اللہ تعالیٰ کی محبت کا اہل اور اس کے تعلق کا مستحق بننے کے لئے ہر مذہب نے ایک ہی تدبیر بتائی ہے کہ اس مذہب کے شارع اور طریقہ کے بانی کی تعلیمات پر عمل کیا جائے لیکن اسلام نے اس سے بہتر تدبیر یہ بھی اختیار کی ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے جس کو محفوظ طریقے سے ہر دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کیا گیا ہے۔ اور اس عملی مجسمے کی پیروی اور اتباع کو خدا کی محبت کے اہل اور اس کے تعلق کے مستحق بننے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ ﴿٣١ (1)
"کہہ دیجئے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا"
قرآن مجید میں ایک اور جگہ آیا ہے:
 لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ  ﴿٢١ (2)
"ضرور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"
انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ ملتا ہے۔ اس بات کا اقرار تو کافر بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ برصغیر میں پٹنہ کے مشہور مبلغ ماسٹر حسن علی ایک رسالہ "نور اسلام" نکالتے تھے جس میں انہوں نے اپنے ایک تعلیم یافتہ ہندو دوست کی رائے لکھی کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہا کہ "میں آپ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں" ماسٹر صاحب نے پوچھا" ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا سمجھتے ہو؟" اس نے جواب دیا کہ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہو، میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہو" انہوں نے دریافت کیا کہ "تم کیوں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کو دنیا کا کامل انسان جانتے ہو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو تاریخ نے کسی ایک انسان میں یکجا کر کے نہیں دکھائے۔(3)
ہر انسان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے کیونکہ ایسی کامل و جامع ہستی جو اپنی زندگی میں ہر نوع اور ہر قسم، ہر گروہ اور ہر صنف انسانی کے لئے ہدایت کی مثالیں اور نظیر رکھتی ہو وہی اس لائق ہے کہ اس اصناف و انواع سے بھری ہوئی دنیا میں عالمگیر اور دائمی رہنمائی کا کام انجام دے۔
جب سیرت طیبہ میں انسانی زندگی کے انتہائی باریک نکتوں پر تعلیمات دی گئی ہیں تو تربیت اولاد جیسا ضروری اور اہم کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے کیسے اوجھل ہو سکتا ہے۔
اسلام میں اولاد کی تربیت پر بہت زور دیا گیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت لقمان نے جو نصیحتیں اپنے بیٹے کو کی تھیں وہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں نقل فرمائی ہیں۔ جو اچھے کردار میں زندگی گزارنے کے سنہرے اصول ہیں۔ ملاحظہ ہو:
(وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ ﴿١٤﴾ وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖوَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿١٥﴾ يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ﴿١٦﴾ يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ﴿١٧﴾ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ﴿١٨﴾وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ﴿١٩) (4)
مختصرا اس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت فرماتے ہوئے کہتے ہیں:
1۔ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
2۔ ماں باپ کے ساتھ ادب سے پیش آنا، ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کہ تیری ماں نے تجھے پیدائش سے قبل بڑی مشقت میں اٹھائے رکھا، پھر اس کے بعد دو برس تک تجھے دودھ پلایا۔ تجھے لازم ہے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کر۔ آخر کار تجھے میرے پاس لوٹنا ہے۔
3۔ اپنے والدین کی ہر بات میں اطاعت کر، الا یہ کہ وہ تجھے شرک پر مجبور کریں۔ دنیا میں والدین کے ساتھ احسان سلوک کر (یعنی ان کی کدمت کر، ان کی صحبت میں رہتے ہوئے)
4۔ ظلم یا برائی خواہ کتنے ہی پردوں میں چھپے ہوں یا کتنے کم کیوں نہ ہوں، خدا ان کو دیکھتا اور جانتا ہے اور وہ روز قیامت ان کو نکال کر نامہ اعمال میں سامنے رکھ دے گا۔
5۔ نماز قائم کرنا اور اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا۔
6۔ کوئی مصیبت آ جائے تو آہ زاری کرنے کی بجائے اس پر صبر کرنا۔
7۔ زمین پر اکڑ کر نہ چلنا کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
8۔ اپنی رفتار میں میانہ روی رکھو اور چیخ چلا کر نہ بولا کرو۔ اپنی آواز کو مدھم رکھو کیونکہ آوازوں میں سے سے بدترین آواز گدھے کی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کی تربیت کس انداز سے کی، اس کے پس منظر کو غور سے دیکھنا ہو گا۔
افراد سازی
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو منصب نبوت پر فائز کیا گیا تو سب سے پہلے آپ نے انسان کو صحیح انسانیت سے روشناس کرانے کا عزم کیا۔ کیونکہ جب تک انسان کو صحیح معنی میں انسان نہ بنایا جائے اس وقت تک یہ دنیا بے حیائی و بدمعاشی، ظلم و جور اور قتل و گارت گری کا نقشہ پیش کرتی رہے گی۔ عہد مکی کے مکمل تیرہ سال کردار سازی کے کام پر صرف کئے گئے۔ جس میں پیغمبرانہ حکمت کے ساتھ کچھ انسانوں کو انسان کامل بنایا گیا۔ کردار سازی کا یہ کام مکہ مکرمہ کے ایک چھوٹے سے مکان جو کہ "دارارقم" کے نام سے موسوم تھا، میں ہوتا تھا۔ جو ایک چھوٹی سی تربیت گاہ بھی تھی۔
پچھلے انبیاء علیہم السلام خاص قوم یا خاص ملک یا خاص زمانہ کے رسول بن کر آتے تھے جبکہ آپ کی بعثت اور آپ کی دعوت پوری دنیا کے جن و انس اور حشر تک آنے والی نسلوں کے لئے عام تھی اور پورے عالم کی اصلاح کر کے سب انسانوں کو دنیا میں امن و سکون اور عزت و عافیت کی زندگی عطا کرنا آپ کی ذمہ داری تھی تاکہ تمام لوگ اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو کر آخرت میں آرام و سکون کی زندگی حاصل کریں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا کام کچھ انسانوں کا ایک مثالی معاشرہ پیدا کرنا تھا جو اس عظیم مقصد میں آپ کے دست و بازو بنیں اور آئندہ اس بار گراں کو سنبھالنے کے قابل ہوں۔ یہ افراد سازی کا کار عظیم جو "دارارقم" کے گمنام گوشوں سے شروع ہوا تھا، اس کام کا مختصر عنوان تو انسان کو انسان کامل بنانا تھااور اس کی تفصیل و تشریح وہ پورا قرآن ہے جو مکی دور نبوت میں نازل ہوا جس کی ہدایات کا مطالعہ کرنے سے چند چیزیں نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہیں جن کو انسان کامل بنانے میں خاص دخل ہے۔ چنانچہ مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں کی عام خصوصیات یہ ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت کو راسخ کرنا۔
2۔ فکر آخرت پیدا کرنا۔
3۔ دنیا کی چند روزہ زندگی اور اس میں آوام و بے چینی کی حقیقت کا کھولنا۔
4۔ مخلوقات کے ساتھ معاملہ میں ان کے حقوق کی پوری ادائیگی اور اپنے حقوق سے چشم پوشی کرنا۔
5۔ ایذاؤں پر عفوودرگرز اور اپنی طرف سے ہر حال میں ان کی خیرخواہی اور ہمدردی کرنا۔
قرآن اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے جو مقدس گروہ پیدا ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا نام حزب اللہ رکھ کر ان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی خوشخبری دے دی:
(أُولَـٰئِكَ حِزْبُ اللَّـهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّـهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴿٢٢) (5)
"یہ اللہ کا گروہ ہے، خوب سن لو کہ اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے"
اس ابتدائی گروہ میں بچے سے لے کر بوڑھے تک تمام شامل تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے مذکورہ چیزوں کو سامنے رکھ کر ان کی تربیت کی۔
ماحول کی اصلاح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صرف مکہ کی اصلاح کا کام نہیں تھا بلکہ پوری کائنات اور موجودہ آئندہ نسلوں کی اصلاح آپ کی ذمہ داری تھی اور جتنے افراد مصائب و تکالیف کو برداشت کر کے اس وقت تیار ہوئے تھے وہ پورے عالم کی ہمہ گیر اصلاح کا کام پورا نہیں کر سکتے تھے۔
لہذا اس مکتب فکر کے ہر تربیت یافتہ شخص پر یہ فرض کر دیا گیا کہ وہ اپنے ماحول کو بدلنے کی پوری کوشش کرے اور ہر وہ تدبیر اختیار کرے جو اس ماحول کو ڈھالنے کے لئے ضروری ہو۔
اس لئے قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر شخص پر یہ ذمہ داری عائد کر دی وہ جس طرح اپنے عمل کی اصلاح کی فکر کرے اسی طرح اپنے اہل و عیال اور خاص دوستوں کی اصلاح کے لئے بھی ایسی ہی کوشش کرے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
(قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا) (6)
"اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ"
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤول عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا،) (7)
"تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے۔ امام ذمہ دار ہے اور اپنے ماتحتوں کے بارے میں جوابدہ ہے۔ آدمی ذمہ دار ہے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں جوابدہ ہے عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے اور اپنی رعیت کے متعلق جوابدہ ہے"
اہل و عیال کی اصلاح کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ ابتداء سے ہی نومولود کے قلب و دماغ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موثر اور فطری اصول بتائے ہیں کہ ان کی وجہ سے بغیر کسی مشقت کے بچہ کی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس کا ذہنی اور جسمانی ارتقاء خود بخود ہوتا چلا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا کام جو بچے کی پیدائش پر والدین پر لازم کیا وہ یہ کہ اس داہنے کام میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔(8)
کم عقل لوگ تو یہی کہیں گے کہ اتنے چھوٹے بچے کے کام میں عربی جملے ڈالنے سے کیا ہو گا؟ لیکن حقیقت شناس لوگ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ درحقیقت ایمان کا بیج ہے جو کان کے راستے سے بچے کے دل میں ڈالا گیا ہے۔ اس کے بعد دوسرا کام والدین کا یہ ہے کہ بچے کا اچھا نام رکھا جائے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ , فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ )
"قیامت کے دن تمہیں اپنے اور اپنے والد کے ناموں سے پکارا جائے گا۔ پس اپنے نام اچھے رکھو"(9)
اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ بچے کا عقیقہ کیا جائے۔(10) جب بچہ زبان کھولنے لگے تو سب سے پہلے اللہ کا نام سکھانا چاہئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اپنے بچوں کی زبان کلمہ لا الہ الا اللہ سے کھلواؤ اور یہی کلمہ موت کے وقت ان کو یاد دلاؤ"(11)
امام ابن قیم فرماتے ہیں:
اس سے بچے کے کان اللہ کی ذات اور وحدانیت سے آشنا ہو جاتے ہیں۔(12)
گویا دنیا میں دخول و خروج اسی کلمہ لا الہ الا اللہ ہی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ پھر جب بچہ سمجھنے سوچنے کے قابل ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت اس کے دل نشین کرو اور سنت کے مطابق ادب و تہذیب سکھاؤ۔ بچہ کے سامنے جھوٹ بولنے، غیبت کرنے سے خود بھی پرہیز کرو کہ بچہ ان بری باتوں کا عادی نہ ہو جائے۔ بچے کے ہاتھ سے اچھے کاموں میں خرچ کراؤ کہ بخل اس کی طبیعت میں بس نہ پائے۔ بچپن سے ہی اچھی تربیت والدین کا فرض ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص اپنے بیٹے کو لایا کہ وہ اس کا ادب و احترام نہیں کرتا۔ اس لڑکے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو اس نے سوال کیا کہ کیا میرے (یعنی اولاد کے) فرائض ہی ہیں یا حقوق بھی ہیں؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! اولاد کے حقوق  بھی ہیں کہ اچھی اولاد کے لئے اچھی بیوی کا انتخاب کرے۔ اس بچے نے کہا: میرے والد نے ایک حبشی عورت سے شادی کی ہے۔ اس کے باپ نے غصے سے کہا "او حبشن کے بچے! تو بچے نے کہا کہ وہ حبشن آپ سے اچھی ہے اس نے شوہر کا بہتر انتخاب کیا لیکن آپ نے بیوی کا انتخاب نہ کیا۔ پھر بچے نے مزید اپنے شوق کے متعلق پوچھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پیدائش پر نام اچھا رکھنا، بچے نے کہا کہ اس نے میرا "بجو" رکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پھر حیران ہویئے۔ بچے نے پھر پوچھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اولاد کی تربیت اچھی کرنا اور اچھی صحبت میں رکھنا۔ اس نے بتایا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا ہے، اس نے مجھے چرواہوں میں چھوڑ دیا ہے، جو کچھ ان سے سنتا ہوں وہی کچھ کرتا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اس بچے کے باپ کو بہت ڈانٹا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ما نحل والد ولدا من نحل أفضل من أدب حسن ) (13)
"کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی دولت نہیں بخشی"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گھر کو ایک تربیت گاہ بنا دیا جس میں ہر چھوٹا بڑا نہ صرف آداب انسانیت جانتا تھا بلکہ عملا بھی اس کا عادی تھا۔ اصلاح اخلاق کے اس پروگرام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جلسے، جلوسوں اور بڑی بڑی کانفرنسوں سے نہیں بلکہ فطری اصولوں پر قائم کیا۔
اسلام کے نظام تعلیم و تربیت پر نظر ڈالنے سے پہلے ایک سرسری نظر اس پر ڈالئے جو آج کی دنیا میں محکمہ تعلیم اور اس کے دفاتر، ان میں کام کرنے والے لوگوں کی تعداد اور پرائمری سکول سے لے کر یونیورسٹی تک جو انتظامی جال پھیلا ہوا ہے، اس کی وسعت اور اس پر کروڑوں روپے کا خرچ اور اس خرچ کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والوں کے تعلیمی مصارف کا بارگراں اور پھر ان سب کے باوجود اس کے نتائج و ثمرات کہ جو بھی علم و فن ان کو پڑھایا جاتا ہے اس کی استعداد فیصدی کتنے آدمیوں میں ہوتی ہے اور یہ تعلیم ان کے اخلاق و کردار کو کیسا بناتی ہے؟
اس کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دئیے ہوئے نظام تعلیم کو دیکھئے وہ کس طرح فطری اور سہل و سادہ اصولوں پر مبنی ہے جس میں حکومت کا بھی کوئی بہت بڑا خرچ نہیں اور طالب علم پر تو ایک پیسہ کا بھی بار نہیں۔
اس کی وجہ درحقیقت یہ ہے کہ ہر مسلمان کا گھر بچوں کے لئے پرائمری سکول ہے جس میں غیر شعوری طور پر بچے ہوش سنبھالنے ساتھ ساتھ ضروری تعلیم حاصل کرتے جاتے ہیں۔
جب بچہ سات سال کا ہو جاتا ہے تو فطری طور پر اس کی پاکی و ناپاکی کی تمیز ہونے لگتی ہے اور اس وقت ماں باپ کے لئے حکم ہے کہ اس کو نماز پڑھنا سکھائیں، مسجد میں ساتھ لے جائیں۔ عام مساجد، ثانوی مدارس کا کام انجام دیتی ہیں جہاں ہر طرح کے اہل علم و فضل جمع ہوتے ہیں ان کی صحبت سے بچے پر غیر شعوری طور پر علم و حکمت کے دروازے کھلتے ہیں جو بہت سی کتابیں پڑھنے سے بھی میسر نہیں آ سکتے۔ چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(مُرُوا أَوْلادَكُمْ بِالصَّلاةِ أَبْنَاءَ سَبْعِ سِنِينَ ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِينَ ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ) (14)
"بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اور جب دس سال کے ہوں تو ان کو مار کر نماز پڑھاؤ اور بستروں میں الگ کر دو"
اس کے علاوہ عام مسلمانوں کو بھی اصلاح کی تعلیم دی جانی چاہئے۔
اسلام سے قبل لڑکی کی پیدائش باعث عار سمجھی جاتی تھی اور لڑکیاں زندہ درگور کر دی جاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو آخرت میں جوابدہی کا سبب فرمایا ہے۔
(وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿٨﴾ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ﴿٩﴾) (15)
"جب زندہ درگور کی گئی لڑکیوں سے پوچھا جائے گا کہ ان کو کس گناہ کی وجہ سے قتل کیا گیا" ۔۔۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(عن أنس رضي الله عنه - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ( من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو هكذا) (16)
"جس شخص کی دو لڑکیاں ہوں وہ ان کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں تو قیامت کے دن وہ میرے ساتھ یوں ہو گا (دو انگلیاں ملا کر تشبیہ دی)"
عورت کی تربیت بہت زیادہ ضروری ہے کیونکہ اگلی تمام نسل کا انحصار عورت کی تربیت پر ہوتا ہے۔ ایک عربی شاعر نے کہا ہے:
لأم مــدرسـة إذا أعــددتـهـــا
أعـددت شعبا طيب الأعــراق
"ماں کی حیثیت ایک درسگاہ کی ہے اگر تم نے اس کو تیار کیا تو ایک پاکیزہ نسل کو تیار کیا"
من لي بتربية النساء فإنهــــا
في الشرق علة ذلك الإخفــــاق (17)
"کون میرے لئے عورتوں کی تربیت کی ضمانت دیتا ہے کیونکہ مشرق میں ان کی تربیت نہ کرنا اس پستی کا سبب ہے"
والدین ہی بچے کی اصل تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ارشاد فرمایا:
(كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ , فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ)
"ہر بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین یا تو اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی یا آتش پرست"(18)
والدین کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمہ داری ڈالی کہ وہ بچے کے سامنے جھوٹ نہ بولیں۔
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میری والدہ نے مجھے بلا کر کہا میں تمہیں ایک چیز دیتی ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میری والدہ سے پوچھا: تم اسے کیا چیز دیتی ہو تو اس نے کہا کہ ایک چھوہارا۔ فرمایا اگر تم کچھ نہ دیتی تو ایک جھوٹ تمہارے کھاتے میں لکھا جاتا(19) ۔۔۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد میں مساوات رکھنے کا حکم دیا تاکہ کوئی بچہ کم توجہی کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔
مثال کے طور پر حضرت نعمان بن بشیر کے والد نے ان کو کچھ دیا تو اس کی والدہ نے کہا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو۔ چنانچہ جب ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اپنی باقی اولاد کو بھی ایسے ہی دیا ہے۔ اس نے کہا نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اولاد کے ساتھ انصاف کرو، کیا تم اس ظلم پر مجھے گواہ بنانا چاہتے ہو(20)۔۔۔حضرت انس سے مروی ہے:
ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، اس کا لڑکا آیا تو اس نے اس کا بوسہ لیا اور زانو پر بٹھا لیا پھر اس کی بیٹی آئی تو اس نے اسے سامنے بٹھا لیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے دونوں کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا۔(21)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خود حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت کرتے تھے جب کسی سفر پر جاتے تو ان کو آخر میں مل کر جاتے اور آتے تو ان کو آکر ملتے۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ہر چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھی۔۔۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
(ما رأيت أحدا كان أشبه سمتا وهديا ودلا وكلاما برسول الله صلى الله عليه وسلم من فاطمة) (22)
"میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیاادہ آنحضرت کے مشابہ عادت و خصلت، نشست و برخاست اور بات چیت میں کسی کو نہیں دیکھا"
غرض حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا اعلیٰ نمونہ تھیں۔ حفیظ جالندھری نے کہا ہے:
چلی تھی باپ کے گھر سے نبی کی لاڈلی پہنے
حیا کی چادریں، عصمت کے جامے، صبر کے گہنے
اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ کو نماز میں اٹھا لیتے جب رکوع میں جاتے تو اس کو اتار دیتے۔(23) ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن کو چوما تو اقرع بن حابس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے دس بیٹے ہیں میں نے کسی کو نہیں چوما تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ لاَ يَرْحَمْ لا يُرْحَمْ) (24)
"جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا"
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تربیت
اب ہم ان نکات کا جائزہ لیتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کردار سازی میں پیش نظر رکھتے تھے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق تربیت میں حکمت و دانائی تھی، آپ موقع محل کے مطابق کسی کی غلطی پر براہ راست متنبہ نہیں فرماتے تھے۔ تاکہ مخاطب، لوگوں میں اپنی ہتک نہ تصور کرے۔
جب کچھ لوگوں کے غیر اسلامی طریقہ کار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتماعی طور پر خطاب کرتے ہوئے اس غلط طرز فکر کی اصلاح فرما دی اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ عام حضرات کے سامنے بھی اسلام کا صحیح طرزِ فکر آ گیا۔
اگر کبھی اس بات کی ضرورت ہوتی کہ غلطی پر فورا براہ راست متنبہ کر دیا جائے تو تنہائی میں نہایت دل سوزی اور محبت کے انداز میں سمجھاتے تاکہ مخاطب کسی احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر اپنی اصلاح کرے۔
دعوت و تربیت کے سلسلہ میں ایک خاص حکمت یہ بھی وہی کہ زیادہ لمبی بات اور اُکتا دینے والے وعظ سے گریز کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز لوگوں کے ساتھ کس قدر محبت آمیز تھا اس کا اندازہ حضرت انس کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے وہ کہتے ہیں۔
"میں دس برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا مگر آپ نے کبھی اُف تک نہ کہی۔ جو کام میں نے جس طرح بھی کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ "یہ کیوں کیا؟" اگر کوئی کام نہ کر سکا تو یہ نہیں فرمایا: (یہ کیوں نہیں کیا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کنیزوں اور خادموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کبھی کسی کو نہیں مارا"
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وقت کی کمی کے باعث بات مختصر کرتے ہیں اور آپ کو جامع کلمات عطا کئے گئے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم مزاج و نفسیات کے علاوہ جذبات اور احساسات کا بھی لحاظ فرماتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات مناسب موقع پر کرتے تھے اور اچھے کام پر صحابہ کرام کی تعریف کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔
بعض اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات اشاروں اور پرانی قوموں کے واقعات سے واضح کرتے تھے۔ شگفتہ مزاجی اور نرمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا حصہ تھی۔ لوگوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور شدت کی بجائے انتہائی نرمی اور صبر و تحمل سے سمجھاتے تھے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ اہم بات یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام کا نمونہ پیش کرتے تھے یعنی جو بات صحابہ کرام کو سمجھاتے وہ خود عملی طور پر کر کے دکھاتے تھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نکات کی روشنی میں نئی نسل کی اصلاح و تربیت کا کام انجام دیا جانا چاہئے۔ بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ:
گر آج بھی ہو ابراہیم (علیہ السلام) کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستان پیدا
حوالہ جات
1۔ قرآن مجید، آل عمران 3: 31۔۔۔2۔ قرآن مجید، احزاب 33: 21۔۔۔3۔ ندوی، سید سلیمان، خطبات مدارس، 96 (کتب خانہ مجیدہ، ملتان)۔۔۔ 4۔ قرآن مجید، لقمان 31: 13 تا 19۔۔۔5۔ قرآن مجید، المجادلہ 58: 22۔۔۔6۔ قرآن مجید، التحریم 6:66۔۔۔7۔ البخاری، الجامع الصحیح، ج1، ص 122، (کتاب الجمعہ، باب الجمعہ)۔۔۔8۔ البیہقی و ابن سنی بحوالہ عبداللہ ناصح علوان، تربیۃ الاولاد فی الاسلام ج1، ص 76۔۔۔9۔ الخطیب التبریزی مشکاۃ المصابیح ص 408، (کتاب الاداب، باب الاسامی) ۔۔۔10۔ النسائی، السنن، ج2، ص 180، کتاب العقیقہ، باب العقیقہ من الغلام، ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی الغلام شاتان مکافاتان وفی الجاریۃ شاۃ۔۔۔11۔ عبداللہ ناصح علوان، تربیۃ الاولاد فی الاسلام، ج2، ص 647۔۔۔12۔ ابن قیم، تحفۃ الودود بحوالہ تحفۃ العروس، ص 457۔۔۔13۔ الترمذی، السنن، ج2، ص 17 (باب ماجاء فی ادب الولد کتاب البر والصلاۃ) ۔۔۔14۔ ابوداؤد، السنن (مع عون المعبود)، ج1، ص 185 (کتاب الصلاۃ، باب متی یومر الغلام بالصلاۃ) ۔۔۔15۔ قرآن مجید، التکویر (81)، 8۔۔۔16۔ مشکاۃ المصابیح، ص 427۔۔۔17۔ استنبولی، تحفۃ العروس، ص 479-480۔۔۔18۔ البخاری، الجامع الصحیح، ج1، ص 185، (کتاب الجنائز، باب ما قیل فی اولاد المسلمین)۔۔۔19۔ ابوداؤد، السنن۔۔۔20۔ النسائی، السنن، ج2، ص 125-126 (کتاب النحل، ذکر اختلاف الفاظ المناقلین۔ بشیر بن نعمان رضی اللہ عنہ) ۔۔۔21۔ مسند بزار، بحوالہ تحفۃ العروس، ص 495۔۔۔22۔ الخطیب التبریزی، مشکاۃ المصابیح، ص 402 ۔۔۔۔23۔ البخاری، الجامع الصحیح، ج1 ص 74 (کتاب الصلاۃ) ۔۔۔24۔ الخطیب التبریزی، مشکاۃ المصابیح، ص 401 (کتاب الادب)