ازل سے ملتا ہے مجھ کو ذوق  لطف ربانی مرا دل بن گیا ہے مرکز انوار یزدانی
اسی نے نور بخشا ہے نگاہوں کو بصیرت کا جلاتا ہے وہی انساں کے دل میں شمع ایمانی
وہ دیتاہے دل کو آرزو فقر رسالت کی سکھائے ہیں اسی نے ہم کوانداز جہاں بانی
وہی کرتاہے روشن لطف سے تاریک سینوں کو نظر کو بخش دیتاہے کرم سے نور عرفانی
شعورذات کی دولت عطا کرتاہے انساں کو اسی کے در پہ جھکتی ہے شہنشاہوں کی پیشانی
اسی کی جلوہ فرمائی نظر کو خیر ہ کرتی ہے اسی کے حسن نے بخشا ہ دل کو سوز  پنہانی
سوارقلب میں ہوتاہے روشن نور کا جلوہ شعور ذات سے اس کی خردہےمحوحیرانی
اسی کا نور جلوہ گر ہوا اقصائے عالم میں اسی کے نور سے ملتی ہے تاروں کودرخشانی
میرے اشعار ہیں اسرار آئینہ  صداقت کا
میں وجدان تقدس سے ہی کرتا ہوں ثنا خوانی!