کتاب"اشاریہ تفہیم القرآن" نظر سے گزری۔فاضل مرتبین جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب ڈائیرکٹر ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور آنسہ پروفسیر ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحب چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کسی تعارف کی محتاج نہیں۔انہوں نے بجا طور پر بروقت اہل علم،ریسرچ سکالرز،قرآن وسنت کے طالب علموں اور دین کاشغف رکھنے والوں کی آواز پر لبیک کہا اور"تفہیم القرآن" کا اشاریہ  ترتیب دے کر علمی اضافہ کیا۔
واقعتاً قرآن سے استفادہ کرنے اور خصوصاً "تفہیم القرآن" سے مستفید ہونے کےلئے اشاریہ کی ضرورت ایک مدت سے محسوس کی جارہی تھی مگر اس میں کوئی صاحب علم آگے نہ بڑھا حتیٰ کہ "الفضل للمقدم"کے مصداق یہ سعادت فاضل مرتبین کے حصے میں آئی۔جس کے لئے وہ تمام اہل علم کی طرف سے مبارکبار کے مستحق ہیں۔جزاھما اللہ عنا خیرا الجزاء
قبل ازیں تفہیم القرآن کی ہر جلد کے ساتھ اشاریہ موجود تھا لیکن ایک جلد میں پوری کتاب کے مضامین کا اشاریہ موجود نہیں تھا۔مرتبین کی کاوش سے یہ کمی پوری ہوگئی ہے۔قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا ابدی پیغام اور بے پناہ علوم کا خزانہ ہے ۔زمانے کی لمبان گو کتنی آگے کو بڑھ جائے،تشنگان علم اس چشمہء صافی سے سیراب ہونے کے لئے بیتاب رہیں گے۔
مرتبین نے اس ضمن میں بھی ریسرچ سکالرز اور طالبان علم کی ر اہنمائی کا حق ادا کیا ہے کہ "لغات القرآن" فہارس الفاظ القرآن" فہار مضامین القرآن "اور "قرآنی ترجموں کے ساتھ ملحق فہارس" کے اردو ماخذ اور ان کی بیش از  پیش معلومات سے"اشاریہ تفہیم القرآن" کو مزید مزین کردیا ہے۔یہ معلومات ایسی ہیں جن تک عام آدمی کی رسائی نہیں تھی۔لہذا فاضل مرتبین کی اس علمی کاوش کو ہم خراج تحسین پیش کئے بغیر نہیں رہ سکے کہ اس سے قرآن سے شغف رکھنے والوں کا رستہ آسان ہوگیا ہے۔اس اعتبار سے "اشاریہ تفہیم القرآن" کی علمی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔یہ مفید علمی اضافہ فاضل مرتبین کے علم  و فضل اور اس میدان میں ان کی دسترس کا بین ثبوت ہے ہماری خواہش ہے کہ "اشاریہ تفہیم القرآن" دین اسلام کا علم حاصل کرنے والوں اورخصوصاً قرآن وسنت کے ہر طالب علم کے پیش نظر رہنی چاہیے۔دعا ہے کہ اللہ مرتبین کے لئے اسے توشہ آخرت بنائے اور اہل اسلام کو اس سے استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد!