹ درخواست نمبری 96/ 8288، رٹ درخواست نمبری 96/6063، رٹ درخواست نمبری 96/11513 اور رٹ درخواست نمبری 96/8912 ہیں۔ دریں اثنا تمام درخواست ہائے کی سماعت اجتماعی طور پر کی جا رہی ہے اور ایک ہی مشترکہ حکم کے ذریعے سے مذکورہ بالا سب درخواستوں کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
2۔ درخواستوں اور جرح کے دوران حقائق کا جو تعین کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ مسماۃ صائمہ وحید لاہور کالج برائے خواتین میں چوتھے سال کی طالبہ ہے۔ اس نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کے ایک ٹیوٹر محمد ارشد سے 26 جنوری 1996ء کو شادی کر لی۔ صائمہ کے والد، درخواست گزار عبدالوحید کو اس خفیہ شادی کا علم، 9 مارچ 1996ء کو ہوا۔ تو اس نے محمد ارشد کے والد اور دیگر اہل خاندان سے ملاقات کی۔ جس کے نتیجے میں نکاح نامہ اسے اس تحریر کے ساتھ واپس کر دیا گیا کہ کوئی نکاح منعقد نہیں ہوا تھا اور اگر کچھ ہوا بھی تھا تو وہ اب موجود نہیں ہے، منسوخ ہو چکا ہے۔ محبوس (صائمہ وحید) اپنے والد کے ہاں 9 اپریل 1996ء تک رہائش پذیر رہی۔ اس کے بعد مبینہ طور پر اسے اغواء کر لیا گیا۔ 11 اپریل 1996ء کو یہ بات صائمہ کے اہل خاندان کے علم میں آئی کہ صائمہ کو (ایک ادارہ) "دستک" میں رکھا گیا ہے۔ جس کا انتظام و انصرام رسپانڈنٹ نمبر 1 (عاصمہ جہانگیر) چلا رہی ہے۔ اس پر انہوں نے محبوس (صائمہ وحید) حصول کے لئے گفت و شنید کا آغاز کیا۔ رسپانڈنٹ نمبر 2 (ارشد احمد) نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اس گفت و شنید کا نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ نہ ہو گا، 14 اپریل 1996ء کو صائمہ وحید کی دستک سے رہائی کے لئے ہائی کورٹ میں ایک فوجداری متفرق درخواست نمبری 96-H-393 داخل کی۔ لیکن یہ درخواست 16 اپریل 1996ء کو خارج کر دی گئی۔
والد کی طرف سے دائر کردہ فوجداری متفرق درخواست کی سماعت 18 اپریل 1996ء کو ہوئی۔ اس درخواست پر عدالت عالیہ نے بیلف مقرر کر کے اسے ہدایت کی کہ وہ محبوس (صائمہ وحید) کو برآمد کر کے عدالت کے روبرو پیش کرے۔ اس حکم کی تعمیل ہوئی۔ ابتدائی طور پر محبوس (صائمہ وحید) کو دارالامان میں رکھا گیا لیکن بعد ازاں بذریعہ حکم مورخہ 22 اپریل 1996ء اسے "دستک" میں رہنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے بعد دلائل کی کچھ سماعت کی گئی۔ جس میں لڑکی کے والد نے بشمول دیگر مندرجہ ذیل سوالات اٹھائے:
(1)کیا والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ (وہ اولاد سے) اپنے احکامات کی تعمیل کروائیں اور کیا وہ اپنے اس حق کو عدالت کی مدد سے نافذ کروا سکتے ہیں؟
(2) کیا اسلام کے نزدیک شادی ایک سول معاہدہ ہے ۔۔۔ اور
(3) ایک جائز نکاح کے لئے ولی کی اجازت لازمی شرط ہے یا نہیں۔
مذکورہ بالا سوالات کی اہمیت کے پیش نظر چیف جسٹس صاحب سے رجوع کیا گیا۔ تاکہ ایک وسیع بنچ تشکیل دیا جائے۔ لہذا اس پس منظر کی روشنی میں یہ فل بنچ تشکیل دیا گیا۔
3۔ ملک محمد نواز ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی کنواری لڑکی اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر گھر سے باہر قدم نکالے تو اسے گھر واپس جانے کے لئے کہا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر فاضل رکن نے استدلال کیا کہ اس وقت اسلامی ممالک میں دو تہذیبوں میں ٹکراؤ کی سی کیفیت ہے اور ان ممالک کے مٹھی بھر مسلمانوں کی ایک تعداد اپنے ذاتی مقاصد کے لئے مغربی تہذیب کے اثرات کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کوشش کا بنیادی مقصد اسلامی معاشرتی بنیادوں کو ہلا کر ان کی جگہ ایک مادر پدر آزاد  معاشرہ قائم کرنا ہے۔ اس حقیقت کی جانب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اشارہ کیا ہے۔ جس کا حوالہ محمد رفیق افضل کی مرتب کردہ کتاب "گفتار اقبال" میں ملتا ہے۔ فاضل وکیل نے اپنے استدلال کے حق میں قرآن حکیم کے علاوہ اصلاح انقلاب امت (از مولانا اشرف علی تھانوی) جلد دوم، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم (از علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ)، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم (از مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ) جلد چہارم، نزہت الاولیاء۔تفسیر ابن کثیر (اردو ترجمہ از علامہ محمد میمن جونا گڑھی رحمۃ اللہ علیہ) جلد اول، خرج المالکی، صحیح بخاری شریف (از ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ) جلد سوم، مقدمہ ابن خلدون (از علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون المغربی رحمۃ اللہ علیہ) الاوضاع التشریعہ (از صبحی مجمصانی ایڈووکیٹ اور مقدس بائیبل کے حوالہ جات پیش کئے۔
فاضل وکیل نے اپنے دلائل کے حق میں قرآن حکیم سے سورۃ احزاب (33-6) سورۃ البقرہ (2:221) سورۃ النور (32:24) سورۃ البقرۃ (2:323) سورہ القصص (27:28) کے حوالہ جات میں دئیے۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم کے بہت سے مستند ترجموں اور تفاسیر کے علاوہ متعدد احادیث کے ذریعے بھی اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے دلائل پیش کئے۔ فاضل رکن نے قرآن حکیم کی مختلف آیات، احادیث اور متعدد نصابی کتب اور فقہاء کی آراء کی روشنی میں تیار کردہ اپنے تفصیلی تحریری دلائل داخل کئے۔
4۔ مسٹر ریاض الحسن گیلانی نے ان دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اولاد اپنے والدین کے احکامات ماننے کی پابند ہے۔ فاضل رکن نے اپنے دلائل کے حق میں سورۃ لقمان (31:14) اور سورۃ عنکبوت (29:8) کا حوالہ دیا۔ انہوں نے لفظ "احسان" کی تشریح پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام فخر الدین رازی کے مطابق "احسان" کا مطلب دل و جان سے فرمانبرداری ہے اور یہی وہ لفظ ہے جو صحیح بخاری شریف جلد سوم کی احادیث نمبر 915، 916 اور 917 میں استعمال ہوا ہے۔ فاضل رکن نے کہا کہ والدین کے احکامات کو بذریعہ عدالت بھی نافذ کروایا جا سکتا ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام غزالی نے اس سلسلہ میں قرار دیا ہے کہ یہ خیال رہے کہ احکامات بدنیتی پر مبنی نہیں ہونا چاہئیں۔
فاضل وکیل نے اس کے علاوہ مذاق العارفین (از امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ) جلد دوم، والدین اور بچوں کے حقوق، تشریح امام الحجری (از امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ) اور سنن ابن ماجہ شریف (از امام ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ) جلد دوم حدیث نمبر 2290 کے حوالہ جات بھی پیش کئے۔
5۔ سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے جس دوسرے نکتے پر دلائل دئیے، وہ یہ ہے کہ اسلام میں شادی محض ایک دیوانی معاہدے کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ عبادات میں شامل ہے اور اگر اس کی حدود میں وسعت بھی کی جائے تو اسے زیادہ سے زیادہ ایک معاشرتی معاہدہ (مکمل) قرار دیا جا سکتا ہے۔ اپنے اس استدلال کے حق میں انہوں نے مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین کیس (پی ایل ڈی 1997ء سپریم کورٹ 97) کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے سطحی مطالعہ کی بنا پر شادی کو ایک سول معاہدہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے عباس علی بنام کریم بخس (1909) 4- آئی سی-466) عبدالقادر بنام سلیمہ (1886-آئی ایل آر-8 الہ آباد 149) اور صبور النساء بنام سابدو شیخ وغیرہ (اے آئی آر 1934 کلکتہ 693) کی مثالیں بھی پیش کیں۔ فاضل وکیل نے واضح کیا کہ شریعت ایکٹ 1936ء سے قبل مسلمانوں کی شادی ہندوؤں اور عیسائیوں کی شادیوں کی طرح عدالتی سطح پر نافذالعمل نہ تھی لہذا عدالتیں مسلمان شادیوں سے متعلقہ معاملات کو سول معاہدات کے طور پر نپٹایا کرتی تھیں لیکن  مسلمان مفکرین مثلا مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب اصلاح انقلاب امت (جلد دوم) میں سخت ترین ممکنہ الفاظ کے ساتھ اس صورت حال کو مسترد کیا۔ فاضل کونسل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ملک آزاد ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں شریعت کو جاری و ساری ہونے کا موقع نہیں دیا گیا۔ لہذا شادی کے بارے میں سول معاہدے کی تھیوری جوں کی توں زندہ رہی۔ انہوں نے کہا عیسائیوں کی شادی صرف چرچ کے ذریعے ہی منعقد ہو سکتی ہے اور چرچ کے ذریعہ ہی اسے ختم کیا جا سکتا۔ کوئی دوسرا اس عمل میں دخل نہیں دے سکتا۔ اس سخت رویے ہی کا نتیجہ تھا کہ عام قانون کے تحت شادی یعنی کامن لاء میرج کا تصور عالم وجود میں آیا۔ کامن لاء میرج کے تحت شادی کے خواہش مند عدالت میں پیش ہو کر یہ اعلان کرتے تھے کہ وہ جس مذہب کے پیروکار ہیں، اس کے تحت انہیں ایک دوسرے سے شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے لہذا وہ اپنے مذہب سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ جس پر عدالت انہیں ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت دے دیا کرتی تھی۔ جس طرح یہ شادیاں عدالت کے توسط سے منعقد ہوتی تھیں اسی طرح انہیں ختم کرنے کا اختیار بھی صرف عدالتوں ہی کو حاصل ہوتا تھا۔ فاضل کونسل نے استدلال کیا کہ ان دونوں طرح کی شادیوں میں تین فریقوں کا ہونا لازمی تھا۔ پہلی طرح کی شادی میں چرچ، مرد اور عورت جبکہ دوسری طرح کی شادی میں حکومت، مرد اور عورت تین فریق ہوا کرتے تھے۔ یہ بھی وضاحت کی گئی کہ  Marriage فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جو لفظ "میری" سے نکلا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کتاب Words and Pharases اور ڈکشنری سے نہ صرف یہ کہ لفظ شادی کے معنی اور مفہوم کی تشریح کی بلکہ عدلیہ کے ایک فیصلے (47 ایل آر اے 487) سے بھی رجوع کیا۔ جبکہ انہوں نے کہا، اسلام میں اس کے برعکس نکاح کا مطلب باندھنا یا یکجا کرنا ہے اور اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو نکاح صرف دو انسانوں کو نہیں بلکہ دو خاندانوں کو آپس میں ملا دیتا ہے۔
6۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ حق مہر شادی کے عوضانہ نہیں ہوتا اور مذکورہ بالا مقدمات میں غلط طور پر حق مہر کو شادی کا عوضانہ (یا معاوضہ) کے طور پر سمجھا گیا ہے اور خود ہمارے ہاں بہت سے مقدمات میں بھی یہی نظریہ اپنایا گیا ہے۔ فاضل کونسل نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حق مہر کا ذکر قرآن مجید کی سورہ 4:4 میں آیا ہے اور یہاں "( نِحْلَةً)" کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے "کسی چیز کا اپنی آزادانہ مرضی سے بیوی کو تحفہ میں دینا" ۔۔۔ فاضل وکیل نے دلیل دی کہ اگر زوجین کی جانب سے ہونے والے ایجاب و قبول کو ہی مدنظر رکھا جائے تو میں شادی کو محض ایک معاہدہ قرار نہیں دے سکتا۔ فاضل وکیل نے اس سلسلے میں جیمز ہیٹنگز کے مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس (جلد پنجم) ول ڈیورنٹ کی کتاب دی ایج آف فیتھ اینڈول۔ الاوضاع التشریعہ (از صبحی مجمصانی ایڈووکیٹ) مشکوٰۃ للمصابیح (اردو ترجمہ از مولانا محمد صادق خلیل) درالمختار (از محمد علاؤ الدین جسکانی ترجمہ بی ایم دیال)، اسلامک فیملی لاء (از شبلی مالات اینڈ جین کونرز) مسلم پرسنل لاء اینڈ جوڈیشری (از ڈاکٹر محمد شبیر) محمڈن جور سپروڈنس کا باب "حق مہر" (از سر عبدالرحیم) اور امریکن سوسائٹی (از روبن ایم ولیمز جونئیر) کے حوالہ جات بھی پیش کئے۔ اور یہ استدلال کیا کہ مذکورہ بالا تمام کتب کے مباحث سے یہ بات صاف طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کے نزدیک نکاح محض ایک معاشرتی معاہدہ نہیں ہے۔ جس طرح کہ نکاح کے اصل درجہ کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر بہت سے فیصلوں میں عدالتوں نے اسے محض ایک معاہدہ قرار دیا ہے۔
7۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح جائز نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں سورۃ البقرہ (232-2 اور 221-2) پر انحصار کیا گیا۔ جو اس فیصلے کے آئندہ حصے میں بیان کیا جائے گا۔ اس کے بعد فاضل وکیل نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسم کی مندرجہ ذیل چار احادیث کی طرف رجوع کیا:
(i) 5/2996 ابو موسیٰ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
(قال : لا نكاح إلا بولي)(رواہ احمد والترمذی و ابوداؤد وابن ماجہ والدارمی)
فرمایا: "ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں" (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی)
(ii) 6/2997 "( وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل ، فنكاحها باطل ، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها ، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له .)"
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کے بغیر اپنا نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس عورت کے ساتھ صحبت کرے تو اس کی شرمگاہ کے بدلہ میں جو فائدہ اٹھایا مہر ادا کرے۔ پھر اگر ولی اختلاف کریں تو بادشاہ ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو" (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی)
(iii) 7/2998 "( عن ابن عباس عن النبى صلى الله عليه وسلم قال البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة والاصح انه موقوف على ابن عباس) (رواہ الترمذی)"
"ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر نکاح کرتی ہیں، زنا کرتی ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث ابن عباس پر موقوف ہے" (ترمذی)
(iv) 8/ 2999 "( وعن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :اليتيمةتستأمر في نفسها فإن صمتت فهو إذنها وإن أبت فلا جواز عليها)" (رواہ الترمذی و ابوداؤد والنسائی و رواہ الدارمی عن ابی موسی)
"ابوھریرہ سے روایت ہے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کنواری کا نکاح کرتے وقت اس سے پوچھا جائے اگر خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کا اذن ہے اگر اس نے انکار کر دیا تو اس پر جبر نہیں" (ترمذی، ابوداؤد اور نسائی اور روایت کیا دارمی نے ابوموسیٰ سے)
اس موقع پر بیان کیا گیا کہ جہاں تک حدیث نمبر 1 کا تعلق ہے تو اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا اس کے بعد بھی کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا۔ محدثین کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ فاضل کونسل کے مطابق اس تمام عرصہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک سے
(ب) ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیری سے شاہ ولی اللہ کے زمانے تک
(ج) شاہ ولی اللہ کے بعد سے آج تک
یہاں اس بات کا اضافہ کیا گیا کہ امام ابوحنیفہ سے یہ بات غلط طور پر منسوب کی جاتی ہے کہ ان کے بقول ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح جائز ہے۔ فاضل وکیل نے وضاحت کی کہ امام ابوحنیفہ نے خود کوئی کتاب تصنیف نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کے ہم عصروں میں سے کسی نے اور نہ ہی ان کے شاگردوں میں سے کسی نے ان کے نظریات کو کسی مستند کتاب کی صورت میں قلمبند کیا تھا۔ مدعی کے فاضل وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی شرعی عدالت نے محمد امتیاز وغیرہ کیس میں جو فیصلہ دیا ہے، اس کی پابندی اس عدالت (ہائی کورٹ) پر لازم نہیں ہے۔
کیونکہ مذکورہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج کے ایک حکم کے خلاف ایک فوجداری اپیل پر دیا گیا تھا۔ فاضل وکیل نے خیال ظاہر کیا کہ ایسا لگتا ہے جیسے اصل حوالہ جاتی کتب (جن کی تفصیل پیرا نمبر 24 میں دی گئی ہے) کے بجائے چند دیگر لکھے ہوئے کاغذات کو بنیاد بنا کر مذکورہ بالا فیصلہ دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کتاب فتح الباری کی طرف اشارہ کیا گیا۔ جس کے متن کا ترجمہ یہ ہے کہ "شادی کے انتظامات کئے گئے۔ جبکہ دوسرے مقدمات کے مطابق ماں نے بیٹی کی شادی کی، نہ کہ بیٹی نے خود شادی کی۔ دراصل امام ابوحنیفہ کے درست نظریے تک ۔۔۔ پہنچنے کے لئے کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ اس فیصلے میں قرآن حکیم اور تین احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سرے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ وفاقی شرعی عدالت نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے صدیوں سے رائج اس اسلامی روایت کو بھی نظر انداز کر دیا جس کے مطابق یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی کا مطلب دو افراد کا ملاپ نہیں ہے بلکہ دو خاندانوں کا باہمی ملاپ ہوتا ہے اور یہ کہ ہمیشہ خاندان کا سربراہ ہی اپنے بچوں کی شادیوں کے انتظامات کرتا ہے۔ یہ دلیل بھی دی گئی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو مکتوب قاضی کے نام تحریر فرمائے تھے، وہ اس سلسلے میں واضح ہدایاتی خطوط متعین کرتے ہی۔ یعنی ۔۔ اولین ترجیح قرآن پاک میں نازل شدہ احکامات خداوندی کو حاصل ہے۔ اس کے بعد شریعت اور اس کے بعد معاشرے کی تسلیم شدہ روایات آتی ہیں۔ فاضل کونسل نے کہا کہ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ گھر سے فرار ہونے کے بعد کی جانے والی شادیاں اسلامی اصولوں سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایسے حالات میں نکاح تک باقاعدگی سے نہیں ہوتا کیونکہ نہ تو کوئی نکاح خوان نکاح کی تقریب منعقد کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے، نہ ہی کوئی نکاح رجسٹرار، نکاح کو رجسٹر کرنے پر آمادہ ہوتا ہے، نہ ہی کوئی ایسے نکاح کا گواہ بننے پر تیار ہوتا ہے اور نہ ہی اس موقع پر موجود اشخاص میں سے کوئی اپنی موجودگی کا ثبوت چھوڑنا چاہتا ہے۔ اس کی وجہ جرم زنا (نفاذ حدود9 آرڈیننس 1979ء میں ملوث ہونے کا خوف ہے۔
9۔ جو شادیاں گھر سے فرار ہونے کے بعد کی جاتی ہیں وہ اول تا آخر اسلامی معاشرے کی روایات سے متصادم ہیں۔ اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ ایک لڑکی اپنی شادی کا بندوبست خود کس طرح کرے گی، تو صورت حال اور واضح ہو جاتی ہے۔ جب تک کسی لڑکی کو مردوں سے آزادانہ میل جول کے بعد ان میں سے کسی ایک کو اپنے لئےمستقبل کے خاوند کے طور پر انتخاب کر لینے کا موقع مہیا نہ کرے۔ وہ یہ کام کس طرح سر انجام دے سکتی ہے۔ اس طرز زندگی کی اجازت دینا تو درکنار، کوئی فقہ یا کوئی مکتب فکر اس کی حوصلہ افزائی تک کا حامی نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات ہی کے برعکس ہے۔ جن میں کہا گیا ہے کہ مختلف جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کو آزادانہ باہمی میل جول کا موقع نہ دیا جائے۔ اس لئے دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ اس کام کا  آغاز ہی ایسا ہوتا ہے۔ جس کے حق میں کوئی کلمہ تحسین ادا نہیں کیا جا سکتا۔۔۔اب شادی کی طرف آئیے ۔۔شادی کے بارے میں پوری دنیا کا تسلیم شدہ نظریہ یہی ہے کہ شادی کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان ہونا چاہئے اور یہ بات سب کے علم میں ہونی چاہئے۔ نکاح کی تقریب ولیمہ اور جہیز کا دیا جانا۔۔۔وہ اقدامات ہیں جو ان لوازمات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس فرار کے بعد منعقد ہونے والی شادی کو صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔ جیسا کہ طریقہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ اس طرح تو باقاعدہ نکاح ہی عالم وجود میں نہیں آتا۔
10۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قبل از اسلام معاشرے آمرانہ بنیادوں پر قائم تھے۔ اسلام نے خاندان کے اندر اور باہر معاشرتی سطح پر جمہوری اصولوں کو فروغ دیا۔ اس سلسلے میں فاضل وکیل نے احمد بن علی بن حجر المکی کی کتاب "ازدواج" جلد دوم کا حوالہ دیا اور موقف اختیار کیا کہ والدین کا یہ حق ہے کہ اولاد ان کے احکامات کی تعمیل کرے اور وہ اپنا یہ حق بذریعہ عدالت بھی نافذ کروا سکتے ہیں۔ بشرطیکہ
(i) ان کا حکم شریعت سے متصادم نہ ہو اور شرک پر اصرار نہ کرتا ہو۔
(ii) یہ حکم بدنیتی پر مبنی نہ ہو۔
فاضل وکیل نے اس سلسلے میں سنن ابن ماجہ سے حدیث نمبر 2290 کی طرف توجہ مبذول کروائی اور مندرجہ ذیل قرآنی آیات کا حوالہ دیا:
(1)سورۃ التحریم، آیت 6 اور 7
(2) سورۃ بنی اسرائیل، آیت 23 تا 25
(3) سورۃ کہف، آیت 15 تا 17
(4) سورۃ لقمان، آیت 14۔31
(5) سورۃ انعام، آیت 15۔21
اس کے بعد انہوں نے مشکوٰۃ شریف جلد چہارم کے صفحہ 23 کا حوالہ بھی اپنے اس موقف کی حمایت میں دیا۔
11۔ فاضل وکیل بیان کرتے ہیں کہ دلہن کے اہل خاندان کی طرف سے کئے جانے والے نکاح کو نہ صرف اسلام بلکہ دوسرے مذاہب بھی تسلیم کرتے ہیں اور اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں فاضل کونسل نے روبن ایم-ولیمز کی کتاب امریکن سوسائٹی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک جائز نکاح مندرجہ ذیل لوازم کے ساتھ مشروط ہے:
(الف) لڑکی کے خاندان والوں کی طرف سے بلائے گئے اجتماع میں ایجاب و قبول
(ب) لڑکی کے ولی کی اجازت اور لڑکی کی رضامندی (یہ دونوں جائز اور قانونی نکاح کے لئے ضروری لوازم ہیں)
(ج) نکاح کرنے والا فریق ولی ہوتا ہے نہ کہ لڑکی بذات خود
فاضل وکیل نے کہا کہ امام ابوحنیفہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مذکورہ بالا شرائط سے اختلاف رکھتے ہیں اور شیعہ بھی اس سے متفق نہیں ہیں لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلام ابوحنیفہ کے اختلاف رائے والی بات مستند نہیں ہے اور کسی تسلیم شدہ اصل ماخذ سے اس امر کی تصدیق حاصل نہیں ہوتی۔
12۔ یہ بھی دلیل دی گئی کہ قرآن کی آیت 2:232 "( فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ)" سے صاف ظاہر ہے کہ ولی کو اس بات سے منع کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اگر کوئی عورت اپنے سابقہ خاوند سے دوبارہ شادی کرنا چاہے تو وہ اس کے راستے کی دیوار نہ بنے۔ عمار بن یاسر اور معقل بن یسار سے روایت ہے کہ اس آیت کا تعلق ان دونوں سے ہے۔ تفسیر ابن کثیر (اردو) میں بھی اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ مذکور امتناع، ولی سے متعلق ہے۔ لہذا اس واقعہ کی روشنی میں دلیل دی گئی کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو اپنی مرضی سے خود شادی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ یہاں اس اصول سے بھی استثناء ملتا ہے کہ ولی صرف ان ہی لڑکیوں کی شادی کا اختیار رکھتا ہے جن کی جملہ ذمہ داریاں ولی کے سپرد ہوتی ہیں۔ ولی کا لفظ قرآن حکیم میں سورۃ کہف، سورۃ یوسف اور سورۃ شوریٰ سمیت متعدد مقامات پر آیا ہے اور متن کے لحاظ سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سورۃ کہف میں فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے شخص کے لئے ولی کا غلط استعمال ہوا ہے۔ درالمختار (از محمد علاؤالدین جسکانی) کے مطابق ولی کے لغوی معنی "دشمن کی ضد" ہوتے ہیں۔ استدلال کیا گیا ہے کہ احادیث مختلف ذرائع سے مستند اور صحیح ثابت ہو چکی ہیں۔ اس استدلال کے حق میں سنن ابن ماجہ شریف، ترمذی شریف اور سنن ابوداؤد شریف کے حوالے دئیے ۔۔۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ ولی کی عدم موجودگی میں سلطان (حکمران) ولی کا درجہ حاصل کر لیتا ہے ۔۔۔ امام حافظ ابی عبداللہ حاکم نیشا پوری نے اپنی کتاب المستدرک مع التلخیص میں نکاح کی تعریف بیان کی ہے اور یہی تعریف نیل الاوطار میں بھی بیان ہوئی ہے۔ نکاح کے لغوی معنی مختلف نظریات میں رابطہ پیدا کرنے کے ہیں۔ ان دلائل کی روشنی میں استدلال کیا گیا کہ مذکورہ بالا کتب کے متن سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس نکتے پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مکمل اجماع رہا ہے۔
13۔ اس کے بعد فاضل کونسل نے حنفی فقہاء کے حوالہ جات دئیے۔ سب سے پہلے انہوں نے معروف فقیہ اور محدث امام ابی جعفر احمد بن محمد بن سلمہ بن عبدالمالک بن سلمہ الازوی کی کتاب شرح معانی الاثار کا حوالہ دیا۔ جس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوموسیٰ کے یہ اقوال بیان کئے گئے ہیں کہ "عورت نکاح نہیں کر سکتی بلکہ نکاح کا انتظام کرنا مرد کی ذمہ داری ہے" اس کے ساتھ ہی سورۃ بقرہ (2:232) کا ایک مرتبہ پھر حوالہ دیا گیا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ عورت کا نکاح کرنا ولی کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد انہوں نے علامہ جمال الدین کی کتاب نصاب الرعایا اور السنن الکبریٰ کے حوالے بھی دئیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 18 میں غلط طور پر قرار دیا ہے کہ (روایت میں مذکور) شادی لڑکی نے خود کی تھی جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ لڑکی نے اپنی شادی خود نہیں کی تھی بلکہ یہ شادی اس کی والدہ نے کروائی تھی۔ فاضل وکیل نے بعد ازاں امام الکبیر علی بن عمر دارقطنی کی کتاب سنن دارقطنی، حافظ عبدالرحمٰن اظہر کی کتاب تحفۃ الاحوذی، موطا امام محمد اور محمد شیخ ناصر الدین البانی کی صحیح سنن ترمذی (جلد اول) کے حوالے بھی دئیے۔
14۔ استدلال کیا گیا کہ بالغ ہونے کے بعد ایک لڑکی اپنی جائیداد وغیرہ کے معاملات تو اپنی مرضی سے نپٹا سکتی ہے لیکن جہاں تک نکاح کا تعلق ہے، وہ ولی کی رضامندی کی پابند ہے۔ دلیل دی گئی کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں کنواری لڑکیاں نکاح کے معاملے میں اپنے ولی کی حفاظت میں تصور کی جاتی ہیں کیونکہ نکاح کی پیش رفت کے جتنے بھی طریقے ہو سکتے ہیں اگر انہیں صرف لڑکی پر چھوڑ دیا جائے تو یہ نہ صرف یہ کہ شائستگی کے خلاف ہو گا بلکہ اسلامی معاشرے کی روایات کے بھی برعکس ہو گا۔
15۔ فاضل وکیل نے اس کے بعد فقہاء کی آراء کا جائزہ لیا اور بتایا کہ فقہاء کے درمیان بھی ماضی کے زیادہ تر عرصے میں اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہین رہا۔ امام ابوحنیفہ جن کا انتقال 150 ہجری میں ہوا، انہوں نے بذات خود کوئی تصنیف نہیں چھوڑی۔ امام ابوحنیفہ کے علمی کام کو امام ابو یوسف اور امام محمد شیبانی ضبط تحریر میں لائے۔
زیر بحث موضوع پر امام ابوحنیفہ کے موقف کے بارے میں امام ابویوسف کی کوئی تحریر دکھائی نہیں دیتی۔ جبکہ امام محمد شیبانی (متوفی 189 ہجری) کی کتاب کا نام موطا امام محمد ہے جس میں مذکورہ بالا حدیث واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ فاضل وکیل نے اس سلسلے میں موطا امام محمد اور امام صالح بن محمد فلانی کی کتاب ایقاظ ہمم اولی الابصار سے حوالے پیش کئے۔ انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بعض اہل قلم ایک طرف تو اس حدیث کا انکار کرتے ہیں جبکہ دوسرے طرف امام ابویوسف کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ کفو سے باہر نکاح ناجائز ہے۔ جس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مذکورہ حدیث غیر مستند نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا پیریڈ فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ عالمگیری سے شروع ہوتا ہے۔ اس دوران کچھ لوگوں نے یہ بات کی کہ حدیث نمبر 1 مستند نہیں ہے۔ لیکن نہ تو اس سلسلے میں کوئی تحریری بحث موجود ہے اور نہ ہی کوئی ایسی سند دکھائی دیتی ہے جو  اس نظریے کو بنیاد فراہم کرتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ تیسرا پیریڈ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، انور شاہ کاشمیری، ابوالحسن ندوی اور مولانا مودودی سے شروع ہوتا ہے۔۔۔ ان سب لوگوں نے وقتا فوقتا پہلے پیریڈ والے نظریے کی جانب رجوع کیا ہے۔ اس سلسلے میں فاضل وکیل نے حجت اللہ البالغہ (از حضرت امام شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ) جلد دوم، فتاویٰ عالمگیریہ جلد دوم، معاشرتی مسائل دین فطرت کی روشنی میں (از مولانا محمد برہان الدین سنبھلی) جلد اول، رسائل و مسائل (از مولانا ابوالاعلی مودودی) جلد دوم سے بھی حوالہ جات پیش کئے۔
16۔ فاضل کونسل نے مولانا عبداللہ (متوفی 710 ہجری) کی کتاب کنز الدقائق اور فخر الدین ذیلعی (متوفی 743 ہجری) کی کتاب تفسیر الحقائق سے بھی حوالہ جات دئیے۔ اور استدلال کیا کہ یہ کہنا بہت سطحی بات ہو گی کہ چونکہ بالغ لڑکی کو جائیداد کی خریدوفروخت کا حق حاصل ہو جاتا ہے اس لئے اسے خود نکاح کا حق دینا بھی قرین انصاف ہے۔ یہ نقطہ نظر اسلامی معاشرتی روایات اور عورت کی نفسیات کو نظر انداز کر دینے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد فاضل وکیل نے امام محمد غزالی (متوفی 500 ہجری) کی تصنیف مذاق العارفین اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب غنیۃ الطالبین کے حوالے دئیے جن میں ایک جائز نکاح کی شرائط بیان کی گئی ہیں۔ فاضل وکیل نے استدلال کیا کہ عدالتوں کو ان فقہاء کی پیروی کرنا چاہئے۔ جنہوں نے معاشرتی ڈھانچے کے اصول و ضوابط کے سلسلے میں اپنے نظریات کے حق میں ٹھوس دلائل دئیے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین (پی ایل ڈی 1967ء سپریم کورٹ 97) اور اقبال حسن بنام ڈپٹی کمشنر/کلکٹر لاہور وغیرہ (پی ایل ڈی 1995ء لاہور 381) کی طرف بھی رجوع کیا۔ اس کے بعد فاضل وکیل نے دوبارہ قرآن سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں ایک عورت کو یہ حکم جاری کر سکتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحی اقدامات ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں مندرجہ ذیل آیات میں ملتا ہے۔
(1)سورۃ نساء: 4:15
(2) سورۃ نور: 24:2
(3) الکشاف (از محمد بن عمر زمخشری الخوازمی)
(4) تفسیر الکبیر (از فخر الدین رازی)
(5) اسلام کا نظام عفت و عصمت (از مولانا محمد ظفیر الدین)
(6) اسلام اور فیملی پلاننگ (از شیخ محمد مہدی شمس الدین)
(7) شریعت اسلام میں عورت اور مرد کا رتبہ۔ گفتار اقبال (از محمد رفیق افضل)
(8) انتروڈکشن ٹو اسلامک لاء (از جوزف شیچٹ)
(9) کتاب الفقہ (از علامہ الجزیری)
17۔ درخواست گزار کے وکیل نے سورۃ النساء (4:15) اور سورہ نور (24:2) کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اسلام اصلاحی اقدامات کے طور پر لڑکیوں کے والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے الکشاف (از امام زمکشری، تفسیر بیضاوی، تفسیر الکبیر (از فخر الدین رازی) اسلام کا نظام عفت و عصمت (از مولانا محمد ظفیر الدین) اسلام اور فیملی پلاننگ جلد اول۔ گفتار اقبال (مرحوم علامہ اقبال کی تقاریر کا انتخاب) این انٹروڈکشن ٹو اسلامک لاء (از جوزف شیچٹ) اور کتاب الفقہ (از علامہ الجزیری رحمۃ اللہ علیہ) کے حوالے بھی دئیے۔
18۔ دوسری طرف سے رسپانڈنٹ نمبر 1 نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 پر انحصار کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مندرجہ ذیل مقدمات میں اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ جات کے حوالے دئیے۔
پی ایل ڈی 1970 سپریم کورٹ 323
1970ء ایس سی ایم آر 437
پی ایل ڈی 1972 سپریم کورٹ 6
1972 ایس سی ایم آر 398
1973 ایس سی ایم آر 189
1973 ایس سی ایم آر 577
پی ایل ڈی 1976 سپریم کورٹ 298
1987 ایس سی ایم آر 905
پی ایل جے کریمینل کیسز 516
1975 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1049
1977 پاکستان کریمینل لاء جرنل 17
پی ایل ڈی 1978 کراچی 374
پی ایل جے 1979 کریمینل کیسز کراچی 362
1987 ایم ایل ڈی 1549
1989 ایم ایل ڈی 1822
1995 پاکستان کریمینل لاء جرنل 2085
پی ایل ڈی 1962 (ڈبلیو پی) کراچی 725
پی ایل ڈی 1962 (ڈبلیو پی) کراچی 442
پی ایل ڈی 1965 ڈھاکہ 553
1968 پاکستان کریمینل لاء جرنل 38
1971 پاکستان کریمینل لاء جرنل 489
1971 پاکستان کریمینل لاء جرنل 38
1971 پاکستان کریمینل لاء جرنل 523
پی ایل ڈی 1971 لاہور 139
1972 پاکستان کریمینل لاء جرنل 586
1971 پاکستان کریمینل لاء جرنل 640
1973 پاکستان کریمینل لاء جرنل 61
1973 پاکستان کریمینل لاء جرنل 79
1973 پاکستان کریمینل لاء جرنل 559
1973 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1012
پی ایل جے 1975 کریمینل کیسز 96
1976 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1447
پی ایل ڈی 1980 لاہور 350
پی ایل ڈی 1982 جی-جے 74
این ایل آر 1984 یو-سی 280
ایم ایل آر 1984 کریمینل 728
1984 پاکستان کریمینل لاء جرنل 2908
1985 ایم ایل ڈی 1485
پاکستان کریمینل لاء جرنل 861، 1404، 2269
1986 ایم ایل ڈی 2490
1987 سی ایل سی 1496
1987 ایم ایل ڈی 2595
1988 پاکستان کریمینل لاء جرنل 898
1988 ایم ایل ڈی 44
1989 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1717
1995 ایم ایل ڈی 1507
رسپانڈنٹ نمبر 1 نے بتایا کہ مندرجہ بالا تمام مقدمات میں اعلیٰ عدالتوں نے ایک صاحب الرائے لڑکی کو اپنے فیصلے خود کرنے کی عمومی طور پر اجازت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایل ڈی 1962 کراچی 725- پی ایل ڈی 1465 ڈھاکہ 553
1968 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1578
پی ایل ڈی 1972 لاہور 809
1975 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1444
1977 پاکستان کریمینل لاء جرنل 499
پی ایل ڈی 1973 لاہور 591
پی ایل جے 1974 کریمینل کیسز 181
1984 پاکستان کریمینل لاء جرنل 2977
پی ایل ڈی 1995 لاہور 364
اور 1968 پاکستان کریمینل لاء جرنل 1758 میں دئیے گئے مقدمات میں البتہ مذکورہ بالا (یعنی صاحب الرائے لڑکی اپنے ذاتی فیصلے کرنے میں خود مختار ہے) کے برعکس رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔ لیکن یہ تمام مقدمات ایسے ہیں جن میں لڑکی یا تو بالغ نہیں تھی یا پھر اس کا کوئی نکاح نامہ موجود نہیں تھا یا پھر ایک سے زیادہ نکاح نامے سامنے آ گئے تھے۔ لیکن عام طور پر ہمیشہ عدالتوں نے یہی قرار دیا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہ سکتی ہے اور یہی اصول قانون ہے۔ یہ دلیل بھی دی گئی کہ عورتوں کی نقل و حرکت پر ان کی مرضی کے خلاف پابندی لگانا ایک غیر آئینی عمل ہے اور اس طرح آئین کے آرٹیکل 10،11،14،2015 اور 25 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے بنیادی حقوق کو بھی پامال نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلے میں 1983 ایس سی ایم آر 681 اور پی ایل ڈی 1993 سپریم کورٹ 456 کا حوالہ دیا گیا۔ بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کی ایک تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا جو انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں 1939 کے دوران، ہندو چائلڈ میرج بل پر اظہار رائے کرتے ہوئے کی تھی۔ مزید یہ کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس میں ولی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ رسپانڈنٹ عاصمہ جہانگیر نے شادی کے مسائل پر بنائے گئے کمیشن کے ممبر احتشام الحق تھانوی کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا اور ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن کی کتاب "کوڈ آف مسلم پرسنل لاز" جلد اول پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ بالغ مسلمان مرد اور عورت اپنے ولیوں کی مداخلت کے بغیر شادی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ڈکشنری آف اسلام (از تھامس پیٹرک بگس) کا ایک اقتباس پڑھا جس کے مطابق شادی محض ایک سول معاہدہ کا درجہ رکھتی ہے۔ انہوں نے در المختار کے وہ مندرجات بھی پڑھے جن میں کہا گیا ہے کہ ولی کی رضامندی صرف نابالغ لڑکیوں، دفاتر العقل افراد اور غلاموں کے معاملے میں لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بعد (Text Missing) عورت کے خلاف امتیازی سلوک کے تدارک کے زیر عنوان منعقد ہونے والے کنونشن کا حوالہ بھی دیا اور آخر میں اپنے موقف کے اثبات میں مسٹر خالد اسحاق کے ایک مضمون بعنوان "کیا عورتیں اپنے ولیوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلیاں ہیں" ۔۔۔ کو بھی پیش کیا جو انگریزی روزنامہ ڈان کراچی میں مورخہ 11 اکتوبر 1996ء کو شائع ہوا تھا۔
19۔ مسٹر خالد اسحاق ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک حنفیوں کا تعلق ہے، ان کے ہاں بالغ لڑکی اپنی مرضی کی شادی کرنے میں آزاد ہوتی ہے۔ انہوں نے علامہ عینی کی کتاب کے باب "الاولیاء والاکفاء" کا حوالہ دیا جس میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث سے متعلق بحث شامل اشاعت ہے۔ انہوں نے علامہ نواب محمد قطب الدین خان دہلوی کی تصنیف "مظاہر حق جدید" جلد سوم کا حوالہ بھی دیا جو مشکوۃ شریف کا اردو ترجمہ ہے۔ پھر انہوں نے بدرالدین ابی محمد محمود العینی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "رمز الحقائق" کا حوالہ بھی دیا جو کنز الحقائق کی تشریح پر مشتمل ہے۔ اس کے بعد الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ (از امام ابی الفضل شہاب الدین احمد بن علی بن محمد بن حجر عسقلانی۔ المبسوط از الشمس الدین السرخسی۔ فتح الباری از حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی (جو کہ صحیح بخاری شریف کی تشریح ہے) نیل الاوطار (از امام محمد بن علی بن محمد الشوکانی۔ فقہ السنۃ از سید سابق، مرقاۃ المفاتیح (جو کہ مشکاۃ المصابیح کی شرح ہے) صحیح مسلم، المغنی از علامہ ابی محمد عبداللہ، بدایۃ المجتہد از امام ابی ولید محمد بن احمد، سبل السلام از امام محمد بن اسماعیل کحلانی۔ کتاب الفقہ از عبدالرحمان الجزیری جلد چہارم اور احکام القرآن از ابی بکر احمد بن علی کے حوالہ جات فاضل کونسل نے اپنے موقف کے حق میں دئیے۔
فاضل کونسل نے یہ استدلال بھی کیا کہ وفاقی شرعی عدالے کے فیصلے ہائیکورٹ کے لئے حتمی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی پیروی لازم ہے۔ اس سلسلے میں فاضل وکیل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 203-A، 203-DD، اور 203-GG کی طرف اشارہ کیا اور اپنے موقف کے اثبات کے لئے پی ایل ڈی 1992 ایف ایس سی 286 کے علاوہ 1988 سی ایل سی 1877، پی ایل ڈی 1989 سپریم کورٹ 777 (778) پی ایل ڈی 1989 کراچی 481- پی ایل ڈی 1994 سپریم کورٹ 1987 سی ایل سی 126- پی ایل ڈی 1986 سپریم کورٹ 360 (475) این ایل آر 1994 ایس ڈی 567 (581) پی ایل ڈی 1994 سپریم کورٹ 607 (620) اور پی ایل ڈی 1983 ایف ایس سی 73 کے حوالے بھی دئیے۔
20۔ مسٹر نذیر احمد غازی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مرد اور عورت کو ولی کی مداخلت کے بغیر قانونی اور جائز شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سورۃ احزاب (22:22) اور (22:151) سورۃ البقرہ 2:228، 2:234 اور 2:240 کے قرآنی حوالے دئیے۔ اس کے بعد اپنے دلائل کو یہ کہہ کر تقویت پہنچائی کہ جب ایک بالغ لڑکی کو جائیداد کے معاملات میں اپنی مرضی کےفیصلے کرنے کا اختیار ہے تو کیا وجہ ہے کہ شادی کے معاملے اس کے پاس یہ اختیار نہ ہو۔ انہوں نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل احادیث پر انحصار کیا۔
حدیث نمبر    کتاب کا نام    صفحہ    دیگر تفصیلات
324    سنن ابی داؤد    126    ترجمہ شاہجہاں پوری جلد 11، فرید بکسٹال
4    موطا امام مالک    416    کتاب نکاح
67-68    صحیح بخاری    51-52    انگلش جلد VII
81-380    سنن نسائی    --    فرید بک سٹال
1099    ترمذی شریف    566    ترجمہ صدیق ہزاروی، جلد1
1101    ترمذی شریف    567    ایضا
1847    سنن ابن ماجہ    114    جلد 11 انگلش از قاضی پبلی کیشنز
1870    ایضا    129    ایضا
1871    ایضا    130    ایضا
1889    ایضا    140-141    ایضا
اس کے بعد فاضل کونسل نے ان واقعات کا تذکرہ کیا۔ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں رونما ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن کی کتاب اسلامک لاز اور مولانا ابوالاعلی مودودی کی کتاب حقوق الزوجین کے حوالے جات دئیے۔
21۔ ہم نے فریقین کے فاضل وکلاء مسٹر محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ اور حافظ عبدالرحمٰن مدنی کے مباحث، قانون کے متعلقہ ضوابط، عدالتی فیصلوں کے نظائر، حوالہ جاتی کتب اور دیگر دستاویزات کا بغور تجزیہ و مطالعہ کیا ہے۔ اب ہم حیات انسانی میں خاندان کی اہمیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ انسانی اعمال کا مرکز و محور خاندان ہوتا ہے۔ بچے کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ اچھی عادات و اطوار، نظم و ضبط والدین ہی سے سیکھتا تھا اور اسی مذہب کی پیروی کرتا ہے جس پر اپنے والدین اور دیگر اہل خاندان کو عمل پیرا پاتا ہے۔ اس لئے تمام مذاہب نے خاندان کی بقا، حفاظت اور مضبوطی پر خصوصی زور دیا ہے۔ یہاں ولیم ایف آگبرن اور مئیر ایف نمکوف کی کتاب "اے ہینڈ بک آف سوشیالوجی" کا ایک پیرا نقل کرنا کافی ہو گا۔

"ایک فرد کس طرح کا شہری بنتا ہے۔ اس کا اس امر سے گہرا تعلق ہے کہ اس کے ماں، باپ اور گھریلو زندگی کس قسم کی تھی"
ول ڈیورنٹ کی کتاب "دی ایج آف فیتھ" میں تہذیب انسانی کی تاریخ، عیسائیت ، اسلام، یہودیت (325 تا 1300 عیسوی) کے زیر عنوان اجتماعیت کے عناصر پر بحث کرتے ہوئے درج کرتا ہے کہ:
"شادی کے معاملات میں تمام تر قانونی آزادیوں کے باوجود یہودیوں کے طرز حیات کو تباہی سے بچانے والی واحد قوت خاندان تھی۔ بیرونی خطرات ان کے اندرونی اتحاد کا باعث بنے اور منحرف گواہوں نے گرم جوشی اور عظمت، خیال آفرینی، دلیل آرائی اور آباء و اجداد کی محبت کو یہودی خاندان کا طرہ امتیاز قرار دیا ۔۔۔"
اب ہم علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون المغربی (732 تا 808 ہجری) کے مقدمہ ابن خلدون کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ عظیم فلسفی یوں رقم طراز ہے:
بارہویں فصل: ۔۔۔ "عصبیت والی قوم پر غیر قوم کا آدمی حکمرانی نہیں کر سکتا۔ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ ریاست غلبہ سے حاصل ہوتی ہے اور غلبہ عصبیت سے ۔۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوم پر اقتدارِ اعلیٰ حاصل کرنے کے لئے لازمی ہے کہ ماتحت عصبیتوں سے فرمانروائی کی عصبیت زیادہ اور قوی ہے کیونکہ جب رئیس کی عصبیت سب کو پرشکوہ پر طاقت نظر آئے گی تو سب کی گردیں لازمی طور پر اس کے سامنے جھک جائیں گی اور ان کا سر اطاعت اس کے سامنے خم ہو گا لیکن اگر ایک قوم میں دوسری قوم کا آدمی آ جائے اور وہ ان پر ریاست حاصل کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس صورت میں اس کو عصبیت نصبی کہاں نصیب کیونکہ وہ محض دخیل ہے۔ البتہ ولاء و حلف کی صورت میں جنبہ واری ہونے لگتی ہے لیکن اس سے کوئی اجنبی شخص کسی قوم پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا"
اسی باب میں آگے چل کر حسب ذیل تحریر ملتی ہے۔
تیرہوین فصل: ۔۔۔ (خاندان اور مرتبہ کی شرافت اصلتا اور حقیقتا اہل عصبیت کا حق ہے اور دوسروں کے لئے یہ شرافت مجازی اور بے اعتباری)
سمجھ لیجئے کہ شرافت اور حسب کا مدار اوراطوار پر ہے اور خاندان دراصل اس کا ہے جس کے آباؤ و اجداد باعرف اور باعزت مشہور ہوں اور ان کا ان کی اولاد میں ہونا اور ان کی طرف منسوب ہونا قوم کی نظر میں اس لئے باعث عزت و شرف ہو۔ کیونکہ قوم کے دل پر ان کے اسلاف کی شرافت اوروقار کا سکہ بیٹھا ہوتا ہے اور لوگ دراصل اپنی پیدائش اور نسل میں کانوں کی طرح ہیں۔ چنانچہ آنحضرت نے فرمایا:
((النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ , خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقِهُوا))
"لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں۔ جو جاہلیت میں بہتر ہے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں اگر وہ سمجھیں"
لہذا جب حسب و اخلاق کی بنا نسب پر ہے اور ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ نسب کا فائدہ عصبیت میں مضمر ہے جو باہمی نصرت و حمایت پر مجبور کرتی ہے پس جس قدر عصبیت قوی و باشوکت ہو گی اور گھرانہ باعزت و باقار، اسی قدر نسب کا فائدہ واضح اور اس کا اثر قوی تر ہو گی، اور آباؤ اجداد کی شرافت و عزت اس پر سونے پر سہاگہ ہو گی اس لئے ایسے گھرانوں میں سجرہ نسب کافی واضح ہونے کی وجہ سے حسب و شرف میں حقیقی اور واقعی ہو گا اور مختلف گھرانوں میں تفاوت عصبیت کے ساتھ یہ عز و شرف میں متفاوت رہے گا۔ اب جو لوگ اپنے قبائل سے جدا ہو کر الگ الگ شہروں میں جا بستے ہیں اور عصبیت اور حمایت ان میں برائے نام رہ جاتی ہے تو ان کا صاحب خاندان کہلانا محض اعتباری ہے اگر وہ اس کا دعویٰ بھی کریں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔
اگر شہری شرافت کو دیکھا جائے تو اس کے معنی یہی قرار پاتے ہیں کہ شریف شہری بلحاظ سلف نیک خیال کئے جاتے ہیں اور ان کے اہل و عیال میں تابہ امکان کوئی میل ملاپ نہیں ہوا ہے لیکن جب عصبیت باقی نہیں جو نسب اور تحدید آباء کا ثمرہ ہے تو پھر ایسے نسب اور اس کے آباؤ اجداد کے نیک اخلاق و عادات ان کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لئے ان کا شریف اور خاندانی ہونا مجازی اور اعتباری ہے اور وہ اس لئے کہ ان کے اسلاف ایک مقررہ نیک طریقہ پر چلتے رہے۔ ورنہ حقیقی حسب و شرافت بالاطلاق ان میں کہاں۔ اگر کہا جائے کہ وضع لغوی کے لحاظ سے ان کی شرافت بھی حقیقی ہی ہے تو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ شرافت کا کلی مشکک ہے جو شہریوں کی نسبت بادیہ نشین قبائل پر بطریق اولیٰ صادق آتی ہے"
اس کے بعد اگلے پیرا میں وہ رقم طراز ہیں۔
کتاب اول کا تیسرا باب ۔۔۔ فصل اول "(عام سلطنت و ملک قومی شوکت و عصبیت سے حاصل ہوتے ہیں)
یہ ہم فصل اول میں بیان کر آئے ہیں کہ غلبہ و اقتدار، مدافعت و مقاومت عصبیت ہی کے راستہ سے معرض وجود میں آتے ہیں کیونکہ عصبیت ہی کی یہ کارسازی ہے کہ وہ قوم میں غیرت و عصبیت کی رگ حرکت میں لاتی ہے۔ ایک دوسرے پر مٹنا سکھاتی ہے"
22۔ اسلام دین فطرت ہے اور آغوش مادر سے قبر تک تمام انسانی اعمال کا احاطہ کرتا ہے اور خاندان کی بقا، اتحاد اور ارتقاء کے لئے خصوصی احتیاط کا اہتمام کرتا ہے۔ اسلام میں خاندان ایک بنیاد اکائی ہوتا ہے۔ نکاح دو افراد کو باہم ملانے والی ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں کو ملانے والی کڑی ہوتی ہے۔
اسلام میں حقوق و فرائض کا تعین جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ خاندان کے اندر ذمہ داریوں کے حوالے سے ہوتا ہے۔ خاندان کے اندر حقوق اور ذمہ داریاں مرد، عورت، لڑکی، لڑکے، نر یا مادہ کے نسبت سے نہیں بلکہ خاندان میں کسی کے مرتبے یعنی بطور باپ، ماں، خاوند، بیوی، بھائی اور بہن کی نسبت سے قائم ہوتی ہیں۔ حقوق نسواں کے چمپئن اسلامی معاشرے میں ماں کے رتبے سے بے خبر ہیں۔ عزت و تکریم کا جو اعلیٰ ترین تصور ذہن میں آ سکتا ہے وہ اسلام میں ماں کو حاصل ہے۔ اس لئے اسلام میں حقوق و فرائض اور خاص طور پر خاندان میں حقوق و فرائض کا جنس کی بنیاد پر تعین کرنا قرین انصاف نہیں ہے۔
23۔ اپنے بچوں اور خصوصا لڑکیوں کی شادی کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس از جیمز ہیٹنگز کی جانب درست طور پر رجوع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ اصول صرف اسلام ہی نہیں دیگر تمام مذاہب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ بشپ کینیتھ نے بھی اسی نقطہ نظر کی حمایت کی ہے۔
24۔ مسٹر خالد اسحاق سے سوال کیا گیا کہ مغرب میں اخلاقی زوال کی وجوہات کیا ہیں تو انہوں نے درست طور پر نشان دہی کی کہ اس کی وجہ الہامی قوانین سے متصادم قانون سازی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہاں عورتوں کی تحریک پر یہ قانون بنایا گیا کہ اگر شادی ٹوٹ جاتی ہے تو اثاثہ جات میاں بیوی کے درمیان برابر حصص میں تقسیم ہو جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب جائیداد کو تقسیم سے بچانے کے لئے عورتیں اور مرد شادی کئے بغیر اکٹھے رہنے لگے ہیں۔ یہاں ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع شدہ آر مسٹرانگ کے مضمون کا ذکر بھی ضروری ہے۔ 39 صفحات پر مشتمل یہ مضمون مئی 1996ء کی اشاعت میں طبع ہوا تھا۔ اس مضمون کا موضوع خاندانی نظام کی حفاظت ہے۔ مضمون کا ایک متعلقہ حصہ حسب ذیل ہے:
"جب میں نے جنرل کولن پاول کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امریکہ کو ہمسائیگی کی شرم و حیا بحال کرنا چاہئے تو مجھے نیک نامی کی طاقت کا خیال آیا، ان کا کہنا درست ہے۔ اگر نیک نامی کا تفاخر اہل خاندان اور ہمسایوں کو راہ راست پر رکھ سکتا ہے تو شرم کو اس سکے کا دوسرا رخ قرار دیا جا سکتا ہے۔ منشیات کا کام، بے تحاشا شراب نوشی، چوری چکاری اور کسی نوجواب لڑکی کو بغیر شادی کے حاملہ بنا دینا آج کل اس قدر شرمناک نہیں رہے جتنا کہ ان افعال کو ہونا چاہئے۔ امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر تین بچوں میں تقریبا ایک بچہ بن بیاہی ماں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ ان بچوں میں سے اکثریت ذمہ دار والدین کی نگہداشت اور رہنمائی کے بغیر ہی پلتی بڑھتی ہے۔
ایک مرتبہ معاشرتی بندھن اور خاندانی ذمہ داریاں بکھر جائیں تو برادریاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ سیاستدان لاکھ شیخیاں بگھارتے رہیں کہ جرائم کی رفتار میں کمی ہو رہی ہے۔ لیکن 1960ء کے بعد سے آبادی میں اضافہ کی شرح تو صرف 40 فیصدی ہے جبکہ پر تشدد جرائم کی شرح میں 550 فیصدی ہوا ہے اور ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ نوخیزجوانوں میں منشیات کا تناسب دوبارہ بڑھ رہا ہے یہاں تک کہ کوئی ہمسایہ تک محفوظ نہیں ہے۔ نارتھ کیلیفورنیا کے ایک دیہات میں بارہ سیکنڈری سکولوں میں سے پولیس 73 طلباء کو منشیات کا کاروبار کرنے پر گرفتار کیا اور کچھ کو تو براہ راست کمرہ جماعت سے پکڑا گیا۔
ٹیلی ویژن اور فلموں جیسے ثقافتی اثرات کے مائل ادارے ایک ایسی دنیا کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں سب سے زیادہ تشدد کرنے والے کو معزز دکھایا جاتا ہے اور زندگی کو ایک ارزاں چیز سمجھا جاتا ہے"
25۔ مسٹر محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے اپنے تحریر دلائل میں مسز ہیلری کلنٹن کی تقریر کا مندرجہ ذیل اقتباس درج کیا ہے جو انہوں نے اپنے خاوند کی انتخابی مہم کے دوران کی تھی:
" ۔۔۔ ایک خاندان ۔۔۔ ایک خوش باش خاندان ۔۔۔ ایک پراعتماد خاندان ۔۔۔ خاندان کو تعمیر کرنے کے لئے ۔۔۔ ایک خاندان کی ضرورت ہے ۔۔۔ ایک آبادی کی ضرورت ہے ۔۔۔ ایک معاشرت کی ضرورت ہے ۔۔۔ ایک سربراہ کی ضرورت ہے۔۔۔اور اس کے لئے بل کلنٹن کی ضرورت"
مسٹر محمد اکرم شیخ نے یہ تقریر بہ نفس نفیس خود سنی تھی وہ بتاتے ہیں کہ اس تقریر کے اثرات بہت مثبت تھے اور ایک لمحے کے لئے تو ایسا محسوس ہوا جیسے امریکہ میں پھیلی ہوئی شیطانی سلطنت کو، ان کی گم گشتہ جنت، فتح کر سکتی ہے۔ امریکہ اگرچہ دنیا کی واحد سیاسی طاقت بن چکا ہے لیکن خاندانی جوہر کی تباہی کے سبب اپنے آپ کو اندر سے کھوکھلا اور خسارہ نصیب محسوس کر رہا ہے۔ مسٹر محمد اکرم شیخ نے پاکستان میں ان معاشرتی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا جو امریکہ طرز معاشرت کے پیروی میں رونما ہو رہی ہیں اور جن کی وجہ سے بہت سے مغربی معاشروں میں خاندانی اکائیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مندرجہ ذیل اعداد و شمار بھی پیش کئے:
گھریلو رہائش کی صورت حال
1994-95  کے دوران برطانیہ میں ایک چوتھائی سے زیادہ گھر ایسے تھے جن میں صرف ایک شخص رہائش پذیر تھا۔ یہ تعداد 1961ء کے اعداد و شمار کی نسبت تقریبا دو گنا بنتی ہے۔ اس صورت حال کی وجوہات میں سے ایک تع معمر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو تن تنہا قید حیات کاٹ رہے ہیں اور دوسری وجہ وہ فرد ہیں جو مجرد زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی طرح امریکہ میں خاندانی گھریلو رہائش 1994-95 میں 2.4افراد تک گر گئی جبکہ 1971ء میں اس کا تناسب 2.9 تھا۔ اس کی وجوہات طلاقوں کی شرح میں اضافہ اور خاندانی اکائی کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ چونکہ تن تنہا رہائش کا رجحان بڑھ رہا ہے اس لئے میاں بیوی اور بچوں پر مشتمل ایک خاندانی یونٹ کا تصور کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں 1961ء کے دوران میاں بیوی اور بچوں پر مشتمل 38 فیصدی خاندان ایک گھر میں رہائش پذیر تھے لیکن 95-1994 تک اس تناسب میں 13 فیصد کمی آ چکی تھی اور اعداد و شمار کے مطابق صرف 25 فیصدی لوگ خاندان کی صورت میں رہ رہے تھے۔
یک جدی خاندان
ایسے خاندانوں کی تعداد، جن میں بچے صرف اپنی والدہ یا والد کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ برطانیہ میں ان کی تعداد میں 1972ء سے تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ 95-1994 کے اعداد و شمار کے مطابق 19 فیصدی بچے اپنی ماؤں کے ساتھ علیحدہ اور ایک فیصدی بچے اپنے باپ کے ساتھ الگ رہائش پذیر تھے۔ ان اعداد و شمار سے شادی کئے بغیر بچوں کی پیدائش اور طلاقوں کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر روشنی پڑتی ہے۔
مہم خانگیت Cohabitation
برطانیہ میں 18 سال سے 49 سال عمر تک کی تنہا زندگی گزارنے والی غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد 1981ء تک دوگنی ہو کر 33 فیصدی تک پہنچ چکی تھی۔ جبکہ 94-1993ء تک 25 سے 34 سال تک کی تقریبا تنہا زندگی بسر کرنے والی عورتوں کا تناسب 33 فیصدی تک پہنچ چکا تھا۔
1986ء سے 95-1994ء کے دوران تنہا رہائش رکھنے والے غیر شادی شدہ مردوں کی تعداد مین 10 فیصد مرد اکیلے رہ رہے تھے۔
شرح طلاق
1933ء میں برطانیہ پورے یورپ میں شرح طلاق کے سلسلے میں سرفہرست تھا۔ یعنی باقی ممالک کی اوسط شرح طلاق سے تین گنا زیادہ دوسرے یورپی ممالک میں شرح طلاق میں کمی کی وجوہات مذہبی اثرات کی گہرائی، ثقافتی اور معاشرتی اختلافات کے علاوہ قانونی پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
امریکہ صدارتی انتخاب کے دوران امیداواروں کے درمیان ہونے والے مباحث ریڈرز ڈائجسٹ کے شمارہ نومبر 1996ء میں شائع ہوئے ہیں۔ بڑے امیدواروں کے درمیان مکالمہ میں ہونے والے سوالات و جوابات میں سے ایک سوال حسب ذیل تھا:
"امریکہ میں غیر قانونی پیدائشوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 1965ء میں کل پیدائش کا 8 فیصد ایسے بچوں پر مشتمل ہوتا تھا جو شادی کے بغیر ہوتے تھے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب یہ تعداد 33 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ کیا ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں کیا کیا جا سکتا ہے؟
کلنٹن کا جواب
"ناجائز بچے کی پیدائش کو اب اتنی زیادہ سماجی برائی نہیں خیال کیا جاتا جتنا پہلے کیا جاتا تھااور اس کی اتنی مذمت نہیں کی جاتی جتنی کی جانی چاہئے۔ لیکن ایک مرتبہ ایک بچہ پیدا کر لیا جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس کے بعد بچے یا اس کی ماں کی مذمت کی جائے۔ بہرحال ہمیں یہ ضرور تسلیم کرنا چاہئے شادی کئے بغیر بچہ پیدا کرنا کوئی اچھا فعل نہیں ہے۔"
ڈھل کا جواب
"ناجائز بچوں کی پیدائش کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی ہیں جن پر ہم کوئی قانون سازی بھی نہیں کر سکتے۔ ان میں سے ایک خاندان کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت پر دوبارہ توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں اور وہ بھی بالکل ابتدائی درجات کی تعلیم۔ ہمیں اپنے چرچ اور سماجی خدمات سر انجام دینے والی تنظیموں کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی ذاتی ذمہ داریوں کا ادراک بھی کرنا ہو گا۔ ہمیں ان باپوں کے خلاف بھی کچھ اقدامات کرنا ہوں گے جو اپنے بچوں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں"
26۔ اب ہم نکاح اور اس کی اہمیت کی طرف آتے ہیں۔ یہ نکتہ دلچسپی کا باعث ہے کہ عام طور پر استعمال ہونے والا لفظ "میرج" ایک دوسرے لفظ "میری" سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں: لے لینا ۔۔۔ دوسری طرف لفظ نکاح کے لغوی معنی یکجا کرنا یا باندھنا ہیں۔ اپنی کتاب "امریکن سوسائٹی" میں روبن اور ولیمز لکھتے ہیں کہ
"میرج، محض ایک سول معاہدہ نہیں ہوتی ہے بلکہ اس سے وسیع تر ایک چیز ہے، اس کا اپنا ایک قانونی رتبہ بھی ہوتا ہے۔ اگر ایک خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی تصور کر لیا جائے تو شادی اس بنیادی اکائی (یعنی خاندان) کا تعمیراتی مسالہ قرار پاتی ہے"
نکاح کے بنیادی عناصر پر رائے سے قبل ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا اسلام میں نکاح کو ایک سول معاہدہ کا درجہ حاصل ہے۔ جیسا کہ منشی فضل رحیم، عبدالقادر اور عباس علی کے محولہ بالا مقدمات میں قرار دیا گیا ہے اور کئی نکاحوں کو حق مہر کے عرض، خریدوفروخت جیسی ایک چیز سمجھا گیا ہے۔ اس پس منظر کی بنیادی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ برطانوی راج کے ابتدائی دنوں میں برصغیر میں مسلم شادیوں کے بارے میں کوئی مدون قانون موجود نہیں تھا۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا یہ اعادہ حقوق زن آشوئی کے مقدمات کو دعویٰ تعمیل مختص کے طور پر سماعت کیا جاتا ہے۔ لہذا نکاح کو ایک سول معاہدہ قرار دینے کا نظریہ رائج ہے۔ اس کے برعکس ہندو شادیوں کے فیصلے ان کے اپنی شخصی قانون کے تحت ہوتے ہیں اس لئے نکاح سے متعلق ایسا کوئی نظریہ ان کے ہاں دکھائی نہیں دیتا۔ مذکورہ بالا نظریہ کے تحت کئے جانے والے فیصلے اسلام میں نکاح کی حیثیت کے قطعا برعکس ہیں۔ اسی طرح حق مہر کے مقصد کو بھی مکمل طور پر غلط سمجھا گیا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ شادیوں کے انگریزی قانون کا ارتقاء بھی ہے۔ جس کے مطابق شادیوں کا انعقاد اور ان کی تنسیخ صرف چرچ کے ذریعے اور اس کی مداخلت ہی سے ہو سکتی تھی۔ بعد ازاں چرچ کی بالادستی سے بچنے کے لئے شادیوں کی ایک اور قسم سامنے آئی۔ جس کے مطابق عورت اور مرد عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپنے مذہب سے لا تعلقی کا اعلان کرتے تھے اور عدالت سے شادی کی اجازت حاصل کرنے کی استدعا کرتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ برصغیر میں عدالتوں کے اذہان کو اس بات نے بھی متاثر کیا اور وہ نکاح کو ایک سول معاہدہ ہی قرار دیتی رہیں۔
27۔ اسلام میں نکاح سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ جس نے سنت ترک کر دی وہ مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، نکاح کے سول معاہدہ ہونے کے تصور کا مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب "اصلاح انقلاب امت" میں بہت سختی سے نوٹس لیا ہے۔ اس کتاب کی جلد دوم کے صفحہ 52 پر وہ رقم طراز ہیں:
"اور ایک شخص کا یہ کہنا معلوم ہوا کہ نکاح بھی مثل معاملات بیع وغیرہ (معاملات خریدو فروخت) کے ایک معاملہ ہے۔ پس جس طرح دوسری چیزوں کا لین دین باہم فریقین (معاملہ کرنے والوں کی) رضامندی سے ہوتا ہے اسی طرح اس میں بھی اس کو کافی سمجھا جائے گا۔ پس عورت سے نکاح کرنا مثل گائے اور بکری خرید لینے کے ہے۔
اس شخص نے شرط شہود کو بالکل حذف کر دیا۔ پس پہلے شخص کا قول تو الحاد (بے دینی) تھا اور یہ زندقہ (کفر) ہے جو الحاد سے اشد ہے اور دونوں قولوں کے ابطال (باطل ہونے) کے لئے اتنا کافی ہے کہ یہ رائے محض ہے بمقابلہ نص صریح اور اجماع کے جو احد الامرین یعنی شہادت یا اعلان کے اشتراط پر منعقد ہے پس غیر مسموع (غیر معتبر ہے)"
28۔ اسلام میں نکاح کو سول معاہدہ قرار دینے والے پر اپنے موقف کے حق میں حق مہر کی دلیل پیش کرتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں کہ حق مہر کا نکاح کا عوضانہ ہوتا ہے۔ یہ نظریہ سطحی نوعیت کا ہے اور حق مہر کے فلسفے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ اسلام میں حق مہر شادی کا عوضانہ ہرگز نہیں ہے۔ قرآن کی سورۃ 4:4 میں لفظ نِحْلَةً استعمال ہوا ہے جس کے معنی بلا جبر واکراہ کسی چیز کے تحفہ میں دے دینے کے ہیں۔ مشکوۃ شریف (مترجم مولانا محمد صادق خلیل) کے باب الصداق میں بھی یہی بات کہی گئی ہے اور درالمختار میں بھی اس کے معنی "ہدیہ، عطیہ" کے بیان ہوئے ہیں۔ اپنی کتاب "اسلامک فیملی لاز" میں یہودی شادی سے متعلق تحریر کرتے ہوئے شبلی مالات نے حسب ذیل جملہ لکھا ہے:
"اس شادی کا ایک خاص وصف یہ ہوتا تھا کہ اس میں دولہا اپنی دلہن کو ایک چیز دیتا تھا کہ جس کی ایک خاص قیمت ہوا کرتی تھی۔ آج کل کی شادیوں میں یہ چیز شادی کی انگوٹھی ہوتی ہے۔ یہ چیز دو گواہوں کی موجودگی میں بیوی کو دی جاتی ہے۔ ان گواہوں کی موجودگی نہ صرف بطور شہادت ضروری ہے بلکہ ایک قانونی تقاضا بھی ہے" ۔۔۔
اسی طرح روبن لیومی نے اپنی کتاب "دی سوشل سٹرکچر آف اسلام" مین رائے طاہر کی ہے کہ
"حقیقت یہ ہے کہ بیوی کو مہر یا صداق ادا کرنے کا سوال زمانہ قبل از اسلام اور ابتدائی دور اسلام کا پس منظر رکھتا ہے کہ عورت جائیداد کی مالک بن سکتی تھی یا نہیں" ۔۔۔
ڈاکٹر محمد شبیر نے اپنی کتاب "مسلم پرسنل لاء اینڈ جوڈیشری" میں بھی اس موضوع پر اظہار رائے کیا ہے۔ فاضل مصنف نے قرآن حکیم، فقہاء اور برصغیر کے بہت سے عدالتی نظائر کی روشنی میں حسب ذیل نتائج اخذ کئے:
"حق مہر اور عوضانے کا تقابل محض تجزیاتی نوعیت رکھتا ہے اور ان میں سے ایک کو دوسرے کی مماثل نظیر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خریدوفروخت کے تصور کو اتنی دور تک پھیلا دینا نامناسب ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو نہ تو شادی خرید و فروخت جیسا کوئی معاہدہ ہے اور نہ ہی حق مہر ایک عوضانہ ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ دونوں مفروضے کہ شادی ایک سول معاہدہ ہے اور حق مہر کی صورت میں بیوی کو اس کی قیمت ادا کر دی جاتی ہے، کوئی خاص وزن نہیں رکھتے۔
یہ بات یقینا حیرت انگیز ہے کہ اس طرح کے اتنے متضاد ٹھوس عدالتی نظائر کی موجودگی کے باوجود عدالتیں ابھی تک شادی کو خریدوفروخت کی ایک قسم قرار دیتی چلی آرہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسانی ذہن کے اختراعات شادی اور حق مہر کے حقیقی درجات اور فیصلہ کرنے کی عدالتی صلاحیت کے خلاف صف آرا رہی ہیں۔ جس کا اظہار صبور النساء بنام سبدو شیخ (اے آئی آر 1934 کلکتہ 692) کیس میں مسٹر جسٹس مترکی آبزرویشن اور بی ایم مونڈال بنام ڈی آر بی بی (اے آئی آر 1971 کلکتہ 162) کیس میں جسٹس مکرجی اور جسٹس آمیارکمار کی آراء سے عیاں ہوتا ہے۔ جن کا منطقی نتیجہ عبدالقادر کیس کی صورت میں سامنے آتا ہے۔"
ڈاکٹر محمد بشیر نے سید صابر حسین شاہ بنام فرزند حسین (اے آئی آر 1933 پی سی 80) کا حوالہ بھی دیا ہے۔ جس میں قرار دیا گیا تھا کہ یہ نہ صرف خاوند کا مقدس فریضہ ہے بلکہ قانونی ذمہ داری بھی ہے۔ اسی طرح انیس بیگم بنام ملک محمد اصطفیٰ ولی خان (اے آئی آر 1933 الہ آباد 634) کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس سر سلیمان نے حسب ذیل فیصلہ دیا تھا:
"اس تصور کو زیادہ توسیع نہیں دی جا سکتی شادی کو اس طرح نہیں لیا جا سکتا کہ حق مہر کے عوضانہ میں بیوی کی ذات فروخت ہو چکی ہے"
اس نظریے کا اظہار جسٹس ٹیک چند نے فاطمہ بی بی بنام لال دین (اے آئی آر 1937 لاہور 345) کیس میں اپنے فیصلے میں کیا اور حق مہر کی گنجائش کی وضاحت کی۔ جس کا مفہوم حسب ذیل ہے:
"جیسا کہ کسی عورت اور مرد کے درمیان ہونے والے معاہدے کو قانون معاہدات کے تحت فنی لحاظ سے پرکھا جاتا ہے، اسلامی قانون کے تحت حق مہر کا معاملہ اس طرح کا لین دین یا عوضانہ نہیں ہے بلکہ یہاں قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ معاہدے کے دوسرے فریق یعنی عورت کو احترام کے ٹوکن کے طور پر حق مہر دیا جائے۔ لہذا ایک تیسرے شخص کی طرف سے یہ ضمانت کہ شادی کے بعد حق مہر وہ ادا کرے گا، غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ شادی حق مہر کے بغیر سر انجام پائی تھی۔ یہ کہہ کر تیسرا فریق اپنی ذمہ داری سے فرار حاصل نہیں کر سکتا"
قمر النساء بی بی بنام حسین بی بی (1881) 3 الہ آباد 266 (پی سی) کیس میں حتمی طور پر یہ طے کر دیا گیا تھا کہ حق مہر کو انڈین قانون معاہدات مین نہ تو شامل کیا گیا ہےاور نہ کیا جانا چاہئے۔ اس کیس میں فیصلہ کرتے ہوئے فاضل جج نے سر عبدالرحیم کی کتاب محمڈن جور سپروڈنس کا مندرجہ ذیل حوالہ بھی دیا:
"یہ کہنا غلط ہے کہ شادی کے معاہدے کے لئے خاوند کی طرف سے حق مہر کی کاروائی ضروری ہے۔ اگر شادی کے وقت حق مہر طے نہیں ہوا تو بھی شادی ناجائز نہیں ہو جاتی۔ اصل میں حق مہر بیوی کے احترام کی ایک علامت ہے جسے اسلامی قانون ایک ضروری شرط کے طور پر عائد کرتا ہے۔"
29۔ ویسے بھی یہ نظریہ کہ حق مہر شادی کا عوضانہ ہوتا ہے، تین بنیادی حقائق کی روشنی میں غلط قرار پاتا ہے:
(الف) ایک قانونی شادی کے لئے حق مہر کا طے ہونا لازمی امر نہیں ہے۔ حق مہر کا رقم کی صورت میں ہونا یا کسی ٹھوس صورت میں یا اشیاء کی شکل میں ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا۔
(ب) میاں بیوی کی رضامندی سے حق مہر میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور بیوی حق مہر کو معاف بھی کر سکتی ہے۔
(ج) اور یہ کہ حق مہر موجل بھی ہو سکتا ہے (اس کی ادائیگی تاخیر سے بھی کی جا سکتی ہے) خاوند کی موت کے بعد بھی ادائیگی ہو سکتی ہے اور طلاق کے بعد بھی۔ لہذا صرف یہی بات اس تصور کو رد  کرنے کے لئے کافی ہے کہ حق مہر شادی کا عوضانہ ہوتا ہے۔
30۔ شادی کو ایک سول معاہدہ ثابت کرنے کے لئے ایک اور دلیل جو دی جاتی ہے وہ ایجاب و قبول ہے۔ ایجاب و قبول کا سلسلہ اسلام کے ابتدائی ایام میں اس وقت متعارف کروایا گیا تھا جب عورت کو محض ایک کھلونا یا کٹھ پتلی سمجھا جاتا تھا۔ سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے اس سلسلے میں اپنے موقف کے حق میں "انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن ایند ایتھکس" جلد پنجم کا حوالہ دیا جس کا متعلقہ حصہ حسب ذیل ہے:
"صفحہ 464 ابتدائی دور میں رومنوں کے ہاں شادی ۔۔۔اور
3۔ تاریخی دور ۔۔۔ (الف) شادی کی شرائط: شادی کی لازمی شرائط حسب ذیل تھیں:
(1)دونوں فریقوں کے خاندان
(2) فریقین کے درمیان ایسا رشتہ نہ ہو کہ وہ دونوں باہم شادی نہ کر سکتے ہوں۔
صفحہ 470: ابی سینین دور ۔۔۔ "ایسی شادیاں راہب کرواتا ہے اور فریقین سے ایک مقدس ملاپ تصور کرتے ہیں"
صفحہ 471: "جب ایک لڑکا شادی کرنا چاہتا ہے تو براہ راست لڑکی کے والدین یا قریبی رشتہ داروں سے رابطہ کرتا ہے"
غلاموں کی شادیاں: "بت پرست دور تک میں غلاموں کی شادیاں باقاعدہ ایک قانون کے تحت ہوتی تھیں اور انہیں ختم کرنے کا بھی ایک خاص طریقہ مقرر تھا۔
صفحہ 472: شادیاں صرف اسی وقت قانونی شکل اختیار کرتی تھیں جبکہ اجداد سے وراثت میں ملی ہوئی تمام رسومات مکمل ہو جائیں اور خاندانی روایات کی تکمیل بھی ہو جائے۔ یعنی غلام اقوام میں شادی سے متعلق یہ رسوم آج تک قائم چلی آ رہی ہیں۔
اس کے بعد فاضل کونسل نے العوزہ التشریعہ (قانونی طریق) کا حوالہ دیا۔ جس کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
"قدیم رومی قانون میں سربراہ خاندان کو اپنے افراد خانہ کی زندگی اور موت پر مکمل اختیار حاصل تھا اور اسی طرح قبل اسلام عرب میں بھی یہی دستور تھا کہ ولی کو ہر قسم کے حقوق حاصل تھے اور وہ چھوٹی اولاد، عورتوں اور بیٹیوں پر ہر طرح کے اختیارات استعمال کرتا تھا اور ولی کو بنیادی طور پر اپنی اولاد کو قتل کر دینے کا حق بھی حاصل تھا اگرچہ وہ اپنے اس اختیار کو شاذ و نادر ہی استعمال کرتا تھا"
'اور اسی طرح ولی کو اپنی اولاد خصوصا بیٹیوں کے نکاح کرنے کا حق حاصل تھا"
30.A۔ شادی کو خریدوفروخت کی طرح کا معاہدہ قرار دینے کا نظریہ سوچے بغیر آگے بڑھا دیا گیا کہ خریدوفروخت والی تھیوری عورت ذات کو غلاموں کے درجے میں دھکیل دینے کے برابر ہے۔ یہ نہ صرف سخت غیر انسانی بلکہ وقار شکن رویہ ہے جو اسلامی تعلیمات کے مکمل طور پر برعکس ہے۔
31۔ اب ہم نکاح اور اس کے لوازمات کی طرف آتے ہیں۔ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایک جائز نکاح کے لئے مندرجہ ذٰل شرائط لازم ہیں:
(1)ولی کی اجازت اور دلہن کی رضامندی
(2) میاں بیوی کی طرف سے ایجاب و قبول ایسے اجتماع میں ہونا چاہئے جو لڑکی کے خاندان نے بلایا ہو۔ اور
(3) یہ تمام کاروائی دو گواہوں کی موجودگی میں ہونی چاہئے۔
فاضل کونسل نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ نکاح کرنے والا فریق ولی ہوتا ہے نہ کہ لڑکی ۔۔۔ کیونکہ وہ ولی کے توسط سے اظہار رائے کرتی ہے ۔۔۔ اس سلسلے میں مختلف مکاتب فکر میں زیادہ اختلاف نہیں پایا جاتا ماسوائے ولی کی اجازت کے ۔۔ کیونکہ امام ابوحنیفہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے نظریے کے مطابق ایک جائز نکاح کے لئے ولی کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی۔
32۔ درخواست گزار کے وکلاء ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی اور ملک محمد نواز نے اپنے موقف کے حق میں کہ جائز نکاح کے لئے ولی کی اجازت یا رضامندی ضروری نہیں ہے، سورہ البقرہ کی آیت 221 کا حوالہ دیا ہے جو حسب ذیل ہے:
﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ۗ أُولَـٰئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ ۖ وَاللَّـهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ﴾
"اور تم نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، اگرچہ لونڈی مسلمان بہتر ہے مشرک بی بی سے، اگرچہ وہ تم کو بھلی لگے ۔۔۔ اور تم نکاح میں نہ دو (اپنی عورتوں کو) مشرکین کے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور البتہ غلام مسلمان بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تم کو بھلا لگے ۔۔۔ وہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ بلاتا ہے جنت کی طرف"
آیت مذکورہ کے آخری حصہ میں مردوں، باپوں اور خاندان کے سربراہوں کے لئے حکم واضح ہے اور یہ عورت کے خود شادی کرنے کی نفی کرتا ہے۔ حاشے کے نوٹ میں مشرک کے لغوی معنی "بت پرست" بیان کئے گئے ہیں۔ محمد یوسف اندلسی تفسیر الکبیر پر اپنی تشریح میں رقم طراز ہیں کہ "یہ حکم عورت کے ولی کو دیا گیا ہے، اس لئے جائز نکاح کے لئے ولی کی اجازت ضروری ہے۔" جبکہ امام قرطبی نے اپنی تفسیر قرطبی میں اسی آیت کے حوالے سے قرار دیا ہے کہ نکاح میں ولی کی موجودگی یا اس کا عمل دخل جائز نکاح کے لئے لازمی ہے۔ امام نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن میں خداوند تعالیٰ نے مرد کے سوا کسی کو بھی نکاح کرنے کے سلسلے میں مخاطب نہیں کیا۔ اگر ولی کی موجودگی ضروری نہ ہوتی تو کم از کم کسی ایک جگہ تو عورت سے بھی تخاطب ہوتا۔ تفسیر المنار میں امام حزم نے بھی اسی نظریے کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے کی دوسری متعلقہ آیت سورۃ نور کی آیت 32 ہے، جو مندرجہ ذیل ہے:
﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ﴾
"تم بے شوہر عورتوں کا نکاح کر دیا کرو"
33۔ یہاں بھی مردوں ہی سے خطاب کیا گیا ہے، عورتوں سے نہیں۔ تیسری آیت جو درحقیقت بنیادی آیت ہے جو اس موقف کے حق میں ہے، سورۃ البقرۃ کی آیت 232 ہے۔ جو اس طرح سے ہے:
﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ﴾
 "اور جب طلاق دو تم نے اپنی عورتوں کو پھر پورا کر چکیں اپنی عدت کو ۔۔۔ تو نہ روکو ان کو کہ وہ (دوبارہ) نکاح کر لیں اپنے (پہلے) خاوندوں سے جبکہ راضی ہو جائیں آپس میں موافق دستور کے۔ یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو کہ تم میں سے ایمان رکھتا ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ۔۔۔"
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے "( لا نكاح إلا بولي)" کے الفاظ پر مبنی حدیث کو صحیح گردانتے ہوئے مذکورہ بالا دونوں آیات کا حوالہ دیا ہے۔ امام صاحب کا اپنا ایک طرز استدلال ہے۔ وہ احادیث کو یکے بعد دیگرے بیان نہیں کرتے چلے جاتے بلکہ وہ سوالات، موضوعات یا عنوانات کا انتخاب کرتے ہیں اور اس کے بعد متعلقہ احادیث اور قرآن کے حوالے اکٹھے کرتے چلے جاتے ہیں۔
34۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان کے تحت معقل بن یسار کا واقعہ بیان کیا ہے۔ جس کے مطابق معقل بن یسار کی بہن کے سابقہ خاوند عاصم بن عدی نے طلاق دینے کے بعد دوبارہ شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ معقل نے اس خواہش کو اس لئے رد کر دیا کہ طلاق کی وجہ سے ان کے خاندان کی ہتک ہوئی ہے۔ لہذا انہوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بہن کی شادی دوبارہ عاصم سے نہیں کریں گے لیکن مذکورہ بالا آیت کے نازل ہونے پر نہ صرف یہ کہ انہوں نے اپنی ہمشیرہ کو اپنے سابقہ خاوند سے دوبارہ شادی کی اجازت دے دی بلکہ قسم توڑنے پر کفارہ بھی ادا کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ بیان کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عورت اپنی خواہش کے باوجود خود اپنی شادی کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کے ذریعے ولی کو ہدایت کی کہ وہ عورت کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے۔ اس آیت سے یہ سمجھنا کہ عورت کو خود شادی کی اجازت دی گئی تھی، ممکن نہیں ہے کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بات کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے کہ تب معقل نے اپنی ہمشیرہ کی شادی اس شخص سے کر دی۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس واقعے کو اس امر کی مضبوط ترین اور فیصلہ کن دلیل قرار دیا کہ عورت کے نکاح کے لئے ولی کی رضامندی لازمی ہوتی ہے۔ علامہ ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر بن کثیر میں اسی رائے کا اظہار کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔
"اس آیت میں اس امر کی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہو سکتا چنانچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عورت، عورت کا نکاح نہیں کر سکتی اور نہ عورت اپنا نکاح آپ کر سکتی ہے" (تفسیر ابن کثیر مترجم، جلد اول صفحہ 323 مکتبہ قدوسیہ لاہور 1992ء)
آخر میں ہم اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں امام قرطبی کی "تفسیر الجامع احکام القرآن" کی جانب رجوع کرتے ہیں جو حسب ذیل ہے ۔۔۔ اس آیت کی تفصیل میں امام قرطبی اپنی تفسیر قرطبی میں فرماتے ہیں:
ففي الآية : دليلُ على أنّه لا يجوزُ النكاحُ بغير ولي لأنّ أُختَ معقل كانت ثيباً ، ولو كان الأمرُ إليها دون وليها لزوّجت نفسها ، ولم تحتج إلى وليها معقل فالخطاب إذاً في قوله تعالى : ( فلا تعضلوهن ) للأولياء ، وأنّ الأمر إليهم في التزويج.
"اس آیت میں اس امر پر دلیل ہے کہ ولی کے بغیر نکاح جائز نہیں کیونکہ معقل کی بہن باوجود مطلقہ ہونے کے اپنا نکاح خود نہ کر سکی اگر اس کو اختیار ہوتا تو وہ اپنا نکاح خود کر لیتی اور اپنے ولی معقل کی اجازت کی محتاج نہ ہوتی۔۔۔ پس اللہ کا فرمان ﴿ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ ﴾اولیاء کے لئے ہے اور نکاح کرنے میں اولیاء کو اختیار ہے"
(تفسیر الجامع احکام القرآن، امام قرطبی، جلد 3 صفحہ 158  مکتبہ الغزالی دمشق)
اسی طرح امام ابن جریر طبری کی تفسیر جامع البیان الطبری اور محمد طاہر ابن عاشور کی تفسیر التحریر و التنویر میں بھی اس آیت کی یہی تفسیر کی گئی ہے۔
35۔ اب ہم ان چار واقعات کی طرف آتے ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے اس نکتے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، کو ثابت کرنے کے لئے جن پر انحصار کیا ہے۔ مذکورہ احادیث ذیل میں تحریر کی جا رہی ہیں۔
5/2996 (( عن ابى موسى عن النبى صلى الله عليه وسلم : لا نكاح إلا بولي)) (رواہ احمد والترمذی و ابوداؤد وابن ماجہ والدارمی)
"ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، فرمایا ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں" (روایت کیا اس کو ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے)
6/ 2997 ((وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فنكاحها باطل ، فنكاحها باطل ، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها ، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له .))
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کے بغیر اپنا نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر اس عورت کے ساتھ محبت کرے تو اس کی شرمگاہ کے بدلہ جو فائدہ اٹھایا تو مہر ادا کرے۔ پھر اگر ولی اختلاف کریں تو بادشاہ ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو۔" (روایت کیا اس کو احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے)
7/2998 "( عن ابن عباس عن النبى صلى الله عليه وسلم قال البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة والاصح انه موقوف على ابن عباس) (رواہ الترمذی)"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر نکاح کرتی ہیں، وہ زنا کرتی ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث ابن عباس تک موقوف ہے۔ (روایت کیا اس کو ترمذی نے)
8/2999 "( وعن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :اليتيمةتستأمر في نفسها فإن صمتت فهو إذنها وإن أبت فلا جواز عليها)"
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری کا نکاح کرتے وقت اس سے پوچھا جائے اگر خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کا اذن  ہے اگر اس سے انکار کر دیا تو اس پر جبر نہیں" (روایت کیا اس کو ترمذی، ابوداؤد، اور نسائی نے اور روایت کیا دارمی نے ابوموسیٰ سے)"
اس کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں جن میں سے چند ایک کا گذشتہ پیروں میں ذکر آ چکا ہے۔
36۔ اس کے برعکس رٹ درخواست نمبر 2620/1996 میں مسٹر نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ نے سات قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ شادی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات دراصل عورتوں کے لئے ہیں، مردوں کے لئے نہیں ہیں۔ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے حضور پیش ہونے والے متعدد شکایات کا حوالہ دیا۔ جن میں خواتین کی شادی کو ان پر ٹھونس دیا گیا ہے اور وہ اس پر راضی نہیں ہیں۔ لہذا ایسی شادیاں منسوخ کر دی گئیں۔ ان تمام حوالوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان تمام واقعات میں عورت کی رضامندی شامل نہیں تھی اور یہ شادی زبردستی یا دباؤ کے تحت کی گئی تھی۔ ہم پہلے بھی یہ بات ضبط تحریر میں لا چکے ہیں کہ عورت کی رضامندی کے بغیر کوئی شادی منعقد نہیں ہو سکتی۔ جو شادی کسی عورت پر زبردستی نافذ کر دی جائے، اسلام کی نظر میں وہ شادی جائز نہیں ہوتی۔ یہ اصول مسٹر نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ کے استدلال کو مکمل طور پر نپٹانے کے لئے کافی ہے۔
37۔ یہاں یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ اگر عورت اپنی نا رضامندی کی بنا پر شادی کو مسترد کرنا چاہتی ہے تو اسے یہ کام نکاح کے فورا بعد جتنی جلدی ہو سکے، بالکل اسی طرح سر انجام دے دینا چاہئے جیسے کہ وہ نا بلوغت میں ہونے والی ناپسندیدہ شادی کو ختم کرنے کے لئے بالغ ہونے کے فورا بعد کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر تاخیر کرنے سے اس کا موقف مشکوک ہو جائے گا۔
37.A۔ سنن ابوداؤد شریف کے مطابق اگر ولیوں میں اختلاف رائے ہو جائے یا کسی عورت کا کوئی ولی موجود ہی نہ ہو تو پھر حکمران اس کے ولی کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اس سلسلے میں حدیث نمبر 315 کا حوالہ دیا گیا ہے جو حسب ذیل ہے:
((حدثنا محمد بن كثير انا سفين حدثنا ابن جريج عن سليمان بن موسى عن الزهرى عن عروة عن عائشه قالت رسول الله صلى الله عليه وسلم  أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل ثلاثة مرات باطل ، فإن دخل بها فلها المهر بما استحل من فرجها ، فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له .))
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے (آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی) اور اگر (اس کے شوہر نے) اس سے صحبت کر لی تو اس کو اس فائدے کے عوض مہر دینا پڑے گا جو اس نے اس سے حاصل کیا ہے۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی بادشاہ (حاکم وقت) ہے۔"
آخر میں ہم غنیۃ الطالبین (مترجم: مولانا احمد مدراسی) سے حضرت عبدالقادر جیلانی کے نظریات کا حوالہ دینا پسند کریں گے۔ جو حسب ذیل ہے:
نکاح کی شرطیں اور اس کی تکمیل: "جب نکاح کی شرطیں پوری ہو جائیں تو ان کے بعد نکاح کرنا جائز ہے اور نکاح کی شرطوں کا پورا ہونا یہ ہے کہ ولی عادل ہو، عادل گواہ ہوں اور اس کی قرابت کے آدمی ہوں اور عورت میں کوئی ایسی چیز نہ پائی جائے جو مانع ہو مثلا مرتد نہ ہو۔ عدت کے دنوں میں نہ ہو، وہ پورے ہو چکے ہوں اور اسی طرح کوئی اور امر بھی مانع نہ ہو۔ نکاح کرنے والا عورت سے نکاح کی رضامندی حاصل کرے مگر اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے عورت پر جبر نہ کیا گیا ہو"
38۔ اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ طلوع اسلام کے وقت عرب میں شادیوں کی کون کون سی اقسام رائج تھیں اور اسلام نے کس طرح کی شادی کی اجازت دی اور اسے اپنایا۔ تاکہ زیر بحث نکتہ مزید واضح ہو جائے۔ اس سلسلے میں مولانا محمد منظور نعمانی کی کتاب "معارف الحدیث" سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی مندرجہ ذیل صورتیں حوالہ کے طور پر نقل کی جا رہی ہیں۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے)
((عن عائشة أن النكاح في الجاهلية كان على أربعة أنحاء فنكاح منها نكاح الناس اليوم يخطب الرجل إلى الرجل وليته أو ابنته فيصدقها ثم ينكحها ونكاح آخر… فلما بعث محمد صلى الله عليه وسلم بالحق هدم نكاح الجاهلية كله إلا نكاح الناس اليوم))
"ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (انہوں نے فرمایا) کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح (یعنی مرد و عورت کے جوڑ/ملاپ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد سے متعلق چار طریقے رائج تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ تو وہ تھا جو (اصولی طور پر) آج بھی رواج میں ہے کہ ایک آدمی کی طرف سے دوسرے آدمی کو اس کی بیٹی یا اس کی زیر ولایت لڑکی کے لئے نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے پھر وہ مناسب مہر مقرر کر کے اس لڑکی کا نکاح اس آدمی سے کر دیتا ہے ۔۔۔ پھر جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین حق کے ساتھ مبعوث ہوئے تو آپ نے جاہلیت کے ان سب (شرمناک اور حیا سوز) مروج طریقوں کو یکسر مٹا دیا اور نکاح و شادی کا بس وہی (پاکیزہ) طریقہ رائج کیا جو اب جاری ہے" (صحیح بخاری)
ابتدائی عبارت ہی سے ظاہر ہے کہ جس طریقے کی اجازت دی گئی اور جس پر عمل کیا گیا وہ یہ تھا کہ کسی لڑکی یا عورت سے شادی کا خواہش مند پہلے اس کے والد یا خاندان کے سربراہ سے رابطہ کر کے خواہش کا اظہار کرتا تھا۔ اس کے بعد حق مہر بے ہونے پر نکاح منعقد ہوا کرتا تھا۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ قرآنی احکامات سے مطابقت رکھتا ہے بلکہ اس حدیث کو  بھی تقویت پہنچاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت خود اپنی شادی نہیں کر سکتی۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ بھی ہے کہ برصغیر سمیت مسلم معاشرے میں آج بھی یہی طریقہ رائج ہے۔ لہذا "( لا نكاح إلا بولي)" کے اصول کو ثابت کرنے کے لئے اس سے زیادہ واضح، مضبوط اور براہ راست شہادت اور کیا چاہئے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کا یہی ایک طریقہ رائج ہے اور اس طریقے کار کو چھوڑنے سے ہمارا سماج کا ڈھانچہ اگر تباہ نہ بھی ہوا تو مکمل طور پر متزلزل ضرور ہو جائے گا۔ کجا یہ کہ اسے مضبوط کیا جائے۔
قرآن کہتا ہے: "( الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ)" "شرارت قتل سے زیادہ مضر شرارت ہے"
دوسرا تسلیم شدہ اصول یہ ہے کہ جو حدیث تواتر کے ساتھ دہرائی جاتی رہی ہو، اسے صحیح تسلیم کیا جائے۔ امام ابوحنیفہ نے خود اپنے پیروکاروں سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر وہ ان کا کوئی ایسا نظریہ دیکھیں جو حدیث سے متصادم ہو تو وہ اس کے بجائے حدیث کی پیروی کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امام ابوحنیفہ کی اس موضوع پر کوئی تحریر دستیاب نہیں ہے۔
39۔ مسٹر خالد اسحاق اور نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ نے ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن کی کتاب "کوڈ آف اسلامک لاء" کا حوالہ بھی دیا ہے۔ یہاں یہ بات ریکارڈ پر لانا کافی ہوتا کہ فاضل مصنف نے اس نکتے پر، ساری بحث، اس کے تباہ کن اثرات کو مدنظر رکھے بغیر کی ہے۔ وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکے کہ اس طرح تمام معاشرتی اور اخلاقی اقدار پامال ہو جائیں گی اور بقول علامہ اقبال مادر پدر آزاد معاشرے کی راہ ہ وار ہو جائے گی۔ نہ تو مسلمانوں کا ماضی ایسے معاشرے میں گزرا ہے، نہ ہی وہ آج ایسا معاشرہ قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور نہ ہی وہ مستقبل میں ایسے معاشرے کے قیام کے لئے سعی کریں گے۔ مساوات اور صاحب الرائے ہونے کے نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے فاضل مصنف نے ان مصائب اور خرابیوں کو بھی نظر انداز کیا ہے جن میں سے آج کی مغربی دنیا گزر رہی ہے۔ اس ضمن میں فاضل مصنف کی خامیوں اور کوتاہیوں کو وفاقی عدالت کے مشیر حافظ صلاح الدین یوسف نے اپنے مضامین میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ مضامین روزنامہ "نوائے وقت" لاہور میں شائع ہو چکے ہیں۔
40۔ ہم نے نکتہ زیر تجویز کا قرآن حکیم، احادیث، اجماع اور تاریخی پس منظر میں جائزہ لے لیا۔ تسلیم شدہ صورت حال یہ ہے کہ نکتہ مذکورہ  پر ائمہ اور فقہیان کرام کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ فرض کر لیں کہ اس موضوع پر کوئی قرآنی راہنمائی موجود نہیں ہے، نہ ہی حدیث یا اجماع موجود ہے، تو پھر عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کرے۔ ہم اس سلسلے میں مسماۃ زہرا بیگم بنام شیخ لطیف احمد منور (پی ایل ڈی 1965 (W.P) لاہور 695) سے اپنی رائے کے حق میں تقویت حاصل کرتے ہیں جس کا متعلقہ حصہ حسب ذیل ہے:
"8: میں پورے ادب کے ساتھ یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ یہ کوئی مثبت اصول/قانون نہ ہو گا اگر یہ کہا جائے کہ دور حاضر کی عدالتیں اس امر کی طاقت اور اختیار نہیں رکھتیں کہ وہ پہلے فقہاء اور اماموں کی قرآنی تفاسیر و تشریحات سے مختلف کوئی دیگر مطالب اخذ کریں۔ اگر اس نقطہ نظر کو اپنا لیا جائے تو مذہب اور اسلامی قانون کے حرکی اور آفاقی کردار (تصور) کو سخت خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ میں اس موقع پر یہ بھی واضح کر دینا چاہوں گا کہ تعبیر کے اختلاف کا مطلب قرآن و سنت اور اجماع پر مبنی قانونی احکام سے فرار ہرگز نہیں ہے نہ ہی یہ مطلب لیا جا سکتا ہے۔ خواہ اس کے لئے اصول معدلت، حسن ضمیر اور پبلک پالیسی کو جواز کیوں نہ بنایا جائے۔"
اسی فیصلے کے ایک اور حصے کا حوالہ بھی سود مند رہے گا جو حسب ذیل ہے۔
"6: اسلام راہبانہ تسلط کی بالادستی والا نظام نہیں ہے۔ اس کے اصول خفیہ، پیچیدہ، منسلکہ یا ناقابل عمل نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جو ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر نافذ ہو سکنے اور روبہ عمل آ سکنے کی صلاحیت اور گنجائش مرکھتا ہے۔ بشرطیکہ متعلقہ زمانے کے حالات اور گردوپیش کو مدنظر رکھتے ہوئے، جذبہ صادق کے ساتھ سچے اور صحیح طریقے سے اسے سمجھا جائے اور اس کی تشریح کی جائے"
ہم قومی سطح کے جج ہیں اور عوامی اخلاقیات کے محافظ ہیں اس لئے ممکن نہیں ہے کہ ہم ڈاکٹر تنزیل الرحمٰن کی رائے سے اتفاق کا اظہار کریں ویسے بھی ضابطہ یہی ہے کہ جو تشریح و توضیح معاشرے کے اخلاقی معیارات کے مطابق ہو، اسے ہی تسلیم کیا جائے۔
42۔ جہاں قرآن خاموش اور حدیث سے بھی رہنمائی دستیاب نہ ہو اور آئمہ، محدثین اور فقہاء کی آراء میں اختلاف پایا جاتا ہو تو وہاں ججوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس قسم کے حالات میں اپنی رائے قائم کریں۔ یہاں مسماۃ خورشید بی بی بنام بابو محمد امین (پی ایل ڈی 67 سپریم کورٹ صفحہ 97) کا حوالہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو حسب ذٰل ہے۔
"اسلام کے بنیادی قوانین قرآن میں موجود ہیں اور اس بات پر اتفاق رائے ہے، کہ مسلمانوں کے لئے قانون کا اولین ماخذ یہی ہے، حنفی فقہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ قرآن کے بعد حدیث، اجتہاد اور اجماع اسلامی قانون کے ثانوی ماخذ ہیں۔ درحقیقت آخری دونوں ماخذ دلائل و براہین کے زمرے میں آتے ہیں۔ اجتہاد کوئی بھی ایک سکالر کر سکتا ہے جبکہ اجماع کسی ایک دور کے تمام سکالروں کسی ایک رائے پر یکجا ہو جانے کا نام ہے اور یہی ان کی ترجیحی ترتیب بھی ہے۔ جو کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے گورنر یمن مقرر ہونے کے واقعہ سے بھی ثابت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گورنر مقرر کر کے روانہ کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ وہ مقدمات کے فیصلے کس طرح کیا کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ خدا کی کتاب سے ۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ "اگر تم نے خدا کی کتاب میں رہنمائی نہ پائی تو ۔۔۔؟" ۔۔۔ تو پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نظائر سے ۔۔۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا" اگر کوئی نظیر بھی نہ ملی تو؟، تو پھر میں ایمانداری سے اپنی رائے قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایت ملتی ہے کہ وہ خوش ہوئے اور انہوں نے فرمایا: "سب تعریف اللہ کے لئے ہے، جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کو وہ سمجھ دی، جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مسرت ہوئی"
"سنی مکتب فکر کے امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل  چار سربراہ ہیں۔ ان چاروں آئمہ نے اپنی آراء کے حتمی ہونے پر بھی اصرار نہیں کیا بعد کے زمانوں میں بعض تاریخی عوامل کے پیش نظر تقلید کا نظریہ سامنے آیا۔ جو یہ تھا کہ ہر سنی مسلمان کو ان چاروں آئمہ میں سے کسی ایک کی مکمل پیروی کرنی چاہئے۔ قطع نظر اس کے کہ کسی مسئلہ پر دوسرے امام کی رائے کسی جواز کی بنیاد پر ہے۔ اس نظرئیے کا قرآن اور کسی مستند حدیث سے کوئی جواز نہیں ملتا۔ کتاب الملل والنحل (صفحہ 39) میں تحریر ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ فرمایا کرتے تھے" یہ میری رائے ہے اور میں اسے بہترین سمجھتا ہوں اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی رائے کو اس سے بہتر سمجھتا ہے تو وہ بخوشی ایسا کر سکتا ہے۔ (اس کے لئے اس کی رائے اور ہمارے لئے ہماری رائے)"
43۔ مسماۃ کنیز فاطمہ بنام ولی محمد وغیرہ (پی ایل ڈی 1993 ایس سی 901) کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قوانین کی توجیہ کرتے ہوئے اسلامی قوانین اور شعائر کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالتیں رائج الوقت عام قوانین کو تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں لہذا اسی توضیح کی پیروی کرنی چاہئے جو شعائر اسلامی کے مطابق ہو۔
44۔ اب مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کی طرف آتے ہیں۔ جس میں نکاح کا ایک باقاعدہ فارم تجویز کیا گیا ہے اور دفعہ 5 کے تحت نکاح کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نکاح فارم کے کالم نمبر 1 میں نمبر 7 پر دلہن کے دکیل کا ذکر ہے۔ جس کے لئے دو عینی گواہوں کی شرط بھی ہے۔
45۔ 1961ء کے مذکورہ آرڈیننس میں لفظ وکیل کی کوئی تشریح نہیں کی گئی۔ بہرحال وکیل کی ضرورت کا جواز یہ لگتا ہے کہ چونکہ دلہن خود نکاح کی محفل میں نہیں آتی اس لئے اس کی نمائندگی بذریعہ وکیل ہو جائے۔ وکیل عام طور پر اسی فریق میں سے ہوتا ہے جو اسے نمائندہ مقرر کرتا ہے۔ اس موقع پر حنفی اور شافعی مکاتب فکر کی اس بحث سے قطع نظر کہ کیا نابالغ بھی وکیل ہو سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔ ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک بات بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ دلہن کا وکیل باہر گلی سے لایا ہوا آدمی نہیں ہو سکتا کیونکہ اس نے ایجاب و قبول کا مرحلہ بے کرنا ہوتا ہے۔ لہذا اسلامی اصولوں اور اپنے معاشرے میں رائج طریق کار کے مدنظر ضروری ہے کہ دلہن کا وکیل لازمی طور پر اس کے ایسے رشتہ داروں میں سے ہو جن کی خود اپنی شادی اسلامی قانون کے مطابق اس دلہن سے نہ ہو سکتی ہو۔ یہ رشتہ دار عام طور پر ماموں، چچا، بہنوئی، بھائی یا باپ ہو سکتے ہیں۔ نکاح کے موقع پر کوئی اجنبی دلہن کی نمائندگی (بطور وکیل) نہیں کر سکتا۔ دلہن، اپنے وکیل کے توسط سے اظہار رائے کرتی ہے۔ گو کہ براہ راست اظہار رائے پر پابندی نہیں ہے لیکن اس کا مقصد خواتین کے احترام کو ملحوظ نظر رکھنا ہے۔ اور عورت کا مقام و مرتبہ اسی طریقے کا متقاضی ہے اور دونوں خاندانوں میں محترم ہونے کے پیش نظریہ اس کا حق بھی ہے۔ اس طریقے کی پابندی کی ایک وجہ اور یہ بھی ہے کہ اس طرح زبردستی، دباؤ، مجبوری یا دھوکہ دہی کے تحت شادی کا انعقاد بھی خارج از امکان ہو جاتا ہے ۔۔۔ صائمہ کے معاملے میں اس کا وکیل ایک شخص سید شوکت حسین ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ ایک بات البتہ طے شدہ ہے کہ اس کا صائمہ سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔
یہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہو گا ورنہ شادی اپنا سارا تقدس کھو بیٹھے گی اور رینو نیو اڈا (امریکہ) کی طرح شادی کروانے والے کرایے پر وکیل اور گواہ مہیا کرنے لگیں گے۔ جہاں عورت اور مرد شادی کروانے والی کسی ایجنسی کو ساری ذمہ داری سونپ دیتے ہیں جو شادی کے ملبوسات سمیت تمام انتظامات کر دیتی ہے جن میں پادری کی خدمات اور گواہ تک شامل ہوتے ہیں۔
46۔ اجتماع بھی نکاح کے لوازم میں سے ہے کیونکہ انعقاد نکاح کا لوگوں کے علم میں آنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اسے خفیہ رکھنا نامناسب ہوتا ہے۔ امام مالک کے نزدیک انعقاد نکاح کا اعلان نکاح کے لوازم میں سے ہے کیونکہ اس سے زنا میں فرق قائم ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر امام نے قرار دیا تھا کہ اگر گواہوں سے نکاح کو خفیہ رکھنے کا تقاضا کیا جائے تو نکاح ناجائز ہو جاتا ہے۔
47۔ اس موضوع کو ختم کرنے سے پہلے ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ بچوں کی شادیاں کرنا والدین کا فرض ہے۔ خاص کر لڑکیوں کی شادیاں تو جس قدر جلد ممکن ہو، کر دینی چاہئیں۔ انہیں چاہئے کہ باہر کے لوگوں کو گھر میں داخل ہونے اور نوجوان لڑکیوں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع نہ دیں چاہے وہ مہمان ہوں، ملازم ہوں یا پھر پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور۔ گھروں کی پاکیزگی کا اہتمام انتہائی ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس امر پر بہت زور دیا ہے کہ عورتوں کا مردوں سے میل جول نہیں ہونا
چاہئے۔
48۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ شادی کروانے والے اداروں پر اگر پابندی عائد نہیں کر سکتی تو کم از کم ان کے بارے میں قانون سازی کرے اگرچہ ایسے سارے ادارے برے کردار کے حامل نہیں ہیں پھر بھی جو ادارے فتنہ پروری کریں، ان کی گرفت ہو سکے۔ اس طرح دونوں کے والدین اور خود دونوں فریق یعنی ہونے والے میاں بیوی ان کا شکار ہونے اور اپنی زندگی برباد کروا بیٹھنے سے محفوظ رہیں گے۔
49۔ ہم یہ امر قرار دے چکے ہیں کہ شریعت کے مطابق لڑکی کی رضامندی ایک جائز شادی کے لئے ایک پیشگی شرط ہے۔ ایسے واقعات بھی ہو سکتے ہیں کہ لڑکی اپنے ولی کے منتخب کردہ کسی شخص کے ساتھ شادی سے انکار کر دے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی صورت حال کا علاج کیا ہو گا؟ ہم سفارش کرتے ہیں کہ حکومت اس سلسلے میں قانون سازی کرے اور تفصیلی طریقے کار وضع کرے۔ عبوری وقت میں ایسی لڑکیاں اس علاقے کے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں، جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ مقیم تھیں، درخواست گزار سکتی ہیں۔ یہ کاروائی چیف جسٹسز کمیٹی کے جاری کردہ کوئٹہ ڈیکلریشن (مورخہ 14 اگست 1991ء) کے تحت ہو سکتی ہے۔ جس کا متعلقہ حصہ حسب
"(2) یہ یقینی بنانے کے لئے کہ معاشرے کے خاص طور پر محروم اور بے یارو مددگار حصے اپنے ان قانونی حقوق کا ادراک کر سکیں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے زور دے سکیں جن کی اسلام، آئین اور قانون نے ضمانت مہیا کی ہے، ان کے گھروں کے نزدیک ایک ایسی فعال مشینری کی ضرورت ہے جو ان کے حقوق کی حفاظت کر سکے اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
(3) اور قرار داد مقاصد کے اصولوں اور آئین کی روشنی میں سماجی انصاف کے اسلامی تصور کو روبہ عمل لانے کے لئے سعی و عمل کر سکے"
لڑکی خود یا اس کی طرف سے کوئی بھی دوسرا شخص ڈسٹرکٹ جج کے پاس درخواست گزار سکتا ہے اور بتا سکتا ہے کہ لڑکی کی شادی اس کی رضامندی کے برعکس کرنے کا قصد کر لیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ جج فریقین کو طلب کرے گا اور روزانہ سماعت کی بنیاد پر اس وقت تک التواء نہیں دے گا جب تک کہ معاملہ بے نہ ہو جائے اور اس دوران لڑکی کو دارالامان یا لڑکی کی مرضی سے کسی ایسےرشتے دار کے ہاں قیام کا حکم د گا جس سے اسلام کے مطابق اس لڑکی کی شادی نہ ہو سکتی ہو۔ اگر ڈسٹرکٹ جج غیر مسلم ہو تو پھر سب سے سینئر مسلمان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سماعت کرنے کا اہل ہو گا۔ ایسی درخواست کے کوائف مخصوص کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ جج کو چاہئے کہ وہ ایک والد کی طرح اپنے عدالتی اختیارات کا استعمال کرے اور معاملے کے حقائق معاشرتی اقدار اور شریعت کے اصولوں کی روشنی میں معاملے کو نپٹائے۔
حبس بے جا کی درخواستوں اور دیگر متعلقہ معاملات کے زیر سماعت رہنے کے دورانیہ میں عدالت کے پاس ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کو پناہ میں رکھ سکے لہذا حکومت سے سفارش کی جاتی ہے کہ وہ ایسے اداروں کا قیام عمل میں لائے جہاں اس دوران عورتوں اور بچوں کو رہائش کے لئے جگہ مہیا کی جا سکے۔ یہ ادارے نہ صرف یہ کہ خوراک و رہائش کا بندوبست کریں بلکہ یہاں رہنے والے افراد کی تعلیم اور تجربے کے مطابق انہیں دستکاری کا کام یا دوسرے ذرائع روزگار بھی مہیا کرنے کے ذمہ دار ہوں۔ ابتدائی طور پر کم از کم ضلعی سطح پر ان اداروں کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی آئین پاکستان مجریہ 1973ء کے آرٹیکل 35 کے تحت یہ حکومت کے آئینی فرائض میں شامل ہے۔
50۔ اس وقت ان معاملات میں عدالتیں عام طور پر انجمن حمایت اسلام کے قائم کردہ دارالامان پر انحصار کر رہی ہیں۔ یہ ادارہ رضاکارانہ چندے سے چلایا جا رہا ہے، اس لئے اس کے پاس فنڈ محدود ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذاتی طور پر قائم کردہ متوازی اداروں کی طرف سے اسے تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔ ذاتی طور پر قائم اداروں مین عورتوں یا بچوں کا رہنا بالکل محفوظ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت کو ان اداروں کی کڑی نگرانی کرنی چاہئے اور انہیں اس امر کا پابند بنانا چاہئے کہ یہ ادارے کسی لڑکی یا بچے کو پناہ دینے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پولیس یا متعلقہ ڈسٹرکٹ جج کو اس کے جملہ کوائف سے آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ ان کے حسابات اور ان سے متعلق افراد کی چھان بین بھی نہیں ہونی چاہئے۔
51۔ اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ایک کریمینل اپیل میں دئیے گئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ (محمد امتیاز وغیرہ بنام سرکار۔ پی ایل ڈی 1981ء ایف ایس سی 308) کی پابندی اور پیروی اس عدالت کے لئے لازمی ہے؟ وفاقی شرعی عدالت کے فرائض حدود اور اختیارات، آئین کے آرٹیکل 203-D میں بیان ہوئے ہیں جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت کو یہ اکتیار دیا گیا ہے کہ اگر کسی قانون کا کوئی ضابطہ اسلامی شعائر سے متصادم معلوم ہوتا ہو تو اس کا جائزہ لیا جائے۔ آرٹیکل 203-DD کے تحت یہ عدالت از خود اختیارات کے تحت نفاذ حدود قوانین کے دائرے میں فیصل ہونے والے مقدمات کی نگرانی کا اختیار رکھتی ہے۔ اس باب میں وفاقی شرعی عدالت کو اپیل سماعت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ البتہ آرٹیکل 203-DD میں کہا گیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کو وہ دیگر اختیارات بھی حاصل ہوں گے جو اسے تفویض کئے جائیں یا کسی قانون کے تحت اسے حاصل ہوں۔ مذکورہ شق کی عبارت اس طرح سے ہے۔
"(3) عدالت کے پاس وہ دیگر اختیارات بھی ہوں گے جو کہ اسے تفویض کئے جائیں یا کسی قانون کے تحت حاصل ہوں"
مذکورہ بالا کلاز میں لفظ "اختیار" خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح وفاقی شرعی عدالت کو دو طرح کے اختیارات حاصل ہوئے ہیں: (1) آئین کے تحت (2) دیگر قانون کے تحت ۔۔۔ دوسرا متعلقہ آرٹیکل 203-GG ہے جس کی عبارت حسب ذیل ہے:
"203-GG ۔۔۔ آرٹیکلز 203-D اور 203-F کے مطابق اس باب میں دئیے گئے اختیارات کے تحت کئے گئے (وفاقی شرعی عدالت کے) فیصلے کی پیروی ہائی کورٹ اور ہائی کورٹ کی تمام دیگر ماتحت عدالتوں پر لازم ہو گی"اس آرٹیکل کے کلیدی الفاظ ۔۔۔ آئین 1973ء کے باب 3-A کے حصہ 7 کے تحت اختیارات ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ فوجداری عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل کو وفاقی شرعی عدالت اس باب میں دئیے گئے اختیارات کے تحت سماعت نہیں کرتی۔ اس لئے اپیل پر دئیے گئے اس عدالت کے فیصلوں کی پیروی کرنا ہائی کورٹ کے لئے لازمی قرار نہیں پاتا۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ بھی دلچسپی کا باعث ہو گا۔ جیسا کہ پہلے تحریر ہو چکا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کو فوجداری عدالت کے ان فیصلوں پر نگرانی کا اختیار حاصل ہے جن کا تعلق نفاذ حدود سے ہو لیکن اس باب کے تحت فاضل عدالت کو اپیل کی سماعت کا حق نہیں دیا گیا ہے۔ جس سے قانون سازوں کی نیت کا صاف پتہ چلتا ہے کہ فوجداری اپیل میں دئیے گئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کی پیروی کو ہوئی کورٹ کے لئے لازمی نہیں بنانا چاہتے۔
اب ہم والدین اور بچوں کے باہمی حقوق و فرائض کا جائزہ لیتے ہیں یہاں ہم اس نکتے تک محدود رہیں گے کہ والدین کی تابعداری اولاد کا فرض ہے یا نہیں؟ آگے چلنے سے قبل ہم والدین کے حقوق کے سلسلے میں قرآن کا حوالہ دینا پسند کریں گے۔ سب سے پہلے کچھ آیات ۔۔۔
اس موضوع کی پہلی آیت سورۃ النساء کی آیت نمبر 1 ہے۔ جو حسب ذیل ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ﴾
"اے لوگو! اپنے مالک سے ڈرتے رہو جس نے تمہیں ایک جان (504)(آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ اور اسی جان میں سے (پہلے) اس کی بیوی (حوا) کو پیدا کیا، پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دئیے۔ اور ڈرتے رہو اللہ (505)سے جس کا واسطہ دیتے ہو اور ڈرو قرابت داری(506) کو توڑنے سے۔ بےشک اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے"
504: "نفس" کے مطالب: (1) روح (2) خود (3) زندہ انسان (4) خواہش، نیک، خوشی ہو سکتے ہیں جیسا کہ ذیل میں 4.iv میں ہے۔ منہا میں امام رازی کی تجویز کردہ ساخت کی پیروی کرتا ہوں اس کی روشنی میں اس کے جز "من" کا مطلب قسم فطرت یا مماثلت ہو سکتے ہیں۔ جبکہ "ہا" کے معنی یقینا نفس کے ہوں گے۔
505: ہمارے تمام باہمی حقوق و فرائض اللہ کے حوالے سے ہیں۔ ہم اس کی مخلوق ہیں۔ اللہ کی رضا ہی معیار اور پیمانہ ہے۔ ہمارے فرائض اسی معیار اور پیمانے کے مطابق ہونے چاہئیں جو اللہ کی رضا سے تشکیل پاتا ہے۔ ٹینی سن (ان میموریم) کہتا ہے: "ہماری خواہشات ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ہمارے (نسل انسان کے) باہمی حقوق و فرائض اللہ کے قانون سے جنم لیتے ہیں۔ صحیح کیا ہے؟ اللہ نے یہ حس ہمارے اندر ودیعت کر دی ہے۔"
506: ہماری فطرت کے سب سے حیرت انگیز اسراروں میں سے ایک اسرار جنس ہے۔ تخلیق کی صلاحیت سے عاری مرد اپنی جسمانی طاقت کے زعم میں اس انتہائی اہم کردار کو بھول جاتا ہے جو خود اسے عالم وجود میں لانے کے لئے عورت ادا کرتی ہے اور اس تمام سماجی رشتہ و پیوند کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے جو اجتماعی حیات انسانی میں عورت کا خاصہ ہے، ماں، جس نے ہمیں شکم مادر میں رکھا ہمیشہ کے لئے ہمارے احترام کی مستحق ہے۔ بیوی، جس کے ذریعہ ہماری نسل آگے چلتی ہے، ہمارے احترام کی مستحق ہے۔ جنس ہماری مادی زندگی میں اتنا اہم کردار ادا کرتی اور ہماری جذباتی حیات اور اعلیٰ ظرفی پر اتنے زبردست اثرات کی حامل ہے کہ ہمیں اس کے ساتھ نہ تو تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنا چاہئے نہ ہی اسے دل بہلاوے کی کوئی چیز سمجھنا چاہئے۔ بلکہ اسے انتہائی قابل احترام طریقے سے اپنانا چاہئے۔ اس مناسب تعارف کے بعد ہم خواتین یتیموں اور خاندانی تعلقات کی جانب آتے ہیں)
اگلی متعلقہ آیت سورہ انعام کی آیت نمبر 151 ہے۔ جو حسب ذیل ہے:
﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ﴾
"(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم! ان سے) کہہ دیجئے: آؤ میں تم کو وہ باتیں بتاؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام (976)کی ہیں یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین سے احسان سلوک کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم (ہی) تم کو روزی دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے)"
976: بت پرستوں کی توہم پرستی اور خیالی ممنوعات اور پابندیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں چاہئے کہ ہم حقیقی اخلاقی قانون کا مطالعہ کریں جو دراصل اللہ کا قانون ہے۔ سب سے پہلا قدم تو یہ ہے کہ صرف وہ اور وہی خالق و مالک ہے اور خوشی دینے والا ہے۔ اللہ کے فورا بعد والدین کی نیکیوں کے ذکر سے ظاہر ہے کہ (1) ہمارے لئے اللہ کی بے پایاں محبت اور اہتمام والدین کی محبت کے حوالے سے سمجھی جائے جو کہ خالص اور بے لوث ہوتی ہے۔ (2) یہ کہ ہم عصر مخلوقات سے ہماری مھبت کے پہلے مستحق ہمارے ماں باپ ہیں جن کی محبت، الہامی یا خدائی محبت کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ اسی محبت سے ہمیں ان فرائض کا ادراک ہو گا ہے جو اولاد کے سلسلے میں ہمارے ذمہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان (مادی اور روحانی) تعلق یا سہارا پیدا کرتا ہے لہذا بت پرستوں کی طرح (Moloch) دیوتاؤں کے سامنے اپنے بچوں کو قربان کر دینے جیسی رسوم قابل مذمت ٹھہرتی ہیں۔ پھر بے حیائی اور اس قبیل کے تمام افعال کی ممانعت کا حکم ہے چاہے وہ جنس کے حوالے سے ہوں یا دوسرے حوالوں سے ۔۔۔ ظاہر ہوں یا خفیہ ۔۔۔ اس کے بعد قتل کی ممانعت ہے۔ یہ تمام چیزیں خود ہمارے بہترین مفاد میں ہیں اس لئے ہمارے نقطہ نظر سے یہی حقیقی دانش کا درجہ رکھتی ہیں۔
اس کے بعد ہم سورۃ بنی اسرائیل کی آیات 23 اور 24 کا حوالہ دیں گے:
﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ﴿٢٣﴾ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ....٢٤﴾
"تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں (2204)  تو ان کو اُف بھی نہ کرنا اور ان کو ہرگز نہ ڈانٹو  اور ان سے احترام اور نرمی سے بات کرو۔ اور مہربانی سے اپنے عاجزی کا (2205)بازو ان کے لئے جھکا دو اور اللہ سے دعا کرو کہ اے میرے رب ان پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن(2206) میں مجھ پر رحم کر کے میری پرورش کی"
2204: اب روحانی اور اخلاقی فرائض کا پہلو بہ پہلو جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہم اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش نہیں کرتے اس لئے یہ اللہ ہی ہے جو پرستش کے لائق ہے۔ اس لئے نہیں کہ "میرا معبود، میرا خدا ایک حاسد خدا ہے اور والدین کے واسطے سے تیری یا چوتھی نسل کے بچوں میں ایسی اخلاقی نا انصافی پیدا کر دیتا ہے جو مجھ سے نفرت کا باعث ہے"
یہ بات بھی دھیان میں رکھنی چاہئے کہ عبادت اجتماعی بھی ہونی چاہئے اور انفرادی بھی۔ اسی لئے "( تَعْبُدُوا)" میں جمع کا صیغہ آیا ہے۔ والدین کے حق میں شفقت ایک انفرادی نیک عمل ہے۔ اسی لئے یہاں صیغہ واحد یعنی "( تقل)" یا "(قل)" وغیرہ استعمال ہوا ہے۔
2205: یہاں ایک اونچا اڑنے والے پرندے کی مثال بیان کی گئی ہے جو اپنے بچوں کی محبت میں اپنے پروں کو نیچی پرواز میں لاتا ہے۔ یہاں دوہرے سبق والی حکمت مقصود ہے۔ (1) جب والدین توانا تھے اور بچے بے یارو مددگار تو والدین کی محبت بچوں پر نچھاور ہو رہی تھی۔ جب بچے جوان و توانا ہو جاتے ہیں اور والدین بے بس تو کیا وہ اتنی ہی محبت اور نگہداشت انہیں مہیا کر سکتے ہیں؟ (2) بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ معاملے کو زیادہ نرم دلی کے ساتھ دیکھنا چاہئے۔ کیا والدین کی محبت، اللہ کی محبت کا تصور ان میں پیدا نہیں کرتی جس سے اللہ اپنی مخلوق کو نوازتا ہے؟ یہ بات عام انسانی تشکر سے آگے بڑھ کر بلند ترین روحانی حلقے میں داخل ہو جاتی ہے۔
2206: یہ امر بھی مدنظر رہے کہ ہمیں اپنی والدہ اور والد کی عزت کرنے کا حکم ہوا ہے۔ "اس لئے نہیں کہ اللہ نے انہیں زمین پر جو زندگی دی وہ طویل ہو جائے بلکہ اس کا جواز زیادہ عظیم اور زیادہ کائناتی ہے اور وحی کے صحیح ترین معیار پر پورا اترنے والا ہے۔ سب سے پہلے تو والدین کے لئے صرف عزت و تکریم ہی نہیں، خوشدلانہ نرم روی اور تابعداری کا حکم ہوا ہے۔ اس کے بعد اس حکم کے ساتھ ہی اللہ کی پرستش کے حکم کو جوڑ دیا گیا ہے۔ والدین کی محبت کا درجہ ہمارے نزدیک ایک مقدس محبت کا سا ہونا چاہئے۔ ہم جو کچھ بھی کر لیں اس کا اجر نہیں دے سکتے جو والدین نے ہمارے لئے کیا ہے اور تیسرے یہ کہ (اگلی آیت دیکھئے) جن ہستیوں نے ہمیں بے لوث پالا پوسا ہے اگر ہم ان سے سخت کوش اور نامہربان سلوک روا رکھتے ہیں تو ہمیں اللہ سے رحم کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔
اس کے بعد ہم سورۃ لقمان کی آیات 14 اور 15 کو دیکھتے ہیں:
﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴿١٤﴾ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ...١٥﴾
"اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے (اچھا سلوک کرنے کا) حکم دیا۔ اس کی ماں نے تھک تھک کر اپنے پیٹ میں اٹھایا اور دو برس (3596)میں اس کا دودھ چھوٹا۔ (ہم نے انسان کو حکم دیا کہ) میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا بھی، تجھے میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے۔ اگر تیرے والدین تجھے اس امر(3597) پر مجبور کریں کہ میرے ساتھ شرک کر دوسرے کو جس کے بارے میں تیرے پاس کوئی دلیل نہیں تو ان کی (اس بات میں) اطاعت نہ کر اور دنیا میں ان کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ رہ۔ اور اس شخص کی راہ پر چلو جو میری طرف رجوع کرتا ہے،(3598) پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے، میں تم کو بتاؤں گا جو تم (دنیا میں) عمل کرتے رہے"(3599)
3596: انسانی بچے کے منہ سے دود کے پورے دانت دو سال کی عمر میں نکل آتے ہیں اور یہی ماں کی چھاتی سے دودھ پینے کی، زیادہ سے زیادہ حد مقرر ہوئی ہے۔ ہمارے مصنوعی طرز زندگی میں یہ حد اس سے بہت کم ہے۔
3597: جہاں اللہ اور بندے کے فرائض میں تضاد آ جائے تو جان لیجئے کہ انسان کی نیت میں کچھ غلطی ہے اور ہمیں انسان کے بجائے اللہ کے احکامات کی تعمیل کرنا چاہئے۔ لیکن یہاں بھی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم سرکش یا گستاخ ہو جائیں۔ جب والدین یا حاکم ایسا حکم دیں جو پورا کرنے والا نہ ہو اور جسے تسلیم نہ کرنا ہمارے فرض میں داخل ہو، ایسے حالات میں بھی ہمیں والدین کے ساتھ مہربانی، نرمی اور تحمل کا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔۔۔ اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کی پرستش کرنا جھوٹ کی پرستش کرنے کے برابر ہے۔ یہ حقیقی علم کے برعکس اور اللہ کی ودیعت کردہ ہماری اپنی فطرت کے خلاف ہے۔
3598: جب فرائض کا معاملہ واضح تضاد کی صورت اختیار کر لے تو ہمیں اللہ کی رضا کو معیار بنانا چاہئے۔ جیسا کہ ہم پر اس کا حکم نازل ہوا ہے اور یہی اللہ سے محبت کرنے والوں کا راستہ ہے اور اگر اللہ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے وہ والدین یا حاکموں کی حکم عدولی کرتے ہیں تو وہ دراصل وہ اپنی من چاہئ بغاوت یا نافرمانی نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اللہ کی محبت میں ایسا کرتے ہیں۔ جس کا مطلب لفظ کے اعلیٰ ترین تصور میں سچی انسانی محبت ہے اور اس کا جو جواز ہم دے سکتے ہیں وہ یہ ہے "چونکہ میں نے اور آپ نے، دونوں نے اللہ کی طرف واپس لوٹنا ہے اس لئے نہ صرف یہ ضروری ہے کہ میں احکامات الہی کی پروی کروں بلکہ آپ کو بھی چاہئے کہ آپ رضائے الہیٰ کے خلاف مجھے کوئی حکم نہ دیں"
3599: اس زندگی میں یہ تضادات عجیب اور متذبذب کر دینے والے محسوس ہوتے لیکن اللہ کے حضور ہم ان کے اصل معنی اور اہمیت کا مشاہدہ کریں گے، ہو سکتا ہے یہی وہ طریقہ ہو جس کے ذریعے ہماری اصل کو پرکھا جا سکے کیونکہ بیک وقت محبت کرنا اور پھر اس کی نافرمانی کرنا آسان کام نہیں ہے۔
53۔ اب ہم احادیث کی طرف آتے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث کو، جن میں والدین کی نافرمانی کا ذکر ہے، گناہ کبیرہ کے عنوان تلے رکھا ہے اور مندرجہ ذیل احادیث بیان کی ہیں جو کہ صحیح مسلم میں بھی ہیں:
562  "( باب عقوق الوالدين من الكبائر)"  والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے۔
915   "( (حدثنا سعد بن حفص حدثنا شيبان عن منصور عن المسيب عن وراد عن المغيرة بن شعبة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ومنعا وهات ووأد البنات وكره لكم قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال))
"سعد بن حفص، شیبان، منصور، مسیب، وارد حضرت مغیرہ سے حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، حق داروں کا حق نہ دینا اور بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا حرام کیا ہے اور تمہارے لئے قیل و قال اور سوال کی زیادتی اور مال کے ضائع کرنے کو مکروہ سمجھا ہے"
516   "(( حدثنى اسحاق حدثنا خالد الواسطى عن جريرى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " . وَكَانَ مُتَّكِئًا , فَجَلَسَ ، فَقَالَ : " أَلا وَقَوْلُ الزُّورِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ ، أَلا وَقَوْلُ الزُّورِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ " . قَالَ : فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ : لا يَسْكُتُ .))
"اسحٰق، خالد واسطی، جریری، عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں، لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا،اور والدین کی نافرمانی کرنا (سب سے عظیم گناہ ہیں) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ پھر بیٹھ گئے اور فرمایا: سن لو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا، جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح (بار بار) فرماتے گئے یہاں تک کہ میں نے کہا کہ آپ خاموش نہ ہوں گے۔"
((حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ فَقَالَ : " الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، فَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ قَالَ : قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ " قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ : شَهَادَةُ الزُّورِ ))
"محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، عبداللہ بن ابی بکر، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر فرمایا۔ یا آپ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق دریافت کیا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، کسی جان کا (ناحق) قتل، والدین کی نافرمانی کرنا، پھر فرمایا: کیا میں تم کو سب سے بڑا گناہ نہ بتلاؤں اور فرمایا کہ جھوٹ بولنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میرا غالب گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی گواہی فرمایا۔
ان کے علاوہ بھی متعدد احادیث ہیں جو اولاد کو والدین کی اطاعت کا پابند ٹھہراتی ہیں۔ امام فخر الدین رازی نے سورہ لقمان میں آنے والے لفظ "احسان" کا مطلب مکمل اطاعت بیان کیا ہے اور والدین کے حوالے سے تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ احسان کا مطلب والدین کے احکامات کا، رضامندی اور دل و جان سے تسلیم کیا جانا ہے۔ اس سلسلے میں تسلیم شدہ اصول یہ ہے کہ ایک شخص جو سلوک کود اپنے لئے چاہتا ہے،ویسا ہی وہ والدین کے لئے کرنے کا پابند ہے۔ امام غزالی نے اس ضمن میں مشرک کے ساتھ اس شرط کا بھی اضافہ کیا ہے کہ والدین کا حکم فاسد اغراض کے لئے ہو تو اس کی اطاعت لازم نہیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالت کے ذریعے ایسے احکامات کی اطاعت کروائی جا سکتی ہے؟ اس معاملے میں بہترین نظیر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی عورت سے شادی کی جسے وہ پسند کرتے تھے لیکن ان کے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کو طلاق کے لئے کہا لیکن انہوں نے باپ کی ہدایت پر عمل نہ کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ اس پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ بیوی کو طلاق دے دیں۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ ماں باپ کی اطاعت عدالت کے ذریعے نافذ کروائی جا سکتی ہے۔
54۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس زمانے میں، اس کے نفاذ کا طریقہ کیا ہو؟ ہم تجویز کرتے ہیں کہ مسلم فیملی کورٹس ایکٹ کے شیڈول میں مناسب ترمیم کی جائے اور اس وقت تک والدین چاہیں تو اولاد پر واجب، اپنے حقوق کی بذریعہ عدالت تعمیل کروانے کے لئے متعلقہ ڈسٹرکٹ جج کو درخواست دے سکتے ہیں جو کوئٹہ ڈیکلریشن کی روشنی میں اسے نپٹائے گا۔
55۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہے، کہ کتاب شریعت کے بعض اصول و ضوابط، بنیادی انسانی حقوق اور دیگر متعلقہ قوانین کے مقابلے میں سخت اور متضاد دکھائی دیتے ہیں لیکن صورت حال یہ ہے کہ شریعت ایکٹ 1991ء کی دفعہ 3 کے تحت شریعت اس ملک کا اعلیٰ قانون قرار پا چکی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہم اسلام کا نام تو لیتے ہیں لیکن اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ لیکن اگر ہم ایک مرتبہ سورۃ البقرہ کی آیت 208 (اے ایمان والو! اسلام میں داخل ہو جاؤ پورے کے پورے) میں نازل کردہ اللہ کے حکم کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کر لیں تو کوئی مشکل باقی نہ رہے گی۔ جب تک ہم خالق کائنات کے بتائے ہوئے اس سنہری اصول پر عمل نہیں کرتے، سطحی مشکلات ہمارے راستے میں آتی رہیں گی۔
56۔ لہذا یہ قرار دیا جاتا ہے کہ صائمہ وحید اور ارشد کی شادی جائز نہیں تھی۔ درخواست گزار حافظ عبدالوحید اور صائمہ وحید دونوں کو چاہئے کہ اس فیصلے میں پہلے بیان کئے گئے طریقہ کے مطابق ڈسٹرکٹ جج لاہور سے رجوع کریں۔
57۔ یہ بات بھی واضح کی جاتی ہے کہ ولی کی شادی میں شرکت کا اصول ماضی میں ہو چکی شادیوں پر لاگو نہیں ہو گا۔ ماسوائے اس اور دیگر متعلقہ درخواستوں کے۔
58۔ اس معاملے کو اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہوئے یہ فوجداری متفرق درخواست نمبری 425-H/96 منظور کی جاتی ہے۔
دستخط
میاں احسان الحق چوہدری، جج