میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ترتیب :سید توصیف الرحمن
(خطاب جمعۃ المبارک: 9-اگست 1996ء، اسلام آباد)

نکاح جو ایک خاندان کو تشکیل دیتا ہے، انبیاء کی سنت ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی کہ نکاح سے بے رغبتی کو اپنی ملت سے خروج قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسلام کے عائلی نظام کے اصولی مباحث کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں اس کی سیر حاصل تفصیلات موجود ہیں۔ خود تعامل امت بھی اس مقدس "رسم" کو تحفظ دئیے ہوئے ہے۔ مغربی سامراج کی اس قلعہ پر بیرونی یلغار کے علاوہ اندرون مشرق بھی اس کے ایجنٹ طرح طرح سے اسلامی تہذیب و ثقافت کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جس کا ایک حربہ خاندانوں میں منظم شادیوں کے بجائے معاشقے لڑا کر شریف گھرانوں کی بچیوں کی عصمت دری ہے۔ پھر بعض سادہ لوح لوگوں کو "دعوت کی نام نہاد آزادی" کے نعرہ سے ہمنوا بنانے کے لئے فقہائے امت میں اختلافات کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی دانا بینا مسلمان مفرور کی شادی کی حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی عرف شرعی کے پیش نظر سطور ذیل میں اسلام کے عائلی نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظام کے جزوی مسائل کے لئے کتب احادیث کے متعلقہ ابواب ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ (مدیر)
خطبہ مسنونہ کے بعد: قرآن کریم کی (سورہ النحل: 72) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّـهِ هُمْ يَكْفُرُونَ ﴿٧٢﴾...النحل
پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہجری سالوں کے اعتبار سے 50 سال سے زائد بیت چکے ہیں اور عیسوی سال کے لحاظ سے ہم چند روز بعد اس کی 49 ویں سالگرہ منانے والے ہیں۔کیونکہ آج 9- اگست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پورے روئے زمین پر اسلام کے نام پر بننے والی یہ پہلی مملکت ہے۔ جنہوں نے ایک سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کو ہندوستان سے اس لئے الگ حاصل کیا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کا پاک نظام قائم کیا جائے گا۔ اسی لئے اس کا نام "پاکستان" رکھا گیا۔ وہ اللہ تعالیٰ کا پاک نظام جو دنیا کے اندر امن و امان کا ضامن بھی ہے اور دنیا و آخرت میں ہی ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمتوں کے دروازے کھلیں گے کہ ہم نے دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کی اور اپنے آپ کو دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کے تابع رکھا۔ اسی بنا پر جنت میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے؛ "(لَهُم مَّا يَشَاءُونَ فِيهَا وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ)" کہ دنیا کے اندر تم میری خوشی کا خیال رکھتے تھے اور اب میں تمہیں نہ کوئی خوف آنے دوں گا اور نہ کوئی دکھ پہنچنے دوں گا۔
پاکستان کے نام سے یہ پاک جگہ اسی لئے بنائی گئی کہ اس کے پیچھے جہاد کی تحریکیں بھی ہیں اور اسی طرح دنیا کے اندر مروجہ سیاسی طریقے کی جدوجہد بھی اس کے پیچھے موجود ہے۔ پاکستان بن گیا۔ ہندوستان سے الگ بھی ہو گیا لیکن یہ پاکستان "پاک" نہ ہو سکا۔ اب تک پاکستان کے اندر یہی بنیادی جنگ چل رہی ہے کہ اس کی منزل مکہ مدینہ ہے یا واشنگٹن اور لندن۔ یہی کشمکش ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اسلام کے نام لیوا اگر یہاں اقتدار پر آ جاتے ہیں تو وہ مکے مدینے کے نعرے لگاتے ہیں اور اگر اس کے برعکس امریکہ اور یورپ کی ترقی کو خیرہ کن نظروں سے دیکھنے والے یہاں براجمان ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رابطے امریکہ اور یورپ سے مضبوط کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن اب تک بات نعروں تک ہی چل رہی ہے پاکستان کے اندر وہ اسلام جس کا نام لے کر پاکستان بنایا گیا نہ پنپ سکا اور نہ پختہ ہو سکا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا استحکام ہمیشہ داؤ پر لگا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:
پاکستان کے استحکام کی بنیاد صرف وہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔ جس کے نام پر مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کے بعد اگر ہم یہ بھول نہ جاتے کہ اب ہمیں عملا اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے اور اپنے نعروں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سنجیدہ ہوتے تو پاکستان اب تک دنیا میں مضبوط ہو چکا ہوتا۔
"پاکستان" جس کے نعروں کی وجہ سے آج پاکستان کی فوجی ترقی "اسلامی بم" کے نام سے پہچانی جاتی ہے آج بھی عالم اسلام بالخصوص عرب دنیا پاکستان کو اسلام کا چوکیدار سمجھتی ہے اور غیروں کو پاکستان سے خوف اس لئے ہے کہ وقعتا اپنی جغرافیائی حیثیت کے لحاظ سے اور اپنی دنیاوی ترقی کے اعتبار سے پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ عالم اسلام کا دفاع کر سکے۔ اس لئے پاکستان کو کمزور کرنے کی تمام کوششیں اسی سازش کے تحت ہو رہی ہیں کہ اگر پاکستان کمزور ہو گیا تو عالم اسلام دوسروں کا دست نگر ہو جائے گا۔ عالم اسلام کے اندر قوت نہ رہے گی۔ دنیائے اسلام میں جذبہ ایمان کی کبھی کبھی جھلکیاں تو نظر آتی ہیں۔ جیسے سعودی عرب کے شاہ فیصل نے تیل کا ہتھیار استعمال کیا تھا، لیکن آج تیل کا وہی ہتھیار اغیار کے ہاتھ میں ہے۔
اس مختصر جائزہ کے بعد اتنی اصولی بات تھوڑی بہت شد بد رکھنے والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ قانون کا کام کسی چلتے ہوئے نظام کو باقی رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن اس نظام کو سیرابی معاشرتی رویوں سے حاصل ہوتی ہے۔ ہمارا معاشرہ کیسا ہے اس کی تعمیر کے عناصر کیا ہیں؟ اس کے مقاصد کیا ہیں؟ اگر معاشرے کی تعمیر  درست ہو رہی ہو یا معاشرہ صحیح جانب ترقی کر رہا ہو تو نظام مضبوط ہوتا ہے اور اس نظام کے رخنے قانون کے ذریعے بند کئے جاتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے پاکستان کے خلاف ہونے والی سازش یہ تھی کہ پاکستان میں استعمار کی زیر نگرانی تیار ہونے والے انڈیا ایکٹ (1935ء) کو ہی پاکستان کے قانون کی بنیاد بنایا گیا، اس طرح سے پاکستان ان زنجیروں اور بیڑیوں کے اندر کس دیا گیا کہ پاکستان کے اندر مغربی نظام کو ہتایا جا سکے۔ ان قانونی شکنجوں کو توڑنے کے لئے تحریکیں بھی چلیں۔ جن میں ایک بہت زور دار تحریک نظام مصطفیٰ کے نام سے 1977ء میں چلی۔ جس کے نتیجے میں کچھ جزوی پیش رفت ہوئی بھی لیکن اس تحریک کے بعد سے اب تک بھرپور کوشش یہی ہو رہی ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اس کو الٹ دیا جائے۔ حالانکہ نظام مصطفیٰ یا نظام اسلام جیسی تحریکوں کے نتیجہ میں ہی پاکستان کے اندر اسلام کا نام لینے والوں کا تھوڑا بہت عزت و احترام موجود ہے۔
لیکن دوسری طرف بھرپور سازش یہ ہوتی رہتی ہے کہ اگر بعض قانونی اقدامات اسلام کی طرف عملی پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔ تو ان کے اثرات پاکستان سے ختم کئے جائیں۔ جیسے میں نے ابھی ذکر کیا کہ یہ قانوی کشمکش شروع ہی سے جارہی رہی اور اس سلسلے میں سب سے پہلی بنیاد بھی اگرچہ بہت اچھی پڑ گئی تھی جو قرارداد مقاصد کی صورت میں پہلی اسمبلی نے پاس کی تھی۔ اس کے بعد مزید اسے پر زور بنانے کے لئے 1985ء میں اس قرارداد کو دستور کا ایک مؤثر حصہ بنا دیا گیا۔ ایک طرف برابر یہ کشمکش جاری و ساری ہے مگر دوسری جانب ہمارا اجتماعی نظام جس کے تین بڑے حصے ہیں: اول سیاسی نظام، دوسرا ہمارا معاشی اور تیسرا معاشرتی نظام۔
سیاسی نظام کو تو مروجہ قانون نے اس طرح مضبوط کیا ہوا ہے کہ یہاں کرپشن کے باوجود لوگ صرف کراہ نہیں رہے بلکہ کراہنے والی آواز کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سے استعماری قانون سیاسی نطام پر تو اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے کہ پاکستان لوٹنے والوں کو لاکھ "لوٹا" کہیں، "لفافہ" کا لطعنہ دیں لیکن کرپشن دن بدن بڑھ رہی ہے۔ انگریز کا پٹھو جاگیردار اور سرمایہ دار اس طرح سے پاکستان پر چھایا ہوا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر سیاسی فریم ورک میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ اس لئے پاکستان کے اندر کبھی کوئی راہ نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ جب کبھی کوئی تبدیلی ہوئی تو مارشل لاء کے چھنڈے تلے ہوئی۔ اگرچہ مارشل لاء کے بھی دوسرے پہلو بڑے بھیانک ہیں۔ لیکن جب لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں تو آہ کے لئے بھی موقع نہیں مل رہا تو مارشل لاء کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن مغرب کا سیاسی نظام ہو یا وہی مارشل لاء دونوں اسلام کے لئے مفید نہیں۔
مجھے بات یاد آتی ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق کا دور تھا، اس وقت کی حکومت نے سپریم کورٹ کے اندر یہ کہا کہ اس وقت مارشل لاء سب قوانین سے بالا دست ہے جب نصرت بھٹو کیس میں یہ بحث چل رہی تھی کہ 1973ء کے دستور کی بالادستی ہے یا مارشل لاء کی۔ اس پر سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج بدیع الزمان کیکاؤس نے تار دیا کہ پاکستان میں ان دونوں پر خدائی شریعت کو غلبہ ہے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور یہاں کا اصل قانون صرف اللہ کا حکم ہے۔ لیکن اس موقف کو غیر متعلق قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا۔
اب صورت حال یوں ہے کہ نہ صرف پاکستان کا سیاسی نطام ان قانونی شکنجوں کے اندر کسا ہوا ہے باوجودیکہ اس کے توڑ کے لئے کتنی زوردار تحریکیں چلتی رہی ہیں لیکن ان کے نتیجے میں چہرے تو ضرور بدل جاتے ہیں۔ نظام نہیں بدل رہا۔ اسی طرح اس ملک میں ہماری معیشت ساری کی ساری سرمایہ دارانہ نطام پر مبنی ہے۔ سود اور ٹیکش اس کے دو پہیے ہیں جس پر یہ گاڑی رواں دواں ہے۔ کھلی آنکھوں دیکھ لیجئے سود اور ٹیکس کی بھرمار ہے آپ چیخئے، چلائیے یا آرام سے اس دکھ اور درد کو برداشت کر لیجئے، لیکن اس گاڑی کو روکنے والا کوئی نہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ فیڈرل شریعت کورٹ نے سود کے خلاف ایک فیصلہ بھی دیا لیکن ہمارے قانونی حیلوں نے اسے اس طرح معطل کیا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ اپلیٹ بنچ کا وجود ہی نہیں ہے۔ اپیل کہاں زیرِ سماعت آئے گی؟ بہرصورت کہنا یہ ہے کہ ہمارا سیاسی اور معاشرتی نظام پوری طرح مغربی سرمایہ دارانہ نظام اور جمہوریت ہے۔ بلکہ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ مغرب کا نظام بھی یہاں نافذ نہیں کیونکہ مغرب میں کم از کم انسان کی عزت کا خیال موجود ہے۔ ازالہ حیثیت عرفی کے لئے عدالتیں بھاری جرمانے کرتی ہے۔ مگر ہمارے ملک میں غلاموں ک ے لئے جو انگریز آقاؤں نے نظام وضع کیا تھا۔ جس میں عملا چھوٹے اور بڑے کی بڑی خوفناک تقسیم ہے۔ گویا قانون، صاحب حیثیت لوگوں کے لئے موم کی ناک ہے۔ اگر کمزور ہے تو کوئی آدمی قابو آ جائے گا مگر اس کا سہارا پھر وہی سر مایہ دار، جاگیر دار اور اسمبلیوں کے ممبران بنتے ہیں۔ اس لئے ہر آدمی سیاست دانوں کے سہارے قانون توڑنے کے لئے ہر وقت آمادہ ہے۔ جب کہ مغرب میں یہ صورت حال نہیں۔ اس طرح یہاں کسی آدمی کی بے عزتی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اس پر جو چاہو الزام دھر دو، جس طرح چاہو ذلیل کر دو، کہتے ہیں کہ تھانے میں جا کر بھی دو چار گھونسے مارے جا سکتے ہیں۔ بلکہ مختلف بہانوں سے کمزور آدمی کو پولیس کتنا ذلیل کرتی ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں؟ مغرب کے اندر بھی قطعا ایسی صورتحال نہیں۔ گویا یہاں مغرب کا نظام بھی نہیں ہے بلکہ مغرب نے جو اپنے غلاموں کے لئے نظام وضع کیا تھا۔ وہی ابھی تک اس ملک میں رائج ہے۔
باقی رہا معاشرتی نطام جس کی خاندان ہوتا ہے تو اس کی صورتحال بھی خوفناک تصویر پیش کرتی ہے۔ قرآن مجید کی جو آیت میں نے ابتداء میں تلاوت کی ہے، سورۃ النحل کی آیت نمبر 27 ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے خاندان کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ معاشرے کی پہلی اکائی خاندان ہوتا ہے، اس لئے ہمارے اجتماعی نظام کا تیسرا پہلو جو معاشرے کی  تشکیل کی بنیاد ہوتا ہے، اسلام میں بڑی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یوں کہئے کہ ریاست و خلافت بھی ایک طرح کا خاندانی پھیلاؤ ہے۔ اسی لئے قرآن و سنت میں اس کے لیے بہت تفصیلات ملتی ہیں۔ جس کی بنیاد پر ملکی نظام کا ایک وسیع خاکہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ جس کی تشریح اس وقت مقصود نہیں۔
اس الہامی رہنمائی کے باوجود پاکستان میں ہمارا خاندانی سسٹم استوار نہیں ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں کچھ الہامی اقدار موجود ہیں مگر چونکہ ایک ہزار سال سے زیادہ یہ مسلمان ہندوانہ تہذیب کے ساتھ رہے ہیں، اس لئے بہت سی چیزیں ہندوانہ تہذیب کی مسلم معاشرے میں رچ بس گئی ہیں مثلا ہمارے ہاں نکاح و شادی کے اکثر رسم و رواج ہندوانہ ہیں۔ بہت کم چیزیں ایسی ہیں جو اسلامی ہیں۔
اسی طرح مغربی سیاسی غلبہ اور تسلط نے ہمارے فکری رجحانات پر جو اثر ڈالا ہے جس کی بناء پر ہم ہر وہ چیز جو باہر سے آتی ہے اسے "ولایتی" کہتے ہیں۔ جو اپنی چیز ہوتی ہے اسے "دیسی" بولتے ہیں۔ ہمارے نزدیک دیسی چیز حقیر ہوتی ہے اور ولایتی چیز اچھی ہوتی ہے ہماری یہی ذہنی سوچ ہے جسے مغربی تہذیب نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے کنٹرول کیا ہوا ہے اور ایسے بڑے ذرائع ہندوؤں کے پاس ہیں یا یہودیوں کے ہاتھ میں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ ہی اپنی تہذیبو ں کو اس طرح سے فروغ دیا ہے کہ ہماری تہذیب کے اندر بیک وقت دو انتہائیں جاری ہیں۔ ایک طرف تو ہماری تہذیب کی تفریط یہ ہے کہ یہاں ہر ایک آدمی جبر کا شکار اور طبقاتی تقسیم کی بناء پر اونچ نیچ کا شکار ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ ہندوانہ تہذیب اونچ نیچ کی تہذیب ہے اس میں جو کمزور ہے، وہ منحوس ہے جس کا حق یہی ہے کہ وہ ناگہانی موت کا شکار ہو۔ کمزور کو ہندوانہ تہذیب کے اندر مزید کچلا جاتا ہے۔
ہمارے خاندانی نظام میں ہندوانہ غیر معتدل جبر کی صورتیں موجود ہیں جن میں ایک وٹہ سٹہ کا نکاح بھی ہے۔ اس طرح شادی بیان کے معاملات آتے ہین۔ تو کئی دفعہ لڑکی کی مرضی کا خاندان دھیان نہیں رکھتا اور اسے خاندان کے دوسرے مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے جیسے قتل و غارت کے علاج کے لئے لڑکی کا رشتہ دے کر صلح کر لی جاتی ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ماں باپ کسی کے دشمن ہوتے ہیں۔ ماں باپ سے بڑھ کر کوئی خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ رب العالمین کے بعد سب سے بڑھ کر انسان کے خیرخواہ انسان کے ماں باپ ہوتے ہیں جو عموما اپنی اولاد کی آسائش کے ساتھ ہی جیتے ہیں اور اگر اولاد دکھ میں ہو تو ماں باپ سب سےبڑھ کر دکھی ہوتے ہیں تاہم تمام لوگ اچھے نہیں ہوتے۔ غلط لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ کچھ غلط لوگوں کی وجہ سے اور کچھ ہماری رسمیں اور رواج جو ہندوانہ تہذیب کے نتیجے میں یہاں پیدا ہو گئیں، ان کی وجہ سے یہاں ظلم کی کیفیت بھی موجود ہے جس کے بالمقابل دوسری طرف مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب ہے اور اس تصور پر مبنی ہے کہ کوئی کسی کے کام میں مداخلت نہ کرے۔
مغرب کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ہر ایک من مانی کرے اور من مانی کے لئے سب سے پہلے جو ان کو میدان ملتا ہے، وہ خاندان کا ہے کیونکہ سیاست کے لئے قانونی شکنجے موجود ہیں، وہاں سزائیں موجود ہیں۔ معیشت کے اندر سود اور ٹیکسوں کا نظام ایک کنٹرول ہے جس نے انہیں کسا ہوا ہے۔ صرف معاشرت ان کے لئے ایسی ہے کہ ان کے ہاں اخلاق کا کوئی تصور نہیں اور اخلاق نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ فحاشی کا ایک کھلا میدان ہے۔ یہاں جتنی گندگی ہو سکتی ہے مغرب اس گندگی کا شکار ہے۔ مغرب کے ہاں سیاست نے معیشت کو کافی حد تک کنٹرول کیا ہوا ہے مگر ان کا معاشرہ بہرحال ان سے کنٹرول نہیں ہو سکا۔ آپ دیکھئے کہ مغرب کے ہاں خاندان نظام اول تو بنا نہیں اگر ہے تو کس قدر تباہ کن ہے۔ عام آدمی کو تو چھوڑئیے شاہی خاندان میں کون سی شادی کامیاب ہے اور پھر یہ ہے کہ نہ چھوڑ سکتے ہیں نہ رکھ سکتے ہیں۔ وہی بات ہے جیسے کہ سانپ کے منہ میں چھپکلی، نگلے تو کوڑھ، چھوڑے تو پھر بھی چارہ نہیں۔یہی صورت اس وقت مگرب کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے لئے وہ خود عبرت کا نشان بن گیا ہے لیکن اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے وہ دن رات پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ مشرق میں عورت آزاد نہیں حالانکہ اس پروپیگنڈے کی بنیاد یہی ہے کہ اپنی دم کٹی دیکھ کر اس نے کہا کہ تمام کی کٹ جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ میں تو تباہ ہو چکا، اخلاقی اعتبار سے۔ سو اخلاق و کردار کا تصور مسلمانوں کے ہاں سے بھی ختم کر دو۔ اس وقت اس اخلاق کو ختم کرنے کی ساری سازش ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا۔ اخبارات و رسائل ہوں یا ثقافت کے نام پر  فحاشی کی سکیمیں جو مغرب کے اندر تیار ہوتی ہیں اور جن پر یہودی چھایا ہوا ہے اور یہودی کی دولت اس کام کے لئے ہے کہ مسلمانوں کے اندر ابتری پیدا کی جائے انہوں نے ہر گھر کے اندر فساد پیدا کر دیا ہے۔ ان کے بڑے حربے کیا ہیں؟
شیطان کے فساد کا سب سے بڑا حربہ میاں بیوی کی لڑائی ہے۔ کہتے ہیں کہ ابلیس کا تخت ہر شام کو سمندر کے اندر لگتا ہے جہاں وہ اپنے چیلوں سے روزانہ کی کارگردگی پوچھتا ہے۔ تمام اپنی اپنی کارگردگی پیش کرتے ہیں، سب کو اپنے اپنے طور پر شاباش ملتی ہے لیکن اس شاباش لینے والوں میں سب سے نمایاں وہ ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ آج میں نے میاں بیوی کی لڑائی کروائی ہے، وہ بڑی شاباش کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
مغرب کا یہ نعرہ آزادی کہیں اور نہیں لگتا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے طبقاتی تقسیم پیدا کر کے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنا کر کس طرح ظلم و ستم کے اندر کچلا، اس کی داستان بڑی طویل ہے لیکن خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے لئے وہ عورت کو مرد کے خلاف اکسانے کا حربہ اختیار کر رہا ہے کیونکہ وہ زبردست ہے۔ ذرا اس کو ابھارو کہ تم پر کوئی ذمہ داری نہیں پڑتی۔ جس طرح تمہارا خاوند باہر پھرتا ہے تمہیں بھی ایسی ہی آزادی کا حق ہے حالانکہ اس طرح دنیا کے اندر کوئی نظم قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس میں کوئی ایک بڑا نہ ہو کوئی چھوٹا نہ ہو۔ ملک کے اندر سب صدر بن جائیں، تمام کے تمام وزیراعظم یا وزراء بن جائیں کیا نظم قائم رہے گا۔ کوئی نظم قائم نہیں رہ سکتا جب تک کوئی سربراہ نہ ہو کوئی ماتحت نہ ہو۔ اللہ نے بھی ایک نظام قائم کیا ہے جس میں باپ کو فطری طور پر خاندان کا سربراہ بنایا ہے، اس باپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ "(قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا)" اپنے آپ کو بھی اور اپنے اہل و عیال کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ" یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔
سورۃ النحل کی وہ آیت جو میں نے ابتداء میں پڑھی، "(وَاللَّـهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا)" اللہ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اللہ نے تمہاری اپنی جنس میں سے بیویاں پیدا کیں ہیں۔" اسی طرح "(وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً )" پھر انہی بیویوں کے ساتھ تمہارا ملاپ ہوا اور تمہارا خاندان بنا۔ اس خاندان کے اندر تمہارے بیٹے اور پوتے بھی شامل ہو گئے" اور پھر اللہ کا کتنا بڑا فضل ہے کہ جانور جو گندی اور بچی کھچی چیزیں کھا کر گذارا کرتے لیکن اللہ نے تمہارے لئے ان سے بہترین سامان رزق مہیا کیا۔ "(وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ)" اور تمہارے لئے پاکیزہ اور بڑی مزے دار چیزیں رکھیں ہیں"
آخر میں فرمایا: "(أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ)" اللہ کا اتنا بڑا فضل چھوڑ کر اس بے خدا نظام کی ابتری پر ایمان رکھے ہوئے ہو، اس طرح اللہ کی بڑی نعمت کا انکار تم ہی کرنے والے ہو" "(وَبِنِعْمَتِ اللَّـهِ هُمْ يَكْفُرُونَ)" "اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے" جو خاندان کی صورت میں ہمیں تحفظ ملا بلکہ اسی خاندان کی وجہ سے معاشرتی مقام ملا۔ انسان جب اپنے خاندان کے اندر ہوتا ہے تو بادشاہ کا بیٹا شہزادہ ہوتا ہے، بادشاہ کی بیوی ملکہ ہوتی ہے۔ اس کو ذرا اس خاندان سے نکالئے تو ایک چمارن اور ملکہ میں کیا فرق ہے؟ چمارن صرف اس لئے چمارن ہے کہ وہ چمار کی بیوی ہے اور ملکہ کیوں ملکہ ہے۔ اس لئے کہ وہ بادشاہ کی بیوی ہے۔ ایک چھوٹے درجے کا آدمی ہو تو اس کا بیٹا بھی اسی درجے کا ہوتا ہے اور ایک بادشاہ کا بیٹا شہزادہ ہوتا ہے کہ خاندان کی نعمت ہے کہ مقام سب کا برابر ہو گیا۔ یہ مثال صرف دنیاوی اعتبار سے ہے ورنہ اسلام میں ذات پات اور پیشوں کی بناء پر کوئی اونچ نیچ نہیں ہے۔ فضیلت کا مدار صرف تقویٰ ہے۔ اللہ نے بھی یہ نظام قائم کیا ہوا ہے قرآن مجید میں اللہ نے بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس خاندانی سسٹم کا کس طرح تحفظ کریں گے۔
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ... ٢١﴾...النحل
اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز سب کو اجر دیں گے، ان کی محنتوں کا بدلہ دیں گے۔ ایک خاندان کے لوگ جب جنت میں اکٹھے ہو جائیں گے تو اپنی محنت کے اعتبار سے کسی کا مقام بلند ہو گا اور کسی کا مقام کمتر ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کہیں گے کہ چونکہ یہ ایک خاندان ہے اس لئے سب میں برابری کر دو جو سب سے بلند مرتبے والا ہے تمام کو اس مرتبے میں شامل کر دو۔ لیکن اس طرح اللہ تعالیٰ کسی کے مقام میں کمی نہ کریں گے کہ سب سے کمتر کے ساتھ اس کے اہل خاندان کو کر دیں۔ بلکہ اس سے ملا دیں گے جو سب سے اوپر ہے: "(أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ۚ )" "کمی نہیں ہو گی بلکہ یہ ہے کہ جو زیادہ مرتبہ والا ہو گا تمام کے تمام اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ یہ اللہ نے خاندانی سسٹم بنایا جو مومنوں کے لئے آخرت میں بھی قائم رہنے والا ہے۔
اس لئے یہ خاندانی سسٹم ہماری ایک بچی کھچی قدر ہے اس کو اس وقت مغرب تباہ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ یہ فحاشی، بے حیائی اخبارات کے لئے جس طرح رنگین ایڈیشن چھپتے ہیں اور مضامین کے ذریعے سے لوگوں کے اندر شکوک پیدا کئے جاتے ہیں۔ لوگوں کے ہاں غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں حالانکہ اسلام میں خاندان کی بناوٹ دو طرح سے ہے، ایک رشتے داری کا خونی تصور اور دوسرا سسرالی تصور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نظم و نسق کا تصور ہے جو قرآن مجید کی اصطلاح میں لفظ "ولایت" کے اندر موجود ہے۔ رحم اور ولایت، یہ دو لفظ ہیں جو پورے خاندانی سسٹم کو پورے قرآن مجید کے اندر بیان کرتے ہیں۔ اس وقت اس کی تفصیل تو بیان نہیں کی جا سکتی لیکن ایک خاندانی رشتہ ہے دوسرا نظم و نسق ہے۔ اس کے اندر باپ کا اتنا مقام ہے کہ باپ کا اتنا مقام ہے کہ باپ اگر نظم و نسق بگڑتا ہوا دیکھے تو باپ اپنے بیٹے کی بیوی کو طلاق بھی دلوا سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے کی شکایت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کی کہ میں بیٹے کو کہتا ہوں کہ بیوی کو طلاق دے، وہ طلاق نہیں دے رہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ اپنے باپ کی اطاعت کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ یوں تو بیوی کا رشتہ چھوٹ گیا۔ جبکہ ایسا نہیں ہوا کیونکہ ذمہ دار کے سامنے اہم مصلحت ہوتی ہے اور اسی بناء پر وہ استحقاق اطاعت رکھتا ہے۔
ماں باپ کی اطاعت صرف اسی وقت چھوڑی جا سکتی ہے جب اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہو۔ یا اللہ کی نافرمانی کے علاوہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ باپ خیرخواہ نہیں۔ مرد تو اپنی شادی بیاہ کی زندگی میں کافی حد تک مستقل ہوتے ہیں لیکن بچیاں تو سراسر اپنے ماں باپ یا اپنے سر پرستوں کی محتاج ہوتی ہیں حالانکہ زندگی کے اہم معاملات اور نازک مراحل (مثلا نکاح) کا مسئلہ ہے تو وہ بے چاری صرف اپنی فطری شرم و حیا کی وجہ سے خود انجام نہیں دے سکتی اور جو بے باک ہو کر حیا سے نکل جائے پھر وہ قابو میں نہیں رہ سکتی۔ عورت کی سب سے بڑی قیمت اس کی عصمت ہے۔ شریعت نے اسی کی حفاظت کے لئے اس کی فطرت میں حیا رکھی ہے۔ چنانچہ حقیقت یہی ہے کہ عورت معاشقہ (جو مخفی دوستی ہے) کے علاوہ اپنے لئے شوہر تلاش کر ہی نہیں سکتی جبکہ مرد جس جگہ چاہے شادی کا پیغام دے سکتا ہے۔ ایسے بہت سے فرق اگر ملحوظ رہیں تو شریعت کی حکمت واضح ہوتی ہے کہ نکاح کے فریقین کے لئے ایسی ہدایات مختلف کیوں ہیں؟ اگرچہ دونوں کی رضامندی تو بنیادی شے ہے۔ اس میں دونوں برابر ہیں۔
اس طرح آپ واقعات پڑھتے ہیں فلاں حادثہ ہو گیا، فلاں چولہے سے بیوی جل کر مر گئی۔ اگر واقعتا ایسا حادثہ قتل ہو تو یہ ٹھیک ہے کہ ان میں بعض ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی ماں باپ نے شادی کی ہوتی ہے، لیکن ان میں سے اکثر وہ ہوتی ہیں جو بھاگ کر آئی ہوتی ہیں جن کا پیچھے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ولی کا تعلق صرف اتنا نہیں ہے کہ اس نے شادی کر دی، رشتہ ختم ہو گیا بلکہ ولی کا تعلق تو ایک مستقل تعلق ہے جو ہمیشہ باقی رہتا ہے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ خاوند اس کا سرپرست بن جاتا ہے شادی کے بعد لیکن ولی کا تعلق پھر بھی قائم رہتا ہے وہ اس کے حقوق کا محافظ ہوتا ہے۔ اسی لئے اگر طلاق ہو جائے، بیوہ ہو جائے تو پھر باپ کے گھر لڑکی واپس آ جاتی ہے۔ علاوہ ازیں بیٹی کا وراثت میں مستقل حصہ ہے، بیٹی آخر بیٹی ہے، خواہ وہ شادی شدہ ہو۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ اسلام نے اسے کتنا تحفظ دیا ہے۔ حتیٰ کہ جو لوگ۔۔میں ایک فیصد کی بات نہیں کرتا بلکہ 99 فیصد افراد کس طرح اپنی بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ہر وقت کوشاں رہتے ہیں کہ بیٹی گھر میں خوش رہے۔ دیتے ہی رہتے ہیں کہ بیٹی خوش حال رہے۔ جہیز کا مسئلہ اگرچہ غلط ہے جس طرح ہمارے ہاں رواج پا گیا ہے لیکن اس کے پیچھے جذبہ کیا ہے کہ بیٹی خوش رہے۔ کہ اتنا لے کر آئی۔ ماں باپ تو یہ ہیں اور اس کی بجائے ایک فیصد کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ وٹہ کر لیتے ہیں، وہ تو بیچ دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کچھ ایسے بھی ہیں، ایک نہ سہی پانچ فیصد سہی، لیکن کیا پانچ فیصد کی بنیاد پر 95 فیصد پر دشمنی کی تہمت عائد کرنا مناسب ہے؟ "(نعوذ بالله من ذلك)" اللہ نے جو نظام دیا ہے، وہ بڑا ہی عمدہ ہے کہ ماں باپ کبھی بدخواہ نہیں ہوا کرتے۔ اس لئے صحیح حدیث میں ہے کہ اولاد اگر ماں باپ کے ہاتھوں ماری جائے تو ماں باپ قصاص میں مارے نہیں جاتے۔ اس لئے کہ بہت کم یوں ہوتا ہے کہ ماں باپ بدخواہ ہوں لیکن پھر بھی نظام کے اندر یہ احتیاط اور استثناء موجود ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تک یہ ولایت باقی رہتی ہے کہ جب تک ولی خیرخواہ ہو یعنی مرشد ہو۔ اگر ولی خیرخواہ نہیں جیسے عدالت کے اندر یہ ثابت کر دیا جائے کہ ولی خیرخواہ نہیں جس طرح وٹے سٹے کی صورت میں ہوتا ہے کہ ایک طرف تو مرضی ہوتی ہے کہ یہاں نکاح کرنا ہے مگر دوسری طرف وہ بیچی جا رہی ہے وٹے سٹے میں۔ اس لئے اسلام کے اندر وٹے کا نکاح بھی حرام ہے اور بھی کوئی ایسی صورت ہو کہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ یہاں غلط مقصد ہے تو پھر ولایت باقی نہیں رہتی۔ ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے "(السلطان ولي من لا ولي له)" جس کا ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے"
بہر صورت کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا یہ خاندانی سسٹم یہ ہماری بچی کھچی قدر ہے۔ اب مغرب کا پورا زور یہ ہے کہ یہ جو کچھ خاندانی سسٹم مشرق میں بچا ہوا ہے، اسے فحاشی پھیلا کر تباہ کر دیا جائے۔ یہاں میں دیندار حلقوں کو ایک توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مولوی اجتماع و معاشرت کے جملہ میدانوں سے تقریبا غیر موثر ہو کر صرف خاندانی رسول و رواج کے مختصر سے حصہ میں دخیل رہ گیا ہے جس کی وجہ سے نکاح ایک مذہبی رسم شمار ہو رہی ہے۔ چند بچی کھچی اقدار بھی اسی وجہ سے قائم ہیں کہ نکاح مولوی پڑھاتا ہے، جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اذان مولوی دیتا ہے اور جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو جنازہ بھی مولوی پڑھاتا ہے اگرچہ یہ مولوی کا دخل بھی اس وجہ سے ہے کہ جمعہ پڑھنے والے پانچ سات منٹ کے لئے مولوی کے پاس آ جاتے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں اس بات کا کوئی خاص اہتمام نہیں ہے کہ جمعہ کی اذان سے قبل تیار ہو کر آئیں۔ ہم صرف نماز جمعہ کا فرض ادا کرنے کے لئے آتے ہیں۔ لیکن پھر بھی نکاح کے لئے، جنازے کے لئے مولوی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا اجتماعی زندگی میں صرف نکاح، جنازہ، بچے کی ولادت، عقیقہ وغیرہ مولوی سے متعلق رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مولوی کا سوسائٹی میں مقام نہیں ہے۔ حاصل یہ ہے  کہ ہمارا معاشرتی نظام صرف مولوی کے طفیل اتنا بچا ہوا ہے جبکہ خود مولوی کئی فتنوں کا شکار ہے جس میں ایک نمایاں مسئلہ فرقہ وارانہ تقسیم ہے۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مولوی فرقہ وارانہ خول سے باہر نکل کر ایک متفقہ موقف اپنائیں۔ زمانے کی چال دیکھیں اور امت کے مفاد میں ایک موقف پر اکٹھے ہو جائیں۔
مغرب نے سیاسی طور پر، معاشی طور پر ہمیں بالکل بے بس کر دیا ہوا ہے۔ معاشرتی سطح پر کچھ ہماری قدریں موجود ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے اور ہمارے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے مغرب ان کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ لوگ جنہیں کچھ تھوڑا سا اس بات کا احساس ہے، وہ کچھ اس کے بارے میں کریں۔ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کریں اور مغربی شیطان، ٹیلی ویژن، فحش اخبارات اور گندے رسالے گھروں میں داخل نہ ہونے دیں۔ اس لئے کہ یہ چیزیں چھوٹی عمر میں بہت اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہود جانتے ہیں کہ یہ چیز کتنی تباہ کن ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پوری فوجی قوت نوجوان لڑکیوں کے ذریعے تباہ کر دی گئی تھی۔ یہ ایک بہت بڑا ھربہ ہے شیطان کا کہ وہ اس فحاشی کے ذریعہ سے گھر کے گھر اجاڑتا ہے۔ بہرصورت یہ معاشقے کے جوڑ اسلام اسی لئے ان کی تردید کرتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ شادی بیان معاشقے کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی لیکن مغربی افکار کی اس قدر یلغار ہے کہ ہمارے لئے بات سمجھنا مشکل ہو رہی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل علم خاندانی نظام کی تفصیلات اور حکمتیں بھی بیان کریں اور خاندانی نظام کے نمایاں پہلو بھی لوگوں کے سامنے رکھیں۔ بالخصوص ان تمام ذرائع کا بغور جائزہ لیں کہ بے حیائی اور فحاشی کس طرح ہمارے گھروں میں داخل ہو کر ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے۔ اس کو بچانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حالوں پر رحم کرے اور ہمیں ان شیطانوں سے بچا کر رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔