(پروفیسر حافظ محمد اسرائیل)

آیت نمبر:۔129:۔
﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾...البقرة
"اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے"
ندائے خلیل اور دعائے مسیحا:۔
اس آیت میں حضرت  ابراہیم علیہ السلام   کی دعا کا وہ آخری حصہ ہے۔جو آپ نے اہل حرم کے لئے فرمائی۔دعا یہ تھی کہ اے پروردیگار!میری اولاد سے ایک رسول ان میں بھیج دے۔ان کی یہ  دعا تقدیر کے عین مطابق ثابت ہوئی۔تقدیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبی متعین کرنے کی تھھی جنھیں نہ صرف امیین کی طرف بھیجاگیا  بلکہ سارے عجم اورساری کائنات کے جن وانس کے لئے مبعوث کیاگیا۔حدیث عریاض بن ساریہ  رحمۃ اللہ علیہ  میں ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"میں اللہ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تھا جب آدم علیہ السلام   بھی مٹی کے پتلے تھے۔میں تمھیں نبوت کےآغاز کی اطلاع دیتا ہوں۔میں دعا ہوں ا پنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام   کی،بشارت ہوں حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   کی اور اپنی ماں کاخواب ہوں،بالکل اسی طرح جیسے دوسرے پیغمبروں کی مائیں دیکھا کرتی تھیں"(رواہ احمد)
مراد یہ ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو لوگوں میں مشہور کیا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرعام کیا تھا وہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام   ہیں۔آپ کے ذکر مبارک کی یہ دھوم دھام لوگوں میں ہمیشہ لگاتار چلتی رہی۔حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   نے اپنی قوم میں کھڑے ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبارک نام کایہ خطبہ پڑھا:۔
﴿...إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَد... ٦﴾...الصف
"میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔"
اسی لئے مذکورہ حدیث میں یہ  فرمایا کہ میں حضرت ابراہیم  علیہ السلام   کی دعا اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام   کی بشارت ہوں۔جہاں تک آپ    صلی اللہ علیہ وسلم  کی والدہ محترمہ کے خواب کاتعلق ہے۔تووہ خواب انہوں نے زمانہ حمل میں دیکھے تھے۔اس کا ذکر انھوں نے اپنی قوم سے کیا۔یہ بات تمام لوگوں میں مشہور ہوگئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت کی تمہید بنی،بلکہ شام کی تخصیص اسی لئے ہے کہ شام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور  آپ کے دین کو استقرارنصیب ہوگا۔اسی لئے شام آخری زمانے میں اسلام اوراہل اسلام کی آماجگاہ ہوگا،وہیں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام   منارہ سفید شرقی سے نازل ہوں گے۔صحیحین میں مرفوعا آیا ہے کہ:
"میری امت کا ایک گروہ یا ایک جماعت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر لڑتی رہے گی، اور اپنے دشمن پر غالب رہے گی جو کوئی ان کی مخالفت کرے گا ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ "امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا"یہ گروہ شام میں ہوگا"
میں کہتاہوں:اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ گروہ ضرور شام میں ہوگا بلکہ شام کے ملک کاغالب امکان ہے اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے،اس حدیث سے اشارتاًیہ بشارت بھی ملتی ہے۔اسلام تاقیامت دنیا میں باقی رہے گا ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی مخالف یا دشمن اسے روئے ارض سے مٹا دے خواہ وہ قلیل تعداد(غربت) میں ہی کیوں نہ ہو۔ہرجگہ غربت بھی نہیں ہوگی(یعنی اجنبیت نہ ہوگی) بلکہ ایک گروہ کو شام یا کسی اور جگہ واضح غلبہ تام رہے گا۔
یہاں لفظ گر وہ عام ہے ،معلوم ہوا کہ جوفرقہ حق پر غالب رہے گا اس میں اہل علم اور اہل ملک دونوں شامل ہوں گے۔لہذا اسی وجہ سے جو لوگ کتاب وسنت کے عالم ہیں وہ ہمیشہ اہل بدعت اہل رائے اور اصحاب قیاس پر غالب رہتے ہیں۔اور جو بادشاہ اورروساء دین دار ہیں وہ فاسقوں فاجروں پر غلبہ رکھتے ہیں۔
ابوالعالیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام   نے یہ دعا کہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  مبعوث ہوں تو ان سےکہہ دیاگیا کہ تمھاری یہ دعا قبول ہے۔یہ ر سول صلی اللہ علیہ وسلم  آخری زمانے میں ہوگا۔سدی رحمۃ اللہ علیہ  اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ  کا بھی یہی قول ہے۔
کتاب سے مراد قرآن مجید ہے،حکمت سے مراد سنت یعنی حدیث  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔یہی رائے حسن،قتادہ،مقاتل بن حیان، اور ابو مالک رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہم کی ہے۔بعض نے کہا کہ حکمت سے مراد دین کا شعور ہے۔ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:"ان اقوال میں کچھ تضاد نہیں ہے"بعض نے  فرمایا حکمت سے مراد حق اور باطل کے درمیان تمیز  ہے۔ابن قتیبہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:"حکمت سے مراد علم وعمل ہے،آدمی اس وقت تک حکیم نہیں ہوتا جب تک یہ دونوں صفات اس میں شامل نہ ہوں۔"
ابن درید کہتے ہیں:"جو بات آپ کو نصیحت کرے،کسی نیکی کی طرف بلائے اور بری بات سے  روکے وہی بات حکمت ہے"
میں کہتاہوں:یہ سارے امور سنت مطہرہ میں شامل ہیں جس نے قرآن وحدیث کوپکڑا وہی بڑا حکیم صاحب فہم وعلم وعمل ہوا۔قرآن پاک میں جہاں کہیں لفظ حکمت آیا ہے۔اس سے مراد سنت ہے۔قرآن مجید سنت  پر عمل کی خبردیتا ہے۔سنت قرآن مجید سے وابستگی پر آمادہ کرتی ہے۔دین کے اصول یہی دو چیزیں ہیں،اجماع کا قیام نہایت ہی مشکل ہے۔اور قیاس بغیر کسی ماثورحجت کے قابل عمل نہیں ۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے  فرمایا:پاک وصاف کرنے سے مراد(تذکیہ) اللہ کی طاعت واخلاص ہے۔
محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا:"آیت کے معنی یہ ہیں کہ پیغمبر انھیں خیر اورشر کی تمیز بتاتا ہے۔اورانھیں یہ بتاتا ہے کہ اگر وہ خیر پر عمل کریں گے تواللہ ان سے راضی ہوگا اگر وہ اس کی اطاعت کریں گے تو نافرمانی سے دور رہیں گے"
عزیز اسے کہتے ہیں جسے کوئی عاجز نہ کرسکے وہ ہر چیز پر توانا ہو۔حکیم وہ ہے جس کے قول وفعل میں کوئی نقص نہ ہو دنیا کی ہر چیز کو  ا پنے علم اور عدل سے اس کے صحیح مقام پر رکھے۔کسائی نے فرمایا"عزیز کہتے ہیں غالب کو،حکیم کہتے ہیں عالم کو"معلوم یہ ہوا کہ حکیم وہ ہے جو قرآن مجید اور سنت مطہرہ کاعالم نہ ہو کہ وہ جو یونان کے فنون کے جاننے والاہو۔حکمت خوش قسمت لوگوں  کے حصے میں آتی ہے۔نہ کہ صاحب رائے اوراہل قیاس کو۔
آیت نمبر 130۔131۔132۔
﴿وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ﴿١٣٠﴾ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٣١﴾وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢﴾...البقرة
"دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے (130) جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی (131) اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولادکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا"
اللہ  تعالیٰ نے کافروں پر اس بات کی تردید کی ہے۔کہ جو تم اللہ سے شریک کرتے ہو یہ تو ملت ابراہیمی کی مخالفت ہے۔جو سارے حنفاءکے امام تھے۔انہوں نے خالص اللہ کی توحید اختیار کی اور کسی غیر اللہ کے سامنے نہ جھکے۔پل بھر بھی کبھی شرک نہ کیا بلکہ اللہ کے علاوہ ہر معبود سے بیزار ہوئے۔ساری قوم کی مخالفت مول لی۔والد سے الگ تھلگ ہوگئے۔فرمایا:
﴿...يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿٧٨﴾ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿٧٩﴾...الأنعام
"اے قوم !بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں (78) میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"
اللہ نے فرمایا:
﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ﴿٢٦﴾ إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ﴿٢٧﴾...الزخرف
"اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو (26) بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا"
پھر اللہ نے فرمایا:
﴿وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚإِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ ﴿١١٤﴾ ...التوبة
"اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وه صرف وعده کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعده کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ظاہرہوگئی کہ وه اللہ کا دشمن ہے تو وه اس سے محض بے تعلق ہوگئے، واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور برد بار تھے"
اور اللہ نے فرمایا:
 ﴿إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٢٠﴾ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٢١﴾ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿١٢٢﴾...النحل
"بےشک ابراہیم پیشوا اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک طرفہ مخلص تھے۔ وه مشرکوں میں سے نہ تھے (120) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیده کر لیا تھا اور انہیں راه راست سجھا دی تھی (121) ہم نے اسے دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بےشک وه آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں "
اسی لئے یہاں فرمایا کہ دین ابراہیم سے صرف وہی روگردانی کرتاہے جو احمق ہے۔جس نے اپنی حماقت اورسوء  تدبیر کی وجہ سے حق کو چھوڑ کر گمراہی اور ظلم کو اختیار کیا کیونکہ وہ شخص جسے اللہ نے بچپن سے ہی ہدایت وارشاد کے لئے منتخب کرلیا تھا۔پھر اسے اپنا خلیل(جانی دوست)  ٹھہرایا وہ آخرت میں بھی اہل صلاح وسعادت کے  گروہ میں ہو گا۔ان کے طریقہ ومسلک اور ملت کو چھوڑ کرگمراہی کے رستے پر چلنا اس سے زیادہ ظلم اور حماقت کیا ہوگی۔جیسے اللہ نے فرمایا"إِنَّ الشِّرْ‌كَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ"ابو العالیہ اور قتادہ نے کہا یہ آیت یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی،انہوں نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کیاتھا جو اللہ کی طرف سے نہ تھا،خود ساختہ اور وضع کردہ تھا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس پر  گواہ ہے:
﴿ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴿٦٧﴾ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٦٨﴾...آل عمران
"ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی تھے بلکہ وه تو یک طرفہ (خالص) مسلمان تھے، وه مشرک بھی نہیں تھے، (67) سب لوگوں سے زیاده ابراہیم سے نزدیک تر وه لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے،"
ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ  نےکہا:"یہود و نصاریٰ ملت ابراہیم  علیہ السلام   سے نکل گئے،یہودیت اور نصرانیت میں بدعات ایجاد کیں،ملت خلیل کو چھوڑبیٹھے تو اللہ نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو بھیجا"قتادہ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:جو آدمی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  پرایمان لانے سے منہ موڑتا ہے وہ ملت ابراہیم علیہ السلام   سے بھی منحرف ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لائے وہ عین  دعوت ابراہیم علیہ السلام   ہے"
ثابت ہوا کہ جو بات قرآن وسنت نے منسوخ نہیں کی اس میں ملت ابراہیم علیہ السلام   کی اتباع لازم ہے۔جب اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام   سے یہ فرمایا کہ"تم مخلص اور خالص فرمانبردار ہوجاؤ"توانہوں نے فی الفور شرعاً وقدر امان لیا۔ابو سعود کہتے ہیں کہ"جو مرتبہ ابراہیم علیہ السلام   کو ملا،وہ  فوری مطیع ہونے اور سر تسلیم خم کرنے کانتیجہ تھا"
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:" اللہ نے یہ حکم انہیں اس وقت فرمایاتھا جب وہ تہہ خانے سے باہر آرہے تھے،ستارے سے استدلال کرتے ہوئے سچی توحید تک پہنچے تھے۔یہ جان گئے تھے کہ یہ ستارے اور سیارے کسی محدث اور مدبر کے محتاج ہیں ۔سو جس کی طرف یہ محتاج ہیں ،وہی ان کا صانع ہے۔اسی کو ماننا اور باقی کو سب کو چھوڑ دینا چاہیے۔"ع
خلیل کعبہ ملک یقین گشت
مقرلا أُحِبُّ الآفِلِينَ  لا گشت
"خلیل کعبہ کو جب یہ یقین آگیا(کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں)توپھر انہوں نے اقرار کیا کہ میں ڈوب جانے والوں کو خدا نہیں مانتا"
توحضرت ابراہیم  علیہ السلام   نے اپنی اولاد کو اسی حکم برداری کی وصیت کی کہ تم ملت اسلامیہ پر گامزن رہنا یا اس کلمے کی وصیت کی() کیونکہ انہیں اس کلمے سے بڑی محبت تھی۔مرتے دم تک اس کی حفاظت کرتے رہے۔
قرطبی رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:کلمے سے مراد یہ ہے کہ یوں کہو ہم مسلمان ہوئے لیکن ترجیح اس بات کو ہے کہ مراد ملت حنیفہ ہے اور مطلوب بعد میں آنے والوں سے اتباع ملت ہے نہ کہ صرف کلمہ اسلام کااقرار اور اعتراف اور یہی بات حضرت ابراہیم علیہ السلام   کے حسب حال تھی۔کہتے ہیں۔یہ سب بیٹے آٹھ تھے،ان  میں  ایک اسماعیل  علیہ السلام   بھی ہیں جو سب سے بڑے تھے۔کسی نے کہا چودہ بیٹے تھے (واللہ اعلم)پھران کے بیٹے اپنی اولادکو بھی یہی وصیت کرگئے جسطرح اللہ نے فرمایا:
﴿وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٢٨﴾ ...الزخرف
"اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں "
بعض سلف نے لفظ" یعقوب " کو منصوب لفظ"بَنِيهِ" پرمعطوف ٹھہرایا ۔مطلب یہ ہواکہ ابراہیم علیہ السلام   نے اپنی اولاد اور اپنے پوتے یعقوب بن اسحاق علیہ السلام   کو یہ وصیت کی تھی کیونکہ وہ اس وقت حاضر تھے۔قشیری رحمۃ اللہ علیہ  کا یہ کہناکہ حضرت یعقوب علیہ السلام   ،ابراہیم علیہ السلام   کے بعد پیدا ہوئے،صحیح دلیل کامحتاج ہے۔
اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ اسحاق علیہ السلام   کے گھر یعقوب  علیہ السلام   ،خلیل اورسارہ کی زندگی ہی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ دونوں کی بشارت ایک ساتھ دی گئی تھی:
﴿...فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ ﴿٧١﴾...هود
"تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی"
سو اس وقت اگر یعقوب علیہ السلام   موجود نہ ہوتے تو اسحاق علیہ السلام   کے بیٹے کا ذکر کا کچھ فائدہ نہ تھا۔اللہ نے سور ہ عنکبوت ر میں فرمایا:۔
﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ...٢٧﴾...العنكبوت
"اور ہم نے انھیں (ابراہیم کو) اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی"
دوسری آیت میں یوں فرمایا:
﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ... ٧٢﴾الأنبياء
"اور ہم نے اسےاسحاق عطا فرمایااور یعقوب اس پر مزید۔ "
یہ آیتیں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ یعقوب علیہ السلام   ،خلیل علیہ السلام   کی زندگی میں موجود تھے۔
یہ  فرمان کہ تمھیں موت نہ آئے مگر اسلام پراس کا مطلب یہ ہے  کہ زندگی میں اچھی طرح پکے مسلمان اور سچے تابع فرمان بنے رہو۔حتیٰ کہ اللہ تمھیں اس  کلمے پر موت نصیب کرے۔کیونکہ آدمی غالباً اسی حالت پر مرتا ہے۔جس میں زندگی بھر مصروف رہتا ہے۔پھر اسی حالت میں وہ اٹھایا بھی جائے گا۔اللہ کی عادت کریمی یونہی جاری ہے۔کہ جو کوئی خیر کاقصد کرتا ہے تو اللہ اس کو خیر کی توفیق دیتا ہے۔خیر کو اس پرآسان کردیتا ہے۔جس نے کسی عمل صالح کی نیت کی تو وہ اس پر ثابت قدم رہے گا۔رہی یہ بات کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ:۔
"تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو کتاب کا لکھا ہوا اس پر غالب آتا ہے اور وہ جہنمیوں کے سے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو کتاب کا لکھا ہوا اُس پر غالب آتا ہے اور وہ جنتیوں کے سے اعمال کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ (متفق علیہ)
یہ حدیث اس آیت سے کچھ معارض نہیں ہے کیونکہ بعض روایات میں کچھ یوں بھی آیا ہے کہ اہل جنت کا سا عمل اور اہل دوزخ کا سا عمل بظاہر لوگوں کی نظر میں کرتاہے۔حالانکہ اللہ نے فرمایا:
﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴿٥﴾ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٦﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ ﴿٧﴾ وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ ﴿٨﴾ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ﴿٩﴾ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ﴿١٠﴾...الليل
"جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے) (5) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا (6) تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے (7) لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی (8) اور نیک بات کی تکذیب کی (9) تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے"
فضیل بن عیاض نے کہا:"مسلمانوں مرنے کامطلب یہ ہے کہ اللہ پر نیک گمان رکھو۔حدیث جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی و فات سے تین دن پہلے فرمایا کہ"کوئی شخص دنیا سے نہ جائے مگر اپنے اللہ پر نیک گمان رکھتا ہو۔"(بخاری مسلم)
آیت نمبر 133۔134۔
﴿أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٣﴾ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴿١٣٤﴾...البقرة
"کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے (133) یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے"
اللہ نے اس آیت میں اہل عرب پر یہ حجت قائم کی ہے کہ یہ اولاد اسماعیل علیہ السلام   ہیں۔ اور کفار بنی اسرائیل پر بھی کہ جب یعقوب  علیہ السلام   کو موت آئی توانہوں نے یہی وصیت کی تھی کہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرنا،اسماعیل علیہ السلام   کو آباء میں شمار کرنا بطور تغلیب کے ہے۔اس لئے کہ اسماعیل علیہ السلام   یعقوب  علیہ السلام   کے باپ نہ تھے بلکہ چچا تھے۔تحاس نے کہا۔عر ب چچا کو باپ بولتے اور خالہ کوماں کہتے ہیں حدیث  میں ہے:
عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ
چچا باپ کے بر ابر ہوتا ہے۔
(الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ )
خالہ ماں کی جگہ  پر ہوتی ہے۔
اس آیت سے بعض نے دادا کو باپ  ٹھہراکر بھائیوں کو وراثت سے محروم رکھا ہے۔بخاری نے فرمایا:ابو بکر صدیق  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا بھی یہی قول ہے۔عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ،حسن بصری  رحمۃ اللہ علیہ  ،طاوس رحمۃ اللہ علیہ ،عطاء رحمۃ اللہ علیہ ، ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  اوربہت سے متقدمین اور متاخرین علماء اسی طرف گئے ہیں۔اما مالک رحمۃ اللہ علیہ ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ،احمد رحمۃ اللہ علیہ  کاقول یہ ہے کہ بھائی ا پنا حصہ لیں گے۔عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اورایک جماعت سلف وخلف،امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ،امام محمد رحمۃ اللہ علیہ  کا بھی یہی مذہب ہے۔
خطاب یہود ونصاریٰ کو ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو ابراہیم علیہ السلام   اور ان کی اولاد  کی طرف منسوب کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ان کا دین،یہودیت اور نصرانیت ہے،اللہ نے ان کی بات کی تردید کی ۔فرمایا:تم مقتدی ہو اوران کا دین ،دین اسلام تھا ،جس میں  توحید واخلاص ہے۔
یعقوب علیہ السلام   اور عیص  علیہ السلام   جڑواں پیدا ہوئےتھے ۔ولادت میں عیص  علیہ السلام    پہلے پیدا ہوئے،بعد میں یعقوب علیہ السلام   اسی لئے ان کا نام پیچھے آنے کے سبب یعقوب علیہ السلام   رکھا گیا۔ان کے بارہ بیٹھے تھے۔اسماعیل علیہ السلام   کا نام اسحاق علیہ السلام   سے اس لئے پہلے لیاکہ وہ اسحاق علیہ السلام   سے چودہ برس بڑے تھے ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے جد اعلیٰ ہیں۔
ایک رب کہہ کر جو یہ کہا کہ ہم اسی کے حکم پر ہیں ،تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم توحید الوہیت کے قائل ہیں،اسی کے لئے مطیع ومنقاد ہیں جیسے اللہ نے فرمایا:
﴿...وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴿٨٣﴾...آل عمران
"حالانکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے"
ابن کثیر  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:اسلام سارے انبیاء علیہ السلام   کی ملت ہے۔گو انکی شریعتیں الگ الگ تھیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ﴿٢٥﴾...الأنبياء
"تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو"
اس بارے میں بہت سی آیات ہیں  حدیث میں ہے :"ہم  گروہ انبیاء علاقی اولاد ہیں،ہمارا دن ایک ہے۔پچھلی آیت کامطلب یہ ہو اکہ تمھارے آباؤ اسلاف جو انبیاء وصلحاء تھے تم اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہو،سو یہ انتساب تمھارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ جب تک تم خود نیک عمل نہ کرو۔ان کے اعمال ان کے ساتھ چلے گئے  تمھارے اعمال تمھارے ساتھ ہیں تم سے ان کے اعمال کی کچھ باز پرس نہ ہوگی تم سے تمھارے اعمال کا مواخذہ ہوگا۔ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ  اور قتادہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:اس امت سے مرادابراہیم علیہ السلام   ،اسحاق علیہ السلام  ،یعقوب علیہ السلام   اوران کی اولاد ہیں۔
فتح البیان میں ہے:اس آیت  میں ان لوگوں کارد ہے۔جو اپنے سلف صالحین کے عمل پر توقع کرکے تمنائے باطل سے اپنا جی خوش کرلیتے ہیں۔اسی لیے حدیث  میں ہے:"جس کا عمل اس کو موخرکردے،اس کا نسب اس کو آگے نہیں کرے گا"یعنی سلف صالحین کی نیکیاں تمھارے کام نہ آئیں گی نہ ان کے سئیات کا مواخذہ تم سے ہوگا۔اس میں ایسے آدمی کے نظریے کا بھی بطلان ہے۔ جو مشرکین کی  اولاد کو عذاب جائز تسلیم کرتا ہے۔کیونکہ ان کے تابع تھی۔ابن فارس نے کہا"اس میں اثبات ہے کہ بندے کا عمل ہی بندے کے کام آئے گا،اسی عمل پر ثواب وعذاب ہے۔"
آیت نمبر 135:۔
﴿وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ تَهْتَدُوا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖوَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٣٥﴾...البقرة
"یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راه پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے"
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:عبداللہ بن صوریا اعور یہودی نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہاتھا:"ہدایت صرف وہی ہے جس پر ہم گامزن ہیں سو آپ ہماری پیروی کریں ہدایت پا جائیں گے"اسی طرح عیسائیوں نے بھی کہاتھا،جس پر اللہ نے یہ آیت اتاری۔
ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت یہودی رؤسا کے حق میں نازل ہوئی جیسے کعب بن اشرف،مالک بن سیف،وھب بن یہود اور نجران کے عیسائیوں ک بارے میں نازل ہوئی  جیسے سید اور عاقب اور ان کے ساتھی جو دین میں مومنوں سے جھگڑا کرتے تھے ہر گروہ کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم حق پر ہیں،ہم ہی اللہ کے دین کے مستحق ہیں۔
اسی طرح آج مقلدین حنفی یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارامذہب حق ہے تم بھی اسی مذہب خاص کے مقلد ہوجاؤ سیدھےرستے پر آجاؤگے۔ان لوگوں کاجواب بھی وہی ہے جو اللہ نے اپنے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو سکھایاہے۔ ہم یہودیت اور نصرانیت کو جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہوآنا نہیں چاہتے بلکہ ہم ملت ابراہیم علیہ السلام   کی پیروی کرتے ہیں وہ اپنے دین میں یکسو اور مستقیم تھے۔اہل تقلید کو ہمارا یہی جواب ہے کہ ہم بھی کسی امام کی طرف آنا،کسی مذہب خاص کی تقلید کرنا اور بندوں کے بندے بننا نہیں  چاہتے۔ہم تو متبع رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں۔جن پر قرآن اترا تھا۔اس قرآن میں تقلید کی مذمت ہے،تقلید کی طرف دعوت دینا بعینہ ویسا ہے جیسا یہودیت ونصرانیت کی دعوت دینا،اس لئے کہ اصل تقلید مذہب یہود سے نکلی ہے۔قرآن مجید میں تقلید کی حکایت دو ہی فرقوں کے بارے میں بتائی گئی ہے۔ایک اہل کتاب سے دوسری مشرکین سے اس وجہ سے علمائے اسلام نے تقلید کو شرک کہا ہے،حرام بتایا ہے۔یہ تقلید اگر اصول ایمان میں ہے تو شرک باللہ ہے،اگر فروع احکام میں ہے تو شرک فی الرسالہ ہے اس طرح کوئی مقلد ساری دنیا میں معظم ومحب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نہیں ہے۔
مشرکوں نے اللہ کی یہ قدر کی کہ اس کو چھوڑ کر ہر کسی مخلوق عاجز یا مصنوعی معبود سے التجاکرنے لگے،غیر اللہ کی عبادت اختیار کرلی،معبود برحق رب مطلق توکوئی اور تھا،یہ کسی اور کے بندے ہی بنے،اللہ کا فرمان ہے:
﴿ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ ... ٧٤﴾ ...الحج
"انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں،"
مقلدین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی یہ قدر افزائی کی ان کے اقوال وافعال سے قطع نظر کرکے لوگوں کے اقوال وآراء کو سند  پکڑا،امت تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی تھی،غلام نبی اور امتیوں کی(لاحول ولا قوۃالاباللہ)
قرطبی رحمۃ اللہ علیہ  اورمجاہد وغیرھما نے کہا ہے:حنیف کہتے ہیں مخلص کو۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کافرمان ہے حاجی کو حنیف کہتے ہیں۔ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:حنیف وہ ہے جو قبلے کیطرف نماز پڑھتا ہے۔ربیع اور انس نے کہا:حنیف کہتے ہیں متبع کو۔ابو قلابہ نے کہا:حنیف وہ ہے جو اللہ کے سارے رسولوں پر ایمان لاتاہے۔قتادہ نے کہا حنیف یہ ہے کہ لاالٰہ الااللہ کی گواہی دے،اس میں ماں ،بیٹی،خالہ اور پھوپھی سے نکاح کاحرام ہونا اور اللہ نےجوچیزیں حرام کی ہیں،وہ سب شامل ہیں۔ فتح البیان میں ہے کہ حنیف  وہ ہے جو  دین باطل سے دین حق کی طرف مائل ہو۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے الادب المفرد میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کی ہے کہ"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا گیا:اللہ کو کون سا دین زیادہ محبوب ہے؟جواب دیا"حنیفیہ"(اخرجہ،احمد وابن المنذر)
یعنی ملت ابراہیم علیہ السلام   جس میں کسی طرح کے شرک وبدعت کا لگاؤاور ملاوٹ نہیں،خالص توحید اور مجرد اتباع ہے۔اس میں ارشاد ہے کہ ابراہیم علیہ السلام   مشرکین میں سے نہ تھے،یہود ونصاریٰ سے اختلاف ہے کیونکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ عزیر  علیہ السلام   اللہ کے بیٹے ہیں،اور اسی  طرح نصاریٰ  مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں۔اس لئے اللہ نے واضح کردیا کہ ابراہیم علیہ السلام   تمھاری اس حالت پر نہ تھے۔  یعنی شرک باللہ سے بے نیازتھے۔
آیت نمبر۔136۔
﴿ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٦﴾...البقرة
"اے مسلمانو! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو چیز ابراہیم اسماعیل اسحاق یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں"
اللہ نے اس آیت میں مومنین کو یہ ارشاد فرمایا کہ جو رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے تم پر نازل ہوا،اس پر مفصل ایمان لاؤ۔اور جو پہلے انبیاء  علیہ السلام   پر اترا،اس پر مجملا ایمان لاؤ،پھر بعض اولوالعزم رسولوں کےنام لئے،باقی انبیاء علیہ السلام   کا مجمل ذکر کیا اورفرمایا کہ ان میں فرق نہ کرو،سب پر یکساں ایمان لاؤ،نیز ان لوگوں کی مانند نہ ہوجانا جن کے بارے میں ارشادہے:
﴿...وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ..١٥١﴾...النساء
" اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں (150) یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں،"
ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:اہل کتاب توراۃ کو عبرانی زبان میں پڑھ کر،اہل اسلام کے لئے عربی زبان میں تفسیر کرتے تھے۔رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم نہ تصدیق کرو نہ تکذیب،یوں کہو:
آمنا باللّه وما أنزل اللّه (بخاری)
عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا فرمان ہے کہ:
"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سنت فجر  میں اکثر یہی آیت(آیت نمبر 136) پڑھتے اوردوسری رکعت میں سورہ آل عمران کی آیت 52(آمَنَّا بِاللَّـهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ)الخ پڑھتے"(مسلم،ابوداود والنسائی)
ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ  ،ربیع اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:"اسباط" سے مراد یعقوب  علیہ السلام   کے بارہ بیتے ہیں ،ہر بیٹے سے بہت سی اولاد پیدا ہوئی۔جو سب"اسباط" کہلائے۔خلیل بن احمد نے کہا:اسباط بنی اسرائیل،قبائل میں اسباط بنی اسماعیل کی مانند تھے۔زمخشری  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں:اسباط یعقوب علیہ السلام   کےبارہ بیٹوں کے بیٹے(پوتے) ہیں۔رازی نے بھی اسی کو پسند کیا ہے ۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  کا فرمان ہے :اسباط ،قبائل بنی اسرائیل ہیں۔ان میں جو انبیاء علیہ السلام   ہوئے اللہ نے ان پر وحی اتاری،جس طرح موسیٰ  علیہ السلام   نے ان سے کہا:
﴿اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا ... ٢٠﴾ ...المائدة
"اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاه بنا دیا "
﴿وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا ... ١٦٠﴾...الأعراف
"ور ہم نے ان کو باره خاندانوں میں تقسیم کرکے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کر دی"
قرطبی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا اسباط،سبط سے مشتق ہے ،سبط کا معنی ہے "لگاتار" سو یہ اسباط جماعت تھے،یا یہ ماخوذ"سبط" سے ہے،سبط کہتے ہیں درخت کو یعنی کثرت تعدادمیں درختوں کی مانندتھے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا کہ سارے انبیاء علیہ السلام  (سوائے دس کے) بنی اسرائیل میں ہوئے،مثلاً نوح علیہ السلام  ،ہود علیہ السلام  ،صالح علیہ السلام  ،شعیب علیہ السلام  ،لوط علیہ السلام  ،ابراہیم علیہ السلام  ،اسحاق علیہ السلام  ،یعقوب علیہ السلام  ،اسماعیل علیہ السلام  ،اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  قرطبی نے کہا: سبط اس جماعت کے قبیلے کو کہتے ہیں جو ایک اصل(نسب) کی طرف منسوب ہوں۔قتادہ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا:اللہ نے حکم دیا کہ سب مومنین اللہ پر ایمان لائیں،اللہ کی سب کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کریں۔سلمان بن حبیب نے کہا ہمیں فقط یہ حکم دیا گیا کہ ہم  توراۃ اور انجیل کو مانیں،ان پر عمل کا حکم نہیں ہے۔
حدیث معقل بن یسار میں ہے،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"توراۃ،زبور،اورانجیل پر ایمان لاؤ،لیکن تمھیں صرف قرآن کافی ہونا چاہیے"(ابن ابی حاتم)
یعنی عمل صرف قرآن ہی پر کرو۔یہی بات حضرات اہل حدیث ،اہل بدعت اور اصحاب تقلید سے کہتے چلے آتے ہیں کہ سب علماء اولیائے اسلام اور ائمہ دین کو مانو،یعنی انہیں اللہ نے مخلص ومقبول بندے جانو مگر سوائے قرآن وحدیث کے کسی کی بات کو لازمی نہ پکڑو،سند کے لئے صرف دو چیزیں ہیں:کتاب عزیز اور حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم !