ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
1995
ادارہ
گذشتہ دنوں مالا کنڈ ڈویژن (سوات دیر ،چترا ل ) کو ہستا ن (ہزارہ وغیرہ صوبہ سرحد کے بعض ریا ستی علاقوں میں نفاذ شریعت کی تحریک کا ایک غلغلہ اٹھا تو اسے قومی اور بین الاقوامی میڈیانے نما یاں حیثیت دی بالآخرگو رنر اور حکومت سر حد نے ایک نوٹیفکیشن مجریہ یکم دسمبر 1994ءکے ذریعے "نفاذ شریعت ریگولیشن " کا اعلا ن کر کے وقتی طور پر اس تحریک کا خاتمہ کر دیا ہے ہم اپنے ادارتی کالموں میں ادارہ محدث کے فاضل رکن ڈا کٹر محمود الرحمٰن فیصل کا اس پر ایک جا ئزہ شائع کر رہے ہیں جس کی تمہید میں چند گذارشا ت بطور یا د دہانی ہدیہ قارئین ہیں ۔
  • فروری
  • مارچ
1995
چودھری عبدالحفیظ
(گزشتہ سے پیوستہ) ۔۔۔معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی حرمت ابراہیم علیہ السلام  کی تعمیر سے  پہلے کی ہے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کےہاں  پہلے سے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم  لکھے ہوئے تھے۔حالانکہ آدم علیہ السلام  ابھی مٹی کے پتلے تھے۔حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے ایک دعا بھی کی تھی کہ انہی میں سے ایک رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پیدا فرما۔اللہ نے اپنے علم وقدرت کے مطابق اس دعا کو قبول فرمایا۔اسی لئے حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیدائش کے بارے میں پوچھا گیا،تو فرمایا:میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام  کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام  کی بشارت ہوں،میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات چمک اٹھے۔
  • فروری
  • مارچ
1995
غازی عزیز
"نفس " جمہور صوفیہ کے نزدیک منبع شر ہے تمام برے اعمال و افعال اسی سے ظہور پذیر ہو تے ہیں (1)چنانچہ سلیمان دارانی کا قول ہے کہ "نفس امانت میں خیانت کرنے والا رضائے الٰہی کی طلب سے روکنے والا ہے" (2) اسی لیے تہذیب نفس کہ جس کا مطالبہ راہ سلوک میں پہلا قدم رکھنے کے ساتھ ہی ہو تا ہے اور جو مجا ہد کا اصل مقصودہے سے قبل معرفت نفس ضروری ہے اس لحاظ سے معرفت نفس کو صوفیانہ زندگی کے نصاب العمل کی بنیا دی کڑی سمجھا جا تا ہے معرفت نفس کے بعد مجاہدہ کے ذریعہ نفس کا تزکیہ کیا جا تا ہے اور اس تزکیہ سے مشاہد ہ حق حاصل ہو تا ہے۔جو کہ تصوف  کی معراج ہے تزکیہ نفس کے لیے کیا جا نے والا مجا ہدہ مطا لبات حیات کے خلا ف سخت طرز عمل اختیار کرنے پر زور دیتا ہے تا کہ نفس کے اندر دنیا وہ چیزوں کی طرف رغبت پیدا ہو نے کے امکا ن کا سد باب کیا جا سکے ۔اس رویہ کے پیچھے علماء تصوف کا یہ نظر یہ کا ر فر ما رہا ہے کہ دنیا و مافیہاسے مکمل بے تعلقی کے بغیر معر فت نفس کے بغیر معرفت حق تک رسا ئی ممکن نہیں چنانچہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے رعونت کبریا ئی اور غرور نفس کے دفعیہ کی خاطر حاصل ہو نے والی نفس کشی کو سب سے افضل عمل قرار دیا گیا ہے چونکہ صوفیاء کے نزدیک مخالفت نفس بلکہ فناء نفس ہی مقصود ہے لہٰذا تمام مر غوبا ت و مشتہیات بلکہ جا ئز خواہشات تک سے ان کا اجتناب لازم ہوا ۔
  • فروری
  • مارچ
1995
ابوبکر الجزائری
"فرقہ  واریت"عقائد واعمال سے متعلق فکر ونظر کے اختلافات کا نام نہیں ہے،جیساکہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے،بلکہ یہ اختلافات کے بارے"نزاع"کا ایک رویہ ہے۔علمی اجتہادات سے پیش آمدہ مسائل میں جو کئی  پہلو نمایاں ہوتے ہیں،وہ کتاب وسنت کی نصوص کی تعبیر واطلاق میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔چنانچہ"خیر القرون"میں فرقہ وارانہ جھود سے قبل سلف صالحین کا علمی اختلاف قرآن وحدیث کی تفہیم میں خاص کردار کاحامل ہے۔
لیکن علمی انحطاط کےادوار میں عوام کی شخصی عقیدت اور مذہبی  گروپوں سے جذباتی وابستگی نے فرقہ پرستی کو فروغ دیا ہے۔برصغیر پاک وہند میں برطانوی سامراج نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسے خوب اجاگر کیا اور اس کی معنوی اولاد،لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے پروردہ اسے مذہبی جذبات کی بیخ کنی کےلئے بطور طعن استعمال کرتے ہیں۔تاکہ نام نہادسیکولرازم (لادینیت) کے لئے فضا ساز  گار بنائی جاسکے۔دور  حاضر کی گندی سیاست نے توفرقہ واریت  کو تشدد کا رنگ بھی دےدیا ہے جس کے پیچھے بین الاقوامی سازش کام کررہی ہےتاکہ مسلمان کفر کا مقابلہ کرنے کے لئے کبھی استحکام حاصل نہ کرسکیں۔
تاہم علم کے
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالغفار حسن
برصغیر پاک وہند میں "فقہی جمود" کے خلاف جب"اتباع واحیائے سنت" کی تحریک چلی تو اس کا توڑ دو طرح سے کرنے کی کوشش کی گئی،ایک تو صحیح احادیث کے بالمقابل ہرطرح کی صحیح وضعیف احادیث کے ذریعے"مذہب" کا دفاع،دوسرا یہ  پروپیگنڈا کہ محدثین صرف حدیث کے چھلکے کو لیتے ہیں مغز تک کی رسائی کی کوشش نہیں کرتے۔حالانکہ محدثین پر یہ الزام بالکل غلط ہے ۔جس کی شہادت کے لئے امیر المومنین فی الحدیث"امام بخاری" کی مثال ہی کافی ہے اس بارے میں پہلا طریقہ زیادہ تر متعصب مقلدین نے اختیار کیا اور دوسرا طریقہ متجددین(ترقی پسند مقلدین) نے مولانا امین احسن  اصلاحی کاتعلق دوسرے طبقہ فکر سے ہے۔لہذا وہ عبادات میں تو حنفی ہیں تاہم جہاں کہیں دل چاہتا ہے۔"تدبر " کے نام پر"تقلید" کے بجائے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی انحراف کرنے سے نہیں چوکتے۔اس سلسلے میں ان کا مخصوص طریق کار ہے۔قرآن کریم کی تفسیر میں ان کے اپنے"تدبر  واجتہاد" پر مبنی "فلسفہ نظم" ہے،جس میں نکتہ رسی کے فوائدسے قطع نظر ان کا ظاہر احادیث سے الرجک ہونا"متبعین سنت"سنت کوضرور کھلتا ہے۔در اصل یہ مکتب فکر اپنے"تدبر واجتہاد" کو دو
  • فروری
  • مارچ
1995
طیب شاہین لودھی
اللہ تعالیٰ جب کبھی کوئی نبی یا رسول مبعوث فرماتا ہے تواسے انتہائی مخلص،ایثار شعار اور جان نثار ساتھی عطا فرماتا ہے۔جو رسول کی تربیت اور زمانے کی ابتلاء اور آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتے ہیں۔جو ہر مشکل وقت اور مصیبت میں رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کاساتھ دیتے ہیں۔رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اعانت میں اپنی جان،اپنا مال اور اپنا تمام سرمایہ حیات اللہ کی خاطر،اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قدموں میں ڈھیر کردیتے ہیں۔نبی کی تائید اور مدفعت میں اپنا وطن،اپنی اولاد،اپنے ماں باپ اور خود اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اور ایمان کاتقاضا بھی یہی ہے۔
اللہ  تعالیٰ نبی کو ہر قسم کی صلاحیت بدرجہ اتم عطا کرکے مبعوث فرماتا ہے،اس کا فہم وفراست ثاقب اور اس کی بصیرت زماں ومکان کے  پار جھانکتی ہے۔ اس کی مردم شناسی خطا سے مبرا اور اس کا انتخاب صائب ہوتاہے۔تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ک منتخب کردہ افراد اس کی تربیت اور صحبت خاصہ اور باطل کے خلاف کشمکش اور آزمائشوں کے جاں گسل دور سے گزرنے کے بعد اپنی سیرت وکردار میں نبی کا پر توبن جاتے ہیں۔ان میں سے جو کوئی جس قدر نبی کے قریب ہوتا ہے۔اسی قدر اس کی سیرت وکردار کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے۔نبی  اپنے ساتھی منتخب کرنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔
  • فروری
  • مارچ
1995
محمد افضل ربانی
مصطفی المنفلوطی 7جمادی الاولی 1293ھ بمطابق جون 1876ء کو منفلوط (11) میں پیدا ہوئے (2)احمد عبید نے آپ کی تاریخ پیدا ئش 1877ء بتا ئی ہے (3)جبکہ عمر فروخ کے نزدیک آپ 1875ء کو پیدا ہوئے۔(4)
منفلوطی کی والدہ ترک تھیں جبکہ آپ کے والد کا سلسلہ نسب حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے جا ملتا ہے ۔اس طرح آپ نیم ترک نیم عرب تھے (5)
آپ کا خاندان زہد و تقوی اور علم و عرفان کے باعث نہا یت معزز سمجھا جا تا تھا دوسال سے منفلوط کی سرداری آپ ہی کے خاندان میں چلی آرہی تھی آپ کے چچا ابرا ہیم لطفی منفلوط میں چیف جج کے عہد ہ پر فا ئز رہےجبکہ آپ کے والد محمد محمد لطفی منفلوط میں جج تھے(6)
منفلوطی نے قرآن مجید اور ابتدا ئی تعلیم مدرسہ جلال الدین السیوطی میں حاصل کی یہ مدرسہ اسیوط (7)میں واقع تھا 11سال کی عمر میں آپ نے قرآن مجید یاد کر لیا ۔جب آپ کی عمر 13 سال ہو ئی تو آُ الازھر الشریف چلے گئے ۔اور دس سال تک عالم اسلام کی اس ممتاز درسگاہ میں مختلف جید علماء سے اکتساب فیض کرتے رہے ۔اسی دوران آپ کو مفتی محمد عبدہ(8)کےحلقہ درس میں شمولیت کے مواقع ملے،اس طرح آپ مفتی صاحب سے خوب مستفید ہو ئے۔(9)
منفلوطی کے والد محمد محمد لطفی کی تین بیویاں تھیں پہلی بیوی سے مصطفیٰ (1) اور حسن پیدا ہو ئے ۔آپ کے والد نے اپنی پہلی بیوی(11) کو طلا ق دے دی اور فاطمہ عثمان نامی ایک خاتون سے شادی کر لی ۔آپ کے سوتیلے بھائی ابو بکر عمر اور عثمان انہی سے پیدا ہو ئے ۔(12)آپ کو والد نے تیسری شادی منفلوط کی ایک مالدار خاتون مسماۃ حمید علی ابو النصرسے  کی۔ ان سے کو ئی اولاد نہ ہوئی ۔منفلوطی کے بھا ئیوں میں حسن (سگے بھا ئی ) منفلوط کے معروف سردار تھے جبکہ سوتیلے بھا ئی ابو بکر جرید ۃ الاتحادکے چیف ایڈیٹر رہے ۔عمر اوائل شباب میں فوت ہو ئے اور عثان پیشہ معلمی سے منسک رہے(13)
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالغفار حسن
اہل حدیث  جانبازفورس ،اہل حدیث نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ جس نے چند ماہ قبل "صراط مستقیم" کے نام سے ایک ماہنامہ کراچی سے جاری کیا ہے۔اس پرچے کا ایک نمایاں پہلو،اکابرین اہل  حدیث کے انٹر ویو لے کر من وعن شائع کرنے کا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرات اہل حدیث کے لیے اپنی کمزوریوں ،خوبیوں کا ایک تعارف سامنے آرہا ہے۔اسی سلسلہ میں بزرگ عالم دین مولانا عبدالغفار حسن مدظلہ العالی کا ایک انٹرویو"صراط مستقیم" کے د سمبر 94ءکے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالرشید عراقی
چودھویں صدی کی ممتاز ترین شخصیتوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں ایک اہم اور ممتاز شخصیت مولانا ابو القاسم سیف بنارسی کی نظر آتی ہے۔آپ ایک بلند پایہ عالم،مناظر،محقق،مبلغ اور مصنف تھے۔آپ نے پورے برصغیر(پاک وہند) میں اپنے علمی تبحر سے شہر ت حاصل کی۔آپ ایک کامیاب مقرر اور مبلغ تھے۔ہرحلقہ ادب میں آپ کا نام عزت واحترام سے لیا جاتا تھا۔ان کے علم وفضل کا اعتراف مسلمان علمائے کرام تو کرتے ہی تھے۔مگر غیر مسلم اسکالر اور دانشور بھی ان کی علمیت وقابلیت کا اعتراف کرتے تھے۔تقریر وخطابت اور مناظرہ میں آپ کو خداداد ملکہ حاصل تھا۔پیچیدہ  سے پیچیدہ مسائل کا حل نہایت زود فہم اورآسان طریقہ پر نکال لیتے تھے۔علوم عقلیہ ونقلیہ اور جملہ علوم اسلامیہ میں کافی دسترس تھی۔
تاریخ اہل حدیث کا ایک معتمد بہ حصہ آپ کی ملی وعلمی خدمات کارہین منت ہے۔آپ کی خدمات امت مسلمہ میں منفرد وممیز ہیں۔آپ ا پنے وقت کے کامیاب مصلح،برجستہ وقادر الکلام مناظر ہونے کے علاوہ قوم وملت کے ہمدرد خادم،مخلص ومتہم بالشان اوصاف حمیدہ کے مالک اور سچے مسلمان تھے۔نیک طبیعت اور نیک کردار تھے۔
  • فروری
  • مارچ
1995
عارف جاوید
خلیج کی حالیہ تباہ کن جنگ سے پیشتر عالم اسلام میں سعودی عرب کے بعد کویت ہی ایسا وہ ملک تھا جس کی صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اس کے سنجیدہ وحساس دل اہل خیر بھی سالہا سال سے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی اعانت،اسلامی جہاد اور دعوتی سرگرمیوں کی تائید وحمایت میں سر گرم عمل نظر آتے رہے ہیں۔انہوں نے کویت میں پٹرول کی وجہ سے  رونما ہونے والی خوشحالی کےبعد اپنی دولت کو تعیش کرنے کی نذر کرنے کی بجائے صحیح مصارف میں خرچ کرنے کی غرض سےمتعدد اسلامی،فلاحی اور رفاحی ادارے قائم رکھے تھے۔تاکہ اسلامی کاز کے مفید پروگراموں کو منظم طریقے سے چلایا جاسکے۔کویت پرعراق کے غاصبانہ قبضے کے بعد نامساعد حالات کے پیش نظر اگرچہ ان اداروں کی کارکردگی قدرے متاثر ہوئی،لیکن دینی جذبہ سے سرشاراہل دل ان پُر خطر حالات میں بھی اپنی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برآہونے کی ممکنہ کوششوں میں مصروف رہے اور اب جب کہ رحمت خداوندی سے کویت کی عراقی پنجہ استبداد سے آزادی مل چکی ہے۔اور عراق کو عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔تو ان اداروں نے بھی اپنا کام پھر سے نئے ولولوں اور تازہ دینی جذبوں کےساتھ  بھر پور انداز میں شروع کردیا ہے۔
  • فروری
  • مارچ
1995
اسرار احمد سہاروی
مال کار پہ اپنے سدا نظر رکھنا    چرا غ راہ گزر ہو ذرا خبر رکھنا 
سکوں شناس نہ ہو نا فریب منزل    قدم قدم کو سدا مائل سفر رکھنا 
صفائے قطب وہ گو ہر ہے جس کا مول نہیں    اسی چراغ سے روسن خدا کا گھر رکھنا 
گھرے ہو ئے ہو شب تار کے اندھیر ے میں    خدا کی ذات سےامید تم مگر رکھنا 
شب سیاہ مصائب کی جانے والی ہے   دلوں میں حوصلہ تا آمد سحر رکھنا