انسانی معاشرے میں سب سے اہم سوال مرد وزَن کے باہمی فرائض وحقوق اور تعلقات کاہے۔ کیونکہ نسل انسانی کو دو صنفوں میں پیدا کیا گیا ہے، اور ان دونوں کا باہمی ارتباط اور ضابطہ ونظام کیا ہونا چاہیے؛اس پر ہی انسانی زندگی کے بنیادی پہلوؤں کا انحصار ہے۔ اسلام کا عظیم احسان یہ ہے کہ اس اہم ترین مسئلہ پر وہ ایک بڑا معتدل ومتوازن نظام پیش کرتا ہے، جس پر عمل پیرا ہوکر ہر دو صنفیں سکون واطمینان کے ساتھ حیاتِ مستعار کے ایام گزار سکتے اوردنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے سرفراز ہوسکتے ہیں۔ آج مغربی اقوام میں یہی سوال بنیادی سیاسی اہمیت بھی اختیار کر گیا ہے کہ بہت سے مغربی ممالک نے ہم جنس پرستی کی شادی اور تعلقات کی اجازت دے دی ہے اور اس بنیادی مسئلہ پرہی وہ فطرتِ انسانی سے انحراف کربیٹھے ہیں۔وہ بے چارے اتنی بنیادی رہنمائی سے ہی محروم ہیں۔
انسانی زندگی کا سب سے بڑا پہلو مرد وعورت کا آپس میں ایک رشتہ میں منسلک ہوکر رہنا ہے۔ شادی بیاہ کے قوانین شرعِ اسلامی نے بڑی تفصیل سے بیان کیے ہیں، اور بالفرض میاں بیوی میں نباہ کرنا مشکل یا ناممکن ہوجائے تو اس کے بھی اسلام نے بڑے متوازن حل بتائے ہیں۔ ان احکام کی بہت سی تفصیلات ہیں جن سے قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ   ہمیں آگاہ کرتی ہیں۔اسلام نے نکاح کے سلسلے میں مرد اور عورت دونوں کی رضامندی اور حقوق کا برابر طور پر خیال رکھا ہے۔ کوئی ایسا نکاح ، جس میں مرد وعورت کی رضامندی یکساں طور پر شامل نہ ہو، شریعتِ اسلامیہ اس کی بالکل گنجائش نہیں دیتی بلکہ عورت کے مستقبل میں ازدواجی حقوق کی نگہداشت کے لیے نکاح میں اس کے خاندان کو بھی اہم ایک کردارتفویض کیا گیا ہےاور یہ حقیقت ہے کہ جن خواتین کے نکاح میں اُن کے خاندان کی سرپرستی اور بعد ازاں دلچسپی ونگرانی برقرار رہتی ہے، وہ عورتیں زیادہ بہتر طور پر اپنے ازدواجی حقوق کا تحفظ کرسکتی ہیں۔
اگر کسی بھی وجہ سے مرد وزَن میں نباہ کرنا مشکل ہوجائے تو اسلام اس تفریق زوجین کو سخت ناپسندقرار دینےکے باوجود اس کے موزوں طریقے بھی پیش کرتا ہے۔ اگر مرد نکاح کو ختم کرنا چاہے تو شریعتِ اسلامیہ نے اُس کے لیے طلاق کا طریقہ تجویز کیا ہے۔اور اگر عورت کا کسی وجہ سے نباہ کرنا مشکل ہوجائے تو جبراور غیریّت کے اس سلسلے کو طول دینے کی بجائے اللّٰہ تعالیٰ نے عورت کو خُلع کا حق دیا ہے۔
نبی کریم ﷺنےمیاں بیوی کے درمیان اختلاف کو پیدا کرنا شیطان کا مرغوب ترین مشغلہ بتایا، جو شخص میاں بیوی میں تفریق کی کوشش کرے، اس کو بدترین سزا کی وعید سنائی۔ شوہر کو یہ تلقین کی کہ حلا ل چیزوں میں ناپسند ترین شے طلاق ہے اور بیوی کو بتایا کہ کسی وجہ کے بغیر شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنے والی جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گی۔ان تمام احتیاطی اقدامات کے باوجود اگر آپس میں اللّٰہ کی حدود کو قائم رکھنا مشکل ہوجائے تو پھر طلاق وخلع کا راستہ دکھا دیا۔مرد کے ہاتھ میں نکاح کا بندھن دے کر، اسے عورت سے ایک درجہ بلند کردیا [جس بندھن کے تقدس کی حفاظت کی تلقین نبی کریمﷺ نے خطبہ حجۃ الوادع میں فرمائی ] اور عورت کو جذباتی مزاج ہونے کے ناطے ، صرف طلاق بول دینے؍ مانگ لینے کی بجائے ، اس امر کا پابند بنایا کہ وہ شوہر کو حق مہر واپس کرکےاس سے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے، اور اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو عورت قاضی سے رجوع کرکےاپنا حق خلع حاصل کرسکتی ہے۔گویا زوجین کو مل جل کر رہنا چاہیے تاہم دونوں کا نباہ مشکل ہوجائے تو ہردو کے لیے علیحدگی کا نظام موجود ہے، مرد کے لیے قدرے آسان اور عورت کے لیے کچھ تفصیل کے ساتھ ، تاہم یہ حق ہردو کے لیے شریعت ثابت وقائم رکھتی ہے!!
طلاق کو اللّٰہ تعالیٰ نے مرد کے ہاتھ میں رکھا ہے، اور زوجین میں افتراق کی اکثر وبیشتر صورتیں مرد کے اس اختیار کے ذریعے ہی پوری ہوتی ہیں۔ عورت کو اللّٰہ تعالیٰ نے حق خُلع دیا ہے جو وہ خود حق مہر؍فدیہ کی پیش کش کرکے شوہر سے لے سکتی ہے۔ تاہم بعض ناگزیر صورتوں میں قاضی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر پر دباؤ ڈالے کہ وہ بیوی کو حق خلع دے۔اور قاضی کا فیصلہ شرعی حیثیت رکھتا ہے جس پر عمل کرنا فریقین کے لیے ضروری ہوتا ہے۔دوسرے الفاظ میں تفریق زوجین کا عام طریقہ بصورتِ طلاق تو مرد کے پاس ہے، طلاق ہمیشہ مرد ہی دیتا ہے۔ اورعورت مجبوری کی بعض صورتوں میں حق مہر؍ فدیہ کو ادا کرکے حق خلع بھی حاصل کرسکتی ہے جو طلاق کی بجائے افتراق (جدائی)ہے ۔ اور اگر شوہر راضی نہ ہورہا ہو توبیوی قاضی کے اتفاق کے بعد شوہر پر دباؤ ڈال کر، حق مہر ؍فدیہ واپس کرکے اپنا حق خلع حاصل کرسکتی ہے۔قاضی اپنے اتفاق؍فیصلہ میں اس امکان کا جائزہ لیتا ہے کہ کیا یہ عورت امر واقعہ میں اس شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی یا یہ عورت کا محض جذباتی فیصلہ ہے۔ اگر خلع میں بھی شوہر کی رضامندی ضروری قرار دی جائے تو پھر عورت کے پاس افتراق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
افتراق کے یہ دو طریقے ہوئے: طلاق اور خلع... جبکہ افتراق کا تیسرا طریقہ فَسخ نکاح ہے جس کا فیصلہ قاضی اس صورت میں دیتا ہے جبکہ نکاح اپنی اصل سے ہی درست نہ ہو مثلاً رضاعی بھائی یا محرمات سے نکاح، عورت کا رضامندی کے بغیر نکاح وغیرہ ۔اس میں عورت کو حق مہر کی واپسی وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ یااس نکاح کو باقی رکھنا عورت کے لیے مشکلات کا باعث ہو جیسے مرد اپنی بیوی کے مالی ؍ نفقہ یا ازدواجی حقوق وغیرہ پورے کرنے کی صلاحیت کھوبیٹھے[1]۔حقیقی فسخ نکاح اس صورت میں ہوتا ہے جب نکاح کے شرعی نظام میں خلل ہو اور زوجین کے لیے باہمی حقوق وفرائض بوجوہ پورے کرنا ممکن نہ رہیں۔ ذیل میں اس کی مزید تفصیلات ملاحظہ کریں۔
اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، جس کا ہد ف پاکستان کے مقصدِ قیام اور نظریے کے عین مطابق ، اس ملک کو اسلامی نظام میں ڈھالنے کی تدبیر وسعی کرنا ہے۔ضروری تھا کہ اس کی سفارشات وہدایات کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہوتی تاکہ پاکستان تیزی سے اپنے مقصدِ قیام کی طرف پیش قدمی کرتا لیکن صد افسوس کہ ایک آئینی ادارہ اورڈھانچہ ہونے کے باوجود اس کی سفارشات کی حیثیت ، گزارش و تلقین  سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی، حتیٰ کہ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور کے بعد ، 30 سالہ عرصے میں کبھی اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی سفارش کو پارلیمنٹ میں سرے سے زیر بحث ہی نہیں لایا گیا۔ [2]جبکہ پاکستان کو حقیقی اسلامی مملکت میں ڈھالنے کے لیے یہ ادارہ ایک بنیادی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔ بعض سیکولر حلقے پاکستان کے اسلامی مملکت ہونے کے مقصد سے اختلاف کرنے کی بنا پر اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کرنے میں کوشاں نظر آتے ہیں اور بعض اہل دین حضرات اس کی بے وزن سفارشات کی بنا پر اس کی ساخت و ہیئت کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم ہردو صورت کے باوجود ایک باوقار اور معتبر ومؤقر تاریخی وآئینی ادارہ ہونے کے ناطے اسکی سفارشات کی اہمیت ووقعت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
حال ہی میں کونسل نے نکاح وطلاق کے ایک اہم مسئلہ پر اپنے اجلاس نمبر 199، منعقدہ 27،26 مئی 2015ء میں بعض سفارشات پیش کی ہیں، جن پر میڈیا میں متخالف آرا سامنے آئی ہیں ۔’عدالت کے ذریعے خلع کا حصول ...موجودہ قانونی صورتِ حال اور درپیش مسائل ... شرعی نقطہ نظر ‘ کے زیرعنوان کونسل نے درج ذیل دو فیصلے منظور کیے :
’’فیصلہ 1: مروّجہ عدالتی خلع جس میں شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یک طرفہ ڈگری جاری کرتی ہے، درست نہیں۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ خلع اور فسخ نکاح میں فرق کریں۔ فیصلہ 2: شعبۂ ریسرچ خلع، فسخ، ایلا، لعان اور ظہارکی تعریفات پر مشتمل ایک دفعہ کا متن تیار کرے جو بعد ازاں قانون انفساخِ نکاح مسلمانان 1939ء میں شامل کیا جائے گا۔‘‘
مذکورہ بالا فیصلوں کا متن راقم نے کونسل کی ویب سائٹ سے باضابطہ طور پر جاری ہونےوالی دستاویز سے لیا ہے، جبکہ روزنامہ ’جہانِ دنیا ‘ نے اس سفارش کو ان الفاظ میں رپورٹ کیا:
’’اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کا خُلع کا صوابدیدی حق، غیرشرعی قرار دے دیا،نہ صرف یہ بلکہ طلاق کے لئے خاوند کی رضامندی بھی لازم قرار دے دی،جب کہ مسلم فیملی لاء کی شق آٹھ میں ترمیم کی سفارش بھی کرڈالی۔ کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کہتے ہیں کہ جب تک خاوند طلاق کےلئے راضی نہ ہو، عدالتیں خواتین کو خلع نہ دیں۔‘‘
روزنامہ ایکسپریس، لاہور نے 28 مئی 2015ء کو اپنی خبر میں بتایا کہ
’’اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمدخان شیرانی نے کہاہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کرسکتی، عدالتوں کوچاہیے کہ وہ خلع اورتنسیخ نکاح میں فرق کریں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے 2روز تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا شیرانی نے کہا کہ عدالتیں خلع کے نام پرتنسیخ نکاح کے فیصلے دے رہی ہیں جوجائز نہیں،خلع کا حق صرف خاوندکے پاس ہے۔عدالتوں کو چاہیے کہ وہ خلع اورتنسیخ نکاح میں فرق کریں۔تفویض طلاق شرعاًدرست ہے، تاہم واضح اندازمیں ایک ایسی اضافی دفعہ تجویزکی جائے جس میں ایساابہام نہ ہو جس کی وجہ سے میاں بیوی میں اختلاف واقع ہو۔‘‘
کونسل کی مذکورہ بالا سفارش کے بعدمیڈیا میں بیانات شروع ہوگئے اور بہت سے لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ سفارش عورت کے حق علیحدگی کے منافی ہے۔اگر عورت براہِ راست اپنے شوہر سے حق مہر واپس کرکے یا عدالت کے توسط سے بھی اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل نہیں کرسکتی تو پھر وہ کس طرح اپنے ناپسندیدہ شوہر سے جدا ہوسکتی ہے جبکہ شریعتِ اسلامیہ نے یہ حق عورت کو واضح طور پر دیا ہے۔ ذیل میں پہلے ہم اس مسئلہ کی شرعی وفقہی حیثیت کو واضح کرتے ہیں ، پھر کونسل کی سفارش پر اپنا تبصرہ پیش کریں گے:
خلع ... قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں
     1۔ خلع كے مشروع ہونے کی بنیاد درج ذیل آیتِ کریمہ ہے ، جسے ’آیتِ خلع ‘بھی کہتے ہیں:
﴿الطَّلَاقُ مَرَّ‌تَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ تَسْرِ‌يحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ...٢٢٩
’’ طلاقِ (رجعی) دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح سے اپنے پاس رکھا جائے یا بھلے طریقے سے اسے رخصت کردیا جائے اور تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم اُنہیں دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لے لو ۔ اِلا یہ کہ دونوں میاں بیوی اس بات سے ڈرتے ہوں کہ وہ اللّٰہ کی حدود کی پابندی نہ کر سکیں گے۔ ہاں اگر وہ اس بات سے ڈرتے ہوں کہ اللّٰہ کی حدود کی پابندی نہ کر سکیں گے تو پھر عورت اگر کچھ دے دلا کر اپنی گلوخلاصی کرا لے تو ان دونوں پر کچھ گناہ نہیں ۔ یہ ہیں اللّٰہ کی حدود، ان سے آگے نہ بڑھو ۔ اور جو کوئی اللّٰہ کی حدود سے تجاوز کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘[3]
اس آیتِ کریمہ میں دو طلاقوں کا تذکرہ کرنے کے بعد بتایا گیا کہ اگر مرد طلاق دے تو مرد کے لیے اس سے حق مہر وہدایاواپس لینا جائز نہیں،ہاں اگر عورت علیحدگی کا مطالبہ کرے تو اسے فدیہ (حق مہروغیرہ ) دینے کی تلقین کی گئی ہے۔
2۔      صحیح بخاری اور سنن ابو داود وغیرہ میں سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس ﷜سے یہ حدیث مروی ہے:
جَاءَتْ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله! مَا أَنْقِمُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ، إِلَّا أَنِّي أَخَافُ الكُفْرَ، فَقَالَ رَسُولُ الله ﷺ: «فَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ، وَأَمَرَهُ فَفَارَقَهَا[4]
’’ثابت بن قیس بن شماس انصاری کی بیوی (جمیلہ بنت اُبی بن سلول، جو عبداللّٰہ بن اُبیّ منافق کی بہن تھی) رسول اللّٰہ ﷺکے پاس آئی اور کہنے لگی :’’ یا رسول اللّٰہ! میں ثابت بن قیس پر دینداری اور اخلاق میں کوئی عیب نہیں لگاتی، مگر میں یہ نہیں چاہتی کہ مسلمان ہو کر (خاوند کی) ناشکری میں مبتلا ہوں ۔‘‘ آپ نے فرمایا:’’اچھا ،جو باغ ثابت نے تمہیں (حق مہر میں) دیا تھا، وہ واپس کرتی ہو؟‘‘ وہ کہنے لگی: ’’جی ہاں‘‘ سو اُس نے باغ واپس لوٹا دیا ، تو آپ نے ثابت بن قیس کو حکم دیا اور اُس نے بیوی کو جدا کردیا۔‘‘
ثابت بن قیس کی اس مشہور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے بحیثیت ِ قاضی، ثابت کی بیوی سے دریافت کیا، اور اس کی ناپسندیدگی کو جان لینےکے بعدحق مہر کو واپس کرنے کا کہا،پھر اس کے شوہر کو حکم دیا:اس کو جداکردو اور یہ تاریخ اسلام کا اوّلین خلع تھا ۔اس واقعہ خلع میں نہ تو شوہر کو طلب کیا گیا، نہ شوہر کی رضامندی کو دریافت کیا گیا، نہ اُسے طلاق دینے کا حکم ہوا۔صرف عورت کی ناپسندیدگی، مطالبے اور حق مہر کی واپسی پر شوہر کو جدا کرنے کا پابند کردیا گیا، سو شوہرنے اس کو جدا کردیا۔گویا نبی کریمﷺ نے عورت کے حق خلع کو عدالتی دباؤ کے ساتھ شوہر پر نافذ کردیا۔
صحیح بخاری کے اسی باب میں ذرا پہلے ، سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس ﷜سے یوں بھی مروی ہے :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «اقْبَلِ الحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً»[5]
’’(اے ثابت بن قیس!) اس سے باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دے دو۔‘‘

اس روایت میں شوہر کو حق مہر واپس لے کر ایک طلاق دینے کی تلقین بھی کی گئی۔ لیکن صحیح بخاری میں اس روایت کو بیان کرنے کے بعد امام بخاری نے اس کے شَاذ یعنی نامقبول ہونے کااشارہ کیا ہے۔ یعنی تمام راوی طلاق کے حکم کو مُرسل بیان کرتے ہیں، جبکہ ازہر بن جمیل نےاسے ابن عباس﷜ سے موصولاً بیان کیا ہے۔ ازہر بن جمیل کو اگر ثقہ بھی مان لیا جائے ، تب بھی ان کا ابن عباس سے حکم طلاق کو موصولاًبیان کرنا سند میں شذوذ کہلائے گا جو دیگر ثقات کی مخالفت ہے۔ازہر بن جميل سے اس کے علاوہ صحیح بخاری میں کوئی اور روایت موجود[6] نہیں۔ اس طرح طلاق کے الفاظ بوجہ سند کے شاذ ہونے کے غیرمستند قرار پاتے ہیں۔ واقعہ خلع کی دیگر روایات جو سنن نسائی، المعجم الکبیر اور السنن الکبری از بیہقی میں ہیں ، میں طلاق دینے کا حکم جس جس روایت[7] میں ملتا ہے ، وہاں ازہر بن جمیل بصری ہی راوی ہے۔ امام بیہقی لکھتے ہیں :
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَزْهَرَ بْنِ جَمِيلٍ، وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ[8]

’’امام بخاری نے صحیح میں (حکم طلاق کو)ازہربن جمیل سے روایت کیا ہے، اور باقی رواۃ نے (حکم طلاق کو)خالد الحذاء سے مُرسل بیان کیا ہے۔‘‘
اب خلع میں شوہر کو حکم طلاق کی روایت تو مرسل یعنی غیرمستند ٹھہری جبکہ کتبِ حدیث میں خلع کی جو حدیث ابن عباس سے صحیح سند سے مروی ہے، اس میں حکم طلاق موجود نہیں ، دیکھیں صحیح بخاری اور السنن الکبریٰ وغیرہ [9]
ثابت بن قیس ﷜کے خلع کا تذکرہ تین خواتین سے منسوب ہے: ایک جمیلہ بنت اُبی بن سلول، دوسری مریم مغالیہ اور تیسری حبیبہ بنت سہل[10]، جو سنن ابو داود، جامع ترمذی، موطا مالک وغیرہ میں مختلف الفاظ سے آیا ہے۔ حافظ ابن حجر مذکورہ احادیث کی تشریح میں فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ یا تو ایک ہی خاتون کے مختلف نام ہیں، یا ثابت بن قیس سے خلع کے دو علیحدہ واقعات مروی ہیں ۔[11]
پہلی حدیث میں نبی کریمﷺ کے شوہر کو حکم دینے اور زوجین کے درمیان مفارقت کا ذکر ہے، دوسری روایت میں طلاق دینے کا حکم ہے لیکن وہ روایت مُرسل؍ نامقبول ہے،
جبکہ سنن نسائی میں «خُذِ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ وَخَلِّ سَبِيلَهَا»[12] (اس کے پاس جو تیرا مال ہے، وہ واپس لے کر اُس کا راستہ چھوڑ دے) کے الفاظ ہیں۔
سنن ابو داود میں «خُذْهُمَا وَفَارِقْهَا» [13] (اس سے دونوں باغ لےلے اور اس کو جدا کردے)،
السنن الکبریٰ میں «يَا ثَابِتُ! خُذْ مِنْهَا» فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ اور فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ عَلَيْهِ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا[14](اے ثابت ! اس سے لےلے، سو اُس نے باغ واپس لے لیا اور وہ اپنے گھر بیٹھ گئی ‘‘اور ’’آپ نے عورت کو حکم دیا کہ ثابت کو واپس کردے اور دونوں کے درمیان   تفریق کرا دی )كے الفاظ آئے ہیں۔
واقعہ خلع کی اکثر روایات میں خلع کے الفا ظ بھی مذکور [15]   ہیں، مثلاً:
أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ ﷺ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ.[16]

’’ثابت قیس کی بیوی نے اپنے شوہر سے دور ِنبوی میں خلع لے لیا تو نبی کریمﷺ نے اسے حکم دیا کہ ایک حیض عدت گزارے۔‘‘
3۔      اس سے پچھلی حدیث میں ربیع بنت معوذ رضی اللّٰہ عنہا کے بارے میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ
اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ ﷺ أَوْ أُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ[17]
’’ربیع نے دور نبوی میں خلع لیا تو نبی کریمﷺ نے اسے کہا یا اُسے حکم دیا گیا کہ وہ ایک حیض عدت گزارے۔‘‘
4۔      ربیع بنتِ معوذ کے خلع کا ایک اور واقعہ عبادہ بن صامت کی درج ذیل روایت میں بھی موجود ہے:
عَنْ رُبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟ فَقَالَ: "لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِهِ، فَتَمْكُثِي حَتَّى تَحِيضِي حَيْضَةً". قَالَ: "وَأَنَا مُتَّبِعٌ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ".[18]
’’ربیع بنت معوذ کو میں نے اپنا واقعہ بیان کرنے کو کہا تو کہنے لگیں: میں اپنے شوہر سے خلع لے کر سیدنا عثمان کے پاس آئی اور ان سے اپنی عدت کے بارے دریافت کیا۔ تو آپ نے جواب دیا کہ ’’تجھ پر کوئی عدت نہیں، الایہ کہ ابھی تازہ معاملہ ہو تو اس کے پاس ایک حیض تک انتظار کر‘‘ اور فرمایا کہ میں اس میں نبی کریمﷺ کے فیصلے کا پیروکار ہوں جو آپ نے مریم مغالیہ کے بارے کیا تھا جو ثابت بن قیس کی بیوی تھی اور اس نے ثابت سے خلع لے لیا تھا۔‘‘
امام ابو عبید قاسم بن سلام کی روایت کے مطابق یہ دوسرا واقعہ عہدِ عثمان میں پیش آیا ۔[19]
5۔ مفسر قرآن سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس ﷜سے پوچھا گیا کہ
سَأَلَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "ذَكَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقَ فِي أَوَّلِ الْآيَةِ وَآخِرِهَا وَالْخُلْعَ بَيْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ الْخُلْعُ بِطَلَاقٍ، يَنْكِحُهَا"[20]
’’ابراہیم بن سعد نے ابن عباس سے اس عورت کے بارے پوچھا جسے اس کے شوہر نے دو طلاقیں دی ہیں، پھر اس عورت نےخلع لے لیا، کیا وہ شخص اب اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے ؟تو ابن عباس نے کہا: ہاں ! اللّٰہ تعالیٰ نے طلاق کو آیاتِ خلع   (البقرۃ: 229، 230) کے شروع اور آخر میں ذکر کیا ہے اور خلع کو دونوں کے درمیان۔ اورخلع طلاق نہیں ہوتی،وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے۔‘‘
سیدنا ابن عباس ﷜کا ایک اور قول بروایتِ عکرمہ یوں بھی مروی ہے :
ما أجازه المال فليس بطلاق[21]
’’جس (جدائی )کو مال جاری کرے، وہ طلاق نہیں ہوتی۔‘‘
صحابہ کرام ﷢کے موقف کی حتمی وضاحت بقول ابن خزیمہ یوں ہے کہ
إنه لا يثبت عن أحد أنه رأى الخلع طلاق[22]
’’ان صحابہ میں سے کسی سے یہ ثابت نہیں کہ وہ خلع کو طلاق سمجھتے ہوں۔‘‘
6۔      خلع کے بارے میں صحابہ کرام﷢ کا موقف یہ تھا کہ اس کے بعد طلاق دینا بے فائدہ ہے :
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمَا قَالَا: فِي الْمخْتَلِعَةِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَا: " لَا يَلْزَمُهَا طَلَاقٌ لِأَنَّهُ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ[23]

’’سیدنا ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللّٰہ عنہما کہا کرتے تھے کہ جس خلع کرنے والی کو اس کا شوہر طلاق دے دے تو اس کو طلاق نہیں لگتی کیونکہ شوہر نے وہاں طلاق دی جو اس کی ملکیت (نکاح میں ) ہی نہیں ہے۔‘‘
مصنف عبد الرزاق میں یہی اثر ان الفاظ سے ہے :
فَاتَّفَقَا عَلَى أَنَّهُ مَا طَلَّقَ بَعْدَ الْخُلْعِ، فَلَا يُحْسَبُ شَيْئًا، قَالَا: «مَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، إِنَّمَا طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ»[24]

’’ابن عباس اور ابن زبیررضی اللّٰہ عنہما دونوں متفق تھے کہ جس نے بھی خلع کے بعد طلاق دی تو اس کوشمار نہیں کیا جائے گا۔ اور دونوں کہتے: جس نے اپنی (خلع مانگنے والی ) عورت کو طلاق دی تو اس نے وہاں طلاق دی جہاں اس کا کوئی اختیارنہیں تھا۔‘‘
7۔ خلع کی صورت میں طلاق نہیں بلکہ افتراق یعنی جدائی ہوتی ہے، سیدنا ابن عباس سے مروی ہے :
"إِنَّمَا هُوَ فُرْقَةٌ وَفَسْخٌ، لَيْسَ بِطَلَاقٍ، ذَكَرَ اللهُ الطَّلَاقَ فِي أَوَّلِ الْآيَةِ وَفِي آخِرِهَا، وَالْخُلْعَ بَيْنَ ذَلِكَ فَلَيْسَ بِطَلَاقٍ[25]

’’خلع افتراق اور فسخ ہے، طلاق نہیں ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آیاتِ خلع کے آغاز میں طلاق کو ذکر کیا اور پھر آخر میں اور خلع کو دونوں کے درمیان میں ، جو کہ طلاق نہیں ہے۔‘‘
اور بعض روایات میں سیدنا ابن عباس﷜ کے الفاظ یوں ہیں:
إِنَّمَا هُوَ الْفِدَاءُ، وَلَكِنَّ النَّاسَ أَخْطَئُوا اسْمَهُ... لَيْسَ الْفِدَاءُ بٍتَطْلِيقٍ[26]
خلع كو افتدا (فدیہ دے کر جدائی لینا)کہتے ہیں، لوگوں نے طلاق کا نام رکھ کر اس کے نام رکھنے میں خطا کھائی ہے..افتدا طلاق نہیں ہوتا۔‘‘
مذکورہ بالا روایاتِ حدیث میں بیوی کے شوہر سے علیحدگی کے مطالبے کو جُدائی کا حکم، راستہ چھوڑ دینے، گھر بیٹھ جانے اورخلع کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے جبکہ خلع میں طلاق کا حکم ثابت شدہ نہیں اور بتایا گیا ہے کہ خلع طلاق نہیں ہوتی بلکہ خلع والی عورت کو طلاق دیناغیرمحل میں طلاق دینے کے مترادف ہے، جو رائیگاں اور غیرمؤثر ہے۔اگر خلع کو طلاق مانا جائے تو پھر آیاتِ خلع میں تین کی بجائے چار طلاقوں کو ماننا پڑے گا، جو ایک مضحکہ خیزبات ہے اور اس کا کوئی قائل نہیں۔اوپر جن احادیث وآثار کو بیان کیا گیا ، ان کے جو عنوانات محدثین نے قائم کئے ہیں، اس سے محدثین کے موقف کا بھی علم ہوتا ہے ،مثلاً مصنف عبد الرزاق میں باب الطلاق بعد الفداء، باب من کان لایری الخلع طلاقًا، اور السنن الکبری للبیہقی میں باب المختلعة لایلحقها طلاق، باب الخلع هل هو فسخ أو طلاق؟ وغیرہ
یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ احادیثِ خلع کے راوی سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس﷜ ہیں، اور اس کے باوجودوہ خلع کو طلاق نہیں مانتے، بلکہ اسے افتراق اور فسخ (لغوی لحاظ سے یعنی خاتمہ نکاح) قرار دیتے ہیں۔اس کو طلاقوں میں شمار بھی نہیں کرتے، دو طلاقوں کے بعد خلع والی عورت کے نکاح کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ موقف کئی ایک روایات سے ثابت ہوتا ہے ، جس سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ ان سے طلاق کے حکم والے الفاظ جو ازہر بن جمیل نے بخاری میں موصولاً بیان کیے ہیں، ازہر کا شذوذ ہی ہے جس کو دیگر ثقہ راویوں کے مقابلے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔حافظ عبد اللّٰہ روپڑی ﷫لکھتے ہیں:

’’ابن عباس نے باوجود راوی حدیث ہونےکے فسخ کا فتویٰ دیا ہے ۔ یہ کوئی کمزور دلیل نہیں ہے۔ابن عبد البر نے اگر چہ اس کو شاذ کہا ہےمگر حافظ ابن حجر نے اس کو ردّ کردیا ہے۔ اور کہا کہ اس فتویٰ کی روایت کرنے والا طاؤ س ہے، جو ثقہ ،حافظ اور فقیہ ہے۔ ‘‘[27]
یعنی ابن عباس ﷜کا خلع کو فسخ کہنا شاذ نہیں کیونکہ ان کا یہ موقف کئی واقعات اور اسناد سے ثابت ہے، ان کے ساتھ دیگر صحابہ کا بھی یہی موقف ہے، اور بقول حافظ ابن حجر مستند روایات سے ثابت ہے۔ ان کے ایک سے زیادہ فتاویٰ میں یہی موقف بیان ہوا ہے، جن میں سے بعض اوپر ذکر ہوئے ہیں۔ جبکہ روایتِ بخاری میں طلاق دینےکا حکم شاذ ہے جس کی طرف امام بخاری نے اشارہ کیا ہے۔
مذکورہ آیت و احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ
1۔        جب بیوی ، شوہر سے حق مہر؍فِدیہ کی ادائیگی پر جدائی کا مطالبہ کرے تو اسے خُلع کہتے ہیں۔
2۔        خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کو شوہر کی طرف سے دیا ہوا حق مہر وغیرہ واپس کرنا ہوتا ہے ۔
3۔        خلع عورت کا حق ہے جس کے لیے کسی معقول وجہ کے علاوہ محض خاوند کی ناپسندی اور اس کی ناشکری کا بھی قاضی کو اعتبار کرنا چاہیے ،تاہم ایسی صورتِ حال امر واقعہ میں موجود ہونی چاہیے کہ حدود اللّٰہ ٹوٹنے کا خوف ہو، نہ کہ صرف غلط بیانی، من پسندی اور خواہش نفس کی بنا پر بیوی اس کا مطالبہ کرلے، وگرنہ وہ عند اللّٰہ سنگین وعید کی سزاوار ہوگی۔
4۔        عورت اگر شوہر کو خلع پر راضی نہ کرسکے تو قاضی سے رجوع کرے اور قاضی شوہر کوخلع (جدا کرنے) کا کہے اور عورت کے حق خلع کو نافذ کرادے۔
5۔        قاضی اس سلسلے میں شوہر کی رضامندی حاصل کرنے کا پابند نہیں ، اور حق مہر کی واپسی پر یکطرفہ فیصلہ کرسکتا ہے۔اور اسے خُلع ہی کہتے ہیں نہ کہ فسخ نکاح۔
6۔        خلع پر طلاق کے احکام لاگو نہیں ہوتے، اور خلع والی عورت کو طلاق دینے کی ضرورت نہیں۔
7۔        خلع میں طلاق کی بجائے ’افتراق‘یعنی جدائی ہوتی ہے اور اس میں نکاح ختم ہوجاتا ہے ۔
8۔        خلع کی عدت ایک حیض ہےجس میں خاوند رجوع نہیں کرسکتا۔

فقہ حنفی او رخُلع

شرعِ اسلامی میں عورت کے لیے مرد سے علیحدگی حاصل کرنے کا یہ طریقہ اور نظام بیان ہوا ہے، جس کو خلع  کہاجاتا ہے یعنی حق مہر؍فدیہ دے کر جدائی حاصل کرنا۔ اس میں طلاق کا لفظ بولا جائے یا فسخ  نکاح  کا ، بہر حال عورت کا حق علیحدگی مسلمہ ہے۔او ریہ حق شریعتِ اسلامیہ نے اوّل روز سے ہی  مسلم خواتین کو دیا ہے۔ اگر شوہر طلاق کا لفظ بولے یا حدیث نبوی میں یہ لفظ ثابت بھی ہوجائے تویہ طلاق شرعی کی بجائے  طلاق لغوی یا مجازی ہے جس کا معنی افتراق؍جدائی ہے کیونکہ خلع کی صورت میں طلاق کے شرعی احکام لاگو نہیں ہوتے بلکہ نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ یہ موقف علامہ ابن تیمیہ  کا ہے  جسے زاد المعاد  میں حافظ ابن قیم  نے  بھی اختیار کیا ہے ، شیخ الاسلام  ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

... فمتى فارقها بعوض فهي مفتدية لنفسها به، وهو خالع لها بأي لفظ كان، لان الاعتبار في العقود بمعانيها لا بالألفاظ، وقد ذكرنا وبيَّنا أن الآثار الثابتة في هذا الباب عن النبي ﷺ وعن ابن عباس وغيره تدلُّ دلالة بيِّنة أنه خلع، وإن كان بلفظ الطلاق ...[28]

’’جب بھی شوہر بیوی کو کسی فدیہ کے عوض جدا کرے تو گویا عورت اپنی ذات کا فدیہ دینے والی اور مرد اس عورت سے خلع کرنے والا ہے، چاہے الفاظ جو بھی ہوں۔ کیونکہ معاہدات میں لحاظ معانی کا ہوتا ہے، الفاظ کا نہیں۔اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اس سلسلے میں نبی کریم اور سیدنا ابن عباس   سے صحیح مرویات اسی امر پر واضح دلالت کرتی ہیں کہ یہ خلع ہی ہے، چاہے وہ طلاق کے الفاظ سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

حافظ عبداللّٰہ محدث روپڑی  بھی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

’’ممكن ہے کہ حدیث میں طلاق سے لغوی معنیٰ (مطلق چھوڑنا) مراد ہو، جیسے دوسری روایتوں میں خلّ سبیلها  وفارقها  وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں...‘‘[29]

جبکہ فقہ حنفی میں خلع ، عورت کا ایک مستقل حق ہونے کی بجائےدراصل مرد سے طلاق کا مطالبہ ہےاور ان کے نزدیک اس میں مرد کا طلاق  کہنا ضروری ہے،  اس میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے، اور اس کی عدت بھی تین حیض ہے ،گویا خلع طلاق کے مترادف ہی ہوا، صرف اس میں عورت مرد سے طلاق مانگے گی۔ چنانچہ کونسل کے چیئرمین کہتے ہیں: خلع کا حق صرف خاوندکے پاس ہے۔ گویا خلع عورت کے بجائے مرد کا ہی حق ہے جو ایک عجیب بات ہے۔ اس بنا پر حنفی فقہ میں مرد اور عورت اگر باہمی رضامندی سے خلع  کرلیں (یعنی مرد طلاق دینے پر آمادہ ہوجائے) تو اس کی تو گنجائش ہے، تاہم اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو عورت قاضی سے حق خلع حاصل کرنے پر قادر نہیں۔اور اسی بات سے اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستانی عدالتوں کو روکا ہے کہ

’’ مروّجہ عدالتی خلع جس میں شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یک طرفہ ڈگری جاری کرتی ہے، درست نہیں۔ عدالتوں کو چاہیے  کہ وہ خلع اور فسخ نکاح میں فرق کریں۔‘‘

نیز اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمدخان شیرانی نے کہاہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کرسکتی، عدالتوں کوچاہیے کہ وہ خلع اورتنسیخ نکاح میں فرق کریں ...تفویض طلاق شرعاًدرست ہے ۔‘‘

کونسل کی مذکورہ بالا  سفارش   میں تین باتوں کی تلقین کی گئی ہے:

1       خلع صرف شوہر کی مرضی  سے ہوتا ہے۔ خلع کا حق صرف خاوندکے پاس ہے۔

2       اگر عدالت میں خلع  کا کیس دائر کیا جائے تو اس میں یک طرفہ فیصلہ درست نہیں اور اس صورت میں  خلع کی بجائے فسخ نکاح ہوگا۔

3      عورت کو علیحدگی حاصل کرنے کے لیے تفویض طلاق کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

کونسل کی یہ تینوں سفارشات درج ذیل وجوہ کی بنا پر درست نہیں

1       یہ تعبیرقرآن کریم، احادیثِ نبویہ اور اقوالِ صحابہ کے مخالف ہے  اور فقہ حنفی کی ایک خاص تعبیر کو پروان چڑھانے کے مترادف ہےجس میں عور ت کے حق خلع کی نفی مضمر ہے۔ بعض حنفی علما اور دیگر فقہاے کرام بھی اس خیال سے متفق نہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو پاکستان میں پائے جانے والے تمام فقہی مکاتبِ فکر کا ترجمان ہونا چاہیے، اسے کسی ایک مخصوص فقہی تعبیرکو فروغ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

2       کہا یہ جاتا ہے کہ خلع کے طریق کار کو آسا ن بنادینے سے زوجین میں علیحدگی  کے امکانات میں اضافہ ہوجائے گا،مغربی تہذیب پروان چڑھے گی، اس لیے عدالتی خلع کا راستہ بند کیا جائے، اور تفویض طلاق  یا فسخ نکاح کے راستے اختیار کیے جائیں۔ حنفی علما کی یہ منطق درست نہیں کیونکہ جو حق خواتین کو قرآنِ کریم اور واضح احادیثِ نبویہ نے  دیا ہے، آزادی نسواں کے مغربی تصور کے نام پر خواتین سے وہ حق لیا نہیں جاسکتا اور شر عِ اسلامی سے مغربی تہذیب کبھی پروان نہیں چڑھ سکتی۔ عدالتی خلع کے شرعی طریق کار سے زوجین  میں جدائی کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی ، بلکہ تفویض طلاق کے اس غیرشرعی تصور سے جدائی کے امکانات وسیع تر ہوتے ہیں جسے حنفی فقہا نے اپنے تئیں  پاکستانی قانون میں متعارف کرا رکھا ہے اور اب کونسل بھی اس کے فروغ کی سفارش کررہی ہے کہ نکاح کے موقع پر مرد اپنا حق طلاق بیوی کو تفویض کردے اور بیوی جب چاہے کسی حق مہر وغیرہ کی واپسی کے بغیر ہی اپنے لیے طلاق کا فیصلہ کرلے۔

3     خلع عورت کا حق ہے جسے فقہ حنفی میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ فقہ حنفی میں اس کی وہی صورت درست ہے جب خاوند راضی ہو، جبکہ اکثر شوہر اس بات سے راضی نہیں ہوتے، اس صورت میں  بیوی اپنا یہ حق کیوں کر حاصل کرے  جیسا کہ نبی کریم نے صحابیات کو یہ حق خلع خود  لے کردیا۔تاہم فقہ حنفی میں جب عورت کے اس شرعی حق کو نظرانداز کیا جاتا ہے  تو اس کے لیے جدائی کا امکان پیدا کرنے کے لیے کبھی مساس بقصدِ شہوت اور کبھی تفویض طلاق کے حیلہ کو متعارف کرایا جاتا ہے، جو درست نہیں۔  جیساکہ نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی نے اپنے بیان میں تفویض طلاق کا راستہ دکھایا ہے او رمولانا تقی عثمانی لکھتے ہیں:

’’بعض ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جن میں عورت کو مرد سے گلوخلاصی حاصل کرنے کے لیے اس سے طلاق یا خلع حاصل ہونے کی کوئی صورت نہ بن سکے۔ حنفی مذہب میں اس کے لیے بہترین طریقہ تفویض طلاق کا ہے ۔ اگر نکاح کے آغاز میں اس طریقے کو اختیار کرلیا جائے تو ایسے حالات میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوسکتی۔‘‘[30]

تفویض طلاق کا مطلب یہ ہے کہ عقدِ نکاح کے وقت شرائطِ نکاح میں مرد طلاق دینے کا اپنا حق عورت کو تفویض کردے کہ عورت جب چاہے ، مرد کو اس کے عطا کردہ حق کی بنا پر طلاق دے سکتی ہے۔غور طلب امر ہے کہ اسلام نے عورت کو جدائی کا حق از خود بصورتِ خلع دیا ہے ،جس میں اسے حق مہر واپس کرنا ہوتا ہے  اور یہ حق آیت و احادیث  سے ثابت ہے، جبکہ حنفی  علما اس حق کو مرد سے مستعار لینے کی شرط  عقد ِنکاح میں رکھنے کی ترغیب  دے رہے ہیں۔ اگر اس حق  طلاق کی منتقلی کو مان لیا جائے تو کیا بغیر حق مہر ادائیگی کے میاں بیوی میں امکانِ طلاق سے افتراق زوجین کے امکانات میں اضافہ ہوگا، یا احادیث میں بیان کردہ طریق خلع پر عمل کرنے سے ۔ واضح ہے کہ احادیث میں عورت  کو یہ حق بعض شرائط کے ساتھ دیا گیا ہے اور وہی عورت کی نفسیات سے زیادہ ہم آہنگ طریقہ ہے۔

ثانیاً ،تفویض طلاق نکاح کی ایسی شرط ہے جو شرعی نظامِ نکاح میں بنیادی تبدیلی لانے والی ہے، اور ایسی شرطوں کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔ جیساکہ نبی کریم کا فرمان ہے :

«وَالْمسْلِمُوْنَ عَلى شُرُوْطِهِمْ إِلَّاشَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ اَحَلَّ حَرَامًا»[31]

’’مسلمانوں کے لیے اپنی طے کردہ شرطوں کی پابندی ضروری ہے، سواے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔ (ایسی شرطیں کالعدم ہوں گی)‘‘

سیدہ بریرہؓ کی آزادی کے بارے میں جب ان کے مالکان نے ایسی شرط لگائی جو آزادی او رولاء کے نظام کو متاثر کرنے والی تھی تو نبی کریم نے ایسا کرنے پر ناراضی کا اظہار فرمایا:

«مَا بَالُ رِجَالٍ یَّشْتَرِطُوْنَ شُرُوْطًا لَیْسَتْ فِي کِتَابِ اللهِ؟ مَاکَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِي کِتَابِ الله فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِـمَنْ أَعْتَقَ»[32]

’’لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللّٰہ کی کتاب میں نہیں؟ (یاد رکھو) جو شرط ایسی ہو گی جو اللّٰہ کی کتاب میں نہیں ہے، وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہوں۔ اللّٰہ کا فیصلہ زیادہ حق دار ہے (کہ اس کو مانا جائے) اور اللّٰہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے (کہ اس کی پاسداری کی جائے) وَلاء اسی کا حق ہے جس نے اسے آزاد کیا۔‘‘

معلوم ہوا کہ نکاح میں شرطیں لگائی جاسکتی ہیں اور انہیں پورا کرنا چاہیے لیکن  وہ ایسی نہ ہوں جس میں نظام شرعی کو ہی تبدیل کردیا جائے۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ لکھتے ہیں:

’’عورت کو طلاق کا حق تفویض کرنا، امر باطل ہے۔ اس سے حکم شریعت میں تبدیلی لازم آتی ہے، مرد کا جو حق ہے وہ عورت کو مل جاتا ہے اور عورت جو مرد کی محکوم ہے، وہ حاکم (قواّم) بن جاتی ہے اور مرد اپنی قوّامیت کو (جو اللّٰہ نے اسے عطا کی ہے) چھوڑ کر محکومیت کے درجے میں آجاتا ہے، یا بالفاظِ دیگر عورت طلاق کی مالک بن کر مرد بن جاتی ہے اور مرد عورت بن جاتا ہے کہ بیوی اگر اسے طلاق دے دے تو وہ سوائے اپنی بے بسی اور بے چارگی پہ رونے کے کچھ نہیں کر سکتا۔ ﴿ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى۰۰۲۲‘‘[33]

ثالثاً:تفویض نکاح کے حیلہ کے غلط ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام میں عقدِ نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے، اور وہ اکثر وبیشتر صورتوں میں مرد کے پاس ہی رہتا ہے  کیونکہ قرآنِ کریم یہ کہتا ہے کہ

﴿بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ...[34]           ’’اس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔‘‘

اور نبی کریم کا فرمان ہے : «...إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ»[35]

 ’’طلاق وہی دے سکتا ہے جو پنڈلی پکڑنے کا مجاز ہے۔‘‘

یعنی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حق اس کے شوہر کو ہی حاصل ہے۔اب طلاق دینے کا حق تو مرد کے پاس ہی ہے البتہ عقد نکاح ، مرد کے ہاتھ میں ہونے کاقرآنی حکم عام ہے اور حدیثِ خلع اس کو خاص؍محدود کرنے والی ہے۔ یعنی جب عورت حق مہردے کر اپنے سے لباس نکاح کو اُتارنا ؍کھینچنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتی ہےاور یہ طلاق نہیں بلکہ افتراق یا فُرقة کہلاتاہے جس میں طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خلع کے  حکم کے لیے یہ اصطلاح صحابہ کرام اور فقہا نے استعمال[36] کی ہے۔ گویا عورت کا حق خلع، مرد کے حق طلاق کے مقابل ہے جس میں عورت کو حق مہر کی واپسی اور بعض اوقات قاضی کی مدد؍   فیصلے  کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔

جہاں تک طلاق کا تعلق ہے توچاہے کوئی مرد طلاق کو  اپنی عورت کو تفویض بھی کردے تو تفویض کردینے میں مرد  کا  عمل ہی بنیاد اور اساس ہے،  اور پھر طلاق کی تعداد وکیفیت بھی وہی ہوگی جو مرد کی نیت میں ہے، اگر مرد کی نیت طلاقِ رجعی کی ہے تو تفویض طلاق کے باوجود طلاقِ رجعی ہی واقع ہوگی۔ گویا ظاہری تفویض طلاق کےباوجود یہ طلاق دراصل مرد ہی عورت کو دیتا ہے۔نکاح  میں تخییر، توکیل اور مصالحت کی صورتوں میں مرد ہی عقدِنکاح کا مالک رہتا ہے۔ مذکورہ بالا مسائل کی مزید تفصیلات محدث میں شائع شدہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کےمضمون میں ملاحظہ[37] کی جاسکتی ہیں۔

طلاق تفویض کی مخالفت کرتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کے کلیہ علوم اسلامیہ کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوج جو حنفی بریلوی ہیں،  لکھتے ہیں :

’’تفویض طلاق میں گرہِ نکاح عورت کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے، او روہ حق طلاق کو خود ہی اپنے خلاف استعمال کرکے  اپنے شوہر سے الگ ہوجاتی ہے۔ گویا خود ہی طالقہ اور خود ہی مطلقہ بھی یعنی فاعلہ بھی خود اور مفعولہ بھی خود، یہ بالکل ایسے ہی بات ہے  کہ کوئی شخص خود اپنے آپ سے نکاح کرلے، گویا خود ہی ناکح ہو اور خود ہی منکوحہ۔ ذرا سوچیے کہ تفویض طلاق کی صورت حال کس قدر مضحکہ خیز ہے۔کوئی ہے جو اس پر غور کرے۔‘‘[38]

نکاح کی گرہ کے  مرد کے ہاتھ میں ہونے کے مزید دلائل  درج کرنے کے بعد مزید لکھتے ہیں:

’’تفویض طلاق کو سمجھنے کے لیے خلع کے قانون کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے نزدیک خلع کا قانون اپنی فطرت اور اصل میں تفویض طلاق کے قانون کا نقیض ہے۔‘‘

یہ دونوں ایک دوسرے کے نقیض اس بناپر ہیں، کیونکہ تفویض طلاق تو مرد کے دیے ہوئے   حق کو اس کی عطا کردہ حدود میں استعمال کرنا ہے جبکہ خلع عورت کا اپنا حق ہے  جو عام قرآنی حکم سے خاص کرتے ہوئے اسے اللّٰہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ جب  خلع میں مر د وعورت دونوں کے مابین رضامندی ہوجائے ، وہاں تک تو کوئی مسئلہ نہیں۔ البتہ اگر شوہر خلع دینے پر آمادہ نہ ہو تو عورت اپنا حق علیحدگی قاضی کے ذریعے حاصل کرے گی۔حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی  ﷫ لکھتے ہیں:

’’(ان احادیث سے) معلوم  ہوا کہ خاوند کی طرف سے اگرچہ عورت کے حق میں کوتاہی نہ ہو، لیکن عورت  کو جب کسی وجہ سے طبعی نفرت ہو جس کو وہ برداشت نہیں کرسکتی  تو وہ [قاضی سے] خلع کراسکتی ہے۔‘‘[39]

4      احادیثِ نبویہ میں قاضی کے دباؤپر یک طرفہ ڈگری کو خلع کہا گیا، چاہے وہ شوہر کی رضا سے ہو، یا اس پر دباؤ کے ذریعے قاضی اس حق کو حاصل کرکے دے۔اب حنفی علما کہتے ہیں کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر ہونےوالے خلع کو خُلع نہ کہا جائے بلکہ فسخ نکاح کہا  جائے،  تو یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں  نبی کریم نے  شوہر کو حکم دیا اور دونوں نے جدائی اختیار کرلی اور اسے خلع ہی قرار دیا گیا ۔ جیسا کہ پیچھے مذکور احادیث ثابت بن قیس اور رُبیع  بنت معوذ (نمبر5 ،3،4)میں  اسے اختَلَعَت یعنی خلع کے الفاظ سے بیان کیا گیا اور دونوں واقعات میں خلع کو قاضی کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔قاضی نے عورت کی ناپسندیدگی کا جائزہ لیا ، حق مہر کی واپسی کا وعدہ لیا اور شوہر سے مرضی دریافت کیے بغیرخلع کرادیا۔

واضح رہنا چاہیے کہ اگر عورت جدائی کے لیے حق مہر واپس کرے گی تو قاضی کے کہنے پر شوہر علیحدہ کرے ، یا قاضی کی نوبت ہی نہ آئے او ررضامندی سے گھربیٹھے شوہر علیحدگی پر آمادہ ہوجائے، ہر دو صورت میں یہ خلع ہی ہے۔ احناف کا  رضامندی والی  صورت کے خلع پر طلاق کے احکام جاری کرنا بھی غلط ہے اور قاضی کے دباؤ والی صورت پر فسخ کے کامل احکام جاری کرنا بھی درست نہیں۔ خلع کی یہ دونوں صورتیں دراصل افتراق ہیں، خلع کی دونوں صورتوں پر طلاق یا فسخ کے الفاظ کا استعمال مجازی ہے۔یہاں طلاق یا فسخ سے مراد نکاح کا خاتمہ او رمیاں بیوی کے مابین علیحدگی ہے۔

 خلع کی عدالتی صورتوں کو خلع  کے بجائے فسخ کہنا احادیث کی مخالفت ہے  اور اس کی رضامندی والی صورت میں طلاق کے احکام جاری کرنا بھی زیادتی ہے کیونکہ ہر وہ خلع جس میں عورت مطالبہ کرے اورحق مہر ؍فدیہ دے  تواس میں جدائی حاصل ہوجائے گی اور طلاق کے الفاظ بولے بھی جائیں تب بھی وہاں طلاق کے مکمل احکام جاری نہیں ہوں گے۔بطورِ مثال اگر شوہر رضامندی سے  گھربیٹھے بیوی کو حق مہر وصول کرکے خلع دے دیتا ہے تو کیا اس عورت سے وہ رجوع کرسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ نہیں  کیونکہ وہ طلاق نہیں بلکہ خلع ہے۔ اور کیا وہ عورت تین ماہ کی عدت گزارے گی؟ ظاہر ہے کہ نہیں بلکہ صرف ایک ماہ کی عدت  گزارے گی جو خلع والی عورت کی عدت ہے ۔  اور نہ ہی  خلع پر فسخ کے کلی؍حقیقی احکام جاری ہوں گے، کیونکہ حقیقی فسخ میں حق مہر واپس کرنا ضروری نہیں ۔اس لیے خلع کی ہردو صورت پر طلاق اور فسخ کے الفاظ کا استعمال لغوی اور مجازی ہے۔پتہ چلا کہ

1      عورت کو علیحدگی کا شرعی طریقہ ہی اختیار کرنا چاہیے ، نہ کہ تفویض طلاق   جیسے غیرشرعی حیلے 

2       عورت اگر حق مہر دے کر جدائی لیتی ہے  تو شرعاً اس کو خلع کہتے ہیں۔چاہے وہ گھربیٹھے ہو یا عدالت کے ذریعے  عورت حق خلع حاصل کرے۔

3       خلع  کی ہر صورت میں عورت کا حق علیحدگی مسلمہ ہے، تاہم زوجین میں نفرت  یا  حدود اللّٰہ کے ٹوٹنے کے خوف کاموجود ہونا ضروری ہے۔

4       خلع پر افتراق کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔ خلع کی صورتیں  چاہے طلاق کے الفاظ سے ہوں، تاہم کسی صورت میں اس سے طلاق مراد نہیں ہوتی کیونکہ طلاق مرد دیتا ہے، اور خلع عورت لیتی ہے۔اور نہ  اس پر فسخ کے کلی احکام  لگتے ہیں کیونکہ حقیقی  فسخ میں حق مہر واپس کرنا ضروری نہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل  کی تینوں سفارشات قرآن وحدیث سے عدم مطابقت  اور ایک مخصوص فقہی موقف  کی ترجمانی  کی بنا پر قابل  اصلاح ہیں۔   ان میں عورت کے حق خلع کی نفی  کی گئی ہے کیونکہ زوجین کی رضامندی والے خلع میں(اسے شوہر کے ہاتھ میں دے کر) طلاق کے احکام جاری کردیے گئے ہیں ، تو یہ خلع کے شرعی تقاضوں کی نفی ہوئی۔ اور  عدالت کے ذریعے خلع   کو فَسخ  کانام دے دیا گیا اور اسے قاضی کے ہاتھ میں کردیا گیا ہے، جبکہ عورت سے حق مہر بھی واپس  لیا جارہا ہے تو یہ بھی شرعی خلع نہ ہوا۔ پھر جب عورت کا حق افتراق باقی نہ رہا تو عورت کو یہ حق دینے کے لیے اپنے پاس سے طلاق تفویض تجویز  کردی گئی جو پھر دراصل مرد کا ہی حق طلاق ہے اور نظام نکاح میں اساسی تبدیلی کا موجب ہے، اس بنا پر یہ تینوں پہلو ہی توجہ طلب ہیں۔ عملاً احناف کے ہاں افتراق زوجین کے دو ہی طریقے (طلاق وفسخ) مشروع و مؤثر ہیں جس سے بعض حنفی علما بھی اتفاق نہیں کرتے۔اس سلسلے کی مزید تفصیل  کےلیے دوسری قسط کا انتظار کریں  جس میں واضح کیا جائے گا کہ طلاق ، خلع اور فسخ میں باہمی کیا  کیا فروق ہے، اور خلع  پر طلاق کے احکام جاری نہیں ہوتے، علامہ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کا اس سلسلے میں کیا موقف ہے؟ اس سلسلے میں قاضی ؍عدالت کے اختیارات کیا   ہیں اور انکی شرعی بنیاد  کیا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ اپنی سفارشات میں تمام فقہی رجحانات کو پیش نظر رکھیں، قرآن واحادیث  سے قریب تر رہا جائےاور اپنی فقہی تعبیر کو زیادہ محتاط ومتوازن بنایا جائے۔کونسل میں عنقریب خلع، فسخ اور لعان   وغیرہ پر تحقیقی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا آرا کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ ہماری معروضات میں بہت سی ایسی مشترک باتیں ہیں جن کو سامنے رکھ کر ایک متفقہ موقف تک پہنچا جاسکتا ہے۔  اللّٰہ تعالیٰ سب کو اسلامی معاشرت کو قائم کرنے ، بچانے اور خدمتِ اسلام کی توفیق مرحمت فرمائے۔                   (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)

خُلع نہ تو شرعی طلاق   ہے اور نہ ہی شرعی فسخ !

بعض لوگوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی اس حنفی سفارش کی یوں توجیہ کی ہے کہ

’’ائمہ فقہ اورجمہور اہل علم کا اس بات پرفتویٰ، اجماع ا وراتفاق ہے کہ خلع کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، البتہ چندمخصوص صورتوں میں جہاں عورت پرظلم ہورہاہو،یا باہمی حقوق نہ نبھانے کے خدشات ہوں،یا نفرتِ شدیدہ پائی جاتی ہو توعدالت اور قاضی اپنےخصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان عقدِنکاح کی تنسیخ یافسخ کا اعلان کرسکتے ہیں  جہاں از روئے شریعت شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی۔

 خلع اور تنسیخ نکاح دو مستقل اور الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے اسلامی نظریاتی کونسل کافیصلہ بالکل بجا اور درست ہے کہ عدالت کو مخصوص حالات میں شوہر کی رضامندی کے بغیر تنسیخِ نکاح کاحق ہے، لیکن خلع کا نہیں۔البتہ ہمارے یہاں اکثر لوگ اس بنیادی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سےمذکورہ بالا فیصلے کی روشنی میں یہ سمجھ بیٹھتے ہیں،کہ خلع کی درخواست لے کر عدالت جانے والی عورت کوکسی صورت میں خلع نہیں مل سکتا۔ یوں اسے عدالت سے جو تنسیخ ِ نکاح کی ڈگری ملتی ہے ، اُن کے خیال میں اس کا فتوے کے لحاظ سے کوئی اعتبار نہیں ہے۔اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہو، تو بے شک اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے،لیکن اگر خلع کے راستے پر چلتے ہوئے بات اَن بَن پر منتج ہوجائے،اور عدالت دیگر لوازمات وشرائط کے بعد اپنے اختیارات استعمال کر کے ’تنسیخِ نکاح وائے خلع ‘کی ڈگری جاری کردے،تو ایسی صورت میں عورت شوہر کی قید سے آزاد ہوجائی گی۔ اورعدت کے بعد کسی بھی مرد سے حتیٰ کہ سابقہ شوہر سے بھی اگر چاہے نکاح کرسکتی ہے۔آج کل عدالتوں سے جو ڈگریاں ملتی ہیں،وہ یہی ہیں۔اسی لئے ان تفصیلات سے باخبر مفتی وعلماحضرات اسی کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں،اور ایسی خواتین کا نکاح بھی جب کسی اور مرد سے طے ہوجائے،وہ پڑھا دیتے ہیں جیسے مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمٰن اور ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر وغیرہ ۔ہاں جن کو عدالت کی اس ڈگری  (جس میں لفظِ خلع کے علاوہ تمام الفاظ انگریزی میں ہوتے ہیں)، یا اس مسئلے میں عدالتی باریکیوں کےمتعلق علم نہیں ،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتیں شوہروں کی رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگریاں دیتی ہیں، تو وہ اسے خلافِ شرع باور کر کے ناجائز قرار دے دیتے ہیں۔‘‘

ایک اور صاحب کونسل کے فیصلے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’چودہ سو سال سے جمہور اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خلع کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، البتہ چندمخصوص صورتوں میں جہاں عورت پہ ظلم ہورہاہو،عدالت اپنی خصوصی پاورز استعمال کرتے ہوئے میاں بیوی کا نکاح ختم کرسکتی ہے، اسے تنسیخ نکاح کانام دیاجاتاہے، جس میں شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ۔ اس کی حدود وتفاصیل اورشرائط اہل علم کی کتب میں مذکور ہیں۔ یاد رہے کہ خلع اور تنسیخ نکاح دو مستقل اور الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے اسلامی نظریاتی کونسل کافیصلہ بالکل بجا اور درست ہے، کہ عدالت کو مخصوص حالات میں شوہر کی رضامندی کے بغیر تنسیخ نکاح کاحق ہے لیکن خلع کا نہیں۔‘‘

اسی سے ملتی جلتی بات کراچی یونیورسٹی کے فقہ وتفسیر کے استاد ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج نے  لکھی:

’’شوہر کی طرف سے دی جانے والی طلاق (جو یک طرفہ ہوتی ہے) کو  فقط طلاق کہتے ہیں۔ بیوی اگر اپنے شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرے او راس کے مطالبہ پر شوہر اگر اسے چھوڑ دے تو ایسی طلاق کو خلع کہتے ہیں۔ اگر خلع کا مطالبہ عدالت میں دائر کیا جائے جس کے نتیجے میں علیحدگی ہو تو اسے فسخ نکاح کہتے ہیں۔ ‘‘[40]

خلع او رفسخ کے درمیان احناف کی ایک تطبیق تو یہ ہے جو مذکورہ بالا تینوں اقتباسات میں بیان کی گئی ہے کہ گھر میں رضامندی سے ہو جائے تو خلع ہے،  عدالت جاکر ہو اور شوہر پر دباؤ کے ذریعے ہو تو یہ فسخ  نکاح ہے۔ پہلے اقتباس میں تو اسے تنسیخ نکاح وائے خلع  قراردیا گیا ہے یعنی یہ ایسا خلع ہے جو قاضی کے ذریعے منعقد ہوا ہے ۔جبکہ بعض حنفی علما اس میں مزیدتشدد کے قائل ہیں، ان کے مطابق جب تک خلع کے باوجود شوہر جدائی پر راضی نہ ہو تو ایسی عورت آگے نکاح نہیں کرسکتی اور شوہر کی رضامندی کے بغیر آگے نکاح کرنے والی عورت بدکار او رگناہ گار سمجھی جائے گی ۔تفسیر روح البیان کے  مؤلف لکھتے ہیں:

’’مسئلہ: عدالت کی طرف سے شوہر کی رضا مندی کے بغیر جو یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دی جاتی ہے  وہ شرعاً معتبر  نہیں۔ اس صورت میں اس عورت کا کسی اور مرد سے نکاح کرنا حرام اور بدکاری ہو گا۔‘‘[41]

یہ صرف دعوی نہیں بلکہ  پنجاب میں میانوالی اور بھکر وغیرہ کے علاقوں میں  معمول بھی یہی ہے کہ خلع کرنے والی عورت کو جب تک اس کا شوہر طلاق نہیں دے دیتا، اس وقت تک وہ عورت آگے نکاح نہیں کرسکتی۔

مزید برآں پہلے تین اقتباسات میں بعض دعوے کیے گئے ہیں جو خلافِ واقعہ ہیں:

1       پہلے دونوں اقتباسات میں اس بات پر اہل علم کا اتفاق اور اجماع  کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ  خلع کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے جو کہ درست نہیں ۔جبکہ صحیح بخاری کی حدیث ابن عباس بتا رہی ہے کہ ثابت بن قیس کے معاملے میں نبی کریم نے اسے عدالتی حکم دے کر تفریق کرائی تھی ، اور یہ تاریخ اسلام کا اوّلین خلع تھا، اس میں شوہر سے اس کی رضامندی کہاں لی گئی۔ کیا واضح حدیث نبوی کے خلاف بھی اجماع ہوسکتا ہے ؟ نیزانہی عبارتوں میں موجود ’جمہور اہل علم‘  کا  لفظ اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ یہ بعض اہل علم کی رائے ہے  نہ کہ اجماعی مسئلہ، کیونکہ اجماع تو وہی ہوتا ہے جس پر ملتِ اسلامیہ کے تمام علما وفقہا متفق ہوں۔ جبکہ خلع کے سلسلے میں ایسا نہیں ہے بلکہ مالکیہ ؟؟؟کا موقف اس کے مخالف ہے۔ مالكی فقیہ ابن رشد لکھتے ہیں:

’’ خلع عورت کے اختیار میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ مرد کے اختیار میں طلاق ہے۔ چنانچہ جب عورت کو مرد کی طرف سے کوئی تکلیف ہوتو اس کے اختیار میں خلع ہے۔ اور جب مرد کو عورت کی طرف سے تکلیف ہو تو شارع نے اسے طلاق کا اختیار دیا ہے۔‘‘[42]

2    ان اقتباسات میں دوسری اہم بات یہ کی گئی ہے کہ اگر شوہر باہمی رضامندی سے خلع نہیں دیتا ، تو عورت قاضی کے پاس جاکر اس کی مدد سے اپنا حق علیحدگی   حاصل کرسکتی ہے ، لیکن یہ خلع نہیں ہوگا بلکہ یہ فسخ نکاح کہلاے گا۔گویا خلع صرف خاوند کی رضامندی سے حاصل ہوسکتا ہے جبکہ قاضی کے دباؤ سے ہونے والا خلع ، دراصل فسخ نکاح ہے۔اس کا مطلب یہ نکلا کہ عورت کے لیے حق علیحدگی تو موجود ہے، البتہ اس کا نام اور تفصیلات مختلف ہیں۔

فقہاے  حنفیہ کی یہ بات بھی درست نہیں جس کی وجوہات پیچھے گزر چکی ہیں۔

خلع کا لغو ی مطلب  النزع والتجريدہے یعنی اُتارنا، گویا عورت نے مرد کے لباس زوجیت کو اُتار دیا۔ عورت کے مطالبہ پر حق مہر ؍فدیہ کی ادائیگی   کے نتیجے میں ہونے والی علیحدگی کو خلع کہتے ہیں جیساکہ خلع کی تعریف  شافعیہ کےنزدیک  فُرقة بين الزوجين بعوض،حنابلہ کے ہاں  فراق الزوج امرأته بعوضاور مالکیہ کےنزدیک  الطلاق بعوض أو هو بلفظ الخلع كے الفاظ[43] سے کی جاتی ہے۔ حنفی فقہ کی مستند کتاب الہدایہ کی شرح العنایہ میں ہے :

إن فيه معنى المعاوضة من قبل المرأة... اختلعت منه بمالها[44]

’’جس میں  عورت کی طرف سے جدائی کے معاوضہ میں کچھ دیا جائے۔کہا جاتا ہے کہ عورت نے مال کے بدلے خلع لے لیا۔‘‘

ان تعریفات میں میاں بیوی کے درمیان افتراق ؍جدائی  اور حق مہر ؍فدیہ کی ادائیگی کے دو بنیادی تقاضے  مشترک ہیں۔ خلع  کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوتی ہے۔ اور سیدنا ابن عباس  نے ا س کے لیے  فرقۃ وفسخ کے لفظ (حدیث نمبر؟؟؟)بولے ہیں۔آگے حافظ ابن  قیم نے بھی ابن عباس کا ایک اور قول بیان کیا ہے : الخلع تفریق ولیس بطلاق. خلع کے لغوی معنی، اصطلاحی تعریفات، احادیث  میں آنے والے الفاظ اور صحابہ کے اقوال سے پتہ چلتا  ہے   کہ اس  کے لیے موزوں لفظ فرقۃ یا افتراق بمعنی جدائی ہی ہے۔ طلاق کا لفظ بولا جائے تو شرعی طلاق کے احکا م اس پر صادق نہیں آتے اور فسخ کا لفظ بولا جائے تو حقیقی فسخ کے تقاضے بھی یہاں پورے نہیں ہوتے۔اب جن علما  نے طلاق کا لفظ بولا یا فسخ کا تو اس سے ان کا یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ یہاں جدائی واقع ہوتی ہے۔

افتراق زوجین کے دراصل تین طریقے ہیں:

1       طلاق جو مرد کے ہاتھ میں ہے اور اکثر وبیشتر اسی طرح ہی  زوجین میں علیحدگی ہوتی ہے اور طلاق کے تفصیلی احکام اور طریقے ہیں جن کی رعایت ضروری ہے۔مرد کے حق طلاق کے اظہار کے لیے شرعی اصطلاح طلاق ہے۔

2     خلع جو عورت کا حق ہے اور یہ رضامندی سے ہوتا ہے   یا قاضی کے ذریعے عورت یہ حق حاصل کرتی ہے جس کے بعد دوبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے۔اس میں طلاق کے احکا م جاری نہیں ہوتے، اس میں عورت حق مہر واپس کرتی ہے۔ عورت کے حق جدائی کے اظہار کے لیے شرعی اصطلاح افتراق ہے۔

3     فسخ جوقاضی نظام شرع کی پاسداری نہ کرنے اور خلل کی صورت میں دیتا ہے۔ جب کوئی نکاح اپنی اصل سے ہی درست نہ ہو مثلاً عدم رضامندی سے نکاح[45]، یا محارم سے نکاح وغیرہ یا بعد ازاں زوجین ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے پر قادر نہ رہیں اور نکاح برقرار رکھنا مشکل ہوجائے۔مثلاً  شوہر کے لیے  نفقہ یا ازدواجی حقوق پورے کرنا ناممکن ہوجائیں۔ اس میں عورت کے لیے حق مہر واپس کرنا ضروری نہیں۔اور قاضی کے افتراق کے لیے شرعی لفظ فسخ ہے۔قاضی اپنا یہ حق فسخ  ولی اللّٰہ کی نیابت میں شرعی نظام کے تحفظ وبقا کے لیے کرتا ہے۔

حقیقی اور شرعی طلاق شوہر ہی دیتا  ہے اورخلع پر طلاق کا استعمال مجازی ہے، خلع محض صیغہ افتراق کا متقاضی ہے، مثلاً راستہ چھوڑ دیا، جدا کردیا وغیرہ۔ اسی طرح فسخ کے بھی دو استعمال ہیں: ایک فسخ حقیقی جو قاضی کی طرف سے ارکانِ نکاح میں کسی خلل کی صورت   میں بلا ادائیگی حق مہر کیا جاتا ہے جبکہ خلع پر فسخ کا استعمال بھی مجازی ہے   كیونکہ حقیقی فسخ اس سے وسیع تر ہے۔بعض اوقات حقیقی فسخ کے لیے بھی فراق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لیکن ان الفاظ کی حقیقت اور معنویت واضح رہنی چاہیے۔خلع کے لیے بھی مجازی الفاظ کے استعمال نے  پیش نظر مسئلہ کو اُلجھا دیا ہے۔ اگر احادیث وآثار کی روشنی میں اس تفصیل کو پیش نظر رکھا جائے  تو ایک واضح صورتحال سامنے آجاتی ہے۔؟؟

کہا جاتا ہے کہ احناف خلع  کے قائل نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رضامندی کے خلع میں احناف طلاق کے احکام جاری کردیتے ہیں، تو یہ خلع کے شرعی تقاضوں کی نفی ہوئی اور قاضی کے ذریعے خلع  میں فسخ کے احکام جاری کردیتے ہیں اوریہ بھی خلع کی نفی ہوئی۔عورت کو حق افتراق دینے کے لیے وہ طلاق تفویض تجویز کرتے ہیں ، جو دراصل مرد کا ہی حق طلاق ہے، یہ تینوں پہلو ہی اصلاح کے متقاضی ہیں۔ اس لحاظ سے عملاً احناف کے ہاں افتراق زوجین کے دو ہی طریقے (طلاق وفسخ) مؤثر ہوئے۔ احناف کا یہ رویہ احادیث سے ثابت ہونے والے موقف  کے مخالف ہے کیونکہ احادیث میں رضامندی والے خلع میں طلاق کے احکام جاری نہیں کیے گئے اور  قاضی والے خلع میں عورت سےحق مہر بھی لیا گیا ہے۔ چنانچہ بعض حنفی علما نے اس رجحان سے اتفاق نہیں کیا۔؟؟؟

 خلع کی تعریف کرتے ہوئے پیر محمدکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں :

’’... عورت حاکم وقت کے پاس خلع کا مطالبہ کرے، اور حاکم پہلے ان کی مصالحت کی کوشش کرے گا، اگر کامیابی نہ ہو تو خاوند نے عورت کو مہر میں جو کچھ دیا تھا، حاکم اسے لے کر خاوند کو واپس کردے ، اور ان کے درمیان تفریق کرادے ، یہ خلع ہے۔‘‘[46]

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’عورت سے خلع کے حق کو جس چیز نے عملاً بالکل سلب کرلیا ہے، وہ یہ غلط خیال ہے کہ شارع نے خلع کا معاملہ کلیتاً زن وشوہر  کے درمیان رکھا ہے، اور اس میں مداخلت کرنا قاضی کے حدود ِاختیار سے باہر ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خلع دینا، نہ دینا بالکل مرد کی مرضی پر موقوف ہوگیا ہے، اگر عورت خلع حاصل کرنا چاہے   اور مرد اپنی شرارت یا خود غرضی سے نہ دینا چاہے تو عورت کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہتا لیکن یہ بات شارع کی منشا کے بالکل خلاف ہے۔ شارع کا یہ منشا ہرگز نہ تھا کہ معاملہ نکاح کے ایک فریق کو بالکل بے بس کرکے دوسرے فریق کے ہاتھ میں دے دے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بلند اخلاق وتمدنی مقاصد فوت ہوجاتے جو اس نے مناکحت کے ساتھ وابستہ کیے ہیں۔

شریعت نے معاملہ نکاح کے دونوں فریقوں کو ایک ایک قانونی آلہ ایسا دیا ہے جس سے وہ عقدِ نکاح کے ناقابل برداشت ہوجانے کی صورت میں حل عقد کا کام لے سکتے ہیں۔ مرد کے قانونی آلہ کا نام ’طلاق‘ ہے جس کے استعمال میں اسے آزادانہ اختیار دیا گیا ہے اور اس کے بالمقابل عورت کے قانونی آلہ کا نام ’خلع‘ ہے جس کے استعمال کی صورت یہ رکھی گئی ہے کہ جب وہ عقدہ نکاح کو توڑنا چاہے تو پہلے مرد سے اس کا مطالبہ کرے اور اگر مرد اس کا مطالبہ پورا کرنے سے انکار کردے تو پھر قاضی سے مدد لے۔

...اگر آپ جائز طریقے سے ایسا نہ کرنے دیں گے تو وہ ناجائز طریقوں سے اپنی فطرت کے داعیات کو پورا کرے گی، اور یہ زیادہ براہوگا۔ ایک عورت کا پچاس عورتوں کو یکے بعد دیگرے بدلنااس سے بدرجا بہتر ہے کہ وہ کسی شخص کے نکاح میں رہتے ہوئے ایک مرتبہ بھی زنا کا ارتکاب کرے۔

... اگر شوہر اس کے حکم سے طلاق نہ دے تو قاضی خود تفریق کرا دے، کیوں نہ خلع کے مسئلہ میں دیگر فقہی جزئیات کی قاضی کو یہ اختیار حاصل ہو۔‘‘[47]

برصغیر کے معروف ومسلمہ حنفی عالم وفقیہ مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی  (جو فقہ اکیڈمی، انڈیا کے مرکزی ارکان میں سے ہیں )نے بھی اس اہم مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے اور ’خلع میں قاضی اور حَکم کے اختیارات‘ کے عنوان سے اپنے مقالہ میں فقہاے احناف کو عدالتی خلع کے امکانات پر نظر ثانی کرنے کی تلقین کے ساتھ اس کے دلائل بھی پیش کئے ہیں۔[48]

خلع (یعنی افتراق )اور طلاق میں فرق

ہمارے  ہاں عام طور پر خلع کو طلاق سمجھ لیا جاتا ہے،  جبکہ یہاں طلاق شرعی کی بجائے لغوی یا مجازی معنی میں ہے یعنی جدائی۔ نیز خلع کے لیے طلاق کو ضروری باور کیا جاتا ہے جبکہ خلع طلاق کے مقابل عورت کا حق جدائی ہے۔خلع کے بہت سے احکام ہیں، جن میں وہ طلاق سے مختلف ہے، مثلاً حافظ ابن قیم ﷫ لکھتے ہیں:

أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى رَتَّبَ عَلَى الطَّلَاقِ بَعْدَ الدُّخُولِ الَّذِي لَمْ يَسْتَوْفِ عَدَدَهُ ثَلَاثَةَ أَحْكَامٍ كُلُّهَا مُنْتَفِيَةٌ عَنِ الْخُلْعِ.

أَحَدُهَا: أَنَّ الزَّوْجَ أَحَقُّ بِالرَّجْعَةِ فِيهِ. الثَّانِي: أَنَّهُ مَحْسُوبٌ مِنَ الثَّلَاثِ فَلَا تَحِلُّ بَعْدَ اسْتِيفَاءِ الْعَدَدِ إِلَّا بَعْدَ زَوْجٍ وَإِصَابَةٍ. الثَّالِثُ أَنَّ الْعِدَّةَ فِيهِ ثَلَاثَةُ قُرُوءٍ. وَقَدْ ثَبَتَ بِالنَّصِّ وَالْإِجْمَاعِ أَنَّهُ لَا رَجْعَةَ فِي الْخُلْعِ، وَثَبَتَ بِالسُّنَّةِ وَأَقْوَالِ الصَّحَابَةِ أَنَّ الْعِدَّةَ فِيهِ حَيْضَةٌ وَاحِدَةٌ، وَثَبَتَ بِالنَّصِّ جَوَازُهُ بَعْدَ طَلْقَتَيْنِ، وَوُقُوعِ ثَالِثَةٍ بَعْدَهُ، وَهَذَا ظَاهِرٌ جِدًّا فِي كَوْنِهِ لَيْسَ بِطَلَاقٍ[49]

’’اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ نے مباشرت کے بعد ایسی طلاق  جس کی گنتی پوری نہ ہوئی ہو ، میں تین احکام  جاری کیے ہیں جو خلع میں نہیں پائے جاتے : پہلا، طلاق میں شوہر رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ دوسرا، طلاق میں تین بار کی گنتی شمار کی جاتی ہے، تین طلاقیں ہونے کے بعد نکاح اور مباشرت کے بغیر بیوی پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوتی۔تیسرا،  طلاق کی عدت تین حیض  ہے ۔  جبکہ نصوص اور  اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ خلع میں رجوع  کا حق نہیں ہے، سنت اور اقوال صحابہ سے پتہ چلتا ہے کہ خلع کی عدت ایک حیض ہے اور آیتِ خلع سے پتہ چلتا ہے کہ دو طلاقوں کے بعد خلع کیا جاسکتا ہے اور تیسری طلاق اس کے بعد شمار ہوگی۔ روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ خلع میں طلاق کے احکام جاری نہیں ہوتے۔‘‘

پتہ چلا کہ (1) خلع میں شوہر رجوع نہیں کرسکتا، (2) اس کو تین طلاقوں کی گنتی میں شمار نہیں کیا جاتا، (3)اس کی عدت صرف ایک ماہ ہے۔ ان تین فروق کے علاوہ خلع میں طلاق کے وہ احکام بھی لاگو نہیں ہوتے کہ (4) طلاق ایسے طہر میں ہی دی  جائے جس میں مباشرت نہ کی ہو۔ امام خطابی لکھتے ہیں:

’’اس حدیث میں  دلیل ہے کہ خلع فسخ ہوتا ہے، طلاق نہیں ۔ اگر طلاق ہوتا تو اس میں احکام طلاق کو پورا کرنا ضروری ہوتا ۔  جیساکہ سیدنا عبد اللّٰہ بن عمر ؓنے جب اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تو نبی کریم نے اُنہیں رجوع کرنے، اگلے طہر تک انتظار کرنے اور مباشرت سے پہلے طلاق دینے   کا کہا ۔جبکہ خلع کے کیس میں آپ نے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی۔‘‘[50]

طلاق میں مطلقہ کو شوہر کو گھر میں ہی رہنے کی بھی تلقین ہے۔جبکہ نبی کریم نے ثابت بن قیس  کو ایسی کوئی تلقین نہیں کی۔نیز (5) اگر عورت حق مہر؍ فدیہ ادا نہ کرے  تو اس وقت تک دونوں میں جدائی کو مؤخر کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ  مولانا عبد الرحمٰن کیلانی  اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’عورت اس وقت تک اس مرد سے آزاد نہ ہوگی جب تک وہ زرِ فدیہ ادا نہ کر دے اور وہ مرد یا اس کی جگہ عدالت اسے طلاق نہ دے دے۔‘‘[51]

(6) مزید برآں خلع کے بعد میاں بیوی کے درمیان نکاح ہوسکتاہے جبکہ طلاقِ بائنہ کے بعد نکاح نہیں ہوسکتا۔جیساکہ سیدنا ابن عباس سے مروی ہے في رجل طلق امراته تطليقتين ثم اختلعت منه بعد فقال يتزوجها ان شاء[52]

’’ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں،  پھر عورت نے اس کے بعد شوہر سے خلع لے لیا تو آپ نے کہا: اگر شوہر چاہے تو اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے ۔‘‘

یہی واقعہ پیچھے صفحہ نمبر ؟؟؟ پر قدرے مختلف الفاظ سے بھی آیا ہے۔

اسی طرح فسخ بھی طلاق نہیں ہوتا کیونکہ وہ بھی طلاق سے بھی مختلف ہے۔ طلاق کا مطلب تو یہ ہے کہ نکاح کے کسی مرحلہ میں شوہر اس کو ختم کردےجبکہ فسخ سے مراد یہ ہے کہ اس نکاح کو اس کی اصل سے ہی کالعدم کردیا جائے۔  جیساکہ ڈاکٹر وہبہ زحیلی لکھتے ہیں:

ثم إن الفسخ قبل الدخول لا يوجب للمرأة شيئًا من المهر، أما الطلاق قبل الدخول فيوجب نصف المهر المسمّٰى، فإن لم يكن المهر مسمى استحقت المتعة[53]

’’اگر مباشرت سے قبل فسخ نکاح ہوجائے تو عورت کو مہر سے کچھ نہیں ملتا ، جبکہ مباشرت سے قبل طلاق  دے دی جائے تو قرآنی حکم کی رو سے طے شدہ مہر کا نصف ادا کرنا  ضروری ٹھہرتا ہے۔ اور اگر کوئی مہر طے نہ ہوا ہو تو عورت کو کچھ ہدایا ؍ تحائف وغیرہ دینے ضروری ہیں۔‘‘

گویا  (7) فسخ نکاح ، مباشرت سے قبل نصف حق مہر کو واجب نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ (8) طلاق شوہر کی طرف سے ہی ہوتی ہے کیونکہ وہی طلاق کا اختیار رکھتا ہے ۔ قاضی اس کو پابند کرے گا کہ وہ عورت کا راستہ چھوڑ دے۔ بامر مجبوری قاضی طلاق کی بجائے تفریق  زوجین کرے گا، جس کا نام فسخ کی بجائے خلع ہی ہوگا۔کیونکہ اس میں عورت حق مہر کوواپس کردے گی۔

گویا خلع  دراصل میاں بیوی کے درمیان جدائی بصورتِ واپسی حق مہر کانام ہے، جو اپنے احکام ومعنویت کے اعتبار سے طلاق کی بجائے تفریق  زوجین ہے۔ کیونکہ خلع کی کسی صورت میں بھی طلاق کے احکام صادق نہیں آتے، جیساکہ پیچھے خلع کی دونوں صورتیں گزر چکی ہیں۔

صحابہ میں سے سیدنا ابن عباس، تابعین میں سے طاؤس، عکرمہ ، فقہا میں سے  اسحق ، ابو ثور، اور امام احمد، امام شافعی کا قدیم موقف یہی  ہے کہ خلع طلاق کی بجائے جدائی ہے۔ ان کے دلائل وہی ہیں جو اوپر بیان ہوئے کہ خلع اور طلاق کے احکام میں فرق ہے۔ خلع کو اگر طلاقِ رجعی بنایا جائے تو عورت کا حق مہر واپس کرنا ، اس کے مال کا ضیاع ہے، جو بے فائدہ ٹھہرتا ہے۔نیز آیت خلع  میں دو طلاقوں کا تذکرہ کرنے کے بعد، خلع کا بیان ہوا ہے ، پھر اگلی آیت میں  تیسری طلاق  کا بیان ہے۔ اگر خلع  بھی طلا ق ہی ہوتی تو اگلی آیت میں چوتھی طلاق کا تذکرہ بن جاتا، جو کہ بالکل ایک نئی بات ہوتی۔

اور جن صحابہ کرام سے یہ بات مروی ہے کہ خلع طلاق ہے ، تو ایسا کوئی بھی اثر مستند طور پر ثابت شدہ نہیں۔حافظ ابن قیم الجوزیہ لکھتے ہیں:

((وَإِذَا كَانَتْ أَحْكَامُ الْفِدْيَةِ غَيْرَ أَحْكَامِ الطَّلَاقِ دَلَّ عَلَى أَنَّهَا مِنْ غَيْرِ جِنْسِهِ فَهَذَا مُقْتَضَى النَّصِّ وَالْقِيَاسِ وَأَقْوَالِ الصَّحَابَةِ، ثُمَّ مَنْ نَظَرَ إِلَى حَقَائِقِ الْعُقُودِ وَمَقَاصِدِهَا دُونَ أَلْفَاظِهَا يَعُدُّ الْخُلْعَ فَسْخًا بِأَيِّ لَفْظٍ كَانَ حَتَّى بِلَفْظِ الطَّلَاقِ، وَهَذَا أَحَدُ الْوَجْهَيْنِ لِأَصْحَابِ أحمد وَهُوَ اخْتِيَارُ شَيْخِنَا. قَالَ: وَهَذَا ظَاهِرُ كَلَامِ أحمد وَكَلَامِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَصْحَابِهِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَا أَجَازَهُ الْمَالُ فَلَيْسَ بِطَلَاقٍ.))

((قَالَ عبد الله بن أحمد رَأَيْتُ أَبِي كَانَ يَذْهَبُ إِلَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَقَالَ عمرو عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (الْخُلْعُ تَفْرِيقٌ وَلَيْسَ بِطَلَاقٍ) وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابن طاووس كَانَ أَبِي لَا يَرَى الْفِدَاءَ طَلَاقًا وَيُخَيِّرُهُ.))

((وَمَنِ اعْتَبَرَ الْأَلْفَاظَ وَوَقَفَ مَعَهَا وَاعْتَبَرَهَا فِي أَحْكَامِ الْعُقُودِ جَعَلَهُ بِلَفْظِ الطَّلَاقِ طَلَاقًا، وَقَوَاعِدُ الْفِقْهِ وَأُصُولُهُ تَشْهَدُ أَنَّ الْمَرْعِيَّ فِي الْعُقُودِ حَقَائِقُهَا وَمَعَانِيهَا لَا صُوَرُهَا وَأَلْفَاظُهَا وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.))

((وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ فِي الْخُلْعِ تَطْلِيقَةً، وَمَعَ هَذَا أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ وَهَذَا صَرِيحٌ فِي أَنَّهُ فَسْخٌ، وَلَوْ وَقَعَ بِلَفْظِ الطَّلَاقِ.))

((وَأَيْضًا فَإِنَّهُ سُبْحَانَهُ عَلَّقَ عَلَيْهِ أَحْكَامَ الْفِدْيَةِ بِكَوْنِهِ فِدْيَةً، وَمَعْلُومٌ أَنَّ الْفِدْيَةَ لَا تَخْتَصُّ بِلَفْظٍ، وَلَمْ يُعَيِّنِ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لَهَا لَفْظًا مُعَيَّنًا، وَطَلَاقُ الْفِدَاءِ طَلَاقٌ مُقَيَّدٌ وَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ أَحْكَامِ الطَّلَاقِ الْمُطْلَقُ، كَمَا لَا يَدْخُلُ تَحْتَهَا فِي ثُبُوتِ الرَّجْعَةِ وَالِاعْتِدَادِ بِثَلَاثَةِ قُرُوءٍ بِالسُّنَّةِ الثَّابِتَةِ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.))[54]

’’جب فدیہ کے احکام طلاق کے احکام کے علاوہ ہیں، تو پتہ چلا کہ فدیہ [یعنی خلع ]طلاق کی جنس سے نہیں  اور یہی نص ، قیاس اور اقوال صحابہ کا تقاضا ہے۔ پھر جو شخص معاہدوں میں الفاظ کے بجائے ان کے حقائق ومقاصد کی معرفت رکھتا ہے ، وہ خلع کو فسخ ہی سمجھتا ہے، چاہے وہ کسی بھی لفظ سے  ہو، حتی کہ طلاق کا لفظ بھی استعمال کرلیا جائے۔ حنابلہ کا دو میں سے ایک موقف  یہی  ہے اور یہی میرے اُستاذ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا رجحان ہے۔  کہتے ہیں: یہی امام احمد ، ابن عباس اور ان کے شاگردوں کی رائے ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ  عمرو بن دینار نے عکرمہ مولی ابن عباس سے سنا کہ ’جس چیز کو مال جاری کر دے، وہ طلاق نہیں ہوتی۔‘

عبد اللّٰہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو ابن عباس کے قول کی طرف مائل پایا ہے۔ عمرو، طاؤس  سے وہ ابن عباس  کا قول بیان کرتے ہیں کہ خلع تفریق ہے، طلاق نہیں ہے۔ ابن جریج، ابن طاؤس سے راوی ہیں کہ میرے والد فدیہ(خلع) کو طلاق نہیں سمجھتے تھے اور یہی موقف ان کے ہاں راجح تھا۔

جو شخص الفاظ کی پابندی کرتا ، ان پر جم جاتا اور معاہدات میں ان پر ہی انحصار کرتا ہے ، وہ طلاق سے طلاق ہی مراد لے گا، حالانکہ قواعد فقہیہ  اور اصول  گواہی دیتے ہیں کہ معاہدات میں حقائق ومعانی مراد ہوتے ہیں، ظاہری صورتیں اور الفاظ نہیں۔ واللّٰہ الموفق

جہاں تک اس امر کی دلالت ہے کہ نبی کریم نے ثابت بن قیس کو کہا کہ اپنی بیوی کو خلع میں ایک طلاق دے، پھر یہ بھی حکم دیا کہ وہ ایک حیض بطور عدت گزارے، اس سے صراحتاً پتہ چل گیا کہ وہ حکم فسخ کا تھا، گو کہ وہ طلاق کے الفاظ سے بیان کیا گیا تھا۔

مزیدبرآں اللّٰہ سبحانہ نے اس کو احکام فدیہ سے معلق کیا ہے۔ اور ہمیں پتہ ہے کہ اس فدیہ  کے لیے کوئی لفظ مخصوص نہیں کیا ،نہ ہی نے اس کے لیے کوئی لفظ متعین کیا۔ طلاق فدیہ دراصل طلاق مقید ہے  جو عام احکام طلاق کے تحت نہیں آتی، جیسا کہ وہ رجوع کرنے، عدت کے تین قروءگزارنے وغیرہ میں اس کے تحت آتی ہے۔ واللّٰہ الموفق‘‘

مذکورہ بالا تفصیلات سے علم ہوا کہ بیوی کے مطالبے پر، حق مہر کی واپسی  کے ذریعے ہونے والے افتراق کو خلع کہتے ہیں، چاہے کہ وہ فریقین کی رضامندی سے یا قاضی کے فیصلے  کی بنا پر۔عورت کو حق علیحدگی دیا جائے گا، اس کو خلع کہا جائے گا اور خلع کی ہر صورت میں طلاق کی بجائے افتراق کے احکام لاگو ہوں گے، چاہے طلاق کا لفظ بھی بولاجائے۔ دراصل طلاق شوہر کا حق ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے اور خلع عورت کا حق ہے جو درونِ خانہ یا قاضی کے ذریعے عورت بروئے کار لاسکتی ہے۔ عورت پر رکاوٹ اور رشتہ ازدواج کی حفاظت کے پیش نظر حق مہر کی واپسی اور قاضی کی تائید کی شرطیں عائد کردی گئی ہیں۔ اس طرح شریعت کے پیش نظرتمام مصالح مکمل ہوجاتے ہیں۔

اس سلسلے میں تفویض طلاق وغیرہ جیسے حیلوں کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر عورتیں اس حق  خلع کو بے محابا استعمال کرنے لگیں تو قاضی کو چاہیے کہ عورت کی نفرت کی حقیقت کو جاننے کی تدبیر کرے ، جیساکہ سیدنا عمر نے خلع کا مطالبہ کرنے والی ایک عورت کو تین روز کوڑاکرکٹ کے ساتھ قید کرکے، پھر اس کی حالت دریافت کی توعورت نے یہی کہا کہ میرے لیے یہ تین دن شوہر کے ساتھ گزرے دنوں سے بدرجہا پرسکون  تھے،سو سیدنا عمر نے خلع کو نافذ کردیا۔[55]جہاں تک اس کا یہ پہلو ہے  کہ قاضی کو خلع کروانے کا حق کیوں کر حاصل ہے، اس کے دلائل کیا ہیں؟ اور شوہر اس کا پابند ہے یا نہیں؟کتاب وسنت سے اس بارے میں اجمالی رہنمائی تو پیچھے گزرچکی ہے ، تاہم ا س سلسلے کی مزید تفصیلات آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ اپنی سفارشات میں تمام فقہی رجحانات کو پیش نظر رکھیں، قرآن واحادیث  سے قریب تر رہا جائےاور اپنی فقہی تعبیر کو زیادہ محتاط ومتوازن بنایا جائے۔کونسل میں عنقریب خلع، فسخ اور لعان   وغیرہ پر تحقیقی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا اہل علم کی آرا کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ ہماری معروضات میں بہت سی ایسی مشترک باتیں ہیں جن کو سامنے رکھ کر ایک متفقہ موقف تک پہنچا جاسکتا ہے۔  اللّٰہ تعالیٰ سب کو اسلامی معاشرت کو قائم کرنے ، بچانے اور خدمتِ اسلام کی توفیق مرحمت فرمائے۔                       (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)

اس مضمون  کی تیاری کے دوران شیخ الحدیث حافظ ثناء اللّٰہ مدنی، شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی، ڈاکٹر صہیب حسن لندن اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے اساتذہ کرام(مولانا یحییٰ عارفی، مولانا اسحٰق طاہر، مولا نا شفیع طاہر اور مولانا حافظ شاکر محمود  حفظہم اللّٰہ) سے  تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ نے بطورِ خاص پورے متن کا مطالعہ کیا۔اللّٰہ تعالیٰ ان سب علماے کرام کو اجر جزیل عطا فرمائے، ان کی خیرات وبرکات کو قائم ودائم فرمائیں اور ہمیں کتاب وسنت کی اتباع کی توفیق مرحمت فرمائے۔

پیش نظر مراجع

ہل الخلع طلاق ام فسخ؟

مضمون حافظ صلاح الدین یوسف           طلاق تفویض

                                                                                          خلع                            فتنہ غامدیت

مضمون حافظ مبشر حسین لاہوری           خلع میں قاضی کے اختیارات                                                       بدایۃ المجتہد بحث خلع

          صحیح فقہ السنہ وادلتہ

          الفقہ الاسلامی وادلتہ

موسوعۃ الفقہیہ الاسلامیہ                     

شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

((وَإِنْ قِيلَ: بَلْ عُثْمَانُ جَعَلَهَا مُطَلَّقَةً تَسْتَبْرِئُ بِحَيْضَةِ. فَهَذَا لَمْ يَقُلْ بِهِ أَحَدٌ مِنْ الْعُلَمَاءِ فَاتِّبَاعُ عُثْمَانَ فِي الرِّوَايَةِ الثَّابِتَةِ عَنْهُ الَّتِي يُوَافِقُهُ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَيَدُلُّ عَلَيْهَا الْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ: أَوْلَى مِنْ رِوَايَةٍ رَاوِيهَا مَجْهُولٌ وَهِيَ رِوَايَةُ جمهان الأسلمي عَنْهُ أَنَّهُ جَعَلَهَا طَلْقَةً بَائِنَةً. وَأَجْوَدُ مَا عِنْدَ مَنْ جَعَلَهَا طَلْقَةً بَائِنَةً مِنْ النَّقْلِ عَنْ الصَّحَابَةِ هُوَ هَذَا النَّقْلُ عَنْ عُثْمَانَ وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ قَدْ ثَبَتَ عَنْهُ بِالْإِسْنَادِ الصَّحِيحِ مَا يُنَاقِضُهُ فَلَا يُمْكِنُ الْجَمْعُ بَيْنَهُمَا؛ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ خِلَافِ النَّصِّ وَالْإِجْمَاعِ.))

’’اگر کہا جائے کہ سیدنا عثمان نے خلع لینے والی کو مطلقہ  بتایا جو استبراے رحم کے لیے ایک حیض انتظار کرے گی تو اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔سو سیدنا عثمان کی اس روایت کی پیروی کرنا جس میں وہ ابن عباس کے موافق ہیں، اور کتاب وسنت بھی اس پردال ہیں، زیادہ بہتر ہے کہ اس روایت  کی اتباع کی جائے  جس کے راوی جمہان اسلمی مجہول ہیں کہ اُنہوں نے اس کو طلاق بائنہ بنایا۔

((أَيُّمَا امْرَأَةٍ اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ لَمْ تَرِحْ رَائِحَةَ الجَنَّةِ.))

زیر حدیث الترمذی: 1186

کتاب نظام الاثبات في الفقه الإسلامي سے ثبوت جرم زنا والى مضمون مین استفادہ کرین

خلع میں قاضی اور حکم کی حیثیت

آغاز نکاح کے تین فریق ہیں:  لڑکا            لڑکی                         ولی المراۃ                   اگر نہ ہو تو ولی الامر

خاتمہ نکاح                                           طلاق (مرد)                              خلع (عورت)                             قاضی؍اولی الامر

دوران نکاح بھی یہ حق                           تینوں فریقوں کی مشاورت سے حاصل ہے : حکم من اہلہ، حکم من اہلہا( دونوں کا نمائندے)  اور ثالث کا ہونا کیا ضروری ہے  یا نہیں؟

رائے رمضان سلفی                               طلاق دینا ضروری نہیں، اگر قاضی اپنے تئیں بھی ختم کرسکتا ہے۔

                                                                          تاہم جب اس میں حق مہر واپسی موجود ہے تو یہ خلع ہی ہے۔

رائے حسن مدنی                                   حق مہر کی واپسی  اور مطالبہ نکاح مرکزی نکتہ ہے، اگر یہ موجود ہے تو یہ خلع ہے ،قاضی اسے عورت کے حق  کے نفاذ کے طور پر نیابتاً نافذ کردیتا ہے۔ نہ کہ اپنا حق استعمال کرتاہے۔
حنفیہ (غالباً)                                         اگر یہ قاضی کی طرف سے جبرا ہے تو یہ فسخ نکاح ہے، خلع نہیں،قاضی اپنے حق ولی الامر کو استعمال کرتا ہے۔

دلائل قاضی کے اختیارات

1۔ آیتِ کریمہ                   وان خفتم

2۔حدیث خلع        امرہ ففارقہا                میں قاضی نے حکم دیا، نہ کہ طلاق

حدیثِ عثمان بن عفان

حدیث دور عمر

اقضیۃ الرسول والخلفاء  سے مزید دیکھیں

سپریم کورٹ کا فیصلہ

3۔ عقدۃ النکاح عام ہے او رحدیث خلع اس کی تخصیص کرتی ہے۔کہ خلع کی صورت میں عقدہ نکاح شوہر کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

خلع میں طلاق دینا ضرور ی نہیں، اگر طلاق ہوبھی تو وہ فسخ کے معنی میں ہے۔

4۔ قضاء القاضی ینفذ ظاہرا لا باطنا

اقضیۃ الخلفاء الراشدین سے فیصلے لیے جائیں۔

((لا يصح إلا بعوض: وهو مذهب الشافعي والرواية الأخرى عن أحمد، وهو الذي استقر عليه متأخرو فقهاء الحنابلة، وهو اختيار شيخ الإسلام، والظاهر أنه مذهب ابن حزم، وحجتهم ما يلي الفقه الإسلامي وادلته.))

قال ابن تيميه في مجموع الفتاوي

خلع میں عورت قیدی کی طرح مال دے کر رہائی حاصل کرتی ہے، اس میں تراضی بیع کی طرح ضروری نہیں ہے۔

((الْأَسِيرُ فَقَدْ يَفْتَدِي الْأَسِيرُ بِمَالِ مِنْهُ وَمَالٍ مِنْ غَيْرِهِ وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ يَعْتِقُ بِمَالِ يَبْذُلُهُ هُوَ وَمَا يَبْذُلُهُ الْأَجْنَبِيُّ وَكَذَلِكَ الصُّلْحُ يَصِحُّ مَعَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَمَعَ أَجْنَبِيٍّ فَإِنَّ هَذَا جَمِيعَهُ مِنْ بَابِ الْإِسْقَاطِ وَالْإِزَالَةِ. وَإِذْ كَانَ الْخُلْعُ رَفْعًا لِلنِّكَاحِ؛ وَلَيْسَ هُوَ مِنْ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ: فَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ الْمَالُ الْمَبْذُولُ مِنْ الْمَرْأَةِ أَوْ مِنْ أَجْنَبِيٍّ. وَتَشْبِيهُ فَسْخِ النِّكَاحِ بِفَسْخِ الْبَيْعِ: فِيهِ نَظَرٌ؛ فَإِنَّ الْبَيْعَ لَا يَزُولُ إلَّا بِرِضَى الْمُتَابِعَيْنِ؛ لَا يَسْتَقِلُّ أَحَدُهُمَا بِإِزَالَتِهِ؛ بِخِلَافِ النِّكَاحِ؛ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَيْسَ إلَيْهَا إزَالَتُهُ؛ بَلْ الزَّوْجُ يَسْتَقِلُّ بِذَلِكَ؛ لَكِنْ افْتِدَاؤُهَا نَفْسَهَا مِنْهُ كَافْتِدَاءِ الْأَجْنَبِيِّ لَهَا.))

((بَلْ الْعَامَّةُ لَا تَعْرِفُ لَفْظَ الْفَسْخِ وَالْخُلْعِ وَنَحْوِ ذَلِكَ إنْ لَمْ يُعَلِّمْهَا ذَلِكَ مُعَلِّمٌ وَلَا يُفَرِّقُونَ بَيْنَ لَفْظٍ وَلَفْظٍ))

ابن عباس اسے فسخ نہیں بلکہ فدیہ، فراق اور خلع کہتے تھے:

((أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمْ يُسَمِّهِ إلَّا فِدْيَةً وَفِرَاقًا وَخُلْعًا وَقَالَ: الْخُلْعُ فِرَاقٌ؛ وَلَيْسَ بِطَلَاقِ. وَلَمْ يُسَمِّهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسْخًا وَلَا جَاءَ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ تَسْمِيَتُهُ " فَسْخًا " فَكَيْفَ يَكُونُ لَفْظُ الْفَسْخِ صَرِيحًا فِيهِ دُونَ لَفْظِ الْفِرَاقِ وَكَذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَكْثَرُ مَا يُسَمِّيهِ " فُرْقَةً " لَيْسَتْ بِطَلَاقِ. وَقَدْ يُسَمِّيهِ " فَسْخًا " أَحْيَانًا؛ لِظُهُورِ هَذَا الِاسْمِ فِي عُرْفِ الْمُتَأَخِّرِينَ))

امام احمد کے نزدیک خلع میں دو بنیادیں ضروری  ہیں:

فَتَبَيَّنَ أَنَّ الِاعْتِبَارَ عِنْدَهُمْ بِبَذْلِ الْمَرْأَةِ الْعِوَضَ وَطَلَبِهَا الْفُرْقَةَ.

ابن تیمیہ کہتے ہیں

((مَعَ أَنَّ لَفْظَ الْخُلْعِ وَالْفَسْخِ إذَا كَانَ بِغَيْرِ عِوَضٍ وَنَوَى بِهِمَا الطَّلَاقَ وَقَعَ الطَّلَاقُ رَجْعِيًّا فَهُمَا مِنْ أَلْفَاظِ الْكِنَايَةِ فِي الطَّلَاقِ. فَأَيُّ فَرْقٍ فِي أَلْفَاظِ الْكِنَايَاتِ بَيْنَ لَفْظٍ وَلَفْظٍ؟))

اس حدیث میں طلاق کا لفظ بول کر فرقۃ مراد لیا گیا، اس سے ابن تیمیہ کا استدلال ہے کہ طلاق کالفظ بولنا ، فرقہ کو مانع نہیں ہے۔

((فَفِي السُّنَنِ أَنَّ {فَيْرُوزَ الديلمي أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلِّقْ أَيَّتَهمَا شِئْت قَالَ: فَعَمَدْت إلَى أَسْبَقِهِمَا صُحْبَةً فَفَارَقْتهَا} . وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ فَقَدْ أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطَلِّقَ إحْدَاهُمَا وَهَذِهِ الْفُرْقَةُ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَد فُرْقَةٌ بَائِنَةٌ؛ وَلَيْسَتْ مِنْ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ. فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ لَفْظَ الطَّلَاقِ قَدْ تَنَاوَلَ مَا هُوَ فَسْخٌ لَيْسَ مِنْ الثَّلَاثِ))


[1]    حافظ عبد اللّٰہ روپڑی ﷫اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب خاوند نان نفقہ نہ دے یا دیگر حقوق ادا نہ کرے تو نکاح فسخ ہوسکتا ہے۔ اس کو یہ حق حاصل نہیں کہ عورت کو تنگ کرے۔ ‘‘ (فتاویٰ:3؍277) مزید برآں خاوند نامرد ہوجائے تو شرعی حاکم نہ ہونے کی صورت میں پنجایت فسخ نکاح کافیصلہ کرے۔(ايضًا:3؍ 280)
مذکورہ بالا دونوں صورتیں حقیقی فسخ کی ہیں، اور ان صورتوں میں عورت کو حق مہر واپس کرنے کو نہیں کہا جائے گا۔
[2]    بی بی سی انٹرویو چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، مؤرخہ 29؍اکتوبر 2013ء بعنوان   ’’ریپ انگریزی کا لفظ ہے۔‘‘
[3]    ترجمہ از مولانا عبد الرحمٰن کیلانی﷫ ، تفسیر تیسیر القرآن زیر آیت سورۃ البقرۃ:229
[4]    صحیح بخاری: 5276، باب الخلع وکیف الطّلاق فیہ؛ سنن نسائی: 2056
[5]    صحیح بخاری: 5273، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ؟... طلاق کے حکم   والے الفاظ پر امام بخاری یوں تبصرہ کرتے ہیں کہ «لاَ يُتَابَعُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ»... اس جملہ کی شرح میں شیخ مصطفیٰ البغا لکھتے ہیں: یعنی أي لا يتابع أزهر بن جميل على ذكر ابن عباس في هذا الحديث
[6]    قال ابن حجر: وَلَمْ يُخْرِجْ عَنْهُ الْبُخَارِيُّ فِي الْجَامِعِ غَيْرَ هَذَا الْمَوْضِعِ (فتح الباری زیر حدیث 5273)
[7]    سنن ابن ماجہ : 2056، سنن نسائی: 3463، المعجم الکبیراز طبرانی: 11969، سنن دار قطنی: 3628، السنن الکبری از امام بیہقی: رقم 14836 وغیرہ
[8]    السنن الکبری از امام بیہقی: کتاب الخلع، باب الوجہ الذی تحل بہ الفدیۃ: رقم : 14838
[9]    صحيح بخاری: 5276،السنن الکبری بیہقی: رقم 14837،14836، المنتقی ٰ از ابن جارود: 750، المعجم الکبیر طبرانی: 11834
[10] سنن ابو داؤد: 2227، 2228، باب فی الخلع
[11] حافظ ابن حجر حدیث نمبر 5273 کے تحت فتح الباری میں لکھتے ہیں: قَالَ ابن عَبْدِ الْبَرِّ: اخْتُلِفَ فِي امْرَأَةِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فَذَكَرَ الْبَصْرِيُّونَ أَنَّهَا جَمِيلَةُ بِنْتُ أُبَيٍّ وَذَكَرَ الْمَدَنِيُّونَ أَنَّهَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ. قُلْتُ: وَالَّذِي يَظْهَرُ أَنَّهُمَا قِصَّتَانِ وَقَعَتَا لِامْرَأَتَيْنِ لِشُهْرَةِ الْخَبَرَيْنِ وَصِحَّةِ الطَّرِيقِينَ وَاخْتِلَافِ السِّيَاقَيْنِ...
ایسی ہی بات قبل ازیں ابن تیمیہ بھی کہہ چکے ہیں : بأن هذا مما اختلفت فيه الرواية فإما أن يكونا قصتين أو ثلاثًا وإما أن أحد الروايتين غلط في اسمها وهذا لا يضر مع ثبوت القصة فإن الحكم لا يتعلق باسم امرأته، وقصة خلعه لامرأته مما تواترت به النقول، واتفق عليه أهل العلم.(فتاوی: 32؍ 329)
[12] سنن نسائی: 3497 ، باب عدۃ المختلعۃ... قال الالبانی :صحیح
[13] سنن ابو داؤد: 2228، باب فی الخلع
[14] السنن الکبری از امام بیہقی: کتاب الخلع، باب الوجہ الذی تحل بہ الفدیۃ: رقم : 14837، 14840
[15] قال ابن حجر: لَكِنْ مُعْظَمُ الرِّوَايَات فِي الْبَاب تَسْمِيَته خُلْعًا (فتح الباری زیر حدیث 5273)
[16] سنن ترمذی: 1185م، باب ماجاء فی الخلع
[17] سنن ترمذی: 1185، باب ماجاء فی الخلع
[18] سنن نسائی:3498، باب عدۃ المختلعہ ...قالہ الالبانی : صحیح
[19] فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَأَجَازَهُ... الناسخ والمنسوخ   از قاسم بن سلام، رقم 228
[20] السنن الکبری از امام بیہقی: کتاب الخلع، باب الخلع ہل ہو فسخ او طلاق: 7؍316،رقم 14863؛مصنف عبد الرزاق: 6؍486:رقم 11771، باب الفداء؛ سنن سعید بن منصور: 1455... اسنادہ صحیح
[21] مصنف عبد الرزاق:6؍486، رقم 11768، باب الفداء... اسنادہ صحیح
[22] تلخیص الحبیراز حافظ ابن حجر عسقلانی: 3؍433، دار الکتب العلمیہ
[23] السنن الکبری از امام بیہقی: کتاب الخلع، باب المختلعة لا يلحقها طلاق: رقم 14866
[24] مصنف عبد الرزاق:6؍487، رقم 11772، باب الطلاق بعد الفداء
[25] مصنف ابن ابی شیبہ: 4؍118، رقم 18451، باب من کان لا یری الخلع طلاقا
[26] ...وَكَانَ يَقُولُ: ذَكَرَ اللَّهُ الطَّلَاقَ قَبْلَ الْفِدَاءِ وَبَعْدَهُ، وَذَكَرَ اللَّهُ الْفِدَاءَ بَيْنَ ذَلِكَ فَلَا أَسْمَعُهُ ذَكَرَ فِي الْفِدَاءِ طَلَاقًا قَالَ: وَكَانَ لَا يَرَاهُ تَطْلِيقَةً (مصنف عبد الرزاق:6؍485:رقم 11765، باب الفداء)
[27] فتاویٰ اہل حدیث از حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی: 3؍282

[28]     فتاوی ابن تیمیہ: 32؍300

[29]    فتاویٰ اہل حدیث از حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی: 3؍281

[30]    حیلہ ناجزہ از مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم کا مقدمہ   از مولانا تقی عثمانی : ص 9

[31]    جامع ترمذی: 1352

[32]    صحیح بخاری: 2168

[33]    ’’عورت کو حق طلاق تفویض کرنا شریعت میں تبدیلی ہے!‘‘  ماہ نامہ محدث  شمارہ 361،ص 62

[34]    سورة البقرة:237

[35]    سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر  2081 ... علامہ البانی نے ارواء الغلیل: 2041میں اسے حسن کہا۔

[36]    دیکھیں پیچھے گزرنے والی احادیث خلع میں نبی کریم کے شوہر کو احکام، صحابہ کے فتاویٰ کے الفاظ، جبکہ فقہا کی تعریفات اور مزید اقوالِ صحابہ اگلی قسط میں ملاحظہ کریں۔

[37] ’’عورت کو حق طلاق تفویض کرنا شریعت میں تبدیلی ہے!‘‘  ماہنامہ محدث  شمارہ361 ص 62 تا70

[38] ماہنامہ ’معارف ‘اعظم گڑھ، دار المصنفین، انڈیا... جنوری 2007ء صفحات 23 تا 34 ملخصاً بحوالہ ماہنامہ محدث،  ستمبر2013ء، شمارہ 362، ص  68

[39] فتاویٰ اہل حدیث از حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی: 3؍283

[40] ماہ نامہ ’معارف ‘اعظم گڑھ، دار المصنفین، انڈیا... جنوری 2007ء صفحات 23 تا 34 ملخصاً بحوالہ ماہنامہ محدث،  ستمبر2013ء، شمارہ 362، ص  66

[41] تفسیر روح البیان: 1؍ 590، ناشر:جامعۃ البنوریہ العالمیہ، کراچی

[42] جدید فقہی مسائل از مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی : 2؍107، بحوالہ بدایۃ المجتہد : 2؍68 ، مطبوعہ مصر 1379ھ ؟؟؟

[43] تمام تعریفات اور ان کے تقابل کے لیے دیکھیں: الفقہ الاسلامی وادلتہ از ڈاکٹر وہبہ زحیلی: 9؍7008 زیر لفظ خلع

[44] العنایۃ شرح الہدایۃ از محمد بن محمد رومی بابرتی:4؍210

[45] جیساکہ نبی کریم ﷺنے اپنے نکاح سے راضی نہ ہونے والی باکر ہ لڑکی کا نکاح فسخ کردیا تھا: أن جارية بكرًا أتت النبي ﷺ فذكرت له أن أباها زوَّجها وهي كارهة، فخيَّرها النبي ﷺ، ونحوه

من حديث جابر، وفيه: ... ففرَّق بينهما. (سنن أبو داود: 2099، وابن ماجه 1875)

[46] تفسیر ضیاء القرآن: 1؍58، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، گنج بخش روڈ، 1402ھ

[47] حقوق الزوجین از سید ابو الاعلیٰ مودودی: ص 58 تا 80

[48] جدید فقہی مسائل  ا ز مولانا خالدسیف اللّٰہ رحمانی: 2؍97 تا 107، حراپبلی کیشنز، اردو بازار ، لاہور

[49] زاد المعاد از علامہ ابن قیم جوزیہ: 5؍188

[50] معالم السنن شرح سنن ابو داودازابو سلیمان خطابی : 3؍219    زیر حدیث فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا  بحوالہ عربی مقالہ الخلع طلاق أم فسخ؟ مصنف وناشر نامعلوم

[51] تفسیر تیسیر القرآن از مولانا عبد الرحمٰن کیلانی زیر آیتِ خلع: سورۃ البقرۃ: 229

[52] کتاب الام از امام شافعی: 5؍114، سندہ صحیح... مزید تفصیل کے لیے : ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ  68،ص9

[53] الفقہ الاسلامی وادلتہ از ڈاکٹر وہبہ زحیلی:4؍ 3153

[54] زاد المعاد از علامہ ابن قیم جوزیہ: 5؍181

[55] اخلعها ويحك ولومن قرطها (کشف الغمہ:2؍؟؟؟



فقہ حنفی او رخُلع

شرعِ اسلامی میں عورت کے لیے مرد سے علیحدگی حاصل کرنے کا یہ طریقہ اور نظام بیان ہوا ہے، جس کو خلع  کہاجاتا ہے یعنی حق مہر؍فدیہ دے کر جدائی حاصل کرنا۔ اس میں طلاق کا لفظ بولا جائے یا فسخ  نکاح  کا ، بہر حال عورت کا حق علیحدگی مسلمہ ہے۔او ریہ حق شریعتِ اسلامیہ نے اوّل روز سے ہی  مسلم خواتین کو دیا ہے۔ اگر شوہر طلاق کا لفظ بولے یا حدیث نبوی میں یہ لفظ ثابت بھی ہوجائے تویہ طلاق شرعی کی بجائے  طلاق لغوی یا مجازی ہے جس کا معنی افتراق؍جدائی ہے کیونکہ خلع کی صورت میں طلاق کے شرعی احکام لاگو نہیں ہوتے بلکہ نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ یہ موقف علامہ ابن تیمیہ  کا ہے  جسے زاد المعاد  میں حافظ ابن قیم  نے  بھی اختیار کیا ہے ، شیخ الاسلام  ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

... فمتى فارقها بعوض فهي مفتدية لنفسها به، وهو خالع لها بأي لفظ كان، لان الاعتبار في العقود بمعانيها لا بالألفاظ، وقد ذكرنا وبيَّنا أن الآثار الثابتة في هذا الباب عن النبي ﷺ وعن ابن عباس وغيره تدلُّ دلالة بيِّنة أنه خلع، وإن كان بلفظ الطلاق ...[1]

’’جب بھی شوہر بیوی کو کسی فدیہ کے عوض جدا کرے تو گویا عورت اپنی ذات کا فدیہ دینے والی اور مرد اس عورت سے خلع کرنے والا ہے، چاہے الفاظ جو بھی ہوں۔ کیونکہ معاہدات میں لحاظ معانی کا ہوتا ہے، الفاظ کا نہیں۔اس سے پہلے ہم ذکر کرچکے ہیں کہ اس سلسلے میں نبی کریم اور سیدنا ابن عباس   سے صحیح مرویات اسی امر پر واضح دلالت کرتی ہیں کہ یہ خلع ہی ہے، چاہے وہ طلاق کے الفاظ سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

حافظ عبداللّٰہ محدث روپڑی  بھی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

’’ممكن ہے کہ حدیث میں طلاق سے لغوی معنیٰ (مطلق چھوڑنا) مراد ہو، جیسے دوسری روایتوں میں خلّ سبیلها  وفارقها  وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں...‘‘[2]

جبکہ فقہ حنفی میں خلع ، عورت کا ایک مستقل حق ہونے کی بجائےدراصل مرد سے طلاق کا مطالبہ ہےاور ان کے نزدیک اس میں مرد کا طلاق  کہنا ضروری ہے،  اس میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے، اور اس کی عدت بھی تین حیض ہے ،گویا خلع طلاق کے مترادف ہی ہوا، صرف اس میں عورت مرد سے طلاق مانگے گی۔ چنانچہ کونسل کے چیئرمین کہتے ہیں: خلع کا حق صرف خاوندکے پاس ہے۔ گویا خلع عورت کے بجائے مرد کا ہی حق ہے جو ایک عجیب بات ہے۔ اس بنا پر حنفی فقہ میں مرد اور عورت اگر باہمی رضامندی سے خلع  کرلیں (یعنی مرد طلاق دینے پر آمادہ ہوجائے) تو اس کی تو گنجائش ہے، تاہم اگر شوہر اس پر راضی نہ ہو تو عورت قاضی سے حق خلع حاصل کرنے پر قادر نہیں۔اور اسی بات سے اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستانی عدالتوں کو روکا ہے کہ

’’ مروّجہ عدالتی خلع جس میں شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یک طرفہ ڈگری جاری کرتی ہے، درست نہیں۔ عدالتوں کو چاہیے  کہ وہ خلع اور فسخ نکاح میں فرق کریں۔‘‘

نیز اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمدخان شیرانی نے کہاہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری نہیں کرسکتی، عدالتوں کوچاہیے کہ وہ خلع اورتنسیخ نکاح میں فرق کریں ...تفویض طلاق شرعاًدرست ہے ۔‘‘

کونسل کی مذکورہ بالا  سفارش   میں تین باتوں کی تلقین کی گئی ہے:

a       خلع صرف شوہر کی مرضی  سے ہوتا ہے۔ خلع کا حق صرف خاوندکے پاس ہے۔

b       اگر عدالت میں خلع  کا کیس دائر کیا جائے تو اس میں یک طرفہ فیصلہ درست نہیں اور اس صورت میں  خلع کی بجائے فسخ نکاح ہوگا۔

c       عورت کو علیحدگی حاصل کرنے کے لیے تفویض طلاق کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

کونسل کی یہ تینوں سفارشات درج ذیل وجوہ کی بنا پر درست نہیں:

a       یہ تعبیرقرآن کریم، احادیثِ نبویہ اور اقوالِ صحابہ کے مخالف ہے  اور فقہ حنفی کی ایک خاص تعبیر کو پروان چڑھانے کے مترادف ہےجس میں عور ت کے حق خلع کی نفی مضمر ہے۔ بعض حنفی علما اور دیگر فقہاے کرام بھی اس خیال سے متفق نہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو پاکستان میں پائے جانے والے تمام فقہی مکاتبِ فکر کا ترجمان ہونا چاہیے، اسے کسی ایک مخصوص فقہی تعبیرکو فروغ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

b       کہا یہ جاتا ہے کہ خلع کے طریق کار کو آسا ن بنادینے سے زوجین میں علیحدگی  کے امکانات میں اضافہ ہوجائے گا،مغربی تہذیب پروان چڑھے گی، اس لیے عدالتی خلع کا راستہ بند کیا جائے، اور تفویض طلاق  یا فسخ نکاح کے راستے اختیار کیے جائیں۔ حنفی علما کی یہ منطق درست نہیں کیونکہ جو حق خواتین کو قرآنِ کریم اور واضح احادیثِ نبویہ نے  دیا ہے، آزادی نسواں کے مغربی تصور کے نام پر خواتین سے وہ حق لیا نہیں جاسکتا اور شر عِ اسلامی سے مغربی تہذیب کبھی پروان نہیں چڑھ سکتی۔ عدالتی خلع کے شرعی طریق کار سے زوجین  میں جدائی کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی ، بلکہ تفویض طلاق کے اس غیرشرعی تصور سے جدائی کے امکانات وسیع تر ہوتے ہیں جسے حنفی فقہا نے اپنے تئیں  پاکستانی قانون میں متعارف کرا رکھا ہے اور اب کونسل بھی اس کے فروغ کی سفارش کررہی ہے کہ نکاح کے موقع پر مرد اپنا حق طلاق بیوی کو تفویض کردے اور بیوی جب چاہے کسی حق مہر وغیرہ کی واپسی کے بغیر ہی اپنے لیے طلاق کا فیصلہ کرلے۔

c     خلع عورت کا حق ہے جسے فقہ حنفی میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ فقہ حنفی میں اس کی وہی صورت درست ہے جب خاوند راضی ہو، جبکہ اکثر شوہر اس بات سے راضی نہیں ہوتے، اس صورت میں  بیوی اپنا یہ حق کیوں کر حاصل کرے  جیسا کہ نبی کریم نے صحابیات کو یہ حق خلع خود  لے کردیا۔تاہم فقہ حنفی میں جب عورت کے اس شرعی حق کو نظرانداز کیا جاتا ہے  تو اس کے لیے جدائی کا امکان پیدا کرنے کے لیے کبھی مساس بقصدِ شہوت اور کبھی تفویض طلاق کے حیلہ کو متعارف کرایا جاتا ہے، جو درست نہیں۔  جیساکہ نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی نے اپنے بیان میں تفویض طلاق کا راستہ دکھایا ہے او رمولانا تقی عثمانی لکھتے ہیں:

’’بعض ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جن میں عورت کو مرد سے گلوخلاصی حاصل کرنے کے لیے اس سے طلاق یا خلع حاصل ہونے کی کوئی صورت نہ بن سکے۔ حنفی مذہب میں اس کے لیے بہترین طریقہ تفویض طلاق کا ہے ۔ اگر نکاح کے آغاز میں اس طریقے کو اختیار کرلیا جائے تو ایسے حالات میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوسکتی۔‘‘[3]

تفویض طلاق کا مطلب یہ ہے کہ عقدِ نکاح کے وقت شرائطِ نکاح میں مرد طلاق دینے کا اپنا حق عورت کو تفویض کردے کہ عورت جب چاہے ، مرد کو اس کے عطا کردہ حق کی بنا پر طلاق دے سکتی ہے۔غور طلب امر ہے کہ اسلام نے عورت کو جدائی کا حق از خود بصورتِ خلع دیا ہے ،جس میں اسے حق مہر واپس کرنا ہوتا ہے  اور یہ حق آیت و احادیث  سے ثابت ہے، جبکہ حنفی  علما اس حق کو مرد سے مستعار لینے کی شرط  عقد ِنکاح میں رکھنے کی ترغیب  دے رہے ہیں۔ اگر اس حق  طلاق کی منتقلی کو مان لیا جائے تو کیا بغیر حق مہر ادائیگی کے میاں بیوی میں امکانِ طلاق سے افتراق زوجین کے امکانات میں اضافہ ہوگا، یا احادیث میں بیان کردہ طریق خلع پر عمل کرنے سے ۔ واضح ہے کہ احادیث میں عورت  کو یہ حق بعض شرائط کے ساتھ دیا گیا ہے اور وہی عورت کی نفسیات سے زیادہ ہم آہنگ طریقہ ہے۔

ثانیاً ،تفویض طلاق نکاح کی ایسی شرط ہے جو شرعی نظامِ نکاح میں بنیادی تبدیلی لانے والی ہے، اور ایسی شرطوں کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔ جیساکہ نبی کریم کا فرمان ہے :

«وَالْمسْلِمُوْنَ عَلى شُرُوْطِهِمْ إِلَّاشَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ اَحَلَّ حَرَامًا»[4]

’’مسلمانوں کے لیے اپنی طے کردہ شرطوں کی پابندی ضروری ہے، سواے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے۔ (ایسی شرطیں کالعدم ہوں گی)‘‘

سیدہ بریرہؓ کی آزادی کے بارے میں جب ان کے مالکان نے ایسی شرط لگائی جو آزادی او رولاء کے نظام کو متاثر کرنے والی تھی تو نبی کریم نے ایسا کرنے پر ناراضی کا اظہار فرمایا:

«مَا بَالُ رِجَالٍ یَّشْتَرِطُوْنَ شُرُوْطًا لَیْسَتْ فِي کِتَابِ اللهِ؟ مَاکَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِي کِتَابِ الله فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللهِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللهِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِـمَنْ أَعْتَقَ»[5]

’’لوگوں کا کیا حال ہے، وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللّٰہ کی کتاب میں نہیں؟ (یاد رکھو) جو شرط ایسی ہو گی جو اللّٰہ کی کتاب میں نہیں ہے، وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہوں۔ اللّٰہ کا فیصلہ زیادہ حق دار ہے (کہ اس کو مانا جائے) اور اللّٰہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے (کہ اس کی پاسداری کی جائے) وَلاء اسی کا حق ہے جس نے اسے آزاد کیا۔‘‘

معلوم ہوا کہ نکاح میں شرطیں لگائی جاسکتی ہیں اور انہیں پورا کرنا چاہیے لیکن  وہ ایسی نہ ہوں جس میں نظام شرعی کو ہی تبدیل کردیا جائے۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ لکھتے ہیں:

’’عورت کو طلاق کا حق تفویض کرنا، امر باطل ہے۔ اس سے حکم شریعت میں تبدیلی لازم آتی ہے، مرد کا جو حق ہے وہ عورت کو مل جاتا ہے اور عورت جو مرد کی محکوم ہے، وہ حاکم (قواّم) بن جاتی ہے اور مرد اپنی قوّامیت کو (جو اللّٰہ نے اسے عطا کی ہے) چھوڑ کر محکومیت کے درجے میں آجاتا ہے، یا بالفاظِ دیگر عورت طلاق کی مالک بن کر مرد بن جاتی ہے اور مرد عورت بن جاتا ہے کہ بیوی اگر اسے طلاق دے دے تو وہ سوائے اپنی بے بسی اور بے چارگی پہ رونے کے کچھ نہیں کر سکتا۔ ﴿ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى۰۰۲۲‘‘[6]

ثالثاً:تفویض نکاح کے حیلہ کے غلط ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام میں عقدِ نکاح مرد کے ہاتھ میں ہے، اور وہ اکثر وبیشتر صورتوں میں مرد کے پاس ہی رہتا ہے  کیونکہ قرآنِ کریم یہ کہتا ہے کہ

﴿بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ...[7]           ’’اس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔‘‘

اور نبی کریم کا فرمان ہے : «...إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ»[8]

 ’’طلاق وہی دے سکتا ہے جو پنڈلی پکڑنے کا مجاز ہے۔‘‘

یعنی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حق اس کے شوہر کو ہی حاصل ہے۔اب طلاق دینے کا حق تو مرد کے پاس ہی ہے البتہ عقد نکاح ، مرد کے ہاتھ میں ہونے کاقرآنی حکم عام ہے اور حدیثِ خلع اس کو خاص؍محدود کرنے والی ہے۔ یعنی جب عورت حق مہردے کر اپنے سے لباس نکاح کو اُتارنا ؍کھینچنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتی ہےاور یہ طلاق نہیں بلکہ افتراق یا فُرقة کہلاتاہے جس میں طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خلع کے  حکم کے لیے یہ اصطلاح صحابہ کرام اور فقہا نے استعمال[9] کی ہے۔ گویا عورت کا حق خلع، مرد کے حق طلاق کے مقابل ہے جس میں عورت کو حق مہر کی واپسی اور بعض اوقات قاضی کی مدد؍   فیصلے  کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔

جہاں تک طلاق کا تعلق ہے توچاہے کوئی مرد طلاق کو  اپنی عورت کو تفویض بھی کردے تو تفویض کردینے میں مرد  کا  عمل ہی بنیاد اور اساس ہے،  اور پھر طلاق کی تعداد وکیفیت بھی وہی ہوگی جو مرد کی نیت میں ہے، اگر مرد کی نیت طلاقِ رجعی کی ہے تو تفویض طلاق کے باوجود طلاقِ رجعی ہی واقع ہوگی۔ گویا ظاہری تفویض طلاق کےباوجود یہ طلاق دراصل مرد ہی عورت کو دیتا ہے۔نکاح  میں تخییر، توکیل اور مصالحت کی صورتوں میں مرد ہی عقدِنکاح کا مالک رہتا ہے۔ مذکورہ بالا مسائل کی مزید تفصیلات محدث میں شائع شدہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کےمضمون میں ملاحظہ[10] کی جاسکتی ہیں۔

طلاق تفویض کی مخالفت کرتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کے کلیہ علوم اسلامیہ کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوج جو حنفی بریلوی ہیں،  لکھتے ہیں :

’’تفویض طلاق میں گرہِ نکاح عورت کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے، او روہ حق طلاق کو خود ہی اپنے خلاف استعمال کرکے  اپنے شوہر سے الگ ہوجاتی ہے۔ گویا خود ہی طالقہ اور خود ہی مطلقہ بھی یعنی فاعلہ بھی خود اور مفعولہ بھی خود، یہ بالکل ایسے ہی بات ہے  کہ کوئی شخص خود اپنے آپ سے نکاح کرلے، گویا خود ہی ناکح ہو اور خود ہی منکوحہ۔ ذرا سوچیے کہ تفویض طلاق کی صورت حال کس قدر مضحکہ خیز ہے۔کوئی ہے جو اس پر غور کرے۔‘‘[11]

نکاح کی گرہ کے  مرد کے ہاتھ میں ہونے کے مزید دلائل  درج کرنے کے بعد مزید لکھتے ہیں:

’’تفویض طلاق کو سمجھنے کے لیے خلع کے قانون کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے نزدیک خلع کا قانون اپنی فطرت اور اصل میں تفویض طلاق کے قانون کا نقیض ہے۔‘‘

یہ دونوں ایک دوسرے کے نقیض اس بناپر ہیں، کیونکہ تفویض طلاق تو مرد کے دیے ہوئے   حق کو اس کی عطا کردہ حدود میں استعمال کرنا ہے جبکہ خلع عورت کا اپنا حق ہے  جو عام قرآنی حکم سے خاص کرتے ہوئے اسے اللّٰہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ جب  خلع میں مر د وعورت دونوں کے مابین رضامندی ہوجائے ، وہاں تک تو کوئی مسئلہ نہیں۔ البتہ اگر شوہر خلع دینے پر آمادہ نہ ہو تو عورت اپنا حق علیحدگی قاضی کے ذریعے حاصل کرے گی۔حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی  ﷫ لکھتے ہیں:

’’(ان احادیث سے) معلوم  ہوا کہ خاوند کی طرف سے اگرچہ عورت کے حق میں کوتاہی نہ ہو، لیکن عورت  کو جب کسی وجہ سے طبعی نفرت ہو جس کو وہ برداشت نہیں کرسکتی  تو وہ [قاضی سے] خلع کراسکتی ہے۔‘‘[12]

d      احادیثِ نبویہ میں قاضی کے دباؤپر یک طرفہ ڈگری کو خلع کہا گیا، چاہے وہ شوہر کی رضا سے ہو، یا اس پر دباؤ کے ذریعے قاضی اس حق کو حاصل کرکے دے۔اب حنفی علما کہتے ہیں کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر ہونےوالے خلع کو خُلع نہ کہا جائے بلکہ فسخ نکاح کہا  جائے،  تو یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں  نبی کریم نے  شوہر کو حکم دیا اور دونوں نے جدائی اختیار کرلی اور اسے خلع ہی قرار دیا گیا ۔ جیسا کہ پیچھے مذکور احادیث ثابت بن قیس اور رُبیع  بنت معوذ (نمبر5 ،3،4)میں  اسے اختَلَعَت یعنی خلع کے الفاظ سے بیان کیا گیا اور دونوں واقعات میں خلع کو قاضی کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔قاضی نے عورت کی ناپسندیدگی کا جائزہ لیا ، حق مہر کی واپسی کا وعدہ لیا اور شوہر سے مرضی دریافت کیے بغیرخلع کرادیا۔

واضح رہنا چاہیے کہ اگر عورت جدائی کے لیے حق مہر واپس کرے گی تو قاضی کے کہنے پر شوہر علیحدہ کرے ، یا قاضی کی نوبت ہی نہ آئے او ررضامندی سے گھربیٹھے شوہر علیحدگی پر آمادہ ہوجائے، ہر دو صورت میں یہ خلع ہی ہے۔ احناف کا  رضامندی والی  صورت کے خلع پر طلاق کے احکام جاری کرنا بھی غلط ہے اور قاضی کے دباؤ والی صورت پر فسخ کے کامل احکام جاری کرنا بھی درست نہیں۔ خلع کی یہ دونوں صورتیں دراصل افتراق ہیں، خلع کی دونوں صورتوں پر طلاق یا فسخ کے الفاظ کا استعمال مجازی ہے۔یہاں طلاق یا فسخ سے مراد نکاح کا خاتمہ او رمیاں بیوی کے مابین علیحدگی ہے۔

 خلع کی عدالتی صورتوں کو خلع  کے بجائے فسخ کہنا احادیث کی مخالفت ہے  اور اس کی رضامندی والی صورت میں طلاق کے احکام جاری کرنا بھی زیادتی ہے کیونکہ ہر وہ خلع جس میں عورت مطالبہ کرے اورحق مہر ؍فدیہ دے  تواس میں جدائی حاصل ہوجائے گی اور طلاق کے الفاظ بولے بھی جائیں تب بھی وہاں طلاق کے مکمل احکام جاری نہیں ہوں گے۔بطورِ مثال اگر شوہر رضامندی سے  گھربیٹھے بیوی کو حق مہر وصول کرکے خلع دے دیتا ہے تو کیا اس عورت سے وہ رجوع کرسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ نہیں  کیونکہ وہ طلاق نہیں بلکہ خلع ہے۔ اور کیا وہ عورت تین ماہ کی عدت گزارے گی؟ ظاہر ہے کہ نہیں بلکہ صرف ایک ماہ کی عدت  گزارے گی جو خلع والی عورت کی عدت ہے ۔  اور نہ ہی  خلع پر فسخ کے کلی؍حقیقی احکام جاری ہوں گے، کیونکہ حقیقی فسخ میں حق مہر واپس کرنا ضروری نہیں ۔اس لیے خلع کی ہردو صورت پر طلاق اور فسخ کے الفاظ کا استعمال لغوی اور مجازی ہے۔پتہ چلا کہ

a       عورت کو علیحدگی کا شرعی طریقہ ہی اختیار کرنا چاہیے ، نہ کہ تفویض طلاق   جیسے غیرشرعی حیلے 

b       عورت اگر حق مہر دے کر جدائی لیتی ہے  تو شرعاً اس کو خلع کہتے ہیں۔چاہے وہ گھربیٹھے ہو یا عدالت کے ذریعے  عورت حق خلع حاصل کرے۔

c       خلع  کی ہر صورت میں عورت کا حق علیحدگی مسلمہ ہے، تاہم زوجین میں نفرت  یا  حدود اللّٰہ کے ٹوٹنے کے خوف کاموجود ہونا ضروری ہے۔

d       خلع پر افتراق کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔ خلع کی صورتیں  چاہے طلاق کے الفاظ سے ہوں، تاہم کسی صورت میں اس سے طلاق مراد نہیں ہوتی کیونکہ طلاق مرد دیتا ہے، اور خلع عورت لیتی ہے۔اور نہ  اس پر فسخ کے کلی احکام  لگتے ہیں کیونکہ حقیقی  فسخ میں حق مہر واپس کرنا ضروری نہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل  کی تینوں سفارشات قرآن وحدیث سے عدم مطابقت  اور ایک مخصوص فقہی موقف  کی ترجمانی  کی بنا پر قابل  اصلاح ہیں۔   ان میں عورت کے حق خلع کی نفی  کی گئی ہے کیونکہ زوجین کی رضامندی والے خلع میں(اسے شوہر کے ہاتھ میں دے کر) طلاق کے احکام جاری کردیے گئے ہیں ، تو یہ خلع کے شرعی تقاضوں کی نفی ہوئی۔ اور  عدالت کے ذریعے خلع   کو فَسخ  کانام دے دیا گیا اور اسے قاضی کے ہاتھ میں کردیا گیا ہے، جبکہ عورت سے حق مہر بھی واپس  لیا جارہا ہے تو یہ بھی شرعی خلع نہ ہوا۔ پھر جب عورت کا حق افتراق باقی نہ رہا تو عورت کو یہ حق دینے کے لیے اپنے پاس سے طلاق تفویض تجویز  کردی گئی جو پھر دراصل مرد کا ہی حق طلاق ہے اور نظام نکاح میں اساسی تبدیلی کا موجب ہے، اس بنا پر یہ تینوں پہلو ہی توجہ طلب ہیں۔ عملاً احناف کے ہاں افتراق زوجین کے دو ہی طریقے (طلاق وفسخ) مشروع و مؤثر ہیں جس سے بعض حنفی علما بھی اتفاق نہیں کرتے۔اس سلسلے کی مزید تفصیل  کےلیے دوسری قسط کا انتظار کریں  جس میں واضح کیا جائے گا کہ طلاق ، خلع اور فسخ میں باہمی کیا  کیا فروق ہے، اور خلع  پر طلاق کے احکام جاری نہیں ہوتے، علامہ ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کا اس سلسلے میں کیا موقف ہے؟ اس سلسلے میں قاضی ؍عدالت کے اختیارات کیا   ہیں اور انکی شرعی بنیاد  کیا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے کہ اپنی سفارشات میں تمام فقہی رجحانات کو پیش نظر رکھیں، قرآن واحادیث  سے قریب تر رہا جائےاور اپنی فقہی تعبیر کو زیادہ محتاط ومتوازن بنایا جائے۔کونسل میں عنقریب خلع، فسخ اور لعان   وغیرہ پر تحقیقی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں مذکورہ بالا آرا کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ ہماری معروضات میں بہت سی ایسی مشترک باتیں ہیں جن کو سامنے رکھ کر ایک متفقہ موقف تک پہنچا جاسکتا ہے۔  اللّٰہ تعالیٰ سب کو اسلامی معاشرت کو قائم کرنے ، بچانے اور خدمتِ اسلام کی توفیق مرحمت فرمائے۔                   (ڈاکٹر حافظ حسن مدنی)


 

خُلع نہ تو شرعی طلاق   ہے اور نہ ہی شرعی فسخ !

بعض لوگوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی اس حنفی سفارش کی یوں توجیہ کی ہے کہ

’’ائمہ فقہ اورجمہور اہل علم کا اس بات پرفتویٰ، اجماع ا وراتفاق ہے کہ خلع کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، البتہ چندمخصوص صورتوں میں جہاں عورت پرظلم ہورہاہو،یا باہمی حقوق نہ نبھانے کے خدشات ہوں،یا نفرتِ شدیدہ پائی جاتی ہو توعدالت اور قاضی اپنےخصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان عقدِنکاح کی تنسیخ یافسخ کا اعلان کرسکتے ہیں  جہاں از روئے شریعت شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہوتی۔

 خلع اور تنسیخ نکاح دو مستقل اور الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے اسلامی نظریاتی کونسل کافیصلہ بالکل بجا اور درست ہے کہ عدالت کو مخصوص حالات میں شوہر کی رضامندی کے بغیر تنسیخِ نکاح کاحق ہے، لیکن خلع کا نہیں۔البتہ ہمارے یہاں اکثر لوگ اس بنیادی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سےمذکورہ بالا فیصلے کی روشنی میں یہ سمجھ بیٹھتے ہیں،کہ خلع کی درخواست لے کر عدالت جانے والی عورت کوکسی صورت میں خلع نہیں مل سکتا۔ یوں اسے عدالت سے جو تنسیخ ِ نکاح کی ڈگری ملتی ہے ، اُن کے خیال میں اس کا فتوے کے لحاظ سے کوئی اعتبار نہیں ہے۔اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہو، تو بے شک اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے،لیکن اگر خلع کے راستے پر چلتے ہوئے بات اَن بَن پر منتج ہوجائے،اور عدالت دیگر لوازمات وشرائط کے بعد اپنے اختیارات استعمال کر کے ’تنسیخِ نکاح وائے خلع ‘کی ڈگری جاری کردے،تو ایسی صورت میں عورت شوہر کی قید سے آزاد ہوجائی گی۔ اورعدت کے بعد کسی بھی مرد سے حتیٰ کہ سابقہ شوہر سے بھی اگر چاہے نکاح کرسکتی ہے۔آج کل عدالتوں سے جو ڈگریاں ملتی ہیں،وہ یہی ہیں۔اسی لئے ان تفصیلات سے باخبر مفتی وعلماحضرات اسی کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں،اور ایسی خواتین کا نکاح بھی جب کسی اور مرد سے طے ہوجائے،وہ پڑھا دیتے ہیں جیسے مفتی محمد تقی عثمانی،مفتی منیب الرحمٰن اور ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر وغیرہ ۔ہاں جن کو عدالت کی اس ڈگری  (جس میں لفظِ خلع کے علاوہ تمام الفاظ انگریزی میں ہوتے ہیں)، یا اس مسئلے میں عدالتی باریکیوں کےمتعلق علم نہیں ،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عدالتیں شوہروں کی رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگریاں دیتی ہیں، تو وہ اسے خلافِ شرع باور کر کے ناجائز قرار دے دیتے ہیں۔‘‘

ایک اور صاحب کونسل کے فیصلے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’چودہ سو سال سے جمہور اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خلع کے لئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، البتہ چندمخصوص صورتوں میں جہاں عورت پہ ظلم ہورہاہو،عدالت اپنی خصوصی پاورز استعمال کرتے ہوئے میاں بیوی کا نکاح ختم کرسکتی ہے، اسے تنسیخ نکاح کانام دیاجاتاہے، جس میں شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ۔ اس کی حدود وتفاصیل اورشرائط اہل علم کی کتب میں مذکور ہیں۔ یاد رہے کہ خلع اور تنسیخ نکاح دو مستقل اور الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے اسلامی نظریاتی کونسل کافیصلہ بالکل بجا اور درست ہے، کہ عدالت کو مخصوص حالات میں شوہر کی رضامندی کے بغیر تنسیخ نکاح کاحق ہے لیکن خلع کا نہیں۔‘‘

اسی سے ملتی جلتی بات کراچی یونیورسٹی کے فقہ وتفسیر کے استاد ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج نے  لکھی:

’’شوہر کی طرف سے دی جانے والی طلاق (جو یک طرفہ ہوتی ہے) کو  فقط طلاق کہتے ہیں۔ بیوی اگر اپنے شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرے او راس کے مطالبہ پر شوہر اگر اسے چھوڑ دے تو ایسی طلاق کو خلع کہتے ہیں۔ اگر خلع کا مطالبہ عدالت میں دائر کیا جائے جس کے نتیجے میں علیحدگی ہو تو اسے فسخ نکاح کہتے ہیں۔ ‘‘[13]

خلع او رفسخ کے درمیان احناف کی ایک تطبیق تو یہ ہے جو مذکورہ بالا تینوں اقتباسات میں بیان کی گئی ہے کہ گھر میں رضامندی سے ہو جائے تو خلع ہے،  عدالت جاکر ہو اور شوہر پر دباؤ کے ذریعے ہو تو یہ فسخ  نکاح ہے۔ پہلے اقتباس میں تو اسے تنسیخ نکاح وائے خلع  قراردیا گیا ہے یعنی یہ ایسا خلع ہے جو قاضی کے ذریعے منعقد ہوا ہے ۔جبکہ بعض حنفی علما اس میں مزیدتشدد کے قائل ہیں، ان کے مطابق جب تک خلع کے باوجود شوہر جدائی پر راضی نہ ہو تو ایسی عورت آگے نکاح نہیں کرسکتی اور شوہر کی رضامندی کے بغیر آگے نکاح کرنے والی عورت بدکار او رگناہ گار سمجھی جائے گی ۔تفسیر روح البیان کے  مؤلف لکھتے ہیں:

’’مسئلہ: عدالت کی طرف سے شوہر کی رضا مندی کے بغیر جو یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دی جاتی ہے  وہ شرعاً معتبر  نہیں۔ اس صورت میں اس عورت کا کسی اور مرد سے نکاح کرنا حرام اور بدکاری ہو گا۔‘‘[14]

یہ صرف دعوی نہیں بلکہ  پنجاب میں میانوالی اور بھکر وغیرہ کے علاقوں میں  معمول بھی یہی ہے کہ خلع کرنے والی عورت کو جب تک اس کا شوہر طلاق نہیں دے دیتا، اس وقت تک وہ عورت آگے نکاح نہیں کرسکتی۔

مزید برآں پہلے تین اقتباسات میں بعض دعوے کیے گئے ہیں جو خلافِ واقعہ ہیں:

a       پہلے دونوں اقتباسات میں اس بات پر اہل علم کا اتفاق اور اجماع  کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ  خلع کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے جو کہ درست نہیں ۔جبکہ صحیح بخاری کی حدیث ابن عباس بتا رہی ہے کہ ثابت بن قیس کے معاملے میں نبی کریم نے اسے عدالتی حکم دے کر تفریق کرائی تھی ، اور یہ تاریخ اسلام کا اوّلین خلع تھا، اس میں شوہر سے اس کی رضامندی کہاں لی گئی۔ کیا واضح حدیث نبوی کے خلاف بھی اجماع ہوسکتا ہے ؟ نیزانہی عبارتوں میں موجود ’جمہور اہل علم‘  کا  لفظ اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ یہ بعض اہل علم کی رائے ہے  نہ کہ اجماعی مسئلہ، کیونکہ اجماع تو وہی ہوتا ہے جس پر ملتِ اسلامیہ کے تمام علما وفقہا متفق ہوں۔ جبکہ خلع کے سلسلے میں ایسا نہیں ہے بلکہ مالکیہ ؟؟؟کا موقف اس کے مخالف ہے۔ مالكی فقیہ ابن رشد لکھتے ہیں:

’’ خلع عورت کے اختیار میں اس لیے رکھا گیا ہے کہ مرد کے اختیار میں طلاق ہے۔ چنانچہ جب عورت کو مرد کی طرف سے کوئی تکلیف ہوتو اس کے اختیار میں خلع ہے۔ اور جب مرد کو عورت کی طرف سے تکلیف ہو تو شارع نے اسے طلاق کا اختیار دیا ہے۔‘‘[15]

b     ان اقتباسات میں دوسری اہم بات یہ کی گئی ہے کہ اگر شوہر باہمی رضامندی سے خلع نہیں دیتا ، تو عورت قاضی کے پاس جاکر اس کی مدد سے اپنا حق علیحدگی   حاصل کرسکتی ہے ، لیکن یہ خلع نہیں ہوگا بلکہ یہ فسخ نکاح کہلاے گا۔گویا خلع صرف خاوند کی رضامندی سے حاصل ہوسکتا ہے جبکہ قاضی کے دباؤ سے ہونے والا خلع ، دراصل فسخ نکاح ہے۔اس کا مطلب یہ نکلا کہ عورت کے لیے حق علیحدگی تو موجود ہے، البتہ اس کا نام اور تفصیلات مختلف ہیں۔

فقہاے  حنفیہ کی یہ بات بھی درست نہیں جس کی وجوہات پیچھے گزر چکی ہیں۔

خلع کا لغو ی مطلب  النزع والتجريدہے یعنی اُتارنا، گویا عورت نے مرد کے لباس زوجیت کو اُتار دیا۔ عورت کے مطالبہ پر حق مہر ؍فدیہ کی ادائیگی   کے نتیجے میں ہونے والی علیحدگی کو خلع کہتے ہیں جیساکہ خلع کی تعریف  شافعیہ کےنزدیک  فُرقة بين الزوجين بعوض،حنابلہ کے ہاں  فراق الزوج امرأته بعوضاور مالکیہ کےنزدیک  الطلاق بعوض أو هو بلفظ الخلع كے الفاظ[16] سے کی جاتی ہے۔ حنفی فقہ کی مستند کتاب الہدایہ کی شرح العنایہ میں ہے :

إن فيه معنى المعاوضة من قبل المرأة... اختلعت منه بمالها[17]

’’جس میں  عورت کی طرف سے جدائی کے معاوضہ میں کچھ دیا جائے۔کہا جاتا ہے کہ عورت نے مال کے بدلے خلع لے لیا۔‘‘

ان تعریفات میں میاں بیوی کے درمیان افتراق ؍جدائی  اور حق مہر ؍فدیہ کی ادائیگی کے دو بنیادی تقاضے  مشترک ہیں۔ خلع  کے نتیجے میں میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوتی ہے۔ اور سیدنا ابن عباس  نے ا س کے لیے  فرقۃ وفسخ کے لفظ (حدیث نمبر؟؟؟)بولے ہیں۔آگے حافظ ابن  قیم نے بھی ابن عباس کا ایک اور قول بیان کیا ہے : الخلع تفریق ولیس بطلاق. خلع کے لغوی معنی، اصطلاحی تعریفات، احادیث  میں آنے والے الفاظ اور صحابہ کے اقوال سے پتہ چلتا  ہے   کہ اس  کے لیے موزوں لفظ فرقۃ یا افتراق بمعنی جدائی ہی ہے۔ طلاق کا لفظ بولا جائے تو شرعی طلاق کے احکا م اس پر صادق نہیں آتے اور فسخ کا لفظ بولا جائے تو حقیقی فسخ کے تقاضے بھی یہاں پورے نہیں ہوتے۔اب جن علما  نے طلاق کا لفظ بولا یا فسخ کا تو اس سے ان کا یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ یہاں جدائی واقع ہوتی ہے۔

افتراق زوجین کے دراصل تین طریقے ہیں:

a       طلاق جو مرد کے ہاتھ میں ہے اور اکثر وبیشتر اسی طرح ہی  زوجین میں علیحدگی ہوتی ہے اور طلاق کے تفصیلی احکام اور طریقے ہیں جن کی رعایت ضروری ہے۔مرد کے حق طلاق کے اظہار کے لیے شرعی اصطلاح طلاق ہے۔

b     خلع جو عورت کا حق ہے اور یہ رضامندی سے ہوتا ہے   یا قاضی کے ذریعے عورت یہ حق حاصل کرتی ہے جس کے بعد دوبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے۔اس میں طلاق کے احکا م جاری نہیں ہوتے، اس میں عورت حق مہر واپس کرتی ہے۔ عورت کے حق جدائی کے اظہار کے لیے شرعی اصطلاح افتراق ہے۔

c     فسخ جوقاضی نظام شرع کی پاسداری نہ کرنے اور خلل کی صورت میں دیتا ہے۔ جب کوئی نکاح اپنی اصل سے ہی درست نہ ہو مثلاً عدم رضامندی سے نکاح[18]، یا محارم سے نکاح وغیرہ یا بعد ازاں زوجین ایک دوسرے کے حقوق پورے کرنے پر قادر نہ رہیں اور نکاح برقرار رکھنا مشکل ہوجائے۔مثلاً  شوہر کے لیے  نفقہ یا ازدواجی حقوق پورے کرنا ناممکن ہوجائیں۔ اس میں عورت کے لیے حق مہر واپس کرنا ضروری نہیں۔اور قاضی کے افتراق کے لیے شرعی لفظ فسخ ہے۔قاضی اپنا یہ حق فسخ  ولی اللّٰہ کی نیابت میں شرعی نظام کے تحفظ وبقا کے لیے کرتا ہے۔

حقیقی اور شرعی طلاق شوہر ہی دیتا  ہے اورخلع پر طلاق کا استعمال مجازی ہے، خلع محض صیغہ افتراق کا متقاضی ہے، مثلاً راستہ چھوڑ دیا، جدا کردیا وغیرہ۔ اسی طرح فسخ کے بھی دو استعمال ہیں: ایک فسخ حقیقی جو قاضی کی طرف سے ارکانِ نکاح میں کسی خلل کی صورت   میں بلا ادائیگی حق مہر کیا جاتا ہے جبکہ خلع پر فسخ کا استعمال بھی مجازی ہے   كیونکہ حقیقی فسخ اس سے وسیع تر ہے۔بعض اوقات حقیقی فسخ کے لیے بھی فراق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لیکن ان الفاظ کی حقیقت اور معنویت واضح رہنی چاہیے۔خلع کے لیے بھی مجازی الفاظ کے استعمال نے  پیش نظر مسئلہ کو اُلجھا دیا ہے۔ اگر احادیث وآثار کی روشنی میں اس تفصیل کو پیش نظر رکھا جائے  تو ایک واضح صورتحال سامنے آجاتی ہے۔

؟؟



[1]     فتاوی ابن تیمیہ: 32؍300

[2]    فتاویٰ اہل حدیث از حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی: 3؍281

[3]    حیلہ ناجزہ از مولانا اشرف علی تھانوی مرحوم کا مقدمہ   از مولانا تقی عثمانی : ص 9

[4]    جامع ترمذی: 1352

[5]    صحیح بخاری: 2168

[6]    ’’عورت کو حق طلاق تفویض کرنا شریعت میں تبدیلی ہے!‘‘  ماہ نامہ محدث  شمارہ 361،ص 62

[7]    سورة البقرة:237

[8]    سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر  2081 ... علامہ البانی نے ارواء الغلیل: 2041میں اسے حسن کہا۔

[9]    دیکھیں پیچھے گزرنے والی احادیث خلع میں نبی کریم کے شوہر کو احکام، صحابہ کے فتاویٰ کے الفاظ، جبکہ فقہا کی تعریفات اور مزید اقوالِ صحابہ اگلی قسط میں ملاحظہ کریں۔

[10] ’’عورت کو حق طلاق تفویض کرنا شریعت میں تبدیلی ہے!‘‘  ماہنامہ محدث  شمارہ361 ص 62 تا70

[11] ماہنامہ ’معارف ‘اعظم گڑھ، دار المصنفین، انڈیا... جنوری 2007ء صفحات 23 تا 34 ملخصاً بحوالہ ماہنامہ محدث،  ستمبر2013ء، شمارہ 362، ص  68

[12] فتاویٰ اہل حدیث از حافظ عبد اللّٰہ محدث روپڑی: 3؍283

[13] ماہ نامہ ’معارف ‘اعظم گڑھ، دار المصنفین، انڈیا... جنوری 2007ء صفحات 23 تا 34 ملخصاً بحوالہ ماہنامہ محدث،  ستمبر2013ء، شمارہ 362، ص  66

[14] تفسیر روح البیان: 1؍ 590، ناشر:جامعۃ البنوریہ العالمیہ، کراچی

[15] جدید فقہی مسائل از مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی : 2؍107، بحوالہ بدایۃ المجتہد : 2؍68 ، مطبوعہ مصر 1379ھ ؟؟؟

[16] تمام تعریفات اور ان کے تقابل کے لیے دیکھیں: الفقہ الاسلامی وادلتہ از ڈاکٹر وہبہ زحیلی: 9؍7008 زیر لفظ خلع

[17] العنایۃ شرح الہدایۃ از محمد بن محمد رومی بابرتی:4؍210

[18] جیساکہ نبی کریم ﷺنے اپنے نکاح سے راضی نہ ہونے والی باکر ہ لڑکی کا نکاح فسخ کردیا تھا: أن جارية بكرًا أتت النبي ﷺ فذكرت له أن أباها زوَّجها وهي كارهة، فخيَّرها النبي ﷺ، ونحوه من حديث جابر، وفيه: ... ففرَّق بينهما. (سنن أبو داود: 2099، وابن ماجه 1875)