ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اک نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔تقریر سے مراد ایسے امور ہیں کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیے گئے لیکن آپ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی بلکہ خاموش رہ کر ا س پر اپنی پسندیدگی کا اظہارفرمایا:ان تینوں کے قسم کے علوم نبوت کے لئے بالعموم چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں:خبر،اثر،حدیث اورسنت۔
خبر:ویسے تو ہر واقعے کی اطلاع اور حکایت کو کہا جاتا ہے۔مگر آنحضرت   صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے لئے بھی ائمہ کرام اور محدثین عظام نے اس کا استعمال کیا ہے۔ اور اس وقت یہ حدیث کے مترادف اور اخبار الرسول کے ہم معنی ہوگا۔
اثر: کسی چیز کے بقیہ اور نشان کو کہتے ہیں،اورنقل کو بھی"اثر" کہا جاتا ہے۔اس لئے صحابہ وتابعین سے منقول مسائل کو"آثار" کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آثار کا لفظ مطلقاً بولا جائے گا۔تو اسے مراد آثار صحابہ وتابعین ہوں گے لیکن جب اس کی اضافت رسول کی طرف ہوگی یعنی"آثار الرسول" کہا جائے گا تواخبار الرسول کی طرح آثار الرسول بھی احادیث الرسول کے ہی ہم معنی ہوگا۔
حدیث: کے معنی گفتگو کے ہیں اور اس سے مراد وہ گفتگو اور ارشادات ہیں جو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان سے مبارک سے نکلے۔[1]سنت ،عادت اور طریقے کو کہتے ہیں اور اس سے مرادعادات واطوار رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  مراد ہیں۔اس لیے جب سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  یا سنت ر سول  صلی اللہ علیہ وسلم  کہیں  گے تو اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ہی کے عادات واطوار ہوں گے۔
اول الذکر دو لفظوں(خبر اور اثر) کے مقابلے میں ثانی الذکر الفاظ(حدیث اور سنت) کااستعمال علو م نبوت کے لیے عام ہے۔اور اس میں اتنا خصوص پیدا ہوگیا ہے کہ جب بھی حدیث یا سنت کا لفاظ بولاجاتا  ہے۔تو اس سے مراد نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال وافعال اورتقریرات ہی مراد ہوتے ہیں۔اس مفہوم کے علاوہ کسی اور طرف ذہن  منتقل ہی نہیں ہوتا۔
اگرچہ بعض لوگوں نےحدیث اورسنت کے مفہوم میں بھی فرق کیا ہے کہ سنت سے مراد آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اعمال وعادات ہیں اور حدیث سے مراد اقوال اور بعض لوگوں نے اس سے بھی تجاوز کرکے یہ کہا کہ آپ کے اعمال وعادات عرب کے ماحول کی  پیداوار تھیں،اس لئے ان کا اتباع ضروری نہیں۔صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال قابل اتباع ہیں۔لیکن یہ دونوں باتیں  صحیح نہیں۔محدثین کہتے ہیں:۔
"اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اطاعت واتباع کا مطلقاً حکم فرمایا ہے اور اسے کسی چیز سے مقید(مشروط) نہیں کیا ہے۔جس طرح اس  نے ہمیں اپنی کتاب(قرآن مجید) کی اتباع کا حکم دیا ہے اور اللہ نے یہ نہیں کہا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بات تم اس وقت مانو جب وہ اللہ کی کتاب کے موافق ہو،جس طرح اہل زیغ کہتے ہیں"
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
من قال: تعرض السنة على القرآن، فإن وافقت ظاهره، وإلا استعملنا ظاهر القرآن وتركنا وتركنا الحديث، فهذا جهل؛
(اختلاف الحدیث برحاشیہ کتاب "الام" ج7،ص45،دارالشروق ،بیروت)
یعنی"قبولیت حدیث کو موافقت قرآن سے مشروط کرنا جہالت(قرآن وحدیث سے بے خبری ) ہے"
اور امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
قال ابن قيم الجوزية رحمه الله: "وَالسُّنَّةُ مَعَ الْقُرْآنِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ:
أَحَدُهَا : أَنْ تَكُونَ مُوَافِقَةً لَهُ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ ؛ فَيَكُونُ تَوَارُدُ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ عَلَى الْحُكْمِ الْوَاحِدِ مِنْ بَابِ تَوَارُدِ الْأَدِلَّةِ وَتَظَافُرِهَا.
الثَّانِي : أَنْ تَكُونَ بَيَانًا لِمَا أُرِيدَ بِالْقُرْآنِ وَتَفْسِيرًا لَهُ.
الثَّالِثُ : أَنْ تَكُونَ مُوجِبَةً لِحُكْمٍ سَكَتَ الْقُرْآنُ عَنْ إيجَابِهِ أَوْ مُحَرِّمَةً لِمَا سَكَتَ عَنْ تَحْرِيمِهِ ، وَلَا تَخْرُجُ عَنْ هَذِهِ الْأَقْسَامِ.
فَلَا تُعَارِضُ الْقُرْآنَ بِوَجْهٍ مَا ، فَمَا كَانَ مِنْهَا زَائِدًا عَلَى الْقُرْآنِ فَهُوَ تَشْرِيعٌ مُبْتَدَأٌ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَجِبُ طَاعَتُهُ فِيهِ ، وَلَا تَحِلُّ مَعْصِيَتُهُ ، وَلَيْسَ هَذَا تَقْدِيمًا لَهَا عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، بَلْ امْتِثَالٌ لِمَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ طَاعَةِ رَسُولِهِ، وَلَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُطَاعُ فِي هَذَا الْقِسْمِ لَمْ يَكُنْ لِطَاعَتِهِ مَعْنًى ، وَسَقَطَتْ طَاعَتُهُ الْمُخْتَصَّةُ بِهِ ، وَإِنَّهُ إذَا لَمْ تَجِبْ طَاعَتُهُ إلَّا فِيمَا وَافَقَ الْقُرْآنَ لَا فِيمَا زَادَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ طَاعَةٌ خَاصَّةٌ تَخْتَصُّ بِهِ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ?مَنْ يُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ?"اهـ
(النساء:80)(اعلام الموقعین،ج2ص314،بتحقیق عبدالرحمان الوکیل)
"یعنی حدیثی احکام کی تین صورتیں ہیں:
 ایک تو وہ جو من کل الوجوہ قرآن کے موافق ہیں،
دوسرے وہ جوقرآن کی تفسیر اور بیان کی حیثیت رکھتے ہیں،
تیسرے وہ جن سے کسی چیز کاوجوب یا اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے درآں حال یہ کہ قرآن میں اس کے وجوب یا حرمت کی صراحت نہیں ہے۔
احادیث کی یہ تینوں قسمیں قرآن سے معارض نہیں ہیں۔جو حدیثی احکام زائد علی القرآن ہیں،وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی  تشریعی حیثیت کو واضح کرتے ہیں یعنی ان کی تشریع وتقنین آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف سے ہوئی ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت واجب ہے اور نافرمانی حرام ہے اور اسے تقدیم علی کتاب اللہ نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ اللہ کے اس حکم کی فرماں برداری ہے جس میں اس نے ا پنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت  کا حکم دیا ہے اگر اس (تیسری) قسم میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی جائے اور یہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت صرف انہی باتوں میں کی جائے جو قرآن کے موافق ہوں گی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کا حکم بے معنی ہوکررہ جاتا ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وہ خاص اطاعت ہی ساقط ہوجاتی ہے۔جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔( مَنْ يُطِعْ الرَّسُول فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه)"
حدیث کی اس تیسری قسم(زائد علی القرآن) ہی کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی اپنی اُمت کو تنبیہی انداز میں فرمایاتھا:
ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه (الحدیث)
(رواہ ابو داود،والدارمی(مشکوۃ:باب الاعتصام)
"خبر دار !یاد رکھنا،مجھے قرآن بھی عطا کیاگیا اور اس کی مثل(یعنی سنت) بھی"اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہی وہ منصب ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں بیان فرمایا  گیا ہے:
﴿...وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٤٤...النحل
"اے پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وسلم )!ہم نے تمھاری طرف قرآن اس لئے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو اس کی تشریح وتبیین کرکے بتلاؤ"
چنانچہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس منصب کے مطابق  توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی ،جیسے نماز کی تعداد اور رکعات،اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیت،زکوۃ کا نصاب،اس کی شرح،اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات،قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی  یہ  تفسیر وتوضیح نبوی،امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم ہی کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نماز زکوۃ کی یہ شکلیں عہد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آرہی ہیں۔اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔
قرآن کریم کے اجمال کی تفصیل وتفسیر جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا منصب ہے،بالکل اسی طرح عمومات قرآنی کی تخصص اور اطلاقات کی تقلید بھی تبیین قرآنی کا ایک حصہ ہے۔اور قرآن کے عموم واطلاق کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے تخصص وتقید بھی فرمائی ہے اور اسے بھی امت مسلمہ نے متفقہ طور پر قبول کیا ہے۔اسے زائد علی القرآن کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا  جیسا کہ آج کل بعض گمراہ اذہان اس طرح کا مظاہرہ کررہے ہیں ذیل میں چند مثالیں ایسے عموم قرآنی کی پیش کی جاتی ہیں جن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث سے تخصیص کی گئی ہے۔
1۔قرآن کریم میں کہا گیا ہے:
﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا ...٣٨...المائدة
"چور(مردوعورت) کے ہاتھ کاٹ دو"
وَالسَّارِ‌قُ وَالسَّارِ‌قَةُ بالکل عام ہے۔ جس کے عموم  میں ہر قسم کاچور آجاتا ہے لیکن اس عموم سے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس چور کو خارج کر دیا جس نے ربع دینار سے کم چوری کی ہو:
((لا يقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ الا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِداً)).
(سنن نسائی،کتاب قطع السارق ج2،ص255)
اس حدیث سے عموم میں تخصیص کردی کہ اس سے وہ خاص چور مراد ہے جس نے ایک خاص قدروقیمت کی چیز چرائی ہو نہ کہ ہر قسم کے چور کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے جیسا کہ"آیتُ السارق" کے عموم کااقتضاء ہے۔ اس کے علاوہ چوری کے ضمن میں کچھ اور تخصیصات بھی احادیث سے ثابت ہیں نیز بعض فقہاء نے بھی بعض شرطیں عائد کرکے اس کے عموم میں مزید تخصیص کی۔مثلاً چوری محفوظ کئے ہوئے مال سے کی گئی ہو،چور مجنون نہ ہو،اضطرار کا شائبہ نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔اگرایسی صورتیں ہوئیں تب بھی چور" السَّارِقِ " کے عموم میں شامل نہیں ہوگا۔
2۔قرآن کریم کی آیت ہے۔
﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ ...٣...المائدۃ "تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون "
لیکن اس عموم میں حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تخصیص کی اور مچھلی،ٹڈی،جگر اورتلی(دوخون) حلال قرار دیے:
أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ : السَّمَكُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالْكَبِدُ ، وَالطِّحَالُ "
(سنن بیہقی بحوالہ بلوغ المرام)
حالانکہ عموم آیت کی رو سے یہ چیزیں حرام قرار پاتی ہیں۔
3۔قرآن کریم میں ہے:
﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١٤٥...الأنعام
"آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے"
اس آیت میں کلمہ حصر(الا) کے ساتھ محرمات کی تفصیل ہے جس کا اقتضاء یہ ہے کہ ان محرمات مذکورہ بالا کےعلاوہ دیگر چیزیں حلال ہوں۔لیکن اس عموم میں بھی حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے تخصیص کی گئی اور ہرذی ناب(کچلی والا) درندہ اور ذی مخلب(پنجے سے شکار کرنے والا) پرندہ بھی حرام کردیا گیا ہے۔كل ذي ناب من السباع ومخلب من الطير(اس مفہوم کی کئی روایات کتب  حدیث میں ہیں)اس  طرح حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے محرمات میں گدھے کا اضافہ کیا گیا ہے:
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأهلية
(بخاری ،کتاب المغاذی باب غزوۃ خیبر،ج3،ص204)
4۔اس طرح قرآن صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کی حرمت بیان کرتاہے۔رضاعی بیٹی کی حرمت کا اضافہ حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ہی کیا گیا ہے۔
5۔قرآن صرف دو بہنوں کو جمع کرنے سے منع کرتاہے۔خالہ اور بھانجی ،پھوپی اور بھتیجی کے جمع کرنے کی ممانعت قرآن کریم میں نہیں ہے بلکہ "وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَ‌اءَ ذَٰلِكُمْ "کے عموم سے ان کےجمع کرنے کی اباحت نکلتی ہے۔لیکن حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہی اس عموم میں یہ تخصیص کی کہ(مَّا وَرَ‌اءَ ذَٰلِكُمْ) کے حکم عموم میں خالہ بھانجی اور پھوپھی بھتیجی کو جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
6۔اسی طرح سورۃ النور میں زانی مرد وعورت کو جوسزا(الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ) میں سو (100) کوڑے بیان کی گئی ہے۔یہ عام ہے جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔ کہ ہر قسم کے لئے سو کوڑوں کی سزا ہے۔ لیکن اس آیت کے عموم میں بھی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تخصیص کردی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طرز عمل سے بھی اس کی وضاحت فرمادی کہ سورۃ النور میں جو زنا کی سزا بیان کی گئی ہے۔وہ  صرف  غیر شادی شدہ زانیوں کی ہے۔ اگر زنا کار مرد یا عورت شادی شدہ ہوں گے تو ان کی سزا سو کوڑے نہیں،جو قرآن میں بیان کی گئی ہے۔بلکہ رجم(سنگساری) ہے۔
اسی طرح اورمتعدد مقامات ہیں جہاں قرآن کے عموم کو حدیث ر سول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے خاص اورمقید کیا گیا اورجس کو آج تک سب بالاتفاق مانتے آئے ہیں۔اسی لئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا جس طرح یہ منصب ہے۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  قرآن کے مجمل احکام کی تفسیر اور تفصیل بیان فرمائیں ،جیسے نمازوں کی تعداد،رکعتوں کی تعداد اور دیگرمسائل نماز،زکوۃ کا نصاب اور اس کی دیگر تفصیلات ،حج وعمرہ اور قربانی کے مناسک ومسائل اور دیگر اسی انداز کے احکام ہیں۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ تشریعی مقام بھی حاصل ہے۔کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ایسے احکام دیں جو قرآن میں منصوص نہ ہوں جس طرح کے چند مثالیں ابھی بیان کی گئی ہیں۔انہیں ظاہر قرآن کےخلاف یا زیادہ علی القرآن یا نسخ قرآن باور کراکے رد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایسے احکام حدیثیہ کو ظاہر قرآن کے خلاف یا قرآن پرزیادتی یا قرآن کا نسخ کہنا ہی غلط ہے۔[2]یہ تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا وہ منصب ہے۔جس کا قرآن نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا مستقل حکم دے کر بیان فرمایا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُم...٥٩...النساء
"اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی"
اس آیت میں اللہ  کی اطاعت ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے۔لیکن اولی الامر کی اطاعت کے حکم کے لئے الگ " أَطِيعُوا "کے الفاظ نہیں لائے گئے۔البتہ " أَطِيعُوا اللَّـهَ "کےساتھ " أَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ "ضرور کہا،جس کا و اضح مطلب یہی ہے کہ  جس طرح اللہ کی اطاعت مستقل ہے۔ بالکل اسی طرح اطاعت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  بھی مستقلاً ضروری ہے۔تاہم اولی الامر کی اطاعت مشروط ہے،اطاعت خدا اوررسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔اگر اولی الامر اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  یا اطاعت الٰہی سے انحراف کریں تو"لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق " کے تحت ان کی اطاعت واجب نہیں رہے گی بلکہ مخالفت ضروری ہوگی۔اورآیت مذکورہ کے دوسرے حصے(فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ) سے بھی یہی ثابت ہورہاہے۔ کیونکہ اگر صرف کتاب الٰہی کو ہی ماننا کافی ہوتا تو تنازعات کی صورت  میں صرف کتاب الٰہی کی  طرف لوٹنے کا حکم دیاجاتالیکن اللہ  تعالیٰ نے کتاب الٰہی کے ساتھ الرسول کی طرف لوٹنے کو بھی ضروری قرا ر دیا۔جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی  مستقل اطاعت کے وجوب کو ثابت کررہا ہے۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس مستقل اطاعت کے حکم کو قرآن کریم نے بڑا کھول کر بیان فرمایا ہے:(أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ) کو بہ تکرار متعدد جگہ ذکر فرمایا۔مثلا سورہ نساء کے علاوہ ۔المائدہ:92۔النور:54،سورہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم : 33۔التغابن:12 وغیرہ۔نیز فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ ... ٦٤...النساء 
"ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے"
ان آیات سے واضح ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت ایک مطاع اور متبوع کی ہے جس کی اطاعت واتباع اہل ایمان کے لئے ضروری ہے۔
علاوہ ازیں آپ کو جھگڑوں میں فیصلے کےلئے حاکم اور حکم بنایا گیا ،جیسا کہ آیت مذکورہ بالا ﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ ...٥٩...النساء کے علاوہ ان آیات سے بھی واضح ہے:
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴿٦٥...النساء
﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦...الاحزاب
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حاکمانہ حیثیت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مستقل اطاعت کو ضروری قرار دیتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی آیت:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ... ٧...الحشر
میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہی منصب بیان کیا گیا ہے۔کہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جس بات کا حکم فرمائیں ،وہ لے لو(یعنی اس پرعمل کرو) اور جس سے منع فرمادیں،اس سے رُک جاؤ۔گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  امروناہی بھی ہوئے۔
اسی طرح قرآن کریم نے  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے جوفرائض منصبی بیان فرمائے ہیں۔ان میں تلاوت آیات کے ساتھ ساتھ تعلیم کتاب وحکمت کا بھی ذکی ہے﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ...١٦٤...آل عمران،﴿يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ  ﴿٢...الجمعة نیز﴿يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ...١٥١...البقرة
ظاہر بات ہے کہ یہ تعلیم کتاب وحکمت ،تلاوت آیات سے یکسر مختلف چیز ہے۔اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کامقصد بعثت صرف تلاوت آیات ہی ہوتا،اس کی تعلیم وتشریح آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذمہ داری نہ ہوتی تو قرآن،تعلیم کتاب وحکمت کے الگ عنوان سے اس کا ذکر کبھی نہ کرتا۔اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم کتاب وحکمت بھی آپ کامنصب ہے۔اور اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وہی تبیین وتشریح ہے جس کی وضاحت گذشتہ صفحات میں کی گئی ہے۔
بہرحال قرآن کریم کی بیان کردہ تفصیلات سے واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت نعوذ باللہ صرف ایک"قاصد" اور "چٹھی رساں" کی نہیں ہے۔جس طرح کے حدیث کی تشریعی حیثیت سے انکار کرکے باور کرایا جارہا ہے بلکہ آپ کی حیثیت ایک مطاع ومتبوع،قرآن کے معلم ومبین اور حاکم وحکم کی ہے۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جو فرامین صحیح سند سے ثابت ہیں ،وہ دین میں حجت اور اسی طرح واجب الاطاعت ہیں جس طرح قرآنی احکام پر عمل اہل ایمان کے لئے ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے قرآن کریم اور احادیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  میں کوئی فرق نہیں کیا۔اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ  گردانا۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا واقعہ مذکور ہے کہ انہوں نے ایک موقع پرفرمایا:
"ﻟﻌﻦ اﻟﻠﻪ اﻟﻮاﺷﻤﺎﺕ ﻭاﻟﻤﺴﺘﻮﺷﻤﺎﺕ، ﻭاﻟﻨﺎﻣﺼﺎﺕ ﻭاﻟﻤﺘﻨﻤﺼﺎﺕ، ﻭاﻟﻤﺘﻔﻠﺠﺎﺕ ﻟﻠﺤﺴﻦ والمغيرات خلق الله" 
(صحیح بخاری کتاب التفسیر :ج2،ص725)
"اللہ تعالیٰ نے گوندنے والیوں اور گوندوانے والیوں پر،چہرے  کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کےلئے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرنے والی ہیں"
حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی اس بات کا علم قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت اُم یعقوب کو ہوا،تو وہ حضرت ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس آئی اور آکر کہا کہ"مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس قسم کی عورتوں پر لعنت  بھیجی  ہے"حضرت ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:"
مالي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو في كتاب الله عز و جل ؟
"آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔اور جو کتاب اللہ کے مطابق بھی معلون ہیں" اس عورت نے کہا:" میں نے سارا قرآن پڑھا ہے،اس میں تو کہیں بھی(مذکورہ) عورتوں پرلعنت نہیں ہے،جس طرح کہ آپ کہتے ہیں"آپ نے فرمایا:"اگرتو قرآن کو (غور سے) پڑھتی تو اس میں ضروریہ آیت پاتی:
﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ... ٧...الحشر
وہ عورت کہنے لگی "ہاں یہ آیت  تو ہے"حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:"تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہی (مذکورہ) قابل لعنت چیزوں سے منع فرمایا ہے"(صحیح بخاری)
اس حدیث میں دیکھ لیجئے :حضرت ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرمان کو اللہ کا  فرمان اور کتاب اللہ کا حکم قرار دیا اور جب اس دور کی پڑھی لکھی خاتون کو بھی یہ نکتہ سمجھایاگیا تو انے بھی اسے بلا تامل تسلیم کرلیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبان  مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ قرآن ہی کی طرح وحی الٰہی کادرجہ  رکھتے تھے۔ع
گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
خود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی اپنے ایسے فیصلوں کو ،جو قرآن میں منصوص نہیں ہیں،کتاب الٰہی کافیصلہ قرار دیاہے۔جس طرح شادی شدہ زانی کی سزا حد رجم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے قرآن کے عموم میں تخصیص کرکے مقرر فرمائی، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نےاس  حد رجم کو"کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ" قرار دیا: (لا قضين فيما بينكم بكتاب الله عزوجل) (حدیث عسیف البخاری ،باب الاعتراف بالزنا ودیگر مقامات)
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے بابرکت دور کو دیکھ لیجئے!آپ کو نمایاں طور پر یہ چیز ملے گی کہ ان کے مابین مسائل میں اختلاف ہوتا تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے معلوم ہوتے ہی وہ اختلاف ختم ہوجاتا اورحدیث کے آگے سب سر  تسلیم خم کردیتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تدفین اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانشینی کے مسئلے میں اختلاف ہوا۔جب تک ان کی بابت حدیث کا علم نہ ہوا۔اس پر گفتگو ہوتی رہی لیکن جونہی حدیث پیش کی گئی،مسئلے حل ہوگئے۔تدفین کے مسئلے میں بھی اختلاف ختم ہوگیا اور جانشینی جیسا معرکہ آراء مسئلہ بھی پلک جھپکتے حل ہوگیا۔
اس طرح متعدد قضایا اورواقعات ہیں جن میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو بلا تعامل حجت شرعیہ سمجھا گیا اور اس کا علم ہوتے ہی بحث وتکرار کی بساط لپیٹ دی گئی ،عہد صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کےبعد  تابعین وتبع تابعین اور ائمہ محدثین کے ادوار میں بھی حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ تشریعی حیثیت قابل تسلیم رہی۔بلکہ کسی دور میں بھی اہل سنت والجماعت کےاندر اس مسئلے میں اختلاف نہیں رہا۔
حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی وہ تشریعی اہمیت تھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر محدثین کا ایسا  بے مثال گروہ پیدا فرمایا جس نے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی حفاظت کا ایسا سروسامان کیا کہ انسانی عقلیں ان کاوشوں کو  دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تہذیب وتنقیح کے لئے ایسے علوم ایجاد کئے جو مسلمانوں کے لئے سرمایہ صدافتخار ہیں۔اگر حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ  تشریعی اہمیت نہ ہوتی،جس طرح کہ آج کل باور کرایاجارہا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ محدثین کرام کو حفاظت حدیث کے لئے اتنی عرق ریزی اور جگر کاوی کی پھر ضرورت کیاتھی؟
مولانا حالی نے کیاخوب محدثین کو منظوم ہدیہء عقیدت پیش کیا ہے۔فرماتے ہیں۔
گروہ ایک جویا تھا علم نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا        لگایا پتہ جس نے ہر مفتری کا
نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذب خفی کا                    کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا
کئے جرح وتعدیل کے وضع قانون
نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسون
کیا  فاش  جو عیب راوی میں پایا              مناقب کو چھانا مثالب کو مایا
مشائخ میں جو قبح  نکلا بتایا     ائمہ میں جو داغ دیکھا جتایا
طلسم ورع ہر مقدس کا توڑا
نہ ملا کو چھوڑا نہ صوفی کو چھوڑا
قرآن  کریم جس قسم کا انسانی معاشرہ تشکیل دینا چاہتاہے جو تہذیب وتمدن انسانوں کے لئے پسند فرماتا ہے اور جن اقدار روایات کو فروغ دینا  چاہتاہے،اس کے بنیادی اصول اگرچہ قرآن کریم میں بیان کردیئے گئے ہیں۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کی عملی تفصیلات وجزئیات سیرت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہی نے مہیا کی ہیں،اسلئے یہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،اسوہ حسنہ،جو احادیث کی شکل میں محفوظ ومدون ہے۔ ہر دور کے مسلمانوں کے لئے ایک بیش قیمت  سرمایہ رہاہے اسی اتباع سنت اورپیروری رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے جذبے نے مسلمانوں کو ہمیشہ الحاد وزندقہ سے بچایاہے۔شرک وبدعت کی گرم بازاری ک باوجود توحید وسنت کے شعلوں کو فروزاں رکھا ہے،مادیت کے جھکڑوں میں روحانیت کے دیئے جلائے رکھے ہیں اور شرار بولہبی پر چراغ مصطفوی غالب آرہا ہے۔
آج جو لوگ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں،وہ دراصل اتباع سنت کے اسی جذبے کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں جو قرآن کریم کے بپا کردہ اسلامی معاشرے کی روح اور بنیاد ہے اور جس کے بعد انسانوں کے اس معاشرے کو،جس میں مسلمان بستے ہیں،مغربی  تہذیب وتمدن میں ڈھالنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔چنانچہ ہمارے معاشرے کا یہی طبقہ جو بدقسمتی سے ہمہ مقتدر بھی ہے،حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حجیت کا مخالف ہے اور قرآن کے نام پر مغربی تہذیب کو بڑی تیزی سے فروغ دے رہا ہے۔
پچھلے مختلف ادوار میں بھی اگرچہ انکارحدیث کا یہ فتنہ کسی نہ کسی انداز سے رہا ہے لیکن جو عروج اسے اس زمانے میں حاصل ہواہے،اس سے پیشتر کبھی نہ ہوا اور جو منظم سازش اس وقت اس کے پیچھے کارفرما ہے،پہلے کبھی نہ تھی۔
اسلام کی ابتدائی دو صدیوں کے بعد معتزلہ نے بعض احادیث کا انکار کیا،لیکن اس سے ان کامقصود اپنے گمراہانہ عقائد کا اثبات تھا۔اسی طرح گذشتہ چودھویں صدی میں نیچر پر ستوں نے احادیث کی حجت شرعیہ میں مین میکھ نکالا۔اس سے بھی ان کا مقصود اپنی نیچرپرستی کا اثبات اور معجزات قرآنی کی من مانی تاویلات تھا۔نیچرپرستوں کا یہی گروہ اب مستشرقین کی"تحقیقات ناورہ" سے متاثر، ساحران مغرب کے افسوں سے مسحور اور شاہد تہذیب کی عشوہ طرازیوں سے مرعوب ہوکرایک منظم طریقے سے قوم رسول ہاشمی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ان کی تہذیب ومعاشرت سے محروم اور اسلامی اقدار وروایات سے بیگانہ کرکے تہذیب جدید کےسانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔چنانچہ مغربی نو مسلم فاضل علامہ  محمد اسد  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:
"آج جبکہ اسلامی ممالک میں مغربی تہذیب کا اثرونفوذ بہت بڑھ چکا ہے ہم ان کے تعجب انگیز رویے میں،جن کو روشن "خیال مسلمان" کہا جاتا ہے۔ایک اور سبب پاتے ہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا اور زندگی میں مغربی تہذیب کواختیار کرنا ناممکن ہے۔پھر موجودہ مسلمان نسل اس کے لئے تیار ہے کہ ہر مغربی چیز کوعزت کی نگاہ سے دیکھے اور باہر سے آنے والے ہر تمدن کی اس لئے پرستش کرے کہ وہ باہر سے آیا ہے اور طاقت ور اور چمک دار ہے۔مادی اعتبار سے یہ افرنگ پرستی ہی اس واقعہ کا سب سے بڑا سبب ہے کہ آج احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور سنت کاپورا نظام رواج نہیں پارہا ہے۔سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ان تمام سیاسی افکار کی کھلی اور سخت تردید کر تی ہے جن پر مغربی تمد ن کی عمارت کھڑی ہے۔ اس لئے وہ لوگ جن کی نگاہوں کو مغربی تہذیب وتمدن خیرہ کرچکا ہے وہ اس مشکل سے اپنے کو اس طرح نکالتے ہیں کہ حدیث وسنت کابالکلیہ یہ کہہ کر انکارکردیں کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا اتباع مسلمانوں پر ضروری نہیں ،کیونکہ اس کی بنیاد ان احادیث پر ہے جو قابل اعتبار نہیں ہیں اور اس مختصر عدالتی فیصلے کے بعد قرآن کریم کی تعلیمات کی تحریف کرنا اورمغربی تہذیب وتمدن کی رو ح سے انہیں ہم آہنگ کرنا بہت آسان ہوجاتاہے"(اسلام ایٹ دی کراس روڈس۔بحوالہ"اسلامی مزاج وماحول کی تشکیل و حفاظت میں حدیث کا بنیادی کردار"ص42،طبع ہند لکھنو)
یہی علامہ محمد اسد"سنت" کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"سنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہی وہ آہنی ڈھانچہ ہے جس پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے اگر آپ کسی عمارت کا ڈھانچہ ہٹا دیں تو کیا آپ کو اس پر تعجب ہوگا کہ عمارت اس طرح ٹوٹ جائے جس طرح کاغذ کاگھروندا"
"یہ اعلیٰ مقام جو اسلام کو حاصل ہے،اس حیثیت سے حاصل ہے کہ وہ ایک اخلاقی،عملی،انفرادی،اوراجتماعی نظام ہے ،جو اس طریقے سے(یعنی حدیث اوراتباع سنت کی ضرورت کے انکارسے) ٹوٹ کر اور بکھر کررہ جائے گا"(مذکور)
ایسے مدعیان اسلام کی بابت ،جو اتباع رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے گریزاں اور حجیت احادیث کے منکر ہیں ،علامہ فرماتے ہیں:
"ایسے لوگوں کی مثال اس شخص کی ہے جو کسی محل میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اس کنجی کو استعمال کرنا نہیں چاہتاجس کے بغیر دروازے کا کھلنا ممکن ہی نہیں"(اسلام ایٹ دی کراس روڈس۔بحوالہ"معارف"اعظم گڑھ۔دسمبر 1934)

[1] ۔حدیث وسنت کی مذکورہ تعریفیں بعض لوگوں نے حدیث وسنت کے فرق کے طور پر کی ہیں،جس کا ذکر مقالہ نگار نے اگلے ہی پیروں میں کرکے انہیں غلط قرار دیا ہے۔کیونکہ حدیث وسنت مترادف الفاظ ہیں۔واضح رہے کہ اصطلاحی مفہوم کی لغوی مفہوم سے مناسبت یہ ہےکہ چونکہ حدیث رسول  اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے منسوب اس چیز کو کہتے ہیں جسے راوی  پیش کرتاہے گویا وہ راوی(صحابی) کی بات ہونے کے ناطے"حدیث "کہلاتی ہے۔اسی طرح سنت ،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے منسوب ہر بات کو کہتے ہیں۔
لیکن اپنے مشن کے اعتبار سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ایک ہی دفعہ کا قول وفعل(بشمول سکوت) امت کے لئے طریقہ بن جاتاہے لہذا اس تکلف کی ضرورت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کسی کام کو بار بار کریں البتہ حدیث وسنت میں اعتباری یہ فرق کیا جاسکتا ہے کہ سنت ذاتی طورپر اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا طریقہ ہے جبکہ حدیث اس کی"ردایت" کو کہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی بنیادی فرق نہیں جس طرح اسم اورمسمی ایک ہے شے ہوتے ہیں(ح۔م)
[2] ۔حدیث  میں وار د بظاہر مستقل احکامات کو "زیادۃ علی القرآن"یا نسخ  قرآن کہنا صرف ایک انداز بیان ہی ہے۔اگر احتیاط ہی ملحوظ رکھنا ہو تو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ در اصل قرآن کے احکامات کی عملی صورت کے لئے وہ ضروری تقاضے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے واضح فرمادیئے ہیں۔بعض فقہاء نے ایسے تقاضوں کے متاخر  ہونے کی بناء پر انہیں"نسخ" بھی کہہ دیا ہے۔ ورنہ قرآن وحدیث کا باہمی نسخ نہیں ہوتا۔چنانچہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  نے اسی نکتہ کی وضاحت کےلیے "الرسالہ"میں لکھا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرتی ہے۔اور نہ قرآن حدیث کو بلکہ دونوں کا تعلق اجمال وتفصیل کا ہے(ح۔م)