جادو و جنات اور ان کے شرعی معالج و علاج
جادو کے علاج کے کچھ طریقے گزشتہ شمارے میں بیان کیے جا چکے ہیں اور باقی طریقے ذیل میں رقم کیے جا رہے ہیں:
k       زیتون کے تیل کے ذریعے علاج:زیتون (درخت اور پھل) بڑا با برکت ہے ،اس کا ذکرقرآن میں کئی مرتبہ[1] آیا ہے۔
استعمال کا طریقہ:تیل پر آیاتِ شفا ، آیاتِ سحر، الفاتحہ، آیت الکرسی، چاروں قل پڑھ کر تیل میں دم کر کے، درد والی جگہ پر روزانہ تین دفعہ مساج اور کھانے میں استعمال کریں ۔
l       قرآنی آیات اور مسنون دعائیں زعفران سے صاف کاغذ پر لکھ کر پانی پینا: شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،امام ابن قیم ،امام مجاہد ﷭ وغیرہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کوپاک چیز پر لکھ کر مریض اس کو شفا کی غرض سے دھو کر پی لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ بھی دم میں ہی شامل ہے، البتہ با لمشافہ دم کروانا زیادہ بہتر ہے۔[2]
جادو کی مختلف اعتبار سے اقسام اورصورتیں
دورِ جدید میں جادو کی کئی ايك صورتیں ہو سکتی ہیں، ذیل میں صرف اجمالاً اشارہ کیا جارہا ہے۔ اہل علم نے جادو کی کئی ایک اعتبارات سے اقسام وصورتیں بیان کی ہیں:
جادو کی پہلی تقسیم
a       العزیمة:جادوگر جنات کو ایسے ناموں کی قسم ڈالتا ہے جو اس کے خیال میں ان فرشتوں کے نام ہیں جنہیں حضرت سلیمان﷤ نے جنات کے قبیلوں پر مقرر کیا تھا، لہٰذا جب وہ ایک معین نام کی قسم ڈال دیتا ہے تو گویا جن پر وہ کام کرنا لازم کر دیتا ہے جو وہ کروانا چاہ رہا ہوتا ہے۔[3]
b       الطّلسم: طلسمات سے مراد ایسے خاص نام ہیں جن کے متعلق جادوگر سمجھتے ہیں کہ ان کا ستاروں سے تعلق ہے۔ یہ جادو معدنیات پر کیا جاتا ہے اور جادوگروں کے مطابق اس کا خاص اثر ہوتا ہے۔[4]
c       الأوفاق: اوفاق سے مراد ایسے اعداد ہیں جنہیں مخصوص شکل میں ہندسوں کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔ جادوگر سمجھتے ہیں کہ کاغذ پر یہ لکھنے سے یا گلے میں پہننے سے بچے کی ولادت آسان ہو جاتی ہے، یا کسی کے خلاف مدد ملتی ہے، یا قیدی کی رہائی کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔[5]
d       التنجیم:اس سے مراد علم نجوم ہے۔ جادوگر فلکیاتی تبدیلیوں کے ذریعے زمینی واقعات کے متعلق راہنمائی دیتا ہے۔[6]
جادو کی دوسری تقسیم
a       سفلی وشیطانی جادو: وہ جادو جو بذاتِ خود شیطان کی طرف سے کیا جاتا ہے، اسے سفلی جادو کہتے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ مہلک اور خطرناک ترین صورت ہے کیونکہ اس میں شیطان خود دلچسپی سے عمل کر رہے ہوتے ہیں اور وہ عمل کرنے میں کسی کے محتاج نہیں۔
b       جناتی و خبیث روحوں کا جادو: وہ جادو جو انسان جادوگر شیطانوں اورخبیث جناتی روحوں سے خاص کیفیت میں مدد حاصل کر کے کرتے ہیں ۔ یہ پہلی صورت سے کمزور ہوتا ہے کیونکہ بسا اوقات شیطان مدد کرتے ہیں اور کبھی مدد نہیں بھی کرتے۔
c       اعداد وشمار (ستاروں وسیاروں سے مدد) کا جادو: وہ جادو جس میں جادوگر حروفِ ہجائیہ ،اعداد وشمار اور ستاروں سیاروں کی غیر مرئی (دکھائی نہ دینے والی قوتوں) سے مدد طلب کر کے کرتا ہے۔ یہ سب سے کمزور صورت ہے کیونکہ اس میں اکثر جادوگر اس میدان کے ماہر نہیں ہوتے ہیں ، ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں۔[7]
d       فکری و نظری اور قلبی تشویش کا جادو:جادوگر اور شعبدہ باز خوش نما قسم کے کرشمے اور کرتب دِکھا کر لوگوں کو اپنا گرویدہ کرتا ہے۔ اس میں جادوگر دراصل لوگوں کی نظر کو اپنے قابو میں لے لیتا ہے، جس کے ذریعے وہ غیرواقعی اور خیالی چیز کو حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے۔
جادو کی تیسری تقسیم: سفید وسیاہ ہونے کے اعتبار سے
سفید جادو: وہ جادو جس کے ذریعے غلط طریقے سے مثبت کام کیے جائیں یعنی کسی کو نفع پہنچایا جائے، میاں بیوی یا دیگر کی آپس میں محبت پیدا کی جائے، کاروبار کی ترقی وغیرہ کے لیے۔
کالا جادو: وہ جادو جس کے ذریعے منفی، غیر شرعی اور اخلاقی کام کیے جائے مثلاً لڑائی جھگڑا، جانی ومالی نقصان وغیرہ کیا جائے۔[8]
جادوکی چوتھی تقسیم: حقیقی اور خیالی ہونے کے اعتبار سے
a       حقیقی جادو: وہ جادو جو انسانی جسم کو حقیقت میں متاثر کرتا ہے، مثلاً بیماری پیدا کرنا، قتل کرنا، دو آدمیوں کے درمیان محبت، نفرت اور تفریق ڈالنا۔یاد رہے کہ یہ سب کچھ اللّٰہ کے حکم سے بطور آزمائش ہوتا ہے۔
b       خیالی جادو:وہ جادو جس کا تعلق صرف خیالات اور تصورات سے ہوتا ہے اور یہ صرف آنکھوں پر ہوتا ہے مثلاً اشیا کو ان کی اصل حقیقت کے علاوہ تصور کرنا، منجمد کو متحرک اور متحرک کو منجمد کرنا، چھوٹی کو بڑی اور بڑی کو چھوٹی وغیرہ۔ کسی جگہ آگ اور کسی جگہ پانی وغیرہ دیکھنا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:      
﴿ قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ۰۰۱۱۶﴾[9]
’’ حضرت موسیٰ﷤ نے جواب دیا :تم ہی پھینکو، اُنہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے۔‘‘[10]
جادوکی پانچویں تقسیم: اُسلوب کے اعتبار سے
a       شعبدہ بازی: وہ جادو جس کے ذریعے ایک غیر واقعی اور محض خیالی چیز کو افراد کے سامنے واقعی اورحقیقی بنا کر پیش کرنا۔ اصل میں مسحور شخص کی فکر ونظر اور دل و دماغ پر جنات وشیاطین مسلط ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اشیا کی حقیقت کو دیکھ نہیں پاتا۔ ارشاد ہے:
﴿ قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِيَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى ۰۰۶۵ قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى۰۰۶۶﴾[11]
’’جادوگر بولے :اےموسیٰ! تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟حضرت موسیٰ﷤ نے کہا: نہیں! تم ہی پھینکو۔ یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادو کے زور سے موسیٰ﷤ کو دَوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔‘‘
قالت عائشة: سُحر رسول الله ﷺ حتى انه ليخيّل إليه أنه فعل الشيء وما فعله[12]
’’رسول اللّٰہﷺ پر جادو کیا گیا، اس کا اثر یوں ہوا کہ آپ اپنے خیال کے مطابق ایک کام کرچکے ہوتے تھے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔‘‘
b       سحر المؤثرات: وہ جادو جو ستاروں اور سیاروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے، اس کے ذریعہ نفوس انسانی میں وہم جیسی بیماری مسلط کر دی جاتی ہے۔
تیل، کھانے پینے کی اشیا پر خاص قسم کا خاص طریقے سے شیطانی عمل کیا جاتا ہے جو کہ انسان کے لیے بسا اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔
c       خبیث روحوں کے مسلط ہونے کا جادو :وہ جادو جس میں مسحور شخص پر خاص اغراض ومقاصد کے لیے لعین ومردود قسم کے جنات شیاطین مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ جب تک وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے تب تک وہ اس پر مسلط رہتے ہیں۔
جادو کی چھٹی تقسیم: تاثیر کے اعتبار سے
معاشرے میں یہ جادو اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ہر تیسرا آدمی اس سے متاثر ہے، کسی نے گلے میں تعویذ لٹکایا یا گھر میں رکھا ہوتا ہے، تو کسی نے اپنے دفتر ، دوکان، فیکٹری میں حروفِ مقطعات اور اعداد وغیرہ سے لکھے کاغذات لگائے ہوتے ہیں جس سے عقلی اعتبار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جادو نہ صرف موجود ہے بلکہ شدت سے موجود ہے۔ کتنے ہی افراد اس مرض کی وجہ سے انتہائی پریشان ہیں، کچھ جادو کی وجہ سے، تو کچھ عاملین کے غیر شرعی وغیر اخلاقی طریقوں کی وجہ سے ، جو اس مرض میں مبتلا ہے وہی جانتا ہے کہ جادو کا مرض کس کو کہتے ہیں۔
جادو گراور اس کے غیرشرعی معالج کے پاس جانے کے سنگین نقصانات
جادو گرکے پاس جانا دین ودنیا کا نقصان اور سراسر گھاٹے کا سودا ہے، اگر جادو حقیقت میں کوئی فائدہ دیتا تو جادوگر دنیا میں سب سے زیادہ خوشگوار اور پرتعیش زندگی گزارتے۔ ایسے ہی جادو کا علاج کرنے والے غیرشرعی عاملین کے پاس جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے، البتہ نقصانات کئی اعتبار سے بہت زیادہ ہیں، جن میں ہر نقصان دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ ان نقصانات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
مذہبی نقصانات
حقیقی مسلمان کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قیمتی ورثہ ہدایت اور ایمان ہے جس کے لیے ہر قیمتی شے قربان کی جا سکتی ہے لیکن بیماری سے شفا یابی کے لیے ان کی قربانی ہرگز نہیں دی جا سکتی لیکن افسوس ہے کہ غیر شرعی طریقے سے جادو کا علاج کرنے والے عامل اکثر انسان کے ایمان اور عقائد کوخراب کرتے ہیں جس کی ہم سرے سے پرواہ نہیں کرتے۔ ذیل میں چند ایک وجوہات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جوکہ دنیاو آخرت کی تباہی کا سبب بنتی ہیں:
a       جادوگر کفر کا ارتکاب کرواتا ہے، جیسا کہ رسول اللّٰہ ﷺ کا ارشاد ہے:
’’جو کسی کاہن (جادو گر) کے پاس آیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی تو یقینا اس نے محمد ﷺ پر نازل ہونے والی شریعت کا انکارکیا۔‘‘[13]
b       جادوگر نمازوں کی قبولیت میں رُکاوٹ بنتا ہے، جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:
’’جو آدمی کاہن کے پاس آیا اور اس سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘[14]
c       جادوگر اور غیرشرعی عامل معاشرے کو بے دِین بناتا ہے۔
d       غیبی اُمور کی خبریں دے کر لوگوں کے ایمان برباد کرتا ہے جن میں اکثر جھوٹ ہوتی ہیں۔
e       جادو زدہ لوگوں کو قرآن کی تلاوت سے منع کرتا ہے تاکہ وہ شیطانی طریقے کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں اپنا علاج کر سکے، یا پھر قرآن پڑھنے کے لیے اپنی اجازت کو شرط قرار دیتا ہے اور بلاجازت پڑھنے سے منع کرتا ہے اور بظاہر یہ فریب دیتا ہے کہ قرآن کی آیات گرم ہوتی ہیں، اس سے تمہیں زیادہ نقصان ہو سکتا ہے، وغیرہ
f       تعویذات کے ذریعے کفر و شرک کی ترویج کرتا ہے۔
g       بدعات و خرافات والے وظیفے کرواتا ہے، مثلاً یہ وظیفہ خاص وقت، خاص جگہ اور خاص عدد میں پڑھنا ہے، مثلاً رات کے وقت قبرستان میں، یا نہر کے قریب 313 مرتبہ فلاں وظیفہ پڑھنا ہے۔
h       مسنون وظائف کا نام دے کر غیرشرعی عملیات کرواتا ہے۔
i       شرعی وظائف کے نام پر غیرشعوری چلہ کشی کرواتا ہے، مثلاً فلاں وظیفہ، فلاں وقت اور فلاں جگہ میں چالیس دِن یا اکیس دِن تک پڑھنا ہے۔
j       حلال امور و اشیا کو ترک کرنے اور حرام کو اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے، مثلاً گائے کا گوشت کھانے سے منع کرنا۔ وفات والے گھر جانے سے روکنا۔ میاں بیوی کو وظیفے کی مدت کے دوران تعلقات قائم کرنے سے منع کرتا ہے، بالخصوص اولاد کے حصول کے لیے اور اٹھرا کے مرض میں۔
اخلاقی نقصانات
a       جادوگر اور غلط معالج عورتوں سے بے حیائی، بدنظری اور ناجائز تعلقات قائم کرتا ہے۔
b       جھوٹ اور مکاری پر مبنی شعبدہ بازیوں کو کرامات بنا کر پیش کرتا ہے۔
c       علم قیافہ، علم نجوم، علم جفر اور ٹیلی پیتھی کے ذریعے لوگوں کے دماغوں پر قبضہ کر لیتا ہے اور اُنہیں ذہنی طور پر اپنا غلام بنا لیتا ہے۔
d       بسااوقات مریض کو چیک کرنے کے بہانے اس کے گھر جاتا ہے اور خود کسی طریقے سے یا اپنے جن کی مدد سے اُن کے گھر سے قیمتی سامان چوری کروا لیتا ہے۔ یہ محض ظن نہیں ہے بلکہ مشاہدے سے ثابت شدہ امر ہے۔
e       بعض نام نہاد پیر اپنی مریدعورتوں سے مصافحہ کرنے، بغل گیر ہونے، بوس و کنار اور دیگر قبیح حرکات سے بالکل عار اور شرم محسوس نہیں کرتے اور المیہ یہ ہے کہ بعض جاہل عورتیں ایسے پیر کی اس جیسی گھٹیا حرکات کو اپنے لیے سعادت سمجھ رہی ہوتی ہیں۔
عائلی نقصانات
a       جادوگر اور غیرشرعی عامل شادی ہونے میں رُکاوٹیں ڈالتا ہے اور شادی ہو جانے کے بعد اسے ناکام کرنے کے ذرائع پیدا کرتا ہے۔
b       میاں بیوی، ساس بہو، والدین، اولاد، بھائیوں، بہنوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے درمیان نفرت پیدا کر کے تفریق ڈالتا ہے ، رِشتوں اور خاندانوں کے ٹوٹنے کے اسباب پیدا کرتا ہے۔
c       خاندانوں اور گھروں میں لڑائی، نااتفاقی اور بے چینی کی فضا پیدا کرتا ہے۔
d       حاملہ عورتوں کے حمل ضائع کردیتا ہے۔
e       جنسی طاقت کو ختم یا کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
معاشی نقصانات
a       جادوگر اور غیرشرعی عامل کاروبار وغیرہ میں رُکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔
b       لوگوں کے مال ناجائز طریقے، جھوٹ ، دھوکے اور شعبدہ بازیوں سے ہتھیاتا ہے۔
c       جادو کے ذریعے تجارتی سامان اور زراعت کو تباہ کرتا ہے۔
d       مریض کو جادوئی عمل کے ذریعے اپنا مستقل مرید بنا کر مالی فوائد حاصل کرتا ہے۔
معاشرتی نقصانات
a       جادوگر اور غیرشرعی عامل معاشرے میں ہر طرح کا فساد اور گندگی پھیلاتا ہے۔
b       جادوگر مریض کو باقاعدہ حکم دیتا ہے کہ اتنے دِن تک بند کمرے میں معاشرے سے کٹ کے رہتا ہے، کسی سے بات چیت اور ملاقات نہیں کرنا، نیز نہانے دھونے سے بھی اجتناب کرنا ہے۔ اس کا مقصد مریض کو صفائی ستھرائی سے دور رکھنا ہوتا ہے تاکہ شیاطین اس کی طرف بآسانی مائل ہو سکیں۔
c       لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرتا ہے، مثلاً مریض کو کہنا کہ یہ جادو جان لیوا ہے، یا تم ذرا سا دیر سے آتے تو مر جاتے، یا تم ایسا نہ کرو گے تو ایسا ہو جائے گا، یا مریض کو کسی اور سے دم کروانے سے ڈراتا ہے۔
d       انسانوں اور جانوروں کو طرح طرح کی تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔جس کے سبب معاشرے میں بدعتیں اور خرافات پیدا ہوتی ہیں۔
e       شعبدہ بازیوں کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے، مثلاً مریض کے گھر سے سوئیاں، انڈے اورپتلے وغیرہ نکالنا، کسی کو متاثر کرنے کے لیے اس کا نام اور شہر بتا دینا، یا اسے یہ بتلاتا ہے کہ اس نے کیا کھایا ہے۔
f       مریض کو چمٹے ہوئے چھوٹے جنات نکال کر وقتی افاقہ دے کر بڑے جنات اس پر مسلط کر کے مستقل طور پر مال بٹورنے کے لیے اپنا محتاج بنا لیتا ہے۔
آسیب زدگی اور جنات کے چمٹنے کے اسباب
جنات کے چمٹنے کے درج ذیل اسباب ہوتے ہیں:
a       دشمنی کے سبب، یعنی انسان اور شیطان کی ازلی و ابدی دشمنی کی وجہ سے شیاطین اور جنات؛ انسانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔
b       انتقام کے سبب: اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان لاشعوری اور غیرارادی طور پر جنات کو تکلیف دے بیٹھتا ہے۔ اس کی درج ذیل صورتیں ہوتی ہیں:
1۔ کسی جگہ دعا پڑھے بغیر پیشاب کر دینا۔
2۔مخصوص مقامات کے علاوہ دوسری جگہوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنا۔
3۔عرصہ دراز سے خالی مکانات میں تلاوتِ قرآن، ذکرالٰہی اور دعا وغیرہ کے اہتمام کے بغیر اچانک رہائش اختیار کر لینا۔
c       خواہشات کی پیروی کی وجہ سے: جیسا کہ امام ابن قیم﷫ فرماتے ہیں کہ جو دِل ایمان اور خیر کے جذبے سے خالی ہو اس میں شیطان اپنا گھر بنا لیتے ہیں اور اسے طرح طرح کے وسوسوں اور خیالات کے ذریعے پریشان کرتے ہیں۔[15]
d       ظلم کی وجہ سے: کیونکہ شیاطین بلاکسی وجہ وسبب بھی انسانوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔
e        عشق کے سبب، جنات کسی کے حسن و جمال کی وجہ سے اس پر فریفتہ ہو جاتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫فرماتے ہیں کہ جنات کا انسان کو چمٹنا کبھی شہوات اور خواہشات کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی عشق کی وجہ سے۔ [16]
f       چِلہ کشی کے سبب:شیخ اُسامہ العوضی فرماتے ہیں کہ یہ قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اس کے ذریعے جنات کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بہت سے غیرشرعی کاموں کے ارتکاب سے گریز نہیں کرتا اور اگر اس میں ناکام ہو جائے تو اپنی جان تک گنوا بیٹھتا ہے۔[17]
g       جادوگروں سے دوستی لگانے کے سبب: اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض احباب ایسے لوگوں کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں جو غیرشرعی کام کرتے ہوتے ہیں، تو اُن کے ذریعے اِن پر جنات مسلط ہو جاتے ہیں۔
h        جادوئی لٹریچر اور جادوئی وظائف پڑھنے کی وجہ سے۔
i        جناتی اور مرگی زدہ افراد کا علاج و معالجہ کرنے کی وجہ سے۔
j        گھروں میں اگربتیاں جلانے یا خاص دِنوں میں چراغاں کرنے کی وجہ سے۔
k        خاص وظیفہ، خاص وقت اور خاص جگہ پر پڑھنے کی وجہ سے۔
l        غیرشرعی تعویذات پہننے کی وجہ سے:سادہ لوح عوام علاج کی غرض سے تعویذ پہن لیتے ہیں جبکہ ظالم معالج درحقیقت چھوٹے جنات نکالنے کی بجائے بڑے جنات ان پر مسلط کر دیتے ہیں تاکہ وہ مستقل طور ان کے محتاج ہو جائیں۔
m        غیرشرعی عاملین سے رابطے کی وجہ سے: ایسے عاملین اپنے ساتھ وابستہ لوگوں پر ایک دو جنات کی ڈیوٹی لگا دیتے ہیں جو انہیں مستقل طور پر عامل کی طرف مائل رکھتے ہیں۔
n        خلوت پسندی اور اندھیرے کی وجہ سے: بسااوقات آدمی زیادہ وقت خلوت میں گزارنے لگتا ہے اور اندھیرے میں رہنا پسند کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا دِل عجیب و غریب خیالات، وسوسوں اور باطل خواہشات کا شکار ہو جاتا ہے اور شیاطین اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے دِل کو اپنی آماجگاہ بنا لیتے ہیں، بالخصوص جب نوجوان اکیلے اپنے بیڈرُوم وغیرہ میں انٹرنیٹ میں مشغول ہوں۔
o       دِل جاری کرنے کی وجہ سے: اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنے دِل کو نیکی کی طرف مائل کرنے کی غرض سے جاہل لوگوں کے بتلائے ہوئے وظیفے کو خاص کیفیت، خاص انداز اور خاص عدد میں پڑھتے رہتے ہیں جس سے دِل تو جاری نہیں ہوتا، البتہ شیطان ضرور طاری ہو جاتا ہے۔
p       اسمائے حسنیٰ کو کسی مذموم مقصد کے لیے غلط انداز میں پڑھنا: لوگ اسمائے حسنیٰ میں سے کسی ایک اسم مبارک کو خاص جگہ، خاص کیفیت اور خاص عدد میں پڑھتے ہیں، اس صورت میں اُنہیں اپنا مقصد تو حاصل نہیں ہوتا البتہ غیرشعوری طور پر چِلہ کشی والا عمل ہو جاتا ہے اور ایک جن اس پر مسلط ہو جاتا ہے، مثلاً یَا وَدُوْدُ یا یَا جَبَّارُ وغیرہ پڑھنا۔ اس طرح کے نام جنات کے بھی ہوتے ہیں، اس لیے وہ حاضر ہو جاتے ہیں اور پھر انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
q       عقیدۂ توحید کی کمزوری اور اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان و توکل نہ ہونے کی وجہ سے۔
r        ذکرالٰہی سے دِل اور زبان کے خالی ہونے کی وجہ سے۔
s        کسی جگہ گرم پانی پھینکنے یا جنات کو قتل کروانے، جلانے یا تکلیف پہنچانے کی وجہ سے۔
t        شیطانوں کا حملہ صرف اسی شخص پر ہوتا ہے جو اپنے ایمان و عقیدہ کی کمزوری کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے۔
u       عورت کا زیب و زینت کے ساتھ بے پردہ ہو کر بازاروں میں یا غیرمحرم لوگوں کے سامنے آنے کی وجہ سے۔
v        گرمی کے موسم میں مرد یا عورت کا رات کو باریک ترین لباس پہن کر اذکار وغیرہ پڑھے بغیر سونا بھی جنات کے حملے کا سبب بن جاتا ہے۔
w        بیت الخلا میں پیشاب یا غسل کرنے کے لیے دعا پڑھے بغیر جانے کی وجہ سے۔
x        بیوی سے دعا پڑھے بغیر مباشرت کرنے کی وجہ سے۔
y        شدید غفلت، غصے اور خوف کی وجہ سے۔
برصغیر پاک وہند میں جادو کی جدید صورتیں اور حیران کن طریقے
اہل علم نے جادو کی کئی صورتیں بیان کی ہیں لیکن چونکہ ہمارا مقصد جادو کی حقیقت سے آگاہی ہے، اس لیے ہم صرف ان ہی صورتوں کو تحریر کریں گے جو ہمارے تجربے اور مشاہدے میں آئی ہیں۔ یہ صورتیں عصر حاضر میں رائج بھی ہیں اور ضرر رساں بھی۔ جادوگر اپنے تجربے یا مریض کے نام کے عددکے لحاظ سے کوئی صورت اختیار کرتا ہے یا کرواتا ہے، ان میں بعض صورتیں یہ ہیں: یعنی جادو کبھی کھلایا ،پلایا جاتا ہے، کبھی لٹکایا ، دبایا جاتا ہے،کبھی لکھا ، پڑھا جاتا ہے، کبھی ہاتھ، جسم یا کپڑوں سے مَلا جاتا ہے یا چھڑکایا جاتا ہے، کبھی گھر یا قبرستان میں چھپایا جاتا ہے اور کبھی نہر یا کنویں میں بھگویا یا پھینکا جاتا ہے۔
دم میں مریض اور اس کی والدہ کا نام پوچھنے کا فلسفہ
جادوگر مریض سے اس کی والدہ کا نام پوچھتا ہےاور اس کے مشترک اعداد میں جو حرفِ مشترک ہوتا ہے؛ اس کی صورت دیکھ کر جادو کی وہی صورت اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللّٰہ ﷺ کا اسم گرامی’محمد‘ تھا اور آپ کی والدہ کا نام ’آمنہ ‘ تھا۔ آپ کے اسم گرامی اور آپ کی والدہ کے نام سے ’م‘ مشترک حرف لیا اور والدہ کے نام سے دو الف (آ) میں سے ایک الف لیا تو وہ ’ما‘ بن گیا، جس کا مطلب ہے پانی، اسی لیے آپ پر کیا جانے والا جادو کنویں میں ڈالا گیا تھا۔
دم میں صرف والدہ کا ہی نام پوچھنے کی وجہ
صرف والدہ کا نام پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ شیاطین کی نظر میں انسان کا کوئی نسب یعنی والد معتبرنہیں ، دوسرے لفظوں میں وہ انسان کو ناجائز اولاد سمجھتے ہیں، اس لیے جادوگر مریض کے علاج میں شیطانوں سے مدد لینے کے لیے اس کی والدہ کا نام پوچھتے ہیں، کیونکہ والد کا نام شیاطین قبول نہیں کرتے۔
جادو کی رائج جدید صورتیں وطریقے
a       جادو بذریعہ مٹی:یہ جادو مٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں:
پہلی صورت: مطلوبہ شخص کا پُتلا بنا کر اس میں سوئیاں چبھو کر جادو پڑھنے کے بعد اسے زمین میں دفن کر کے اس آدمی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
دوسری صورت:مطلوبہ شخص کا جہاں پاؤں لگا ہو وہاں سے مٹی اُٹھا کر، یا اس کے بال اور کپڑے لے کر اس پہ جادو کر کے اسے اس شخص کے گھر کے باہر دفن کیا جاتا ہے۔
b       جادو بذریعہ ہوا و فضا:اس کی متعدد صورتیں ہیں:
پہلی صورت: ہوا میں جنات کو چھوڑ کر مطلوبہ شخص کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
دوسری صورت: جنات کے ذریعے مخالف کے جسم میں سوئیاں پیوست کرائی جاتی ہیں۔
تیسری صورت:درخت وغیرہ پر تعویذ باندھ کر مخالف کو اذِیّت دی جاتی ہے۔
چوتھی صورت:جادوگر ہانڈی میں گوشت ڈال کر اسے چولہے پر رکھ دیتا ہے اور اس پر پڑھائی کرتا رہتا ہے، پھر جنات کو وہ ہانڈی دیتا ہے اور وہ اسے مطلوبہ جگہ پر گرا آتے ہیں۔ اس جادو سے جانی اور مالی نقصان کیا جاتا ہے۔
پانچویں صورت:کالا بکرا یا کالا مرغ ذبح کر کے اس کے خون پر، یا کتے، سؤر، اونٹ، گائے یا کسی مردے کی ہڈی پر جادو کر کے جنات کے ذریعے مطلوبہ شخص کے گھر میں گرائی جاتی ہیں یا خون کے چھینٹے گرائے جاتے ہیں۔
چھٹی صورت: دِیا جلا کر، حرمل کی دھونی دے کر بذریعہ ہوا جادو کے اثرات مطلوبہ شخص تک جادو کے جنات کے ذریعے پہنچائے جاتے ہیں۔
ساتویں صورت: دالوں، انڈوں، پانی، بکرے کے سر، سوئیوں اور تعویذ وغیرہ پر جادو کر کے ہوا کے جنات کے ذریعے مطلوبہ گھر میں گرائے جاتے ہیں۔
c       جادو بذریعہ پانی:اس کی تین صورتیں ہیں:
پہلی صورت: جادوگر مچھلی کے پیٹ کو صاف کر کے اس میں جادوئی اشیا بھر کر دریا یا نہر وغیرہ میں ڈال دیتا ہے۔
دوسری صورت: حیض کے خون سے آلودہ کپڑے، کالے مسور، حرمل اور ہڈی وغیرہ پر جادوئی پڑھائی کر کے دریا، نہر اور کنویں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
تیسری صورت: کسی کے دماغ، کاروبار اور شادی کی بندش کے لیے تالے پر لاک لگا کر جادوئی پڑھاجاتا ہے، پھر اسے دریا، نہر اور کنویں وغیرہ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ جب تک وہ تالا کھلتا نہیں، تب تک وہ جادو برقرار رہتا ہے۔
d       جادو بذریعہ اشیاے خور و نوش:
جادوگر مٹھائی، گُڑ، چینی، گوشت اور سبزی وغیرہ پر جادو پڑھ کر مخالف کو کھلا کر مذموم مقاصد حاصل کرتا ہے۔ دورِ حاضر میں فاسٹ فوڈ یعنی برگر، شوارما اور پیزا جیسی چیزوں پر بھی جادو کر دیا جاتا ہے۔
بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ جس شخص نے جادو کروایا ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر وہ چیز کھا لیتا ہے جس پر جادو کروایا ہوتا ہے، تاکہ دوسرا شخص کسی شک میں مبتلا نہ ہو کہ اس چیز پر جادو کیا گیا ہے۔ تو اس کے ایسے دھوکے میں ہرگز نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس جادوپڑھی ہوئی چیز کو جتنے مرضی لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھا لیں مگر اس کا اثر صرف اسی شخص پر ہو گا جس کے لیے اس پر جادو کیا گیا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ کھانے پینے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے گھر ہی نہ جایا جائے، لیکن اگر گھر جانا یا اس سے ملنا ناگزیر ہے تو پھر مکمل وظائف پڑھ کر کھایا جائے تاکہ وہ کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے، اور اگر ممکن ہو تو کھانے کے بعد قے کر دے۔ فالله خيرٌ حافظًا
e       جادو بذریعہ جدید آلات و طرق: اس کی متعدد صورتیں ہیں:
پہلی صورت:موبائل سم پر جادو:موبائل سم پر جادو پڑھا جاتا ہے، جہاں سگنل ہوں گے، وہاں جادو کا اثر رہے گا۔
دوسری صورت:میسیج کے ذریعے جادو:جادو زدہ SMS کیے جاتے ہیں، جب تک وہ میسیج موبائل میں رہیں گے تب تک جادو کا اثر رہے گا، اور کبھی تو یہ مستقل حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
تیسری صورت: فیس بک کے ذریعے جادو:فیس بک پر اَپ لوڈ کی جانے والی تصاویر پر جادو کیا جاتا ہے، جب تک وہ تصاویر مٹائی نہ جائیں تب تک جادو کا اثر رہتا ہے۔ لہٰذا اپنی تصاویر بلاوجہ نہ کسی کو دیں اور نہ کسی جگہ لگائیں تاکہ آپ حاسدین کے حسد سے محفوظ رہیں۔ اس لیے کہ تصویروں پر جادوبہت زیادہ کیا جاتا ہے۔
چوتھی صورت: جدید مشینریوں پر جادو:جدید مشینری کی خرابی کا جادو، مثلاً اے سی، یو پی ایس، کاروباری مشینیں یا گاڑیاں وغیرہ ہر دوسرے روز یا اکثر خراب ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جنات کے ذریعے مشینوں کے کنکشن کاٹ دِیے جاتے ہیں یا ان میں کوئی خرابی پیدا کر دی جاتی ہے، اس سے مقصود مطلوبہ شخص کو مالی نقصان اور ذہنی اذِیت سے دوچار کرنا مقصود ہوتا ہے۔
پانچویں صورت:تعلیمی بندش کے لیے کتب وغیرہ پر جادو:بچوں کی پڑھائی کی بندش کے لیے کتابوں پر جادو کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کا پڑھنے کو دِل ہی نہیں کرتا اور اگر ہمت کر کے پڑھنا شروع کر بھی دیں تو کبھی گھبراہٹ اور بے چینی ہونے لگتی ہے تو کبھی سر چکرانے اور درد کرنے لگتا ہے۔ اس سے بچوں کو بہتر تعلیم سے محروم رکھنا یا فیل ، ناکام کرنا مقصود ہوتا ہے۔

چھٹی صورت: آئینے پر جادو:آئینے پر جنات مسلط کر دیے جاتے ہیں یا جادو زدہ پانی کے چھینٹے مار دیے جاتے ہیں،جس کے سبب مطلوبہ شخص جادو زدہ آئینہ دیکھتا ہے تو بیمار پڑ جاتا ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کے لیے آئینہ دیکھنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں:

«اَللّٰهُمَّ کَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِیْ فَحَسِّنْ خُلُقِیْ»[18]
تقریباً ایک ہفتے بعد آیۃ الکرسی اور معوذات پڑھ کر آئینے کو صاف کر لینا چاہیئے۔
ساتویں صورت:بسااوقات جادو کروانے والا شخص جادو زدہ کوئی مائع چیز اپنے ہاتھ پر مل کر مطلوبہ شخص سے سلام لیتا ہے تو اس پر جادو ہو جاتا ہے۔
آٹھویں صورت: محبت کے تحائف کے ذریعے جادو:ایسا بھی ہوتا ہے کہ جادو کروانے والا جادوزدہ تحائف مطلوبہ شخص کو دے کر اسے نقصان پہنچاتا ہے مثلاً کپڑے، جوتے، کتاب، جیولری، موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ۔
نویں صورت:جادوگر اپنے جن کو مکھی کی شکل دے کر مطلوبہ شخص کی طرف بھیجتا ہے، جیسے ہی وہ مکھی اس کے جسم پر بیٹھتی ہے اور جسم کے جس جس حصے پر چلتی ہے، وہ حصہ جادوزدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
دسویں صورت: جانوروں کی مختلف شکلوں کے ذریعے جادو:بسااوقات کتے، بلی اور سانپ کی صورت میں جنات کو گھروں پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ عموماً بچے کسی بلی یا چھوٹے کتے کو دیکھ کر اس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور کھیلنے لگتے ہیں، درحقیقت وہ جادوکے اثر میں آ رہے ہوتے ہیں۔
گیارہویں صورت: رات کو دیر تک گانے سننے، نیٹ اور کیبل پر غلط مواد دیکھنے کی وجہ سے بعض دفعہ جنات دورانِ نیند تنگ کرتے ہیں، کبھی سینے پر بوجھ ڈالتے ہیں اور کبھی بےخوابی کا شکار کرتے ہیں اور کبھی چھُو کے مسحور شخص کو جگا دیتے ہیں۔ غرض طرح طرح کی اذیت دیتے ہیں تاکہ مطلوبہ شخص سکون کی نیند نہ سو سکے۔
f       چھٹا طریقہ: خوف و ہراس کا جادو
جادوگر مندرجہ ذیل صورتوں سے مطلوبہ شخص میں خوف پیدا کرتا ہے:
پہلی صورت: رات یا دِن کے کسی بھی وقت میں جن کا سائے کی صورت میں اس شخص کے سامنے آنا یا سامنے سے گزرنا۔
دوسری صورت: مختلف آوازیں لگا کر اور بسااوقات مریض کا نام پکار کر اسے پریشان کرنا۔
تیسری صورت:دروازہ کھٹکھٹا کر، کسی چیز کی آواز پیدا کر کے، یا قدموں کی آہٹ سنا کر خوف زدہ کرنا۔
چوتھی صورت:بسااوقات مریض کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے لیکن جب وہ پیچھے مڑ کر یا دائیں بائیں دیکھے تو وہاں کسی بھی چیز کا موجود نہ ہونا۔
پانچوں صورت:ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن اس شخص کو چھوتا ہے یا ہلکی سی ضرب لگا دیتا ہے، جس سے آدمی بہت ڈر جاتا ہے۔ ایسا اکثر ناپاکی کی صورت میں یا بیت الخلا میں ہوتا ہے، اس لیے بیت الخلاء میں جانے کی دعا ضرور پڑھیں اور کسی پلیدگی سے جلد پاکیزگی حاصل کریں۔ بالخصوص خواتین حیض یا بچوں کے پیشاب وغیرہ سے جلد پاک ہوں کیونکہ خواتین اسی وجہ سے جنات اور جادو کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
چھٹی صورت:بسااوقات جن مطلوبہ شخص کے ساتھ لیٹ جاتا ہے۔ ایسا اکثر میاں بیوی پر کیے جانے والے جادو میں ہوتا ہے۔ خاوند اس مؤنث جن کو اپنی بیوی سمجھ رہا ہوتا ہے جبکہ بیوی اسے اپنا خاوند سمجھ رہی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر یا تو وہ ڈر جاتے ہیں یا اچانک لڑائی، بدمزگی، بےچینی اور دونوں کے درمیان نفرت شروع ہو جاتی ہے اور سکون ختم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ معاملہ طلاق تک جا پہنچتا ہے۔
ساتویں صورت:آدمی کو سوتے ہوئے اپنے جسم یا سینے پر بہت زیادہ وزن محسوس ہوتا ہے، آدمی کسی کو بلانے یا کچھ پڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کوشش کے باوجود ایسا نہیں کر پاتا۔
آٹھویں صورت:اُلٹے سیدھے اور پریشان کن خواب آنے لگتے ہیں،جس سے آدمی بہکی بہکی آوازیں نکالتا ہے یا بہت زیادہ گھبرا کے اُٹھ جاتا ہے۔
نویں صورت:ایسا بھی ہوتا ہے کہ حالتِ بیداری میں جن بالکل سامنے آ کر تنگ کرنے لگتا ہے، کبھی مارتا ہے،کبھی ڈراتا ہے اور کبھی طرح طرح کا نقصان کرتا ہے جس سے مقصود خوف وہراس پیدا کرنا ہوتا ہے۔
g       شادی میں بندش کا جادو:شادی کی بندش کے لیے مختلف صورتیں اختیار کی جاتی ہیں:
پہلی صورت:لڑکی یا لڑکے کی اصل صورت نہیں دکھائی جاتی یعنی سحر زدہ لڑکی رنگ بدلنے لگتی ہے اور تھوڑی دیر کے بعد اس کے چہرے میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے اور شکل صورت بھیانک ہو جاتی ہےجس کی وجہ سے بعد میں مسائل بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
دوسری صورت:لڑکی یا لڑکے کی اصل صورت انتہائی بری بنا کر دِکھائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے رشتےکے لیے آنے والے متاثر ہونے کی بجائے اُلٹا متنفر ہو جاتے ہیں۔
تیسری صورت:لڑکی کے چہرے پہ وقتی طور پر داغ، دھبے اور سیاہ حلقے وغیرہ پیدا کر دیے جاتے ہیں۔
چوتھی صورت: ان کے گھر میں عجیب و غریب سی بدبو پیدا کر دی جاتی ہے جسے صرف آنے والے حضرات ہی محسوس کر پاتے ہیں۔
پانچویں صورت: گھر کی لوکیشن بہت بری دکھائی جاتی ہے،جس کی وجہ سے لوگ آتے ہی نہیں یا آ نے کےبعد عجیب محسوس کرتے ہیں۔
h       جادو بذریعہ آگ: اس کی مختلف صورتیں ہیں:
پہلی صورت:جادوگر کسی کو جسمانی تکلیف دینے کے لیے کالی مرچ، سرخ مرچ یا لونگ پر کچھ پڑھ کر اسے آگ میں جلاتا ہے،جس کی وجہ سے مریض تڑپتا ہے اور سخت اذیت کا شکار ہو جاتا ہے۔
دوسری صورت:جادوگر آگ جلا کر منتر پڑھتا ہے اور اس کی دھونی کے ذریعے مطلوبہ شخص تک جادو کے اثرات پہنچاتا ہے۔
تیسری صورت:جادوگر نے مطلوبہ شخص کے جسم کے جس عضو کو تکلیف میں مبتلا کرنا ہوتا ہے، وہ کسی جانور کا وہی عضو لے کر اسے آگ میں منتر پڑھ کر جلاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس عضو کو کاٹتا ہے، تو اس شخص کے جسم کا وہی عضو جلنا شروع ہو جاتا ہے۔
چوتھی صورت:بسااوقات آگ کی جگہ سورج کی گرمائش اور تپش میں بیٹھ کر خاص تاریخوں میں منتر پڑھ کر انسان کے جسم میں آگ لگاتا ہے جس کی تکلیف سے وہ تڑپنے لگتا ہے۔
پانچویں صورت:بسا اوقات جادو گر مطلوبہ شخص کے جس حصے کو تکلیف میں مبتلا کرنا چاہتا ہے اس کے لیے کسی جانور (اُلّو، بھیڑ، کبوتر، بکرا وغیرہ) کا وہی حصہ آگ میں منتر پڑھ کے جلاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس حصے میں سوئیاں یا چھریاں مارتا ہے، جس کی وجہ سے مریض کا مکمل جسم یا جسم کا کوئی خاص حصہ آگ میں جلنا شروع ہو جاتا ہے یا سوئیاں چبھتی ہیں، یا جسم سے ایسی گرمائش نکلنا شروع ہو جاتی ہے جس کو مریض برداشت نہیں کر پاتا۔
i       جسم کے دباؤ اور کھچاؤ کا جادو:اس جادو میں مسحور شخص کو ہر وقت پٹھوں، جوڑوں، کندھوں، گردن اور سر میں درد، دباؤ یا کھچاؤ رہتا ہے اور جسم بے جان سا رہتا ہے۔
j       جادو بذریعہ پڑھائی (منتر):اس سے مراد وہ جادو ہے جس میں عامل مریض کو صرف اپنی جادوئی پڑھائی کے ذریعے متاثر کرتا ہے اور پڑھائی ہی کے ذریعے اپنے برے مقاصد پورے کرتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ عامل مطلوبہ شخص کی تصویر، والدہ اور مریض کے نام پر دور بیٹھا تصور سے پڑھائی کرکے نقصان پہنچاتا ہے ۔
k       جادو بذریعہ مُردوں کی راکھ:اس سے مراد وہ جادو ہے جس میں کسی کو انتہائی سخت نقصان پہنچانے یا ہلاک کرنے کے لیے کھانے پینے کی اشیا میں ہندوؤں کی مڑھی سے مردوں کی جلائے جانے والی راکھ ملا کر کھلائی جاتی ہے جس سے بسا اوقات انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔
l       جادو بذریعہ نجس و پلید اشیا:اس سے مراد وہ جادو ہے جس میں عامل عورت کے حیض یا غلیظ اشیا سے تعویذ لکھ کر جلاتا ہے اور اس کی راکھ مطلوبہ شخص کو کھلاتا ہے جس کی وجہ سے مریض، عورت سے انتہادرجے کی محبت یا نفرت شروع کرتا ہے۔یہ جادو کروانے والے کے مقاصد پر منحصر ہے۔
m       جادو بذریعہ اُلو:اس سے مراد وہ جادو ہے جس میں ساحر اُلو کے خون یا اُلو کی کھال پر جادوئی تعویذ لکھتا ہے اور اسے دبا یا لٹکا دیتا ہے، جس کی وجہ سے مریض اُلو جیسی حرکتیں شروع کردیتا ہے،اور انتہائی نقصان اور خسارہ اٹھاتا ہے۔
n       جانوروں کی سِریوں پر کیا جانے والا جادو:اس سے مراد وہ جادو ہے جس میں جادو گر بھیڑ، بکری وغیرہ کی سری پر منتر پڑھ کے گھر یا قبرستان میں دبا دیتا ہے جس کی وجہ سے مریض انتہائی جان لیوا موذی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے جو کہ کسی ٹیسٹ وغیرہ میں ظاہرنہیں ہوتیں۔
o       گاہک اور خریدار کی نظر بندی اور کاروباری بندش کا جادو:اس قسم کا جادو دفاتر، دکان، مکان، فیکٹری اور شوروم وغیرہ پر کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے گاہک شاپ پہ آتا ہی نہیں ہے ، آجائے تو اسے سامان پسند نہیں آتا یا عجیب و غریب قسم کی بدبو محسوس کرتا ہے اور گھبراتے ہوئے بغیر کسی خریدو فروخت کے واپس چلا جاتا ہے۔اس لیے کہ جادوگر جنات کے ذریعے نظر بندی کر دیتا ہے، جس بنا پر خریدار کو شاپ کی لوکیشن ،سامان یا سیلز مین کی ڈیلنگ کا انداز پسند نہیں آتا۔ آخر کار خریدو فروخت کم ہو جانے کے سبب مالک دن بہ دن قرض تلے دبا چلا جاتا ہے اور کاروبار بالکل بند ہو کے رہ جاتا ہے۔
بعض لوگوں نے جادو کی اقسام اور صورتوں کو چند اقسام اورصورتوں میں محدود کیا ہے حالانکہ ہم کہتے ہیں کہ جتنے جادوگر ہیں، اتنی ہی جادو کی صورتیں ہیں ۔اسی طرح جادو کی بےشمار اقسام ہیں۔
1۔سحر تفریق (جدائی ڈالنے والا جادو)
اس سے مراد وہ جادو ہے جس کی وجہ سے جادوگر خاص کیفیات بعض اسباب اختیار کر کے میاں بیوی، باپ بیٹے، کے درمیان بغض نفرت پیدا کر کے جدائی ڈالنا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ﴾[19]
سحر تفریق (جدائی ڈالنے والے جادو کا علاج)
مریض کو روزانہ ایک مرتبہ سورۃ یٰس،الصا فات ،الدخان سنائیں اورآیت الکرسی ،سورۃ البقرۃآیت نمبر101تا103تقریباً سو مرتبہ ہرروز تین ،چار مرتبہ 41دن سنائیں ۔
علاج
مرد اور عورت دونوں تین وقت صبح دوپہر شام درج ذیل وظیفہ پڑھیں یا ریکارڈ کر کے سنیں۔
سورۃ مریم، رحمن، صافات، المعارج، آیۃ الکرسی، الفلق، الناس، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 101 تا 103 روزانہ تین مرتبہ
2۔سحر محبت
اس سے مراد ایسا عمل وتاثیر ہے جس کی وجہ سے جادوگر آپس میں نفرت وبغض اور حسد کرنے والوں کے درمیان انتہا درجے کی محبت پیدا کر دیتا ہے، جو کہ بظاہر تو محبت ہے لیکن جادوئی حقیقت میں دو افراد یا خاندانوں کے لیے مہلک زہر ہے۔
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود﷜ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
«إن الرقى والتمائم والتولة شرك»[20]
’’بےشک دم تعویذات اور خاوند کے دل میں محبت ڈالنے والی چیز شرک ہے۔‘‘
یہاں دم سے مراد وہ دم ہے جس میں شرکیہ وکفریہ الفاظ ہوں ، رہا مسنون دم تو وہ بالاجماع جائز ہے۔
الشیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ سے پوچھا گیا کہ جادو کے ذریعہ میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کرنا کیسا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: یہ حرام اور ناجائز ہے، بسا اوقات ایسا کرنا کفر اور شرک ہوتا ہے۔[21]
سحر محبت کے الٹے اثرات
یہ جادو عام طور پر بیوی اپنے خاوند کی محبت کے لیے اور ساس اپنے بیٹے کوزندگی بھر اپنے ساتھ رکھنے کے لیے کرواتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی نیت صاف ہو اور مثبت رزلٹ چاہتی ہوں لیکن جادوگر جو عمل کرتا ہے اس کی وجہ سے دونوں طرف سے پھنس بے چارا مرد جاتا ہے۔ جو نہ ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا بلکہ وہ جادوگر کا ہو کے رہ جاتا ہے۔
سحرمحبت (حد سے زیادہ کسی سے محبت ہو جائے)
مریض کوآیت الکرسی ،سورۃالتغابن، آیت10تا16، یونس آیت 76تا82 ، الاعراف آیت 117 تا 122، طہ آیت 65 تا 82، تقریباً 21مرتبہ ریکارڈ کر کے روزانہ 5 بار 21 دن سنائی جائیں۔
سحر تخیل (وہم میں مبتلا کرنے والا جادو)
اس سے مراد وہ جادوئی عمل وتاثیر ہے جس کی وجہ سے مسحور شخص ایک چیز کو اس کی اصل حقیقت سے ہٹ کر ایک دوسری چیز خیال کرتا ہے۔
       ایک آدمی کی جگہ دوسرا آدمی خیال کرنا، مثلاً محمد کو احمد دیکھنا یا کسی کو اپنا خاوند سمجھنا یا اس کے برعکس ۔
1۔        خاوند بیوی کو یا بیوی خاوند کو کسی جانور کی شکل میں تصور کرے۔
2۔        کھانے میں زہر یا آگ دیکھے یا مختلف قسم کی آواز یں سنے۔
اصل میں یہ جادو عقل اور حواس خمسہ کو قبضے میں کرتا ہے جس کی وجہ سے اشیاء کی اپنی اصل حقیقت نظر نہیں آتی۔
سحرتخیل(وہم میں مبتلا کرنیوالاجادو)
مریض کو ہرروز اذان،آیت الکرسی ، أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تقریباً سو مرتبہ تین بار سنائیں ۔
سحر مرض
اس سے مراد وہ جادوئی عمل وتاثیر ہے جس کی وجہ سے جادوگر مطلوبہ شخص کے کسی ایک عضو مثلاً سر گردن، پاؤں، کندھے کو، درد حد سے زیادہ گرمائش، تھکان، گھبراہٹ وغیرہ کا شکار کر دیتا ہے یا مکمل جسم میں مختلف بیماریوں کے ساتھ متاثر کرتا ہے یا کبھی جسم کے بے جان کر دیتا ہے اور بسا اوقات مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔
علاج
مریض تکلیف والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر مکمل دم سنے ۔ بالخصوص سورۃ فاتحہ، آیۃ الکرسی، آیات سحر، چاروں قل اور بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيئ في الأرض ولا في السماء کثرت سے پڑھ کر پانی یا کلونجی زیتون کےتیل پر دم کر کے متاثرہ جگہ پر روزانہ تین مرتبہ لگائیں اور اگر دائمی سردرد ہے تو روزانہ تین مرتبہ دم والے پانی سے سر کو دھوئے۔ ان شاء اللّٰہ ٹھیک ہو جائے گا۔
سحر امراض(مرگی یا دائمی دردوں کا جادو )
مریض کوہر روز الرقیۃ الشرعیۃ، الفاتحہ ، آیۃ الکرسی ، الدخان، الجن، سورۃالبینہ سے الناس تک ۔۔ روزانہ تین سے پانچ مرتبہ سنائیں۔
علاج
1۔ ہر جمعہ کو غسل کرنا۔ [22]
بدن، کپڑوں اور مکان کی بروقت صفائی ستھرائی رکھنا اور اپنے آپ کو خوشبو سے معطر رکھنا (صرف مرد حضرات کے لیے) کیونکہ حدیث کی رو سے ہے ، فرشتے خوشبو پسند کرتے ہیں اور جن وشیاطین خوشبو سے دور بھاگتے ہیں۔[23]
« بِسْمِ الله وَضَعْتُ جَنْبِى اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِى ذَنْبِى وَأَخْسِئْ شَيْطَانِى وَفُكَّ رِهَانِى وَاجْعَلْنِى فِى النَّدِىِّ الأَعْلَى »[24]
2۔ عورت کے اٹھرا، بانجھ پن اور ناقابل اولاد ہونے کا علاج
اس جادو کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ جادوگر مرد یا عورت پر جن مسلط کر دیتا ہے جس کی شرارتوں کی وجہ سے حمل ہو نہیں پاتا یا حمل محفوظ نہیں رہ پاتا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مرد اور عورت کے بچہ پیدا کرنے والے جراثیم کمزور کر دیے جاتے ہیں یا اکثر اوقات آپس میں ملنے سے روک نہیں دیا جاتا ، یا مرد کا نطفہ اصلی مقام رحم تک پہنچنے نہیں دیا جاتا یا سرعت انزال کی بیماری پیدا کر کے اولاد سے محروم رکھا جاتا ہے یا عورت اس عمل سے انتہائی تکلیف محسوس کرنے لگتی ہے۔
سحرجنون(پریشان خیالی ،حواس باختگی اور بے تکی باتیں کرنا )
مریض کوہرروز تین مرتبہ ا لرقیہ الشرعیہ (یعنی جائز دَم)، البقرۃ، ہود، الحجر، الصافات، ق،الرحمٰن،الملک ،الجن،الاعلیٰ،الزلزلہ ،الہمزہ، چاروں قل ایک ماہ سے تین ماہ تک سنائیں۔
سحرخمول (سستی وکاہلی کا جادو)
اس سے مراد ایسا جادو ہے کہ جس کی وجہ سے مطلوب شخص انتہائی سستی وکاہلی کا شکار ہو جاتا ہے اور مکمل الگ تھلگ رہتا ہے، محافل ومجالس سے کراہت محسوس کرتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مریض کسی بھی کام کو مستقل مزاجی سے کر نہیں پاتا۔
مریض کو ہر روزتین مرتبہ الرقیہ الشرعیہ ، الفاتحہ، البقرۃ، آلِ عمران، یٰس، الصافات، الدخان، الذاریات، الحشر، المعارج، الغاشیہ، الزلزلہ، القارعہ، چاروں قل 40سے 65دن تک سنائی جائیں۔
علاج
مریض ہر روز صبح کے وقت سورۃ الصافات اور سوتے وقت سورۃ الدخان کی تلاوت کرے اور تیسرے دن سورۃ البقرۃ پڑھے اورالرقیۃ الشرعیۃ، حٰم السجدۃ، الفتح، الجن روزانہ تین مرتبہ سنائیں۔
سحرہواتف (چیخ و پکار کا جادو)
اس سے مراد ایسا جادو ہے جس میں مریض کو خوفناک خواب کثرت سے وسواس اور حالت بیداری میں آوازیں سنائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے مریض بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور حواس باختہ ہو جاتا ہے۔
سحر استحاضہ (حیض کا جادو)
اس سے مراد وہ خاص جادو ہے جو بالخصوص عورتوں کے لیے خاص امراض لگانے کے لیے مثلاً استحاضہ، اٹھرا، رحم میں درد یا بچے کی ولادت وغیرہ مسائل میں کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللّٰہ عنہا کو بہت زیادہ حیض آتا تھا اور ایامِ مخصوصہ گزرنے کے بعد بھی رُکتا نہیں تھا، انہیں نبی ﷺ نے فرمایا تھا:
«إِنَّمَا هِيَ رَکْضَةٌ مِنْ رَکَضَاتِ الشَّیْطَانِ»[25]
’’یہ تو شیطان کا ایک چوکا ہے۔‘‘
اس کا علاج یہ ہے کہ مریضہ کو ہرروز الرقیہ الشرعیہ سنائیں اور بیری کے پتوں پر دم کرکے سات دن تک مریضہ کو پانی پلائیں اور غسل کروائیں۔
شادی میں روکاوٹیں ڈالنے کاجادو
مریض کو الرقیہ الشرعیہ اور ایک گھنٹے کی سی ڈی میں آیۃ الکرسی اور سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 101 تا 103بار بار روزانہ سنائیں ۔
رزق اورکاروبارکی بندش کاجادو
رِزق کی تنگی اور کاروبار کی بندش سے متاثر آدمی روزانہ تین مرتبہ سورۃ الفتح ،التغابن، الحشر،النصر ، چاروں قل پڑھے اورسنے اور درج ذیل آیات ہر نمازکے بعد 21 مرتبہ پڑھیں:
﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ۰۰۵۸﴾[26]
’’بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ ہی رِزق دینے والا، قوت والا اور زورآور ہے۔‘‘
﴿ لَهٗ مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۰۰۱۲﴾[27]
’’آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، جس کی چاہے روزی کشادہ کر دے اور تنگ کر دے، بلاشبہ وہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘
﴿ اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُؒ۰۰۱۹﴾[28]
’’اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی نرم ہے، وہ جسے چاہتا ہے رِزق سے نواز دیتا ہے اور وہ بڑی طاقت، بڑا غلبے والا ہے۔‘‘
﴿ لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ يَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۳۸﴾[29]
’’اس ارادے سے کہ اللّٰہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے کچھ مزید بھی عطا فرمائے، اور اللّٰہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رِزق عطا فرماتا ہے۔‘‘
﴿ وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ۰۰۲ وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا۰۰۳﴾ [30]
’’اور جو شخص اللّٰہ سے ڈرتا ہے؛ وہ اس کے لیے (ہر غم سے) نکلنے کی راہ مہیا کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رِزق عنایت فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو، اور جو شخص اللّٰہ پر بھروسہ کر لیتا ہے تو وہ اس کو کافی ہو جاتا ہے، بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ اپنا کام پورا کر کے ہی رہتا ہے، یقینا اللّٰہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔‘‘
﴿ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١ٞ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۶﴾[31]
’’کہہ دیجیے! اے اللّٰہ! (تو ہی) بادشاہت کا مالک ہے، تو جس کو چاہتا ہے بادشاہت عنایت کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے، تو جس کو چاہتا ہے عزت سے ہمکنار کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رُسوا کر دیتا ہے، بلاشبہ تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔‘‘
اَللّٰهُمَّ اکْفِني بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ[32]
’’اے اللّٰہ! مجھے اپنے حرام سے (بچا کر) اپنے حلال سے کافی ہو جا اور اپنے فضل کے ساتھ اپنے علاووہ ہر ایک سے مجھے بے پروا کر دے۔‘‘
نوٹ: علاج کی مذکورہ بالا تمام صورتوں میں وظائف کی مختص تعداد اور مخصوص وقت اور جگہ کا کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے لہٰذا اس میں وظائف کی تعداد میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب
جادو کے متعلق علما کے اقوال
ابو بکر جصاص  فرماتے ہیں :
’’النفقات سے مراد وہ جادوگرنیاں ہیں جو پھونکیں مارتی ہیں۔‘‘[33]
امام بغوی﷫ فرماتے ہیں:
’’النفقات‘ سے مراد جادوگرنیاں ہیں جو بغیر تھوک کے نتکارتی طور پر پھونکیں مارتی ہیں۔‘‘ [34]
امام بخاری﷫ فرماتے ہیں:
’’النفقات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو جادو کرتی ہیں۔‘‘[35]
امام بغوی﷫ فرماتے ہیں:
’’جب فلق الناس نازل ہوئی اور جب آپ نے پڑھی تو جادو گرہ کھل گئی اور اب ہشاش بشاش کھڑے ہو گئے۔‘‘[36]
حافظ ابن حجر﷫ فرماتے ہیں:
’’آپ ﷺ جادو کے مرض میں 8 ماہ رہے۔‘‘ [37]
حافظ ابن حجر﷫ نے قرطبی کا قول نقل کیا ہے کہ حق اور سچ بات یہ ہے کہ جادو کی بعض صورتیں دل پر اثر انداز ہوتی ہیں جیسے دو لوگوں کے درمیان محبت ونفرت کا عمل جسمانی بیماریاں نفع ونقصان وغیرہ۔‘‘[38]
امام نووی﷫ فرماتے ہیں:
’’صحیح بات یہ ہے کہ جادو ایک حقیقت ہے (جس کا انکار ممکن نہیں) اس پر جمہور اور عام اہل علم کا اتفاق ہے۔‘‘[39]
ابن قدامہ جادوئی عمل ایک ایسی حقیقت ہے جو مسحور شخص کے جسم، دل اورعقل پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘‘[40]
امام شوکانی﷫ فرماتے ہیں:
’’جادو آپس میں محبت وبغض، اتفاق واختلاف اور قربت ودوری پیدا کرنے میں ایک تاثیر رکھتا ہے۔‘‘[41]
عبد الرحمن بن ناصر فرماتے ہیں:
’’سورۃ فلق اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو ایک ایسی حقیقت ہے جس کے نقصان سے ڈرا جائے اور اس سے بچنے کےلیے اس کی پناہ لی جائے۔‘‘[42]
شیخ ابن باز﷫ سے مسحور شخص کو پیش آنے والی مختلف صورتوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’جادو کئی اعتبار سے اثر انداز ہوتا ہے، مثلاً الخبل جادو بھائیوں اور میاں بیوی کےدرمیان بغض پیدا کرتا ہے، تخیلات کا شکار کرتا ہے وغیرہ۔‘‘[43]
شیخ صالح بن فوزان فرماتے ہیں:
’’جادو ایک واقعی اور موثر چیز ہے جس کے ذریعے قتل ، مرض اور میاں بیوی کے درمیان تفریق اور لوگوں کے درمیان فساد پیدا کیا جاتا ہے۔‘‘[44]
عبد السلام السکری مدرس کلیۃ الشرعیہ و قانون بدمنصور فرماتے ہیں::
’’شریعت اسلامیہ نے ثابت کیا ہے کہ جادو یقیناً ایک حقیقت ہے جس میں شک وشبہ نہیں بلکہ قرآن جو کہ قول فیصل ہے اس نے اس کی حقیقت کی صداقت کی ہے اور اس کو ثابت کیا ہے۔‘‘[45]
اتنے دلائل کے بعد بھی جو شخص جادوئی تاثیر وحقیقت کو نہ سمجھے تو پھر وہ دو عاؤں میں سے ایک دعا ضرور کرے :
1۔ اسے غیبی طریقے سے سمجھ بوجھ اور فہم وفراست عطا کر دے۔
2۔ اپنے اوپراس مرض کے تجربے کے لیے دعا کرے تاکہ میں دنیا میں ہی انسانوں اور کتابوں کے ذریعے مسئلہ سمجھ آ جائے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آخرت میں اللّٰہ تعالیٰ فرشتوں کی ذمہ داری لگا دے کہ ان کو یہ مسئلہ عملی طور پر سمجھاؤ۔
تنبیہ
یہ تمام دلائل اہلسنت کے منہج وفکر سے منحرف لوگوں کے لیے ہی نہیں ہیں بلکہ ان صحیح العقیدہ اہل ایمان اور دینداروں کے لیے بھی ہیں۔ جو کہ توکل علے اللّٰہ کا غلط مفہوم سمجھتے ہوئے اپنے اہل خانہ کو کئی کئی سال جادوئی مرض کی ؟؟ میں رکھتے ہیں لیکن قرآن وسنت کے مطابق علاج ومعالجہ کو قرآن وسنت کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس غلط نظریہ پر فخر کرتے ہیں، مر جائیں گے لیکن توکل علی اللّٰہ نہیں چھوڑیں گے ایسے دینداروں کی عورتیں مجبوراً محرم کے بغیر اکیلی سفر بھی کرتی ہیں اور غیر محرم عاملین سے اکیلی چھپ چھپ کر باتیں بھی کرتی ہیں اور علاج ومعالجہ بھی کرتی ہیں اور خود ایسے افراد کو برگر شوارمے اور دیگر خوردونوش کی اشیاء میں تعویذ کھلاتی چلاتی بھی ہیں اور بسااوقات ایسے بھی اعمال کر گزرتی ہیں جو کہ شرعی طور پر تو کیا اخلاقی طور پر بھی غیر مناسب معیوب ترین اور شرمناک ہوتے ہیں۔
گویا کہ یہ سارا کمال متوکل علی اللّٰہ کا ہے اس کی ایصال ثواب اور صدقہ جاریہ ہے۔
امام قرافی فرماتے ہیں:
’’جادو کی حقیقت وتاثیر کے متعلق فرقہ قدریہ کے ظہور سے پہلے تمام صحابہ کرام کا اجماع تھا۔‘‘[46]
بعض نام نہاد عقل مند لوگ معتزلہ کی فکر پر چلتے ہوئے اس کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں، ذیل میں جادو کی تاثیر کے مختصر اہل حق سے دلائل پیش کیے جا رہے ہیں:
1۔ جادو کا انکار حقیقت میں قرآن کا انکار ہے:
﴿﴾[47]
2۔حدیث عائشہ ؓ قالت سحر رسول ...

[1]    مثلاً سورۃ النحل : 11، سورۃ المؤمنون: 20، سورۃ عبس:29 اور سورۃ التین: 1 وغیرہ
[2]    مجموع الفتاوی از ابن تیمیہ: ۱۹؍۶۴، ۶۵؛ زاد المعاد از ابن قیم: ۴؍۱۷۰، ۱۷۱
[3]    الفروق و انوار البروق: 4؍142
[4]    ایضاً
[5]    الفروق وأنوار البروق: 4؍142
[6]    لسان العرب: ۱۲؍۵۷۰
[7]    السحر فی القرآن الکریم: ص 27، عبد المنعم ہاشمی
[8]    افعال الشیطانیہ: ص 28
[9]    سورۃ الاعراف: 116
[10] السحر والشعوذۃ: 10،11
[11] سورۃ طہٰ: 65،66
[12] صحیح بخاری:5766
[13] مسند احمد: ۹۵۳۶
[14] صحیح مسلم: ۲۲۳۰
[15] الوابل الصیب: ص ۳۳
[16] مجموع فتاوی ابن تیمیہ: ۱۹؍۳۹
[17] المنہج القرآنی فی علاج المس والسحر: ص ۸۵
[18] عمل اليوم والليلۃ ازابن السنّى:163
[19] سورۃ البقرة:102
[20] السلسلۃ الصحیحہ للالبانی: 331
[21] فتاویٰ المراۃ المسلمۃ: 1؍ 138؛ فتاویٰ الشیخ محمد بن صالح: 1؍ 338
[22] صحیح الجامع: 2؍ 763، حدیث
[23] زاد المعاد، جز الطب النبوی
[24] سنن ابی داؤد، 5056
[25] جامع الترمذى:128
[26] الذاريات: 58۔59
[27] الشورى: 21
[28] الشورى: 19
[29] النور: 38
[30] الطلاق: 2-3
[31] آل عمران: 26
[32] جامع الترمذی: 3563
[33] احکام القرآن: 5؍378
[34] شرح السنہ: 12؍ 185
[35] بخاری مع الفتح: 10؍ 221
[36] شرح السنہ: 7؍322
[37] فتح الباری: 10؍237
[38] فتح الباری: 10؍223
[39] فتح الباری: 10؍ 222
[40] المغنی: 10؍104
[41] زبدۃ التفسیر: ص 10
[42] تیسیر الکریم القرآن: 5؍473
[43] فتوی العلماء: ص 43
[44] المنتقی من فتاوی الشیخ:2؍131
[45] السحر بين الحقيقة والوهم في التصور الإسلامي:ص18، نقل عن كتاب ؟؟ص 37
[46] الفروق القرافی: 4؍15
[47] البقرة: 101۔103؛ طہ: 69؛ الانبیاء: 3؛ طہ: 66؛ الفلق: 4