حج بیت اللّٰہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔ جوں جوں حج کے مہینے اور اس کے دن قریب آتے جاتے ہیں توں توں ہر مسلمان کا دل زیارتِ حرمین کے لیے مچلنے لگتا ہے۔ مگر ظاہرہے کہ ’وسائل اور استطاعت‘ کے بغیر ہر شخص کی یہ تمنا پوری نہیں ہوسکتی۔
’استطاعت‘ کے بارے میں ذہن فوری طور پر بالعموم’اخراجاتِ سفر‘ ہی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ جیسے کہ رسول اللّٰہﷺ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: «الزادُ والراحلة» یعنی خرچ پانی اور سواری۔ بہرحال ائمۂ اسلام نے فرضیتِ حج کی پانچ بنیادی شرطیں بیان کی ہیں۔ یعنی:
1۔ اسلام                                 2۔ بلوغت                                 3۔ عقل    4۔ حرّیت (آزادی)     5۔ استطاعت
’استطاعت‘ کی تفصیل میں صحتِ بدن، راستے کا امن، سواری اور سفر خرچ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ کسی حکمران کی طرف سے قید وغیرہ کی کوئی رکاوٹ نہ ہو،جیسے کہ آج کل ہمارے لیے ویزہ کا مسئلہ ہے۔
یہ بنیادی شرطیں مردوں اور عورتوں سب کے لیے ہیں مگر خواتین کے لیے مزید ایک شرط اور بھی ہے کہ اس کا رفیقِ سفر اس کا خاوند ہو یا کوئی اور محرم رشتہ دار۔ محرم کی معیت کے بغیر مسلمان عورت کو سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ خواہ وہ سفر سفرحج ہو یا کوئی اور۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا:
«لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ»[1]
’’کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ ہو اور نہ کوئی عورت اپنے کسی محرم کے بغیر سفر کرے۔‘‘
جب آپﷺ یہ فرمارہے تھے تو ایک شخص کھڑا ہوگیا اور عرض کیا کہ جناب! میری بیوی حج کے لیے روانہ ہوگئی ہے جبکہ میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جاچکا ہے۔ تو آپﷺ نے فرمایا:
’تم جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔‘‘[2]
یہ حدیث اور واقعہ واضح اور صریح دلیل ہے کہ ایک مسلمان خاتون کے لیے اس کے سفر حج میں کسی نہ کسی محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ جیسے کہ آپﷺ نے اپنے صحابی کو جہاد سے رخصت دے کر بیوی کے ساتھ حج کرنے کا حکم دیا۔ فقہ السنّہ (از سید سابق) میں ہے :
یحییٰ بن عباد سے مروی ہے کہ اہل رَے کی ایک عورت نے جناب ابراہیم نخعی کی طرف لکھا کہ
’’میں ابھی تک حج سے متمتع نہیں ہوسکی ہوں جبکہ صاحب ِوسعت بھی ہوں مگر اس سفر کے لیے میرا کوئی محرم نہیں ہے؟ تو امام صاحب نے جواب دیا کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جنھیں حج کے لیے رستے کی طاقت ہو۔‘‘ (یعنی تم معذور ہو اور محرم کے بغیر حج نہیں کرسکتی ہو)
اس مسئلہ میں اسلامی شرعی تعلیمات سخت تاکید کرتی ہیں کہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کیا کرے۔ اگرچہ ہمارے ہاں عملاً اس بارے میں بڑی لاپرواہی پائی جاتی ہے اور رسول اللّٰہﷺ کی اس تاکید کا کماحقہ لحاظ نہیں رکھا جاتا جو یقیناً ایک بہت بڑا قصور ہے۔ حالات و احوال کا جبر کس قدر ہی کیوں نہ ہو، شرعی تعلیم اور شرعی اُصول مقدم رہنا چاہیے۔ اسی لیے بعض اوقات انتہائی ناگفتہ حادثات بھی پیش آتے رہتے ہیں جو یقیناً اس نبوی تعلیم سے سرتابی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ والله المستعان
حج کا عمل چونکہ سفر کو مستلزم ہے اور ایک عورت کے لیے جو پابندِ شریعت بھی ہو، یہ شرط اور بھی اہم ہوجاتی ہے۔ اور ہمارے ملکی ضوابط میں سفر حج و عمرہ کے لیے عورت کے لیے محرم ہونے کی لازمی شرط اسی لیے ہے جو یقیناً حق اور بجا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات عورتیں حرمین کی زیارت کے شوق میں، جذبات سے مغلوب ہوکر جعلی طور پر کسی غیر کو اپنا محرم باور کراکے حرمین میں پہنچ جاتی ہیں اور پھر ان کے ساتھ کماحقہ وفا نہیں کی جاتی تو وہاں رُلتی رہتی ہیں۔
اس میں کئی خرابیاں ہیں: بنیادی خرابی تو جھوٹ بولنا ہے اور وہ بھی ایک عظیم اور اعلیٰ ترین نیکی اور عبادت کے سفر کے آغاز میں جو کسی مسلمان کو کسی طرح زیب نہیں دیتا۔ اور پھر دورانِ سفر جگہ جگہ اس کا اِعادہ کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے، پردے کے شرعی تقاضے پامال کیے جاتے ہیں جو ایک کبیرہ گناہ ہے۔ اور تیسری وجہ عملی صورتِ حال ہے کہ ایک غیرمحرم مرد، عورت کی بیماری وغیرہ کی صورت میں اس کا کماحقہ سہارا نہیں بن سکتا اور نہ اس کی خدمت کرسکتا ہے جیسے کہ خاوند ، بیٹا ، بھائی اور محرم رشتہ دار کرسکتا ہے۔ نبیﷺ کی جانب سے خواتین کے لیے محرم کی تاکید کہ وہ اس کے بغیر سفر نہ کیا کریں فطرت کے عین مطابق ہے اور شریعت کا لازمی تقاضا بھی! خواہ عملاً ہم اسے قبول کریں یا نہ۔ سفر حج وعمرہ میں اس کا اہتمام واجب ہے ،اس کے بغیر کوئی خاتون حج نہیں کرسکتی، تاآنکہ اسے کوئی محرم رفیق سفر میسر آجائے یا پھر اس کا خرچ بھی برداشت کرے اور اسے اپنے ساتھ لے جائے اور یہ بڑے اجروثواب کا باعث ہوگا۔ احادیثِ مبارکہ میں اس بارے میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا:
«لَا یَحِلُّ لِاِمْرَأةٍ مُّسْلِمَةٍ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَیَّامٍ فَصَاعِداً إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوْهَا أَوْ أَخُوْهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوْ اِبْنُهَا أَوْ ذُوْمَحْرَمٍ مِنْهَا»[3]
’’جو عورت اللّٰہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ سفر کرے جو تین دن یا اس سے زیادہ کا ہو مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا باپ ہو یا بھائی یا خاوند یا بیٹا یا کوئی اور محرم رشتہ دار۔‘‘
« لاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلاَثًا إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ »[4]
’’کوئی عورت تین دن کا سفر (بھی) اکیلے نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو۔‘‘
« لاَ تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ لَيْسَ مَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ»[5]
’’کوئی عورت دو دن کا سفر (بھی) خاوند یا کسی محرم کی معیت کے بغیر نہ کرے۔‘‘
« لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلاَّ وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا»[6]
’’کسی مسلمان خاتون کے لیے حلال نہیں کہ وہ ایک رات کا سفر (بھی اکیلے) کرے، مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم مرد ہو۔‘‘
« لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِالله وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً»[7]
’’جو عورت اللّٰہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے حلال نہیں کہ ایک دن رات کا سفر (بھی محرم کے بغیر) کرے۔
«لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ بَرِیْداً إِلَّا وَمَعَهَا ذُوْمَحْرَمٍ»[8]
’’کوئی عورت ایک برید مسافت کا سفر بھی محرم کے بغیر نہ کرے۔‘‘(اور ایک برید بارہ میل ہاشمی کے برابر ہوتا ہے۔ نہ کہ ہمارا انگریزی میل)
اور صحیح بخاری کی مندرجہ ذیل روایت میں کسی مدت یا مسافت کا ذکر نہیں ہے۔ اور عمومی لحاظ سے بالفاظِ نہی حکم دیا ہے کہ «لَا تُسَافِرُ الْـمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ»[9]
’’کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘
یا د رہے کہ مندرجہ بالا احادیث میں ترتیبِ نزولی کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
اُصول فقہ کا معروف قاعدہ ہے کہ امرونہی کے الفاظ بالعموم وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔
محدثین اور فقہا کا موقف
ان نصوص پر ائمہ حدیث و فقہا کے تبصرے بالاختصار کچھ یوں ہیں:
"وقال المنذري: ليس في هذه الروايات تباين، ولا اختلاف، فإنه يحتمل أن يكون النبي ﷺ قالها في مواطن مختلفة بحسب الأسئلة، ويحتمل أن يكون ذلك كله تمثيلاً لأقلّ الأعداد، واليوم الواحد أوّل العدد، وأقله الاثنان أوّل الكثير، والثلاث أوّل الجمع، وكأنه أشار أن مثل هذا في كل الزمن لا يحل لها السفر فيه مع غير محرم، فكيف بما زاد؟"[10]
’’امام منذری﷫ فرماتے ہیں: ان روایات میں کسی قسم کا اختلاف یا تعارض نہیں ہے، ممکن ہے کہ آپﷺ کے یہ ارشادات مختلف مواقع پر مختلف سوالوں کے جواب میں ہوں۔ اور یہ بھی احتمال ہےکہ یہ قلیل ترین عدد بطورِ مثال ارشاد فرمائے ہوں کہ ’ایک‘ گنتی کا سب سے پہلا اور کم ترین عدد ہے اور’دو‘ سے کثرت کی ابتدا ہوتی ہے اور یہ اسکی سب سے کم مقدار ہے۔ اور’تین‘ سے جمع کی ابتدا ہوتی ہے تو گویا آپ نے فرمایا کہ جب اس قلیل ترین مدت کیلیے بھی عورت کو محرم کے بغیر سفر کرنا حلال نہیں تو اس سے زیادہ کا کیا جواز ہوسکتا ہے!‘‘
"قال البیهقي: هذه الروایات (عن أبي هریرة) کلها متفقة في متن الحدیث. لأن من قال: یومًا، أراد به بلیلته. ومن قال: لیلة أراد بیومها" [11]
’’امام بیہقی﷫ فرماتے ہیں: یہ روایات اپنے متن کے لحاظ سے متفق (اور ایک ہی) ہیں۔ کیونکہ جس راوی نے ’دن‘ کہا تو اس کے ساتھ ’رات‘ بھی مراد تھی۔ اور جس نے ’رات‘ کہا، تو اس کے ساتھ ’دن‘ بھی مراد تھا۔ ‘‘
علاوہ ازیں فرماتے ہیں :
"وهذه الروایات في الثلاثة والیومین والیوم صحیحة. وكأنّ النبی ﷺ سئل عن المرأة تسافر ثلاثا من غیر محرم؟ فقال: لا. وسئل عنها: تسافر یومین من غیر محرم؟ فقال: لا. ویومًا، فقال: لا. فادّی کل واحد منهم ما حفظ ما لا یکون عدد من هذه إلاعداد حدّا للسفر" [12]
’’یہ روایات جن میں تین، دو یا ایک دن یا رات کا ذکر ہے تو یہ سب صحیح ہیں۔ گویا نبیﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کیا کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر کرسکتی ہے؟ فرمایا: نہیں۔ پھر پوچھا گیا: دو دن کا؟ فرمایا: نہیں۔ پوچھا گیا: تو کیا ایک دن کا؟ فرمایا: نہیں۔ تو ہر راوی نے جو اسے یاد تھا، بیان کردیا۔ اور ان گنتیوں میں سفر کی مدت مراد نہیں ہے۔ ‘‘
امام ابن دقیق العید کا تبصرہ یہ ہے کہ
"إن قوله تعالى:﴿وَلِلهِ عَلى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾ عموم شامل للرجال والنساء. وقوله: «لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم» عموم لكل أنواع السفر فتعارض العمومان، ويجاب بأن أحاديث: «لا تسافر المرأة للحج إلا مع ذي محرم» مخصِّص لعموم الآية. ثم الحديث عام للشابة والعجوز. وقال جماعة من الأئمة: يجوز للعجوز السفر من غير محرم. وكأنهم نظروا إلى المعنى فخصّصوا به العموم. وقيل: لا يخصص بل العجوز كالشابة. وهل تقوم النساء الثقات مقام المحرم للمرأة؟ فأجازه البعض مستدلاً بأفعال الصحابة ولا تنهض حجة على ذلك؛ لأنه ليس بإجماع وقيل: يجوز لها السفر إذا كانت ذات حشم والأدلة لا تدلّ على ذلك. [13]
’’اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ’’لوگوں پر حج بیت اللّٰہ فرض ہے۔‘‘ (الآیۃ) اپنے عموم کے لحاظ سے عورتوں مردوں سب کو شامل ہے اور رسول اللّٰہﷺ کا فرمان کہ ’’عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے‘‘ یہ پابندی بھی ہر سفر کے لیے عام ہے۔ تو یہ دو عموم آپس میں متعارض ہوئے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیثِ مبارکہ، آیتِ کریمہ کے عموم کو خاص کرتی ہے۔ اور یہ پابندی جوان اور بوڑھی عورتوں سب کے لیے ہے۔ تاہم علما کی ایک جماعت بوڑھی عورت کو بغیر محرم کے بغير بھی سفر کی اجازت دیتے ہیں۔ گویا اُنھوں نے عمومی حالات کے تحت اس عموم کو جوان عورت کے لیے خاص سمجھا ہے جبکہ ان کے مقابل دوسرے علما کہتے ہیں کہ اس میں کوئی تخصیص نہیں،بوڑھی اور جوان دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔اور یہ سوال کہ آیا قابل اعتماد عورتوں کی جماعت کسی عورت کے لیے محرم کا قائم مقام ہوسکتی ہے؟ تو بعض نے اس کی اجازت دی ہے اور ان کی دلیل صحابہ کا فعل ہے۔ مگر یہ کوئی معتبر دلیل نہیں ہے کیونکہ اس پر صحابہ کا اجماع نہیں ہے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ اگر خاتون باوقار اور معزز ہو (اور اسے عمومی تحفظ حاصل ہو) تو وہ اکیلے سفر کرسکتی ہے۔ مگر عمومی دلائل اس کی تائید نہیں کرتے۔ ‘‘
اس ساری بحث کے باوجود امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں کہ
"انه یصحّ الحج من المرأة بغیر محرم ومن غیر المستطیع. إذا تکلفوا شهود المشاهد اجزأهم الحج. ثم منهم من هو محسن في ذلك کالحج یحج ماشیا ومنهم من هو مسيء في ذلك کالذی یحج بالمسألة والمرأة تحج بغیر محرم. وإنما اجزأهم لأن الأهلیة تامة والمعصیة إن وقعت فهی في الطریق لا في نفس المقصود" [14]
’’اگر کوئی عورت جو (اصطلاحاً) غیرمستطیع ہو اور بغیر محرم کے کسی طرح تکلف کرکے حج کے لیے پہنچ جائے اور اسی طرح دوسرے غیر مستطیع بھی تو ان کا حج ہوجائے گا اور بعض اس عمل میں محسن اور نیکوکار ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی پیدل حج کرے اور بعض خطاکار۔ مثلاً کوئی حج کے دوران میں لوگوں سے مانگنا شروع کردے۔ یا کوئی عورت ہو کر بغیر محرم کے حج کرے۔ حج اُن کا ہوجائے گا کیونکہ انھیں (بنیادی) اہلیت اور استطاعت حاصل ہے۔ رہی معصیت کی بات جو اگرچہ ہے مگر وہ ’رستے کے معاملے میں‘ ہے، اصل مقصود ادائیگی حج میں نہیں۔ ‘‘
ائمہ احناف نے بالعموم محرم کی معیت کو واجب ہی قرار دیا ہے۔ تاہم تین دن کی روایت کو ترجیح دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دو دن والی روایات مشکوک اور مرجوح ہیں۔ اور پھر وہ اس مدت میں اسے محرم کے بغیر بھی سفر کی اجازت دے دیتے ہیں۔ [15]
ردّالمحتار (حاشیہ ابن عابدین )شرح الدّرالمختار میں ہے:
"روی عن أبي حنیفة وأبي یوسف کراهة خروجها وحدها مسیرة یوم واحد وینبغي أن یکون الفتوی علیه لفساد الزمان (شرح اللباب) ویؤیده حدیث الصحیحین «لا یحل لإمرأة تؤمن بالله والیوم الأخر أن تسافر مسیرة یوم ولیلة إلا مع ذی محرم علیها»"[16]
’’جناب امام ابوحنیفہ اور ابویوسف سے مروی ہے کہ عورت کے لیے ایک دن کی مسافت کے لیے نکلنا بھی مکروہ ہے اور چاہیے کہ اسی کے مطابق فتویٰ دیا جائے کیونکہ زمانے کے حالات خراب ہیں۔ (شرح اللباب) اس کی تائید صحیحین کی حدیث سے ہوتی ہے کہ کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللّٰہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ ایک دن رات کی مسافت بھی محرم کے بغیر کرے۔‘‘اس کے بعد’الفتح‘ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’’اگر کوئی پہلے مذہب کا قائل ہو تو شوہر کو اسے روکنے کا حق نہیں ہوگا جبکہ مکہ کی جانب مسافت تین دن سے کم ہو۔‘‘
مگر یہ رائے صحیح احادیث کی روشنی میں محل نظر ہے۔ امام ابوحنیفہ ﷫اور قاضی ابویوسف﷫ کا قول ہی راجح ہے۔
محرم کے بغیر حج کی اجازت دینے والوں کی دلیل
جن حضرات نے سفر حج میں محرم کی معیت کا اعتبار نہیں کیا، انھوں نے مندرجہ ذیل اس حدیث سے استدلال کرنے کی کوشش کی ہے۔ جناب عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:
«یُوْشِكُ أَنْ تَخْرُجَ الظِّعِیْنَةُ مِنَ الْحِیَرةِ تَؤُمُّ الْبَیْتَ لَاجَوَارَ مَعَهَا»[17]
’’عنقریب ایسا وقت آنے والا ہے کہ عورت (اکیلی ہی) حیرہ سے بیت اللّٰہ کا قصد کرکے آئے گی ‘‘
مگر اس پر اعتراض ہے کہ اس میں محض آئندہ ہونے والے واقعے کی خبر ہے، نہ کہ اس کے سفر کے جواز کی بات۔ تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ خبر مدح و شادمانی کے اُسلوب میں ہے کہ شوکتِ اسلام اس قدر بڑھ جائے گی کہ کسی عورت کو سفر میں کوئی خطرہ نہ ہوگا، لہٰذا جائز ہے۔[18]
امام شوکانی﷫ فرماتے ہیں کہ اولیٰ یہی ہے کہ اسے محض خبر ہی سمجھا جائے ،نہ کہ جواز کی بات۔ اس طرح ہی اس باب کی احادیث میں جمع و تطبیق ہوسکتی ہے۔ [19]
بہرحال ایک مخلص مسلمان کو چاہیے کہ اللّٰہ عزوجل کے حکم اور رسول اللّٰہﷺ کی سنتِ ثابتہ ہی کو ترجیح دے۔ اور اپنے آپ کو اس کے قریب ترین رکھتے ہوئے متبع بننے کی کوشش کرے۔ رہے علما اور ان کے اقوال و فتاوٰی، تو ان میں سے وہی حجت اور معتبر ہیں جو قال اللّٰہ وقال الرسولﷺ کے مطابق ہوں۔ ﴿ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۱۰﴾

[1]    صحیح مسلم: 3336
[2]    صحیح بخاری: 5233؛ صحیح مسلم: 3336
[3]    سنن ابی داود: 1728
[4]    صحیح مسلم: 3322؛ سنن ابی داود: 1729
[5]   صحیح بخاری: 1864
[6]    صحیح مسلم: 3330؛ سنن ابی داود: 1725
[7]   سنن ابی داود: 1726
[8]   سنن ابی داود: 1727؛ صحيح ابن خزیمہ: 2526
[9]   صحیح بخاری: 1862
[10] نصب الرأیة في تخریج أحادیث الهدایة، کتاب الحج
[11] السنن الکبریٰ للبیہقی: 5617
[12] السنن الکبری للبیہقی: 5618
[13] سبل السلام شرح بلوغ المرام: 1؍608
[14] سبل السلام:3؍420
[15] شرح معانی الآثار
[16] حاشيہ ابن عابدین: 3؍533
[17] تحفۃ الاحوذی 8؍350، میں یہ الفاظِ حدیث اس طرح ہیں مگر کتبِ حدیث میں قدرے فرق سے منقول ہے۔ ان الفاظ کے قریب تر الفاظ امام طبرانی﷫ نے بیان کیے ہیں جو یہ ہیں: «تُوْشِكُ الظَّعِيْنَةُ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْحِيَرَةِ حَتَّى تَطُوْفَ بِالْبَيْتِ بِغَيْرِ جَوَارٍ» (الأحاديث الطوال:1؍16)
[18] تحفۃ الاحوذی: 8؍350
[19] نیل الاوطار بحوالہ تحفۃ الاحوذی: 8؍350