توبہ کا مفہوم
توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔(1)
جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔(2)
جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔
دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔
تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ توبہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے "اللہ توبہ" کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں  جمع نہ ہوں یعنی گزشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ۔(3)
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ لفظ تواب بندہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے جیسے "(إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ )" اور اللہ تعالیٰ کے لئے بھی جیسے "(هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ)" جب بندے کے لئے استعمال ہوتا ہے تو معنی ہوتے ہیں گناہ سے اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو معنی ہوتے ہیں: توبہ قبول کرنے والا۔ یہ صرف لفظ تواب کا حکم ہے۔ اسی معنی کا دوسرا لفظ تائب ہے۔ اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے لئے جائز نہیں۔ اگرچہ لغوی معنی کے اعتبار سے وہ بھی غلط نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی شان میں صرف وہی صفات اور القاب استعمال کرنا جائز ہیں جن کا ذکر قرآن و سنت میں وارد ہے۔ باقی دوسرے الفاظ اگرچہ معنی کے اعتبار سے صحیح ہوں مگر اللہ تعالیٰ کے لئے ان کا استعمال درست نہیں۔(4)
قرآن و حدیث کے اکثر مقامات پر جہاں توبہ کا ذکر ملتا ہے تو وہاں استغفار کا ذکر بھی لازمی آیا ہے۔ گویا یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ استغفار کا معنی ہے اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش مانگنا۔ چنانچہ استغفار کا تعلق تو زبان سے ہے کہ بندہ اپنی زبان کے ذریعے خدا سے بخشش و مغفرت مانگتا ہے۔ جبکہ توبہ کا تعلق دل سے ہے کیونکہ کسی گناہ پر ندامت و شرمندگی اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور آئندہ اس گناہ میں ملوث نہ ہونے کا عہد دل ہی سے ہوتا ہے۔
اسلام میں توبہ کا تصور اور اس کی حقیقت
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں۔ پہلا یہ کہ کسی گناہ کا کبھی ارتکاب نہ ہو یہ تو فرشتوں کی خصوصیت ہے یا انبیاء علیہم السلام کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ گناہوں پر اقدام کرے اور پھر ان پر اصرار جاری رہے کبھی ان پر ندامت اور ان کے ترک کا خیال نہ آئے یہ درجہ شیاطین کا ہے۔
تیسرا مقام بنی آدم کا ہے کہ گناہ سرزد ہو تو فورا اس پر ندامت ہو اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم ہو۔(5)
اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سرزد ہونے کے بعد توبہ نہ کرنا یہ خالص شیاطین کا کام ہے اس لئے باجماع اُمت توبہ فرض ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّـهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ نُورُهُمْ يَسْعَىٰ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٨﴾) (6)
"اے ایمان والو! تم اللہ کے آگے سچی توبہ کرو کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جس دن کہ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہ کرے گا۔ (بلکہ) ان کا نور (ایمان) ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہو گا اور وہ خدا سے التجا کریں گے کہ اے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے"
انسان خطاء و نسیان کا پتلا ہے۔ وہ گناہ یا بھول چوک سے خالی نہیں ہے۔ بسا اوقات صاحب ایمان بندہ غفلت کی حالت میں اغواء شیطانی یا خود اپنے نفس امارہ کے تقاضے سے گناہ کر بیٹھتا ہے لیکن جب اللہ کی توفیق سے اس کا ایمانی شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ میں نے اپنے مالک و خالق کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ کی رحمت و عنایت اور اس کی رضا کے بجائے میں اس کے غضب اور عذاب کا مستحق ہو گیا اور اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو قبر میں اور اس کے بعد حشر میں مجھ پر کیا گزرے گی اور وہاں اپنے مالک کو کیا منہ دکھاؤں گا اور آخرت کا عذاب کیسے برداشت کر سکوں گا۔ جب یہ فکر و احساس پیدا ہوتا ہے تو وہ یہ یقین و عقیدہ رکھتے ہوئے کہ میرا مالک و مولیٰ بڑا رحیم وکریم ہے وہ اس سے معافی اور بخشش کی استدعا کرتا ہے۔
انسانوں سے لغزشیں اور خطائیں ہو جاتی ہیں احکام کی ادائیگی میں خامی رہ جاتی ہے۔ چھوٹے بڑے گناہ بندہ اپنی نادانی و جہالت سے کر بیٹھتا ہے لیکن گناہوں میں جراءت کرنا اور گناہوں میں ترقی کرتے رہنا بہت بڑی نادانی ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(عَنْ انس ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كُلُّ بَنِي آدَمَ خَطَاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ) (7)
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمام انسان خطاکار ہیں اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو خوب توبہ کرنے والے ہیں۔"
مومن کا ایمانی تقاضوں سے دور ہو کر خطاء و گناہ میں مبتلا ہو جانا بعید نہیں لیکن جلد ہی ایمان کے مطالبات کے پیش نظر توبہ کر لیتا ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الإِيمَانِ ، كَمَثَلِ الْفَرَسِ يَجُولُ فِي آخِيَّتِهِ ، وَيَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَسْهُو ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الإِيمَانِ ، فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الأَتْقِيَاءَ ، وَأُولِي الْمَعْرُوفِ الْمُؤْمِنِينَ.) (8)
"حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی مانند ہے جو اپنی رسی میں دوڑتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ مومن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلاؤ اور سب مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرو"
بندہ مومن کا گناہ میں ملوث ہونا اور پھر اس گناہ سے توبہ کر کے زمرہ صالحین میں شامل ہونا للہ تعالیٰ کی شان غفاریت کا خاص مظہر ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
(عن ابى هريرة قال قال رسول صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لو لم تذنبوا لذهب الله بكم ولجاء بقوم غيركم يذنبون فيستغفرون الله فيغفر لهم) (9)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو اس دنیا سے منتقل کر دے گا اور دوسری قوم کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کریں گے پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں گے پس اللہ ان کو بخش دیں گے۔
اس حدیث سے یہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کو معاذاللہ گناہ مطلوب ہیں اور وہ گناہ گاروں کو پسند کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کے ذریعے گناہوں اور گناہ گاروں کی ہمت افزائی فرمائی ہے بڑی جاہلانہ غلط فہمی ہو گی۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو گناہوں سے بچایا جائے اور اعمال صالحہ کی ترغیب دی جائے۔
دراصل حدیث کا منشاء اور مدعا اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت کو ظاہر کرنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کے ظہور کے لئے ضروری ہے کہ کوئی مخلوق پیدا کی جائے اور صفت رزاقیت کے لئے ضروری ہے کہ کوئی مخلوق ہو جس کو رزق کی ضرورت ہو اور اللہ تعالیٰ اس کو رزق عطا فرمائے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی مخلوق ہو جس سے گناہ بھی سر زد ہوں پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں استغفار کرے اور گناہوں کی معافی اور بخشش چاہے اور پھر اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت اور بخشش کا فیصلہ فرمائے۔(10)
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی شان دیکھئے کہ وہ اپنے بندے کی توبہ سے اس قدر خوش ہوتا ہے جس قدر ہمیں اپنی گم شدہ چیز کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم  لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا) (11)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: البتہ اللہ تعالیٰ تم میں سے جب کوئی توبہ کرے تو اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کوئی تم میں سے اپنا گم شدہ جانور پانے سے خوش ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اتنے شفیق و مہربان ہیں کہ وہ اپنے گناہ گار بندوں کے توبہ کرنے پر ہر وقت متوجہ رہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
(عن أبي موسى - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ((إن الله - عز وجل - يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار، ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل، حتى تطلع الشمس من مغربها) (12)
"حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ عزت اور بزرگی والا اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے رات کو تاکہ دن کا گناہ گار توبہ کرے اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات کا گناہ گار توبہ کرے یہاں تک کہ آفتاب پچھم سے نکلے گا"
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت دیکھئے کہ انسان ساری عمر اس کی نافرمانی میں مبتلا رہے مگر موت سے پہلے سچے دل سے توبہ کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کا قصور معاف کر دیا جائے بلکہ اس کو اپنے محبوب بندوں میں داخل کر کے جنت کا وارث بنا دیا جاتا ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : ( التائب من الذنب كمن لا ذنب له ) (13)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گناہ سے توبہ کرنے والا شخص ایسا (پاک و صاف) ہو جاتا ہے۔ جیسے اس نے کبھی گناہ ہی نہیں کیا۔
احادیث مذکورہ بالا سے واضح ہو جاتا ہے کہ توبہ و استغفار عاصیوں اور گناہ گاروں کے لئے مغفرت و رحمت کا ذریعہ اور مرقبین کے لئے درجات قرب و محبوبیت میں بے انتہا ترقی کا وسیلہ ہے۔
توبہ کے تقاضے اور شرائط
اعتراف گناہ بہت بڑی چیز ہے۔ دراصل اعتراف ہی کے بعد توبہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے جو لوگ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے وہ توبہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ سچے مومن وہ ہیں جو گناہ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور گناہ ہو جائے تو بارگاہ ایزدی میں گناہ کا اقرار کر کے توبہ و استغفار میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(عن عائشه قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه.) (14)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بےشک بندہ گناہ کا اقرار کرے پھر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔
گناہ سرزد ہونے پر توبہ کے ساتھ اصلاح کرنا بھی ضروری ہے۔ قرآن مجید کی بیشتر آیات جن میں توبہ کا ذکر آیا ہے وہاں اصلاح کا بھی خصوصی ذکر آیا ہےان قرآنی آایات میں سے چند وضاحت کے لئے نقل کی جاتی ہیں۔ سورۃ المائدہ میں ارشادِ خداوندی ہے:
(فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّـهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٣٩﴾) (15)
پھر جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی توجہ قبول فرما لے گا بےشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿١١٩﴾) (16)
پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکو کار ہو گئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکو کار ہو جانے کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔
ان آیات سے واضح ہو جاتا ہے کہ توبہ کے لئے اصلاح کرنا ضروری ہے جو لوگ زبانی توبہ کرتے رہتے ہیں اور اپنی حالت نہیں سنوارتے۔ توبہ کے باوجود گناہوں میں اسی طرح ملوث رہتے ہیں۔ توبہ کا کوئی اثر ان کے احوال و اعمال پر ظاہر نہیں ہوتا، یہ کیسی توبہ ہے۔
حقیقی اور سچی توبہ کا تقاضا تو یہ ہے کہ اپنا حال درست کیا جائے اور گناہوں کی تلافی کی جائے۔ توبہ کا یہ بھی تقاضا ہے کہ انسان اپنے گناہوں پر ندامت و پریشانی کے باعث اللہ کے خوف سے آنسو بہائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(عن عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : قُلْتُ : يَارَسُولَ اللهِ ، مَا النَّجَاةُ ؟ قَالَ : امْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ.) (17)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ سے ایک دفعہ ملاقات کی اور عرض کیا کہ نجات (کا سامان) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو زبان کو قابو میں رکھ تیرے خلاف استعمال نہ ہو جائے اور تیرے گھر میں گنجائش رہے اور تو اپنی خطاؤں پر رو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ تو اپنی خطاؤں پر رو، توبہ کا اہم جزو ہے۔ گناہ ہو جانے پر رونا ندامت اور پریشانی کے باعث ہوتا ہے۔ جسے اللہ کا خوف ہو گا وہی گناہ کی وجہ سے روئے گا اور رو رو کر بخشوانے کی کوشش کرے گا۔
گناہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ تعداد میں زیادہ ہوں یا کم، سب زہر قاتل ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ جیسے ہی کوئی گناہ ہو جائے سچے دل سے توبہ کی جائے۔ صغیرہ گناہ تو نیکیوں کے ذریعے بھی معاف ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن کبیرہ گناہ صرف توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں یوں اللہ تعالیٰ کو سب اختیار ہے کہ بغیر توبہ بھی سب معاف فرما دے لیکن یقینی طور پر معاف ہونے کے لئے توبہ کرنا لازم ہے۔ جب سچے دل سے توبہ کے طریقے کے مطابق توبہ کر لی جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے۔ گناہ پر سچے دل سے ندامت و شرمندگی اور آئندہ کو گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم اور ارادہ یہی توبہ ہے اور اس کے لوازم میں سے یہ بھی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تلافی کی جائے۔ شیخ الاسلام ابوزکریا یحییٰ بن شرف النووی نے لکھا ہے۔
(قال العلماء: التوبة واجبة من كل ذنب, فإن كانت المعصية بين العبد وبين الله تعالى لا تتعلق بحق آدمي, فلها ثلاثة شروط:أحدها: أن يقلع عن المعصية.والثاني: أن يندم على فعلها.والثالث: أن يعزم أن لا يعود إليها أبدا. فإن فقد أحد الثلاثة لم تصح توبته.وإن كانت المعصية تتعلق بآدمي فشروطها أربعة: هذه الثلاثة, وأن يبرأ من حق صاحبها, فإن كانت مالا أو نحوه رده إليه, وإن كانت حد قذف ونحوه مكنه منه أو طلب عفوه, وإن كانت غيبة استحله منها. ويجب أن يتوب من جميع الذنوب, فإن تاب من بعضها صحت توبته عند أهل الحق من ذلك الذنب, وبقي عليه الباقي. ) (18)
علماء فرماتے ہیں ہر گناہ سے توبہ کرنا لازمی ہے اگر گناہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان ہے (کسی انسان کے حقوق سے متعلق نہیں) تو اس کے لئے تین شرطیں ہیں ایک یہ کہ گناہ سے باز رہے۔ دوسری یہ کہ اس پر نادم ہو تیسری شرط یہ کہ آئندہ اس میں مبتلا نہ ہونے کا پختہ ارادہ کرے۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو توبہ صحیح نہ ہو گی اور اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو اس (کی توبہ) کے لئے چار شرطیں ہیں۔ تین تو یہی مذکورہ بالا اور چوتھی شرط یہ ہے کہ صاحب حق کا حق ادا کرے۔ اگر مال وغیرہ لیا ہو تو واپس کر دے۔ اگر تہمت وغیرہ کا معاملہ ہو تو (نفاذ حد کے لئے) اپنے آپ کو اس کے قابو میں دے یا اس سے معافی مانگے۔ اگر غیبت ہے تو بھی معافی طلب کرے۔ نیز تمام گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر بعض گناہوں سے توبہ کی تو بھی اہل حق کے نزدیک توبہ صحیح ہے اور باقی گناہوں سے توبہ اس کے ذمہ باقی ہے۔
حقوق اللہ کی تلافی
حقوق اللہ کی تلافی کا مطلب یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد سے جن فرائض اور واجبات کو چھوڑا ہو ان کی ادائیگی کی جائے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور ھج وغیرہ سب کی تلافی کرنا بہت ضروری ہے۔ زندگی میں جو نمازیں قصدا یا سہوا یا مرض اور سفر وغیرہ میں ادا کرنے سے رہ گئی ہوں ان سب کو پورے اہتمام سے ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ نماز کو کسی بھی حالت میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ان نمازوں کی ادائیگی کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد جتنی نمازیں ادا کرنے سے رہ گئی ہوں۔ ان کی گنتی اور حساب لگا کر ان سب نمازوں کی قضا پڑھی جائے۔ اسی طرح بالغ ہونے کے بعد جتنے روزے رہ گئے ہوں یا سفر اور بیماری کی وجہ سے جتنے روزے چھوڑے ہوں۔ ان سب روزوں کا حساب کر کے سب کی قضا رکھے۔ عورتوں کو مجبوری کے دنوں کی نمازیں تو معاف ہیں لیکن ان دنوں کے فرض روزے جتنے چھوڑ دئیے جاتے ہیں ان کی بعد میں قضا ضروری ہے۔ (حاشیہ صفحہ 50 پر)
زکوٰۃ بھی ہر صاحب حیثیت مسلمان پر فرض ہے جتنے سال کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو اس کا حساب لگا کر اسی قدر مال زکوٰۃ مستحقین زکوٰۃ کو دے دے۔ اسی طرح صدقہ فطر بھی واجب ہے اگر اس کی بھی ادائیگی نہ کی ہو تو وہ بھی ادا کر دیا جائے۔
حج بھی ہر صاحب استطاعت انسان پر فرض ہے اور فرض ہونے کے بعد جس نے حج نہ کیا تو وہ بھی گناہ گار ہو گا اس لئے جس طرح ممکن ہو اس فریضے کو ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔
حقوق العباد کی تلافی
حقوق العباد کی تلافی کرنا بھی توبہ کے لوازم میں سے ہے۔ حقوق العباد کی تلافی سے مراد یہ ہے کہ بندوں کے جو حقوق ذمہ ہوں ان سب کو ادا کیا جائے۔ حقوق العباد دو قسم کے ہیں:
حقوق العباد کی پہلی قسم مالی حقوق کے متعلق ہے۔ مالی حقوق سے مراد یہ ہے کہ جو مال ناحق اور ناجائز ذرائع سے ملکیت میں آیا ہو، وہ سب اموال صاحب حق کو لوٹا دئیے جائیں۔
حقوق العباد کی دوسری قسم عزت و آبرو کے متعلق ہے۔ عزت و آبرو کے حقوق کی تلافی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو ناحق مارا ہو یا گالی دی ہو تہمت لگائی ہو یس کسی کو ذہنی، جسمانی، روحانی اور قلبی تکلیف و اذیت پہنچائی ہو تو اس سے معافی مانگ کر اس کو راضی کر لے۔ حقوق العباد کا تعلق چونکہ انسانیت سے ہوتا ہے اور حقوق العباد صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ صرف زبانی توبہ کرنا اور حقوق العباد کی تلافی نہ کرنا توبہ میں داخل نہیں اور ایسا شکص قیامت کے دن صریح گھاٹے میں رہے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لا يَكُونَ دِينَارٌ وَلا دِرْهَمٌ إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ) (19)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص پر کسی مسلمان بھائی کی آبروریزی یا کسی اور چیز کا حق ہو اسے چاہئے کہ اس دن سے پہلے اس سے معاف کروا لے جس روز اس کے پاس نہ درہم ہو گا نہ دینار اگر اس کے نیک عمل ہوں گے اس کے حق کے مطابق لے لئے جائیں گے اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت یوں ہے:
(ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أتدرون ما المفلس؟" قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع فقال:" إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي وقد شتم هذا وقذف هذا وأكل مال هذا وسفك دم هذا و ضرب هذا فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضي ما عليه أُخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار".) (20)
"حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا کہ تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ہم تو اسے مفلس شمار کرتے ہیں جس کے پاس درہم اور مال و اسباب نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےشک میری اُمت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، اور زکوٰۃ لے کر آئے گا اور اس حال میں بھی آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی اور کسی پر تہمت لگائی ہو گی اور کسی کا مال (ناحق) کھایا ہو گا اور کسی کا خوب بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا پس اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس کو دے دی جائیں گی اور کچھ اس کو دے دی جائیں گی، اگر حقوق کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو حقوق والوں کے گناہ لے کر اس پر ڈال دئیے جائیں گے پھر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔"
ان احادیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ بڑا سخت ہے۔ ہر انسان کو ان حقوق کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہئے اور توبہ کے ضابطے مکمل کرنا چاہئیں۔
توبہ کے عدم وجود سے ذہن انسانی کی کیفیت
انسانوں سے لغزشیں اور خطائیں ہوتی رہتی ہیں۔ انسان اپنی جہالت اور نادانی کی بنا پر چھوٹے بڑے گناہ کر بیٹھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی مغفرت کے لئے توبہ کا عمدہ نسخہ تجویز فرما دیا ہے۔ تاکہ انسان اس نسخے کے ذریعے اپنے گناہوں سے پاک و صاف ہو جائے۔ توبہ کا یہ عمدہ نسخہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے تجویز نہ فرماتے تو انسان کے گناہ میں جوں جوں زیادتی ہوتی جاتی ہے توں توں اس کے قلب و ذہن میں ظلم و جہل اور شر و فتنہ کی تاریکی اپنا تسلط جماتی رہتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گناہ پر اس کی جرات بڑھ جاتی ہے اور معصیت آمیز زندگی ہی اس پر چھا جاتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(عن أبي هريرة رضي الله عنه - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " إن المؤمن إذا أذنب كانت نكتة سوداء في قلبه ، فإن تاب واستغفر صقل قلبه ، وإن زاد زادت حتى تعلو قلبه ، فذلكم الران الذي ذكر الله تعالىكلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون) (21)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے پھر اگر وہ اس گناہ سے توبہ کر لیتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل (اس نقطہ سیاہ سے) صاف کر دیا جاتا ہے اور اگر زیادہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے پس یہی ران (یعنی زنگ) ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ "یوں ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر یہ اس چیز کا زنگ ہے جو وہ کرتے تھے"
گناہوں کی کثرت سے انسان اللہ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے۔ چنانچہ توبہ کے ذریعے اہل ایمان کو ایک بہت بڑی ڈھارس سے نوازا گیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
(قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚإِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿٥٣﴾ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ﴿٥٤﴾) (22)
"اے پیغمبر (میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا وہ تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور جھک جاؤ اس سے پہلے کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔
اس آیت کریمہ میں مومنین کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ کروڑوں گناہ بھی اللہ کی رحمت اور مغفرت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے وہ ارحم الراحمین ہے۔ مشرک اور کافر کے علاوہ سب کی مغفرت کر دے گا۔ اس لئے ہمیشہ پکی توبہ اور استغفار کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مغفرت کی امید رکھیں اس کی رحمت سے ناامید کبھی نہ ہو ں تاکہ اس حال میں موت آئے کہ توبہ کے ذریعے سب کچھ معاف ہو چکا ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے:
(عن أنس بن مالك رضي عنه ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولقال الله تعالى : يابن آدم ، إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا أبالي ، يا ابن آدم ، لو بلغت ذنوبك عنان السماء ، ثم استغفرتني ، غفرت لك ، يا ابن آدم ، إنك لو أتيتني بقراب الأرض خطايا ، ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا ، لأتيتك بقرابها مغفرة) (23)
"حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے انسان بے شک تو جب تک مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور مجھ سے امید لگائے رکھے گا میں تجھ کو بخشوں گا تیرے گناہ جو بھی ہوں اور میں کچھ پرواہ نہیں کرتا ہوں اے انسان! اگر تیرے گناہ آسمان کے بادلوں کو پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا اور میں کچھ پرواہ نہیں کرتا ہوں۔اے انسان! اگر تو اتنے گناہ لے کر میرے پاس آئے جس سے ساری زمین بھر جائے پھر مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناتا ہو تو میں اتنی ہی بڑی مغفرت سے تجھ کو نوازوں گا جس سے زمین بھر جائے۔"
شیطان انسان کا بہت بڑا دشمن ہے اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ دوزخ میں جائیں اور عذاب میں مبتلا ہوں۔ وہ انسانوں کو کفر کے وسوسوں میں مبتلا کرتا ہے اور انہیں صغیرہ و کبیرہ گناہوں پر آمادہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح گناہوں کی کثرت سے انسان کو رحمتِ الہیٰ سے مایوس کر دینا اس کا بہت بڑا ہتھیار ہے۔ جس مایوسی کے نتیجے میں انسان اپنے رب سے شرمندگی اور ناامید ہو کر مزید سے مزید گناہوں میں بڑھتا جاتا ہے۔ اور آخر کار جہنم کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ توبہ کے بعد انسان مزید جرائم میں شرمندگی محسوس کر کے پاکدامنی کی زندگی کے لئے کوشش کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں خیر بہرطور غالب آتی ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دشمن سے ہوشیار رہے اور اگر گناہ ہو جائے تو توبہ و استغفار کے ذریعے شیطان کو ذلیل و خوار کرے۔ چنانچہ توبہ کے عدم وجود سے ذہن انسان شیطانی کاروائیوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(عن أبي سعيد رضي الله عنه - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " إن الشيطان قال : وعزتك يا رب لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم ، فقال الرب عز وجل : وعزتي وجلالي وارتفاع مكاني لا أزال أغفر لهم ما استغفروني) (24)
"حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ شیطان نے کہا کہ اے رب قسم ہے تیری عزت کی ہے میں تیرے بندون کو بہکاتا رہوں گا جب تک کہ ان کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں گی۔ اس پر اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنی عزت و جلال اور بلند رتبہ کی قسم ہے میں ان کو بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مولانا سید ابواعلی مودودی، تفہیم القرآن، جلد اول ص 67 مکتبہ تعمیر انسانیت لاہور۔۔۔(2) پیر محمد کرم شاہ الازہری، ضیاء القرآن جلد اول ص 50، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور۔۔۔(3) مفتی محمد شفیع صاحب، معارف القرآن، جلد اول ص 200، ادارہ المعارف کراچی۔۔۔(4) ایضا ص 201۔۔۔(5) معارف القرآن، جلد دوم ص 345، ادارہ المعارف کراچی۔۔۔ (6) سورۃ التحریم: 8۔۔۔ (7) سنن الترمذی، 2423، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع/ مشکوٰۃ المصابیح، جلد اول، باب الاستغفار والتوبہ ص 571، مطبع سعیدی قرآن محل کراچی۔۔۔(8) مسند احمد، 10907، کتاب باقی مسند المکثرین/ مشکوٰۃ المصابیح، جلد دوم، باب الضیافۃ، ص 312، مکتبہ رحمانیہ لاہور۔۔۔ (9) صحیح مسلم شریف مع شرح نووی، جلد ششم، کتاب التوبہ ص 317، خالد احسان پبلشرز لاہور۔۔۔(10) مولانا محمد منظور نعمانی، معارف الحدیث جلد پنجم ص 317-318 دارالاشاعت کراچی۔۔۔(11) صحیح مسلم شریف مع شرح نووی، جلد ششم، کتاب التوبہ ص 314۔۔۔ (12) ایضا ص 324۔۔۔(13) سنن ابن ماجہ، رقم 4240، کتاب الزھد/ مشکوٰۃ المصابیح، جلد اول، باب الاستغفار والتوبہ ص 577، مطبع سعیدی قرآن محل کراچی۔۔۔(14) ایضا ص 568۔۔۔ (15) سورۃ امائدہ: 39۔۔۔ (16) سورۃ النحل: 119۔۔۔(17) سنن الترمذی، 2330، کتاب الزھد/ مشکوٰہ المصابیح، جلد دوم، باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم ص 422، مکتبہ رحمانیہ لاہور۔۔۔(18) محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف النووی، ریاض الصالحین، جلد اول، باب التوبہ ص 21، حامد اینڈ کمپنی پرنٹرز لاہور۔۔۔(19) صحیح بخاری، 2269، کتاب المظالم والغضب / مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم، باب العلم ص 467، مکتبہ رحمانیہ لاہور۔۔۔(20) صحیح مسلم، 4678، کتاب البر والصلۃ والاداب / ایضا ۔۔۔ (21) سنن ابن ماجہ 4334، کتاب الزھد/مشکوٰہ المصابیح، جلد اول، باب الاستغفار والتوبۃ ص 571۔۔۔(22) سورۃ الزمر: 53-54۔۔۔(23) سنن الترمذی، 3463، کتاب الدعوات/مشکوٰۃ المصابیح، باب الاستغفار والتوبہ ص 570-571۔۔۔ (24) ایضا ص 572
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: عبادات کی اتنی کثرت کے بارے میں "قضا" کا فتویٰ اہل علم کے اجماع ہے کیونکہ یہ شریعت کے مجموعی مقاصد اور طریق کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شرع میں تکلیف مالا یطاق نہیں ہے (البقرۃ: 286) بلکہ آسانی کی روح بھی ملحوظ رکھنا چاہئے (البقرۃ: 185) علاوہ ازیں توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے ہاں برائیاں نیکیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں (الفرقان: 70) مقالہ نگار اگر حیض والی عورت کی نمازوں کی معافی کی حکمت ہی ملحوظ رکھتے تو یہ رائے قائم نہ کرتے۔ بہر صورت صحیح بات یہی ہے کہ مخلصانہ توبہ کے بعد عبادتوں کی رضا ضروری نہیں، البتہ نفلی عبادات، صدقہ و خیرات اور دیگر اعمال خیر کا اہتمام بہتر کام ہے تاکہ تزکیہ نفس ہو سکے۔ (فتاویٰ اسلام ج1 ص 384، شیخ عبدالرحمٰن بن جبرین)