ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
1995
محمود الرحمن فیصل
روس نے اپنی روایتی مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہو ئے افغانستا ن کی تبا ہی اور بو سنیا میں شر مناک کر دارادا کرنے کے بعد بلآخر آزادی کا اعلان کرنے والی مسلمان ریاست جمہور یہ چیچنیا جسے مقامی زبان میں " چیچنیا " کہتے ہیں پر فوجی چڑھائی کر کے مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اس سے قبل وہ سابقہ سوویت یو نین سے آزاد ہو نے والی دیگر مسلم ریاستوں خصوصاً تاجکستان میں حتی المقدور فوجی مداخلت کرتا رہا ہے رشین فیڈریشن کی دیگر ریاستوں کے سامنے بے بس ہو کر اس نے انتقامی کا روا ئی کے لیے چیچنیا کا نتخاب کیا اور انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کے اعلیٰ و ارفع اصولوں کو پامال کرتے ہو ئے "آئین کی بحالی " کے نام پر اس نومو د ریاست پر آتش و آہن کی بارش کر دی ہوائی اڈے اور طیاروں کو تباہ کرنے کے علاوہ شہری آبادیوں پر بے دریغ بمباری کر کے بھاری جا نی اور مالی نقصان پہنچا یا گیا.
  • جنوری
1995
صدیق حسن خان
آیت نمبر :125، "اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور جائے امن مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو ۔۔۔۔
  • جنوری
1995
غازی عزیر
مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہو نے والا اُردو ماہنا مہ "تہذیب الاخلاق "مجریہ ماہ مئی 1988ء را قم کے پیش نظر ہے ۔شمار ہ ہذا میں جنا ب مولوی شبیر احمد خاں غوری صاحب (سابق رجسٹر ارامتحانات و فارسی بورڈ سرشتہ تعلیم الٰہ آباد یو ،پی) کا ایک اہم مضمون زیر عنوان "اسلام اور سائنس "شائع ہوا ہے آں موصوف کی شخصیت بر صغیر کے اہل علم طبقہ میں خاصی معروف ہے آپ کے تحقیقی مقالات اکثر برصغیر کے مشہور علمی رسا ئل و جرا ئد کی زینت بنتے رہتے ہیں آں محترم نے پیش نظر مضمون کے ایک مقام پر بعض انتہائی "ضعیف " اور ساقط الاعتبار احادیث سے استدلال کیا ہے جو ایک محقق کی شان کے خلا ف ہے چنانچہ رقم طراز ہیں ۔
  • جنوری
1995
سعید مجتبیٰ سعیدی
جنات کا انسانی جسم میں دا خل ہو نا ممکن ہے یا نہیں ؟اس با رے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں معتزلہ اور ان کے ہم نوا جو عقلیا ت کو کتاب و سنت کے بالمقابل اہم سمجھتے اور انہیں فوقیت دیتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ چوبکہ جن اور انسان اپنی ماہیت اور تحقیقی عناصر کے لحاظ سے یکسر مختلف ہیں۔اس لیے جنات انسانی جسم میں دا خل نہیں ہو سکتے ۔اس کے بر عکس قدماء و معاصرین علمائے اہل سنت والجماعت کی تحقیق ہے کہ اگرچہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ اورجدا مخلوق ہیں ۔تاہم قرآن مجید ،احادیث و آثار اور روزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہے کہ جنات انسانی جسم میں داخل ہو تے اور مختلف حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں۔
چنانچہ قرآن مجید میں سودخوروں کے متعلق بیان ہے۔
﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ...٢٧٥﴾...البقرة
"سود خورقیامت کے روزیوں اُٹھیں گے جسے کسی کو جن اپنے حملہ سے مد ہوش کر رکھا ہو۔"امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں رقم طرا ز ہیں ۔
  • جنوری
1995
حمیداللہ عبدالقادر
آپ صوبہ بہار کے ایک مروم خیز گا ؤں دیسنہ (ضلع پٹنہ) میں 23صفر1302ھ/22نومبر1884ءکو پیدا ہو ئے ،ابتدا ئی تعلیم گھر پر حا صل کرنے کے بعد پھلواری اور دربھنگہ میں تحصیل علم کے لیے مقیم رہے۔
1901ءمیں "دارالعلوم ندوۃ العلماء "لکھنؤمیں داخل ہو ئے""ندوۃ" میں ان کے ادبی و علمی ذوق کی جلا ہو ئی ۔ان کا سب سے پہلا مضمون1903ءمیں " وقت " کے عنوان سے رسالہ "مخزن "لاہور میں چھپا،جس کے ایڈاس وقت کے مشہور اہل قلم شیخ عبد القادر تھے۔ اسی سال ان کا دوسرا مضمون "علم اور اسلام" کے عنوان سے "علی گڑھ میگزین "میں بھی تعریفی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا۔(1)سید سلیمان ندویؒ عربی مضامین اخبارات و رسائل کا مطالعہ کیا کرتے تھے اس طرح ان میں جدید عربی ادب کا ذوق پیدا ہوا۔شبلی نعمانی نے مجلہ الندوۃ (ماہانہ رسالہ )سید صاحب کے سپرد کر دیا ایک مرتبہ سید صاحب نے بہترین فصیح و بلیغ انداز میں عربی زبان میں تقریر کی، اس کو سن کر ان کے استاد گرا می شبلی نعمانی اتنے خوش ہو ئے کہ اپنے سرسے عمامہ اتار کر اپنے شاگرد رشید (ندوی صاحب ) کے سر پر باند ھ دیا۔
  • جنوری
1995
مفتی محمد عبدہ الفلاح

1270ھ 1854ء کو ایک بڑے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد گرامی کا نام شیخ احمداللہ اوروالدہ کانام بی بی بھی مخدومن ہے۔عمر کے 13ویں سال میں قرآن پاک حفظ کیا۔اس کے بعد عربی ،فارسی کی کتابیں پڑھنا شروع کریں جو اس دور میں رائج تھیں۔مختلف اساتذہ کرام سے ابتدائی کتابیں تحصیل کیں،ان اساتذہ میں مولوی عظمت اللہ ،مولوی محمودعالم رامپوری (1302ھ) اور مولوی محمد یحییٰ عظیم آبادی کےاسماءگرامی خاص طور پر مذکور ہیں۔(1)
اعلیٰ تعلیم کے لئے رحلت:۔
پھر 1290 ہجری کو بیس سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے حضرت شیخ الکل محدث اعظم سید نزیر حسین دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ اس سے پہلے ان کے بڑے بھائی شیخ عبدالرحیم بھی اسی درس گاہ سے فیض یاب ہوچکے تھے۔دہلی میں دو سال قیام کے دوران حضرت میاں صاحب سےصحاح ستہ،موطا امام مالک،سنن دارمی ،جامع صغیر ہدایہ،جلالین اور اصول حدیث کی کتابیں پڑھیں۔(2) اور دو سال کی قلیل مدت میں تکمیل کے بعد 1292ھ کو حضرت میاں صاحب سےسند لے کر وطن و اپس ہوئے۔(