ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مئی
  • جون
1995
برصغیر پاک وہند میں ہمارےدینی مدا رس نہ صرف مسلمانوں کی پرا نی تہذیب کا تسلسل اور روایتی نظا م تعلیم کی یا دگا ر ہیں بلکہ انبیاء کرام علیہ السلام   کے مشن عظیم کی بقاءاور ان کے علمی ورثہ کے احیاء کی علا مت بھی ہیں ۔اگر چہ زمانہ کی دست مدد سے درس نظامی میں شامل عصری تقاضوں کی تکمیل کے خا طردنیوی علوم تو جاری نہ رہ سکے یا منطق و فلسفہ جیسے انسانی سوچ کے حا مل علوم دینی مدا رس میں اپنے اتقاء کو باقی نہ رکھ سکے تا ہم کیا دینی مدا رس کے یہ صرف دو پہلو ہی غنیمت نہیں کہ انبیاءکرا م  علیہ السلام  کے مشن کے حا مل افراد تیار ہو تے رہیں اور مسلمان اپنے ماضی سے بھی جزے رہیں اگر اب درس نطا می میں شامل قدیم دنیوی علوم کا خلا ء تسلیم بھی کر لیا جا ئے پھر بھی ایک شعبہ تمھیں دینی کے اعتبار سے ان کی اہمیت و افادیت سے انکا ر ممکن نہیں۔
  • مئی
  • جون
1995
چودھری عبدالحفیظ
آیت نمبر:۔129:۔
﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾...البقرة
"اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے"
ندائے خلیل اور دعائے مسیحا:۔
اس آیت میں حضرت  ابراہیم علیہ السلام   کی دعا کا وہ آخری حصہ ہے۔جو آپ نے اہل حرم کے لئے فرمائی۔دعا یہ تھی کہ اے پروردیگار!میری اولاد سے ایک رسول ان میں بھیج دے۔ان کی یہ  دعا تقدیر کے عین مطابق ثابت ہوئی۔تقدیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبی متعین کرنے کی تھھی جنھیں نہ صرف امیین کی طرف بھیجاگیا  بلکہ سارے عجم اورساری کائنات کے جن وانس کے لئے مبعوث کیاگیا۔حدیث عریاض بن ساریہ  رحمۃ اللہ علیہ  میں ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"میں اللہ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تھا جب آدم علیہ السلام   بھی مٹی کے پتلے تھے۔میں تمھیں نبوت کےآغاز کی اطلاع دیتا ہوں۔میں دعا ہوں ا پنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام   کی،بشارت ہوں حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   کی اور اپنی ماں کاخواب ہوں،بالکل اسی طرح جیسے دوسرے پیغمبروں کی مائیں دیکھا کرتی تھیں"(رواہ احمد)
مراد یہ ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو لوگوں میں مشہور کیا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرعام کیا تھا وہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام   ہیں۔آپ کے ذکر مبارک کی یہ دھوم دھام لوگوں میں ہمیشہ لگاتار چلتی رہی۔حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   نے اپنی قوم میں کھڑے ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبارک نام کایہ خطبہ پڑھا:۔
﴿...إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَد... ٦﴾...الصف
"میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔"
  • مئی
  • جون
1995
صلاح الدین یوسف
ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  اک نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔تقریر سے مراد ایسے امور ہیں کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیے گئے لیکن آپ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی بلکہ خاموش رہ کر ا س پر اپنی پسندیدگی کا اظہارفرمایا:ان تینوں کے قسم کے علوم نبوت کے لئے بالعموم چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں:خبر،اثر،حدیث اورسنت۔
خبر:ویسے تو ہر واقعے کی اطلاع اور حکایت کو کہا جاتا ہے۔مگر آنحضرت   صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے لئے بھی ائمہ کرام اور محدثین عظام نے اس کا استعمال کیا ہے۔ اور اس وقت یہ حدیث کے مترادف اور اخبار الرسول کے ہم معنی ہوگا۔
اثر: کسی چیز کے بقیہ اور نشان کو کہتے ہیں،اورنقل کو بھی"اثر" کہا جاتا ہے۔اس لئے صحابہ وتابعین سے منقول مسائل کو"آثار" کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آثار کا لفظ مطلقاً بولا جائے گا۔تو اسے مراد آثار صحابہ وتابعین ہوں گے لیکن جب اس کی اضافت رسول کی طرف ہوگی یعنی"آثار الرسول" کہا جائے گا تواخبار الرسول کی طرح آثار الرسول بھی احادیث الرسول کے ہی ہم معنی ہوگا۔
  • مئی
  • جون
1995
اسرار احمد سہاروی
ازل سے ملتا ہے مجھ کو ذوق  لطف ربانی مرا دل بن گیا ہے مرکز انوار یزدانی
اسی نے نور بخشا ہے نگاہوں کو بصیرت کا جلاتا ہے وہی انساں کے دل میں شمع ایمانی
وہ دیتاہے دل کو آرزو فقر رسالت کی سکھائے ہیں اسی نے ہم کوانداز جہاں بانی
وہی کرتاہے روشن لطف سے تاریک سینوں کو نظر کو بخش دیتاہے کرم سے نور عرفانی
شعورذات کی دولت عطا کرتاہے انساں کو اسی کے در پہ جھکتی ہے شہنشاہوں کی پیشانی
  • مئی
  • جون
1995
رمضان سلفی
سنت و حدیث کے الفا ظ بنیا دی طور پر کلام الٰہی (قرآن ) کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ (جسے مراد الٰہی کہہ سکتے ہیں ) کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔اگر چہ مختلف اہل فنون نے اپنے فن میں خاص پہلو کا لحاظرکھتے ہوئے سنت کے اہم پہلو بھی اجا گر کیے ہیں ۔اسی لیے سنت کی اصطلا ح بظا ہر مختلف معانی میں بعض اوقات استعمال ہو تی نظر آتی ہے۔ مثلاً احکام فقہ میں "مستحب "کے معنی میں اور وعظ و ارشادمیں بدعت کے بالمقابل لیکن چونکہ محدثین کا مطمح نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تمام گو شوں کی روایت و روایت ہے اس لیے وہ احادیث کے ذریعہ سنت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال و افعا ل بشمول سکوت و احوال) کے متعلق بحیثیت واقعہ بحث کرتے ہیں اسی لیے وہ حدیث و سنت کے الفاظ ایک دوسرے پر بے دریغ استعمال کرتے ہیں ان کے مترادف ہو نے کے یہی معنی ہیں لہٰذا محدثین احادیث کی بہت سی کتابوں کو "سنن"سے نھی موسوم کرتے ہیں مثلاً سنن اربعہ سے مراد ترمذی ،نسائی ،ابو داؤد اور ابن ما جہ کی کتب احا دیث لیتے ہیں ۔اس طرح سنن کبریٰ بیہقی شرح السنۃ معرفۃ الاثار والسنن وغیرہامت کے اہل علم ان استعمالات میں کو ئی اجنبیت محسوس نہیں کرتے ۔برصغیر میں فرقہ وارانہ رحجا نات کے باوجود ان اصطلا حا ت کے مفاہیم معروف ہیں ۔
ماضی قریب میں متجددانہ رحجا نات کے زیر اثر بعض مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے کچھ لوگوں نے حدیث و سنت کو الگ کر کے اگر چہ ان کے مصداق مختلف متعین کرنے کی کو شش کی ہے جن میں مرزا غلا م احمد قادیانی نما یاں ہیں ۔
لا ہو ر کا حلقہ اشرا ق جو نام کے سلسلے میں عیسائیت کے فلسفہ اشتراکیت(جس میں شریعت کو فلسفہ بنانے کی کوشش کی گئی) اور رجحانات کے اعتبار سے"اخوان الصفا" کی باطنی تحریک سے متاثر ہے۔
  • مئی
  • جون
1995
غازی عزیر
ہندوستان  وپاکستان سے آنے والے حجاج کرام کے پاس فریضہ حج کی ادائیگی اور زیارت مقامات مقدسہ کی رہنمائی کرنے والی کتب ہوتی ہیں۔ان میں سے بیشتر کتب میں مسنون طریقہ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو چھوڑ کرانتہائی ضعیف بلکہ کبھی کبھی موضوع روایات کوجمع کیا ہوا دیکھ کر انتہائی تعجب اور قلق ہوتاہے ،زیر نظر مضمون اسی سلسلہ کی ایک اصلاحی کوشش ہے۔
عام طور پرمشہور ہے کہ جس حج کا"یوم عرفہ" جمعہ کے دن پڑے،وہ حج"حج اکبر" کہلاتا ہے۔اور اس ایک"حج اکبر" کا ثواب ستر عام حج سے بڑھ کرہوتاہے۔لہذا اس حج میں شرکت کے بہت بڑی سعادت وخوش نصیبی تصور کیا جاتا ہے۔ماہ ذوالحجہ کے ہلال کی روئیت کے اعلان کے مطابق  اگر یوم عرفہ بروز جمعہ پڑتا ہے تو سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن کی اکثریت اس میں شرکت کے لیے  کوشاں وبے قرار ہوجاتی ہے۔اسی طرح بیرون ملک سے تشریف لانے والے حجاج کی تعداد میں بھی خاصہ اضافہ ہوجاتاہے۔
وہ روایت جس میں"حج اکبر" کی مزعومہ فضیلت کا ذکر ہے،ان شاء اللہ آگے پیش کی جائے گی۔فی الحال اس بات کی تعین کرنا مقصود ہے کہ احادیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں حج اکبر کس چیز کو کہا گیا ہے؟کس حج کا اجر مقام افضل وارفع بتا یا گیا ہے؟نیز وہ حج جس کا"یوم عرفہ" ہفتہ کے عام دنوں میں پڑے اور وہ حج جس کا"یوم عرفہ" جمعہ کے دن پڑے۔ان کے فضائل میں کیا اور کس درجہ فرق ہے؟
احادیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے تقریباً ہر مشہور مجموعہ(مثلاً صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ ،صحیح مسلم  رحمۃ اللہ علیہ ،جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ،سنن ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،اور مسند احمد  رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ) میں "حج اکبر" کا ذکر موجود ہے۔لیکن جہاں  جہاں بھی اس کا ذکر وارد ہواہے،وہاں اس سے مراد "یوم نحر" ہے  نہ کہ وہ جو عام طور پر مشہور اور زیر مطالعہ مضمون میں ہمارا ہدف تنقید ہے۔
  • مئی
  • جون
1995
ڈاکٹر سعد بن ناصر
تبلیغ دین میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اسوہ کی اہمیت :۔
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  انسا نو ں کے لیے زند گی گزارنے کا بہترین نمونہ ہیں ۔زندگی کے ہر وہ شے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عملی مثا ل اور نمونہ موجود ہے۔ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسی نمونہ کے مطا بق اپنا نظا م زندگی استوار کریں ۔اسی بات کو قرآن مجید نے ان الفا ظ کے ساتھ بیا ن کیا ہے۔
﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا ﴿٢١﴾...الأحزاب
"بے شک تمھا رے لیے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی بہترین نمونہ ہے جو اللہ سے ملنے اور قیامت کے آنے کی امید کرتا ہواور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو"
دین کی نشرو اشاعت اور دعوت دین کے فروغ کے حوالے سے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو قرآن مجید میں حکم دیا گیا : 
﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ... ٦٧﴾...المائدة
"اے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  جو چیز آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی ہے اسے دوسروں تک پہنچا ئیں اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے فریضہ رسالت ادا نہیں کیا ۔
چنانچہ اس فریضہ کی ادائیگی  کے سلسلے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک بہترین نمونہ اور طریقہ کا ر پیش فر ما یا : آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعوت کا بنیا دی منشور قرآن تھا اور اس کی عملی تصویر اپنا کر دار تھا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کےفرا ئض نبوت کے حوالے سے قرآن مجید میں ارشاد فر ما یا گیا ۔
﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ...١٦٤﴾...آل عمران
"یقیناً اللہ نے مومنین پر احسان فر ما یا کہ ان میں ایک رسول انہی میں سے بھیجا جو ان پر قرآن کی آیات تلاوت کرتا ہے ان نفوس کا تزکیہ کرتا انہیں کتا ب کی تعلیم دیتا اور انہیں حکمت سکھاتا ہے"
  • مئی
  • جون
1995
پروفیسر محمد یحییٰٗ
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  تصنیف و تا لیف کے "سلسلہ الذہب" کی ایسی درخشندہ و تا باں کڑی ہیں جن کی ضیا پا شیا ں افق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادرا ک کی فراوانیوں اور فضل و کمال کی وسعتوں سے کشورذہن مصروف استفادہ اور اقلیم قلب مشغول استفاضہ رہیں گے ۔ان کے جدا امجد شیخ الدین کو حنا بلہ کے آئمہ و اکا بر میں گردانا جا تا ہے اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد مطلق کے پر شکوہ لقب سے ملقب کیا ہے ۔امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  جو فن رجا ل کے مستند امام ہیں ۔کتاب سیرا علا م النبلا ءمیں ان کا تذکرہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
انتهت إليه الإمامة في الفقه
کہ مسائل فقہ کے حل و کشود میں وہ مرتبہ امامت پر فائز تھے۔
امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی ولا دت ایسے جلیل المرتبت خا ندا ن میں ہو ئی اور ایسے ماحول میں شعور کی آنکھیں کھولیں جہاں فضیلت و عرفان کا ہمہ گیر شامیانہ تنا ہوا تھا اور جہاں مجدوز کاوت کی خوشگوار گھٹا ئیں چھا ئی ہو ئی تھیں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے ان ہی پا کیزہ فضاؤں میں پرورش و پرواخت کی منزلیں طے کیں اور پھر اسی گلستان فضیلت کی شمیم آرائیوں میں عہد طفولیت سے نکل کر دور شباب میں قدم رکھا۔اب وہ جا دہ علم کے پر عزم را ہی تھے اور ان کی عزیمت و عظمت نے ان کو جا مع الحشیات شخصیت کے قالب میں ڈھا ل دیا تھا وہ بیک وقت عالم بھی تھے اورمعلم بھی محقق بھی تھے اور مصنف بھی مفسر بھی تھے اور محدث بھی فقیہ نکتہ ور بھی تھے اور ماہر اصول بھی مجا ہد بھی تھے اور مجتہد بھی مناظر بھی تھے اورجارح بھی حملہ آور بھی تھے اور مدا فع بھی واعظ شیریں بیاں بھی تھے اور مقرر شعلہ مقال بھی مفتی بھی تھے اور ناقد بھی شب زندہ دار بھی تھے اور سالک عبادت گذار بھی منطلقی بھی تھے اور فلسفی بھی ادیب حسین کلا م بھی تھے اور شاعر اعلیٰ مذاق بھی ۔۔۔جس طرح وہ کشور قلم و لسان کے شہسوار تھے اسی طرح قلیم سیف وسنان پر بھی ان کا سکہ رواں تھا اور ان سب کو ان کی اطاعت گزاری پر فخرتھا ۔ علوم کے سامنے قطار بنا کر کھڑے رہتے جب کسی مو ضوع پر گفتگو کرنا مقصود ہو تا تو متعلقہ علم اپنی ہمہ گیریوں کے ساتھ کو رنش بجا کر ان کے حضور میں حاضر ہو جا تا اور جب کسی معاملے کو ضبط تحریر میں لا نے کا قصد کرتے تو قلم نہا یت تیزی کے ساتھ صفحات قرطا س پر حرکت کنا ں ہو جا تا اور پھر آنا فا نا علوم و فنون کی بارش شروع  ہو جا تی اور پو ری روانی کے ساتھ مرتب شکل میں الفا ظ کا غز پر بکھیرتے چلے جا تے ۔وہ جلہ اور فرات کے سنگم میں پیدا ہو ئے تھے اور ان دونوں دریا ؤں کی روانی اور ان کی مو جیں اور اچھا لیں ان کے قلم و زبان میں سمٹ آئی تھیں ۔
  • مئی
  • جون
1995
حسن مدنی
"مجلس تحقیق اسلامی" اسلا م کی عملداری کے لیے قائم متعدد تعلیمی تحقیقی اور رفاہی اداروں پر مشتمل ایک ہیئت منتظمہ  کا نام ہے مجلس کے زیر انتظا م چلنے والے اداروں کا مختصر تعا رف بھی پیش کرنا مقصود ہو تو اس لئے بیسیوں صفحات در کا رہوں گے قارئین مجلہ "محدث "گا ہے بگا ہے ان اداروں سے واقفیت حاصل کرتے رہے ہیں لیکن شائد باقاعدہ تنظیمی ہیئت کی صورت میں بہت کم حضرا ت کو اس کا تعارف حاصل ہے ۔
ذیل میں صرف اداروں کے نام تحریر کئے جا تے ہیں "تفصیلی تعارف "دلچسپی رکھنے والے حضرات متعلقہ شعبے کے دفتر سے حاصل کر سکتے ہیں ۔
  • مئی
  • جون
1995
چودھری عبدالحفیظ
کتاب"اشاریہ تفہیم القرآن" نظر سے گزری۔فاضل مرتبین جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب ڈائیرکٹر ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور آنسہ پروفسیر ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحب چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کسی تعارف کی محتاج نہیں۔انہوں نے بجا طور پر بروقت اہل علم،ریسرچ سکالرز،قرآن وسنت کے طالب علموں اور دین کاشغف رکھنے والوں کی آواز پر لبیک کہا اور"تفہیم القرآن" کا اشاریہ  ترتیب دے کر علمی اضافہ کیا۔
واقعتاً قرآن سے استفادہ کرنے اور خصوصاً "تفہیم القرآن" سے مستفید ہونے کےلئے اشاریہ کی ضرورت ایک مدت سے محسوس کی جارہی تھی مگر اس میں کوئی صاحب علم آگے نہ بڑھا حتیٰ کہ "الفضل للمقدم"کے مصداق یہ سعادت فاضل مرتبین کے حصے میں آئی۔جس کے لئے وہ تمام اہل علم کی طرف سے مبارکبار کے مستحق ہیں۔جزاھما اللہ عنا خیرا الجزاء