میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رپورٹ اجتماعات مارچ 1995ء

"مجلس تحقیق اسلامی" اسلا م کی عملداری کے لیے قائم متعدد تعلیمی تحقیقی اور رفاہی اداروں پر مشتمل ایک ہیئت منتظمہ  کا نام ہے مجلس کے زیر انتظا م چلنے والے اداروں کا مختصر تعا رف بھی پیش کرنا مقصود ہو تو اس لئے بیسیوں صفحات در کا رہوں گے قارئین مجلہ "محدث "گا ہے بگا ہے ان اداروں سے واقفیت حاصل کرتے رہے ہیں لیکن شائد باقاعدہ تنظیمی ہیئت کی صورت میں بہت کم حضرا ت کو اس کا تعارف حاصل ہے ۔
ذیل میں صرف اداروں کے نام تحریر کئے جا تے ہیں "تفصیلی تعارف "دلچسپی رکھنے والے حضرات متعلقہ شعبے کے دفتر سے حاصل کر سکتے ہیں ۔
تعلیمی ادارہ جا ت
تحفیظ القرآن کی (3مقامات پر 10کا سیں ) مدرسہ رحمانہ کلیہ الشریعہ کلیۃ القرآن الکریم المعہد العا لی للشریعہ والقضاء سوشل سائنسز کا لج کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر ۔
برا ئے خواتین :تعلیم و تر بیت کے لیے حلقہ ہا ئے بصیرت اور مرا کز تعلیم بالغا ت تعلیم اطفا ل کے ضلع شیخوپور ہ انڈسٹریل ہو م
تبلیغی اور تحقیقی شعبے
مکتبہ رحمانیہ ،رحمانیہ کیسٹ ،لا ئبریری ،اسلامک  کمپیوٹر ریسرچ سنٹر ،ماہنامہ "محدث "لا ہو ر ہفت روزہ "رشد" لا ہو ر ادرہ عمارۃ المساجد واصلا ح المدارس
رفا ہی ادارے :۔
اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ و شعبہ طب وصحت خواتین یو تھ ونگ خدمت خلق کے لئے سیلاب فنڈ اور مجا ہدین فنڈ :۔
یہ امر خصوصیت سے قابل ذکر ہے کہ اراکین و کا ر کنان مجلس میں مرد حضرا ت کے ساتھ خواتین کی ایک کثیر تعداد بھی شریک عمل ہے تا ہم اختلا ط سے بچنے کے لیے دونوں ونگ مستقل ہیں دونوں حلقوں میں دینی پس منظر رکھنے والے حضرات کے ساتھ ساتھ جدید اسلامی ذہن رکھنے والے حضرات کا ایک بڑا طبقہ شامل ہے علاوہ ازیں مردوں کے حلقے میں مو ثر کا م ہو نے کے ساتھ ساتھ خواتین کے کا م میں بھی اسی قدر سر گرا م پا ئی جا تی ہے مجلس کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اسے معاشرہ کے تمام طبقوںمیں پذیر ائی حاصل ہے بالخصوص اعلیٰ طبقہ جسے عموماً دینی حلقے نظر انداز کر دیتے ہیں خواتین و حضرا ت کا ان میں بھی ایک موثر کا م ہے چنانچہ ان تحقیقی تعلیمی اور رفاہی سرگر میوں میں مقتدر طبقہ کے سر کا ری افسران وکلا ء و قانون دان اور اعلیٰ عدلیہ کے نمایاں حضرات شامل ہیں ۔
صحافتی میدا ن میں ادارہ سے تین پرچے شائع ہو تے ہیں ۔
ماہنامہ محدث :علمی و تحقیقی سر گرمیوں کا تر جمان عرصہ چھبیس سال سے علم و تحقیق کے میدا ن میں نما یاں خدمات کا حا مل ۔
ہفت روزہ رشد: رفا ہی تعلیمی شعبوں کی رپورٹوں کے علاوہ طلبہ کی سر گر میوں اور ہلکی پھلکی دینی تعلیمات کا پرچا ک : (پانچ سال سے جا ری شدہ)
البلا غ المبین :باقاعدہ اشاعت کی بجا ئے مختلف حساس مو ضوعات پر منتخب تحریروں کا مجموعہ
اس تمہید کے بعد درج ذیل سطور میں مارچ 1995ءمیں مجلس کی سر گر میوں کی ایک مختصر رپورٹ پیش کی جا تی ہے۔
ادارے سے منسلک حضرات اور کار کنان کے لیے عید الفطر کی منا سبت سے "عید ملن پارٹی "کا اہتمام کیا گیا جو 17مارچ 1995ء بروز جمعہ نماز عصر کے بعد منعقد ہو ئی ۔ مردانہ ونگ اور خواتین  اورو نگ دونوں کی طرف سے ایک  ہی روز الگ الگ اجتماعات کا انتظام ہوا ۔
اسلامک سنٹر ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام مرد خواتین کی ایک بڑ ی تعداد (250مرد اور 259 کے قریب خواتین ) نے اس میں بھر پور شر کت کی مجلس کے صدر دفتر کے سامنے وسیع پلا ٹ میں دو مختلف مقامات پر دو مستقل پرو گراموں کی صورت میں یہ اجتماعات منعقد ہو ئے جن میں مرد اور خواتین نے علاحدہ علاحدہ اپنا ایجنڈا مکمل کیا ۔
پرو گرا م مردانہ ونگ :۔
جہاد افغا نستا ن کے معروف رہنما جنرل حمید گل جس میں مہمان خصوصی تھے اور سابق چیف جسٹس لا ہو ر ہا ئی کو رٹ اور چیر مین اپیلیٹ شریعت بننچ آف سپر یم کو رٹ جسٹس محمد رفیق تا رڑ کی صدارت تھی ۔یوں تو تمام حضرات نمایاں حیثیت کے حا مل تھے جن میں چو ہدری شجا عت حسین (سابقہ وزیر داخلہ )جسٹس خلیل الرحمن خان (وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد ) جسٹس قربان صادق اکرام (بینکنگ ٹر یبونل جسٹس عبد الحفیظ چیمہ (لا ہو ر ہا ئی کو رٹ ) جسٹس (ریٹا ئر ڈ ) خلیل الرحمٰن چو ہدری ڈا کٹر خا لد علوی (ڈا ئرایکٹر شیخ زید اسلامک سنٹر ) الطا ف حسن قریشی (مدیر ماہنامہ "اردوڈائجسٹ مجیب الرحمٰن شامی (مدیر ہفت روز ہ "زندگی "لا ہور ) نصراللہ  خلزئی (ہفت روزہ "تکبیر" ) شوکت کا ظمی (صدر الائیڈبنک آف پاکستان ) میاں عامر محمود (چیئر مین پنجاب گروپ آف کالجز ) پرو فیسر عبد الجبار شاکر (ڈائریکٹر پنجاب لا ئبریریز ) جا وید احمد غامدی (ماہنامہ "اشراق "لا ہور ) اور متعدد علمی کتابوں کے مصنف مو لا نا عبد الرحمن کیلا نی قابل ذکر ہیں ۔
قاری محمد ابرا ہیم میر محمدی ( پر نسپل کلیۃ القرآن ) کی تلا وت سے پرو گرا م کا آغاز ہوا پر سوز انداز میں کی گئی اس تلا وت نے حاضرین پر وجد آفرین صورتحال پیدا کردی بعد ازاں مجلس تحقیق اسلامی کے ڈائریکٹر مو لا نا حافظ عبد الرحمٰن مدنی نے نہا یت مختصر انداز میں اداروں اور کا موں کی ایک جھلک پیش کی جو وقت کی کمیکے باعث تشنگی کا احساس دیتی تھی اس کے بعد ڈا کٹر خالد علوی نے نہا یت علمی انداز میں اسلام اور سیکولر ازم کے تقابل پر مشتمل مقالہ پیش کیا ۔گہرائی اور گیرا ئی کے باوجود آپ کی تقر یر نے حاضرین کی تو جہ اپنی طرف مبذول کئے رکھی ۔پرو فیسر عبد الجبار شاکر نے بڑی خوبی سے سٹیج سیکرٹرکے فرا ئض انجا م دئیے اور درمیان میں گا ہے بگا ہے اپنے تا ثرا ت کا اظہار کرتے رہے ۔
آخر میں جنرل حمید گل صا حب نے ملکی اور ملی صورتحا ل کا ایک جا ئزہ پیش کر کے اہل وطن کو امید بند ھا ئی اور بڑی حوصلہ افزاباتوں سے نوازا ۔
جسٹس (ریٹا ئر ڈ ) محمد رفیق تا رڑ کے تشکر آمیز کلمات اور جسٹس (ریٹا ئر ڈ خلیل الرحمٰن خان کی خلوص سے لبریز دعا یہ پرو گرام اختتام کو پہنچا آخر میں حاضرین کے لیے پر تکلف خوردونوش کا انتظام کیا گیا ۔
اس تعارفی پرو گرا م سے چند روز قبل وہ سانحہ پیش آچکا تھا جس میں ادارہ سے خصوصی تعلق رکھنے والے مو لا نا یحییٰ صدیقی کی شہادت ہو ئی تھی شدید زخمی ہو نے والے دوسرے استا د مو لا نا قاری عبد السلام عاصم (خطیب جا مع نذیر یہ لا ہور ) بھی ادارہ سے بہت قریبی لگا ؤ رکھتے تھے ۔
دہشت گرد ی اور جان و مال کا عدم تحفظ اس وقت پاکستان کا المیہ ہے۔ اہل حضرات اس کے پس منظر سے آگاہ ہیں یہاں اس بحث کا محل نہیں لیکن اس افسوسناک موقع پر اس بات کی بھی شدید ضرورت تھی کہ دینی جما عتوں کی طرف سے اس کا پرزور نو ٹس لیا جا تا اور اس حادثہ کو اہمیت دی جا تی چنانچہ اس ضرورت کے پیش نظر ہفتہ کے روز 18مارچ کو مجلس تحقیق اسلامی کی طرف سے جملہ دینی مکا تب فکر کو اس ہم مسئلے پر غور و خوض کے لیے اور آئندہ ایسے واقعات کے سد باب کے لیے مجلس کے صدر دفتر میں مدعو کیا گیا ؛۔
اس اہم ترین میٹنگ میں اس شہادت کے مذمت کے ساتھ ساتھ دینی مسائل میں تعصب کی شدت بھی زیر بحث آئی اسی ضمن میں دینی جماعتوں پر اس طعن کہ " یہ سب فرقہ واریت کا کیا دھرا ہے "کا بھی جا ئزہ لیا گیا ۔
اللہ کی خاص عنایت کی بدولت مجلس تحقیق اسلامی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اس کی دعوت پر جملہ مکاتب فکر (قریباً25جماعتوں جس میں شیعہ حضرات اور بریلوی علماء بھی شامل تھے)
نے نہ صرف اپنے پرزور اتحاد کا علا ن کیا بلکہ مجلس تحقیق اسلامی کے ہال میں قاری عبد الحلیم کے پیچھے تمام علماء نے اکھٹے  نماز ادا کرکے عملی اتحاد و اتفاق کا ثبوت دیا اس طرح فرقہ وارانہ تشدد کے غلط پرو پیگنڈا کےکے خلا ف عمل سے جواب دیا اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے لیے ایک باقاعدہ فنڈ کا بھی اعلا ن کیا گیا جس سے شہید ہو نے والوں کے اہل و عیال کی باقاعدہ پرورش کی صورت ممکن ہو سکے ۔
اتحا د امت کے اس عظیم مظا ہرے اور سانحہ شہادت کے خلا ف منظم احتجاج کے لیے اگلے روز پریس کلب لا ہو ر میں پریس کا نفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مو لا نا حا فظ عبد الرحمٰن مدنی صاحب نے تمام جما عتوں کی طرف سے ترجمانی کے فرا ئض انجا م دئیے پیر مو رخہ 20مارچ 1995ءکے اخبا را ت نے بڑے نما یا ں انداز میں اس اتحا د کے اظہار کے لیے پریس کا نفرنس کو کو ریج دی ۔
اس میٹنگ میں اتحاد کا علا ن کرنے والی 25دینی جماعتوں میں سپا ہ صحا بہ سپا ہ محمد مرکزی و متحدہ جمعیت اہلحدیث مرکز الدعوۃ والا شاد تنظیم اسلا می پاکستان علماء کو نسل اتحا د العلماء جماعت اسلامی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ شیعہ پو لیٹیکل پا رٹی جمعیت علمائے اسلا م اور دیگر بہت سی مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔
دہشت گردی میں دینی جماعتوں کو ملوث کرنے کی سازش کے خلا ف اس اضلا س میں اتحا د امت رابطہ کمیٹی" کی تشکیل کی گئی جس کے آئندہ پروگرا موں میں متحدہ جماعتوں کی طرف سے متعدد جلسوں کی صورت میں عوام الناس سے خطاب ہو تا تھا اس ضمن میں جمعہ 24مارچ کو مسجد شہداء میں بعد از جمعہ مشترکہ جلسہ کا پروگرا م طے ہوا ۔جو بعد ازاں اسلام آباد میں بعض اکا بر ین کی ملا قاتوں کے نتا ئج کے انتظار کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا اس کے ساتھ ساتھ شہداء فنڈ کے لیے باضا بطہ طور پر مساجد سے فنڈ ر جمع کرنے کی مہم کی ابتداکر دی گئی۔
مو لا نا یحییٰ صدیقی شہادت کیس کی حد تک افسوسناک صورتحا ل یہ تھی کہ پو لیس نے روایتی سستی کا مظاہر ہ کرتے ہو ئے تا حا ل تفتیش کو بھی کو ئی رخ نہیں دیا تھا چنانچہ بعد کے اجلا سوں کے ذریعے انتظا میہ پر دباؤ ڈا لا گیا اخباروں میں بھی اس کیس کو زندہ رکھا گیا اور اساتذہ یو نین نے 25مارچ سے غیر معینہ ہڑتال کا بھی اعلا ن کیا جس کے نتیجے میں مو لا نا مدنی کے ہمرا ہ وزیر اعلیٰ پنجا ب کو شہید کے گھر خود حاضری دے کر مبلغ 3لا کھ روپے اور گھر کا اعلا ن کرنا پڑا اب انتظار اس بات کا ہے کہ حکومت  کب اس وعدے کو ایفا ء کرتا ہے؟
مجلس تحقیق اسلامی نے ان متنوع امور میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا یا ہوا ہے ریسرچ کسی بھی مسئلے میں بنیا دی اہمیت رکھتی ہے معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور صحیح حل کی تلا ش تک رسا ئی کے لیے تحقیق ناگزیر ہے اس لیے ان مختلف کا مو ں کے علاوہ یہ ادارہ ٹھوس علمی تحقیق میں بھی عرصہ 25سال سے باقاعدہ حصہ لے رہا ہے جس میں بہت سے علوم و فنون کی بنیا دی اہمیت کی حا مل کتب کا عربی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا جا تا ہے حا ل ہی میں انگریزی کتب کے ترجمہ کی بھی ابتدا کر دی اس کے ساتھ ساتھ جدید پیش آمدہ مسائل پر اسلام کے فیصلے سے مطلع کرنے کا کا م کیا جا تا ہے جس میں کچھ کا و شوں کو ماہنامہ "محدث " میں بھی جگہ دی جا تی ہے ۔
اس علمی و تحقیقی کا م کے لیے ایک بو رڈ قائم بھی ہے جس کی سر پرستی اب جسٹس (ریٹائرڈ) رفیق تارڑ صاحب اپنی خصوصی شفقت سے فر ما تے ہیں ۔
اس کا م کو مزید منظم کرنے کے لیے مورخہ 30مارچ 1995ء کو مفکرین و دانشور حضرات کا اہم اجلا س منعقد ہوا جس میں نامور اہل علم حضرات اور علم و تحقیق سے وابستہ افرا د نے شمولیت کی۔
شرکاء  میں جسٹس (ریٹائرڈ)محمد رفیق تارڑ،جسٹس(ریٹائرڈ) میاں محبوب احمد،جناب محمد اسماعیل قریشی ،ملک محمد نواز (سینئر ایڈوکیٹ) سید خورشید گیلانی ،مولانا رشید احمد گنگوہی،مولانا محمد شفیق مدنی،مولان عبدالرحمان  کیلانی، قاری ابراہیم میر محمدی،پروفیسر ریاض الحسن نوری،پروفیسر لعل محمد چاولہ ،چوہدری عبدالحفیظ ،پروفیسر حافظ محمد ایوب ڈاکٹر عبدالمجید اولکھ اوردیگر اہل علم نے شرکت کی۔
ابتداء میں مولانا عبدالرحمان مدنی صاحب نے ریسرچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس کا لائحہ عمل پیش کیا۔بعد ازاں یہ محفل عمومی مشاورت کا انداز اختیار کر گئی،اہم نکات درج ذیل ہیں:
1۔طے یہ پایا کہ مہینہ میں ایک بار مختلف مقامات  پر مجلس کا اجلاس لازماً منعقد ہو۔
2۔اخراجات ومالیات کے ضمن میں تجاویز زیر بحث آئیں اور اس کا ایک منظم لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت کا احساس دلایا گیا۔
3۔ٹھوس علمی تحقیق میں ادارہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے شرکاء نے اس امر کا اظہار کیا کہ عوام میں عمومی اسلامی شعور بیدار کرنے کے لئے مختصر کتابچے بھی نشر کئے جائیں۔
4۔مغربی پروپیگنڈا سے واقفیت کے لئے اس کے باقاعدہ مطالعہ کے لئے زور دیا گیا اور اس سلسلہ میں دانشوروں کے شبہات کے ازالہ اور عوامی ذہن سازی کے لئے "سیمنیار" کا پروگرام تشکیل دیا گیا۔
5۔علم وتحقیق کے نام پر مغرب کی د ھاندلی اور تعصب کا پردہ چاک کرنے کےلیے تحریر ومواد تیار کرنے  پرزور دیا گیا۔
یہ مبارک مجلس صبح 10 بجے شروع ہوکر ایک بجے ظہرانہ پر اختتام پزیر ہوئی۔
مورخہ 18مارچ کو سربراہ ادارہ سے پرسنل میٹنگ کے طور پر جنرل حمید گل تشریف لائے دو گھنٹے کی نشت میں باہمی تعاون کے امور تبادلہ خیال ہوا۔
یکم اپریل کو جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام جلسہ منعقدہ لٹن روڈ حافظ محمد مدنی صاحب نے خطاب فرمایا:
ادارہ کی رفاحی سرگرمیاں اس دوران معمول کے مطابق جاری رہیں۔نئے تعلیمی سال کی ابتداء 10 شوال سے جامعہ میں کردی گئی ہے ملک کے اطراف واکناف سے آنے والے طلبہ کے ذوق وشوق کے بالمقابل جامعہ کی عمارت کو تنگ دامانی کا شدت سے سامنا ہے۔
تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کاروائیوں سے مطلع ہونے کےلئے دوسرے مجلہ "رشد" (ترجمان جامعہ لاہور الاسلامیہ) کا مطالعہ کریں۔