جنات کا انسانی جسم میں دا خل ہو نا ممکن ہے یا نہیں ؟اس با رے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں معتزلہ اور ان کے ہم نوا جو عقلیا ت کو کتاب و سنت کے بالمقابل اہم سمجھتے اور انہیں فوقیت دیتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ چوبکہ جن اور انسان اپنی ماہیت اور تحقیقی عناصر کے لحاظ سے یکسر مختلف ہیں۔اس لیے جنات انسانی جسم میں دا خل نہیں ہو سکتے ۔اس کے بر عکس قدماء و معاصرین علمائے اہل سنت والجماعت کی تحقیق ہے کہ اگرچہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ اورجدا مخلوق ہیں ۔تاہم قرآن مجید ،احادیث و آثار اور روزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہے کہ جنات انسانی جسم میں داخل ہو تے اور مختلف حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں۔
چنانچہ قرآن مجید میں سودخوروں کے متعلق بیان ہے۔
﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ...٢٧٥﴾...البقرة
"سود خورقیامت کے روزیوں اُٹھیں گے جسے کسی کو جن اپنے حملہ سے مد ہوش کر رکھا ہو۔"امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں رقم طرا ز ہیں ۔(
فى هذه الآية دليل على فساد إنكار من أنكر الصرع من جهة الجن وزعم أنه من فعل الطبائع وأن الشيطان لا يسلك فى الإنسان ولا يكون منه مس
"اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جو جنات کی طرف سے انسانوں کو مد ہوش کرنے کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا طبعی طور پر ہو تا ہے اور جن ،انسان کے جسم میں داخل نہیں ہو تا اور نہ مد ہوش کرتا ہے۔
نیز امام ابن کثیرؒ فر ماتے ہیں ۔
"سود خور قیامت کے روزیوں اُٹھیں گے جیسے پاگل و مجنون ،جنون کی حالت میں ہو ۔شیطان نے اسے مدہوش کر رکھا ہو اور وہ قبروں سے خوفناک انداز میں اُٹھیں گے۔"
ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں کہ سود خور قیامت کے روز پاگلوں کی طرح اُٹھے گا اور اس کا گلا گھٹ رہا ہو گا ۔
جنات و شیاطین چونکہ انسان پر حملہ آور ہو تے اور پریشان کرتے ہیں اسی لیے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فر ما یا کرتے تھے۔
اللهم أعوذ بك من التردي والهدم والغرق والحرق، وأعوذ بك أن يتخطبني الشيطان عند الموت
"یااللہ میں بلندی سےگرپڑنے ،دب جا نے ،ڈوبنے اور جل جا نے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان (جن) مجھے موت کے وقت گمراہ یا مد ہوش کر دے۔
نیز چونکہ جنات کے مساکن بالعموم گندے مقامات بالخصوص قضائے حاجت کی جگہیں ہوتی ہیں۔ اسی لیے بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی گئی۔
 بسم الله اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ "
"اللہ کے نام سے۔۔۔یااللہ میں مذکر و مؤنث شریر جنات کے شر سے تیری پناہ میں آتا  ہوں۔
اسی طرح مسند احمد جلد چہارم میں حضرت یعلی بن مرۃ الثقفی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت اور سنن دارمی میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت ہے کہ ایک دفعہ دوران سفر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایک عورت بچہ اٹھائے ہو ئے ملی۔اس نے کہا کہ اسے جنات کی شکایت ہے ۔آپ نے بچے کے ناک کو پکڑا ۔دوسری روایتکے مطا بق آپ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا :  اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ انا رسول الله
"اللہ کے دشمن نکل جا،میں اللہ کا رسول ہوں"(اور تجھے یہ کہہ رہاہوں )
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطا بق اس حکم کے سنتے ہی ایک چیخ سنائی دی اور اس کے پیٹ سے سیاہ رنگ کے پلے کا جانور نکل کر دوڑگیا ۔
آپ نے اس عورت سے فرمایا: تم ہمیں واپسی پر اسی جگہ ملنا ۔چنانچہ واپسی پروہ آپ کو ملی اور بتا یا کہ اب بچے کو مکمل آرام ہے اور دوبارہ اسے شکایت نہیں ہوئی ۔اور اس نے ہدیہ بھی پیش کیا:
(مسند احمد :ج4ص170تا173،سنندارمی :باب4حدیث نمبر14،2۔
امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں ۔
دخول الجنى فى بدن الإنسان ثابت باتفاق أئمة أهل السنة والجماعة، قال الله تعالى: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لا يَقُومُونَ إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ[البقرة: 275 وفى الصحيح عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الشيطان يجرى من ابن آدم مجرى الدم
وقال عبد الله بن الإمام أحمد بن"علمائے اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ جنات انسان کے بدن میں داخل ہو جا تے ہیں ۔قرآن مجید میں بھی ہے ۔
﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ...٢٧٥﴾...البقرة
اور صحیح بخاری میں نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرا می ہے کہ جن انسان کے بدن میں خون کی مانند گردش کرتا ہے۔
امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے عبد اللہ نے کہا : کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جن مریض کے بدن میں داخل نہیں ہو تا؟تو امام احمدؒ نے فر ما یا :بیٹا یہ لو گ غلط کہتے ہیں ۔وہ جن ہی ہو تا ہے جو مریض کی زبان پر بولتا ہے ۔
امام احمدؒ کے اس قول پر حاشیہ آرائی کرتے ہو ئے ،امام ابن تیمیہ ؒ فر ما تے ہیں "جو شخص جن کی وجہ سے مدہوش ہو تو وہ ایسی زبان بولتا ہے جو سمجھ نہیں آتی ایسے مریض کو شدید ترین مارپیٹ کی جا ئے تو اسے محسوس تک نہیں ہو تا  ۔مریض ایسی ایسی عجیب و غریب حرکا ت کرنے کرتا ہے کہ دیکھنے والے کو یقین ہوجا تا ہے کہ اس کی زبان سے بولنے والا اور یہ حرکات کرنے ولا انسان نہیں بلکہ کو ئی دوسری مخلوق ہے۔
اما م ابن تیمیہ ؒ مزید فر ما تے ہیں کہ ائمہ مسلمین میں سے کسی نے انسانی جسم میں جنات سےداخل ہو نے کا نکا ر نہیں کیا ۔اور ہی کو ئی شرعی نص اس کی تر دید میں وارد ہے۔جو لوگ انسانی جسم میں جنات کے دخول کے منکر ہیں ان کا استدالال اس آیت سے ہے ۔
﴿وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ...١٠٢﴾...البقرة
"جادو گر ،جادو سے اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے "
بلا شبہ یہ آیت واضح دلیل ہے کہ جنات جادو یا مد ہوشی کی تکلیف یاکوئی دوسری تکلیف اللہ کے حکم کے بغیر نہیں پہنچا سکتے ۔تا ہم شیطا ن یعنی کا فر جن کو مؤمنین پر ان کے گناہوں یا عبادات و ذکر الٰہی سے بعد کے سبب مسلط کردیا جا تا ہے ۔مگر شیاطین اللہ کے نیک بندوں کا کچھ بھی نہیں بگا ڑ سکتے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعا لیٰ ہے ۔
﴿ إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ...٤٢﴾...الحجر
"بے شک میرے بندوں پر تجھے کچھ اختیار نہیں ۔"
جنات چمٹنے کے اسباب اور ان کا علاج
امام ابن تیمیہؒ فر ما تے ہیں کہ انسانوں کو جنات چمٹنے کے اسباب ستعد ہیں جیسے ایک انسان دوسرے کے عشق و محبت میں گرفتا رہو جا تا ہے اسی طرح بعض اوقات کو ئی جن کسی انسان پر فریفۃ ہو کر اس سے آچمٹتا ہے ۔اسی  طرح اگر کو ئی انسان جنات کو دکھ پہنچائے ،برا بھلا کہے ، کسی جن کو قتل کر ڈالے ان پر گندگی یا گرم پانی وغیرہ ڈال دے ،ان کے ٹھکانے پر بول و براز کردے اس قسم کے کام انسان نے عمداً کئے ہوں یا لا علمی میں جنات اس قسم کی باتوں کا بدلہ لینے کے لیے اس "انسان کو آچمٹتے ہیں ۔جنات میںچونکہ ظلم و جہالت زیادہ ہے وہ کسی سے اس کے جر م کی نسبت زیادہ بدلہ لے سکتے ہیں ۔
جس طرح بعض انسانوں میں جہالت ہو تی ہے ۔اسی طرح بسا اوقات کو ئی جن محض جہالت کے سبب کسی جرم یا غلطی کے بغیر بھی آچمٹتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کے شر سے بچنے کا واحد ذریعہ اللہ کا ذکر ہے۔ہر کام سے قبل اللہ کا مبار نام لینا چاہیے ۔جیسا کہ احادیث میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں بکثرت آیا ہے کہ آپ کھا نے پینے سواری پر سوار ہو نے کپڑے پہننے اور قضاء حاجت وغیرہ کےمواقع غرض یہ کہ ہر کام سے قبل اللہ کا نام لیا کرتے تھے ۔
امام ابن تیمیہؒ فر ما تے ہیں کہ جب جنات کسی انسان سے زیادتی کریں تو اولاً انہیں اللہ اور رسول کے حکم آگا ہ کر کے ان پر حجت قائم کر دی جا ئے اور انہیں اسی طرح سمجھا یا جائے جیسے انسانوں کو سمجھا یا جا تا ہے جیساکہ ارشاد الٰہی ہے۔
﴿...وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا ﴿١٥﴾...الإسراء
"ہم رسول بھیجے  بغیر کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے"
اگر وہ وعظ و نصیحت اور تنبیہہ کے باوجود باز نہ آئیں تو انہیں ڈرا نا ،دھمکانا ،برا بھلا کہنا لعنت ملا مت کرنا ،جائز ہے، جیسا کہ ایک دفعہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ،اسی دوران ایک شیطان آگ کا شعلہ لے کر آپ کے چہرہ پر حملہ آور ہوا تو آپ نے تین بار فر ما یا أَلْعَنُكَ بِلَعْنَة اللَّهِ، (صحیح بخاری) چنانچہ شیطان کے مقابلہ کے لیے اللہ کا عمومی ذکر اور قرآن مجید بالخصوص آیت الکرسی کی تلاوت کی جا ئے ۔
آیت الکرسی کے بارے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا ہے کہ جو کو ئی رات کو یہ آیت پڑھ لے اللہ کی طرف سے اس پر ایک نگرا ن مقرر کر دیا جا تا ہے اور صبح تک کو ئی شیطان اس کے قریب نہیں آسکتا ۔