آیت نمبر :125،
"اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور جائے امن مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے  اس کو نماز کی جگہ بنا لو ۔۔۔۔
تشریح :
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا : " اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لو گ اس گھر سے اپنی حاجت پوری کر کے اہل و عیال کی طرف جاتے ہیں تو دوبارہ اس گھر کو آنے کی خوہش کرتے ہیں یعنی بار بار آتے ہیں اور اس کو ٹھکانہ بنا لیتے ہیں یہی بات ایک جماعت صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین     و تابعین نے بھی کہی ہے کہ جو کو ئی یہاں سے لو ٹ کر گھر جا تا ہے اسے واپس آنے کا شوق لگا رہتا ہے ہر قر یہ ہر بستی شہر اور ملک سے لو گ سے لوگ دوڑ دوڑ کر یہاں آتے ہیں شاعر نے کہا ہے ۔
جعل البيت مثاباتهم...........ليس منه الدهر   يقضون اتواطر
"بیت اللہ کو ان کے لیے اللہ نے ٹھہرنے کی جگہ بنا یا کو ئی زمانہ ایسا نہیں جس میں لو گوں نے اس کے طواف کی آرزو کو پورا نہ کیا "
(یعنی یکبار دیدم و بار دیگر ہوس وارم " ایک بار دیکھا ہے دوسری بار دیکھنے  کی ہوس ہے)
دوبارہ می فلیم طواف کعبہ اے نواب
خدا دید بہ پر و بال من ہوا ئے دگر
"اے نواب ! میں دوبارہ کعبے کا طواف کرنا چاہتا ہوں اللہ میرے بال و پر کو دوسری دفعہ پرواز کے لیے ہوا میسر فر ما ئے ۔
نہ پوچھواہل موقف ہم سے دیوانوں کی بے تابی
یہاں مجمع سنایاں بھی تلا ش یار میں آئی
"امن "سے یہ مراد ہے کہ یہاں لو گ بے خوف و خطر رہتے ہیں اللہ کی پنا میں ہو تے ہیں ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا یعنی دشمن کے ہتھیار اٹھا نے سے امن میں ہیں زمانہ جاہلیت میں کفار ادھر اُدھر سے لو گوں کو اُچک لیتے تھے مگر حرموالوں کو تب بھی کو ئی نہ پکڑتا تھا نہ ستاتا تھا یہ چین و آرام سے رہتے تھے حضرت مجاہد حضرت عطاء حضرت سدی اور حضرت قتادہ رحمہم اللہ کا قول ہے کہ جو اس حرم میں آیا وہ امن میں ہوا ایک جمات اہل علم نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ جو حرم میں پناہ لے لے اس پر کو ئی حد قائم نہ کی جا ئے جیسے اللہ کا فر ما ن ہے ۔وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًابعض نے کہا یہ حکم  منسوخ ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اس پناہ گزین مجرم کو یہاں تک تنگ کیا جا ئے کہ وہ باہر آجا ئے پھر اسے پکڑ کر سزا دی جا ئے اسی لیے ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا : "امن سے مراد ملجا ء و ماوی ہے" حاصل کلا م یہ ہے کہ اللہ نے اس آیت میں کعبے کا شرف بیان کیا جو وصف شرعاً اس کا تھا واضح کیا کہ یہ ایسی جگہ ہے کہ جس کا شوق ارواح کو ہے اگر کو ئی ہر سال یہاں آئے تو بھی اس کا جی نہیں بھرتا گو یا اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی دعا :
فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْ‌زُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَ‌اتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُ‌ونَ ﴿٣٧﴾ رَ‌بَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّـهِ مِن شَيْءٍ فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ﴿٣٨﴾ الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ‌ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَ‌بِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ﴿٣٩﴾ رَ‌بِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِي ۚ رَ‌بَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
قبول کی پھر اللہ نے فر ما یا : یہ وہ جگہ ہے کو ئی کچھ بھی کرتا ہو جب یہاں آجا تا ہے تو اس کو پناہ مل جا تی ہے ابن زید  رحمۃ اللہ علیہ  نے فر مایا ۔"آدمی اپنے باپ بھا ئی کے قتل کو دیکھتا مگر تعرض نہ کر سکتا "جیسے اللہ نے فر ما یا ۔
جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ
"یعنی اس گھر کی تعظیم کے سبب سے برا ئی دور کی جا تی ہے ۔(المائدہ:97)
اسی لیے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا ۔اگر لو گ اس گھر کا حج نہ کریں تو اللہ آسمان کو زمین پر گرا کر ایک طبق دے سو یہ شرف اس گھر کے بانی مبانی حضرت ابراہیم علیہ السلام  (خلیل الرحمٰن) کی وجہ سے حاصل ہوا جیسے اللہ تعا لیٰ نے فرما یا ۔
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌اهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِي شَيْئًا
"اور جب ہم نے ابرا ہیم کو گھر کا ٹھکا نہ ٹھیک کر دیا کہ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا نا"۔۔۔اور فر ما ن با ری تعا لیٰ ہے ۔
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَ‌كًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ﴿٩٦﴾ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَ‌اهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ
"پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنا یا گیا وہ مکہ میں ہے اوربا برکت ہے جہان والوں کے لیے ہدایت کا سبب ہے اس میں واضح نشانیاں ہیں مقام ابرا ہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو تا ہے تو امن میں ہو جا تا ہے ۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مر فوعاً آیا ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فتح مکہ کے روز فر ما یا ۔"یہ وہ شہر ہے جس کو اللہ تعا لیٰ نے آسمان زمین کی پیدائش کے رو ز سے حرام کر دیا ہے سو یہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک حرام ہے یہاں مجھ سے پہلے کسی شخص سے قتال کرنا حلال نہیں ہوا میرے لیے بھی یہ صرف ایک ساعت حلال کیا گیا اب وہ قیامت تک حرام ہے نہ یہاں سے کاٹنا کا ٹا جائے۔نہ شکار بھگا یا جا ئے نہ گری پڑی اٹھائی جا ئے (مگر جو شخص اسے بیت المال تک پہنچا دے ) اور نہ گھا س کا ٹی جا ئے "ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا "اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  مگر اذ خر (گھاس ) ۔۔۔یہ بھٹیوں اور گھروں میں تنور کے کا م آتی ہے " رسول اکرم   صلی اللہ علیہ وسلم  نے    فر ما یا ۔وہاں اذخر اس سے مستثنیٰ ہے "(بخاری مسلم )
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو ا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اجتہاد کرنا درست تھا کیونکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا اجتہاد وحی کے حکم میں شامل تھا ۔
مقام ابرا ہیم  علیہ السلام  :
اس آیت کریمہ میں مقام ابرا ہیم پر خبردار فر ما کر یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس کے پاس نما ز پڑھا کرو ۔ مفسرین کا اختلا ف  ہے کہ اس مقام سے کو ن سی جگہ مراد ہے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا "سارا حرم مقام ابراہیم علیہ السلام  ہے " یہی بات مجا ہد و عطا ء سے مروی ہے عطاء کا فرمان ہے ۔
"سارا حرم مقام ابرا ہیم علیہ السلام  ہے سعید بن جیر  رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا " مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم  علیہ السلام  کھڑے ہو کر حضرت اسمٰعیل  علیہ السلام کو پتھر اٹھا کر دیتے تھے اللہ نے اس پتھر کو رحمت ٹھہرا یا ہے سدی  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا ۔"مقام ابرا ہیم علیہ السلام  وہ پتھر ہے جس کو حضرت اسمٰعیل  علیہ السلام کی بیوی نے اٹھا کر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کے قدموں میں رکھ کر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا سر دھویا تھا " قرطبی نے اسے ضعیف اور دوسروں نے اسے راجح کہا ہے امام رازی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کو حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ  قتادہاور ربیع بن ابن رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فر ما تے ہیں "رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب حج میں طواف کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا کیا یہ ہمارے باپ کا مقام ہے ؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا ہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے عرض کی : کیا ہم اس کو مصلیٰ نہ بنا ئیں ؟  اس پر یہ آیت نازل ہو ئی (ابن ابی حاتم )
یہ وحی حضرت عمر بن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی را ئے کے مطا بق نازل ہو ئی اسی طرح بہت جگہ وحی نے ان کی را ئے سے مطابقت کی ہے ایسے کل اٹھارہ مقامات ہیں جنہیں سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک علیحدہ رسا لے میں جمع کر دیا ہے اس حدیث کو ابن ابی شیبۃ اور ابن مرودیہ نے بھی روا یت کیا ہے لفظوں کا معمولی فرق ہے مگر معنی ایک ہے بخاری شریف میں ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا کہ میں اپنے رب سے تین باتوں میں موافق ہوا یا مجھ سے میرے پروردیگار نے تین باتوں میں موافقت کی :
1۔میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ش آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اس مقام ابرا ہیم کو اختیار کرتے اس پر آیت نازل ہوئی ۔
2۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس نیک و بد سب طرح کے لوگ آتے ہیں کا ش آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اُمہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیتے اس پر آیت حجاب نازل ہوئی ۔
3۔میں نے سنا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  بعض بیویوں پر خفا ہو ئے میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیویوں سے کہا کہ تم باز رہو ورنہ اللہ اپنے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو تم سے بہتر بویاں بدل دے گا تو اس پر یہ آیت ۔
عَسَىٰ رَ‌بُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرً‌ا مِّنكُنَّ مُسْلِمَاتٍ
نازل ہوئی اس حدیث کو امام احمد نے بھی روا یت کیا ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ  نے حسن صحیح لکھا ہے اس حدیث کو امام مسلم  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی روا یت کیا ہے علی بن المد ینی نے بھی اسے صحیح کہا ہے ابن ابی حاتم کی روا یت میں تیسری بات یہ آئی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے عبد اللہ بن ابی کی نماز جنا زہ پڑھنے سے منع کیا تھا رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نماز جنازہ پڑھائی اس پر یہ آیت نازل ہو ئی ۔
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِ‌هِ ۖ
یہ اسناد صحیح ہے ان میں کچھ تعارض نہیں پہلے یہ پتھر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے دور میں کعبہ کی دیوار میں لگا تھا سب سے پہلے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس جگہ منتقل کیا جہاں آج ہے اس کو بیہقی نے صحیح سند سے روا یت کیا ہے ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ اسے خلیفہ راشد نے اس جگہ منتقل کیا ہم پر ان کا اتباع لا زم ہے حدیث میں ہے:۔
اقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر وعمر
یہ وہ شخصیت ہیں جن کی را ئے سے قرآن نے اس مقام پر نماز پڑھنے میں موافقت کی اس لیے کسی صحابی نے ان کی را ئے سے اختلا ف نہ کیا یہ پتھر دیوار کعبہ میں حجراسود سے دائیں جانب متصل تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام  جب کعبہ بنا چکے تو اس کو دیوار کے پاس یا جس جگہ تعمیر ختم ہو ئی وہاں رکھ کر چھوڑ دیا تھا لہٰذا یہ حکم ہوا کہ طواف کے بعد اس جگہ نماز پڑھو اور یہی منا سب تھا کہ مقام وہ جگہ ہو جہاں کعبہ کی بنیاد ختم ہو ئی کہتے  ہیں :" اس پتھر پر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کے نقش پا کا نشان تھا جو کثرت مسح سے جا تا رہا "قبلہ کے چاروں طرف نماز جا ئز ہے لیکن نماز کی تخصیص مقا م ابرا ہیم علیہ السلام  کے پیچھے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت ہے اور یہی صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کا فعل بھی ہے اس پتھر کو چھونے یا چومنے کا حکم نہیں دیا گیا بخاری شریف میں مقام ابرا ہیم کے قصے میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے ایک لمبا اثر منقول ہے ترمذی کی حدیث میں آیا ہے رکن و مقام جنت کے دو یا قوت ہیں اللہ نے ان کے نور کو مٹا دیا حضرت جا بر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فر ماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  طواف کے پہلے تین چکروں (اشواط) میں دوڑ کر چلتے باقی چار چکروں میں آہستہ آہستہ چلتے رہے جب طواف سے فارغ ہو ئے تو مقام ابرا ہیم علیہ السلام  کے پیچھے آکر دور رکعتیں پڑھیں اور مذکور ہ آیت تلاوت کی ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ  کی روا یت میں یہ بھی آیا ہے کہ مقام ابرا ہیم علیہ السلام  کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعتیں ادا کیں ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں یہ طویل حدیث کا جو صحیح مسلم میں حاتم  بن اسماعیل سے آئی ہے ایک ٹکڑا ہے بخاری میں عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فر ما تے ہیں "رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  خانہ کعبہ تشریف لا ئے پھر طواف کیا پھر مقام ابرا ہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں "یہ سب حدیثیں اس بات پر دلیل ہیں کہ مقام سے مراد ہی پتھر ہے جس پر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کھڑے ہو کر کعبے کی تعلیر کرتے رہے جب دیوار اونچی ہو ئی تو حضرت اسماعیل اس پتھر کو اٹھا لا ئے تا کہ اس پر کھڑے ہو کر ہاتھ سے پتھر اٹھا کر دیں ۔جب ایک دیوار بن جا تی تو یہی پتھر دوسری طرف لے جا تے حتی کہ چاروں طرف کی دیوار یں بن گئیں حضرت ابرا ہیم کے نقش قدم اس میں واضح تھے اہل اسلام کے زمانے میں بھی اس نشان کے آثار مو جو د تھے انس بن مالک رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا کہ " میں نے مقام ابراہیم کو دیکھا اس میں انگلیوں اور تلوے کا نشان موجود تھا لو گوں کے ہاتھوں نے مسح کر کر کے ان نشانات کو مٹا دیا حضرت قتادۃ  رحمۃ اللہ علیہ   نے فر ما یا "اس جگہ نماز پڑھنے کا حکم ہے نہ کہ چھونے کا جو تکلف اگلی امتوں نے کیا تھا وہی تکلف اس امت نے بھی کیا ابن عینیہ نے کہا ہے ۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے مقام ابرا ہیم  علیہ السلام  کو منتقل کرنے کے بعد سیلا ب آیا جو ابرا ہیم کو بہا کر لے گیا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس کو لا کر دوبارہ اس جگہ پر نصب کیا حضرت سفیان فر ما تے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اس پتھر کے کعبے سے منتقل کرنے کے در میان کتنی مدت گذری ہے نہ ہی یہ معلوم ہے کہ یہ کعبے سے چپکا ہوا تھا یا نہیں مگر ایک روا یت جو مجا ہد سے مروی ہے اس میں یوں آیا ہے کہ اس کی جگہ خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تبد یل کی لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے
آیت 125تا127:
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَ‌ا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّ‌كَّعِ السُّجُودِ ﴿١٢٥﴾ وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ رَ‌بِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْ‌زُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَ‌اتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ‌ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّ‌هُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ‌ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ‌ وَإِذْ يَرْ‌فَعُ إِبْرَ‌اهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَ‌بَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
"وہ وقت یاد کیجئے ! جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور باعث امن جگہ مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کھڑے ہو ئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو اور حضرت ابرا ہیم اور اسماعیل  علیہ السلام  کو کہا کہ طواف کرنے والوں اعتکاف کرنے والوں رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک و صاف رکھو ۔اور یہ کہ ابرا ہیم علیہ السلام  نے دعا کی ۔"اے میرے رب اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ۔جواب میں ان کے رب نے فر ما یا : اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دو ں گا مگر آخر کا ر اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اوروہ بد ترین ٹھکانہ ہے ۔اور یا د کرو ابرا ہیم اور اسماعیل علیہ السلام  جب اس گھر کی دیوار یں اٹھا رہے تھے دعا کرتے جا تے تھے ۔اے میرے رب ! ہم سے یہ خدمت قبول فر ما لے تو سب کی سننے اور سب کچھ جا ننے والا ہے ۔
حرمت بیت اللہ :
حسن بصری  رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا : بیت اللہ کو پا ک کرنے سے مرا د یہ ہے کہ ایذایا نجاست کی  کو ئی چیز وہاں نہ ہو عہد سے مراد حکم اور وحی ہے ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا بتوں سے پاک کرو مجا ہد  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا بے حیائی کی باتیں اور جھوٹ سے باز رہیں اور گندگی سے اسے پاک رکھا جا ئے ابو العا لیہ  رحمۃ اللہ علیہ  عطاء  رحمۃ اللہ علیہ  اور قتادۃ رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا لاالہ الا اللہ  کہہ کر شرک سے پا ک اور صاف رہو طواف سے مراد بیت اللہ کے گرد چکر لگانا ہے طائف سے مراد وہ شخص ہے جو مسا فر بن کر آیا ہے عا کف سے مراد وہ شخص ہے جو مکے میں رہتا ہے یہی قول قتادۃ رحمۃ اللہ علیہ  اور ربیع بن انس کا ہے عطاء رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا عاکف وہ آدمی ہے جو دوسرے شہروں سے آکر یہاں ٹھہر ا ہے اور کہتا ہے میں مجا ور ہوں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا کہ جو آدمی مکے میں آکر ٹھہرا وہ بھی من جملہ عاکفین ہے ۔صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مسجد نبوی میں سوجا تے تھے عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فر ما تے ہیں جو وہاں نماز پڑھتا ہے (اور نماز ،رکوع اور سجود میں ہے ) ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ  نے ان دونوں روا یتوں کو ضعیف کہا ہے ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے پہلی روایت کو درست کہا ہے ۔حاصل کلا م یہ ہے کہ دو نوں باپ بیٹے کو اللہ نے حکم دیا تھا کہ تم اس گھر کو خاص اللہ وحدہ لا شریک کے نام پر بنا ؤ جیسے قرآن مجید میں ہے ۔
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌اهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ‌ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّ‌كَّعِ السُّجُودِ
"اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے حضرت ابرا ہیم  علیہ السلام  کے لیے بیت اللہ کو ٹھہرنے کی جگہ متعین کیا اور ارشاد فر ما یا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور طواف کرنے والوں قیام کرنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک و صاف رکھو ۔فقہاء کا اختلاف ہے کہ بیت اللہ میں نماز افضل ہے یا طواف ؟ امام مالک  رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں باہر سے آنے والوں کے لیے طواف افضل ہے جمہور کا فیصلہ یہ ہے کہ نماز مطلقاً افضل ہے ہر ایک قول کی تو جیہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے کتاب الاحکام میں درج کی ہے اس آیت سے ان مشرکو ں کا رد مراد ہے جو کعبے کے قریب اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے اور پھر مؤمنین کو وہاں آنے سے رو کتے تھے جیسے قرآن میں ہے:۔
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ ۚ وَمَن يُرِ‌دْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ 

"بیشک وہ لوگ جو کافر ہیں اور لوگوں کو اللہ کے رستے سے اورمجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لیے یکساں عبادت گا ہ بنا یا ہے روکتے ہیں خواہ وہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آن والے اور جو اس میں شرارت کج رو و کفر کرنا چا ہتے ہیں ہم اس کو درددینے والے عذاب کا مزہ چکھا ئیں گے ۔

پھر فر ما یا : کہ یہ گھر اس لئے بنا یا گیا ہے کہ یہاں خالص اللہ کی عبادت کی جا ئے خوا ہ نماز ہو یا طواف سورہ حج میں نماز کے تینوں رکن و سجود کا ذکر کیا اور عاکفین کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ان کا ذکر پہلے آچکا تھا  اس آیت میں تائفین عاکفین کا ذکر کیا ساتھ رکو ع اور سجدے کا بیان بھی کیا لیکن قیام چھوڑ دیا اس لیے کہ یہ بات معروف و معلوم ہے کہ رکوع و سجود قیام کے بعد ہی آتے ہیں اس آیت میں ان یہود و نصاریٰ کا بھی رد ہے جو بیت اللہ کا حج نہیں کرتے حالانکہ یہود حضرت ابرا ہیم  علیہ السلام  اور حضرت اسماعیل  علیہ السلام  کی فضیلت کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے یہ گھر اسی طواف کے لیے اور حج و عمرہ کے لیے بنا یا تھا اور اعتکاف و نماز کے لیے تیار کیا ہے اگر اہل کتاب ان کا موں میں سے کو ئی سر انجام نہیں دیتے تو یہ حضرت خلیل علیہ السلام  کے کے متقدی کیسے ٹھہرے ؟کیونکہ جو کام اللہ نے ان کے لیے مشروع کئے تھے وہ انہیں ادا نہیں کرتے موسیٰ بن عمران اور انبیاء  علیہ السلام  نے بھی اس گھر کا حج کیا تھا جیسا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کی خبر دی ہے ۔مساجد کی تطہیر کی فضیلت اس آیت سے لی گئی ہے قرآن میں دوسری آیات بھی ہیں ۔جو مسا جد کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے ۔
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْ‌فَعَ وَيُذْكَرَ‌ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
"وہ (قند یل )ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں اللہ تعا لیٰ نے ارشاد فر ما یا ہے کہ بلند کئے جا ئیں اور وہاں اللہ کے نام کا ذکر کیا جا ئے اور ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہیں ۔جہاں تک آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت مطہرہ کا تعلق ہے تو بہت سی احادیث مساجد کی پاکیزگی و صفائی اور اذیت اور نجا ست سے بچانے کے ضمن میں آتی ہیں اسی لیے فر ما یا :
إنما بنيت المساجد لما بنيت له
"مساجد جس مقصد کے لیے بنا ئی گئیں ہیں اسی کے لیے استعمال ہو نی چاہئیں (یعنی ) ذکر و صلوٰۃ )"ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے اس سلسلے میں ایک علیحدہ رسالہ لکھا ہے
تعمیر کعبہ :
اس بات میں اختلا ف ہے کہ سب سے پہلے کعبہ کس نے بنا یا ؟ ۔۔۔امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا کہ فرشتوں نے بنا یا اس قول میں غرابت ہے عطاء ،سعید بن مسیب نے کہا : آدم علیہ السلام  نے اسے پانچ پہاڑوں سے بنا یا : حرا سینا طور زیتا جبل لبنان اور جودی لیکن یہ روا یت بھی غریب ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  و کعب بن احبار قتادۃ وغیر ہم نے کہا کہ سب سے پہلے شیث  علیہ السلام  نے کعبہ تعمیر کیا ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ اہل کتاب کے اقوال ہیں جابر بن عبد اللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے کہ "حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  نے بیت اللہ کو حرام و باامن کیا میں نے دو پہاڑوں کے درمیان مدینہ کو حرام کیا نہ اس کا شکار کیا جا ئے نہ وہاں کے خاردار درخت کو کاٹا جا ئے مسلم نسائی ابن جریر نے اسے روایت کیا ہے یہ مضمون صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کی ایک جماعت سے کئی طرح سے مروی ہے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا اللہ نے مکے کو اس دن حرام کیا جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا سو یہ قیامت تک کے لیے حرام ہے امام بخاری اور اہل سنن نے حدیث ابو ہریرہ سے تعلیقا روا یت کیا ہے ابن ما جہ نے یہ حدیث صفیہ بنت شیبہ سے روا یت کی ہے اور بھی بہت سی حدیثیں اس ضمن میں مو جو د ہیں جب ابرا ہیم علیہ السلام  نے لو گوں کو یہ بات پہنچا دی کہ اللہ نے اس گھر کو حرام کیا اور یہ ہمیشہ سے باعث امن و احترا م تھا تو ابرا ہیم  علیہ السلام  کی طرف تحریم کی نسبت اللہ کے حکم کو بیان کرنے کی وجہ سے ہے ابن جریر کہتے ہیں یہ گھر پہلے سے ہی حرام تھا لیکن اللہ تعا لیٰ نے کا ئنات کو اس میں عبادت کا حکم دیا ۔حدیث ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے مرفوعاً آیا ہے ۔ "حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  اللہ کے بندے اور خلیل تھے اور میں اللہ کا بندہ اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہوں انھوں نے مکے کو حرام کیا  میں نے مدینے کو دو پہاڑوں کے در میان حرام ٹھہرا یا یہاں کا شکار اور خار دار درخت کا ٹنا بھی حرا م ہے یہاں لڑائی کے لیے ہتھیار اٹھا نا جا ئز نہیں یہاں کا کو ئی درخت نہ کا ٹا جا ئے ہاں البتہ اونٹ کے چارے کے لیے جا ئز ہے ۔ابن جر یر  رحمۃ اللہ علیہ  نے اسے اپنی سند سے روا یت کیا ہے ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  نے اس سند کو غریب ٹھہرا تے ہو ئے لکھاہے کہ یہ حدیث صحاح ستہ نہیں ہے لیکن اس کی اصل حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مو جو د ہے کہ لو گ پہلا پھل رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پس لا تے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اسے لے کر فر ما تے : اے اللہ ہمارے پھل ہمارےشہر ہمارے صاع ہمارے مد (مدینہ کے دو پیمانے ) میں برکت عطا فر ما اے اللہ بیشک ابرا ہیم علیہ السلام  تیرے بندے خلیل و نبی تھے میں بھی تیرا بندہ و نبی ہوں انھوں نے آپ سے مکہ کے واسطے دعا کی میں مدینے کے لیے دعا کرتا ہوں ویسی ہی دعا اور مثل اس کی (یعنی دو چند ) پھر کسی چھوٹی عمر کے بچے کو بلا کر وہ پھل اسے دیتے دوسری روا یت کے الفاظ یہ ہیں کہ "برکت ہمراہ برکت کے" (برکت در برکت ) پھر جو بچہ چھوٹا مجلس میں مو جو د ہو تا وہ اسے مرحمت فرماتے  (صحیح مسلم) رافع بن خدیج  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روا یت یہ ہے کہ حضرت ابرا ہیم  علیہ السلام  نے مکے کو حرا م کیا میں دو پہاڑوں کے درمیان مدینے کو حرام کرتا ہوں (ابن جریر مسلم) صحیحین میں حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے کہ "اے اللہ میں دو پہاڑوں کے در میان مدینہ کو حرام ٹھہراتا ہوں جیسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  نے مکے کو حرام ٹھہرا یا ۔اے  اللہ مد اور صاع میں بر کت دے ان کے پیمانے میں برکت دے ۔امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  نے فر ما یا اس سے اہل مدینہ مراد ہیں حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی دوسری روا یت میں ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر ما یا اے اللہ  مدینے کو مکہ کی نسبت دوگنا برکت دے (بخاری مسلم)
عبد اللہ بن زید مرفوعاً کہتے ہیں ۔حضرت ابرا ہیم نے مکےکو حرام ٹھہرا یا اس کے لیے دعا کی میں نے مدینے کو ویسا ہی حرام ٹھہرایا میں نے مد اور  صاع مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کی جیسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  نے مکے کے لیے کی (بخاری) مسلم کے لفظ یہ ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام  نے مکے کو حرام کیا اور مکے والوں کے لیے دعا کی میں نے مدینے کو حرا م ٹھہرا یا میں نے مدینے والوں کے لیے دعا سے دو گنا دعا کی ابو سعید کے لفظ یہ ہیں ۔
"اے اللہ ! ابرا ہیم علیہ السلام  نے مکے کو حرا م کہا میں مدینے کو حرام کرتا ہوں یہاں نہ کو ئی خون کیا جا ئے نہ ہتھیا ر اٹھا یا جا ئے نہ درخت کے پتے جھا ڑے جائیں سوائے چار ے کے اے اللہ ہمارے شہر ہمارے ناپ اور تول کے پیمانوں میں برکت عطا فر ما یا اے اللہ ایک بر کت کے ساتھ دو برکتیں دے ۔۔۔(مسلم شریف)

ایک بزورگ نے ایک سبزی والے (بقال) کو مدینہ میں ساگ بیچتے ہو ئے یہ کہتے سنا ۔
"اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی برکت تو آ نازل ہوا اور پھر نہ جا نا " ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں تحریم مدینہ میں بہت سی حدیثیں ہیں اس جگہ  صرف وہ ذکر کی گئی ہیں جن کو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام  کے حوالے سے تحریم کعبہ سے نسبت ہے اور ان میں آیت کریمہ سے مطابقت ہے ۔بعض نے کہا کہ مکہ کی تحر یم حضرت ابرا ہیم  علیہ السلام  کے عہد اور ان کی زبان سے ہو ئی بعض نے کہا : جب سے زمین پیدا ہو ئی ہے تب ہی سے یہ حرمت قائم ہے ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں یہی اظہر و اقویٰ ہے احادیث اس بات پر دلا لت کر تی ہیں کہ اللہ نے مکہ مکرمہ کو اسمان و زمین کی پیدائش سے بھی پہلے حرام ٹھہرا دیا تھا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے فر ما یا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فتح مکہ کے روز فر ما یا "اللہ تعا لیٰ نے شہر کو اس روز حرا م ٹھہرا یا جس دن آسمان و زمین پیدا کئے سو یہ اللہ کے حرا م کرنے سے قیامت تک حرا م رہے گا ۔
(روا ہ مسلم)
 1۔ابو شریح عدوی رحمۃ اللہ علیہ فر ما تے ہیں کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فتح مکہ کے دوسرے روز فر مایا : "اللہ نے مکہ کو حرام کیا ہے لوگو ں نے حرا م نہیں کیا کسی شخص کو جو اللہ  اور یو م آخرت پر ایما ن رکھتا ہے جا ئز نہیں کہ وہاں خون بہائے اور درخت کا ٹے اگر کو ئی شخص رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی رخصت کو دلیل بنا ئے تو تم اسے یہ کہہ دو کہ اللہ نے اپنے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اجازت دی تھی تمہیں کو ئی اجازت نہیں دی وہ اجازت بھی دن کی ایک سماعت (گھڑی) کے لیے تھی پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی جس طرح پہلے تھی ہر آدمی جو یہاں موجود ہے وہ ہر غائب کو پہنچا دے ۔۔۔(مسلم شریف )