(پروفیسرحافظ محمد اسرائیل)
(گزشتہ سے پیوستہ) ۔۔۔معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی حرمت ابراہیم علیہ السلام  کی تعمیر سے  پہلے کی ہے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کےہاں  پہلے سے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم  لکھے ہوئے تھے۔حالانکہ آدم علیہ السلام  ابھی مٹی کے پتلے تھے۔حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے ایک دعا بھی کی تھی کہ انہی میں سے ایک رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پیدا فرما۔اللہ نے اپنے علم وقدرت کے مطابق اس دعا کو قبول فرمایا۔اسی لئے حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیدائش کے بارے میں پوچھا گیا،تو فرمایا:میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام  کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام  کی بشارت ہوں،میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات چمک اٹھے۔"ع
پیغام خدا نخست آدم علیہ السلام  آورد
انجام بشارت ابن مریم آورد
"وہ اس دنیا میں سب سے پہلے اپنے پروردیگار کاپیغام لے کر آئے۔یہ وہی تھے جن کے متعلق عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام  نے بشارت دی تھی۔"ع
باجملہ ر سل نامہ بے خاتم بود
احمد برما نامہ خاتم آورد
"تمام انبیاء علیہ السلام  کے پیغام کو انتہا نصیب نہ تھی۔ہمارے نبی احمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پیغام کو انتہا تک پہنچا دیا۔"
رہی بات یہ کہ مکہ مکرمہ افضل ہے یا مدینہ منورہ؟جمہور کےنذدیک مکہ افضل ہے اور مالکیہ کے نزدیک مدینہ افضل ہے۔ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں:"ہم اس کا ذکر دوسری جگہ دلیل کے ساتھ کریں گے۔"میں کہتا ہوں کہ ایسے مسائل میں سرے سے غور کرنا ہی بے  فائدہ ہے۔اس لیے کہ حرمین شریفین کے فضائل جداجداآئے ہیں۔جس جس کی فضیلت ہے،وہ بجائے خود ثابت ہے۔کوئی مرفوع حدیث ایک کی دوسرے پر فضیلت میں نہیں آئی۔مکۃ المکرمہ میں اللہ کا گھر ہے۔جبکہ مدینہ طییہ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہے۔سب سے عظیم اللہ ہے۔اور پھر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ذات بزرگ وبرتر ہے۔ع
زہے سعادت آں بندہ کہ کرد نزول
گہے بہ بیت خدا وگے بہ بیت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم
"اس انسان کی نیک بختی اورخوش بختی ہے کہ وہ دنیا میں آیا کبھی اسے اللہ کے گھر کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور کبھی رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر کی۔"
مدینہ طیبہ کو رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ مکرمہ کے ساتھ حرم ٹھہرایا،بلکہ اسے دوچند بتایا۔ہمیں اس کا حکم ماننا واجب ہے۔اسی طرح اپنی مسجد کا ذکر مکہ وبیت المقدس کے ساتھ کیا۔ہر ایک کی فضیلت بیان فرمائی پس ہمیں لازم ہے کہ اس فضیلت کو نگاہ میں رکھیں۔مکہ مکرمہ سے حج وعمرہ کے بعد مسجد نبوی کا سفر کریں اور زیارت مسجد مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی مشرف ہوں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام  کا یہ فرمانا کہ اللہ اس شہر کو امن والا بنادے اس کا مطلب یہ ہےکہ یہاں کے لوگوں کوخوف ورُعب سے محفوظ رکھ،سو اللہ تعالیٰ نے شرعاً وقدراً ایسا ہی کیا۔فرمایا:
﴿وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ... ٩٧...اٰل عمران
دوسری جگہ فرمایا:
﴿أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ ... ٦٧...العنكبوت
"کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا ہم نے(ان کا شہر مکہ) امن والا حرم بنایا اور(ان کے) آس پاس کے لوگ  لٹ جاتے ہیں"
حرمت قتال کی حدیثیں  پہلے آچکی ہیں۔صحیح مسلم  میں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً  آیا ہے کسی شخص کو جائز نہیں کہ مکہ مکرمہ میں ہتھیار اُٹھائے کیونکہ یہ کام امن ہے۔اللہ نے مکہ مکرمہ کو باامن ٹھہرایا۔یہاں کوئی ایسا کام کرنا حرام ہے۔جس سے مکہ اور اہل مکہ کو خوف ودہشت دامن گیر ہو۔
اس سورت میں یوں فرمایا:
رَ‌بِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا (البقرہ۔126)
"اے میرے پروردیگار اس شہر کو امن والا بنادے"
یہاں بلد سے مراد بقعہ(خطہ) ہے۔یعنی اس خطے کو باامن رکھ۔یہاں مناسب ہے،اس لئے کہ یہ دعا کعبہ کی بنیاد رکھنے سے پہلے کی تھی۔
سورہ ابراہیم علیہ السلام  میں یوں ارشاد  فرمایا:
﴿وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا ...﴿١٢٦...البقرة
"وہ وقت یاد کیجئے جب حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے فرمایا،اے میرے  پروردیگار اس شہر کو امن والا بنادے۔"
وہاں یہی مناسب ہے۔اس لئے کہ یہ دعا دوسری بار بیت اللہ کی بنیاد رکھے جانے اور مکہ کو مستقر بنانے کے بعد تھی۔جبکہ حضرت اسحاق  علیہ السلام   پیدا ہوچکے تھے۔وہ حضرت اسماعیل  علیہ السلام  سے تیرہ سال چھوٹے تھے،اسی لئے آخری دعا میں یوں فرمایا:
﴿الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ﴿٣٩...ابراهيم
"اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے کبر سنی(بڑھاپے) میں اسماعیل  علیہ السلام  اور اسحاق علیہ السلام  عطا کئے۔بے شک میرا پروردگار دعا کا سننے والا ہے"
حضرت ابی بن کعب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:"یہ لفظ﴿ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا... ﴿١٢٦...البقرة۔اللہ کا قول ہے"یہی بات عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ  اور مجاہد رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمائی ہے۔ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے صحیح فرمایا ہے۔دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کی دعا کاحصہ ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اسی کو ترجیح دی ہے۔یہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کی دعا ہے۔کہ وہ اللہ  تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ جو کوئی منکر ہو،اس کو بھی کچھ فائدہ دے،دوسرا قول حضرت ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے اس دعا کو مومنین تک ہی مخصوص کیا تھا۔اللہ نے فرمایا:"نہیں میں کافر کو بھی رزق دوں گا۔کیا ایک مخلوق پیدا کروں اور اس کو رزق نہ دوں؟لیکن اسے چند روز  فائدہ دوں گا  پھر اسے  دوزخ کے عذاب میں  مبتلا کردوں گا،پھر حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے یہ آیت پڑھی:
﴿كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا﴿٢٠...الإسراء
"ہم ان کو اور ان سب کو تمھارے پروردگار کی بخشش سے مدد د یتے ہیں اور تمھارے پروردگار کی بخشش کسی سے رکی  نہیں ہوئی"
یہی بات عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ  اور مجاہد رحمۃ اللہ علیہ  سے بھی مروی ہے یہ آیت اللہ کے اس قول کے مطابق ہے:
﴿قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ﴿٦٩﴾ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ ﴿٧٠﴾...يونس
"آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں، وه کامیاب نہ ہوں گے (69) یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش ہے پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے"
پھر فرمایا:
﴿وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿٢٣﴾نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ ﴿٢٤﴾...لقمان
"کافروں کے کفر سے آپ رنجیده نہ ہوں، آخر ان سب کو لوٹنا تو ہماری جانب ہی ہے پھر ہم ان کو بتائیں گے جو انہوں نے کیا ہے، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے (23) ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالآخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے "(24)"
وَلَوْلَا أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَن يَكْفُرُ بِالرَّحْمَـٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِّن فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ ﴿٣٣﴾وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِئُونَ ﴿٣٤﴾ وَزُخْرُفًا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْآخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ ﴿٣٥﴾...الزخرف
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتےاور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وه تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے (34) اور سونے کے بھی، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے۔
پھر ایک اور جگہ فرمایا:﴿لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ ﴿١٩٦﴾ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿١٩٧...اٰل عمران
"تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے، (196) یہ تو بہت ہی تھوڑا فائده ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وه بری جگہ ہے "
یہ ارشاد کہ ہم ا نھیں عذاب دوزخ کی طرف قید کرکے لائیں گے جو بہت بڑی جگہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کافر نے چند  روز دنیا میں فائدہ اٹھا لیا تو اب اسے چاروناچار دوزخ کا عذاب بھگتنا ہوگا۔یعنی انھیں صرف  تھوڑی دیر مہلت ملے گی۔پھر اچانک انھیں سختی سے پکڑ لے گا۔
جیسے اللہ کا فرمان ہے:
﴿وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴿٤٨...الحج
"بہت سی ظلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے"
صحیحین میں آیا ہے کہ ایذاء پر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔وہ اللہ کی اولادٹھہراتے ہیں،حالانکہ اللہ ان کو روزی اورتندرستی عطا کرتاہے۔یہ بھی صحیح بخاری میں ہے کہ اللہ ظالم کو مہلت دیتاہے یہاں تک کہ جب  پکڑ لیتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔
پھر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ ﴿١٠٢﴾...هود
"تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے"
ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے  فرمایا:"جس نے اس آیت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی دعا کا حصہ ٹھہرایا ہے۔"ضمیر"قاَلَ" کو ان کی طرف راجح بتایا ہے۔تو یہ قراءت سبعہ کے مخالف ہے۔سیاق وسباق کی ترکیب بھی اس کی نفی کرتی ہے۔نظم کلام کے بھی خلاف ہے۔"قواعد"جمع ہے"قاعدہ"کی۔قاعدہ کہتے ہیں اساس اوربنیاد کو۔اللہ نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے فرمایا کہ آپ اپنی قوم کو یاد دلائیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام  اورحضرت اسماعیل  علیہ السلام  نے اس گھر کی بنیاد رکھی تھی تو اللہ سے اس وقت یہ دعا کی تھی۔ کہ تو اس عمل کو قبول فرما۔
قرطبی  رحمۃ اللہ علیہ  نے حضرت ابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  وابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے حکایت بیان کی ہے کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے: وَيَقُولُونَ رَ‌بَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ۔۔۔۔الایۃ) ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے فرمایا ان کا یہ قول(رَ‌بَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ)کہ بعد اس بات پر دلالت ہے کہ وہ دونوں بزرگ اس عمل صالح میں مشغول تھے اور اللہ سے دعاکے قبول ہونے کی درخواست کررہے تھے۔وھب بن ورد رحمۃ اللہ علیہ  جب اس آیت کو پڑھتے تو روتے اور کہتے:اے خلیل الرحمٰن تم رحمٰن کا گھر بناتے ہو،اورعدم قبول سے ڈرتے ہو یہ ویسی ہے بات ہے کہ اللہ نے مومنین مخلصین کا حال بیان کیا ہے:"وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ"یعنی"صدقات،نفقات،قربات دیتے ہیں،مگر دل اس بات سے خوفزدہ ہورہے ہیں کہ کہیں یہ دینا ان سے قبول نہ ہو"اس باب میں ایک صحیح حدیث حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے بھی مروی ہے۔
کسی نے کہا"رافع قواعد"(بنیادوں کو اٹھانے و الے) حضرت ابراہیم علیہ السلام  تھے اور داعی حضرت اسماعیل  علیہ السلام  تھے،مگر صحیح یہ ہے دونوں باپ بیٹا ہی رافع وداعی تھے۔بخاری شریف میں ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مروی ہے کہ:
"حضرت ابراہیم علیہ السلام  ،حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی والدہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام  کو شیر خواری کی عمر میں اللہ کے گھر کے پاس لائے اور انہیں کعبہ میں چھوڑ دیا،جہاں زم زم  پر ایک درخت مسجد کے بالائی حصے میں تھا،اس وقت مکہ مکرمہ میں نہ کوئی آدمی تھا نہ کوئی پانی۔انھوں نے تھیلی میں کچھ کھجوریں اور مشکیزے میں کچھ  پانی رکھا اور واپس چل  دیئے۔والدہ اسماعیل  علیہ السلام  ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور کہا:اے ابراہیم علیہ السلام ! آپ کہاں جارہے ہیں؟ہمیں اس بے آب وگیاہ وادی میں تنہا چھوڑے جارہے ہیں؟جہاں نہ کوئی مونس ودم ساز نہ کوئی اور غمگسار؟یہی بات بار بار کہی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام  متوجہ نہ ہوئے۔آخروالدہ اسماعیل علیہ السلام  نے فرمایا:کیا اللہ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔۔۔تو فرمایا:ہاں۔والدہ اسماعیل  علیہ السلام  نے فرمایا:تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔یہ کہہ کر اسماعیل  علیہ السلام  کی والدہ واپس لوٹ آئیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام  گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں وہ کسی کو نظر نہ آتے تھے تو انہوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کرکے یہ دعائیں کیں۔اوردونوں ہاتھ بلند کرکے فرمایا:
﴿رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ﴿٣٧﴾...ابراهيم
حضرت اسماعیل  علیہ السلام  کی والدہ حضر ت اسماعیل علیہ السلام  کو دودھ پلاتیں،خود پانی پیتیں،جب پانی ختم ہوچکا،تو  خود بھی پیاسی ہوئیں،بچہ بھی پیا سا ہوا۔دیکھا کہ اس کی زبان خشک ہوئی جاتی ہے۔برداشت نہ کرسکیں،صفا پہاڑی زیادہ قریب تھی،اس پرکھڑے ہوکرجنگل کی طرف منہ کیا،کہ کوئی نظر آئے،کسی کو نہ دیکھا،وہاں سے اتر کر جب وادی میں پہنچیں، کرتے کا دامن اٹھا کرتیز رفتاری سے دوڑیں،وادی سے آگے بڑھ کر مردہ  پہاڑی کے اوپر کھڑے ہوکر نظر دوڑائی،کسی کو بھی نہ  پایا۔سات دفعہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ۔۔۔عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں:رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:اسی لئے لوگ ان دنوں پہاڑوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔۔۔جب مروہ پرچڑھیں تو ایک آواز سنی،اپنے آپ سے فرمایا:ٹھہرجا۔پھر دوبارہ آواز سنی،فرمایا:اے آواز والے تیرے پاس کچھ فریاد رسی کا سامان ہے۔دیکھا  تو ایک فرشتہ زم زم کی جگہ  پر ہے۔اس نے اپنی ایڑی ماری،یا پیر مارا،وہاں سے پانی جاری ہوگیا۔اسماعیل علیہ السلام  کی والدہ  پانی کو حوض کی مانند روکنے لگیں،ہاتھوں سے منڈیر بنانے لگیں،اپنی مشک میں چلو بھر بھر کر ڈالنے لگیں،مگرپانی جوش مارتا رہا۔۔۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ ام اسماعیل علیہ السلام              پررحم فرمائے۔اگر وہ زم زم کو چھوڑدیتیں یا یوں فرمایا کہ چلو بھر بھر کر  پانی جمع نہ کرتیں تو یہ زم زم  صاف پانی کا ایک چشمہ ہوجاتا،غرض یہ کہ انہوں نے پانی پیا،اپنے بچے کو دودھ  پلایا،فرشتے نے ان سے کہا،آپ ضائع ہونے کا خوف نہ کریں۔اس جگہ اللہ کا گھر ہوگا،جس کو یہ بچہ اور اس کا والد تعمیر کرے گا۔اللہ اس  گھروالوں کو ضائع نہ کرے گا۔یہ گھر زمین سے ایک ٹیلے کی مانند بلند تھا۔سیلاب آتے تو اس کے دائیں بائیں نکل جاتے،وہ جگہ یونہی رہی،یہاں تک کہ وہاں پر جرہم قبیلہ کے کچھ لوگوں کا گزر ہوا وہ کدا کے راستے سے  ادھر آئے۔مکہ کے زیریں علاقے میں اترے۔ایک پرندہ اڑتا ہوادیکھا ،کہا:یہ پانی کے گرد گھومتا ہے ہم تو اس جنگل میں بار ہا آئے۔کبھی پانی نہیں دیکھا کسی کو بھیجا،دیکھا تو  پانی موجود ہے،وہ پانی پر آئے،وہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی والدہ موجود تھیں۔انہوں نے والدہ اسماعیل علیہ السلام  سے وہاں ٹھہرنے کی اجازت مانگی،انہوں نے اجازت دے دی لیکن فرمایا:اس پانی پر تمھارا کوئی حق نہ ہوگا عبداللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فرمایا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:اُم اسماعیل علیہ السلام  کو کوئی مونس ومساز چاہے تھا۔جرہم کے لوگ وہاں اُتر پڑے،اپنے اہل وعیال کو بھی بلا بھیجا۔جب کئی  گھر والے جمع ہوگئے اور ادھر یہ بچہ بھی جوان ہوگیا اور عربی زبان ان سے سیکھ لی اور انھیں بہت پسند آیا۔نوجوان ہونے کے بعد اپنی عورت سے اس کا نکاح کردیا،اسی اثناء میں اُم اسماعیل  علیہ السلام  کا انتقال ہوگیا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام  حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی شادی کے بعد آئے کہ اپنے  ترکے کو دیکھیں۔اسماعیل علیہ السلام  کو نہ پایا تو ان کی بیوی سے ان کا حال پوچھا۔بیوی نے بتایا کہ  ہمارے لیے کچھ لینے گئے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے گزراوقات کا حال پوچھا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی بیوی نے کہا:نہایت تنگی ترشی میں ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے فرمایا:جب تمہارا شوہرآئےتو اسے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دے۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام  آئے،انہیں والد کی خوشبو آئی ۔بیوی سے پوچھا تمھارے  پا س کوئی آیا تھا کہاہاں! ایک بوڑھا ایسی صورت میں آیا تھا اس نے حال احوال پوچھا،میں نے بتادیا کہ تنگی ترشی سے گزارہ ہورہا ہے۔پوچھا کیا وہ کوئی وصیت کر گئے ہیں۔بیو ی نے بتایا کہ وہ کہہ گئے ہیں کہ انہیں میرا سلام کہنا اور انھیں یہ کہنا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام  نے فرمایا:وہ میرے والد تھے،مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تجھ کو جدا کردوں،سو تم اپنے  گھر والوں کے پاس جاؤ۔حضرت اسماعیل  علیہ السلام  نے انھیں طلاق دےدی۔اور قبیلہ جرہم کی دوسری  عورت سے شادی کرلی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام  چند دن تشریف نہ لائے ایک دن تشریف لائے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام  موجود نہ تھے۔ان کی بیوی سے ان کے حالات پوچھے کہا:ہمارے لئے کچھ لینے گئے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے پوچھا دن کیسے گزر رہے ہیں؟بیوی نے کہا خیر وسعت ہے۔تو اللہ کی ثنا بیان کی،پوچھا تمہارا کھانا کیا ہے؟کہا  گوشت،کہا پینا کیا ہے؟کہا پانی۔فرمایا:اے اللہ ان کے  گوشت اور پانی میں برکت دے۔رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن ان کے پاس کوئی غلہ نہ تھا۔ورنہ اس کے لئے دعاکرتے۔فرمایا:کوئی شخص ان دونوں چیزوں پر غیر مکہ میں کفایت نہیں کرتا مگر موافق اس کے نہیں پڑتیں۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے فرمایا:جب تمہارا خاوند آئے تو اسے میرا سلام کہنا کہ تم ا پنے گھر کی چوکھٹ قائم رکھنا۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام  آئے تو پوچھا تمھارے پاس کوئی شخص آیا تھا۔بیوی نے کہا:ایک بوڑھا آدمی خوبصورت شکل کاآیا تھا۔بیوی نے ان کی تعریف کی ۔پھر بتایا کہ انہوں نے حال احوال پوچھا تھا تو میں نے بتادیا کہ الحمدللہ اچھی بسر ہورہی ہے۔انہوں نے تمھیں سلام کہا اور یہ پیغام دیا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ قائم رکھنا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام  نے  فرمایا:وہ میرے با پ تھے اور تو میرے گھر کی چوکھٹ ہے ،یہ حکم دے گئے ہیں کہ تجھے اپنے پاس رکھوں۔
حضرت ابراہیم  علیہ السلام  چند روز کے بعد پھر آئے تو دیکھا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام  زمزم کے پاس  درخت کے نیچے بیٹھے تیربنارہے ہیں۔جب انہوں نے باپ کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے،والد کی تعظیم بجا لائے۔حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے فرمایا:اسماعیل علیہ السلام  اللہ نے مجھے ایک حکم دیا  ہے،عرض کیا جو حکم آپ کو ملا ہے اس پر عمل کریں۔فرمایا:کیا تو میری مدد کرے گا؟عرض کیا:ہاں،حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے فرمایا:اللہ نے مجھے(ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)اس جگہ ایک گھر تعمیر کرنے کاحکم دیا ہے۔لہذا دونوں نے اس گھر کی بنادیں اٹھائیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام  پتھر لاتے اور حضرت ابراہیم  علیہ السلام  گھر بنا تے جاتے،جب بنیاد اونچی ہوگئی تو اس پتھر کو لاکر رکھا،حضرت ابراہیم علیہ السلام  گھر بناتے جاتے،جب بنیاد اونچی ہوگئی تو اس پتھر کو لا کر رکھا،حضرت ابراہیم علیہ السلام  اس پر کھڑے ہوکر تعمیر کرتے اور دونوں باپ  بیٹا یہ کہتے:
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖإِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٢٧...البقرة غرض تعمیر کے دوران یہ دعا کرتے رہتے"
اس  حدیث کو عبدالرزاق نے ابن ابی حاتم سے مطولاً اور ابن جریر نے مختصراً روایت کیا ہے،ابن مردودیہ بھی اس کے راوی ہیں۔ابن کثیر  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس حدیث کو بخاری شریف سے دوسرے طریقوں سے بھی روایت کیا ہے۔لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے"کتاب الانبیاء"میں دو وجہ سے روایت کیا ہے۔حاکم سے بڑا تعجب ہے کہ اس نے اس حدیث کو مستدرک میں روایت کرکے یہ لکھا ہے:"صحيح علي شرط الشيخين ولم يخرجاه"۔۔۔حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے اس حدیث کو روایت  کیا ہے۔ہاں اس میں ذبح کا ذکر اختصار کی وجہ سے نہیں آیا اگرچہ صحیح بخاری میں دوسری جگہ آیا ہے کہ اس بکری کے سینگ کعبے میں لٹکتے تھے،یہ بھی آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  اپنے اہل کو دیکھنے کےلیے براق پر جلد آتے جاتے تھے پھر لوٹ کو بلاد مقدسہ کو چلے جاتے(واللہ اعلم)
ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ  نے خانہ کعبہ کی بنیاد کا جو حصہ حضرت علی مرتضیٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے بسند خود ذکر کیا  ہےا س سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے حضرت اسماعیل علیہ السلام  اور حضرت ہاجرہ سے جدائی سے پہلے اسے بنایا  تھا ۔ابن کثیر  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:"ہوسکتاہے کہ اس جگہ احاطہ اور حجرہ بنا رکھا ہو،جب اسماعیل  علیہ السلام  بڑے ہوئے تو مل کر وہاں گھر تعمیر کیا۔"جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
سدی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بیت اللہ کی بنیا د کا قصہ بیان کر کے کہا ہے کہ اس سیاق سے یہ بات نکلتی ہے کہ بیت اللہ کی بنیاد یں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  سے پہلے کی بنی ہو ئی تھیں ۔اللہ نے ان کو یہ جگہ بتا دی ۔بہت سارے لوگ یہ را ئے رکھتے ہیں  جن میں عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  عطا ء بن ابی رباح وغیرہ بھی ہیں کہ پہلے اس گھر کو آدم  علیہ السلام نے بنایا تھا حجرا سود جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یا قوت ہے۔ اللہ نے اس کی تر میم حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  سے کرا ئی حضرت عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل اس گھر کو پانی کے اوپر رکھا تھا ۔پھر زمین کو گھر کے نیچے سے پھیلا دیا ۔مجا ہد  رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا : اس گھر کے رکن (بنیاد ) ساتویں زمین ہیں ازرقی رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی "تاریخ مکہ معظمہ "میں ذکر کیا ہے کہ حضرت ذوالقرنین نے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  سے ساتھ مل کر اس گھر کا طواف کیا اس سے معلوم ہوا کہ اس گھر کی تاریخ بڑی پرانی ہے حدیث عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   میں آیا ہے :رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا کہ اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   تو نہیں دیکھتی کہ تیری قوم نے جب اس گھر کو تعمیر کیا تو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کی بنیا دوں سے کم کر دیا ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   نے عرض کیا ۔آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اسے ویسا ہی کیوں نہیں کر دیتے ! اس پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا : اگر تیری قوم کفر کے قریب نہ ہو تی تو میں اسے ویسا ہی بنا دیتا ۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان دونوں رکنوں کا استلام (چھوٹا ) جو پتھر کے متصل ہیں شاید اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ یہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کی بنیا دوں پر نہیں تھا (بخاری ومسلم )
حدیث عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ اگر قوم قریش جاہلیت اور کفر کے قریب نہ ہو تی تو کعبے کا خزانہ  میں اللہ کی را ہ میں خرچ کر دیتا اور اس کا دروازہ زمین پر رکھتا حجراسود کو اس میں دا خل کریتا ۔
بخاری میں ہے حضرت عبد اللہ بن زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اسی حدیث کی بنیا د پر کعبے کے دروزے بنا ئے ایک اندر جا نے کا اور دوسرا باہر آنے کا ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے اس حدیث کو کئی طریقوں سے نقل کیا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کے بعد قریش نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعث سے پانچ برس پہلے اس گھر کی تعمیر کی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ان کے ہمراہ پتھر اٹھا کر لاتے تھے پھر ایک کپڑے میں حجر اسود کو رکھ کر قبیلے نے اٹھا یا ۔جب پتھر اپنی جگہ پر پہنچا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود اسے اس کی جگہ پر نصب کیا ۔ابن اسحاق نے کہا کہ بیت اللہ عہد نبوی میں اٹھا رہ گزتھا اسے قباطی پہناتے پھر چادر پہنا ئی گئی حجاج بن یوسف نے پہلی دفعہ ریشم کا غلاف پہنایا ۔عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی امارت کے آغاز میں 60ھ کے بعد یزید بن معاویہ کی حکومت کے آخری ایام میں جب عبد اللہ بن زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا محاصرہ کیا گیا تو قریش کی رکھی ہو ئی بنیادیں جل گئیں ۔تو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کی بنیاد پر اسے دوبارہ تعمیر کیا ۔حجراسود  کو کعبے میں دا خل کر دیا مشرق و مغرب کی جا نب دو دروازے رکھے جس طرح اپنی خا لہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   سے سنا تھا ویسا ہی بنا دیا ۔جب تک وہ امیر رہے بیت اللہ اسی صورت پر رہا۔جب حجاج نے ان کو شہید کر دیا تو عبد اللہ بن مروان کے حکم سے اسے پہلی صورت پر تعمیر کیا گیا ۔(مسلم ونسائی )
ابن کثیر کا فر ما ن ہے کہ سنت یہی تھی کہ جو کا م عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا تھا اسے برقراررکھا جا تا ،اس لیے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس کو پسند کرتے تھے مگر اس وجہ سے کہ اسلام تازہ تازہ ہے اور لوگ کفر سے قریب الزمان ہیں ۔کہیں ان کے دل اس کا انکار نہ کر دیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیت اللہ کی تعمیر کو موقوف رکھا ۔
یہ حدیث عبد الملک بن مروان کے علم میں نہیں تھی جب اس پر ثابت ہواکہ یہ حدیث صحیح تھی تو اس نے کہا "(ودت اني تركت ولا تحمل)"یعنی بیت اللہ کو اسی حال پر چھوڑ دینا بہتر تھا (مسلم) ابن کثیر  رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا   کی یہ حدیث بہت سے صحیح طریقوں سے ثا بت ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ جو کا م حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا وہ بالکل صحیح تھا ۔اگر کعبے کو اسی شکل پر چھوڑ دیا جا تا تو بہت بہترتھا لیکن جب یہ صورتحال قائم ہو گئی تو اب بعض علماء کے نزدیک اس کا بدلنا مکروہ ہے ۔کہا جا تا ہے کہ مہدی یا ہارون الرشید نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا  تھا کہ ہم کعبے کو گرا کر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے طرز پر بنا دیں تو امام مالک : نے فر ما یا :اے امیر المومنین !بیت اللہ کو بادشاہوں کا کھیل تماشہ نہ بنا ؤ کہ جو چا ہے اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کرے۔ اس پر ہارون الرشید نے اس کا ارادہ ترک کر دیا۔ یہ حکا یت عیاض اور نووی نے بیان کی ہے سویہ گھر واللہ اعلمدور آخر تک اسی طرح بر قرار رہے گا حتی کہ دوسوکھی پنڈلیوں والا حبشی اسے گرا دے گا ۔
صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا  ہے:۔
يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ
یہ واقعہ یا جوج ماجوج کے خروج کے بعد ہو گا ۔بخاری میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے کہ یا جو ج ماجوج کے بعد بیت اللہ کا حج و عمرہ نہ ہو گا ۔
میں کہتا ہوں : قسطلا نی میں ہے کعبہ دس بار بنا یا گیا ۔۔۔ایک بار فرشتوں نے دوسری بار آدم علیہ السلام  تیسری بار حضرت شیث یہ مٹی اور پتھر کا تھا طوفان میں ڈوب گیا چوتھی بار حضرت ابرا ہیم علیہ السلام   پانچویں بار عمالقہ نے چھٹی بار جرہم نے (بانی کا نام حارث بن مضاض تھا) ساتویں بار قصی نے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پشت سے پانچویں جد امجد تھے آٹھویں بار قریش نے نویں بار عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اوائل 64ھ میں اور دسویں بار حجاج نے سلیمان جمل نے کہا ہے اس کے بعد 139ھ میں کسی بادشاہ نے اس کی تعمیر کی۔ امام رازی نے فر ما یا :یہ دلیل ہے کہ مسجد کا بنا نا اللہ کے قر ب کا ذریعہ ہے اور تحائف قبول کرنا مستحب ہے ۔
یہ دعا کہ" ہمیں مسلمان بنا  حج کے دستورسکھا ۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنا فرمانبردار بنا ہم تیری اطاعت و بندگی میں کسی کو شریک نہ کریں ۔کسی نے کہا مسلمان تو تھے ہی سو ثابت قدمی کی دعا مانگی ۔حضرت  عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا :اللہ نے اس دعا پر فر ما یا کہ میں نے ایسا ہی کیا سدی رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں ذریت سے مراد عرب ہیں ابن جریر کا قول ہے کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ ذریت عرب و عجم کو عام ہے ۔اس لیے کہ اسرائیل بھی حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کی ذریت ہیں اللہ نے فر ما یا :
 ﴿وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ﴿١٥٩﴾...الأعراف
"اور قوم موسیٰ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو حق کا رستہ بناتے اور اس کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ۔"
ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا :ابن جریر کا قول سدی رحمۃ اللہ علیہ  کی نفی نہیں کرتا اس لیے کہ عرب کی تخصیص عجم کے منا فی نہیں آیت شریعت کا سیاق و سباق عرب کے حق میں ہے اس کے بعثت رسور ل صلی اللہ علیہ وسلم  کی دعاعرب میں سے کی ہے وہ محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جیسے اللہ نے فر ما یا :﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ ... ٢...الجمعة "وہی تو ہے جس نے ان پڑھ لوگوں   میں سے (محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کو) پیغمبر بنا کر بھیجا "
اس کے باوجود یہ خبر کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو احمر و اسود کی طرف معبوث کیا گیا اس کے خلاف نہیں ۔اللہ کا فر مان ہے۔
﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ... ﴿١٥٨...الأعراف
""اے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں "
اس کے علاوہ اور بہت سی قاطع دلیلیں موجود ہیں کہ یہ دعا حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  و اسماعیل  علیہ السلام  کی ویسی ہی ہے جیسے اللہ نے متقین کے احوال کی خبر دی ہے۔
﴿وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ﴿٧٤﴾...الفرقان
"وہ جو اللہ سے دعا مانگتے کہ اے ہمارے پروردیگار !ہمیں ہماری بیویوں سے (دل کاچین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فر ما اور ہمیں پر ہیز گا روں کا امام بنا"
سو ایسی دعا شرعاً مر غوب ہے کیونکہ اللہ کی عبادت اور اس کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس بات کی تمنا کرے کہ اس کی نسل سے ایسے آدمی پیدا ہوں جو خالصتاً اللہ وحدہ لا شریک لٰہ کی عبادت کریں ۔اس لیے جب اللہ نے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  سے کہا تھا کہ میں تمہیں سب لوگوں کا امام متعین کروں گا تو انھوں نے عرض کیا کہ یا اللہ !میری اولاد میں بھی ایسا ہو تو اللہ نے فر ما یا :میرا ظا لموں سے کو ئی وعدہ نہیں :"
 ﴿...وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ ﴿٣٥﴾...ابراهيم
حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں مرفوعاً آیا ہے کہ "جب آدمی اس دنیا سے اٹھ جا تا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جا تا ہے مگر تین کا باقی رہتے ہیں :ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے نفع ہو تیسرا صالح اولاد جو اس کے حق میں دعا کرے۔
حج کے دستور سے مراد وہ قاعدے اور اصول ہیں جن کے مطا بق حج کیا جا تا ہے عطا ء کا قول ہے کہ مجا ہد رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا یعنی عین ذبح کی جگہ بتا دیں قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا فر ما ن ہے جب ابرا ہیم علیہ السلام  کو مناسک حج کا حکم ہوا تو سعی میں شیطان سامنے آیا ابرا ہیم  علیہ السلام اس پر سبقت لے گئے۔پھر جبرائیل  علیہ السلام  انہیں لے کر منیٰ میں آئے فر مایا : یہ جگہ لوگوں کے مناخ (قربانی) کی ہے ۔جب جمرہ عقبیٰ کے پاس گئے تو شیطان پھر سامنے آیا ۔ابراہیم علیہ السلام  نے اسے سات کنکریاں ماریں ۔پھر جمرہ وسطیٰ پر سات کنکریاں ماریں ،پھر جمرہ قصویٰ پر سات کنکریاں ماریں تب شیطان وہاں سے بھا گا پھر جبرائیل  علیہ السلام  ابرا ہیم  علیہ السلام  کو مزدلفہ میں لا ئے کہا : یہ مشعر ہے پھر عرفات میں لا ئے کہا : یہ عرفہ ہے پھر کہا اب تو آپ نے سب کچھ جان لیا۔ اسے ابو داؤد اور طیالسی نے روایت کیا ہے۔
معلوم ہوا کہ آج ملت اسلامیہ میں حج کے جو منا سک مقرر ہیں یہ سب جبرا ئیل  علیہ السلام  کے سکھا ئے ہو ئے ہیں جبرا ئیل  علیہ السلام  نے ابرا ہیم علیہ السلام  کو سکھا ئے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وساطت سے امت مسلمہ میں آئے ۔