٭ وحدت نصاب اور نظام تعلیم کے لئے تمام دینی مدارس کو وفاق المدارس السلفیہ کے نظام کی سختی سے پابندی کرنی چاہئے۔
٭ دینی مدارس کے فضلاء کی تدریب و تربیت کے لئے حسب حال متنوع مختصر نصاب تشکیل دئیے جائیں۔
٭ ائمہ و خطباء کے لئے تربیتی اور رابطہ پروگرام مرکز خود وضع کرے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے شعبہ نظامت تعلیمات کی دعوت پر 13 مارچ 1996ء کو پاکستان بھر کے اہل حدیث مدارس / جامعات کا ایک عظیم الشان کنونشن 106 راوی روڈ لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ اس کنونشن میں سفارشات کو منظم کرنے اور ان کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے مدارس کی نمائندہ ایک مجلس قائمہ (Monitoring Committee) کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ خواتین مدارس کو منظم کرنے کے لئے نظامت تعلیم ہی کے زیر نگرانی علیحدہ تنظیمی طریق کار اختیار کیا گیا تھا جس کے مطابق خواتین مدارس کنونشن کے انعقاد کے بعد سے ان کے باضابطہ ماہانہ اجلاس ہو رہے ہیں۔ بہرصورت مردانہ مدارس کی مجلس قائمہ کا مورخہ 24 اگست بروز ہفتہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں اہم اجلاس مولانا عبدالرحمین مدنی ناظم تعلیمات مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی صدارت میں صبح 11 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے سرکردہ جامعات و مدارس کے مندوبین نے شرکت کی۔
اجلاس کی کاروائی دارالعلوم تقویۃ الاسلام لاہور (مدرسہ غزنویہ) کے شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد عثمان صاحب کی تلاوت قرآن حکیم سے شروع ہوئی۔ اس کے بعد ناظم تعلیمات مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی نے شرکاء کو اجلاس کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کا قیام اور ان کا تسلسل برصغیر میں اسلام کی سر بلندی کے لئے ناگزیر ہے۔ انگریز کی حکمرانی کے دور میں بھی یہ دینی مدارس نہ صرف اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ بلکہ ان کے ذریعے انہوں نے اسلام کی شمع کو روشن رکھا اور آج بھی مسلمانوں کی روایتی تہذیب و ثقافت کے یہ مراکز عظیم مظہر ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد یہ مدارس اور زیادہ وسعت اختیار کر گئے۔ لیکن بدلتے ہوئے حالات اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ان میں اصلاح احوال اور تبدیلی کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے۔ چونکہ مروجہ درس نظامی میں تصوف اور فلسفہ کی کتب کی بھرمار تھی اور فقہ میں بھی حنفی کتب ہی دینی مدارس میں پڑھائی جاری رہی ہیں۔ لہذا افغانستان ۔۔۔ جس کے رستے زیادہ تر دینی علوم کا برصغیر میں پھیلاؤ ہوا ۔۔۔ کے علمی انحطاط کے بعد حصول علم کے لئے بھی عرب ممالک کی طرف پاک و ہند کا رجحان بڑھا جس کا نصاب تعلیم پر بھی مثبت یہ اثر پڑا کہ تصوف اور فلسفہ کی جگہ صحیح عقائد اور ایک فقہ حنفی کے بجائے کتب فقہ مقارن نے لے لی ہے۔ اگرچہ قبل ازیں یہی کام اہل حدیث مدارس میں کتب حدیث کی بھرپور تدریس کے اہتمام کے ساتھ اور دوسرے مکاتب فکر کے ہاں بھی دورہ حدیث کے تبرک کے طور پر انجام پا رہا ہے تاہم خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب سے تعلقات بڑھنے اور وہاں اسلامی یونیورسٹیوں کے پھیلاؤ کی بناء پر ان کی طرف طلب رلم کے رجحان نے مہم کی صورت اختیار کر لی ہے، لہذا ہمارے لئے اب چیلنج یہ ہے کہ درس نظامی سے " خذ ما صفا ودع ما كدر " کے اصول پر اپنے ماضی سے کٹے بغیر تعلیم و ثقافت کے میدان میں عالمی سطح پر بھی آگے بڑھیں جس میں سعودی عرب کو ارض حرمین کا شرف رکھنے کے ساتھ علم و دین کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اس لئے ہمیں ایسے روابط سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدید معاشرے کی اہم ضرورتوں کو پیش نظر رکھ کر ایسا نصاب مدارس کو مہیا کریں جس سے اچھے معلم، مدرس، خطیب، داعی اور امام پیدا ہوں جو زھد و تقویٰ کے ساتھ علم و فضل میں بھی کمال رکھتے ہوں۔
اسی اساسی مقصد کے پیش نظر مجلس قائمہ کا یہ اجلاس بلایا گیا ہے۔ تاکہ کل پاکستان اہل حدیث مدارس کنونشن کی سفارشات کی روشنی میں ہم آپس میں مل بیٹھ کر کوئی ایسا کلیدی طریقہ وضع کر سکیں جو سب کے لئے یکساں مفید اور قابل قبول بھی ہو۔
اس کے بعد مدیر التعلیم جامعہ سلفیہ جناب مولانا یٰسین ظفر نے مدارس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر وفاق المدارس سلفیہ کے نظام اور نصاب پر سیر حاصل گفتگو کی اور اجلاس کو بتایا کہ اس وقت اکثر مدارس وفاق المدارس کے نصاب کے مطابق تعلیم دے رہے ہیں اور یوں ایک طرح کی وحدت نصاب قائم ہے۔ البتہ بعض مدارس میں نظام کا فقدان ہے۔ جس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ بلکہ ان مدارس کے ذمہ داران سے بالمشافہ ملاقات کر کے انہیں نظام کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا جانا چاہئے۔ اس کے بعد پروفیسر عبدالجبار شاکر، ڈائریکٹر پبلک لائبریریز پنجاب نے اپنے دل نشین خطاب میں دینی مدارس کے پس منظر اور پیش منظر کو بڑے خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تمدن کبھی برا نہیں ہوا۔ موجودہ تمدن میں بھی جو خرابیاں نظر آ رہی ہیں۔ ان کی وجہ صرف مغربی استعمار ہے کیونکہ انہوں نے ہر میدان میں مسلمانوں کو پسپا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن تشدد کی بعض صورتوں میں شرمناک ناکامی کے بعد انہوں نے فکری جنگ کا آغاز کر دیا۔ اب ہر مسلمان ملک ان کے لئے رہذیب و ثقافت کا میدان کارزار ہے۔ ان کی اس یلغار کو روکنے کے لئے دینی مدارس ایک موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہذا دینی مدارس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانا چاہئے۔ خاص کر ان کے نصاب میں تقابلی علوم کا اضافہ ناگزیر ہے۔ یہ تقابلی مضامین ادیان و فرق کے علاوہ اقتصادیات، معاشرت، نظام عدل و سیاست وغیرہ پر مشتمل ہونے چاہئے۔ اسی طرح اب بالخصوص مسلمانوں کا خاندانی نظام معرض خطر میں ہے اور موجودہ ثقافت جس کا چرچا کیا جا رہا ہے یہ سیلاب بلا ہے اس کی روک تھام کے لئے فوری اور ہنگامی اقدامات کرنے چاہئے۔
دارالعلوم تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے ناظم مولانا عبدالقادر ندوی صاحب نے مدارس میں درجہ بندی کے بارے میں اظہار خیال کیا اور فرمایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ متنوع علمی معیارات اور تخصصات کے پیش نظر دینی مدارس کی درجہ بندی کر دی جائے۔
وفاق المدارس السلفیہ کے مولانا محمد یونس بٹ نے واضح کیا کہ وفاق المدارس کے نصاب میں مراحل تعلیم کی درجہ بندی پہلے سے موجود ہے۔ اب یہ مدارس کے ناظمین کا کام ہے کہ وہ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے جو ممکن ہو اس کے مطابق تعلیم کا اہتمام کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ہر چھوٹے سے چھوٹا مدرسہ بھی بخاری شریف تک کی تعلیم کا اہتمام کرتا ہے اگرچہ اس کے پاس چند طالب علم ہی کیوں نہ ہوں؟
اجلاس میں تجویز کیا گیا کہ ایسے اداروں کا نظامت تعلیم کو خود معائنہ کرنا چاہئے اور انہیں درجہ بندی کے فوائد سے آگاہ کرنا چاہئے۔
اجلاس میں ناظم تعلیمات نے طالبات کے لئے قائم مدارس کی کارگردگی کو سراہا۔ اس ضمن میں ان کے آل پاکستان کنونشن کے علاوہ ان کی مانیٹرنگ کمیٹی کے ماہانہ اجلاسوں کے بارے میں بھی شرکاء کو تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ عنقریب وہ اپنی سفارشات مرتب کر کے مرکز کو پہنچائیں گی۔
اجلاس میں دینی مدارس کے معلمین کی تدریب، ائمہ و خطباء کی تربیت اور ذہین طلباء کے لئے مزید اعلیٰ تعلیمی منصوبہ بندی کے لئے حافظ عبدالرحمٰن مدنی کی زیر سر پرستی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں:
جناب پروفیسر عبدالجبار شاکر۔۔۔جناب مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی ۔۔۔ جناب مولانا حافظ مسعود عالم ۔۔۔ اور جناب مولانا محمد یونس بٹ شامل ہیں۔ ان کا اجلاس مورخہ 6 ستمبر بروز جمعہ بعد نماز عصر شیخوپورہ میں منعقد ہونا قرار پایا۔
نماز ظہر کے بعد مجلس قائمہ کے اجلاس کی دوسری نشست منعقد ہوئی۔ جس میں افغانستان کے مندوب جناب ابو عطاءاللہ تاج محمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے افغانستان کے اہل حدیث کے موجودہ تعلیمی نظام اور نصاب کی بڑی تفصیل سے وضاحت کی اور اسے بھی وفاق کے نصاب سے ہم آہنگ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
اس کے بعد جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ کے نمائندہ جناب سعید احمد انصاری ایڈووکیٹ نے دینی مدارس کی مثالی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ عہد میں دینی مدارس کی اہمیت و افادیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکولر ممالک میں بھی اب ایک نئی لہر اسلام پسند قوتوں کی اٹھ رہی ہے۔ انہوں نے خاص کر ترکی کا ذکر کیا کہ وہ قوم جو نصف صدی تک سیکولر حکومت کے تابع رہی آخر کار اپنے اصل کی طرف لوٹ رہی ہے۔
انہوں نے دینی مدارس کو مزید منظم کرنے، نصاب کو بہتر بنانے اور اس میں قانون اور اسلامی بنیادی حقوق کی تعلیم دینے کا اہتمام کرنے پر زور دیا۔
آخر میں ناظم تعلیمات نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ خاص کر جامعہ سلفیہ کے صدر جناب میاں نعیم الرحمٰن طاہر کا جن کی میزبانی کا شرف مجلس قائمہ کو حاصل ہوا۔
پہلا ااجلاس سب کمیٹی (مجلس قائمہ مدارس /  جامعات اہل حدیث پاکستان)

اہل حدیث مدارس کی نمائندہ مجلس قائمہ کی گزشتہ کاروائی میں ایک "سب کمیٹی" کی تشکیل کا ذکر ہو چکا ہے۔ اس سب کمیٹی کا اجلاس حسب پروگرام شیخوپورہ میں 6 ستمبر 1996ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب مولانا عبداللہ امجد چھتوی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز، حافظ مسعود عالم صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد یونس بٹ صاحب نے 24 اگست 1996ء کو جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ہونے والے مجسل قائمہ کے اجلاس کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد مولانا عبداللہ امجد چھتوی صاحب نے دینی مدارس کے معیار تعلیم کو بلند کرنے، امتحانات میں وحدت اور مروجہ وفاق کے نصاب پر نظرثانی پر زور دیا اور کہا کہ مدارس میں عربی زبان اور صرف و نحو کا خاص اہتمام ہونا چاہئے۔ اسی طرح طلباء میں تقابلی اہلیت پیدا کرنے کے لئے یک گونہ فقہ حنفی اور اصول فقہ کی تدریس کی بھی ضرورت ہے بلکہ ان کی تدریس کے لئے ان کی ناقدانہ مہارت رکھنے والے اساتذہ کو متعین کیا جائے تاکہ مخالفین کا صحیح رد کیا جا سکے۔مولانا محمد یونس بٹ نے وضاحت کی کہ اہل حدیث مدارس کے امتحانات اور نصاب میں کافی حد تک وحدت موجود ہے۔ سوائے ان مدارس کے جنہوں نے وفاق کے ساتھ اپنا الحاق نہیں کیا۔ ان کے بعد پروفیسر عبدالجبار شاکر صاحب نے فرمایا کہ اہل حدیث مدارس کا نظام تمام تر کمزوریوں کے باوجود سب سے بہتر ہے اور ان کے مسلک کا علمی مزاج ہے جو ان کو مجبور کرتا ہے کہ اس معیار کو گرنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں افغانی سلاطین کے ہم نشیں درویش علماء کے اثر و رسوخ کی وجہ سے صدیوں سے تصوف اور تعصب فقہی کا مزاج چلا آ رہا ہے۔ لیکن اب دنیا ایک دوسرے کے قریب ہو رہی ہے اور بند کھل رہے ہیں۔ یہ اہل حدیث کے لئے کام کرنے کے بہترین مواقع ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اہل حدیث مدارس کے لئے مرکز کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری ہونا چاہئے۔ جس میں تدریس کے اصول و فنون پر تحقیقی مقالے لکھے جائیں نیز بدلتے ہوئے نصاب تعلیم کے مطابق تقابلی اصول فقہ اور دیگر علوم پر نصابی کتب تحریر کی جائیں جس سے طلباء و اساتذہ استفادہ کر سکیں اور طلباء کی تربیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے دینی اداروں میں تقویٰ و طہارت کا بڑا زور تھا لیکن اب یہ ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ اس پر بھی توجہ کرنی چاہئے۔ طلباء میں تقویٰ اور صحیح فکر پیدا کرنے کے لئے اساتذہ کو مثالی نمونہ پیش کرنا چاہئے۔ جیسا کہ طلباء کے سامنے ان کا بچا ہوا کبھی کبھار کھانا کھا لیا جائے یا روزہ رکھا جائے۔ اس طرح ھدیث وغیرہ کے حفظ پر زور دیا جائے اور اس پر انعام رکھا جائے اور تدریب المعلمین کے پروگرام کے متعلق انہوں نے کہا یہ ایک مفید پروگرام ہے لیکن جو لوگ اس میں علمی محاضرات پیش کریں ان کی اعلیٰ خدمت ہونی چاہئے نیز ان کے محاضرات کو ریکارڈ کر کے طبع کروایا جائے، پہلے مزاج یہ تھا کہ استاد درس دیتا تھا اور لوگ لکھتے تھے آج ہمارے محدث اور بڑے بڑے علماء علمی محاضرات اور خطبے دیتے ہیں لیکن ان کو ریکارڈ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس میں تحریر کا حجاب بھی ایک رکاوٹ ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ ان قیمتی محاضرات اور خطبات سے محروم رہتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے معلومین اور واعظین جب دنیاوی اداروں میں جاتے ہیں تو مرعوبیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ان کو مرعوبیت سے نکل کر علوم نبوت کا سفیر بن کر ایسے اداروں میں جانا چاہئے۔
اچھے طلباء اور معلمین کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے جیسے واعظین کی ہوتی ہے اور ان کے احساس کمتری کو ختم کرنے اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے ان کو ملک کے بڑے بڑے جامعات میں داخل کرایا جائے۔ بلکہ ذہین طلباء کو ازھر و دیگر عرب یونیورسٹیوں میں خود اپنے مالی اخراجات پر بھیجا جائے تاکہ وہ اعلیٰ معیار کے محقق بن کر واپس لوٹیں اور ان کا ایک علمی مقام ہو۔ علاوہ ازیں انہوں نے فرمایا:
اہل حدیث دینی اداروں میں فقہ اور اصول فقہ کا مطالعہ تحقیر کے ساتھ نہیں بلکہ تحسین سے کیا جائے اور طلباء کو ان کتابوں کے متون پڑھائے اور علوم سمجھائے جائیں۔ اگرچہ ان کے متون اتنے ضروری نہیں بلکہ ہمارے اساتذہ بعض مذکرے (Notes) خود تیار کر سکتے ہیں۔
ان کے بعد حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے کہا:
اگرچہ وسائل کی کمی ہے لیکن اساتذہ کی تربیت بہت ضروری ہے کیونکہ وہ ایک اچھے عمل کے ساتھ متعلق ہونے کے باوجود توجہ نہیں دیتے۔ ان کی تربیت میں ترغیب پیدا کرنے کے لئے ایک صورت یہ ہے کہ مجوزہ رسالہ کے ذریعے فنی تربیت کی مرکزی تحریک عام کی جائے۔ اسی طرح ذہین طلباء کی اعلیٰ تعلیم اور تخصیص کا انتظام کیا جائے۔ اعلیٰ تعلیمی منصوبہ بندی کا ایک پروگرام مرتب کر کے مرکزی ذمہ داران کی توجہ دلائے جائے یا ایسے باوسائل اداروں کو جو یہ کام کر سکتے ہوں ان کو توجہ دلائی جائے کہ اس پروگرام کو وہ عملی جامہ پہنائیں۔ ادارے جتنے بھی ہوں ان میں خیر ہے۔ لیکن کبھی کبھار کثرت ادارہ جات کے نتائج غلط بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ ادارہ مقصد کے لئے بنایا جاتا ہے۔ لیکن جب مقصد کمزور پڑ جائے تو ادارہ ہی مقصد ہو جاتا ہے۔بعض لوگ خود ایسے پروگرام عملا بناتے بھی ہیں۔ جیسے لاہور کے شیخ منظور صاحب نے رمضان میں پروگرام ترتیب دیا تھا۔ لیکن سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ طلباء نہیں آتے یا وہ آتے ہیں جن کو اور کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس لئے طلباء کو لانا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اب آپ مدرسین کی فنی تربیت کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ایسے پروگراموں میں مدسین کو لانا بھی ایک چیلنج ہو گا اگرچہ ان کو حاضر کرنے کی ایک تجویز یہ ہے کہ مدارس کے ذمہ داران کو لکھا جائے کہ وہ اپنے معلمین کو ایسے کورس میں شرکت کے لئے ترغیب دلا کر بھیجیں نیز اس کی اچھائی اور افادیت کا بہت زیادہ تعارف کرایا جائے تاکہ اساتذہ کثرت سے آئیں۔
بعد ازاں حافظ مسعود عالم صاحب
نے تدریب المعلمین کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام فوری شروع ہو جانا چاہئے اور اس میں مولانا عبداللہ امجد چھتوی تفسیر وغیرہ پر لیکچر دیں اور اس طرح کسی مشہور شیخ الحدیث کی ذمہ داری لگا دی جائے کہ وہ حدیث پر محاضرات پیش کریں۔ اسی طرح اصول فقہ اور دیگر موضوعات پر محاضرات دینے کے لئے مختلف ماہرین علوم کو دعوت دی جائے۔ اس کے علاوہ تدریس کے طریقے اور نظام و انصرام کی ٹریننگ کے لئے ان کو ٹریننگ کالجوں میں داخلہ دلوایا جائے اور جو حضرات اس میں حصہ لیں ان کی حوصلہ افزائی کے لئے مدارس کے منتظمین کو ترجیحات رکھنی چاہئے۔
ان کے بعد پروفیسر عبدالجبار شاکر صاحب نے فرمایا:
کہ ہمارے ہاں کالجوں وغیرہ میں ٹریننگ کورس تو چلتے رہتے ہیں لیکن جب کوئی نئی چیز آتی ہے تو طریقہ کار بدل جاتا ہے لہذا یہ کورس کئی مرتبہ کرانے پڑتے ہیں۔ اس لئے دینی مدارس کے معلمین کے لئے مناسب یہ ہے کہ فی الحال ایک ہفتے کا کورس مثلا ہفتہ سے جمعرات تک شروع کیا جائے اور اس میں مدارس ہی کے کہنہ مشق اساتذہ لیکچر دیں۔ مثال کے طور پر کوئی انتظام پر لیکچر دے، کوئی امتحانوں کے طریق کار پر، کوئی فن تدریس پر، اس طرح دیگر اہم موضوعات کا انتخاب کیا جائے اور اس میں لیچکر دینے والے بڑے مدرسین کو دو تین ماہ پہلے اطلاع دے دی جائے، اسی طرح یہ پروگرام آئندہ سال دو ہفتے اور اس کے بعد تین ہفتے بھی ہو سکتا ہے۔ علی ۃذا القیاس اس پروگرام کو تفصیل سے سب کمیٹی عمل شکل دے۔
ان کے بعد مولانا محمد یونس بٹ صاحب نے کہا کہ
ایک جگہ یا رمضان کے دوران سارے اساتذہ کا شامل ہونا مشکل ہے۔ لہذا رمضان کے علاوہ دوران تعلیم ہی عصر کے بعد مختلف ڈویژنوں میں اس کا بندوبست کیا جائے اور فی الحال ہفتے یا دو ہفتے کا پروگرام رکھ دیا جائے۔
خواجہ حفیظ اللہ صاحب نے کہا کہ:
ان کے کورسوں میں معقول حاضری کے لئے وفاق کی طرف سے پابندی ہو کہ مدرس کے لئے ریفریشر کورس ضروری ہے۔ اس کا ایک نصاب رکھ لیا جائے پھر اس میں امتحان لے کر سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جائے اور یہ پروگرام ڈویژنوں کی بجائے فی الحال مشہور شہروں اور مدارس میں ہو جائیں اور یہ پروگرام کم از کم چھوٹے اساتذہ کے لئے لازمی ہوں۔ خاص کر گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد میں فوری طور پر ایسا ممکن ہے نیز مدارس کو توجہ دلائی جائے کہ استاد اس کو رکھا جائے گا جو یہ کورس کرے گا۔ اسی طرح مرکز تزکیہ صرف ان اداروں کو دے جن میں اس کورس کے تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہوں۔
ان کے بعد حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے کہا:
کہ یہ پروگرام جبر سے شروع نہ کریں بلکہ اختیاری ہو اور اس میں زیادہ سے زیادہ ترغیب ہو۔ جو حضرات ان کورسوں میں کامیاب ہوں ان کو مرکز کی طرف ماہانہ مستقل اعزازیہ دیا جائے اور اس کے لئے تعلیمی فنڈ قائم ہو جائے اور اداروں کو کہا جائے کہ وہ اپنے اساتذہ میں سے دو یا تین یا زیادہ مدرسین بھیجیں۔ جیسے وزارت تعلیم اسلام آباد اپنی ورکشاپوں کے لئے مختلف مدارس سے ایک ایک یا دو دو مدرسین لیتے ہیں لیکن اس میں کوئی ترغیب نہیں ہوتی اس لئے مدرسین زیادہ توجہ نہیں کرتے۔ لیکن یہ پروگرام جب مرکز کے سپرد ہو گا تو مرکز کے تعلیمی فنڈ سے ماہانہ مستقل تعاون حوصلہ افزائی کا باعث ہو گا نیز مرکز کے مذکورہ فنڈ سے جو مجلہ جاری کرنے کی تجویز ہے اس کے ذریعے ترغیبی تدابیر کی اشاعت بھی ان شاءاللہ کامیابی کا سبب ہوں گی۔
ان کے بعد مولانا عبداللہ امجد چھتوی صاحب نے کہا:
کہ ایسے اسبوعی پروگرام وغیرہ اسلوب تعلیم کی حد تک تو موثر ہو سکتے ہیں لیکن استعداد کی کمی کو پورا نہیں کر سکتے۔ اکثر اداروں میں کمزور اساتذہ کی کثرت ہے لہذا علمی فقدان اور قحط اساتذہ دور کرنے کے لئے کم از کم ایک سال کا کورس رکھا جائے۔ یہ پروگرام کوئی ادارہ بنا لے یا مرکز کے سپرد کر دیا جائے اور اس میں سخت تحریر اور تقریری امتحان کے بعد داخلہ دیا جائے۔ شرکت کرنے والوں کو ایک ہزار روپیہ ماہانہ وظیفہ دیا جائے اور ایک سال میں ان کو اہم موضوعات پر لیکچر دے کر ان کی علمی کمی کو پورا کیا جائے۔
باقی رہا معاملہ دعاۃ اور واعظین کی تدریب کا تو یہ ہمارے بس کی بات معلوم نہیں ہوتی۔ ان کی عوامی مانگ کی وجہ سے ان کو وہ عزت دی جاتی ہے جو بڑے بڑے علماء اور شیوخ الحدیث کو نہیں ملتی۔ لہذا اس کے لئے فارغ طلباء کے لئے ایک مختصر نصاب پر مشتمل کورس رکھا جائے۔ جس میں ان کی دعاۃ کی حیثیت سے تربیت کی جائے اور ان کے لئے پانچ سو ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا جائے۔
آخر میں حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے سابقہ ساری تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے واضح فرمایا کہ آج کی تجاویز کا خلاصہ یہ ہے کہ:
(i)فی الحال تدریب المعلمین کا کورس فیصل آباد، لاہور اور گوجرانوالہ شہر کی حد تک شروع کیا جائے اور اس میں شرکت کرنے والوں کے لئے مرکز کی طرف سے اعزازیہ مقرر ہو۔
(ii)محنتی طلباء کی تربیت کے لئے ایک سال کی تربیت کا کورس رکھا جائے اور اس میں معقول وظیفہ ایک ہزار روپے ہو اور اس کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی بھی ترغیب ہو۔ خاص کر دراسات کلیہ (Post Graduation) کے لئے اور اس میں ہم ان شاءاللہ کامیاب بھی ہو جائیں گے۔
(iii) مدارس کے طلباء اور مدرسین کو منظم کرنے کے لئے بھی پروگرام ترتیب دیا جائے۔
(iv) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تعلیمی و تدریسی کام کے تعارف و تنظیم کے لئے ایک مجلہ کا اجراء عمل میں لایا جائے۔ اس سب کمیٹی کا مہینہ میں ایک دفعہ اجتماع ضرور ہونا چاہئے جو ہر انگریزی مہینے کے پہلے جمعہ کو مناسب ہے۔لہذا آئندہ اجتماع ان شاءاللہ 4 اکتوبر 1996ء بروز جمعہ بعد از نماز مغرب لاہور میں ہو گا۔