خاندان کا تعارف
اندرونِ ہند صوبہ بہار کو قلب کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس سرزمین نے بڑے بڑے صوفیاء، شعراءِ عظام اور کبار محدثین اور فقہاءِ اعلام کو جنم دیا ہے جنہوں نے صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ہند میں بھی ناموری حاصل کی ہے۔ علمائے صادقپور کا تعلق بھی اسی صوبہ سے ہے۔ جو تحریکِ مجاہدین کے حاملین سے تھے اور سید نذیر حسین دہلوی کا تعلق بھی اِسی خطہ سے ہے جو اس مقالہ میں ہمارے موضوعِ سخن ہیں۔
سلسلہ نسب
سید صاحب کے جد اعلیٰ سید احمد شاہ جاجنیری، قطب الدین ایبک (602 تا 607) کے زمانہ میں سلطنت میں واردِ ہند ہوئے اور "شاہجان آباد" میں سکونت پذیر ہو گئے۔ اسی دور میں صوبہ بہار کے راجہ اندروہ دون (والیِ اور ماین) نامی نے مسلمانوں کو گاؤ کشی سے حکما روک دیا اور خلاف ورزی پر بعض مسلمانوں کو شہید بھی کر دیا تو قطبُ الدین ایبک نے اس کے خلاف فوج کشی کا حکم دے دیا اور مولانا نور الدین کی زیر قیادت ساٹھ ہزار کا لشکرِ جرار روانہ کیا۔ اس لشکر کے ایک سرمایہ کے سپہ سالار یہی سید احمد شاہ جاجنیری تھے جنہوں نے فتح یابی کے بعد موضع ایکساری (صوبہ بہار) میں سکونت اختیار کر لی۔ اسی جرنیل کی نسل سے سید جواد علی کے اجداد تھے جو موضع بلتھوا میں رہنے لگے جو سورج گڑھ (پرگنہ) سے پانچ چھ میل کی مسافت پر واقع ہے۔ (الحیاة بعد المماة)
اسی خاندان کے افراد علم و فضل میں ممتاز چلے آتے ہیں اور سید بایزید سے لے کر عہدہ قضاء پر فائز المرام رہے ہیں چنانچہ قاضی سید عبدالنبی کی سند قضاۃ پر عالمگیر کی دستخطی (1009ھ) اور قاضی محمد سالم کی سند پر شاہ عالم شاہ کی مہر (1175ھ) ثبت ہے۔(1)
حضرت میاں صاحب کے جد اعلیٰ سید احمد جاجنیری کے متعلق صاحب "الحیاة والمماة" لکھتے ہیں کہ ان کا مزار موضع ندیانواں میں ہے لیکن راقم الحروف نے جونپور کے قبرستان کی ایک تصویر دیکھی ہے جس میں ایک قبر پر ایک تختی لگی ہوئی ہے جس پر "سید احمد جاجنیری" لکھا ہوا ہے اور یہ قبرستان قدیم اولیاء کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ اختر اورینوی لکھتے ہیں: (2)
"سید احمد جاجنیری (ضلع مونگیر) کا شمار بہار کے بزرگ صوفیاء اور قدیم مشائخ میں ہوتا ہے"
تاہم مناقب الاصفیاء میں جاجنیری کے حالات کی پڑتال کرنے سے اصل حقیقت سامنے آ سکتی ہے کہ جاجنیر بغداد میں کسی محلے کا نام ہے یا کسی قصبہ کا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ جاجنیر ترمذ میں ایک قصبہ کا نام ہے۔ مزید تفصیل کی گنجائش نہیں۔
ضلع مونگیر (بہار) میں ایک برا قصبہ سورج گڑھ برلبِ گنگ ہے جو کسی زمانہ میں پرگنہ سورج کے نام سے مشہور تھا، یہ قصبہ مونگیر سے تقریبا بیس میل پچھم اور بلدہ عظیم آباد (پٹنہ) سے 80 میل پورب کی جانب ہے۔ سادات بنی فاطمہ کی سکونت مدتِ مدید سے یہاں چلی آتی ہے اور یہی حضرت میاں صاحب کا وطن ہے۔(3)
ولادت و نشاۃ
صحیح ترین روایت کے مطابق حضرت میاں صاحب کا سنہ ولادت (1220ھ) ہی ہے ان کی عمر کا ابتدائی حصہ گھوڑ سواری، شناوری اور مختلف بدنی ریاضتوں میں گزرا جس سے موصوف کی صحت تو ہمیشہ کے لئے اچھی ہو گئی لیکن تعلیم کا معاملہ کچھ متاخر ہو گیا اور تقریبا پندرہ سال کی عمر میں تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ ابتدائی کتب اپنے والد ماجد سے پڑھیں اور پھر مزید علمی پیاس بجھانے کے لئے اپنے ایک ساتھی بشیر الدین عرف امداد علی کے ساتھ پٹنہ چلے آئے جو اس دور میں مدینۃ العلم تھا اور محلہ نسموھیہ میں درسگاہ "شاہ محمد حسین"میں ٹھہر گئے جو پٹنہ سے کچھ مسافت پر ہے اور تقریبا چھ ماہ مقیم رہ کر صرف و نحو، ترجمہ قرآن اور مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ کی تکمیل کی۔ یہ واقعہ 1237ھ / 1821ء کا ہے۔
شاہ محمد حسین حضرت الامام سید احمد شہید کے عظیم آباد میں خلیفہ اول بنے اور 1238ھ کو حج سے مراجعت کے بعد جب سید احمد شہید، پٹنہ وارد ہوئے تو ان کی بیعت کر کے خلیفہ مقرر ہوئے۔ پٹنہ میں اس موقعہ پر ہی حضرت میاں صاحب نے شہیدین کی زیارت کی اور شاہ اسماعیل شہید کی تقریر بھی سنی اور ان کی زیارت اور وعظ سے ہی دہلی پہنچ کر حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی سے تحصیل علم کا شوق پیدا ہوا۔(4) مولانا فضل حسین بہاری لکھتے ہیں:
"اسی دوران سید احمد شہید بریلوی اور مولانا شاہ اسماعیل شہید کا قافلہ عظیم آباد پٹنہ وارد ہوا۔ حضرت میاں صاحب بھی ان کی زیارت اور وعظ و ارشاد سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور ان کی زیارت و محبت اور وعظ و ارشاد آخر کار انہیں دہلی کی طرف کھینچنے لگا۔ اس وقت شاہ عبدالعزیز بھی بقیدِ حیات تھے جن سے استفادہ کے شوق نے اور بھی بے قرار کر دیا۔" مگر اس کے برعکس مولانا عبدالرحیم صادق پوری مولانا ولایت علی کے حالات کے ضمن میں لکھتے ہیں:
اس دور سفر میں جب آپ (مولانا ولایت علی) سورج گڑھ میں فروکش ہوئے تو مولانا نذیر حسین دہلوی آپ کے پند و نصائح سے متاثر ہو کر عاشقِ حصولِ علم دین ہوئے اور جناب شاہ محمد حسین صاحب نذر و ھبہ کی خدمت میں کافیہ، مشکاۃ اور ترجمہ قرآن پڑھنے کے بعد الہٰ آباد سے ہوتے ہوئے مولانا شاہ محمد اسحٰق کی خدمت میں دہلی جا پہنچے۔(5)
اس بیان میں جس حد تک مولانا شاہ محمد حسین سے پڑھنے کا تعلق ہے وہ تو صحیح ہے مگر "سورج گڑھ میں مولانا ولایت علی کے پند و نصائح سے متاثر ہو کر عاشقِ حصولِ علم دین ہوئے" کسی طور پر بھی درست نہیں ہے کیونکہ مولانا ولایت علی کے سورج گڑھ میں ورود کا واقعہ امام الوقت سید احمد شہید کی شہادت یعنی 1243ھ سے بعد کا ہے اور حضرت میاں صاحب کا علمی سفر 1237ھ سے شروع ہو جاتا ہے اور پھر میاں صاحب کا اپنا بیان ہے کہ "جب سید صاحب کا قافلہ عظیم آباد پٹنہ میں وارد ہوا اور پولیس لین میں شاہ شہید نے وعظ فرمایا تھا تو اس وعظ میں بندہ بھی شریک تھا"(6)
لہذا صحیح یہی ہے کہ پٹنہ میں سید احمد شہید اور مولانا شاہ شہید کی چند روزپ صحبت اور وعظ کی برکت سے میاں صاحب کو دہلی جانے کا خیال پیدا ہوا ہو گا اور اسی وقت سے ولی اللہی  درسگاہ کے ساتھ دلی بستہ ہو گئے ہوں گے۔
سفر دہلی
پٹنہ میں چھ ماہ قیام کے بعد سید صاحب اپنے ہم سفر مولوی بشیر الدین عرف امداد علی سورج گڑھی کے ساتھ دہلی روانہ ہو گئے۔ اثنائے سفر میں غازی پور پہنچ کر کچھ عرصہ قیام کیا اور وہاں مولانا حمد علی چریا کوٹی (م 1272ھ) سے بعض کتابوں کا درس لیا جو اس دور کے مشاھیر میں سے تھے۔ فقہ، اصولِ فقہ اور علوم عربیہ میں ممتاز تھے اور حافظ غلام علی چریاکوٹی کے تلمیذ تھے اور انہوں نے مختلف اساتذہ سے تحصیل علم کیا تھا اور بالآخر شیخ ابواسحٰق بن ابوالغوث بھیروی کے حلقہ ارادت میں شامل ہے گئے تھے۔ قال اقول (منطق) الانوار الاحمدیہ، شرح سلم العلوم اور دیگر رسائل ان کی تصنیفات سے ہیں۔ 1272ھ کو فوت ہوئے۔(7) اور مولانا عنایت رسول (1321ھ) استاد مولانا شبلی بھی مولانا احمد علی چریاکوٹی کے تلامذہ سے تھے۔
غازی پور سے رخصت ہو کر بنارس پہنچے اور وہاں ایک الہ آباد کا رخ کیا اور "دائرہ اجمل شاہ" میں قیام کیا اور تقریبا سات آٹھ ماہ کے عرصہ میں صرف و نحو میں ہدایۃ النحو وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ اس وقت دائرہ اجمل شاہ میں جو حضرات تدریس کا فریضہ انجام دے رہے تھے ان میں مولانا روح الفیاض الہ آبادی تھے جو 1252ھ میں فوت ہوئے۔ دوسرے سید زین العابدین جو اعلیٰ درجہ کے مدرس تھے اور مولانا غلام اعظم ابوالمعالی کے تلمیذ ارشد تھے۔ تیسرے مفتی اسداللہ الہ آبادی بن کریم قلی جونپوری تھے جو شیخ محمود بن حمزہ عثمانی کی نسل سے تھے اور 1300ھ میں فوت ہوئے۔
حضرت میاں صاحب نے ان مدرسین سے استفادہ کیا اور بانی مدرسہ شیخ محمد اجمل (8) محمد ناصر بن یحییٰ العباسی کے صاجزادے تھے اور مفتی محمد ناصح (مفتی عساکر اسلامیہ) کے شاگرد تھے اور وہ شیخ ناصر بن یحییٰ (1164ھ) المعروف بہ فاخر زائر کے تلمیذ تھے اور سلوک و طریقت میں شیخ قطب الدین بن ناصر العباسی کے مرید تھے۔(8)
حضرت میاں صاحب اپنے ایک تلمیذ سید عبدالعزیز فرخ آبادی 1341ھ / 1933ء کے مکتوب کے جواب میں لکھتے ہیں:
"لب جمن مسجدے است، بہ ایام طلب علم چندے بسر کردہ ام در آں جا مولوی زین العابدین (9) صاحب مرحوم و مغفور صحبتِ درس و تدریس گرم مے بود و از چند اصحاب دوائر ہم جلسہ و مذاکرہ بانتہاء کشیدہ بود۔۔۔"
"جمنا کے کنارے ایک مسجد ہے۔ زمانہ طالب علمی میں، میں نے چند روز وہاں بسر کئے۔ وہاں مولوی زین العابدین صاحب مرحوم و مغفور کی درس و تدریس کی محفلوں کا فیض اٹھایا اور ان محفلوں میں شامل بعض دوسرے اصحاب سے مجلسیں اور مذاکرے بھی رہے"
اس دور میں بھی حضرت میاں صاحب کو کتب بینی کا شوق تھا اور فارسی میں مہارتِ تامہ پیدا کر لی تھی۔ اردو شاعری میں بھی درکِ تامہ حاصل تھا اور ہزاروں اشعار ازبر تھے، غالبا اسی نسبت سے الہٰ آباد میں شیخ امام بخش ناسخ (10) سے ملاقات رہی ہو گی۔
الہٰ آباد سے روانہ ہو کر کوڑا (ضلع فتح پور) پہنچے اور وہاں سے کان پور اور کان پور سے فرخ آباد چلے آئے۔ پھر دوبارہ کان پور وارد ہوئے اور موضع خواجہ پھول تحصیل بھوگنی قلعہ کے اندر آبادی میں خواجہ پھول کے مزار کے قریب والی مسجد میں قیام فرمایا اور بدستِ خاص دیوار مسجد پر تحریر فرمایا:
"بندہ فقیر امروز وارد مسجد ھذا شد عبد ہ سید نذیر حسین سورج گڑھی المرقوم فی التاریخ پنجم ماہ رجب المرجب 1238ھ بمطابق مارچ 1833ء"
"یہ بندہ فقیر آج اس مسجد میں پہنچا۔ سید نذیر حسین سورج گڑھی۔المرقوم  5 رجب المرجب 1238ھ بمطابق مارچ 1833ء"
پھر یہاں سے روانہ ہو کر تکالیف برداشت کرتے ہوئے خوش ناخوش 1243ھ بمطابق جنوری 1838ء بروز بدھ دہلی پہنچ گئے۔ اس درمیانی عرصہ میں کہیں پڑھنا ثابت نہیں ہے اور یہ پانچ سال کا عرصہ سفر کا ہے جس کے متعلق کچھ معلوم نہیں کہ کہاں اور کیسے گزرا۔
دہلی پہنچ کر پندرہ روز تک اپنے ہم وطن مولوی محمد شجاع الدین مرحوم مفتی اول کے مکان پر قیام فرمایا۔ دہلی میں اس وقت حضرت شاہ اسحٰق کا فیضانِ علم و عمل جاری تھا مگر تا حال حضرت میاں صاحب ان کے حلقہ درس میں شامل ہونے کی اہلیت نہ رکھتے تھے۔ اس لئے مفتی صاحب کے مکان سے منتقل ہو کر مسجد لورنگ آبادی (کٹر پنجابیاں) میں چلے آئے اور مسجد کے متولی مولوی عبدالخالق (1311ھ) تلمیذ شاہ محمد اسحٰق سے پڑھنا شروع کر دیا چنانچہ حضرت خود ہی ایک تحریر میں لکھتے ہیں: (11)
"منت مر خدائے راکہ ایں عاجز بے نوا، بہ توفیق حضرت خداوند عز و علا 1243ھ 13 رجب المرجب در شاہ جہاں آباد برمکان مولوی شجاع الدین مرحوم مفتی اول کہ ہموطنے خود حاضر بود اقامت گزیں شدہ و بعددہ پانزدہ روز در کٹرہ پنجابیاں مسجد اورنگ آبادی بخدمت مولانا عبدالخالق حاضر بودی طرح علومِ درسیدہ، ندا ختم"
"اللہ کی توفیق سے یہ عاجز بے نوا 13 رجب المرجب 1243ھ کو شاہ جہاں آباد میں مولوی شجاع الدین مرحوم مفتی اول (کہ جو میرے ہم وطن تھے) کے مکان پر حاضر ہوا اور وہاں قیام کیا۔ پندرہ روز کے بعد کٹرہ پنجابیاں کی مسجد اورنگ آبادی میں مولانا عبدالخالق کی خدمت میں حاضری دی اور علومِ درسیہ کا آغاز کیا"
دھلی میں درسی مشاغل
چونکہ قبل ازیں عظیم آباد پٹنہ اور الہ آباد میں مشکاۃ شریف، ترجمہ قرآن اور ہدایۃ النحو تک کتابیں پڑھ چکے تھے۔ اس لئے مولانا عبدالخالق سے کافیہ کے ساتھ قطبی، مختصر المعانی، شرح وقایہ، نور الانوار اور حسامی پڑھنا شروع کر دی۔ مولانا عبدالخالق کے علاوہ حضرت میاں صاحب نے جب مدرسین علماء سے استفادہ کیا اور علومِ رسمیہ حاصل کئے، ان میں اخوند شیر محمد (1257ھ)، مولانا جلال الدین الھروی، مولانا کرامت العلی مولف سیرتِ احمدیہ اور محمد بخش المعروف بہ تربیت خاں مہندس خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ذیل میں تفصیل سے آپ کے اساتذہ کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
(1)مولانا عبدالخالق
مولانا عبدالخالق محدث، شاہ عبدالقادر بن ولی اللہ دہلوی کے تلمیذ ارشد تھے۔ سید عبدالحی الحسنی لکھنؤی لکھتے ہیں:
(لازمة مدة من الزمان ثم اسند الحديث عن الشيخ اسحق بن افضل العمرى الدهلوى بدهلى مدة من الزمان توفى ١٢٦١ه)
موصوف نے شاہ عبدالقادر بن ولی اللہ الدہلوی اور شاہ اسحٰق صاحب دہلوی سے طویل عرصہ دہلی میں علم حاصل کیا اور مسجد اورنگ آبادی (کٹرہ پنجابیاں) میں مقیم ہو گئے۔ 1261ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔ موصوف اپنے وقت کے مشاھیر اور اہل اللہ میں شمار ہوتے۔ سرسید لکھتے ہیں:
"آپ کا شہرہ علم و فضل اوائل حاصل سے آج تک شاہ جہاں آباد میں ایسا بلند ہے کہ اس سے گوشِ فلک آشنا اور تقویٰ شعار ترویجِ ملت میں ساعی اور اعلائے دین پر داعی، بہت سے شائقینِ تحصیل کمال کو ان کی خدمت میں فوائدِ علمی سے بہرہ حاصل ہوا"(12)
مولانا عبدالخالق کے ایک صاجزادے کا نام مولانا عبدالقادر تھا جو دہلی کے بہت بااثر عالم تھے۔ شاہزادگانِ مغلیہ کی اکثر تقریبات میں آپ نے دینی خدمات سر انجام دیں۔ قلعہ معلیٰ میں آپ کی عزت تھی۔ آپ کی بڑی صاجزادی سے مولانا نذیر احمد دہلوی کا نکاح ہوا گیا مولانا عبدالخالق صاحب مرحوم کے خاندان میں شروع ہی سے علماء فضلا پیدا ہوئے ہیں۔ پھر داماد بھی ملے تو عالم فاضل، علامہ راشد الخیری شاہد احمد (ایڈیٹر ساقی) اسی گھرانے کے مہرِ تاباں ہیں۔
میاں صاحب نے ان سے فیضِ عالم حاصل کیا اور تکمیل کے بعد حضرت میاں صاحب کی شادی بھی آپ ہی کی دخترِ نیک اختر سے ہوئی۔مجلس نکاح پُر رونق و پر شوکت تھی۔ حضرت شاہ اسحٰق صاحب بہ معیت برادرِ خورد شاہ محمد یعقوب بطور کفیل و مہتمم موجود تھے۔ نکاح کی رات نہایت بابرکت رہی تھی تمام رات شاہ محمد اسحٰق صاحب مسجد مذکور میں طلبہ کو ترجمہ اور سنن ابوداؤد پڑھاتے رہے، صبح کے وقت نکاح پرھایا اور دعوتِ ولیمہ تناول کرنے کے بعد دولت کدہ پر تشریف لے گئے، چنانچہ حضرت میاں صاحب خود ہی اس تقریب سعید کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"و درسنہ ششم از اقامتِ دہلی (1248ھ) عقد مناکحت بستم و بشبِ عقد جناب فیض مآب برکت انتساب مولانا محمد اسحٰق و مولانا محمد یعقوب رحمہما اللہ تعالیٰ و دیگر طلبہ وغیرہ تمام شب باستماعِ قرآن مجید و ابوداؤد بیدار ماندند علی الصباح دعوتِ ولیمہ نوش فرمودند بہ جائے خود تشریف فرما شدند"(13)
یہی بات مولانا احمد علی سہارنپوری نے اپنے ایک طویل مراسلہ میں تحریر فرمائی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اساتذہ کی نظر میں حضرت میاں صاحب کا کس قدر احترام تھا اور پھر مولانا مبرور کا مزید اہتمام سے شرکت کرنا اس مجلس کو اور بھی وقیع بنا دیتا ہے۔ مولانا احمد علی سہانپوری لکھتے ہیں:
"آنانکہ در شادی کتخدائی مولوی صاحب ممدوح باصبیہ عفیفہ حضرت مولوی صاحب مخدومی مولوی عبدالخالق صاحب مرحوم و مغفور شریک بودند اظہر من الشمس است کہ حضرت مولانا مبرور (شاہ محمد اسحٰق) از نماز عشاء تا نماز صبح مع جماعتِ کثیرہ از علماء و اہل مدرسہ در مسجد قدیم پنجابی کٹرہ رونق افروز بودند و مجلسے عجیب بابرکت و میسمنت ترتیب یافتہ کاتب حروف نیز در آن مجلس صاحر بود"(13)
(2) مولانا اخوند شیر محمد قندھاری (متوفی 1257ھ)
یہ بزرگ بھی مولانا شاہ عبدالقادر (1243ھ) کے تلامذہ سے تھے اور صحیح بخاری و تفسیر بیضاوی کے درس میں شاہ محمد اسماعیل شہید کے ہم سبق رہے۔ انہوں نے شاہ غلام علی (نقشبندی) کے حلقہ ارادت میں داخل ہو کر سلوک و طریقت کے منازل طے کئے۔ اس کے بعد مسند تدریس کو زینت بخش اور اپنے علم و عمل سے بہت سے علماء کی تربیت و تکمیل کی۔ مولانا موصوف نہایت ذہین و فطین اور عبادت گزار تھے۔ 1257ھ کو حرمین کی زیارت اور حج کے لئے تشریف لے گئے اور اثنائے راہ میں نقد حیات کو متقاضیانِ اجل کے سپرد کر دیا۔ سرسید احمد خاں لکھتے ہیں: (14)
"آپ بظاھر مشغول بتدریسِ علمِ عقلی ونقلی نظر آتے مگر باطن میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے گویا آنِ واحد میں دو کام سر انجام دیتے جس سے فلسفہ و حکمت کا اصول باطل ہوتا ہے۔۔۔"
مفتی سعد اللہ مراد آبادی رام پوری (1219ھ۔ 1294ھ) آپ کے تلامذہ سے تھے۔ حضرت میاں صاحب نے اخوند صاحب سے اصولِ اکبری، شرح الکافیہ للجامی مع حاشیہ عبدالغفور، زواہدِ ثلاثہ، صدر الدر، شمسِ بازغہ وغیرہ کتابیں پڑھیں۔(15)
(3) حضرت مولانا جلال الدین الہروی
مولانا موصوف مشہور معقولی تھے۔ درسِ نظامی صوبہ پنجاب و پشاور میں پڑھ کر آئے تھے اور مولانا فضل امام خیر آبادی (1244ھ) سے کچھ حصہ الافق المبین بھی پڑھا تھا چنانچہ سید عبدالحی لکھنؤی اپنی مایہ ناز کتاب نزھۃ الخواطر میں لکھتے ہیں: (16)
(ثم دخل دهلى واخذ المنطق والحكمة عن الشيخ فضل امام الخير ابادى وقرا عليه "الافق المبين" لللسيد باقر داماد)
"کہ دہلی پہنچ کر منطق و حکمت کی کچھ کتابیں فضل امام خیر آبادی سے اخذ کیں اور "الافق المبین" از سید باقر داماد کا کچھ حصہ بھی خیر آبادی پر قراءت کیا"
حضرت میاں صاحب نے جلال الدین الھروی سے سلم العلوم اور اس کی شرح حمد اللہ و قاضی مبارک اخذ کیں نیز شرح المطالع پڑھی۔(17) مولانا جلالھروی نے 72 سال کی عمر پائی۔ اس موقع پر صاحب الحیاۃ والمماۃ لکھتے ہیں:
"اِن (یعنی جلال الدین ھروی) کے مقابل مولوی سعداللہ کابلی تھے۔ جن سے مولانا محمد ابراہیم نگرنہسوی (المتوفی 1282ھ) شرح عقائد پڑھ کر رام پور چلے گئے"(18)
(4) الشیخ العالم المحدث کرامتُ العلی بن حیاتُ العلی اسرائیلی شافعی دہلوی
دہلی میں پیدا ہوئے، شاہ رفیع الدین دہلوی اور شیخ فضل امام بن محمد ارشد خیرآبادی سے علم اخذ کیا۔ حدیث کی بعض کتابیں شاہ شہید دہلوی (1223ھ) سے قراءت کیں اور حدیث کی سند شیخ اسحٰق بن محمد افضل سے حاصل کی۔ ایک مدت تک دہلی میں درس حدیث دیتے رہے۔ پھر حیدرآباد چلے گئے اور وہاں مستقل طور پر ملازمت اختیار کر لی۔
"السیرۃ الاحمدیہ" مولانا موصوف کی تالیفات سے ہے۔ ان کے والد حنبلی المسلک تھے مگر انہوں نے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق سے متاثر ہو کر شافعی مذہب میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ اور 1277ھ میں وفات پائی۔ حضرت میاں صاحب نے دہلی میں ان سے مطول، توضیح تلویح، مسلم الثبوت، تفسیر بیضاوی الکشاف (سورۃ النساء) وغیرھا کتابیں پڑھیں"(19)
(5) مولانا محمد بخش عرف تربیت خاں
حضرت میاں صاحب نے ریاضی اور حساب کی کتابیں مولانا محمد بخش عرف تربیت خان سے اخذ کیں۔ خصوصا شرح چغمینی، تشریحُ الافلاک اور خلاصۃُ الحساب وغیرہ کتابیں ان پر قراءت کیں جو اس وقت درس نظامی میں شامل تھیں۔
مولانا محمد بخش علمی خاندان کے چشم و چراغ اور شاہ رفیع الدین کے تلمیذ ارشد تھے۔ موصوف کو ریاضی و فلسفہ کی کتابوں پر کامل عبور حاصل تھا اور اس فن پر متقدمین کی کتابوں پر گہری نظر تھی۔ ہر مسئلہ پر علت کے متلاشی رہتے جس کی وجہ سے شاہ رفیع الدین نے آپ کا عرف "معلل" رکھا دیا تھا۔ میاں صاحب کے زمانہ تک اسی (80) سال کی عمر تھی اور رہلوے اسٹیشن دہلی کے قریب تشریف فرما تھے۔
ان کے ابوالجد (پردادا) حضرت مجدد الفِ ثانی کے اساتذہ سے تھے اور شاہزادہ سلیم (جہانگیر) کی تعلیم و تربیت پر مامور تھے۔ اس تقریب سے دربار اکبری سے "تربیت خان" کے خطاب سے پکارے جاتے تھے جو ان کے بعد ان کے خاندان کے ہر فرد کے نام کا مثنیٰ بن گیا۔ اسی مناسبت سے مولوی محمد بخش بھی تربیت خان کہلائے۔ چنانچہ حضرت میاں صاحب اپنے ایک مکتوب میں ان کے درباری اعزاز کے بارے میں لکھتے ہیں:
"من دیدہ ام کہ ہر گاہ کہ در خانقاہ شاہ غلام علی(20) مرحوم مے رفتند، شاہ ابو سعید صاحب(21) والد ماجد شاہ احمد سعید(22) و شاہ عبدالغنی(23) تعظیم و توقیر استادانہ مے کردند بسبسب شاگردی ۔۔۔ از قوم سادات بودند۔۔۔"
"میں نے دیکھا کہ وہ جب بھی خانقاہ شاہ غلام علی میں آتے، تو شاہ احمد سعید اور شاہ عبدالغنی کے والد ماجد شاہ ابوسعید صاحب، بطور شاگرد ان کی تعظیم بجا لاتے ۔۔۔ وہ قوم سادات میں سے تھے۔۔۔"
ان کے علاوہ حضرت میاں صاحب نے ملا محمد سعید پشاوری اور مولانا عبدالقادر رام پوری(24) سے استفادہ کیا اور حکیم نیاز احمد سہسوانی (عمِ محترم مولانا محمد بشیر) (25) سے علمِ طب میں نفیسی اور ملا حسن سے شرح مسلم پڑھا۔
الحاصل حضرت میاں صاحب 13 رجب المرجب 1243ھ کو دہلی وارد ہوئے اور اواخر 1246ھ تک یعنی ساڑھے تین سال کے عرصہ میں تمام علوم رسمیہ سے فارغ ہو کر فاتحہ فراغ کے بعد ہمہ تن تفسیر و حدیث و فقہ کی تحصیل میں مصروف ہو گئے۔ حضرت میاں صاحب خود ہی اپنے تعلیمی کوائف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"منت مر خدائے را کہ این عاجز بے نوا بہ توفیق حضرت خداوند جل و علا در 1243ھ در شاہجہان آباد اقامت گزیدہ و بخدمت مولانا عبدالخالق مرحوم حاضر بودہ طرح تحصیل علوم رسمیہ اندا ختم و بہ عرصہ سہ و نیم سال علوم رسمیہ را از ۔۔۔ حاصل کردہ و فراغت نمودہ بقصد تحصیل علم حدیث و فقہ بہمہ تن متوجہ شدم"
"اللہ کا احسان ہے کہ یہ عاجز بے نوا توفیقِ الہیٰ سے 1243ھ میں شاہجہاں آباد میں قیام پذیر ہوا اور مولانا عبدالخالق مرحوم کی خدمت میں حاضر رہ کر علومِ رسمیہ کی تحصیل کی ۔۔ ساڑھے تین سال میں علومِ رسمیہ حاصل کرنے کے بعد علم حدیث  و فقہ کی تحصیل میں ہمہ تن مشغول ہو گیا"
الصدر الحمید شاہ محمد اسحٰق کے حلقہ درس میں
مذکورۃ الصدر اساتذہ سے تحصیل و فراغت کے بعد اب آخری مرحلہ پر علم حدیث و فقہ کی تکمیل کا مرحلہ باقی رہ گیا تھا جس کی طرف حضرت میاں صاحب نے اپنے الفاظ ۔۔۔ بقصد تحصیل علم حدیث و فقہ بہمہ تن متوجہ شدم ۔۔ میں اشارہ فرمایا ہے، اس مقصد کے لئے شاہ محمد اسحٰق مہاجر مدنی کی خدمت و ملازمت کے لئے کمر بستہ ہو گئے چنانچہ حضرت میاں صاحب اپنے تعلیمی کوائف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"و درہماں سال (ای سال کتخدائی) در صحیح بخاری بوقت صبح از جناب مولانا محمد اسحٰق صاحب مرحوم شریک شدم"
"یعنی شادی کے بعد اسی سال جناب مولانا محمد اسحٰق صاحب مرحوم دہلوی کے صبح کے درس بخاری میں شریک ہو گیا۔"
شاہ صاحب کے حلقہ درس میں درس صحیح بخاری کی مجلس دن میں دو مرتبہ منعقد ہوتی یعنی بعد نماز فجر و بعد نماز ظہر۔ حضرت میاں صاحب صبح کے درس میں شرکت کرتے اور بعد از ظہر کی مجلس میں شریک نہ ہوتے اس بناء پر "بوقتِ صبح شریک شدم" کی تصریح فرما دی ہے۔
حضرت میاں صاحب کے ہم سبق
صحیح بخاری کے اس درس میں شریک ہونے والوں میں مولوی عبداللہ سندھی، مولوی گل محمد کابلی، مولوی نور علی، حافظ محمد فاضل سورتی اور حافظ الحاج محمد مرحوم خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کا تذکرہ حضرت میاں صاحب نے اپنی تقریر میں بھی فرمایا ہے۔
حضرت میاں صاحب نے ادھر صحیح بخاری کی قراءت مولانا عبدالخالق صاحب پر شروع کر دی جس میں ان کے رفیق درس مولوی رحمت اللہ بیگ ہوتے اور دوسری طرف شاہ اسحٰق سے کر لیتے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: (26)"واز جناب مولوی عبدالخالق صاحب مرحوم مع مولوی رحمت اللہ بیگ نیز صحیح بخاری آگاز کردم و جائیکہ شک و شبہ دریں جامے ماند علی الصباح در سبق  آں نیزد مولانا ممدوح و مغفور حل آں مے کردم"
"الحاصل ۔۔۔ اس زمانے میں (1248ھ) جناب مولوی سید نذیر حسین صاحب، مولوی عبدالخالق صاحب مرحوم سے تحصیل علم کرتے تھے، اور ہر روز ان کی خدماتِ عالیہ میں حاضر ہوتے اور فن حدیث و تفسیر و فقہ کے مشکل مقامات کا حل ان سے دریافت کرتے۔"
بعینہ یہی واقعہ مولانا شیخ محمد تھانوی نے مولانا محمد حسین صاحب بتالوی مرحوم کے ایک استفسار کے جواب میں ذکر فرمایا ہے جو کہ 1292ھ کو لکھا گیا، وہ لکھتے ہیں:
"الحاصل ۔۔۔ در آں زمان (1348ھ) جناب مولوی سید نذیر حسین صاحب صدر المناقب تحصیل علوم از جناب مولوی عبدالخالق صاحب مرحوم و مغفور مے کردند و ہر روز الا نادرا حاضر خدمت عالی ۔۔۔ مے شد ندو حل مشکلات فن حدیث شریف و تفسیر و فقہ بخوبی مے کردند"
اسی نہج پر حضرت میاں صاحب نے مولوی عبدالخالق اور حضرت شاہ اسحٰق سے صحیحین کا اختتام کیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
"آخر الامر در ہفت ماہ از مولانا مغفور و مرحوم کتاب مذکور باختتام رسید و در صحیح مسلم ہمیں معاملہ روداد"
ان دنوں نماز ظہر کے بعد جو مجلس ہوتی، اس میں مولوی یار علی، نواب قطبُ الدین خاں اور مولوی علی احمد شریک ہوتے اور حضرت میاں صاحب اس میں شرکت نہ کرتے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں:
"در آں وقت یعنی بوقتِ ظہر حاضر نمے شدم و شریک شاں نبودم"
اس بنا پر نواب قطب الدین خاں مرحوم سے اس وقت کوئی رابطہ و تعارف پیدا نہ ہو سکا، البتہ جب ہدایہ شروع ہوا جس میں نواب مرحوم کے علاوہ مولوی بہاؤ الدین دکنی، مولوی صبغۃ اللہ (والد ماجی قاضی محفوظ اللہ پانی پتی) اور قاری کرم اللہ بھی شریک تھے۔ اس وقت سے حضرت نواب صاحب سے مراسم قائم ہو گئے اور بمورِ ایام افزوں پذیر رہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
"و از شریک شدن در ھدایہ از جناب مولوی مرحوم سلسلہ محبت و اُلفت و ارتباط و انبساط روز بروز دراز گردید"
القصہ حضرت میاں صاحب نے شاہ محمد اسحٰق مرحوم و مغفور سے تفسیر و حدیث اور فقہ کی بعض کتابیں سماعا اور اکثر قراءۃ تحصیل کیں اور تحقیق و تدقیق کے بعد مولانا مرحوم سے سند و اجازہ حاصل کیا جس کی نقل حسبِ ذیل ہے:
(الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد المرسلين محمد وآله وصحبه اجمعين اما بعد فيقول العبد الضعيف محمد اسحق: ان السيد النجيب المولوى محمد النزير حسين قد قرء على اطرافا من الصحاح الستة البخارى و مسلم و احمد و ابى داؤد و الجامع الترمذى والنسائى و ابن ماجه و شئيا من كنزالعمال والجامع الصغير وغيرهما و سمع مني الاحاديث الكثيرة فعليه ان يشتغل بقراءة هذاه الكتب تدريس بها لانه اهلها بالشروط المعتبرة عند اهل الحديث(27) واني حصلت القراءة والسماعة والاجازة لهذه الكتب من الشيخ الاجل عبدالعزيز المهدث الدهلوى وهو حصل القراءة والاجازة عن الشيخ ولى الله المحدث الدهلوى رحمة الله عليها وباقى سنده مكتوب عنده جرره فى ثانى شهر شوال ١٢٥٧ه الهجرية والحمدلله اولا وآخرا (محمد اسحق ١٢٥٢ه))
اس سند و اجازہ میں "(وسمع منى الاحاديث الكثيرة)" کا جملہ خاص طور پر قابل توجہ جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت میاں صاحب خود ہی لکھتے ہیں:
"در زمالیگہ مولوی محمد ابراہیم نگرنہسوی 1282ھ کہ بعد از فراغ تحصیل علوم رسمیہ در رام پور بہ دہلی آمدہ قدرے تفسیر بیضاوی و صحیح بخاری از مولانا مرحوم خواندند، وزدود از زود درسہ چہار ماہ صحیح بخای تمام نمودند،من ھم شریک سماعت شاں بودم و تمام و کمال آں شنیدم، لہذا مولانا مرحوم درسند من ارقام فرمودہ اند: "( وسمع منى الاحاديث الكثيرة)"
"مولوی محمد ابراہیم نگرنہسوی 1282ھ میں رام پور سے علومِ رسمیہ کی تحصیل سے فارغ ہو کر دہلی آ گئے اور مولانا مرحوم سے تفسیر بیضاوی اور صحیح بخاری پڑھیں اور چاہ ماہ میں صحیح بخاری کی تکمیل کر لی۔ میں بھی ان درسوں میں پوری طرح شریک سماعت رہا۔ لہذا مولانا مرحوم نے میری سند میں رقم فرمایا ۔۔۔ "( وسمع منى الاحاديث الكثيرة)" حضرت میاں صاحب کے مکتوبات اور دیگر علماء کی شہادات کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحب اسحٰق سے کسب و فیض اور ان کی مصاحبت و ملازمت کے جو مواقع حضرت میاں صاحب کو بہم آئے ہیں وہ کسی دوسرے تلمیذ کو میسر نہیں ہو سکے۔ چنانچہ حضرت میاں صاحب، حضرت شاہ اسحٰق صاحب سے کسبِ فیض کے کوائف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"و دواز سیزدہ سال بہ صحبت مولانا فیض یاب شدم و صحبت از منہ کثیرہ کسے را بجز عاجز، از شاگردان مبرور میسر نشد"
حضرت شاہ صاحب کو حضرت میاں صاحب سے جو تعلق خاطر تھا "تقریبِ مناکحت" سے اس کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے نیز مولانا محمد تھانوی، مولانا محمد حسین کے ایک استفسار کے جواب میں اپنے ایک مکتوب (مرقومہ 1292ھ) میں لکھتے ہیں:
"موضوح شودکہ الطاف نامہ مشتمل بر دریافت حال سند علم حدیث شریف جامع علوم و فہوم جناب مولوی سید نذیر حسین موصول گروید و توجہ اقدس خاطر حضرت مولانا محمد اسحٰق قدس سرہ جانب مولوی نذیر حسین از بس بودہ است۔۔۔ہر قدر کہ نو آموزاں برآں نازمے کنند، زیادہ ازاں مولوی صاحب موصوف در ذخیرہ خویش نہادہ فراموش کردہ باشند"
"واضح رہے کہ جناب مولوی سید نذیر حسین کی سند علم حدیث شریف اور علوم و فہوم کے بارے میں الطاف نامہ ملا۔ مولوی نذیر حسین کو حضرت مولانا محمد اسحٰق قدس سرہ کی توجہ از بس حاصل تھی ۔۔۔ وہ باتیں جن پر نوآموز ناز کرتے ہیں، مولوی صاحب کا دامن ان سے کہیں زیادہ بھرا ہوا تھا۔۔۔"
اس مکتوب کے پس منظر اور محتویات کی اگر ہم تشریح کریں تو بہت سے علماء اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں جو معاصرانہ چشمک کی وجہ سے حضرت میاں صاحب سے حسد و منافرت کی آگ میں جل بھُن رہے تھے اور حضرت میاں صاحب کے حلم و مسامحت سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
المختصر حضرت شاہ صاحب سے استفادہ اور تلمیذ و شیخ کے مابین قلبی رابطہ ہی اس کا موجب بنا کہ شاہ اسحٰق کے ہجرتِ حرمین کے بعد حضرت میاں صاحب نے اس فیض کو جاری رکھا اور پورے ساٹھ سال درس حدیث دے کر شیخ الکل فی الکل کا اعزاز حاصل کیا۔
کسی شخص کے درس زندگی میں خاص طور پر یہ بات قابل توجہ ہوتی ہے کہ اس وقت کے اساتذہ و شیوخ کی نظروں میں اسے کیا مقام حاصل ہے اور معاصرین کی نگاہوں میں وہ کیسے دیکھا جاتا ہے اور سب سے آخر یہ کہ "الباقیات الصالحات" سے اس کا دامن کس قدر لبریز ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ ان فوق الذکر پہلوؤں پر بھی اختصار سے روشنی ڈالی جائے۔
حضرت میاں صاحب اور ان کے معاصرین
ضرب المثل ہے: "المعاصرۃ اصل المنافرۃ" اور اس قسم کی منافرت سے انبیاء و اولیاء اور سلف صالحین بھی دوچار ہوتے رہے ہیں۔ اس جہت سے حضرت کے معاصرین کو دیکھا جائے تو واقعہ یہ ہے کہ حقیقت پسند علماء نے تو باوجود اختلاف مسلک کے ان کی فضیلت کا اعتراف کیا ہے جیسا کہ مولانا محمد تھانوی صاحب جن کے مکتوب کا اقتباس پہلے گذڑ چکا ہے، وہ اپنے اسی مکتوب میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
"بعندیہ من دہلی امروز از ہماں کس عبارت است دعائے سلامتی اوشاں ضرور است، دہلی دو چشم مے داشت جناب مولانا قطب الدین صاحب مرحوم و جناب موصوف بالفعل یک چشم ماندہ کہ آں عبارت است از جناب مولوی سید نذیر حسین"
"میری نظر میں آج کی دہلی جن لوگوں سے عبارت ہے۔ ان کی سلامتی مبارک ہو ۔۔۔ دہلی کی دو آنکھیں تھیں، ایک جناب مولانا قطب الدین مرحوم اور دوسرے جناب موصوف بالفعل اب ایک ہی آنکھ باقی رہ گئی ہے اور وہ ہیں جناب مولوی سید نذیر حسین"
اسی طرح مولانا احمد علی جو شاہ اسحٰق صاحب کے تلمیذ تھے، انہوں نے ایک استفسار کے جواب میں جو مکتوب مولانا حفیظ اللہ خاں دہلوی(28) کو لکھا اس میں حضرت میاں صاحب کو جن القاب سے یاد کیا ہے، وہ قابل توجہ و اہتمام ہے وہ لکھتے ہیں:
"مولوی صاحب مستتبع محامد و حمائد، معدنِ علومِ نافعہ مولوی سید نذیر حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ"
مولانا عبدالحی لکھنؤی اپنے ایک مکتوب میں حافظ عبدالمنان مرحوم وزیر آبادی (1334ھ) کو لکھتے ہیں:
"اگر مولوی نذیر حسین معائنہ کنانیدہ شود خوب است کہ جناب شان را بر کتب محققین نظرے است وسیع"
"مولوی نذیر حسین کا علمی جائزہ لینے پر معلوم ہو گا کہ محققین کی کتب پر ان کی نظر بڑی وسیع تھی"
مولانا شاہ فضل الرحمٰن قدس سرہ گنج مراد آبادی نے فرمایا:
"میاں نذیر حسین پکے اہل حدیث ہیں اور بہت کچھ کلمہ خیر آپ کی شان میں فرماتے رہے" (روایت قاضی حکیم مظفر احمد)
اسی طرح شاہ صاحب تلمیذ سید عبدالودود نے فرمایا:
"مولوی نذیر حسین کو چاہے کوئی کچھ کہے مگر حدیثِ رسول اللہ کا فیض جیسا اُن سے جاری ہے کسی بھی نہ ہوا"
مولانا قاضی بشیر الدین قنوجی غایۃ الکلام میں لکھتے ہیں:
"زبدة المحققين، وعمدة المحدثين من اولياء عصره واكابر علماء دهره مولانا سيد نزير حسين دهلوى"
شیخ احمد بن ابراہیم بن عیسیٰ شرقی ایک خط مورخہ 5 ربیع الاول 1312ھ میں لکھتے ہیں:
حضرت العالم العلامہ المحدث الفھامۃ قدوۃ اہل الاستقامۃ
شیخ احمد بن علی تیونسی مغربی سے مولانا ابو طیب محدث عظیم آبادی نے مکہ میں ملاقات کی اور ان سے اجازہ حاصل کیا تو اثنائے گفتگو میں حضرت میاں صاحب کا ذکر آ گیا، جس پر مولانا تیونسی نے فرمایا کہ روئے زمین میں ان جیسا اور کوئی صاحب علم نہیں۔ پھر آپ کی بہت مدح سرائی کی:
(لا يوجد مثل الارض ومدحه غاية المداح)
مولانا سخاوت علی جونپوری، شیخ محمد مچھلی شہری کے رسالہ پر اپنی تقریظ میں لکھتے ہیں:
"تفصیلش در میعار الحق مصنفه مولانا حجة اللہ علی العالمین زندة الفاضلین عال ربانی محقق لاثانی، فاضل بے نظیر مولانا سید محمد نذیر حسین دامت برکاتہ علی کافۃ الخلق مرقوم است"
شیخ حسین بن محسن انصاری یمانی نے اپنے ایک خط میں حضرت میاں صاحب کو ان القاب سے یاد کیا ہے۔
(الى جناب مولانا رئيس المحدثين وبقية السلف الصالحين وعمدة الابرار المتقين السيد الامام)
مولانا عبدالحی لکھنؤی لکھتے ہیں:
"۔۔۔ کہ جناب شاں وا بر کتبِ محققین نظرے است وسیع۔۔۔"
حضرت النواب صدیق حسن خاں، سید شریف حسین کی سند میں لکھتے ہیں:
(ابوه شيخ الاسلام ومركز علوالاستجازة والاجازة والعالم الخبير)
مولانا الامام عبداللہ الغزنوی، میاں صاحب کے متعلق اپنا خواب یوں ذکر کرتے ہیں:
"دیدم کہ ازدھان شیخنا سید محمد نذیر حسین دہلوی چشمہ شربت شیرین جاری است۔۔۔"
"میں نے دیکھا کہ ہمارے شیخ سید محمد نذیر حسین دہلوی کے دہن سے شربتِ شیریں کا چشمہ جاری ہے"
الغرض حضرت میاں صاحب اپنے مواصرین میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں حتیٰ کہ مخالفین بھی آپ کے علم و فضل کے معترف تھے۔ اس قسم کے اقوال کا اگر تتبع اور استیعاب کیا جائے تو ایک مستقل مقالہ بن سکتا ہے۔
تاہم حضرت میاں صاحب کے معاصرین میں معاندین کا ایک گروہ ایسا بھی موجود تھے جو اپنے حسد و بغض کی سوزش کو الزام تراشیوں اور سازشوں سے تسکین دینے کی مساعی میں لگا رہتا۔ ایسے ہی بعض علماء نے معاصرانہ چشمک کے مرض میں مبتلا ہو کر اور علمی میدان میں اپنے کو عاجز پا کر معاندانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ حتیٰ کہ بعض لوگوں نے تو یہاں تک مشہور کر دیا کہ حضرت شاہ اسحٰق صاحب کا جو تلمیذ اس بات کا مدعی ہے کہ انہوں نے سب تلامذہ سے زیادہ شاہ صاحب سے استفادہ کیا ہے اور مسلسل بارہ تیرہ سال ان کی خدمت میں حاضری دی ہے۔ اس کا ایسا کہنا درست نہیں کیونکہ ان کو تو شاہ صاحب سے سند و اجازہ حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ ان الزامات سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ بعض علماء نے ان افواہوں سے متاثر ہو کر سند و اجازہ بھی حاصل کرنے کے لئے حضرت شاہ اسحٰق صاحب کے دوسرے تلامذہ کو بھی مکاتیب ارسال کئے جو کہ صاحبُ الحیاۃ والمماۃ نے بالفاظہا نقل کر دئیے۔ چنانچہ مولانا محمد حسین کے جواب میں مولانا محمد تھانوی کا مکتوب گذر چکا ہے، وہ لکھتے ہیں:
"الطاف نامہ مشتمل پر دریافت حال سند علم حدیث شریف جامع علوم و فہوم جناب مولوی سید نذیر حسین صاحب موصول گردید مگر مرابخوبی مسموع است ہم ہی پائے معائنہ کہ سند اوشان بہ مولانا بودہ است ۔۔ و توجہ خاطر اقدس حضرت مولانا محمد اسحٰق جانب مولوی نذید حسین از بس بودہ است کہ برآں یقین است سند حوالہ مولوی سید نذیر حسین صاحب عطا فرمودہ انو مجاز گردانیدہ۔۔۔آں مکرم ہیچک واھمہ از جانب جناب مولوی سید نذیر حسین انفرین باب سند نیارند ۔۔۔ برقول اہل خیال و عناد گوش نباید نہاد۔۔۔
"مولوی سید نذیر حسین صاحب کی سند علم حدیث اور ان کے جامع علوم کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آپ کا الطاف نامہ ملا۔ مجھے بخوبی سنا ہے کہ ان کی سند مولانا تک پہنچتی ہے۔۔۔اور حضرت مولانا محمد اسحٰق کی جس قدر توجہ مولوی نذیر حسین کو حاصل تھی اس کی بنا پر یقین ہے کہ انہوں نے مولوی نذیر حسین کو سند حوالہ عطا فرمائی اور انہیں مجاز بنایا تھا ۔۔ اہل خیال اور اہل عناد کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہئے"
پھر اس کے بعد مولانا محمد تھانوی نے حضرت میاں صاحب کی شخصیت پر اظہار رائے کرتے ہوئے موصوف کو دہلی کی دوسری آنکھ قرار دیا ہے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ الحیاۃ بعد المماۃ سے مذکورۃ الصدر شاہدات پیش کرنے کے بعد اب ہم سید سلیمان ندوی کی تحریر کو درج کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ سید ندوی حیاتِ شبلی کے حواشی میں لکھتے ہیں:
"مولانا سید نذیر حسین کی مولانا شاہ اسحٰق سے شاگردی کا مسئلہ بھی اہل حدیث و احناف میں مابہ النزاع بن گیا ہے۔ احناف انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو شاہ صاحب سے پڑھے بغیر صرف تبرکا اجازہ حاصل ہوا تھا اور اہل حدیث ان کو باقاعدہ شاگرد بتاتے ہیں۔ مجھے نواب صدیق حسن خاں کے مسودات میں مولانا نذیر حسین کے حالات کا مسودہ بھی ملا ہے جس میں بتصریح مذکور ہے کہ 1249ھ میں شاہ صاحب کے درس حدیث میں وہ داخل ہوئے۔ عبارت یہ ہے:
"ودر ہمیں سال (سنہ 1249ھ) حدیث شریف از مولانا محمد اسحٰق مرحوم و مغفور شروع فرمودند و صحیح بخاری، صحیح مسلم بہ شراکت مولوی تل محمد کابلی و مولانا عبداللہ سندھی و مولوی نور اللہ سردانی و حافظ محمد فاضل سورتی وغیرہم حرفا غرفا خواندند و ہدایہ و جامع صغیر بہ معیت مولوی بہاء الدین دکنی و جد امجد قاضی محفوظ اللہ پانی پتی و نواب قطب الدین خاں دہلوی و قاری اکرام اللہ وغیرہم و کنزالعمال ملا علی متقی علیحدہ شروع فرمودند و دسہ جزہ خواندہ و سنن ابی داؤد و جامع ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و موطا مالک بتمامھا بر مولانا ممدوح عرض نمودند و اجازہ از شیخ الآفاق حاصل نمودہ"
"اور اسی سال (سنہ 1248ھ) انہوں نے مولانا محمد اسحٰق مرحوم و مغفور سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا سبق شروع کیا اور اس تدریس میں مولوی تل محمد کابلی، مولوی عبداللہ سندھی، مولوی نوراللہ سردانی، حافظ محمد فاضل سورتی وغیرہم ان کے شریک تھے۔ انہوں نے حرفا حرفا پڑھا اور مولوی بہاؤالدین دکنی اور جد امجد قاضی محفوظ اللہ پانی پتی، نواب قطب الدین خاں دہلوی اور قاری اکرام اللہ وغیرہ کی معیت میں ہدایہ اور جامع صغیر پڑھی۔۔۔ سنن ابوداؤد و جامع ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و موطا مالک پوری کی پوری مولانا ممدوح کے روبرو پڑھیں اور شیخ الآفاق سے اجازت حاصل کی"
البتہ شاہ صاحب سے سند و اجازہ تحریری انہوں نے دوسرے سال 1258ھ کو حاصل کی ہے جب شاہ صاحب ہندوستان سے ہجرت کر کے جا رہے تھے (حیاتِ شبلی 45-46 حاشیہ)
پس میاں صاحب کا شاہ اسحٰق سے سند و اجازہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن دیوبندی حضرات اور مولانا عبیداللہ سندھی اس کا انکار کرتے ہیں اور یہ سب باتیں تعصب کی پیداوار ہیں اور میاں صاحب کا گناہ صرف ان کا اہل حدیث ہونا ہے۔
مولانا احمد علی سہارنپوری اپنے ایک طویل خط میں لکھتے ہیں:
"چونکہ بعض اہل علم اور طلبہ اس اشتباہ میں مبتلا ہیں کہ آیا مولوی سید نذیر حسین کو کتب حدیث  کی اسناد شاہ اسحٰق صاحب سے حاصل بھی ہے یا نہیں، لہذا ان ہر دو اشتباہ کا ازالہ ضروری ہے، لہذا نوشتہ مے شود کہ سند کتب احادیث شریفہ عطا فرمودہ حضرت مولانا مغفور طاب شدہ بدست مولوی صاحب ممدوح موجودہ است۔۔۔پھر اس کے بعد مجلسِ مناکحت کا ذکر کیا۔"
مسند نشینی
شاہ اسحٰق صاحب کی ہجرت کے بعد ان کی جانشینی کے مسئلہ کو بھی احناف نے نظر انداز کر دیا ہے اور یہی روش مولانا سندھی نے اختیار کی ہے۔ اس لئے ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں۔
پاک و ہند میں حدیث کی تدریس کا کام تو پہلی صدی ہجری کے اختتام پر ہی شروع ہو گیا تھا اور فتح سندھ کے ساتھ متعدد تابعین برصغیر میں رونق افروز ہو چکے تھے اور انہوں نے اسلامی تعلیمات کو پھیلانا شروع کر دیا تھا۔(29) مگر بارھویں صدی میں جب شاہ ولی اللہ حجاز سے علم حدیث کی سند لے کر آئے تو انہوں نے باقاعدگی سے کتبِ صحاحِ ستہ (بشمول مؤطا) کو درس نظامی میں داخل کر دیا اور طلبہ کو قرآن و حدیث کی دراست کی طرف متوجہ کر دیا۔
شاہ عبدالعزیز (1239ھ) کے بعد مسند ولی اللہی کے وارث شاہ اسحٰق قرار پائے اور ان کا حلقہ درس علم حدیث کے لئے تمام ہندوستان کا مرکز بن گیا۔ شاہ اسحٰق کو شاہ عبدالعزیز دہلوی کے علاوہ شیخ عمر بن عبدالعزیز مکی سے بھی روایتِ حدیث کا اجازۃ حاصل تھا۔
مولانا موصوف نے شاہ عبدالعزیز کی زندگی میں بیس برس تک درس حدیث دیا اور ان کی وفات کے بعد 1258ھ تک مسلسل درس حدیث دیتے رہے اور نامور علمائے ہند ان کے حلقہ درس میں شریک ہوئے۔ شاہ صاحب نے 1262ھ کو مکہ میں وفات پائی اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی قبر کے قریب معلیٰ میں مدفون ہوئے۔ شیخ عبدالعزیز سراج مکی (1264ھ) نے آپ کے جنازہ پر فرمایا:
(والله انه لو عاش وقراءت عليه الحديث طول عمرى ما نلت ما ناله)
"کہ اگر مرحوم زندہ رہتے اور میں عمر بھر حدیث کا درس ان سے لیتا رہتا تو پھر بھی ان کے مرتبہ علمی کو حاصل نہ کر سکتا"
سرسید احمد خاں شاہ صاحب کے متعلق لکھتے ہیں:
"آپ نے شاہ عبدالعزیز کی زندگی میں بیس برس تک علم حدیث کا درس دیا۔ آپ اتباعِ سنت کا نمونہ تھے" (مختصرا)
اس طرح مولانا مرحوم "الصدرُ الحمید" کے لقب سے مشہور ہو ئے اور شاہ اسحٰق ہی وہ ہستی ہیں جن کی خوشخبری شاہ ولی اللہ نے دی تھی۔ شاہ صاحب القول الجلی میں انعاماتِ الہیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"لیکن تدبیر غیب تقاضا مے کند کہ دو شخص دیگر پیدا شوند کہ در مکہ و مدینہ سالہا احیائے علوم دین نمایند و ہماں جا وطن اختیار کنند از طرف مادر نسب ایشان بما متمکن باشد زیرا کہ آدمی زادہ بوطن مادر میلان طبعی دارد، انتقال جماعت کہ وطن والدہ ایشاں متمکن باشند بسر زمینے بالطبع مستحیل است"(30)
"لیکن تدبیر غیبی کا تقاضا ہے کہ دو اور اشخاص پیدا ہوں، جو سالہا سال مکہ و مدینہ میں احیائے علوم دینی کا کام کریں اور انہیں مقاماتِ مقدسہ کو اپنا وطن بنا لیں۔۔۔"
شاہ اسحٰق کے متعلق بعض بزرگوں نے فرمایا تھا:
(قد حلت فيه بركة الشيخ عبدالعزيز الدهلوى)
کہ ان کے اندر شاہ عبدالعزیز کی برکت حلول کر گئی ہے۔
پھر شاہ اسحٰق کی ہجرت کے بعد 1258ھ کو حضرت میاں صاحب نے دہلی میں حلقہ درس قائم کر لیا اور حضرت شاہ اسحٰق کی درسگاہ کے جانشین بن گئے۔ حضرت میاں صاحب کے اہل حدیث مکتب فکر کے حامل ہونے کی وجہ گو دیوبندی مکتبِ فکر اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ تاریخی طور پر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ مولانا مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:
"شاہ اسحٰق کی ہجرت کے بعد میاں صاحب ہی جانشین ہوئے اور انہوں نے مسلسل ایک عرصہ دراز تک مسند ولی اللہی پر درس دینے کی عزت حاصل کی"
ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی لکھتے ہیں:
"اس دور کے دوسرے معلم مولوی عبدالخالق کے داماد شمس العلماء علامہ سید نذیر حسین تھے جن کے علم و فضل کا یہ مرتبہ تھا کہ حضرت شاہ محمد اسحٰق صاحب مہاجر مکی نے اپنی ہجرت (1358ھ) کے وقت افادہ و افتاء اور تدریس کی خدمت ان کے سپرد کر کے خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا تھا" (مولوی نذیر احمد دہلوی۔ احوال و آثار صحابہ)
اس طرح دوسرے فضلاء اصحابِ قلم نے بھی سید نذیر حسین کی جانشینی کا اعتراف کیا ہے۔ جن میں سید سلیمان ندوی بھی ہیں جیسا کہ پہلے سند حدیث کے سلسلہ میں ہم ان کی رائے نقل کر چکے ہیں۔
حضرت میاں صاحب نے پہلے تو مسجد اورنگ آبادی میں درسگاہ قائم کی، جہاں پر 1270ھ تک جملہ علوم و فنون کی تدریس کرتے رہے پھر 1857ء کو جب مسجد اورنگ آبادی کا علاقہ مسمار کر دیا گیا تو حضرت میاں صاحب نے پھاٹک جشن خاں میں قیام کر لیا اور 1320ھ تک تفسیر و حدیث اور فقہ کا درس دیتے رہے۔
اولاد و احفاد
حضرت میاں صاحب کے اکلوتے بیٹے سید شریف حسین مرحوم تھے جو "اللد سر ابیہ" کے مصداق تھے۔ 1887ء کو وفات پائی۔ مرحوم نے تعلیم حضرت میاں صاحب سے حاصل کی اور سند و اجازہ شیخ حسین بن محسن انصاری اور حضرت النواب صدیق حسن سے حاصل کیا۔ مولانا شریف حسین کے دو بیٹے مولوی سید عبدالسلام اور سید نورالحسن تھے۔
آپ کے نواسوں میں سید ابوالحسن معروف تھے۔ جو بقول میر ابراہیم سیالکوٹی کچھ عرصہ سیالکوٹ میں بھی رہے ہیں۔ راقم الحروف نے ان کو دہلی میں دیکھا ہے، وہ اس وقت مسجد میاں صاحب کے امام تھے۔
منہج تدریس
غریب القرآن اور اعراب و اسباب نزول کا علم قرآن فہمی کے لئے اساسی حیثیت کے حامل ہیں اور ابتدائی طور پر ترجمہ و مفہوم قرآن کے لئے موادِ ضروریہ سے ہیں، اس بنا پر حضرت میاں صاحب تفسیر قرآن کے لئے جلالین کی تدریس کو ترجیح دیتے اور محنتی طلبہ کو ماہِ رمضان میں جلالین کا دور کروا دیتے۔ اس دورہ تفسیر کی افادیت کو اہل علم خوب سمجھتے ہیں لیکن افسوس فی زماننا اہل حدیث مدارس میں دورہ تفسیر متروک ہو چکا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس کا احیاء کیا جائے۔
جلالین بھی حضرت میاں صاحب نے شاہ اسحٰق رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھی تھی اور انہی سے اجازہ حاصل تھا اور قراءۃِ قرآن کی سند حضرت میاں صاحب کے پاس جو حضرت نے ابوابرہایم مدراسی کی سند میں تحریر فرمائی ہے:
(قراءة القران المجيد فانى قراته على الحافظ القارى فيض الله السرهندى وهو على المولوى كرم الله الدهلوى وهو على الشاه عبدالقادر شاه الدهلوى وهو على ابيه الشاه ولى الله الدهلوى) (31)
علم حدیث کی تدریس کے لئے حضرت میاں صاحب یکسالہ دورہ حدیث کو کافی نہ سمجھتے بلکہ کم از کم سہ سالہ نصاب کی ضرورت قرار دیتے کیونکہ فنون حدیث سے متعارف ہونے کے لئے تین برس کوئی زیادہ نہیں اور تخصص فی الحدیث کے لئے اتنی مدت کا ہونا ضروری ہے۔
حضرت میاں صاحب غریبُ الحدیث پر زور دیتے اور نفس کتاب پر جو اشکال پیش آ سکتے، اس کو حل فرماتے اور مشکل مقامات پر سبق کے دوران ان کے مالہ وما علیہ پر بحث کرتے
حضرت میاں صاحب کا یہ طریقِ تدریس طلبہ میں علمی ذوق پیدا کرنے کے لئے نہایت پسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا، اس بنا پر بعض معاصرین اسے حسد کی نگاہ سے دیکھتے جس کی طرف ڈپٹی نذیر احمد نے بھی اشارہ کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
"آپ کا درس عام پسند اور اجتہاد کے لئے موجب گزند تھا" (احوال و آثار)
درس حدیث و فقہ کے وقت ایسا معلوم ہوتا کہ ایک بحر مواج موجزن ہے اور طلبہ اس میں شناوری کر رہے ہیں۔ بہت سے علماء آپ کے حلقہ درس کا دوسرے مشاہیر سے موازنہ کرتے اور اختلافِ مسلک کے باوجود حضرت کے طریق تدریس کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکتے۔ چنانچہ مولوی ابو عبدالرحمن محمد بن عبداللہ بن الحاج صائم الدھر جمال الدین ہزاروی لکھتے ہیں:
"میں 1282ھ کو تحصیل علم کے لئے دہلی گیا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی احمد علی سہارنپوری، مفتی صدر الدین خاں صدر الصدور دہلوی، مولانا سعادت علی سہارنپوری، نواب قطب الدین خاں صاحب دہلوی، مولانا عبدالغنی مجددی وغیرہم، بڑے بڑے کملاء سے ملا اور بہت دنوں تک ان لوگوں کے درس کا مقابلہ اور موازنہ بہ غائر نظر حضرت میاں صاحب کے درس سے کرتا رہا۔ بالآخر میرے دل نے یہی فیصلہ کیا کہ حضرت میاں صاحب کے درس میں بالکل نرالا پن ہے۔"
اسی طرح حضرت میاں صاحب کے درس کی تعریف کرتے ہوئے مولوی محمد عبداللہ بازید پوری (1328ھ) فرماتے ہیں:
"میں مفتی صدرالدین خاں (1285ھ) صدر الصدور دہلی سے کتبِ درسیہ پڑھتا تھا اور اکثر میاں صاحب کے درس میں بھی جا کر بیٹھتا تھا، طلبہ کا ہجوم رہتا اور آپ نہایت تحقیق کے ساتھ درس دیتے اور حق بات یہ ہے کہ تفسیر حدیث اور فقہ کے آپ عالم متجر تھے۔ جب تقریر کرتے تو ایک بحر مواج معلوم ہوتے"
الغرض اس دور کے تمام اہل علم حضرات نے حضرت میاں صاحب کی طرز تدریس کی تعریف کی ہے اور اس درس گاہ کے امتیاز کو تسلیم کیا اور جو عالم بھی حضرت میاں صاحب کے حلقہ درس میں بیٹھا ہے، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔
نشرِ حدیث
حضرت میاں صاحب کے ساٹھ سالہ درس حدیث کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر کے اطراف و اکناف میں علمائے حدیث نظر آنے لگے اور حضرت میاں صاحب کے تلامذہ کے ذریعہ علم حدیث کو جو فروغ ہوا، اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ مولانا عبدالحلیم شرر اپنے رسالہ "دلگداز" حیدرآباد دکن میں "مجددیت" پر ایک مضمون کے ضمن میں لکھتے ہیں:
"وہ لوگ جو مجددیت کی مسند پر بیٹھے ہیں ۔۔۔ وہ اپنی علمی تحصیل اور اپنے شاگردوں کی کثرت پر مجدد ہونے کے مدعی ہیں۔ تمام علماء کے گروہ میں اگر کسی شخص پر یہ خطاب سجتا ہے تو وہ شیخ الکل، مسندالوقت جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی ہیں کیونکہ ان کی برکت سے محبتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پابندیِ سُننِ رسول ہندوستان میں پھیلی اور مولانا ممدوح کی کوشش سے اس مقدس علم کو ایسا رواج ہوا کہ آج ہر شہر اور ہر قصبہ میں کچھ نہ کچھ چرچا ضروری ہے۔"
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
"اہل حدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات بھی قابل قدر ہیں۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اور مولانا سید نذیر حسین کی تدریس سے برا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانے تک علمائے اہل حدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہسوان اور اعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کرتے رہے۔ شیخ حسین عرب یمنی ان سب کے سرخیل تھے اور دہلی میں مولانا سید نذیر حسین کی مسند درس بچھی ہوئی تھی اور جوق در جوق طالبینِ حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درسگاہ کا رخ کر رہے تھے۔ ان کی درسگاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں سے ایک مولانا ابراہیم آروی تھے جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال قائم کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔ اس درسگاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق مرحوم (صاحبِ عون المعبود) جنہوں نے کتب حدیث کی جمع و اشاعت کو اپنی زندگی اور دولت کا نصب العین قرار دیا اور اس میں وہ کامیاب ہوئے۔ اس درسگاہ کے تیسرے نامور حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری ہیں جنہوں نے درس و تدریس کے ذریعہ خدمت کی اور کہا جا سکتا ہے کہ مولانا سید نذیر حسین کے بعد درس کا اتنا بڑا حلقہ اور شاگردوں کا مجمع اِن کے سوا کسی اور کو اُن کے شاگردوں میں سے نہیں ملا۔ اس درسگاہ کے ایک اور نامور تربیت یافتہ ہمارے ضلع اعظم گڑھ کے مولانا عبدالرحمٰن صاحب مرحوم مبارکپوری تھے جنہوں نے تدریس و تحدیث کے ساتھ جامع ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی لکھی۔
اس درسگاہ کے اثرات پورے ملک میں، شہروں سے لے کر دیہات تک پھیل گئے اور پھر اندرون ملک سے نکل کر بیرون ممالک چکے گئے۔
حضرت میاں صاحب اور ان کے تلامذہ کی تبلیغی مساعی کا یہ فائدہ ہوا کہ مدتوں سے تقلیدی جمود کی وجہ سے طبائع میں جو زنگ جم چکا تھا، وہ دور ہو گیا۔ اجتہاد کے در وا ہو گئے اور لوگ از سر نو تحقیق و کاوش کے عادی ہو گئے۔ بلاواسطہ کتاب و سنت سے استدلال کی طرف متوجہ ہو گئے اور مقلدین بھی مجبور ہو گئے کہ اپنے مسلک کی تائید کے لئے کتاب و سنت سے دلائل مہیا کریں۔ اب کنز و قدوری کے مسائل ختم ہو گئے، رسوم و بدعات کی تردید نے اصلاح معاشرہ کی صورت اختیار کر لی۔
الغرض یہ تمام برکات اس درسگاہ کا نتیجہ تھیں جس نے اپنے ستر سالہ درس حدیث سے تحریک اہل حدیث کو نیا جنم دیا"
استاد محترم مولانا محمد اسماعیل سلفی اپنے ایک مقالہ (اہل حدیث کے تین دور) میں تحریکِ اہل حدیث کے دور اول کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس ظرف میں سیاسیات سے تھکے ماندے دماغوں نے اپنے ئے اصلاح کی ایک ٹھوس راہ تجویز کی تاکہ مشغول بھی رہیں اور سستا کر کچھ خدمت بھی کر لیں۔ اس لئے ہندوستان کے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کتاب و سنت کی اشاعت انہیں سب سے بہتر نظر آئی جسے شروع کر دیا گیا۔
یہ کام جس ماحول میں شروع کیا گیا وہ بھی ایک جہاد تھا اور مشکلات کا لامتناہی سلسلہ سدِ راہ بنا ہوا تھا۔۔تاہم ان مشکلات کے باوجود یہ ایک وقت کی ضرورت تھی اور ملاءِ اعلیٰ کی اس خاکستان کے لئے حقیقی خواہش۔۔۔گویا آن کی آن میں دہلی پھاٹک جشن خان کے ایک تنگ و تاریک کوچہ میں ایک دارالعلوم بن گیا جس میں اصحابِ صفہ کے جنود مجندہ اطرافِ عالم سے جمع ہونے لگے اور يضرب الناس اكباد الابل کا سماں نظر آنے لگا اور چند سالوں میں اس سراجِ منیر نے تقریبا دنیا کے مشرق و مغرب تک اپنی روشنی پھیلا دی۔ تعجب ہے کہ وہاں نہ کوئی کالج نما عمارت ہے اور نہ عظیم الشان بلڈنگ لیکن کثرتِ تلامذہ کا یہ حال ہے کہ دنیا کے کسی گوشہ میں چلے جائیے، اہل علم کی محفلوں میں آپ کو اس مقدس درسگاہ کے تذکرے ملیں گے۔(32)
مولانا عبدالمالک آروی حضرت میاں صاحب مرحوم کے متعلق لکھتے ہیں:
"تیرھویں صدی میں بہار کے اندر ایک ایسی ہستی کا تولد ہوا جس نے نہ صرف ہندوستان میں اپنے علوم و معارف کی ضیا باریوں سے روشنی پھیلائی بلکہ عرب و عجم، مصر، عراق و ترکستان بھی اس کی روشنیوں سے جگمگا اُٹھا۔ اس کا سینہ گنجینہ معانی تھا۔ اس کی روح پُر فتوح میں فیوض لدنی اور افاداتِ معنوی کا ایسا جوہر تھا کہ اس نے اپنی آغوشِ تربیت میں بڑے بڑے نونہالان علم و عرفان پیدا کئے۔ اس کے حلقہ درس میں سے ایسے طلبہ حاشیہ نشین ہوئے جنہوں نے اپنے عصر میں عالمگیر شہرت و عزت حاصل کی۔ ہندوستان بالعموم اور صوبہ بہار بالخصوص اس علامہ دھر پر جتنا فخر کرے کم ہے۔"
مولانا سید نذیر حسین اپنے عہد کے شیخ نجم الدین کبری تھے۔ حضرت شیخ کے فیوضِ روحانی سے سیف الدین باخرزمی، خواجہ بہاؤ الدین بغدادی، سد الدین حمدی، بابا کمال الدین جندی اور رضی الدین جیسے مشاھیر صوفیہ پیدا ہوئے۔ ہمارے بہاری محدث نے مولانا محمد حسین بتالوی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا محمد شمس الحق ڈیانوی، حافظ ابراہیم آروی اور مولانا عبدالوھاب دہلوی جیسے فضلاء پیدا کئے۔
الغرض حضرت میاں صاحب کی اس درسگاہ سے ہزاروں علماء و فضلاء فارغ ہوئے اور مختلف طبقات کے اعتبار سے انہوں نے تبلیغ و تدریس، تصنیف و تالیف، اعداءِ اسلام سے جہاد، اور اسلام سے دفاع وغیرہ ہر شعبہ میں کام کیا۔ اس طرح کتاب و سنت کی نشر و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔(33)
چنانچہ مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم اپنے ایک مقالہ میں رقم طراز ہیں:
"حضرت میاں صاحب کے تلامذہ کے مزاج اور طریق کار میں عجیب تنوع نظر آتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک نے اپنی استعداد کے مطابق مرحوم سے اثر لیا۔ حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا محمد ابراہیم آروی اورحاجی علی جان کا خاندان انگریز کے خلاف تحریکِ مجاہدین میں شامل ہو گئے اور تحریک مجاہدین جب 1831ء کو زیر زمین چلی گئی تو ان حضرات کی مخلصانہ مساعی سے یہ تحریک زندہ رہی اور 1947ء تک حکومت برطانیہ کے لئے وبال جان بنی رہی۔
پنجاب میں مولانا عبدالقادر قصوری، مولانا عبدالاول غزنوی، مولانا فضل الہیٰ، مولانا ولی محمد فتوحی والے اور مولانا اکبر شاہ اس تحریک کے سرگرم رکن اور موید رہے۔
حضرت میاں صاحب کے تلامذہ کی ایک جماعت کا رجحان تدریس کی طرف تھا، چنانچہ مولانا محمد بشیر سہسوانی، مولانا حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری، مولانا عبدالجبار غزنوی، حافظ عبدالمنان وزیرآبادی اور مولانا حافظ محمد لکھوی وغیرہم نے تدریس کے ذریعہ کتاب و سنت اور علوم اسلامیہ کی نشر و اشاعت کی حتیٰ کہ اس کے اثرات بڑے شہروں سے تجاوز کر کے قصبات اور دیہات تک پہنچ گئے۔
حضرت میاں صاحب کے کچھ تلامذہ تصنیف و تالیف کی طرف مائل ہو گئے، جن میں مولانا شمس الحق ڈیانوی، مولانا عبدالرحمن مبارکپوری، مولانا امیر علی صاحب، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا حافظ محمد صاحب لکھوی اور مولانا عبداللہ امرتسری (روپڑی) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔(34)
ایک دوسرے مقام پر استاد محترم سلفی مرحوم لکھتے ہیں:
"دس و تدریس کے اہم اوقاتِ مشغلہ کے باوجود میاں صاحب ملکی حالات اور ملی تقاجوں سے بھی بے خبر نہ تھے اور ولہی اللہی خاندان کی جس مسند کے وارث تھے، اس کی نزاکت و اہمیت کا موصوف کو پورا احساس تھا۔ اس بنا پر تلامذہ کی تربیت بھی اسی رنگ میں کی اور جو علماء حضرت میاں صاحب کی درسگاہ سے کامل ہو کر نکلے، انہوں نے ایک طرف درس و افتاء، اصلاح معاشرہ اور رسوم و بدعات کی تردید کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔"
استاد محترم الفاظ میں اس دور کا خالہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں:
"تحریک کا یہ دور ایک ٹھوس دور ہے جس میں بظاہر سیاست کی چاشنی نظر نہیں آتی لیکن درس و تدریس کی مسندیں ضرور مزین نظر آتی ہیں۔ جن کو مقدس اور فرشتہ سیرت انسانوں نے زینت بخشی ہے۔ انہی مجالس کے باقیات صالحات سے مولانا محمد بشیر سہسوانی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، حافظ عبداللہ گازی پوری، مولانا سید شریف الحسن دہلوی، مولانا شمس الحق ڈیانوی، مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری، امام عبداللہ غزنوی، امام عبدالجبار غزنوی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور مولانا محمد حسین بٹالوی جیسے سینکڑوں اقمارِ علم نظر آئیں گے۔"
تلامذہ
الغرض حضرت میاں صاحب کے کثرتِ تلامذہ اور ان کے متنوع اور مختلف طبقات سے کسی کو انکار نہیں۔ مولانا سید عبدالحی حسنی، تلامذہ کی کثرت پر لکھتے ہیں:
(وأما تلامذته فعلى طبقات، فمهم العالمون الناقدون، المعروفون، فلعلهم يبلغون إلى ألف نفس، ومنهم المقاربون بالطبقة الأولى في بعض الأوصاف، ومنهم من يلي الطبقة الثانية، وأهل هاتين الطبقتين يبلغون إلى الآلاف.)
اور مولانا شمس المحدثین نے بھی گایۃ المقصود میں تلامذہ کے طبقات کا ذکر نہایت مؤثر انداز میں کیا ہے اور ممتاز تلامذہ کی فہرست بھی دی ہے۔ ہم غایۃ مقصود اور دیگر ذرائع سے ان اسماء گرامی کو نقل کرتے ہیں:
(1)السید السند المولوی شریف حسین المتوفی 1304ھ
(2) الشیخ الاجل العارف باللہ مولانا عبداللہ الغزنوی 1298ھ
(3) شیخ محمد الغزنوی بن الامام عبداللہ الغزنوی 1296ھ صاحب حاشیہ تفسیر جامع البیان
(4) امام عبدالجبار غزنوی 1332ھ
(5) علامہ فھامہ سید عبدالواحد غزنوی 1930ء
(6) مولانا عبداللہ ثانی بن عبداللہ امام غزنوی
(7) فاضلِ شہیر مولوی محمد بشیر سہسوانی 1323ھ
(8) محقق الزمن مولوی امیر الحسن سہسوانی 1291ھ
(9) الفاضل الاوحد مولوی امیر احمد سہسوانی 1306ھ
(10) فاضل شہیر فی المشرقین مولوی ابو سعید محمد حسین لاہوری 1338ھ
(11) کامل صالح عبداللہ معروف غلام رسول پنجابی 1291ھ
(12) عالم کامل صالح عبدالرحمن ابن الصالح محمد بن بارک لکھوی پنجابی 1312ھ
(13) وارثِ علوم النبی تقی ناسک مولوی الحافظ عبداللہ غازی پوری 1337ھ
(14) فاضل مولوی سعادت حسین بہاری 1360ھ
(15) کامل لوذعی مولوی علیم الدین حسین عظیم آبادی نجرنہسوی 1260—1306ھ
(16) مولانا لطف العلی بھاری متوفی 1296ھ
(17) الصالح التقی الفاضل الذکی مولوی ابو محمد ابراہیم آروی 1309ھ
(18) مولوی تلطف حسین محی الدین پوری عظیم آبادی 1334ھ
(19) ذوالکمالات الشریفۃ شیخ مدرس الحافظ عبدالمنان وزیرآبادی 1334ھ
(20) مولوی رفیع الدین شکرانوی بھاری 1338ھ
(21) مولوی نور احمد ڈیانوی عظیم آبادی
(22) ذوالفضائل الحمیدہ مولوی بدیع الزمان لکھنؤی متوفی 1304ھ
(23) قاضی محفوظ اللہ پانی پتی
(24) شیخ احمد الدہلوی 1920ء
(25) مولوی سلامت اللہ اعظم گڑھی 1322ھ / 1904ء
(26) مولوی ابو عبدالرحمن محمد پنجابی 1315ھ صاحب الحواشی الجدیدہ علی النسائی
(27) مولوی عبدالغنی بہاری (1313ھ)
(28) مولوی الہیٰ بخش بہاری
(29)  مولوی امیر علی ملیح آبادی لکھنؤی
(30) مولوی نور محمد ملتانی
(31) مولوی محمد احسن استمانی بہاری
(32) مولوی نظیر حسین آروی
(33) مولوی حافظ عبدالعزیز بن الشیخ احمد اللہ رحیم آبادی
(34) مولوی محمد عبداللہ پنجابی گیلانی
(35) مولوی محمد طاہر سلیمی
(36) مولوی عبدالجبار عمر پوری 1334ھ
(37) مولوی سید عمر عرفان ٹونکی (1265-1332ھ)
(38) مولوی محمد حسین بن عبدالستار ہزاروی (1314 صاحب تحفۃ الباقی علی الفیۃ العراقی و شرح شرح تحفۃ بالفارسیہ (مولانا محمد یونس اثری کے دادا تھے)
(39) مولوی علی نعمت پھلواری (1272ھ / 1331)
(40) فاضل کامل محمد احسن نزیل بھوپال
(41) شیخ عالم عبداللہ بن ادریس حسینی سنوسی مغربی
(42) فاضل محمد بن ناصر بن المبارک نجدی
(43) فاضل سعد بن حمد بن عتیق نجدی 1349ھ
(44) قاضی طلاخی پشاوری متوفی 1310ھ
(45) حکیم عبدالحق امرتسری 1370ھ
(46) مولانا ثناء اللہ امرتسری 1287ھ / 1367
(47) مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری 1353ھ
(48) مولانا عبدالسلام مبارکپوری 1342ھ
(49) مولانا احمد حسن دہلوی 1920ء / 1338ھ صاحب احسن التفاسیر وتنقیح الرواۃ
(50) علامہ محقق شمس الحق ڈیانوی 1329ھ
(51) حکیم عبدالحق امرتسری متوفی 1370ھ فی لاہور
(52) قاضی یوسف حسین انجانپوری 1285
(53) مولانا عبدالوھاب ملتانی دہلوی 1351ھ (موجودہ جماعت غرباء اہل حدیث کراچی کے بانی)
(54) حافظ محمد رمضان پشاوری 1920ء /1339ھ
(55) قاضی عبدالاحد حانپوری1347ھ
افکار و نظریات
شاہ ولی اللہ دہلوی کا خاندان گو مذہبا حنفی تھا مگر مقلد نہ تھا بلکہ ذہنی طور پر عمل بالحدیث کی طرف مائل تھا، چنانچہ شاہ ولی اللہ انفاس العارفین (ص 70) میں اپنے والد شاہ عبدالرحیم دہلوی کے متعلق لکھتے ہیں:
"مخفی نماند کہ حضر ایشاں در اکثر امور موافق مذہب حنفی عمل مے کردند الا بعض چیز ھا کہ بحسبِ حدیث یا وجدان مذھب دیگر ترجیح یافتد ازاں جملہ آنست کہ در اقتداء سورۃ فاتحہ مے خوانند و در جنازہ نیز"
"یہ بات مخفی نہ رہے کہ وہ اکثر امور میں حنفی مذہب کے مطابق عمل کرتے تھے لیکن بعض چیزوں میں حدیث کے مطابق عمل کرتے یا دیگر مذاہب کو ترجیح دیتے ، مثلا وہ امام کی اقتداء میں اور نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھتے تھے"
ان کے بعد شاہ ولی اللہ نے حریتِ فکر کے لئے جس حکمت عملی سے اپنے مشن کو چلایا، اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ عقد الجید اور الانصاف ایسے رسائل کے علاوہ حجۃ اللہ لکھ کر حجتِ تمام کر دی اور اصول فقہ میں شافعی اصول کو پسند فرمایا اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے ھمعات وغیرہ کتابیں تالیف کیں۔ الغرض ان حالات میں حسبِ ضرورت اوزار تیار کئے کہ مخالفین ملال ہو کر رہ گئے۔
شاہ صاحب کے بعد شاہ اسماعیل شہید نے اس مشن کی تکمیل و تجدید کے لئے تبلیغ و مواعظ کا سلسلہ جاری کیا اور تالیفات بھی شائع کیں۔ تنویر العینین اور ایضاح الحق الصریح وغیرہ جیسی کتب میں احیاء سنن اور رد بدعت پر زور دیا اور ان کے ساتھ مولانا ولایت علی صادق پوری اور دیگر اصحاب نے بھی رد تقلید اور عمل بالحدیث پر اس شدت سے زور دیا کہ تحریک اہل حدیچ کے لئے زمین ہموار ہو گئی۔ مولانا ولایت علی کے تذکرہ میں ہم بتا چکے ہیں کہ انہوں نے عمل بالسنۃ کا جذبہ شاہ شہید سے اخذ کیا اور پھر علامہ شوکانی سے تلمذ نے اس کو دو آتشہ کر دیا۔ ان علماء کے پیش نظر توحید و سنت کی اشاعت اور تقلید و بدعات اور رسومِ شرکیہ کا رد تھا تاکہ اسلامی معاشرہ قائم کیا جا سکے۔
حضرت مولانا فیاض علی جعفری بہاری جو علوم و معارف میں شہرہ آفاق تھے، 1272ھ کو جب افغانستان سے اپنے وطن عظیم آباد لوٹ رہے تھے تو دہلی میں لوگوں نے آپ سے چند سوالات کئے۔ اہل دہلی نے وہ جوابات "فیض الفیوض" نے نام سے شائع کر دئیے۔ اصل رسالہ فارسی زبان میں ہے۔
اہل دہلی کا سوال تھا کہ عام طور پر مشہور ہے کہ اجتہاد مطلق ائمہ اربعہ پر ختم ہو چکا ہے اور علامہ نفسی پر اجتہاد فی المذہب بھی اختتام پذیر ہے۔ اب اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے۔ بلکہ تقلید سے چارہ کار نہیں ہے۔ مولانا بہاری نے دلائل سے پُر زور اس نظریہ کی تردید کی اور فرمایا یہ نظریہ بلا دلیل ہے اور فرمانے لگے کہ ائمہ اربعہ کے بعد بھی مجتہد ہوتے ہیں اور اس سلسلہ میں ابوثور، امام بخاری، داؤد ظاہری، ابوجعفر طبری، شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز اور شاہ اسماعیل شہید کے نام لئے کہ یہ تمام حضرات اجتہاد مطلق میں کامل تھے اور اس جماعت کا اصول تھا کہ امام کا قول حدیثِ غیر منسوخ کے خلاف ہو تو اسے رد کر دیا جائے اور حدیث پر عمل کیا جائے۔ اسی اصول پر مولانا ولایت علی زور دیتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے فتوحاتِ مکیہ، مشارق الانوار القدسیہ، جامع الفوائد اور فتوح الغیب وغیرہ کے حوالے دئیے ہیں۔
حضرت میاں صاحب بھی اسی درس گاہ کے تربیت یافتہ تھے اور پھر اسی مسند علم کے وارث ہوئے تھے۔ حضرت کے سامنے مولانا ولایت علی مرحوم اور شاہ اسماعیل شہید کے کارنامے تھے اور اسی نظریہ کی تکمیل و تجدید میں اپنی نجات سمجھتے تھے اور طالب علمی کے دور سے ہی آپ عمل بالسنہ کی طرف مائل تھے چنانچہ مشہور ہے کہ شاہ محمد اسحٰق دہلوی نے آپ کو فتاویٰ کے جوابات لکھنے کو دئیے اور وہ جوابات جب شاہ اسحٰق صاحب نے ملاحظہ فرمائے تو اپنے ہونہار شاگرد کو داد دیتے ہوئے اور ہمت افزائی کرتے ہوئے فرمایا:
"اس لڑکے سے وہابیت کی جھلک آتی ہے"
مولانا محترم کے یہ الفاظ بہایت ہی معنی خیز تھے کیونکہ اس سے کچھ عرصہ قبل شاہ شہید کو بھی مخالفین نے رفع الیدین اور آمین بالجھر پر وہابی کے خطاب سے نواز دیا تھا گویا استاذ محترم کا سعادت مند تلمیذ کو وہابی کہنا نہ صرف لیاقت اور قابلیت کی لاجواب سند تھی بلکہ دین کی عظیم الشان خدمت سر انجام دینے کی قطعی پیش گوئی تھی "( ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ)"
چنانچہ حضرت میاں صاحب نے اس مسند پر جلوہ افروز ہوتے ہی درسِ کتاب و سنت پر ہی کفایت نہیں کی۔ نہ ہی حلقہ تلامذہ پر قناعت کی بلکہ ہندوستان بھر میں اپنے طرز عمل سے ایک سوادِ اعظم کو قولا و عملا اور عقیدۃ اہل حدیث بنا دیا اور آج پاک و ہند میں جو حدیثِ نبوی کا چرچا ہے اور تحریکِ اہل حدیث اپنے مقاصد میں کامیاب نظر آ رہی ہے تو یہ سارا کچھ اس ایک ہی شخصیت کا فیض عمل ہے جو شاہ شہید کے مشن کی تکمیل و تجدید بھی ہے۔
پھر جب حضرت شاہ شہید کی کتابوں پر رد لکھے گئے اور شاہ محمد پٹنی نے تنویر الحق کے نام سے تنویر العینین کی تردید شائع کی تو حضرت میاں صاحب بھی جلال میں آگئے اور معیارُ الحق لکھ کر علمی انداز میں امام ابوحنیفہ کی تابعیت سے لے کر ردِ تقلید اور دیگر مسائلِ مہمہ کی تحقیق شائع کی تو مخالفین گنگ ہو کر رہ گئے اور آج تک اہل حدیث اسی معیار الحق کی طرز پر اپنے مشن کو چلا رہے ہیں اور مخالفین کے الزامات کی بجائے علمی انداز تحقیق اختیار کر لیا ہے۔ ضرورت ہے کہ معیار الحق کو تصحیح و تحقیق کے ساتھ اب دوبارہ شائع کیا جائے۔
مباحثِ معیار الحق کا خلاصہ
مولانا عبدالمالک آروی لکھتے ہیں:
"اس کتاب میں حدیث و فقہ کے ایسے ایسے مسائل بیان کئے گئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے تعجب آتا ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت اتنا بڑا محدثِ جلیل بھی ہو اور فقیہِ بے بدل بھی۔ محدثین اور فقہاء کے بے شمار اختلافی مسائل اور خیالات پر عالمانہ تنقیح کی گئی ہے۔ عز الدین بن عبدالسلام، عبدالوھاب شعرانی، ابن الھمام، علامہ ابن الحاج ابنِ حاجب، قاضی عضد الدین شافعی، محب اللہ بہاری، مولانا بحر العلوم فاضل قندھاری، شامی عابد سندھی، ابن حزم، شاہ ولی اللہ، شیخ عبدالحق، ملا علی قاری، شیخ الاسلام عطاء بن حمزہ، امام طرطوسی، قاضی ابوعاصم عامری وغیرہ سے استشہاد کیا گیا ہے اور تمام مباحث اس انداز سے درج ہیں مگر مصنف علم کے دریا میں شناوری کر رہا ہے۔"
شاہ شہید کے طریق کار پر عمل کرتے ہوئے حضرت میاں صاحب نے تبرکاتِ شاہ کو مصنوعی قرار دیا اور شاہ شہید کے عمل بالحدیث سے جو شورش پیدا ہو گئی تھی، حضرت میاں صاحب کی مساعی سے لوگ عمل بالسنۃ سے مانوس نظر آنے لگ گئے۔
حضرت شاہ شہید نے حجۃ اللہ پر عمل کرنے کے لئے ایک جماعت بھی تیار کی جو رفع الیدین، آمین بالجہر وغیرہ ایسی سنن پر عمل کرتی اور علاوہ ازیں تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ تنویر العینین اور ایضاح الحقِ الصریح اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ پھر معاشرہ کی اصلاح کے لئے تقویۃ الایمان جیسی کتاب تالیف کی اور بتایا کہ جو معاشرہ بدعات و رسومِ شرکیہ سے مبرا نہ ہو، اس کو مہذب اسلامی معاشرہ نہیں کہہ سکتے خواہ وہ ظاہری لحاظ سے کتنا ہی دلآویز اور شاندار نظر آتا ہو۔ اس کتاب کی قدروقیمت جاننے والوں نے اس کی شان میں بہت کچھ کہا ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔
مگر تقلیدِ جامد کے حامیوں نے حضرت شاہ شہید کی ان اصلاحی کوششوں کو اپنے لے مضرت رساں خیال کیا اور شاہ شہید کی ان کتابوں کی تردید میں دفتر سیاہ کرنے شروع کر دئیے۔ چنانچہ کسی عالم نے تنویر الحق کتاب شائع کی اور اس طرح کچھ دوسری کتابیں لکھی گئیں جو فقہ حنفی کی تائید میں عمل بالحدیث کی تردید پر مشتمل تھیں۔ چنانچہ یہ دیکھ کر حضرت میاں صاحب از خود شاہ شہید کی کتابوں سے دفاع کے لئے کھڑے ہو گئے اور معیار الحق لکھ کر ہمیشہ کے لئے اس قصہ کو پاک کر دیا حضرت میاں صاحب کے پیش نظر دو ہی مقصد تھے۔
(1)عمل بالحدیث کی اشاعت اور ردِ بدعات (2) اجتہاد کی ضرورت اور ردِ تقلید
چنانچہ ان مقاصد کی تکمیل میں کامیاب رہے اور اپنے مشن کو تلامذہ کے سپرد کر گئے۔ الحیاة بعد المماة کے ضمیمہ میں کتبِ اصول فقہ سے اقتباسات میں یہ بات ثابت کر دی گئی ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ جیسا کہ مقلدین حنفیہ نے مشہور کر رکھا ہے۔ چنانچہ علامہ بحر العلوم شرح مسلم الثبوت میں لکھتے ہیں:
"اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اجتہادِ مطلق ائمہ اربعہ پر ختم ہو گیا ہے یہ ان کی بَڑ ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں لا سکتے۔۔۔اور اجماع کا دعویٰ تو سرے سے غلط ہے کیونکہ اس پر نہ اجماعِ بسیط ہے اور نہ مرکب"
اور یہی بات مولانا عبدالحی لکھنؤی نے اپنے رسائل میں تحریر کی ہے کہ اجتہاد کا دروازہ ائمہ اربعہ کے بعد بند نہیں ہوا۔ "حیات امام ابوحنیفہ" کے حواشی میں (ع،ج) نے سائلِ ستہ اور الفوائد البھیہ کی تعلیقات سے لکھا ہے (ص 725، 726) جو نقل در نقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
(2) معیار الحق میں حضرت میاں صاحب مرحوم نے تقلید پر بحث کے ضمن میں تقلید کی چار اقسام بیان کی ہیں جن میں سے قسم ثانی (تقلید مباح) کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت میاں صاحب کے سوانح نگار لکھتے ہیں:
"شیخ نے 1296ء میں ایک استفتاء کے جواب میں ایک تحریر لکھی جس کا نام "ثبوتِ الحق الحقیق" ہے۔ جس میں لکھتے ہیں کہ قسم ثانی تقلید جس کو میں نے معیار الحق میں مباح لکھا ہے، اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ اباحت حکم شرعی ہے لہذا تقلید تکلیفاتِ شرعیہ میں داخل نہ ہوئی۔۔۔تو لا محالہ بدعت ہو گی اس لئے ملا عبدالعظیم بن فوخ مکی نے قول سدید میں لکھا ہے:
"اللہ تعالیٰ نے کسی کو حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی ہونے کا مکلف نہیں بنایا بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور شریعت پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔"
حضرت میاں صاحب کا یہ دوسرا قول اقرب الی الصواب ہے اور امام شوکانی و دیگر محققین نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے کیونکہ تقلید نے تخرب کو جنم دیا ہے اور وحدتِ ملت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے صحیح لکھا ہے کہ اللہ کے دین میں کسی کی تقلید جائز نہیں ہے کیونکہ مفتی شارع نہیں ہے بلکہ ناقل ہے۔
وحدۃ الوجود کا الزام
بعض علماء جو شاہ ولی اللہ تحریک کے حامی ہیں، انہوں نے حضرت میاں صاحب پر محض اہل حدیث ہونے کی وجہ سے مختلف طریقوں سے مخالفت کی اور آپ پر الزامات لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ آپ پر الزام دیا کہ حضرت شاہ اسحٰق صاحب کے تلمیذ نہیں ہیں اور نہ ہی مولانا ممدوح نے آپ کو سند حدیث دی ہے۔ یہ علماء شاہ اسحٰق صاحب کی مسند نشینی کو دہلی کی بجائے دیوبند لے جاتے ہیں اور دہلی میں مسند نشینی کے مسئلہ سے پہلوتہی کر جاتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے حضرت پر ایک فرنگی عورت کو پناہ دینے پر مختلف شوشے چھوڑے ہیں حالانکہ یہ انسانی ہمدردی کے اسلامی اصول کے تحت تھی جو آج بھی ایک عالمگیر اصول ہے۔ ان لوگوں نے آپ پر جہاد کے فتویٰ پر دستخط نہ کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ چنانچہ ان تمام امور پر ہم نے اپنے مقالہ میں بحث کی ہے اور مولانا سندھی نے سب سے پہلا یہ الزام لگایا کہ سید صاحب نظریہ وحدۃ الوجود کے قائل تھے چنانچہ سید صاحب کے متعلق لکھتے ہیں:
"غزوہ دہلی (1857ء) کے بعد اگرچہ بہ ضرورت نجدی تحریک اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی طرف میلان ظاہر کرتے رہتے مگر فتاویٰ عالمگیری اور ہدایہ کی تدریس کا مشغلہ اور وحدۃ الوجود کا فلسفہ، ان کی پرانی ذہنیت کا عنوان آخر تک قائم رہا"
حضرت میاں صاحب کے فتاویٰ (بعد از 1857ء) پر نظر ڈالی جائے تو فتاویٰ عالمگیری کے مشغلہ کا بہتان تو از خود ختم ہو جاتا ہے۔ یہ فتاویٰ عالمگیری کا طعن دینے والے اگر معیار الحق اور اس کی تالیف کے فتاویٰ پر نظر ڈال لیتے تو اس طعن کی جراءت نہ کرتے۔
راقم الحروف کی پُرزور رائے یہی ہے، جماعت اہل حدیث اگر اپنے مسلک کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو سید نذیر حسین کو عنوان بنائے۔ حضرت میاں صاحب پر ایک جامع سیرت شائع کرے جو حضرت کی زندگی کے جملہ پہلوؤں پر حاوی ہو اور معیار الحق کو دوبارہ کامل بلکہ اکمل صورت میں شائع کرے۔
اب ہم حضرت میاں صاحب کے شمس العلماء کے خطاب، سفر حج اور تحریک جہاد میں حضرت صاحب کی مساعی کو قارئین کے سامنے رکھتے ہیں۔ اللہ الموفق (وحدۃ الوجود کے الزام پر ایک مستقل مقالہ درکار ہے)
آثارِ علمیہ
حضرت میاں صاحب کو تدریسی مشاغل سے بہت کم فرصت ملی ہے، اس لئے گویا تالیفی کام کی طرف توجہ نہیں دے سکے مگر پھر بھی آپ کے قلمی افاضات پر نظر ڈالی جائے تو ضرورت کے لحاظ سے بہت کافی نظر آتے ہیں اور ان تمام کا تعلق مسلک کے دفاع اور عمل بالسنۃ کی تحریک کے ساتھ ہے۔
(1)"معیار الحق" جو تنویرُ الحق کا جواب ہے۔
(2) رسائل: "(واقعة الفتوى، ثبوت الحق الحقيق، فلاح الولى، الدليل المحكم على نفى اثر القدم)"
(3) فتاویٰ جات: مولانا شمس الحق محدث عظیم آبادی لکھتے ہیں:
کچھ فتاویٰ رسائل کی شکل میں ہیں جو دو سو کے قریب ہیں اور متوسط اور مختصر۔ اگر سب کو جمع کر دیا جائے تو تقریبا دس ضخیم جلدیں بن جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے مضامین جو حوادث و نوازل کے ضمن میں لکھے گئے ہیں وہ غیر محصور ہیں۔ مولانا شمس الحق کا یہ اندازہ 1304ھ کا ہے جبکہ اس کے بعد حضرت صاحب پورے سولہ سال زندہ رہے ہیں اور تدریس و افادہ اور تربیت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے ہیں۔
شمسُ العلماء کا خطاب
جو لوگ حضرت میاں صاحب کے مسلکا مخالف تھے، انہوں نے میاں صاحب پر یہ بھی طعن کیا کہ آپ برٹش گورنمنٹ کے وفادار تھے اور اس وفاداری کے صلہ میں آپ کو شمسُ العلماء کا خطاب  ملا تھا۔ اِن مخالفین میں مولوی ذکاءاللہ اور دوسرے مقالہ نگار حضرات نے رنگ آمیز باتیں کر کے بہت سے اوراق سیاہ کئے ہیں۔ اِن کے جواب میں ہم تو صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس خطاب یافتہ ہونے میں حضرت میاں صاحب منفرد نہ تھے بلکہ اس دور میں بہت سے علماء اور ممتاز لوگوں کو اس قسم کے خطابات سے نوازا گیا تھا اور یہ برٹش گورنمنٹ آف انڈیا کی ڈپلومیسی کا ایک حصہ تھا اور جن علماء کو یہ خطابات دئیے گئے تھے، وہ بھی اس سے بے خبر نہ تھے گو اس سیاسی ڈرامہ میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور خوشی کا اظہار بھی کیا۔
مولانا شبلی نعمانی ہی کو لیجئے کہ وہ اس دور میں ایک پُرجوش نوجوان عالم تھے اور سرسید احمد خان کے رفقاء میں شامل ہو کر قومی کردار ادا کر رہے تھے۔ علی گڑھ کالج کے لسانُ الرجال بنے ہوئے تھے، ان کو سرسید احمد خاں کی تجویز و سفارش پر جب یہ خطاب ملا تو انہوں نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور کالج کے لئے اشتہار کا ذریعہ بنایا، چنانچہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"مولانا کو شمسُ العلماء کا خطاب ملنا کوئی اہم واقعہ نہ تھا جس کا خاص طور سے ذکر کیا جاتا لیکن چونکہ سرسید کے کالج میں اس کے پروفیسر کو سرکاری خطاب ملنے کا پہلا واقعہ تھا اور سرسید کے رفقاء میں اس کی پہلی نظیر تھی اس لئے اس سے اپنے مقاصد کے لئے اشتہار کا کام لیا گیا"
اس سے ظاہر ہے کہ یہ ساری خوشی استقبالئے اور جلسے صرف کالج کے مفاد کی خاطر ترتیب دئیے گئے تھے اور ان جلسوں میں مولانا شبلی نے انگریز گورنمنٹ کی جو تعریف کی اور اس کی حسنِ انتظام کو بنظر استحسان دیکھا تو سب کچھ کالج کے لئے کچھ مفاد حاصل کرنے کے لئے تھا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ سر سید احمد خان مرحوم کے ایماء پر کیا گیا، ورنہ شبلی مرحوم حقیقت سے آگاہ تھے چنانچہ سید سلیمان ندوی جلسے کی کاروائی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"سب سے اخیر میں مولانا کھڑے ہوئے اور سب کے جواب میں شکریہ آمیز تقریر فرمائی۔ اس تقریر پر اس حیثیت سے نظر رہے کہ بادہ مدح و توصیف کے اتنے پے در پے پیالوں کے بعد بھی ان کا دماغ برجا ہے اور اس شاہی خطاب کی وہ وہی حقیقت سمجھتے ہیں جو اس کی حقیقت ہے"
اب مولانا شبلی مرحوم کی تقریر کا اقتباس پڑھئے، وہ فرماتے ہیں:
"اے حضرات! اگرچہ میں انگریزی گورنمنٹ کی نہایت قدر اور عزت کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس کے تمام احکام اور قاعدے سیاست اور انتظام کے اعلیٰ اصول پر مبنی ہیں اور اس بنا پر اس خطاب کی بھی جو گورنمنٹ نے مہربانی سے مجھ کو عطا کیا ہے، نہایت قدر و منزلت کرتا ہوں لیکن میں آپ کو کافی یقین دلاتا ہوں کہ میں اس خطاب کی جو قوم کی طرف سے دیا جائے، گورنمنٹ کے خطاب سے کم عزت نہیں کرتا"(35)
"حضرات! اگرچہ کسی ایسے شخص کو جو علم کی خدمت کرنا چاہتا ہے کسی قسم کے خطاب کی خواہش کرنا یا خطابات کو اپنی خدمت کا صلہ سمجھنا ایک قسم کی تنگی حوصلگی ہے۔۔"(35)
مولانا شبلی کے اس عطائے خطاب پر پسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اخبارات نے مضامین لکھے اور اکثر  بزرگان، قوم نے بذریعہ خط مولانا کو مبارکباد دی لیکن مولانا شبلی نے ان سب کے جواب میں جو شکریہ آمیز تحریر شائع کی اس میں مولانا شبلی نے پھر اپنے الفاظ کا اعادہ کیا اور لکھا:
"مسلمانوں کے عہد حکومت میں اور آج بھی جہاں اسلامی حکومت ہے وہاں کی حکومت کے عطا کردہ خباطات سے قومی خطابات کی عزت زیادہ کی جاتی ہے" (حیاتِ شبلی رحمۃ اللہ علیہ ص 261)
مندرجہ بالا اقتباسات سے ظاہر ہے کہ (بقول سید صاحب) اس پورے سیاسی ڈرامہ میں جو اسٹیجوں پر کھیلا گیا، مولانا شبلی کی نظر حقیقت کی بلند سطح سے نیچے نہیں اتری۔
حضرت میاں صاحب طبعا ہی اس قسم کی دلچسپیوں سے متنفر تھے چنانچہ صاحبُ الحیاۃ بعد المماۃ لکھتے ہیں:
"جن لوگوں کو شیخ کے دیکھنے اور کچھ دنوں بھی ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہے، وہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ عموما خطاب پانے والے، خطاب کے لئے جو کچھ کوششیں کرتے ہیں، آپ کی طبیعت میں بالفطرہ اس کا مادہ نہ تھا، وہ تدین، زہد و تقویٰ اور درویشی میں جس طرح ثابت قدم اور مستقیم الحال تھے، ویسے ہی ان امور کی جانب سے نہایت ہی لا ابالی اور بے پرواہ تھے"
حضرت میاں صاحب کی طبیعت کا یہ صحیح تجزیہ ہے۔ آپ نے اس خطاب کے لئے کوشش تو کیا کرنا تھا، جب لوگ اس خطاب و خلعت کے بعد آپ سے ملے تو حضرت نے اس وقت کے سیاسی حالات کے پیش نظر صرف یہی فرمایا:
"ہم غریب آدمی خلعت و خطاب لے کر کیا کریں گے، خلعتِ خطاب تو بڑے آدمیوں کو ملنا چاہئے ہم کو دنیا لا حاصل ہے"
پھر کچھ گفت و شنید کے بعد آپ نے اسی قدر فرمایا:
"اچھا صاحب! آپ حاکم ہیں جو چاہیں کہیں"(36)
اب اس گفتگو سے قارئین خود ہی اندازہ لگائیں کہ ان الفاظ میں وفاداری یا خوشنودی کا اظہار ہے یا کراہت و نفرت کا، پھر جب کبھی حضرت میاں صاحب کے سامنے اس خطاب کا تذکرہ ہوتا تو آپ سادگی سے فرماتے۔
"میاں خطاب سے کیا ہوتا ہے ہمارے لئے تو پورا خطاب قرآن مجید میں "( حَنِيفًا مُّسْلِمًا)" کا موجود ہے۔ دنیا کو خطاب سلاطین سے ملا کرتا ہے، مجھے تو کوئی نذیر کہے تو کیا اور شمسُ العلماء کہے تو کیا، میں نہایت خوش ہوں کہ ہر ایک میاں صاحب کہتا ہے"
"بھائی سادات کے لئے پیارا لفظ اس سے بڑھ کر نہیں ہے۔ اس لفظ کی برکات سے میری  درویشانہ طرز میں فرق نہ آئے تو بس یہی خدا کا فضل ہے"
پھر جب یہ خطاب مشہور ہوا تو رسالہ "دلگداز" کے ایڈیٹر نے اس پر مضمون لکھا جس کا حاصل یہ تھا:
"مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مدظلہ کی عزت افزائی تو اس خطاب سے ہو ہی نہیں سکتی لیکن اس خطاب کو عزت اور شرف اس نام کی برکت سے ضرور حاصل ہوا ہے"
اب ان حقائق کی روشنی میں قارئین خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ خطاب کس وفاداری کا صلہ تھا اور کون سی خدمات کا بدلہ ظاہر ہے کہ اس نوع کی کوئی چیز نہ تھی بلکہ گورنمنٹ انڈیا اپنی حکمتِ عملی اور ڈپلومیسی سے اس قسم کے حربے استعمال کر رہی تھی تاکہ ممتاز اور اہل علم لوگوں پر قابو پایا جا سکے مگر حضرت میاں صاحب نے "ہم کو دنیا لا حاصل ہے" کے جملہ سے گورنمنٹ کو متنبہ کر دیا تھا کہ یہ امید نہ رکھیں کہ اس قسم کے خطابات سے خریدا جا سکتا ہے۔ گویا حضرت میاں صاحب اپنے طرز عمل سے اس خطاب کو ٹھکرا رہے ہیں اور اگر صریح لفظوں میں اس سے انکار نہیں کیا تو یہ اس وقت کی سیاسی فضا کی مصلحت تھی۔ چنانچہ دیکھتے ہیں کہ اس دور میں اہل حدیث گورنمنٹ کی نظر میں سخت معتوب رہ چکے تھے اور وہابی اور باغی کے الفاظ مترادف بن چکے تھے اور بغاوت کے الزام میں وہابیوں پر کئی ایک مقدمات چل چکے تھے اور بہت سے علماء سزایاب بھی ہو چکے تھے۔ ادھر معاندین کی اشتعال انگزیوں کی وجہ سے حنفی عوام برابر اس موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ کہیں موقع ملے تو وہابیوں پر بغاوت اور بدخواہی کا الزام لگا کر انگریز افسروں کو ان کے خلاف بھڑکایا جائے۔ خود حضرت میاں صاحب ایک مقدمہ کے سلسلہ میں گرفتار ہو کر تقریبا ایک سال تک جیل میں نظر بند رہ چکے تھے جس کا ذکر سیاسی زندگی میں آ رہا ہے۔ اس طرح خطرہ تھا کہ جماعت اہل حدیث پر پھر مصیبت و ابتلاء کا دور شروع نہ ہو جائے یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے میاں صاحب نے اغماض سے کام لیا اور پھر مولانا شبلی نعمانی کے علاوہ جن علماء کو اس خطاب سے نوازا گیا، ان میں شمس العلماء مولانا عبدالحق خیرآبادی صاحب (خلف فضل حق خیر آبادی) شمس العلماء مولانا حافظ نذیر احمد صاحب، شمس العلماء سید احمد صاحب دہلوی، امام جامع مسجد دہلی وغیرہ حضرات بھی شامل تھے۔ ان میں بعض حضرات نے تو یہ خطاب درخواستیں گزار کر حاصل کیا اور بعض صاحبِ بخت ایسے بھی ہیں جو اس خطاب کو حاصل کرنے کے لئے شاہی دربار میں حاضر ہوتے اور انگریز حکومت کے لئے دعائیں کیں اور ان کی وفا کا اعلان کیا جس کا اندازہ مولانا شبلی نعمانی کے بیانات سے ہو سکتا ہے۔(37)
یہاں پر ہم نے مختصر طور پر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ حضرت میاں صاحب پر یہ طعن "رمتني بدائها وانسلت" والا معاملہ ہے، یہ لوگ دراصل اپنے کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں۔ ورنہ میاں صاحب کا ردِ عمل ان کے الفاظ سے ظاہر ہے۔
حضرت میاں صاحب کا سفرِ حج
حضرت شاہ محمد اسحٰق صاحب دہلوی مرحوم کی ہجرت کے بعد حضرت میاں صاحب کو ان کی جانشینی کا شرف حاصل ہوا۔ محرم 1259ھ (بمطابق فروری 1843ء) سے حضرت میاں صاحب نے مستقل طور پر درسِ حدیث کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تقریبا چالیس سال یہ خدمت سر انجام دینے کے بعد 1300ھ میں آپ کو زیارتِ حرمین شریفین کی سعادت حاصل کرنے کا شوق دامن گیر ہوا لیکن حضرت میاں صاحب کے سفر حج کی خبر مشہور ہوئی تو بدعات کی کانقاہوں اور تقلید کے ایوانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ حضرت کا یہ سفر مخالفین کے لئے موت سے کم نہ تھا۔
اہل تقلید و بدعت نے حضرت میاں صاحب کی ایذا رسانی کے منصوبے بنائے بلکہ یہ دونوں گروہ حضرت میاں صاحب کی زندگی ختم کر دینے کے درپے ہو گئے، چنانچہ تقلید و بدعت کے اس متحدہ گٹھ جوڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا آزاد لکھتے ہیں:
"ہندوستان میں چونکہ تقلید و عدم تقلید کا فتنہ زور پر تھا اور مولانا نذیر حسین (میاں صاحب) غیر مقلدین کے سب سے بڑے امام سمجھے جاتے تھے، اس لئے فورا مکے میں اطلاع دے دی گئی کہ وہابیہ کا سب سے برا سرغنہ آ رہا ہے۔ اگر یہاں کوئی کاروائی نہ کی گئی تو اس بات کو وہابی، حجاز میں اپنی فتح سے تعبیر کریں گے اور عوام میں اس سے بہت بڑا فتنہ واقع ہو گا"(38)
اہل تقلید نے اس سے پیشتر ہی تحریکِ اہل حدیث (تحریکِ وہابیت) کے خلاف فضا کو مسموم کر رکھا تھا اور ہم دیکھتے ہیں کہ اہل تقلید نے اس تحریک کے خلاف منافرت پھیلانے کے لئے بہت سے کتابچوں کی نشر و اشاعت کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا اور تحریکِ جہاد اور تحریکِ اہل حدیث کا فورم چونکہ ایک ہی خمیر سے اُبھر رہا تھا، اس لئے مخالفین تحریکِ اہل حدیث کو بھی تحریکِ وہابیت کا نام دیتے اور مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کرتے چنانچہ ان کتابچوں میں ایک انتہائی زہریلا رسالہ وہ ہے جو مولانا محمد لدھیانوی نے اہل حدیث کی مخالفت میں لکھا اور عظیم آباد پٹنہ پہنچ کر اسے شائع کیا اور منافرت کی آگ بھڑکا دی۔
لدھیانہ کے اس خاندان کو ہمیشہ سے یہ شرف حاصل رہا ہے کہ وہ اہل حدیث کی مخالفت کی ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ اس رسالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد حسین بٹالوی اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں لکھتے ہیں:
"لدھیانہ کے ایک مولوی نے صوبہ بہار پہنچ کر اہل حدیث کو مسجدوں سے نکالنے میں بہت زور لگایا اور اس مضمون کا ایک رسالہ جس کا نام نامی (انتظام المساجد باخراج اہل الفتن والمفاسد) ہے، عظیم آباد پٹنہ میں چھپوا کر مشتہر کیا،اِس میں آپ نے اہل حدیث کو قتل کر ڈالنے کا فتویٰ دیا ہے"(39)
الغرض جب حضرت میاں صاحب نے سفر حج کی تیاری شروع کی تو مخالفین بھی میاں صاحب کے خلاف مسلح ہو کر میدان میں اتر آئے اور اہل حدیث کی طرف جھوٹے عقائد اور غلط مسائل منسوب کرنے اور ان کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ جامع الشواھد نامی رسالہ ترتیب دیا گیا جس پر بہت سے علماء نے دستخظ کئے، اس رسالہ کے ص 11 پر علمائے دیوبند کے دستخطوں کے ساتھ مرقوم ہے۔
"عقائد اس جماعت کے جب خلاف جمہور ہیں تو بدعتی ہونا ظاہر ہے اور مثل تجسیم اور تحلیل چار سے زیادہ ازدواج کے اور تجویز تقیہ، اور برا کہنا سلف صالحین کو فسق یا کفر کے ساتھ تو اب نماز، نکاح اور ذبیحہ میں ان سے احتیاط چاہئے"
(1)حررہ محمد یعقوب النانوتوی عفی عنہ ابن الشیخ مولانا مملوک علی النانوتوی 1302ھ
(2) رشید احمد گنگوہی عفی عنہ 1323ھ
(3) محمد محمود دیوبندی عفی عنہ
(4) محمود حسن عفی عنہ 1339ھ
(5) ابوالخیرات سید احمد عفی عنہ
اور مولانا محمد لدھیانوی کا فتویٰ ملاحظہ ہو:
"پس جبکہ روکنا مسجد سے بسبب موجود ہونے ایک امر کے امور مذکورہ سے، درست ہوا تو غیر مقلدوں کو جو جامعِ امورِ مذکورہ ہیں، نکالنا بطریق اولی درست ہوا اور بسببِ طوق امر باطنی کے جو جُذام سے بڑھ کر ہے اور مساجد میں ان کے آنے سے فتنہ و فساد بپا ہوتا ہے ۔۔۔ باقی تحقیق اس مسئلہ کی رسالہ انتظام المساجد میں، جو اس عاجز کی تالیف ہے، موجود ہے"
حزم و احتیاط اور فراستِ مومن کا مظاہرہ
ان حالات میں حضرت میاں صاحب کو خطرہ محسوس ہوا اور بالکل بجا محسوس ہوا کہ جب  اندرونِ ملک اگر ان لوگوں کی فتنہ سامانیوں اور شرانگیزیوں کا یہ حال ہے تو عین ممکن ہے کہ سفر حج کے اس موقع پر بھی یہ لوگ شرارت کریں اور حجاز کی حنفی حکومت کو میرے خلاف بھڑکا کر مجھے نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروفِ کار ہوں خصوصا جبکہ بعض معتبر حجاج کی زبان سے بھی ایسی دھمکیاں سن چکے تھے خصوصا حجاز میں مولوی رحمت اللہ کیرانوی جیسے متعصب شخص کی موجودگی حجاج کی اس روایت کو تقویت پہنچا رہی تھی جو 1857ء کے بعد سے وہاں مقیم تھے۔ چنانچہ مولانا بٹالوی ہی رقم طراز ہیں:
"تھوڑا عرصہ ہوا کہ مکہ میں بعض لوگ بارادہ حج پہنچے تو اس (مولوی رحمت اللہ کیرانوی) کی زبان سے یہ بات سن آئے ہیں کہ اگر مولوی نذیر حسین ایک دفعہ یہاں آ جائے تو پھر جان سلامت نہ لے جاوے، یہ بات مجھے ایسے شخص سے پہنچی ہے جس کو ولی مادر زاد کہہ سکتا ہوں اور میں خود بھی جب مکہ میں مقیم تھا تو مولوی رحمت اللہ کی زبان سے مولانا ممدوح کے حق میں مغلظ دشنام سن چکا تھا۔ اسی دن سے میں نے مکہ سے کوچ کرنے کا قصد کیا ورنہ میں حج کے بعد سال بھر کا ارادہ قیام رکھتا تھا"(40)
الغرض حالات کی خطرناکی حضرت میاں صاحب کی نگاہوں کے سامنے تھی کیا یہ ضروری نہ تھا کہ حضرت صاحب اپنی حفاظت کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرنے اور حجاز کی حکومت کے دباؤ سے بچنے کے لئے وقت کی حکومت سے تعاون طلب کرتے جو عین اخلاق کے مطابق تھا۔ چنانچہ آپ نے حفظِ ما تقدم کے طور پر انگریز کمشنر سے ایک تحریر لے لی کہ کسی بھی برطانوی افسر سے اگر آپ بوقتِ ضرورت تعاون کے خواہشمند ہوں تو وہ آپ سے تعاون کرے اور یہ چھٹی 10 اگست کو تحریر کی گئی۔
ایک دوسری چھٹی مسٹرلین سے لی جو جدہ میں مقیم برطانوی سفارت کے نام تھی۔
دہلی سے روانگی اور مخالفین کی سازشیں
سفر حج کی تفصیلات رسالہ اشاعتُ السنۃ، جلد ششم، الحیاۃ بعد المماۃ اور "مولانا آزاد کی کہانی اُن کی اپنی زبانی" میں مذکور ہیں مگر اصل ماخذ رسالہ اشاعت السنہ اور الحیاۃ بعد المماۃ ہی ہیں چنانچہ ہم ان دونوں کتابوں سے تہذیب و تنقیح کے بعد اسے پیش کرتے ہیں۔ مولانا بٹالوی لکھتے ہیں:
"چنانچہ حضرت میاں صاحب ضروری انتظامات کے بعد دہلی سے روانہ ہوئے تو مولانا ممدوح کے حریفوں نے چند اشخاص کو مختلف مواضع (پنجاب، دیوبند، دہلی، بدایوں وغیرہ) سے اِسی گلابی چو ورقہ رسالہ کے ساتھ روانہ کر دیا(41)، مولانا بٹالوی کے الفاظ میں "پہلے تو یاروں نے بمبئی پہنچ کر مولانا ممدوح پر وار کرنا چاہا اور چند علماء بمبئی کو اپنے ساتھ ملا کر اس گلابی چو ورقہ کے سوالات میں کچھ اور کفریات بڑھا کر مولانا ممدوح کے سامنے پیش کیا جس سے مقصود ان حضرات کا صرف یہ تھا کہ ان سوالات سراسر افتراءات کو سن کو مولانا ممدوح اور آپ کے رفقاء کو خواہ مخواہ طیش و جوش آئے گا اور اس سے معاملہ طول پکڑے گا۔
مگر مولانا ممدوح ان کی غرض کو تاڑ گئے اور سوالات سن کر صاف فرما دیا کہ یہ سب باتیں مجھ پر بہتان ہیں اور ان کے معتقد کو کافر جانتا ہوں۔ مگر معاندین نے اشتعال انگیزی اور منافرت کی آگ کو اور زیادہ بھڑکانے کی کوشش کی اور اس چو ورقہ رسالہ کے علاوہ اشتہار بازی کے سلسلہ میں بھی اضافہ کر دیا بمبئی کے علماء اور اخبارات کو بھی اس مہم میں شریک کر لیا۔ مولانا خلیل الرحمٰن نے بھی اس مقدس جہاد میں سرگرمی دکھائی اور مولانا ممدوح کے خلاف اشتہار چھپوانے میں پیش پیش رہے مگر آپ نے "( وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ ، وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا)" پر عمل پیرا ہوتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی۔
بمبئی سے روانگی
پھر جب آپ بمبئی سے جہاز پر سوار ہو کر حجاز کو روانہ ہوئے تو مخالفین بھی اسی جہاز پر سوار ہو گئے اور دوران سفر بھی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے اور ایذا رسانی کے مواقع تلاش کرتے رہے مگر حضرت نے ان کو منہ نہ لگایا اس طرح آپ بخیر و عافیت جدہ پہنچ گئے اور مخالفین اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
مکہ میں مخالفین کی سرگرمیاں
حرم شریف پہنچ کر مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ یا تو مولانا ممدوح کو شہید کروا دیا جائے یا پھر شریف مکہ کو کہہ کر قید خانہ میں ڈال دیا جائے۔ اس کاروائی کو انجام تک پہنچانے کے لئے انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے صدر مولوی رحمت اللہ کیرانوی قرار پائے  اور ارکان میں حاجی امداد اللہ (المتوفی 1317ھ) مولوی عبدالقادر بدایونی (1319ھ) (خلف مولوی فضل رسول بدایونی)  مولوی خیر الدین (والد ماجد مولانا آزاد مرحوم) اور چند دیگر دیوبندی حضرات تھے۔
موسم حج میں تو مصروفیت کی وجہ سے ان کی مشاعی کارگر نہ ہو سکیں۔ منیٰ کے دنوں میں حضرت میاں صاحب کے رد بدعت و شرک کے مواعظ سے مخالفین کی آتشِ عداوت اور زیادہ تیز ہو گئی۔ آپ کے رفیق حاجی مولوی تلطف حسین نےبہتیری کوشش کی اور حضرت میاں صاحب کی منت و سماجت کرتے رہے کہ وعظ بند فرما دیں مگر آپ نے فرمایا:
"سنو صاحب! بہت جی چکا، اب زندگی کی تمنا نہیں ہے۔ امام نسائی بھی اسی حرم میں شہید ہوئے تھے جہاں میرے قتل کے منصوبے بن رہے ہیں، ہر وقت قتل ہونے کے لئے آمادہ ہوں مگر اس تبلیغ سے باز نہ آؤں گا"
ان خطابات کا ذکر حضرت میاں صاحب نے اپنے ایک مکتوب میں بھی فرمایاہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
"در مکہ و منیٰ، متضمن احیاءِ سنت و امامت بدعت روزانہ چیزے میکفتم حالانکہ نرغی دشمنان دین بود، از خدا مے خواستم کہ مثل امام نسائی جان در آنجا دہم چہ کنم کہ خاک ہندوستان و آب و ہوا دہلی مزا نگذاشتہ"(42)
"مکہ و منیٰ میں احیاءِ سنت اور ردِ بدعت کے بارے میں روزانہ مضامین بیان کئے جاتے در آں حالیکہ دشمنانِ دین کا نرغہ موجود تھا۔ ہر وقت اللہ سے یہ دعا کرتا کہ اے اللہ امام نسائی کی طرح یہاں ہی جان چلی جائے۔
مدینہ طیبہ میں حاضری
ان خطرناک سازشوں اور افسوسناک ریشہ دوانیوں کے پیش نظر، رفقاء سفر نے حضرت کو مشورہ دیا کہ آپ نے حج ادا کر لیا ہے۔ اس لئے یہیں سے واپس ہندوستان روانہ ہونا چاہئے اور مدینہ کا سفر ترک کر دینا بہتر ہے مگر حضرت کی طبیعت نے گوارا نہ کیا کہ مسجدِ نبوی کی زیارت کے بغیر واپس چلے جائیں۔
چنانچہ 23 ذی الحجہ تک مکہ معظمہ میں اسی انتظار میں ٹھہرے رہے کہ کوئی قافلہ جائے تو اس کے ساتھ روانہ ہو لیں، اسی دوران مکہ معظمہ کی انتظامیہ فارغ ہو چکی تھی اور مخالف کمیٹی کے ارکان بھی اس گہری سازش پر مطمئن تھے اور انہوں نے حضرت میاں صاحب کے خلاف پورا مواد جمع کر لیا تھا اس نے آپ کے علاوہ پانچ اور آدمیوں کے نام اور ساڑھے تین صد گواہوں کی فہرست بذریعہ محمد عمر مؤذن پاشا کے حضور پیش کر دی۔(43) درخواست میں درج تھا کہ مولوی نذیر حسین معتزلی اور وہابی ہیں اور ان کے ایسے ایسے عقائد ہیں۔
مخالفین نے سید صاحب کے خلاف استغاثہ  تیار کیا تھا۔ اس پر بہت سے جھوٹے گواہ بھی تیار کر لئے تھے جن کی تعداد سارھے تین سو بیان کی جاتی ہے۔ چنانچہ اسی روزشیخ محمد حسین نے میاں صاحب اور ان کے رفقاء کار کا کیس پاشا مکہ کی عدالت میں پیش کر دیا اور گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
چونکہ یہ گرفتاری بلاتحقیق عمل میں لائی گئی تھی، اس لئے حضرت میاں صاحب کے ساتھ بہت سے بے گناہ آدمیوں کو بھی پکڑ لیا گیا جو بعد میں چھوڑ دئیے گئے، باقی لوگ تو گھروں کو چلے گئے مگر حضرت میاں صاحب کے خادم خاص اور تلمیذِ ارشد حضرت میاں صاحب کے ساتھ ہی رہے اور انہوں نے اپنے شیخ کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
پھر گرفتاریوں کے لئے دوبارہ مہم چلائی گئی اور ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن کے نام مخبری کی رپورٹ میں شامل تھے چنانچہ جن لوگوں کو پکڑ کر لایا گیا اور ان سے سوال و جواب ہوئے۔ ان میں کچھ کے نام یہ ہیں:
ڈپٹی امدادُ العلی، شیخ محمد شہارنپوری، مولوی امیر دین، حاجی سلیمان، مولوی محمد احسن مطوف رمضانی بافندہ، مولوی جان علی، نواب بہادر وغیرہم، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سرزنش کے بعد چھوڑ دیا گیا اور بعض کو حرم بدر کر دیا گیا ہوگا، چنانچہ محدث محمد بن عبدالرحمٰن سہارنپوری (1308) کے متعلق مذکور ہے کہ ان کو تین بار مکہ مکرمہ سے نکالا گیا۔(44)
کیس کی نوعیت اور سوال و جواب
حضرت میاں صاحب کے خلاف یہ کیس کیسے تیار کیا گیا اور اس کے لئے مواد کہاں کہاں سے جمع کیا گیا تھا، اس کی تفصیل مولانا آزاد کی زبانی سنئے وہ فرماتے ہیں:
"اس زمانے میں ہندوستان میں ایک فتویٰ "جامع الشواہد" کے نام سے مرتب کیا گیا جس میں چند عقائد تو واقعی جماعت (اہل حدیث) کے تھے مگر بڑا حصہ منسوبات کا تھا یا خود الزامی طور پر ان کے عقائد سے استخراج کہا گیا تھا مثلا شمح خنزیر کی حلت، مادہ انسانی کی طہارت اور اس کا قابلِ اکل ہونا، خالہ سے مناکحت کا جواز، کذبِ باری تعالیٰ وغیرہ۔
والد مرحوم نے مولانا نذیر حسین کے عقائد کی فہرست زیادہ تر اسی "جامع الشواہد" سے اخذ کی تھی۔ البتہ معیار الحق سے تقلید کے عدم وجوب اور تقلید شخصی کے مفاسد اور امام ابوحنیفہ صاحب کی تابعیت سے تاریخی طور پر انکار اور تحدید دہ دردہ کی عدمِ صحت وغیرہ کو لے کر بہت رنگ آمیزی کے ساتھ کیا گیا تھا اور یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اس سے امام صاحب کی تحقیر و توہین مقصود ہے۔(45)
فردِ جرم
اس اقتباس میں کاص طور پر یہ جملہ قابل توجہ ہے "بہت رنگ آمیزی کے ساتھ ترجمہ کیا گیا تھا" اور یہ اس کمیٹی کا حال ہے جس کے اراکین میں حاجی امداد اللہ صاحب مرحوم جیسے روحانی پیشوا بھی شامل تھے۔ اب ہم اس کیس کے بعد جو حالات رونما ہوئے، اس کی تفصیلات سے بحث کرتے ہیں۔ مولانا آزاد مرحوم کی زبان سے سنئے، وہ فرماتے ہیں:
"بہرحال نتیجہ یہ ہوا کہ مولانا نذیر حسین اور مولانا تلطف حسین عظیم آبادی  مع ایک رفیق کےگرفتار کر لئے گئے (یہ غالبا دوسروں کی رہائی کے بعد کی بات ہے) اور ایک نہایت تاریخ و تنگ محبس میں قید کر دئیے گئے۔ چند دن بعد ان کو شریف (مکہ) نے بلایا اور بتایا کہ وہابی عقائد رکھنے کی وجہ سے تمہیں گرفتار کر لیا گیا"
دوسرے دن شریف کے ہاں ایک مجلس منعقد ہوئی اور اس میں والد مرحوم سے کہا گیا کہ ان کے عقائد کی فہرست پیش کریں۔ فہرست میں سب سے پہلا الزام امام صاحب کی توہین کا تھا اور باقی مذکور الزامات تھے۔ مولانا نذیر حسین کی طرف سے مولانا تلطف حسین تقریر کرتے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم کفار کے ملک میں رہتے ہیں جہاں کفار کی سلطنت ہےلیکن وہاں ہمارے عقائد کی وجہ سے ہمیں کوئی گزند نہیں پہنچایا جاتا"
یہاں پر اسلامی حکومت ہے، دارُالامن ہے اور بلا کسی وجہ کے گرفتار کر کے ہم مبتلائے سجن کر دئیے گئے پھر کہا کہ ہم پر یہ الزام کہ ہم وہابی ہیں اور محمد بن عبدالوھاب کی جماعت سے ہیں، بالکل غلط ہے۔ ہم قرآن و سنت کو مانتے ہیں اور اسی پر عمل کرتے ہیں"
اس پر والد صاحب نے کہا: "اجماع اور قیاس کو مانتے ہو"
اس کے جواب میں مولانا نذیر حسین نے کہا کہ ہم اجماع اور قیاس کو بھی اس طرح مانتے ہیں جس طرح ائمہ مجتہدین مانتے تھے اس پر گفتگو شروع ہوئی اور بہت سی قیل و قال ہوئی۔
اس کے بعد ان سے سوال ہوا کہ "ائمہ اربعہ" کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: "ہم انہیں اپنا سرتاج سمجھتے ہیں اور پیشوا اور برسرِ حق مانتے ہیں اور ان میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو سب سے زیادہ قابل احترام سمجھتے ہیں۔" اس پر "معیار الحق" پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا: اگر اس قسم کے مباحث امام صاحب کی توہین ہیں تو تمام وہ کتابیں بھی توہین پر ہوں گی جن میں مسائل مختلف فیہ بحث کی گئی ہے اور خود سلف نے لکھی ہیں۔ پھر ایک ایک کر کے تمام الزامات سنائے گئے۔ انہوں نے بڑے جوش سے اپنی براءت ظاہر کی۔ اس پر ثبوت میں "جامع الشواہد" پیش کی گئی، انہوں نے کہا یہ مخالفین کی چیز ہے اور ہم اس کے ذمہ دار نہیں۔ اس پر کسی پشاوری کا رسالہ پیش کیا گیا جو مولانا نذیر حسین کا شاگرد تھا مگر انہوں نے اس سے بھی اپنی لاتعلقی ظاہر کی۔
اس سے آگے مولانا آزاد فرماتے ہیں:
"یہ معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نذیر حسین مختصر و مجمل بیان دے کر معاملہ کو ختم کرنا چاہتے تھے کیونکہ سمجھتے تھے کہ تفصیلات میں پڑنا یا مباحثہ کرنا طاقت کے مقابلہ میں بے کار ہے، آخر میں انہوں نے اس بیان پر اکتفاء کی کہ ہمارا عقیدہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ہے، ائمہ اربعہ کو ہم مانتے ہیں۔ چاروں کو ہم حق پر سمجھتے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا پیشوا جانتے ہیں، ان سے بغض کو خلاف شیوہ ایمانی سمجھتے ہیں اور کتبِ فقہ پر عمل کرنا جب تک قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہو خود ہمارا شیوہ ہے"
مولانا آزاد کے والد مولوی خیر الدین اس بیان سے کیونکر مطمئن ہوتے وہ تو حضرت میاں صاحب کو مصائب میں مبتلا کرنے کے بہانے کی تلاش میں تھے اس لئے حضرت میاں صاحب کے اس بیان کو انہوں نے "مکایدِ وھابیہ" قرار دیا۔ چنانچہ مولانا آزاد ہی لکھتے ہیں:
"یہ بیان علمائے حجاز کے لئے ایک حد تک تشفی بخش ہو جاتا لیکن جیسا کہ والد صاحب مرحوم کہا کرتے تھے کہ وہ ان باتوں کو وہابیوں کے مکاید تصور کرتے تھے، کہتے تھے: میں نے یہ مکاید چلنے نہ دئیے اور کہا تفصیلا بتاؤ کہ ائمہ اربعہ میں سے کس کی تقلید کرتے ہو اور فلاں فلاں مسئلہ میں تمہارا کیا عقیدہ ہے"
حضرت میاں صاحب کا تحریر بیان
اس پر انہوں نے تیسری مجلس میں ایک تحریر پیش کی جس میں لکھا کہ میں ائمہ اربعہ کی تقلید کو فرائض و واجباتِ شرعیہ کی طرح فرض نہیں سمجھتا لیکن عوام کے لئے ۔۔۔ جب تک قران و حدیث کے خلاف نہ ہو، کتبِ فقہ متداولہ پر عمل کو مستحسن سمجھتا ہوں اس کے علاوہ فلاں فلاں عقائد اور الزامات جو میری طرف منسوب کئے ہیں ان سے بَری ہوں اورحلفیہ کہتا ہوں کہ میرے وہ عقائد نہیں ہیں۔
برٹش قونصل کی مداخلت
اس اثنا میں ان کی گرفتاری کی خبر جدہ میں برٹس قونصل کو پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنے وکیل مقیم مکہ عبدالرزاق کو لکھا جنہوں نے فورا اپنا مترجم محمد یوسف پاشا کے بھیجا جنہوں نے ترجمانی کا حق ادا کیا اور پہلی گرفتاری پر انہوں نے حضرت میاں صاحب اور ان کے رفقاء کو رہا کروا لیا مگر جب دوسری مرتبہ گرفتاری عمل میں آئی تو مترجم بھی عاجز رہا اور ناکام واپس چلا آیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کے دباؤ کے تحت پاشا مکہ بھی مجبور تھا اور اس نے فوری رہائی کو خلافِ مصلحت خیال کیا مگر بالآخر جب حضرت میاں صاحب کی پوزیشن صاف ہو گئی اور مخالفین کے پاس بھی مزید کچھ کہنے کو باقی نہ رہا تو پاشا نے سمجھ لیا کہ یہ سب کچھ حضرت میاں صاحب پر الزام و طعن ہے لہذا حکومت مکہ نے معذرت کے ساتھ حضرت صاحب کو رہا کر دیا بلکہ گورنر مکہ نے مدینہ جانے کے لئے حضرت میاں صاحب کو سفارشی چٹھی بھی دے دی۔ جس میں حضرت میاں صاحب کی براءت کا اظہار تھا تاکہ مخالفین کو مدینہ طیبہ میں شرارت کا موقع نہ ملے۔(46)
یہ تمام واقعات مولانا آزاد کی کہانی سے لئے گئے اور ساتھ ہی مولانا بٹالوی صاحب نے جو کچھ اشاعۃ السنۃ میں لکھا ہے، اس کو ملحوظ رکھا گیا۔ اشاعۃ السنۃ میں کچھ تفصیلات بھی مذکور ہیں گو مال ایک ہی ہے تاہم ان جزئیات کو ذکر کر دینا دلچسپی سے خالی نہیں۔
پاشا مکہ کی میاں صاحب کے ساتھ گفتگو
سوال: کیا خنزیر کی چربی کو آپ حلال اور پاک سمجھتے ہیں؟ نیز آپ پھوپھی اور خالہ سے مناکحت جائز سمجھتے ہیں؟
جواب: میں مسلمان ہوں اور فریضہ حج ادا کرنے آیا ہوں، اگر میں خنزیر کی چربی کو حلال سمجھتا اور خالہ، پھوپھی سے نکاح کو جائز سمجھتا جو نصِ قرآنی سے حرام ہے تو مجھے مسلمان کہلانے اور حج کے لئے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایک مسلمان سے اس طرح کا سوال قابلِ افسوس اور باعثِ تعجب ہے۔
سوال: حنفی مذہب کو آپ کیسا سمجھتے ہیں؟
جواب:آپ حنفی مذہب کی مستند کتاب منگوا لیں اور حرمین کے علماءِ احناف کو بلا لیں۔ اس کے بعد اس کتاب کا کوئی مقام آپ تجویز کریں۔ میں بھی اسے حل کروں گا پھر آپ وہی مقام اپنے علماء سے بھی حل کروائیں اس کے بعد آپ کو اندازہ ہو گا کہ حنفی مذہب کو ہم کیا سمجھتے ہیں۔
یہ جواب ایک طرح کا چیلنج تھا جسے پاشا نے بھی محسوس کیا اور اسے یقین ہو گیا یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے۔
اس قسم کے سوالات مولانا تلطف حسین سے بھی کئے گئے۔ من جملہ ان کے ایک سوال "جامع الشواہد" کے محتویات سے بھی تھا کہ کیا یہ تمہارے شیخ کی تصنیف ہے جس میں خالہ پھوپھی سے نکاح کو جائز لکھا ہے اور خنزیر کی چربی کو حلال قرار دیا ہے۔
اس کے جواب میں مولانا تلطف حسین نے کہا کہ عجیب بات ہے۔ ابھی تک تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس رسالہ کا مصنف کون ہے۔ اس کا موجوع کیا ہے اور کس کے خلاف لکھا گیا ہے۔ آپ جیسے عظیم لوگوں کی اس سے بے خبری باعث تعجب ہے۔ بھلا کوئی اپنے رد میں بھی کتاب لکھتا ہے؟
حضور والا! یہ رسالہ تو ہمارے شیخ کے خلاف لکھا گیا ہے اور اس میں حضرت پر الزامات اور اتہامات لگائے گئے ہیں، پھر جب انہوں نے اس کے صفحہ پر مہر کا ذکر کیا تو مولانا تلطف حسین نے اس مغالطہ کو رد کر دیا اور کہا کہ یہ مہر دہلی کے کسی طالب علم محمد نذیر عرف نذیر احمد کی ہے، اسے سید نذیر حسین محدث دہلوی قرار دے کر آپ کو سخت دھوکا دیا گیا ہے، بالآخر پاشا نے اعتراف کیا کہ یہ سازش ہے اور شیخ بے گناہ ہیں تو انہوں نے احترام کے ساتھ رخصت کر دیا۔
ان حقائق و واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میاں صاحب نے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے برٹش قونصل مقیم جدہ کے نام جو چٹھی لے گئے تھے، وہ ان کی عاقبت نااندیشی کی دلیل ہے اور بظاہر ان چٹھیوں نے میاں صاحب کو فائدہ بھی پہنچایا  اور قونصل کے دباؤ سے وہ خطرہ ٹل گیا جو ان علماء کی گہری سازش سے پیدا ہو گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کر دئیے کہ دشمن اپنی ناکامی کا منہ دیکھتے رہ گئے سچ ہے۔
"دشمن چہ کند چوں مہربان باشد دوست"
"جب دوست مہربان ہو تو دشمن کیا کر سکتا ہے"
حضرت میاں صاحب کی گرفتاری اور پھر رہائی کے متعلق مخالفین نے جو خبریں شائع کیں اور ان میں حضرت میاں صاحب کی پوزیشن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا مولانا آزاد مرحوم نے بڑی صفائی سے اس کا جواب دیا ہے حتیٰ کہ اس معاملہ میں اپنے والد مرحوم کی بھی رعایت نہیں کی۔ وہ فرماتے ہیں:
"یہ بات بالکل واضح ہے کہ مولانا نذیر حسین مرحوم نے اس تحریر میں ان اصولوں کے خلاف کوئی بات نہیں کہی ہے جو اہل حدیث کے اصول سمجھے جاتے ہیں نہ تقلید شخصی کے وجوب کو مانا ہے اور نہ کتب حدیث پر کتب فقہ کی ترجیح کو، صرف براءت کا اظہار ہے تاہم یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ان کے مخالفینِ مکہ اس بات کی خبریں بھیج دیں کہ انہوں نے وہابیت سے توبہ کر لی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ خود والد مرحوم، باوجود ان تمام تفصیلات کے بیان کرنے کے، کہا کرتے تھے کہ مولانا نذیر حسین نے توبہ کر لی اور زور دیتے تھے کہ انہوں نے تقلید شخصی کو مستحسن تسلیم کر لیا۔ حالانکہ یہ جماعت بھی عوام کے لئے ہمیشہ تقلید کو ضروری بلکہ واجب ٹھہراتی ہے بحث تو صرف التزام و تعیین میں ہے نہ کہ نفس تقلید میں۔(47)
ارکان کمیٹی کا تعارف
اب ہم خاتمہ بحث پر ان ارکان کا تعارف کرواتے ہیں جو ہندوستان سے ساتھ گئے تھے تاکہ جو لوگ آج حضرت میاں صاحب پر زبان طعن دراز کرتے ہیں، ان کے پہچاننے میں ہمیں کوئی مغالطہ نہ رہے۔
ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ اس کمیٹی کے صدر مولوی رحمت اللہ کیرانوی تھے جو مغربی یوپی ضلع مظفر نگر کے ایک قصبہ کیرانہ کے باشندے تھے ان کا تعارف یہ ہے کہ انہیں اپنے ایک رفیق ڈاکٹر وزیر خان اکبر آبادی کی وجہ سے عیسائیت پر کافی عبور ہو گیا تھا۔ پادریوں سے ان کے مناظرے معروف ہیں اور انہوں نے عیسائیت کے رد میں کتابیں بھی لکھی ہیں۔(48) 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد یہ لوگ بھاگ کر مکہ چلے گئے تھے مولانا آزاد لکھتے ہیں:
اس موقع پر "علماء وھابیہ" کی ایک جماعت بھی حجاز کو دارالامن سمجھ کر وہاں ہجرت کر گئی تھی مگر اچانک اس جماعت کے اکتیس آدمی گرفتار کر لئے گئے جن میں مولانا رحمت اللہ بھی تھے لیکن یہ بعد کو رہا کر دئیے گئے کیونکہ انہوں نے اپنی حنفیت کے واضح دلائل پیش کر دئیے تھے"(49)
مولانا موصوف حنفی تھے اور حنفی بھی کٹر، جن کے دل میں اہل حدیث اور ان کے مسلک کے خلاف بغض و عناد بھرا ہوا تھا۔ مولانا بٹالوی لکھتے ہیں:
اس کمیٹی کے دوسرے رکن حاجی امداداللہ (امداد حسین) (50)تھے اور تیسرے مولوی عبدالقادر بدایوانی (1319ھ) تھے جو کہ مشہور عالم مولوی فضل رسول کے صاجزادے تھے۔ ان لوگوں کا اہل حدیث سے تعصب مشہور اور ان کی تاریخ دانی ضرب المثل ہے۔ چنانچہ یہی مولوی فضل رسول اپنی کتاب "سوط الرحمٰن" میں لکھتے ہیں:
"داؤد ظاھری شیخ کا متبع تھا۔ اس کے بعد ابن حزم ظاھری پیدا ہوا، جو خبیث تھا پھر ابن حزم کا شاگرد ابن قیم ہوا اور ابن قیم کا شاگرد ابن تیمیہ، ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نیا دین نکالا بعض اشرار، بداطوار، جہلاء، فسقاء نے بلادِ اسلامیہ میں طرفہ ہنگامہ برپا کیا"
اسے پڑھئے اور قلم کی عفت اور تاریخ دانی کی داد دیجئے۔۔۔سبحان اللہ! کجا ابن حزم اور کجا ابن قیم "(بينهما مفاوز تنتقطع فيها اعناق المطى)" اور پھر مولانا عبدالقادر بھی ابن ابیہ(51) تھے اور انہوں نے تمام آداب اپنے باپ سے سیکھے تھے۔
اس کے چوتھے ممبر مولوی خیر الدین تھے۔ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کے والد مولانا مرحوم نے اپنی کتاب "آزاد کی کہانی" میں ان کے حالات قلم بند کئے ہیں۔(52)
الغرض یہ چاروں حضرات کمیٹی کے نمایاں ممبر تھے جنہوں نے حجاز میں وہابیوں کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیا تھا یعنی دو دیوبندی اور دو بریلوی تھے۔ جب یہ لوگ اپنے منصوبے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے الزام تراشی اور افواہیں پھیلانے کے لئے دوسرا پہلو اختیار کیا اور مشہور کر دیا کہ میاں صاحب نے وہاں اپنے عقائد سے توبہ کر لی ہے اور حکام سے معافی مانگ لی ہے، اس لئے انہیں رہا کر دیا گیا ہے، ایک فرضی توبہ نامہ بنا کر اردو اور عربی میں شائع کر دیا۔ مولانا بٹالوی نے اشاعت السنہ جلد نمبر 11 ص 324 پر اس کی اُردو عبارت نقل کی ہے:
"سید محمد نذیر حسین متبع سنت والجماعت عقیدۃ و عملا اور اس کے خلاف جتنے مذاہبِ ہیں خواہ رافضی، خواہ خارجی، خواہ وہابی سب کو بُرا سمجھتا ہوں اور موافقِ مذہبِ حنفی کے فتویٰ یتا ہوں اور حنفی المذہب ہوں " وتبت ما اخطات "
 حضرت میاں صاحب کے قلم کے لکھے ہوئے دو (2) سو سے زائد خطوط کا لکھا ہوا ایک مجموعہ مکاتبِ نذیریہ کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس میں فارسی اور عربی دونوں قسم کے خطوط ہیں۔ ان خطوط سے اس تحریر کا مقابلہ کر دیکھو تو طرزِ انشاء میں بہت بُعد نظر آئے گا، اب رہی اس کی تاریخی حیثیت، تو مولانا آزاد کی زبانی سنئے:
"ایک توبہ نامہ بھی مولانا نذیر حسین کا بعض رسالوں میں میری نظر سے گذرا ہے اور وہ مباحثہ مرشد آباد میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن اسی کے فرضی ہونے میں ایسی شہادتیں رکھتا ہوں جس سے زیادہ قابل اعتبار شہادتیں اور نہیں ہو سکتیں کیونکہ جو تحریر مولانا نذیر حسین نے دی تھی، وہ بارہا والد مرحوم نے مجھے حرف بہ حرف سنائی ہے اور وہ وہی ہے جس کا ذکر ابھی کر چکا ہوں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں فتنے سے بچنے کے لئے ایجابی طور پر جس وضاحت سے اُنہیں اپنے عقائد بیان کرنے چاہئے تھے، اس سے انہوں نے گریز کیا لیکن منفی طور پر انہوں نے اصلی عقائد سے ہرگز انکار نہیں کیا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے جو انہیں وہاں پیش آئے تھے ان کے اس تسامح کو کوئی بھی قابلِ الزام کمزوری نہیں قرار دے سکتا، یہ صاف ظاہر کہ اگر حریف کے ساتھ بحث و جدال میں اُتر آتے تو نتیجہ نہایت ہولناک ہوتا۔ اب ہم ذیل میں مولانا آزاد کے والد کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔
مولانا خیر الدین 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، صغر سنی میں والدین فوت ہو گئے اور اپنے نانا مولانا منور الدین کے ہاں تربیت پائی۔ مولانا منور الدین شاہ عبدالعزیز کے شاگرد اور شاہ اسماعیل شہید کے ہم درس تھے۔ سراج الہند کی وفات کے بعد جب مولانا شاہ اسماعیل شہید نے تقویۃ الایمان اور جلاء العینین لکھی اور ان کے مسلک کا ملک میں چرچا ہوا تو تمام علماء میں ہلچل پڑ گئی۔ مولانا منور الدین اس مخالفت میں پیش پیش تھے انہوں نے شاہ شہید سے ایک مناظرہ بھی کیا۔
جنگِ آزادی سے پہلے دہلی کے حالات کچھ ایسے ہو گئے کہ علماء دل برداشتہ ہو کر یہاں سے ہجرت کرنے لگ گئے ہر سال بڑی جماعت کی شکل میں جاتے جو قافلہ کہلاتا چنانچہ شاہ اسحٰق اور شاہ محمد یعقوب کے ساتھ مولانا منور الدین بھی مکہ معظمہ چلے گئے۔ انہی کے ساتھ مولانا خیرالدین بھی تھے۔ ان کے مکہ معظمہ چلے جانے کے پانچ برس بعد 1857ھ کا حادثہ فاجعہ پیش آیا اور اسی سال مولانا منورالدین (نانا) انتقال کر گئے۔ مولانا خیرالدین اب عالم بن چکے تھے انہوں نے تقریبا پانچ سال بعد حجاز میں شادی کر لی اور تدریجا حرم میں اپنی درس گاہ قائم کر لی کچھ عرصہ بعد علاج کے سلسلے میں ہندوستان (کلکتہ) وارد ہوئے اور یہیں ان کی بیوی (مولانا آزاد کی والدہ) انتقال کر گئیں۔ تب دل برداشتہ ہو کر حجاز واپس چلے گئے مگر پھر دوبارہ کلکتہ چلے آئے۔
مولانا آزاد لکھتے ہیں: ابتداء ہی سے وہابیوں کے سخت مخالف تھے اور ہندوستان کے گذشتہ علماء میں صرف مولوی فضل الرسول بدایونی (مؤلف سوط الرحمٰن فی رد تقویۃ الایمان) صرف اسی رنگ پر تھے۔ ان لوگوں نے وہابیوں کے دو فرقے قرار دئیے ایک اسماعیلیہ جو شاہ شہید کے متبع تھے، دوسرے اسحٰقیہ جو شاہ اسحٰق کی روش پر تھے۔ یعنی تقلید اور حقیقت کے منکر نہ تھے مگر بدعات و رسوم کی تردید میں مداہنت نہ کرتے جیسا کہ شاہ اسحٰق کی کتاب مائۃ مسائل سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دور میں کسی حنفی کی کسوٹی یہ بن گئی تھی کہ وہ ان لوگوں کے سلسلہ سے انکار کر دے۔
غالبا 1901ء میں رضا احمد خان بریلوی کلکتہ میں ان سے ملنے کے لئے آئے جسے مولانا خیر الدین صحیح الاعتقاد قرار دیتے تھے مگر جب انہوں نے شیخ احمد دخلان کے رد میں رسالہ لکھا تو ان سے دل برداشتہ ہو گئے۔ ہاں ان کے صاجزادہ مولانا عبدالقادر کی تعریف کرتے تھے اور مولوی ظہیر حسن شوق کی حنفیت بھی ان کے ہاں مشتبہ تھی تاہم جاتے وقت ان کو پانچ صد روپیہ دے دیا کہ آثار الدسنن کا پہلا حصہ شائع کر لیں الغرض شاہ شہید اور ان کی تحریک سے انہیں بڑا بغض تھا اور شاہ صاحب کے مداحوں کی سخت مخالفت کرتے۔
تحریکِ جہاد اور حضرت میاں صاحب
حضرت میاں صاحب نے جس ماحول میں تربیت پائی تھی اور جن اساتذہ کرام کے سامنے زانوائے تلمذ طے کیا تھا اور پھر جس مسند پر بیٹھ کر تدریس کرتے تھے، ان تمام حالات نے آپ کو مضبوطی کے ساتھ تحریک جہاد سے وابستہ کر دیا تھا اور آپ مخصوص طریق کار کے مطابق اندرون ملک نہایت جانفشانی کے ساتھ ان فرائض کو سرانجام دیتے رہے جو مرکز کی طرف سے ان کے سپرد کئے گئے تھے۔
مرکز مجاہدین سے حضرت میاں صاحب کا رابطہ اور اس کا خیر سے دلچسپی مولوی سید نصیر الدین دہلوی (امیر المجاہدین) کے اس اعلام نامے سے ظاہر ہوتی ہے جو سرحد سے پورے برصغیر کے اکابر کے پاس بھیجا گیا اور اس میں خاص الخاص لوگوں کے نام لے کر مخاطب کیا۔ چنانچہ مولانا غلام رسول مہر کی تصریح کے مطابق اس اعلام نامہ کے مخاطیب ایک سو چھ افراد ہیں جن میں مولانا شاہ اسحٰق، مولانا عبدالخالق صاحب سید اولاد حسن قنوجی، مولانا ولایت علی اور شاہ محمد حسین کے پہلو میں حضرت میاں صاحب کا نام بھی درج ہے۔(53) یہ اعلام نامہ تقریبا 1835ء یعنی سید صاحب کی شہادت سے چار سال بعد میں بھیجا گیا جبکہ حضرت شاہ اسحٰق صاحب موجود تھے اور حضرت میاں صاحب ابھی طالب علمی کے مراحل سے گذر رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت میاں صاحب طالب علمی کے زمانہ سے ہی تحریک جہاد سے ہمہ تن وابستہ ہو گئے تھے اور تحریک کے صف اول کے لوگوں میں آپ کا شمار ہونے لگا تھا۔
1857ء کی جنگ آزادی اور مجاہدین
1857ء میں انگریزوں کے خلاف ایک دوسری جنگ آزادی کا آغاز ہوا جسے انگریز مورخین نے غدر 1857ء کے مذموم نام سے ذکر کیا ہے۔ یہ جنگ گو غیر منظم تھی مگر اس میں ہندو مسلم تمام شریک تھے اور تحریک مجاہدین جو ایک نظم کے تحت چل رہی تھی کو اس سے کوئی تعلق نہ تھا تاہم علماء کے اس میں دو گروہ بن گئے اور بعض نے اس تحریک کو درست ماننے سے انکار کر دیا۔ غلام رسول مہر لکھتے ہیں:
"میری معلومات کے مطابق اس وسیع ملک کی آزادی کے لئے یہ دوسری عوامی تحریک تھی جو بہترین امیدوں اور آرزؤں کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی۔ یہ تحریک سید احمد کی تحریک سے پچیس چھبیس سال بعد جاری ہوئی ۔۔ اور جگہ جگہ آزادی کی جدوجہد کی گئی اگرچہ دہلی یا دوسرے مقامات کے بعض نزرگوں نے 1857ء کی تحریک کو درست ماننے سے انکار کر دیا تھا تاہم ان میں بعض نہایت بلند پایہ افراد اس میں شریک رہے۔۔۔سید صاحب کے خلیفہ اور ان کی جماعت مجاہدین کے امیر مولانا عنایت علی صادق پوری بھی اس تحریک کے ساتھ تھے بلکہ مروان میں رجمنٹ نمبر 55 کی بغاوت مولانا عنایت علی کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھی"
جو علماء شریک نہ تھے وہ اسے عام بلوا کی حیثیت دیتے جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی مگر اس گروہ کی رائے صائب نہ تھی بلکہ پہلا گروہ جو اس میں شرکت کر چکا تھا، حق پر تھا۔(54)
مہر صاحب کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی مخالفت کسی ایک عالم نے نہیں کی بلکہ بہت سے علماء اس کے خلاف تھے اور اس کو جہاد ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔
من جملہ ان کے دہلی کے ایک بہت بڑے عالم میر محبوب علی صاحب بھی تھے اور آپ وعظ و نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو اس میں شرکت سے روکتے تھے۔(55)
اس آسمان کے دوسرے ماہتاب مولانا محمد تھانوی تھے جو یہ کہتے تھے کہ انگریزوں کے خلاف ہم مسلمانوں پر جہاد کرنا تو درکنار موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں ہے۔(56) چنانچہ مولانا سندھی لکھتے ہیں۔
"تھانہ بھون کے یہ بزرگ مولانا شیخ محمد تھانوی محدث کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی رائے 1857ء کی تحریک حریت کے خلاف تھی۔ یہی وہ بزرگ ہیں جن کے مسلک پر مولانا اشرف علی تھانوی کاربند ہیں اور شیخ الہند کی جماعت کی سیاست کو غلط مانتے ہیں"(57)
یہ دونوں بزرگ شاہ عبدالعزیز اور شاہ اسحٰق کے تربیت یافتہ تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد کی صحت سے انکار کر دیا تھا بلکہ خود حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب جنہوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا بعد میں ان کی روش بھی تبدیل ہو گئی تھی اور انگریزی ملازمت کے جواز کے قائل ہو گئے تھے"(58) پھر اگر (بصورت فرض) بعض اہل حدیث علماء نے 1857ء کے دینی جہاد ہونے کا فتویٰ نہیں دیا تو انہی کو ہدف ملامت کیوں بنایا جاتا ہے۔
اصل حقیقت
دراصل جماعت اہل حدیث من حیث الجماعت سید احمد شہید کی تحریک جہاد سے وابستہ ہو چکی تھی اور جماعت مجاہدین نے من حیث الجماعۃ اس قومی ہنگامہ میں حصہ نہیں لیا۔ کیونکہ وہ ایک مستقل دینی نظام کے حامل تھے۔۔۔چنانچہ مولانا مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:
"اسی دوران 1857ء کا پرآشوب حادثہ پیش آیا اور گو مجاہدین اور ان کے معاونین ایک دینی نظام سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اس قومی لڑائی میں غیرجانبدار رہے مگر پھر بھی مولانا احمد اللہ صادقپوری وغیرہ کو بہت دق کیا گیا"(59)
1857ء کی تحریک آزادی کے قومی جنگ ہونے کی بعض دوسرے مؤلفین نے تائید کی ہے چنانچہ مولانا غلام رسول مہر اس تحریک کے اسباب پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ان میں بعض اسباب یقینا درست ہیں اور بعض بالکل بے سروپا ہیں مثلا "اسے خالص اسلامی تحریک قرار دینا" اس لئے کہ اس کے کارفرماؤں اور کارکنوں میں ہندو اور مسلمان دونوں کے شمولیت کسی ثبوت کی محتاج نہیں"(60)
الغرض یہ ایک قومی جنگ تھی جس کا اصل مقصد ہندوستان سے اجنبی اقتدار کو ختم کرنا تھا لہذا جن لوگوں نے اس کے اسلامی جہاد ہونے کے فتویٰ پر دستخط نہیں کئے تھے وہ ان کے اپنے اجتہاد کا نتیجہ تھا۔ اس سے یہ سمجھنا کہ یہ علماء سیاست سے الگ ہو گئے یا انہوں نے انگریز سے ساز باز کر لی تھی، سراسر نادانی ہے، یا قومی تاریخ سے عمدا ناانصافی ہے۔
حضرت میاں صاحب کا موقف
اب رہی جماعت اہل حدیث جس کے قائم سید نذیر حسین تھے تو وہ بھی سید احمد شہید کی تحریک حریت سے وابستہ ہو چکے تھے۔ جیسا کہ مولانا سندھی لکھتے ہیں:
"مولانا نذیر حسین دہلوی اور مولانا عبداللہ الغزنوی بھی مولانا ولایت علی کی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔۔ جو مالانا اسماعیل شہید کی اس جامعت کو زندہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے اس لئےمولانا نذیر حسین اور نواب صدیق حسن جیسے عالم بھی ان کا ساتھ دیتے ہیں"(61)
فی الواقع حضرت میاں صاحب اور ان کے ہم نوا مولانا ولایت علی کی پارٹی کے ساتھ وابستہ تھے اور ان پر "سیاست سے کنارہ کشی کا الزام" افسوسناک ہے اور پارٹی کے طریق کار سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ ورنہ تو 1864-65ء کے مقدمہ بغاوت میں حضرت میاں صاحب بھی ماخوذ ہوتے اور کم و بیش ایک سال تک راولپنڈی جیل میں محبوس رہے۔ مگر حکومت تفتیش کے وقت اثبات جرم سے قاصر رہی اس لئے میاں صاحب کو رہا کر دینے سے چارہ کار نہ تھا۔
انگریز سے وفاداری
اب اس فتویٰ جہاد کو (فرضی طور پر) بہانہ بنا کر انگریز سے وفاداری کا الزام لگانا افسوسناک بدگمانی ہے اور بعض خیرخواہوں نے غلط قسم کی حسن ظنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جیسا کہ فضل حسین صاحب مظفر پوری یا بعض دوسرے لوگوں نے کیا ہے۔
پہلی قسم کے لوگ دراصل دانستہ یا نادانستہ طور پر اہل حدیث کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور اپنی اس بدگمانی کے ثبوت میں خود "حضرت میاں صاحب" کی کوئی عبارت تو پیش کر نہیں سکے البتہ انگریزوں کی چٹھیاں دکھاتے پھرتے ہیں، یا مولوی فضل حسین جیسے لوگوں کے اقوال سامنے لاتے ہیں حالانکہ اس قسم کے شدید الزام کے لئے یہ دلیلیں ہرگز کافی نہیں ہو سکتیں،(62) پھر فضل حسین نے "میاں صاحب" کے جن الفاظ کو وفاداری کی دلیل بنایا ہے ان سے ہرگز وفاداری ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر کسی لگاؤ لپیٹ کے صحیح صورت حال کا اظہار ہے۔ میاں صاحب کے الفاظ یہ تھے:
"میاں! وہ ہلڑ تھا، بہادر شاہی نہ تھی۔ وہ بیچارہ بہادر شاہ کیا کرتا۔ حشرات الارض خانہ براندازوں نے تمام دہلی کو ویران اور تباہ و برباد کیا۔ شرائط امارت و جہاد مفقود کئے۔ ہم نے اس فتوے پر دستخط نہیں کئے، مہر کیا کرتے اور کیا لکھتے"(63)
الغرض جب میاں صاحب خود ہی کہتے ہیں کہ اس فتوے پر دستخط نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ شرائط امارت و جہاد مفقود تھے یعنی یہ جنگ کسی شرعی امیر کے تحت نہیں ہو رہی تھی تو دستخط نہ کرنے سے جذبہ وفاداری کیسے ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ مفتی انتظام اللہ شہابی اپنی کتاب "علمائے حق اور ان کی مظلومیت کی داستانیں" لکھتے ہیں:
"فضل حسین مظفر پوری نے الحیاۃ بعد المماۃ میں میاں صاحب کو وقت کا لحاظ رکھ کر وفادار ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے"(64)
اوپر ہم بتا چکے ہیں کہ اس فتوے پر دستخط کے بارے میں علماء کے مابین اختلاف تھا۔ مہر صاحب نے 57ء میں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے: (65)
بہرحال یہ اجتہادی مسئلہ تھا۔ ایک گروہ نے اس پر ایک نقطہ نگاہ سے غور کیا دوسرے نے دوسرا نقطہ نگاہ پیش نظر رکھا۔ ایک کی رائے یہ تھی کہ آزادی حاصل کرنے کے جو ممکنات پیدا ہو گئے ہیں، ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور جس حد تک ملکی قوتوں کو جمع کیا جا سکتا ہے کر دینا چاہئے۔ دوسرے گروہ کی نظر اس پہلو پر گئی کہ ملکی قوتوں میں تنظیم نہیں اور تحریک نے فی الجملہ ہنگامہ عام کی حیثیت اختیار کر لی ہے جسے عرفا بلوا کہتے ہیں اور شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ جس حد تک میں اندازہ کر سکا ہوں پہلے گروہ کی رائے صائب تھی اور دوسرے گروہ کو اگرچہ ملزم نہیں گردانا جا سکتا تاہم اس کی رائے صائب نہ تھی۔
حضرت میاں صاحب کی سیاسی زندگی میں یہ واقعہ نہایت اہم ہے کہ 1864-65ء مطابق 1281ھ میں جب پٹنہ و انبالہ میں وہابیوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمات قائم کئے گئے جو "وہابی کیس" کے نام سے مشہور ہیں تو حضرت میاں صاحب جو اہل حدیث کے سرتاج اور سرخیل تھے، وہ بھی ان مقدمات کی لپیٹ میں آگئے اور ان کے گھر اور مسجد کی تلاشی لی گئی۔ کچھ خطوط اور کاغذات پولیس اپنے ساتھ لے گئی اور میاں صاحب کو دہلی سے پشاور طلب کر لیا گیا اور پشاور سے راولپنڈی۔ پھر راولپنڈی کے جیل خانے میں ایک سال نظر بند رکھا گیا۔ غلام رسول مہر بھی لکھتے ہیں:
"۔۔۔ان مقدمات میں شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی بھی ہدف ابتلاء بنے تھے، میاں صاحب مرحوم اہل حدیث کے سرتاج تھے اور اہل حدیث اور وہابیوں کو مترادف سمجھا جاتا تھا۔ مخبروں نے ان کے خلاف حکومت کے پاس شکایتیں کیں۔ ان کے مکان کی تلاشی ہوئی اور بہت سے خطوط پائے گئے اور ایک سال راولپنڈی میں نظر بند رہے"(66)
ان پر یہ زور اور دباؤ ڈالا جاتا کہ کل ممبران اہل حدیث کے نام ظاہر کریں ورنہ پھانسی دی جائے گی"
لیکن ان تمام مقدمات میں حضرت میں صاحب پر کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہو سکا۔ مولانا فضل حسین نے حضرت میاں صاحب کو حکومت کا وفادار ثابت کرنے کی بے شکار کوشش کی ہے جبکہ مولانا عبیداللہ سندھی جیسے شخص نے اس کا اقرار کیا ہے کہ
"مولانا نذیر حسین دہلوی اور مولانا عبیداللہ غزنوی بھی مولانا ولایت علی کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں" (سیاسی تحریک 132) ۔۔۔ اور دوسری جگہ لکھتے ہیں:
"اسی لئے مولانا نذیر حسین اور نواب صدیق حسن جیسے عالم بھی ان کا (ولایت علی) کا ساتھ دیتے رہے" (سیاسی تحریک 133)
سچ ہے "عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد"
اور سید نذیر حسین دہلوی کے خلاف ریلی کی رپورٹوں پر متعدد مواقع پر تفتیش ہوئی اور بہار میں سید صاحب کے مذہبی جلسوں میں شریک ہونے کی چھان بین کی گئی۔ ایشری پرشاد نے دسمبر 1815ء میں وہابیوں کے مراکز کے بارے میں رپورٹ دی کہ پٹنہ کے مرکز سے ملتا جلتا سورج گڑھ کا مرکز ہے جو نذیر حسین کی جائے پیدائش ہے یہ اب بھی ہندوستان میں وہابیوں کا ایک ممتاز قائد سمجھا جاتا ہے اور "مدار المہام" کہلاتا ہے۔(67)
مولانا ابراہیم آروی کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ 1880ء میں جب بدیع الزمان نے ڈھاکہ میں جلسہ کرانے کی کوشش کی تو اس میں نذیر حسین دہلوی بھی شامل کئے گئے چونکہ وہ پولیس کی زیر نگرانی تھے اس لئے نذیر حسین نے دہلی میں جلسہ کرانے سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ جلسہ کسی دور دراز علاقہ میں کرایا جائے چنانچہ مولانا ابراہیم کی رائے کے مطابق یہ جلسہ مظفر پور کے قریب ایک گاؤں تاجپورہ میں کیا گیا جس میں تیس ہزار وہابی مولوی جمع ہوئے۔ جلسے کا مقصد یہ تھا کہ بغاوت پھیلانے کے لئے حکمت عملی تیار کی جائے اور یہ بھی طے پایا کہ دہلی، پٹنہ اور آرہ میں مدرسے کھولے جائیں جن میں وہابی عقائد کی تعلیم دی جائے اور مولانا ابراہیم آروی نے کلکتہ، دہلی، لکھنؤ، غازی پور اور بنارس کے دورے کئے۔
خفیہ اجلاس
کمشنر پٹنہ کو پولیس نے رپورٹ دی کہ ممتاز وہابیوں کا ایک جلسہ سراج گڑھ میں ہونے والا ہے جہاں نذیر حسین بھی اپنی بھانجی کی شادی کے بہانے گئے ہوئے تھے۔ اس تقریب میں نذیر حسین، محمد حسین لاہور اور ابراہیم آروی شامل تھے۔
الغرض مولانا ابراہیم آروی کے جلسوں اور تقریروں پر نگرانی رکھی جاتی اور اس کے ساتھ مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی کو بھی مشتبہ نظروں سے دیکھا جاتا۔۔۔۔
حواشی و حوالہ جات
(1)صوبہ بہار میں تحریک اہل حدیث، الحیاۃ بعد المماۃ نیز قاضی سید عبدالنبی کی جگہ پر سید قاضی عنایت اللہ کے لئے شاہی فرمان جاری ہوا (دیکھئے معارف اکتوبر 1947ء) اور سلطان عالمگیر نے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی دو حمائل اور چالیس بیگھا زمین عنایت کی (بزم تیموریہ ص 252) ۔۔۔ (2) بہار میں اردو: ص 106 ۔۔۔ (3) الحیاۃ بعد المماۃ: ص 5 ۔۔۔ (4) حوالہ مذکور ۔۔۔ (5) تذکرہ علمائے صادقپور: 160 ۔۔۔(6) الحیاۃ بعد المماۃ: 25 ۔۔۔ (7) نزہۃ الخواطر: 7 ۔۔۔(8) حواشی قائد الکریم از راقم الحروف (نزہۃ الخواطر: 783، ج7) ۔۔۔ (9) المعروف بدائرہ اجمل شاہ، حالات نزہۃ الخواطر للمحسن ج7 ص 423، 191 ۔۔۔ (10) شیخ ناسخ (1338/1254) شاعر باکمال تھے۔ تین دیوان یادگار چھوڑے۔۔۔(11) الحیاۃ بعد المماۃ ۔۔۔ (12) آثار صنادید ذکر مولوی عبدالخالق ۔۔۔ (13) الحیاۃ بعد المماۃ: ص 42-45۔۔۔ (14) آثار الصنادید ضمن ذکر علمائے دین، نزہۃ الخواطر: ج7 رقم 387۔۔۔ (15) مقدمہ غایۃ المقصود، علمائے ہند مولانا رحمٰن علی ذکر مفتی سعد اللہ ۔۔۔ (16) ج7 ص 121 ۔۔۔ (17) مقدمہ غایۃ المقصود و نزہۃ الخواطر 7/121
(18) مولانا ابراہکم بن مدین اللہ۔ فحول علماء سے تھے۔ مختصرات کی قراءت کے بعد رام پور میں شیخ نور الاسلام بن سلام اللہ دہلوی رام پوری سے حدیث کی سند حاصل کی اور بعض کتابیں مفتی صدر الدین دہلوی سے بھی پڑھیں۔ حدیث میں شیخ حسن علی اور شاہ اسحٰق کے شاگرد تھے اور سید احمد شہید سے بیعت اور خاص حلقہ نشین تھے۔ 18 سال تک مدرسہ عالیہ کلکتہ میں درس دیا۔ حرمین کی زیارت کے بعد وہاں سے کتب نادرہ لاتے۔ مرحوم جمع کتب اور مطالعہ کے نہایت شیفتہ تھے۔المحبسی شرح دیوان المنتبی آپ کی تصانیف سے ہے۔ 1282ھ میں وفات پائی۔ نزہۃ الخواطر 7/5، (بحوالہ تذکرۃ النبلاء)
(19) ملاحظہ ہو نزہۃ الخواطر: ج7 ص 395، رقم 720 و مقدمہ غایۃ المقصود
(20) شیخ غلام علی بن عبداللطیف علوی نقشبندی بٹالہ پنجاب میں پیدا ہوئے اور دہلی پہنچ کر شاہ عبدالعزیز دہلوی سے حدیث قراءت کی اور مرزا مظہر جانجاناں کے مرید اور ان کی خانقاہ کے وارث قرار پائے۔ سید اسماعیل مدنی، شیخ احمد کردی، شیخ ابوسعید دہلوی اور شاہ ابو سعید کے لڑکے احمد سعید وغیرہم ان کے تلامذہ سے تھے۔ 1244ھ میں وفات پائی۔
(21) شاہ ابوسعید نقشبندی (1196ھ ۔۔۔ 1250ھ) شاہ رفیع الدین کے تلامذہ سے تھے اور شاہ عبد العزیز سے "اجازہ عامہ" حاصل تھا۔ اولا شیخ درگاہی رامپوری کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے اس کے بعد دہلی میں شیخ غلام علی کے مصاحب بن گئے۔ حج و عمرہ کے لئے حجاز جاتے ہوئے شیخ احمد سعید (1277ھ) کو اپنا خلیفہ بنا گئے اور حج سے واپسی پر ٹونک میں فوت ہو گئے۔ دہلی میں اپنے شیخ کے پہلو میں دفن ہوئے۔
(22) یہ شاہ احمد سعید مولانا رشید احمد گنگوہی کے بھی استاد تھے اور قیام مولد پر عمل کرتے اور شاہ عبدالغنی مخالفت کرتے۔
(23) شیخ عبدالغنی مجددی (1296ھ) دہلوی، شاہ ابوسعید کے صاجزادہ حضرت مجدد الف ثانی کی ذریت سے تھے اور شاہ اسحٰق دہلوی کے تلامذہ سے تھے۔ مشکوٰہ المصابیح میں شیخ مخصوس اللہ بن شاہ رفیع الدین دہلوی کے تلمیذ تھے اپنے والد کے ساتھ سفر حج پر گئے اور شیخ محمد عابد سندھی سے بھی اجازت یافتہ ہوئے۔ بالآخر ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ انجاح الحاجۃ حاشیہ ابن ماجہ، ان کی یادگار ہے۔ اکثر علمائے دیوبند کا سلسلہ سند ان کے ذریعہ شیخ اسحٰق سے ملتا ہے۔ متوفی 1202ھ (نزہۃ الخواطر 7/ 289)
(24) مولانا عبدالقادر رام پوری بن محمد اسلم الہروی الدہلوی۔ فنون ریاضیہ میں مہارت تامہ کے مالک تھے۔ 1197ھ کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ مفتی شرف الدین رام پوری کے شاگرد بن۔ مختلف عہدوں پر فائز رہے حتی کہ سہارنپوری میں صدر الصدور مقرر ہوئے۔ بالآخر نواب محمد سعید خان رام پوری نے ان کو قاضی القضاۃ مقرر کیا۔ مرحوم نے متعدد تصانیف یادگار چھوڑیں ہیں۔ تاریخ میں ان کی کتاب "اخبار ملوک الہند" معروف ہے شاہ عبدالعزیز کے رسالہ شرح العقیدہ کا اردو ترجمہ بھی کیا اور دیگر رسائل تالیف کئے۔
(25) مولانا محمد بشیر سہسوانی حضرت میاں صاحب کے تلامذہ سے تھے۔ والد کا نام بدرالدین برادر حکیم نیاز احمد تھا۔ خاندانی طبیب تھے۔۔۔(26) مولوی رحمت اللہ بیگ
(27) المراد بالشروط المعتبرہ، تصحیح المتن و ضبط الغریب و اعراب الشکل والتحرز عن التحریف والتصحیف و غیر ذلک۔ انظر سلسلۃ المسجد: ص 51 واللہ اعلم
(28) المتوفی 1324ھ تلمیذ ثلاثہ: (مولانا عبدالخالق، شاہ محمد اسحٰق، سید نذیر حسین) ان کے والد گاما خاں شاہ عبدالقادر بن ولی اللہ دہلوی کے اصحاب سے تھے۔
(29) دیکھئے تحریک اہل حدیث کے "پارینہ اوراق" ۔۔۔ (30) القول الجلی بحوالہ اتحاف النبلاء: ص 430، 431 ۔۔۔ (31) اپنے وقت میں قراءۃ القرآن میں وحید العصر و فرید الدھر تھے۔ شاہ عبدالعزیز نے "تفسیر عزیزی" آپ کی خاطر تصنیف کی۔ شاہ غلام علی دہلوی کے بیعت ہوئے۔ اکثر اہل دہلی فن قراءۃ میں آپ کے تلمیذ تھے۔ 1258ھ کو سفر حج میں وفات پائی "شمع تاویلات" تاریخ وفات ہے) ۔۔۔ (حدائق حنفیہ: ص 473-474) ۔۔۔ (32) ملاحظہ ہو ہفت روزہ "تنظیم اہل حدیث" مجریہ 15 جنوری 1937ء ۔۔۔ (33) نزہۃ الخواطر 8: 500 ۔۔۔ (34) مقدمہ معیار الحق ۔۔ (35) حیات شبلی : ص 256-257 ۔۔۔ ص 256-257 ۔۔۔ (36) الحیاۃ  بعد المماۃ طبع کراچی: ص 180-181 (یہ 22 جون 1897ء مطابق 21 محرم 1315ھ کا واقعہ ہے) ۔۔۔ (37) دیکھئے حیات شبلی بحث "خطاب" ۔۔۔ (38) آزاد کی کہانی ص 103۔۔۔(39) اشاعۃ السنۃ: جلد 6، تفصیل کے لئے دیکھئے تحریک اہل حدیث اور مخالفین کے ہتھکنڈے ۔۔۔ (40) رسالہ اشاعۃ السنۃ: ج6 ص 290
(41) اس گلابی چو ورقہ سے مراد رسالہ جامع الشواہد ہے۔ یہ رسالہ چونکہ گلابی رنگ کے چار بڑے اوراق پر چھپا ہوا تھا۔ اس لئے گلابی چو ورقہ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ یہ رسالہ پہلی مرتبہ فیض محمدی پریس لکھنؤ سے چھپا اور اس کی خوب تشہیر کی گئی اس کے بعد یہی رسالہ کچھ اضافوں کے ساتھ زرد رنگ کے کاغذ پر چھاپا گیا۔ اس لئے مولانا بٹالوی ہی لکھتے ہیں: "اور گلابی چو ورقہ جو زرد رد ہو کر بیس (20) صفحات پر مطبع فیض عام دہلی میں دوبارہ چھپا ہے اور اس پر لدھیانہ، پانی پت، گنگوہ، رام پور وغیرہ، پچپن علماء کے دستخط اور مہریں ہیں۔" ملاحظہ ہو اشاعۃ السنۃ ج6 ص 292 ۔۔۔ (42) مکاتیب نذیریہ : ص 104 ۔۔۔ (43) اہل حدیث اور سیاست 342، یعنی کہ رسالہ جامع الشواہد مولانا ممدوح کا مولفہ ہے اور اس میں خنزیر کی چربی اور خالہ پھوپھی سے نکاح کو حلال کہا ہے۔۔۔(44) دیکھئے نزہۃ الخواطر: ج8 ص 390۔۔۔ (45) آزاد کی کہانی ص 104 ۔۔۔ (46) یہ چٹھی ترکی زبان میں تھے جس کی نقل نور الحیاۃ بعد المماۃ میں موجود ہے۔ یہ چٹھی 26 ذی الحجہ کو لکھی گئی۔ ترجمہ اشاعۃ السنہ ج6 ص 311 ۔۔۔ (47) آزاد کی کہانی ۔۔۔ (48) دیباچہ حیات شبلی: ص 15 و ایضا، نزہۃ الخواطر 8/ 145-147 ۔۔۔ (49) تذکرۃ الرشید میں بھی ان کے ترک وطن کا قصہ مذکور ہے۔ (2: 275) ۔۔۔ (50) بن محمد امین العمری التھانوی (م 1317ھ) ۔۔۔ (51) ترجمہ کے لئے نزہۃ الخواطر 8/ 275 ۔۔۔ (52) آزاد کی کہانی: ص 164-167۔۔۔ (53) سرگذشت مجاہدین ص 165 ۔۔۔ (54) جنگ آزادی 1857ء
(55) ارواح ثلاثہ ص 424، میر محبوب علی دہلوی تلمیذ شاہ عبدالعزیز یہ ان چند مخصوص علماء سے تھے جو شاہ صاحب کی تربیت گاہ سے نکل کر ہندوستان میں آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے (شاندار ماضی ج2 ص 49-50) ۔۔۔ (56) نقش حیات جلد دوم ص 42 ۔۔۔ (57) شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک: ص 264-265 ۔۔۔ (58) ملاحظہ ہو نقش آزاد: ص 313-314 نیز مجموعہ فتاویٰ عزیزی ۔۔۔ (59) پہلی اسلامی تحریک: ص 80 ۔۔۔ (60) جنگ آزادی 1857ء : ص 21 ۔۔۔ (61) سیاسی تحریک: ص 132-133 ملخص۔۔۔(62) اہل حدیث اور سیاست "مولانا نذیر احمد دہلوی" ۔۔۔(63) الحیاۃ بعد المماۃ: ص 78۔۔(64) ملاحظہ ہو: ص 110 کتاب مذکور ۔۔۔ (65) ملاحظہ ہو: 1857ء ص 452 ۔۔۔ (66) سرگذشت مجاہدین: 402 و 403 ۔۔۔ (67) وہابی تحریک: ص 333