اہل حدیث  جانبازفورس ،اہل حدیث نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ جس نے چند ماہ قبل "صراط مستقیم" کے نام سے ایک ماہنامہ کراچی سے جاری کیا ہے۔اس پرچے کا ایک نمایاں پہلو،اکابرین اہل  حدیث کے انٹر ویو لے کر من وعن شائع کرنے کا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرات اہل حدیث کے لیے اپنی کمزوریوں ،خوبیوں کا ایک تعارف سامنے آرہا ہے۔اسی سلسلہ میں بزرگ عالم دین مولانا عبدالغفار حسن مدظلہ العالی کا ایک انٹرویو"صراط مستقیم" کے د سمبر 94ءکے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔حضرت مکرم نے اپنے اسی انٹر ویو کے بارے میں اپنا نطقہء نظر اور شکوہ"محدث" کو بھی اشاعت کے لئے بھجوایا ہے۔ہم اس مراسلے کو ہو بہو ہدیہ قارئین کررہے ہیں۔(ادارہ)
مکری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
امید ہے کہ مزاج بخیر ہوگا ۔آج ہی"صراط مستقیم" باب ماہ  جنوری موصول ہوا۔میرا اپنا انٹر ویو نظر سے گزرا۔اس بارے میں چند معروضات پیش خدمت ہیں:
1۔بعض الفاظ،جملے اور نام غلط شائع ہوگئے،ان کی تصیح ضرووری ہے۔اس بارے میں اغلاط نامہ ارسال خدمت ہے۔اس کو شائع کردیاجائے۔
2۔آپ نے میرا انٹر ویو مکمل طور پر شائع نہیں کیا،کانٹ چھانٹ کی گئی ہے۔اور آخری  حصہ حذ ف کردیا ہے۔انٹر ویو کی آخری سطریں پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔جیسے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک لائن کٹ جائے۔امانت ودیانت کاتقاضا تو یہ تھا کہ انٹر ویو پورے کا پورا بغیر کسی  ترمیم کے شائع کیا جاتا۔جیسا کہ اب تک ہوتا رہا ہے۔اگرکوئی بات آپ کے نطقہ نظر سے درست نہیں تھی یا آپ کو اس سے اختلاف ہے تو اختلافی یا تنقیدی نوٹ لکھاجاسکتا تھا۔
3۔اس تازے شمارے میں آپ نے اعلان کیا ہے۔کہ ہماری پالیسی تبدیل ہوگئی ہے۔یعنی اب انٹر ویو من وعن شائع نہیں ہوں گے۔بلکہ اختلافی اور قابل اعتراض  جملے حذف کردیئے جائیں گے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی پہلی پالیسی درست تھی۔صحافیانہ امانت ودیانت کا تقاضا یہی ہے۔اس نئی پالیسی کا مطلب تو یہ ہوا کہ غیر اہل حدیث افراد یاتنظیموں پر تنقید یا اعتراض یا ان کے اختلافات تو آپ خوب نمایاں کرکے شائع کریں گے۔لیکن اپنے ہم مسلک تنظیموں کے اختلافات اور باہمی اعتراضات کو گول کرجائیں گے۔یہ تو کوئی انصاف کی بات نہ ہوئی ۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"انصاف کی گواہی دینے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ خواہ اس گواہی کی ذدخود اپنے اوپر پڑے یا والدین یا رشتہ داروں پر"۔۔۔(سورۃ نساء)
دوسری آیت میں فرمایا:
"کسی قوم کی دشمنی تم کو ناانصافی پر آمادہ نہ کرے"۔۔۔(سورۃ مائدہ)
یہ جماعتی اور مسلکی عصبیت بھی ،تقلید سے کم نہیں۔اس طرح انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ غیر مسلکی اگرکوئی غلطی کرتاہے توا س کو توخوب اچھا لا جائے لیکن اگر اپنا ہم مسلک غلطی کرے اور اپنے طرز عمل سے مسلک کو نقصان پہنچائے تو وہاں لیپا پوتی کردی جائے۔یہ ذہنیت افسوسناک ہے۔اگر  مسلک اہل حدیث کے حاملین آپس میں قرآن وحدیث پر متفق نہیں ہوسکتے تو اور کون ہوگا؟ہمارے اہل حدیث واعظین اور خطباء بہت زور شور سے یہ آیتیں پڑھتے ہیں:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا...١٠٣﴾...آل عمران
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ...٥٩...النساء
یہ آیتیں دوسروں کے لئے ہیں،اپنے لئے نہیں۔خود سینوں میں بغض  بھرا پڑا ہے۔ایک دوسرے سے ملنے کے لئے تیار  نہیں۔کوئی کسی پر"قبضہ گروپ" ہونے کاالزام لگاتاہے۔دوسرا اسے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کا طعنہ دیتا ہے۔اس صورت حال نے مسلک اہل حدیث کورُسوا اور ذلیل کردیا ہے۔
ضرور اس بات کی ہے کہ سب اختلافات واضح طور پر سامنے آنے چاہییں تاکہ بغض وعناد کا صحیح طور  پر علاج ہوسکے۔جب تک مرض کے اسباب معلوم نہیں ہوں گے۔یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے کہ مرض کی نوعیت کیا ہے اور تشخیص کیونکر ہوسکتی ہے؟اور علاج کیسے کیا جاسکتاہے؟
4۔میں نے دو ماہ قبل ایک ہی مضمون کے دو خط بھیجے تھے۔جس میں جن اب اختر محمدی صاحب کو مخاطب کیا گیاتھا اور ان کے غلط طرز عمل کی نشاندہی کرگئی تھی۔میں نے یہ لکھاتھا کہ میرا انٹر ویو شامل کرنے سے پہلے اس خط کو شائع کردیا جائے۔لیکن آپ نے نہ وہ خط شائع کیا اور نہ مجھے خط کی رسیدارسال کی۔آخر یہ کونسا اسلامی اخلاق ہے؟؟
امید ہے کہ آپ میرا یہ خط"صراطِ مستقیم" میں شائع کردیں گے۔آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی پہلے والی پالیسی پر گامزن رہیں۔اغلاط نامہ الگ تحریر کیا جائے گا۔ان شاء اللہ(والسلام عبدالغفار حسن)(13جنوری1995ء)