امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  تصنیف و تا لیف کے "سلسلہ الذہب" کی ایسی درخشندہ و تا باں کڑی ہیں جن کی ضیا پا شیا ں افق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادرا ک کی فراوانیوں اور فضل و کمال کی وسعتوں سے کشورذہن مصروف استفادہ اور اقلیم قلب مشغول استفاضہ رہیں گے ۔ان کے جدا امجد شیخ الدین کو حنا بلہ کے آئمہ و اکا بر میں گردانا جا تا ہے اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد مطلق کے پر شکوہ لقب سے ملقب کیا ہے ۔امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  جو فن رجا ل کے مستند امام ہیں ۔کتاب سیرا علا م النبلا ءمیں ان کا تذکرہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
انتهت إليه الإمامة في الفقه
کہ مسائل فقہ کے حل و کشود میں وہ مرتبہ امامت پر فائز تھے۔
امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی ولا دت ایسے جلیل المرتبت خا ندا ن میں ہو ئی اور ایسے ماحول میں شعور کی آنکھیں کھولیں جہاں فضیلت و عرفان کا ہمہ گیر شامیانہ تنا ہوا تھا اور جہاں مجدوز کاوت کی خوشگوار گھٹا ئیں چھا ئی ہو ئی تھیں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے ان ہی پا کیزہ فضاؤں میں پرورش و پرواخت کی منزلیں طے کیں اور پھر اسی گلستان فضیلت کی شمیم آرائیوں میں عہد طفولیت سے نکل کر دور شباب میں قدم رکھا۔اب وہ جا دہ علم کے پر عزم را ہی تھے اور ان کی عزیمت و عظمت نے ان کو جا مع الحشیات شخصیت کے قالب میں ڈھا ل دیا تھا وہ بیک وقت عالم بھی تھے اورمعلم بھی محقق بھی تھے اور مصنف بھی مفسر بھی تھے اور محدث بھی فقیہ نکتہ ور بھی تھے اور ماہر اصول بھی مجا ہد بھی تھے اور مجتہد بھی مناظر بھی تھے اورجارح بھی حملہ آور بھی تھے اور مدا فع بھی واعظ شیریں بیاں بھی تھے اور مقرر شعلہ مقال بھی مفتی بھی تھے اور ناقد بھی شب زندہ دار بھی تھے اور سالک عبادت گذار بھی منطلقی بھی تھے اور فلسفی بھی ادیب حسین کلا م بھی تھے اور شاعر اعلیٰ مذاق بھی ۔۔۔جس طرح وہ کشور قلم و لسان کے شہسوار تھے اسی طرح قلیم سیف وسنان پر بھی ان کا سکہ رواں تھا اور ان سب کو ان کی اطاعت گزاری پر فخرتھا ۔ علوم کے سامنے قطار بنا کر کھڑے رہتے جب کسی مو ضوع پر گفتگو کرنا مقصود ہو تا تو متعلقہ علم اپنی ہمہ گیریوں کے ساتھ کو رنش بجا کر ان کے حضور میں حاضر ہو جا تا اور جب کسی معاملے کو ضبط تحریر میں لا نے کا قصد کرتے تو قلم نہا یت تیزی کے ساتھ صفحات قرطا س پر حرکت کنا ں ہو جا تا اور پھر آنا فا نا علوم و فنون کی بارش شروع  ہو جا تی اور پو ری روانی کے ساتھ مرتب شکل میں الفا ظ کا غز پر بکھیرتے چلے جا تے ۔وہ جلہ اور فرات کے سنگم میں پیدا ہو ئے تھے اور ان دونوں دریا ؤں کی روانی اور ان کی مو جیں اور اچھا لیں ان کے قلم و زبان میں سمٹ آئی تھیں ۔
وہ لو گ جنہوں نے امام صاحب کی تصنیفات و تحریرات سے برا ہ را ست استفادہ نہ کیا ہو یا ان کو استفادہ کا مو قع نہ ملا ہو ان کے سامنے امام صاحب کے مصنفانہ کما لا ت کی تصویر کشی مشکل ہے ہا ں البتہ اگر یہ لو گ چند ثا نیوں کے لیے عا لم تصور میں جا نے کی سعی کریں تو محسوس کریں گے کہ ان کے کلا م میں دریا کی روانہ آگ کے شعلے شیر کی گرج مجا ہد کی یلغار فن کار کے نغموں کا اثر و سحر پھولوں کی نزاکت و مہک شاعر کے احساسات  عا رف باللہ کا اخلا ص اور محقق کی فیصلہ کن را ئے وقار تمکنات کے تمام لوازمات کے ساتھ جمع ہیں ۔
اللہ تعا لیٰ نے ان کو اوائل شباب ہی میں ذہا نت و فطا نت اور جا معیت و بصیرت کی متا ع گرا ں بہا سے نواز دیا تھا ان کے نامور شاگرد حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  اپنے اس استاد عالی قدر کے درس اول تذکرہ کرتے ہو ئے البدایہ والنہایۃ میں رقم طراز ہیں ۔
وكان درسا هائلا ، وقد كتبه: تاج الدين الفزاري بخطه لكثرة فوائده ، وكان عمر الشيخ إذ ذاك عشرين سنة وسنتين
یعنی " ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  کا پہلا درس ایک حیرت انگیز درس تھا جس کے کثرت فوائد اور لو گوں کی حددرجہ دلچسپی کی بنا پر فتح تا ج الدین فزاری نے قلم بند کیا ۔ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی کم عمری اور جوانی کے با وصف حاضرین نے اس درس کی بے حد تحسین کی اور دل کھول کر ان کو داد دی اور اس وقت ان کی عمر بائیس برس کی تھی ۔
بو قلموں فنون اور نو ع بنوع علوم میں ان کی ہمہ گیری و ہمہ دانی کا یہ عالم تھا کہ ان کے اقران و معا صر ین بھی اس کا اعترا ف کرنے پر مجبور ہو ئے حا لا نکہ معاصرت ایک نہایت خطرنا ک زہر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ زہر جس کے ذہن و قلب میں دا خل ہو جا ئے اسے احقاق حق اور اپنے معاصر کے بارے میں مصدق مقال سے قطعی محروم کردیتا ہے لیکن امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے معاصرین نے ان کے علوم و معارف کی وسعتوں کا صاف لفظوں میں اقرار کیا ان کے معروف حریف علا مہ کمال الدین زملکا نی تھے وہ امام صاحب سے گونا گو ں اختلا ف کے باوجود واضح پیرا یہ بیان میں ان کی تعریف کرتے ہیں اس سلسلے میں "الکواکب الدیۃ فی منا قب الا مام المجتہد شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ   رحمۃ اللہ علیہ  "میں ان کے الفا ظ لا ئق تذکرہ ہیں وہ کہتے ہیں ۔
وقد الآن الله له العلوم كما ألان الحديد لداود كان إذا سئل عن فن من العلم ظن الرائي والسامع أنه لا يعرف غير ذلك الفن وحكم أن أحدا لا يعرف مثله وكان الفقهاء من سائر الطوائف إذا جلسوا معه استفادوا في مذهبهم منه ما لم يكونوا عرفوه قبل ذلك ولا يعرف أنه ناظر أحدا فانقطع معه ولا تكلم في علم من العلوم سواء كان من علوم الشرع أم من غيرها إلا فاق فيه أهل والمنتسبين إليه   وكانت له اليد الطولي في حسن التصنيف
یعنی "اللہ تعا لیٰ نے ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ کے لیے تمام علوم کو اس طرح سہل اور آسان کردیا تھا جس طرح حضرت داؤد  علیہ السلام  کے لیے لو ہے کو نرم اور گدا ز فرمادیا تھا جس علم کے متعلق ان سے سوال کیا جا تا اس انداز سے جواب دیتے کہ دیکھنے اور سننے والا یہ خیال کرتا کہ اس فن میں عبور و مہارت نہیں رکھتا جب بھی کسی مذہب و فقہ کے شناور ان کی مجلس میں شریک ہو تے تو کو ئی نہ کو ئی ایسا نکتہ ان کے احا طہ علم میں ضرور آتا جس کا اس سے پہلے انہیں علم نہ ہو تا تھا ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انھوں نے کسی سے مجلس بحث و منا ظر ہ گرم کی ہوا وراس کے سامنے لا جواب ہو گئے ہوں ۔جب بھی انھوں نے علوم شرعیہ یا دیگر علوم کے بارے میں کو ئی گفتگو کی تو ہمیشہ ان علوم کے ماہرین اور ان سے انتساب رکھنے والوں سے آگے ہی باتیں کیں تصنیف و تحریر میں انہیں مہا رت تا مہ حا صل تھی ۔
امام تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  فقہ میں ھنبلی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے اور مسائل فقہیہ کی تعبیرو تشریح کے باب میں عا م طور پر ان کے سامنے فروعات و اجتہادات کا وہی ذخیرہ ہے جو حنبلی فقہاء وآئمہ کی سعی و کو شش سے مرتب و مدون ہوااس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نقطہ نظر کے مطا بق یہی وہ مدرسہ فکر ہے جو برا ہ راست کتا ب و سنت اور تصریحا ت سلف کو اپنی آغوش میں لئے ہو ئے ہے لیکن  اس کا یہ مطلب  ہر گز نہیں کہ وہ احنا ف و شوافع یا موالک کی فقہی کا وشوں سے نابلد ہیں یا اسے شائستہ التفات ٹھہرانے سے گریزاں ہیں ان کا دا من علم و معرفت اس درجے کشادہ اور وسعت پذیر ہے کہ وہ تمام تپذیبی ذخا ئر اور فقہی خزائن اس کی پلیٹ میں آگئےہیں جنہیں مختلف مکا تب فکر کے فقہاءنے سینکڑوں برس کی محنت و کا وش سے جمع کیا اور نہا یت قرینے اور سلیقے سے متون فقہ میں ترتیب دیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب وہ کسی فقہی مسئلے پر اظہار را ئے کرتے ہیں تو اس جرا ت و اعتماد کے ساتھ کرتے ہیں جو کہ ایک امام فقہ اور مجتہد عصر کے لیے مخصوص ہے۔
بہت سے  فقہی مسائل میں انھوں نے عا م فقہاء کی روش سے ہٹ کر تفرد کی را ہ اختیار کی اور ان کی تعبیر و ترجمانی میں اپنی بے پناہ علمی و فکری صلا حیتوں کا ثبوت بہم پہنچا یا اور حقیقت یہ ہے کہ یہی جا دہ مستقیم تھا یہی راہ صواب تھی اور اسی سے ان کی ژرف نگا ہی اور ان کے علم و مطا لعہ کے پھیلا ؤ کا پتہ چلتا ہے۔
القول الجلی میں مرقوم ہے کہ ابو حیا ن جب پہلی مرتبہ امام صاحب کی خدمت میں گئے تو دورا ن گفتگومیں ان کی فروانی معلومات سے ورطہ حیرت میں ڈوب گئے اور بے اختیار پکار اٹھے ۔
ما رأت عيناي مثل ابن تيمية
میری آنکھوں نے آج تک امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  ایسا غیر معمولی انسان نہیں دیکھا ۔
پھر اسی صحبت میں فی البدیہ ان کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ بھی کہہ ڈا لا ۔لیکن سلسلۃ کلام آگے بڑھا اور ایک نحوی مسئلے سے متعلق امام فن ابو حیا ن نے سیویہ کا حوالے دیا تو امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  جو ش میں آگئےاور کہا کہ قرآن مجید کے فہم و ترجمانی میں سیویہ نے اسی(80)مقالا ت پر ٹھوکر کھا ئی ہے اور ادب و نحو کے بد یہی تقاضوں سے انحرا ف کیا ہے ابو حیا ن نے نحو کے امام کے بارے میں ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  کے یہ الفا ظ سنے تو وہ ایک دم چکر ائے اور ان کی ذہانت و ذکاوت ہو کر رہ گئے ۔
قرآن مجید وہ افشر دہ نور اور سفینہ لاہوت کا آخری راز ہے جو جبرا ئیل  علیہ السلام  امین کی وساطت سے قلب رسول میں جا گزیں ہوا ۔امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  اس سے خاص تعلق خاطر اور انتہائی لگاؤ رکھتے تھے اس کے مطالب و معانی کے عمق و گہرا ئی میں غوطہ زن ہو نا اور گوہر مقصود کے حصول کے لیے تگو تا ز کرنا امام صاحب کا دل پسند مشغلہ تھا ۔اللہ تعا لیٰ کے اس آخری فرمان کے تمام پہلوؤں کو زاویہ فکر میں لا نے اور نطق جبریل علیہ السلام  کے ایک ایک قول کو حیطہ فہم میں لا نے کی غرض سے انھوں نے بہت سے تفسیری مواد کو کھنگالا اور اس سے مستفید ہو ئے اس ضمن میں "العقودالدریۃ" میں ان کے اپنے الفا ظ ملا حظہ کیجئے ۔
ربما طالعت على الآية الواحدة نحو مائة تفسير ثم أسأل الله الفهم وأقول يا معلم آدم وإبراهيم علمني وكنت أذهب إلى المساجد المهجورة ونحوها وأمرغ وجهي فى التراب وأسأل الله تعالى وأقول يا معلم إبراهيم فهمنى
یعنی " بعض اوقات ایک آیت کو سمجھنے کے لیے میں نے سو تفسیر وں کا مطالعہ کیا مطالعہ سے فارغ ہو نے کے بعد اللہ تعا لیٰ سے دعا کرتا کہ مجھے اس آیت کی سمجھ عطا فرمادیں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہو تا کہ اے آدم ابراہیم کے معلم !مجھے علم کی نعمت سے ما لا مال فر ما میں آبادی کے ہنگا موں سے دور ویرانوں میں نکل جا تا اور غیر آباد مسجدوں میں جابیٹھتا اپنی پیشانی خا ک پر رگڑ تا اور اللہ تعا لیٰ سے التجا کرتا کہ ابرا ہیم کو علم سکھانے والے مجھے بھی فہم وادراک کی دولت سے نواز!"
امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  کو ہر گو شہ علم پر کمان حاصل تھا وہ ہر فن میں امامت و اجتہاد کے مرتبے پر فائز تھےاور ان کے فضل و کمال کی وسعتیں ہر میدان تحقیق کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھیں ۔ان کی اس عبقریت و نبوغت اور بے پناہ استحضار کا اظہار شیخ تقی الدین ابن دقیق العید نے ان پنے تلے الفاظ میں کیا ہے۔
العلوم كلها بين عينيه ياخذ منها ما يريد ويدع ما يريد
"تمام علوم متداولہ ان کی نگا ہوں کی زد میں ہیں ان میں سے جس علم کو چاہتے ہیں لے لیتے ہیں اور جس کو چا ہتے ہیں چھوڑ دیتے ہیں "
اس امام عالی مقام کو اللہ تعا لیٰ نے اس خصوصیت کبریٰ سے نوازا تھا کہ وہ بحث مسائل کی تہہ اور گہرا ئی تک پہنچنے کے عادی تھے اور جس معاملے پر قلم یا زبان کو حرکت دیتے اس میں پوری طرح ڈوب کر بات کرتے ۔
 كان ابن تيمية ثم يشرع فيفتح الله عليه إيراد علوم وغوامض ولطائف ودقائق وفنون ونقول واستدلالات بآيات وأحاديث وأقوال العلماء، ونقد بعضها وتبيين صحته أو تزييف بعضها وبإيضاح حجته واستشهاد بأشعار العرب وربما ذكر ناظمها، وهو مع ذلك يجري كما السيل ويفيض كما يفيض البحر
یعنی" امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  جب درس و کلام کا آغاز کرتے تو اللہ تعا لیٰ ان کے لیے علوم کے اسرار و غوامض کے دروازے کھول دیتے اور طا ئف و دقائق علمیہ اور نکا ت فنون کے کواڑ ایک ایک کر کے ان کے سامنے واکر دیتے ہر شے ان کی نگا ہ نکتہ بین کا ہدف ہو تی اور وہ نہا یت تیزی سے آیا ت قرآن اور احادیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے استدلال اور آئمہ فنون اور شعار عرب سے استشہاد کرتے جا تے ۔اور پھر اس قافلہ شواہد و امثا ل کے جلومیں یو ں چلتے کہ سیلا ب امڈآرہا ہے اور دریا مو جیں ماررہا ہے۔ 
ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  جہاں علوم شرعیہ و نقلیہ میں عبور واستحضار اور ادراک کا مل رکھتے تھے وہاں فنون عقیلہ اور فلسفہ و منطق میں بھی وہ مرتبہ کمال پر فائز تھے ۔بلکہ کہنا چا ہیے کہ وہ ان فنون کے آئمہ و اساتذہ میں ممتاز درجے کے ما لک تھے اور ان کے تمام پہلوؤں کے حل و کنودے باب میں وہ امامت و اجتہاد کی مسند اعلیٰ پر متمکن تھے وہ اس مشکل ترین مو ضوع میں کسی کو اپنا حریف اور مد مقابل نہیں سمجھتے ۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ارسطو کی منطق کی برملا دھجیاں بکھیریں اور اس کی حکمت و دا نش کے قصر رفیع کو دلا ئل قطعیہ کے زور سے زمین بوس کیا اور اس پر ایسے انداز سے کڑی اور چھبتی ہو ئی تنقید کی جو کثرت معلومات کی رو شنی میں وہی کر سکتے تھے دوسرا کو ئی نہیں ۔
لیکن یہ یاد رہے کہ انھوں نے ارسطو یا دیگر فلا سفہ و اہل منطق کو جس مسئلے میں ہدف تنقید اور نشانہ اعترا ض ٹھہرا یا ہے وہ مسئلہ الہیا ت ہے ۔منطق و حکمت کے باقی مسائل میں وہ اصحا ب حکمت و دا نش کی تعبیر و تشریح کو قرین صحت قرار دیتے تھے ۔چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں ۔
منهم نعم لهم الطبيعات كلام غالبه جيد وهو كلام كثير واسع ولهم عقول عرفوا بها ذلك وهم قد يقصدون الحق لا يظهر عليهم لكنهم جهال بالعلم الالهي الى الغاية ليس عندهم منه الا قليل كثير الخطأ
یعنی "فلا سفہ نے طبعیات سے متعلق جو بحث کی ہے اس کا زیادہ حصہ بہت عمدہ ہے اور بڑی وسعت و تفصیل پر محیط ہے ان مبا حث کو احاطہ فہم اور دائرہ علم میں لا نے کے بارے میں یہ لو گ زرخیز ذہن و دما غ کے ما لک ہیں بہت سے امور میں وہ حقیقت و ہ صدا قت کے متلا شی ہیں اور ضد وعناد سے انہیں کو ئی سرو کا ر نہیں ۔
سورہ اخلا ص کی تفسیر میں بھی طبعیات سے متعلق وہ فلا سفہ دحکمائے یو نان کی معرکہ آرائیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس ضمن میں ان کی جو دت طبع اور رسائی فہم کو واضح الفاظ میں خرا ج تحسین پیش کرتے ہیں لکھتے ہیں ۔
لكن لهم معرفة جيدة بالأمور الطبيعية، وهذا بحر علمهم، وله تفرغوا، /وفيه ضيعوا زمانهم،
یعنی "امور طبعیہ میں انہیں خوب دسترس حاصل ہے کیوں نہ ہو۔ یہی ان کا میدا ن فکر اور مو ضو ع خاص ہے اور اسی پر بحث و غور میں انھوں نے عمریں کھپائی ہیں ۔
طبعیات کے متعلق فلا سفہ نے جوکا  رہا ئے نما یا ں سر انجا م دئیے ہیں اور اس کے بر عکس الہیا ت کے سلسلے میں جو ٹھوکر یں کھا ئی ہیں ان کو امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی متعدد تصانیف میں بیا ن کیا ہے ایک جگہ ان مسائل کے بارے میں ان کے دا ئرہ فکر کے در میان خط امتیا ز کھینچتے ہو ئے فر ما تے ہیں :۔
للمتفلسفة في الطبيعيات خوض وتفصيل تميزوا به، بخلاف الإلهيات فإنهم من أجهل الناس بها، وأبعدهم عن معرفة الحق فيها، وكلام أرسطو معلمهم فيها قليل كثير الخطأ،
"مسائل فلسفہ  کو حرزجان بنا نے والے لو گ امور طبعیہ میں تو خوب غور و خوض کرتے ہیں اور اس موضوع کی تفصیلا ت معرض بیان میں لا نےمیں ید طو لیٰ رکھتے ہیں اور بلا شبہ اس میں وہ ممتاز درجہ کے حا مل ہیں لیکن اس کے بر خلا ف الہیات کے بارے میں جا ہل مطلق اور جادہ حق سے ہٹے ہو ئے ہیں اس ضمن میں ان کے معلم ارسطو سے جو کچھ منقول ہے وہ اگر چہ بہت تھوڑا ہے تا ہم اغلا ط اور خطا سے پر ہے ۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کا کہنا ہے کہ خود فلسفہ یو نان کے اساطین و ماہرین اس حقیقت کا اعترا ف کرتے ہیں کہ علوم الہیہ کے بارے میں ان کا دائرہ علم بہت محدود اور سمٹا ہوا ہے ان مسائل کے متعلق وہ جو کچھ کہتے ہیں اصل حقیقت اس سے لا زماً متصادم ہو گی اس کی تہہ تک پہنچنے کے تقاضے
ہمارے نقطہ فکر سے بہت حد تک مختلف ہو ں گے اور یقین کی حدوں تک رسائی کے ذرائع ان امور کے طا لب ہو ں گے جو ہماری نظروں کے دوائرسے اوجھل ہیں ۔
یہ مو ضوع جہاں بے حد دلچسپ اور لا ئق اعتناء ہے وہاں اس کی تفصیلا ت انتہا ئی دقیق فنی نوعیت کے مبا حث کو اپنے اندر سمیٹے ہو ئے ہیں مطلب و مقصد یہ ہے کہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  حکمت و دانش اور فلسفہ و منطق پر معترض نہیں وہ بطور   علم اس کے حصول کو ضروری قرار دیتے ہیں اگر اس علم کو حاصل کرنا غلط یا خلا ف شرع ہو تا تو وہ خود اسے کیوں حاصل کرتے ؟اس میں ان نزدیک جو باتیں جادہ صواب سے ہٹا کر راہ خطا پر لے جا نے کا باعث بنتی ہیں وہ غلط ہیں اور ان سے آگا ہ ہو نا ضروری ہے فلسفہ و حکمت کا وہ حصہ جو الہیات کے واضح اور دو ٹوک مسئلے پرتشکیک وار تیاب کے درا زے کھو لتا اور انسان کو الحاد و زند قہ کی وادی میں دھکیلتا ہے اسے کو ئی صحیح العقید ہ شخص ایک لمحے کے لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہو سکتا ہمارے لیے قابل عمل اور شائستہ التفات کتا ب و سنت اور مسلک اسلا ف ہے فلسفہ و حکمت کا جو حصہ اس سے متصادم ہو گا وہ ہر گز تسلیم نہیں کیا جا ئے گا ۔اس ضمن میں ہم ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  سے ہم آہنگ ہو کر مو لا نا ظفر علی خان کے الفاظ میں کہیں گے کہ ع۔
ارسطو کی حکمت ہے یثرب کی لو نڈی
فلاطون ہے طفل دبستان احمد
ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے شیخ محی الدین ابن عربی کے افکار و تصورات اور ان کے نظر یہ وحدت الوجود کو بھی موضوع بحث ٹھہرا یا لیکن وہ ابن عربی اور اس دور کے وحد ت الوجود کے دیگر مدعیوں کو دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرتے ہیں جلا ء العینین میں ابن عربی کے بارے میں ان کے ایک خط کے یہ الفا ظ لا ئق ملا حظہ ہیں ۔
لَكِنَّ ابْنَ عَرَبِيٍّ أَقْرَبُهُمْ إلَى الْإِسْلَامِ وَأَحْسَنُ كَلَامًا فِي مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ فَإِنَّهُ يُفَرِّقُ بَيْنَ الظَّاهِرِ وَالْمَظَاهِرِ فَيُقِرُّ الْأَمْرَ وَالنَّهْيَ وَالشَّرَائِعَ عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ وَيَأْمُرُ بِالسُّلُوكِ بِكَثِيرِ مِمَّا أَمَرَ بِهِ الْمَشَايِخُ مِنْ الْأَخْلَاقِ وَالْعِبَادَاتِ وَلِهَذَا كَثِيرٌ مِنْ الْعِبَادِ يَأْخُذُونَ مِنْ كَلَامِهِ سُلُوكَهُمْ....الخ
یعنی" ابن عربی دوسرے مدعیان وحدیت الوجود میں سے اسلام سے قریب تر ہیں اور ان کا کلام بہت سے مقالا ت سے متعلق بہت بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مظا ہر اور ظا ہر کے در میان فرق کے قائل ہیں امر و نہی اور احکام و شرائع کو اپنی جگہ پر رکھتے ہیں مشائخ نے جن اخلا ق و عبادا تپر عمل کی تا کید فر ما ئی ہے ان کو اختیار ات کرنے کی تلقین و تا کید کرتے ہیں لہٰذا بہت سے عبادت گزار لو گ ان کے کلا م سے اخذ سلوک کرتے اور اس سے رو حا نی نفع حاصل کرتے ہیں ۔اگرچہ وہ ان کے حقائق ومعارف کو اچھی طرح نہیں سمجھتے ان میں جو لو گ حقائق کا ادرک کر لیتے ہیں اور پھر ان کی موافقت کرتے ہیں ان پر ان کے کلام کی حقیقت واضح ہو جا تی ہے ۔
جلاء العینین کے اسی مقام پر ابن عربی کے بعض اقوال نقل کر کے لکھتے ہیں  :۔
وَهَذِهِ الْمَعَانِي كُلُّهَا هِيَ قَوْلُ صَاحِبِ الْفُصُوصِ وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ بِمَا مَاتَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ وَاَللَّهُ يَغْفِرُ لِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ الْأَحْيَاءِ مِنْهُمْ وَالْأَمْوَاتِ ( رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌٗ)
"یہ سب صاحب فصوص الحکم کے اقوال ہیں اللہ تعا لیٰ کو ہی علم ہے کہ ان کا خاتمہ کس چیز پر ہوا ۔اللہ تعا لیٰ تمام مسلما ن مردوں اور عورتوں زندہ اور مردوں کی مغفرت فرمائے ۔اے ہمارے پروردیگار ! ہماری اور ہمارے ان بھا ئیوں کی مغفرت فر ما دے جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ اس دنیا سے چلے گئے اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے متعلق کھوٹ نہ رکھ اے ہمارے پروردیگار !تو بڑا ہی شفقت والا مہر بان ہے۔
ہندوستان میں بھی امام تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے ساغر عرفان کے چھینٹے پڑے اور انھوں نے مئے تو حید کے جو خم لنڈھا ئے تھے کفر ستان ہند کے باشندے ان سے جی بھر کر سیراب ہو ئے اور اس کی سر شاری و سرمستی سے ان کے ظاہر و باطن کی دنیا بدلی ۔شاہ ہند علاء الدین خلجی کے عہد میں امام کے ایک قابل فخر شاگرد عبد العزیز دبیلی یہاں آئے جن کی صحبتوں سے خود بادشاہ بھی متا ثر ہوا اور اس کے امرائے کے دربار کے دیگر بہت سے لوگوں کی ذہنی کا یا پلٹ ہو ئی ۔
محمد تعلق بادشاہ کے دور میں بھی امام کے بعض فیض یا فتہ علماء و مشائخ نے قصد ہند کیا اور خود بادشاہ کے سامنے تنلیغ دین اور ترویج احکا م اسلامی کا فریضہ سر انجا م دیا جس کے انتہا ئی خوشگوار نتا ئج مرتب ہو ئے
"بر صغیر میں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی تحریک کے اثرا ت "
ایک مستقل موضوع ہے اور اہل علم کی تو جہ کا متقاضی ہے ۔
دیا ر ہند میں امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ   اور امام ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  کی قلمی کتا بیں بقول مو لا نا محمد اسحاق بھٹی (مدیر "معارف"ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور ) سب سے پہلے یہاں ایک اہل حدیث بزرگ حضرت عبد اللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ  کی تحریک پر آئیں وہ کتا بیں ان کے صاحب زادگا ن گرامی قدر مو لانا محمد مو لانا عبد الجبار مو لانا عبد الغفور غزنوی وغیرہ نے شائع کیں ۔امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی ان کتابوں کی تعداد جو حضرات غزنویہ کی سعی و کو شش سے امرتسر لا ہو ر اور دہلی میں زیور طبع سے آراستہ ہو ئیں دس تک پہنچی ہے امام ابن قیم  رحمۃ اللہ علیہ  کی کتا بیں اس کے علاوہ ہیں بر صغیرمیں سے سب پہلے امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت اور ان کی تصنیفات سے متعلق نواب محمد صدیق حسن خاں نے اظہا ر خیا ل کیا اس کے بعد لکھنؤ کے ایک مجلے "الندوۃ "میں مو لانا شبلی نعمانی نے مفصل مضمون لکھا پھر مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنےعلمی شاہکا ر "تذکرہ "میں امام صا حب  کی مساعی کا اپنے انداز خاص میں ذکر کیا ۔
1925ءمیں امام صاحب کے حا لا ت میں اردو میں اولین کتا ب "سیرت ابن  تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  مولانا غلا م رسول مہر نے لکھی ۔اس چھوٹی سی کتاب کی شکل و صورت بڑی سادہ سی تھی اور اس پر مصنف کا نام چوہدری غلام رسول مہر ایڈیٹر "زمیندار "لا ہور لکھا تھا اب یہ کتاب نایا ب اور Out of  Printہے۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی کتا بوں کے اردو تراجم کا سلسلہ لا ہور کے محلہ فاروق گنج میں رہنے والے ایک صوفی مزاج اور درویش بزرگ عبد العزیز آفندی نے شروع کیا تھا ۔یہ مو لا نا ابو الکلام کے بڑے عقیدت مندوں میں سے تھے اسی لیے انھوں نے اپنے ادارے کا نام مو لا نا کے "الہلال"کی وجہ سے "الہلال بک ایجنسی"رکھا تھا ۔کئی سال مرض فالج میں مبتلا رہے اور پھراللہ کو پیارے ہو گئے مرحوم نہایت متدین اور بلند اخلا ق تھے ۔
مکتبہ سلفیہ لا ہور نے گرا ں قدر خدمت انجا م دی کہ مصر کے ممتاز محقق و مؤرخ ابو زہرۃ کی ضخیم عربی کتاب"امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کا سید رئیس احمد جعفری مرحوم سے ترجمہ کرا یا اور شیخ الحدیث مو لا نا عطا ء اللہ حنیف بھو جیانی نے ہراز معلومات حواشی کے ساتھ اسے شائع کیا۔
مو لا نا سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنے سلسلے "دعوت و عزیمت "کا ایک حصہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  اور ان کی علمی و فکری مساعی کے لیے وقف کیا بلا شبہ ان کا یہ بہت بڑا کا ر نامہ ہے اور اپنے نہج خاص کی یہ بہترین کتاب ہے ۔
عقلیات ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے نام سے مو لا نا محمد حنیف ندوی مرحوم نے پا نچ سو سے زائد صفحات پر محیط کتاب تصنیف کی۔ اس میں امام صاحب کے فلسفہ و دا نش اور منطق و حکمت  پر بحث کی گئی ہے مو لا نا کا کمال یہ ہے ۔کہ انھوں نے فلسفے کے دقیق اور پیچ مسائل کو ادب کے سانچے میں ڈھا ل دیا ہے یہ کتا ب ادارہ ثقافت اسلامیہ ابو الحسن ندوی نے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے آثا ر قلم کی تعداد پانچ سو بتا ئی ہے لیکن ایک اور محقق نے تین سواور دوسرے نے ان کی تعداد ایک ہزار تک بیا ن کی ہے بہت عرصہ پیشتر سیرت ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کے نام سے ہندوستان کے ایک صاحب قلم پرو فیسر محمد یو سف کو کن نے ایک کتا ب سپرد قلم کی جو بلا شبہ لا ئق استفادہ ہے۔
مو لا نا محمد اسحاق بھٹی کے الفا ظ میں مو لا نا ابو الکلام آزاد اور امام ابن تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  دو نوں قلم میں بڑ ا زور ہے دو نوں میں تیزی اور شدت ہے اور دونوں کی مجبوری تھی کہ ان کے ادوار کے حا لا ت ایسا تقاضا کرتے تھے اور اسی کے پیش نظر کہنا چا ہی کہ اگر امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  اردو میں لکھتے تو ابو الکلام آزاد کا لب و لہجہ اختیا ر کرتے اور اگر ابو الکلام عربی کو اظہا ر افکار کا ذریعہ قرار دیتے تو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  قلم مستعار لیتے ۔